Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

خانی کو لگا تھا اُسے سننے میں غلطی ہوگئی ہے.
خانی دوبارہ آگے ہوئی تھی. مگر اب وہ لوگ ایک دوسرے کو دھیمی آواز میں کچھ ضروری ہدایت دیتے وہاں سے ہٹ رہے تھے.
وہ لوگ سیاہل خان کے حوالے سے ہی بات کررہے تھے.
خانی کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے کس کو بتائے یہ بات.
وہ اتنی بڑی بات پر خاموش نہیں رہ سکتی تھی. یہ کوئی عام بات نہیں تھی. کسی کو قتل کرنے کی تیاری کی جارہی تھی. جو کوئی عام شخص نہیں بلکہ یہاں کا سردار تھا.
اُس شخص سے لاکھ اختلافات سہی مگر وہ اُسے اتنا ناپسند بھی نہیں کرتی تھی کہ اُسے اِس سازش سے باخبر کرنے کے لیے کچھ نہ کرتی.
خانی کا دل بُری طرح دھڑک رہا تھا. اُس نے کپکپاتے ہاتھوں سے سیاہل خان کا نمبر ڈائل کرتے فون کان سے لگایا تھا.
مگر کچھ ہی دیر میں خانی کا چہرا غصے, شرمندگی اور آہانت کے احساس سے لال ہوا تھا. کیونکہ کئی بار نمبر ملانے پر خانی سمجھ گئی تھی. کہ سیاہل خان نے اُسے بلاک کر رکھا ہے.
” ایڈیٹ, سٹوپڈ یہ شخص اِس قابل ہی نہیں ہے کہ اِس کی مدد کی جائے. مجھے بلاک ایسے کیا ہوا ہے. جیسے میں اِسے کال کرنے کے لیے مری جارہی ہوں. بھاڑ میں جائے میری طرف سے. مجھے کیا حملہ ہو اُس پر یا کچھ بھی.”
خانی واپس کرسی پر آکر بیٹھتی غصے کے عالم میں مسلسل بڑبڑانے لگی تھی.
غصے کے ساتھ ساتھ اُسے عجیب سی بے چینی ہونے لگی تھی. وہ چاہ کر بھی خود کو ریلیکس نہیں کر پارہی تھی.
” بی بی جی کیا ہوا آپ کو. آپ ٹھیک تو ہیں نا. “
کچھ فاصلے پر کھڑی مینل خانی کو اضطراب کے عالم میں کبھی دونوں ہاتھوں کو آپس میں رگڑتے کبھی چہرے کو سہلاتے دیکھ فکرمندی سے اُس کے قریب آئی تھی.
بشرا بیگم حویلی سے کچھ ملازمین کو بھی اپنے ساتھ لائی تھیں. ملازمین کے بغیر تو جیسے اُن کا گزارا ہی نہیں تھا.
” نہیں کچھ نہیں ہوا مجھے میں ٹھیک ہوں. “
خانی مینل کا بڑھایا پانی کا گلاس ہونٹوں سے لگاتے بولی.
مگر اُس کے اندر کی بے چینی بڑھتی ہی جارہی تھی.
” نہیں میں اُس شخص کی طرح سنگدل اور سفاک بلکل بھی نہیں ہوں. اگر میرے ہاتھ میں کسی کی مدد کرکے اُس کی جان بچانا ہے تو میں ایسا ضرور کروں گی.
مگر میں یہاں کسی پر بھروسہ بھی تو نہیں کرسکتی. اپنے خاندان کے مردوں میں سے کسی کو بتانا تو بے وقوفی سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا. مگر کیا سیاہل خان کے خاندان والوں پر بھروسہ کرنا ٹھیک ہوگا. “
خانی عجیب سی کشمکش میں پھنس چکی تھی. اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا. سیاہل خان تک اتنی بڑی بات کیسے پہنچائے.
کہیں انجانے میں وہ یہ خبر اُس کے دشمنوں تک پہنچا کر اُس کے لیے مزید مصیبت کھڑی نہ کردے.
” مجھے کسی طرح بھی یہ بات خود ہی سیاہل خان تک پہنچانی ہے. بغیر کسی کو اِس بارے میں بتائے. “
خانی نے ایک فیصلے پر پہنچتے مینل کو سمن کو باقی سب سے نظر بچا کر بلانے کا کہتے اُس کی جانب بھیج دیا تھا.
” کیا ہوا سب ٹھیک ہے. آپ نے مجھے بلایا. “
سمن مینل کے ساتھ خانی کے قریب آتے بولی.
” مجھے ابھی اور اِسی وقت سیاہل خان سے ملنا ہے. تم کسی بھی طرح میری ابھی اُس سے بات کرواؤ.”
خانی بنا کسی طرح کا بھی لحاظ کرتی دو ٹوک لہجے میں بولی.
جس پر سمن نے اچھنبے سے اُس کی جانب دیکھا.
” آپ جانتی بھی ہیں. آپ کیا کہہ رہی ہیں. آپ اِس وقت ادا سائیں سے کیسے مل سکتی ہیں. وہ وہاں مردان خانے میں ہیں. اتنے لوگ ہیں باہر.
اور میرے پاس کوئی موبائل وغیرہ نہیں ہے. میں آپ کی اُن سے بات نہیں کروا سکتی. “
سمن نے صاف انکار کرتے پلٹنا چاہا تھا. وہ اگر کسی طرح سیاہل خان سے رابطہ کر بھی لیتی تو آگے سے اُسے سیاہل خان کے غصے سے کون بچاتا. اِس لیے اُس نے اِس سب سے دور رہنا ہی بہتر سمجھا تھا.
” سمن میری بات تو سنو یار. بات بہت زیادہ امپورٹینٹ ہے. مجھے ابھی سیاہل خان تک پہنچانی ہے. پلیز سمجھنے کی کوشش کرو. “
خانی کو خود بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنے سب سے بڑے دشمن کی سلامتی کے لیے کسی کی اتنی منتیں کیوں کررہی ہے.
مگر اِس وقت اُسے یہ سب کرنا ٹھیک لگ رہا تھا.
” جو بھی بات ہے. آپ مجھے بتا دیں میں ملازمہ کے ذریعے پہنچا دوں گی اُن تک. آپ نہیں جانتی ادا سائیں کے غصے کو. اِس طرح بلاوے پر وہ بہت غصہ کریں گے. “
سمن نے خانی کو سیاہل خان کے غصے سے آگاہ کرنا چاہا تھا.
” تم میرا نام لے کر بھیجو ملازمہ کو. کہ میں ملنا چاہتی ہوں اُس سے. وہ بہت ہی شاطر انسان ہے کوئی نہ کوئی طریقہ تو نکال ہی لگ گا. اور دیکھا جائے گا اُس کا غصہ بھی. میں نہیں ڈرتی اُس سے. “
خانی نے سمن کو ایک بات پھر قائل کرنے کی کوشش کی تھی.
خانی اتنا تو جان ہی گئی تھی سیاہل خان کو. جو حویلی کے اندر سے بنا کسی کو پتا لگائے اُسے باہر نکال سکتا تھا. تو یہاں خانی سے ملنا تو اُس کے لیے بلکل بھی مشکل نہیں تھا.
” اچھا میں بھیجتی ہوں اپنی خاص ملازمہ کو. مگر ادا سائیں بہت غصہ ہونگے. “
سمن نے بچارگی سے خانی کو کہتی اپنی ملازمہ کو بلا کر کچھ سمجھاتے باہر کی جانب بھیج دیا تھا. جو شاید سیاہل خان کہ کسی خاص آدمی کے ذریعے اُس تک پیغام پہنچانے والی تھی.
اگلے دس منٹ بعد وہ ملازمہ واپس اُن کے سامنے تھی.
” سردار سائیں کا سختی سے حکم ہے کہ وہ کسی سے نہیں ملنا چاہتے. اُنہیں دوبارہ ڈسٹرب نہ کیا جائے. “
ملازمہ کی بات پر سمن نے ایسے خانی کی جانب دیکھا تھا. جیسے کہہ رہی ہو. ہوگئی تسلی.
” مگر مجھے اُس سے ملنا ہے. تم ایک بار پھر اپنی ملازمہ کو بھیجو. اُسے کہو مجھے اُس سے ابھی اور اِسی وقت بہت ضروری بات کرنی ہے. “
خانی کا غصہ بھی اب ساتویں آسمان تک پہنچ چکا تھا. ملازمین کے سامنے وہ شخص ملنے سے انکار کرکے اُس کی اچھی خاصی انسلٹ کر گیا تھا.
اب سیاہل خان سے ملنا اُس کی ضد بن چکی تھی.
سمن ملازمہ کو دوبارہ بھیجنے کے حق میں نہیں تھی. مگر اِس بار بھی وہ خانی کے آگے مجبور ہوچکی تھی.
” بی بی جی سردار سائیں کا کہنا ہے کہ وہ خانی اسجد بلوچ سے نہ ملنا چاہتے ہیں اور نہ ہی کوئی بات کرنا چاہتے ہیں. نہ اِس وقت اور نہ ہی بعد میں. اب اگر اِس کے بعد اُنہیں ڈسٹرب کیا گیا تو اُن سے بُرا کوئی نہیں ہوگا.”
ملازمہ نے سیاہل خان کا لفظ با لفظ بلکل ویسے ہی دوہرایا تھا.
اُس کا دوسرا پیغام سن کر تو خانی کا دل چاہا تھا وہ اُس گھمنڈی اور خود سر شخص کا اپنے ہاتھوں سے گلا دبا دے.
جسے دوسروں کے ہاتھوں اپنا فائدہ بھی گوارہ نہیں تھا.
” میں بھلا کونسا مری جارہی ہوں اُس بدتمیز ایڈیٹ سے ملنے کے لیے. مگر وہ ہوتا کون ہے میری اتنی بے عزتی کرنے والا. دیکھتی ہوں کیسے نہیں ملتا آج مجھ سے. “
خانی کو جیسے ضد ہو چکی تھی. وہ دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوتے سمن کی جانب متوجہ ہوئی تھی.
” اب تو آپ کی تسلی ہوچکی ہے نا. ادا سائیں نہیں ملنا چاہتے آپ سے. اب جاؤں میں.”
سمن بغور خانی کے غصے سے لال ہوتے چہرے کے اُتار چڑھاؤ پر غور کرتے بولی.
آج خانی اسجد بلوچ کا غصہ دیکھ وہ اتنا تو سمجھ گئی تھی. کہ اُس کے ادا سائیں کی زوجہ محترمہ بھی اُسی کی ٹکر کی ہیں.
وہ نہیں جانتی تھی کہ سردار اور اُس کی ضدی سردارنی کی شروع ہوتی یہ جنگ کہاں تک چلنے والی تھی.
” نہیں ایک آخری بار اپنے سردار سائیں تک میرا پیغام پہنچا دو. اُسے کہو اگر اُس نے اگلے دس منٹ تک مجھے نہ بلوایا تو میں بنا کسی کا لحاظ کیے. وہاں مردان خانے میں اُس کے پاس آجاؤں گی. بات تو مجھے اُس سے ہر حال میں کرنی ہے.”
خانی اِس بار سیدھی ملازمہ سے مخاطب ہوئی تھی.
جبکہ ملازمہ کے ساتھ ساتھ سمن بھی ہکا بکا سی اُسے دیکھے گی تھی.
” آپ بلاوجہ کیوں ادا سائیں کے قہر کو آواز دے رہی ہیں. آپ کو ڈر نہیں لگتا اُن سے. “
سمن کا تو اِن دونوں کی لڑائی میں دماغ ماؤف ہوچکا تھا.
اُسے تو اِس بات پر حیرت ہورہی تھی کہ سیاہل خان دو بار اتنی آسانی سے کیسے پیغام کا جواب دے گیا تھا. اُسے تو پہلے دفعہ کے جواب کی بھی اُمید نہیں تھی.
سمن نے خانی کا غصہ دیکھ ﷲ کے بھروسے ایک بار پھر ملازمہ کو بھیج دیا تھا.
مگر حیرت کا جھٹکا تو اُسے تب لگا جب اُس کی توقع کے برعکس سیاہل خان خانی سے ملنے پر راضی ہوگیا تھا.
اُس نے ملازمہ کو کچھ دیر تک خانی کو باہر کی طرف لانے کا حکم دیا تھا. ملازمہ کے ہاتھ میں سیاہل کی بھیجی بلیک شال بھی تھی.
سمن جو حد درجہ بے یقینی کا شکار تھی. ملازمہ کے بتانے پر کہ سیاہل خان بہت غصے میں ہے. وہ سمجھ گئی تھی آج خانی کی خیر بلکل نہیں تھی.
مگر خانی کی چاندنی بکھیرتے دلکش سراپے کی جانب دیکھتے ایک مسکراہٹ اُس کی ہونٹوں پر کھیل گئی تھی.
خیر تو آج سیاہل خان کی بھی نہیں تھی. کیونکہ خانی اسجد بلوچ بھی اِس وقت تمام ہتھیاروں سے لیس تھی.
” ﷲ آپ کا حامی و ناصر ہو. “
سمن نے خانی کی جانب ایک شوخ سی مسکراہٹ اُچھالی تھی.
جس کا مطلب سمجھتے خانی کا دل زور سے دھڑکا تھا.
” جیسا تم سمجھ رہی ہو. ویسا کچھ نہیں ہے. مجھے واقعی بہت ضروری بات کرنی ہے اُس سے.”
خانی نے سمن کا دماغ کسی اور جانب بھٹکتا دیکھ فوراً ٹوکا تھا.
جس پر سمن کی مسکراہٹ سمٹی تھی. مگر اُس نے دل سے دعا کی تھی. کہ کچھ ایسا معجزہ ہوجائے کہ اُس کے بھائی نے جو اپنی زندگی کو بے رنگ بنا رکھا ہے. اُس میں بہار آجائے.
” سردار سائیں آپ کو بلا رہے ہیں. آپ یہ چادر اوڑھ لیں. سائیں کا سختی سے آرڈر ہے کہ آپ پر کسی کی نظر نہیں پڑنی چاہیے. “
ملازمہ نے خانی کی طرف ایک سیاہ شال بڑھائی تھی. جس سے خانی نے خاموشی سے خود کو ڈھانپ لیا تھا.
دو ملازمہ کے ساتھ پچھلی سائیڈ سے ہوتے خانی اُن کی معیت میں کچھ ہی فاصلے پر موجود ایک عمارت کے دروازے میں داخل ہوئی تھی. جہاں سے ایک چھوٹی سی راہداری عبور کرتے ملازمہ ایک دروازے کے سامنے رک گئی تھی.
” بی بی جی اندر سردار سائیں موجود ہیں. آپ جاسکتی ہیں اندر. “
خانی کی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھیں.
ہمیشہ سیاہل خان کے قریب پہنچ کر ایک بار تو ایسے ہی خانی کی ساری بہادری جھاگ کی طرح بیٹھنے لگتی تھی.
آج تو اُس کا دل نجانے کیوں کچھ زیادہ ہی تیز رفتاری سے دھڑک رہا تھا.
خانی خود پر اوڑھی شال سے چہرے کو ہلکا سا ڈھانپتی اندر کی جانب بڑھ گئی تھی.
کمرے میں قدم رکھتے ہی اُس کی نظر کمرے کے بلکل وسط میں کھڑے سیاہل خان پر پڑی تھی. کمر پر دونوں بازو باندھے وہ کڑے تیوروں سے خانی کی جانب متوجہ ہوا تھا.
خانی نے خود کو مکمل طور پر بلیک شال کے اندر لپیٹ رکھا تھا.
سیاہل خان اپنی بھیجی گئی شال کا سہی استعمال دیکھ مطمئن ہوا تھا. وہ یہی چاہتا تھا کہ خانی خود کو اُس سے بھی مخفی رکھے. اور خانی نے ایسا ہی کررکھا تھا.
پہلی بار کسی پوائنٹ پر دونوں کی سوچ ملی تھی. مگر اِس وقت اُسے اِس لڑکی پر بہت غصہ تھا.
” مجھے تمہیں ایک….. “
خانی نے کچھ بولنا ہی چاہا تھا. جب سیاہل خان کی دھاڑ پر اُس کی بات ہونٹوں میں ہی دب کر رہ گئی تھی.
” آخر مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ. میری کوئی بات بھی تمہارے دماغ میں نہیں بیٹھتی کیا. میں نے کہا تھا نا. دوبارہ مجھ سے ملنے کی کوشش مت کرنا. میرے سامنے مت آنا. مگر تم جیسی ضدی اور بے شرم لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی. بہت ناجائز فائدہ اُٹھا لیا تم نے میری نرمی کا مگر اب اور نہیں.
تمہیں اب بہت جلدی تمہاری اوقات یاد دلانی ہی پڑے گی. “
سیاہل خان جیسے آج پھٹ ہی پڑا تھا. وہ خانی کو آج اپنا سب سے بُرا روپ دیکھانا چاہتا تھا. اِس لیے جتنے ہوسکے تھے اُس نے غلط الفاظ استعمال کیے تھے.
خانی پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُس سفاک انسان کی جانب دیکھ رہی تھی. جس سے زیادہ بد لحاظ اور بے حس انسان اُس نے آج تک نہیں دیکھا تھا.
مگر وہ بھی خانی اسجد بلوچ تھی. اتنی آسانی سے اپنی بےعزتی برداشت کرنے والوں میں سے بلکل بھی نہیں تھی.
سیاہل نے خانی پر اپنی شعلے برساتی نظریں گاڑھ رکھی تھیں.
خانی چہرے پر آگے کی طرف کرکے تھامی شال کا پلو غصے میں جھٹکتے سیاہل خان کی جانب بڑھی تھی.
” سیاہل خان زبان سنبھال کر بات کرو. میں تمہاری حویلی کی کوئی باندی نہیں ہوں. جو تم مجھے میری اوقات بتاؤ گے. تم ہوتے کون ہو مجھے بےشرم کہنے والے. ایسا کیا گھٹیا پن کیا ہے میں نے.
ڈرتے ہوں گے باقی لوگ تمہاری سرداری سے. میں نہیں ڈرتی سمجھے تم. “
خانی کا بس نہیں چل رہا تھا. اِس شخص کا کیا کر ڈالے. وہ صرف انسانیت کے ناطے اُسے اُس کے دشمنوں کے بارے میں آگاہ کرنے اتنا خطرہ مول لے کر یہاں تک آپہنچی تھی. اور یہ شخص اُلٹا اُسے اتنی فضول باتیں سنا رہا تھا.
خانی غصے اور جذباتی پن میں بولتی چادر کا پلو چھوڑ چکی تھی. اور اِس وقت وہ اپنے سجے سجائے دلکش سراپے کے ساتھ سیاہل خان کے سامنے تھی. چادر کا پردہ کب کا ہٹ چکا تھا.
ہمیشہ خانی کو اگنور کرنے والے مضبوط اعصاب کے مالک سیاہل خان اِس بار ایسا نہیں کرپایا تھا.
بلوچی لباس میں ملبوس بلکل مقامی انداز میں تیار وہ سیاہل خان کو اردگرد کا ہوش بھلا گئی تھی.
ڈارک پرپل ڈریس میں اُس کی رنگت مزید دھمک رہی تھی. بار بار چہرے کو چھوتی بالوں کی چند شریر لٹوں کو کانوں کے پیچھے اڑستے خانی کے مہندی سے سجے مخروطی اُنگلیوں والے نازک ہاتھ سیاہل خان کو کسی اور جانب دیکھنے کی اجازت ہی نہیں دے رہے تھے.
اُن سب سے بھی بڑھ کر سیاہل خان کی دھڑکنیں خانی کی نوزپن میں اُلجھ کر رہ گئی تھیں. آج خانی اسجد بلوچ سیاہل موسیٰ خان کا خود سے کیا پہلا عہد تڑوا چکی تھی.
جس لڑکی پر وہ ایک نگاہ غلط بھی نہیں ڈالنا چاہتا تھا. آج وہ اُس زخمی شخص کو بُری طرح گھائل کر گئی تھی.
خانی نے اپنی اتنی سخت باتوں کے جواب میں سیاہل خان کی پرتپیش نظروں پر دھیان دیتے جلدی سے خود پر شال دوبارہ سے ٹھیک کرنا چاہی تھی. جب سیاہل خان کی آواز نے اُس کے ہاتھ وہی ساکت کر دیے تھے.
” اب کیا فائدہ اِس کا. “
سیاہل خان بہت مشکل سے خود کو اُس کی خوبصورتی کے جال سے نکالتے خود پر قابو پاتے زرا تیز لہجے میں بولتا خانی کی جانب سے رُخ پھیر گیا تھا.
خانی نے اُس کی اِس بات پر کوئی سوال نہیں کیا تھا. جیسے سمجھ گئی تھی اُس کی بات کا مطلب.
” کیا ہوا سیاہل خان خاموش کیوں ہوگئے. اوقات نہیں بتاؤ گے مجھے. کیا تم بھی اپنی بی بی سائیں کی طرح مجھے اپنی باندی بنانا چاہتے ہو. زرا مجھے بھی پتا تو چلے. بقول باقیوں کے دی گریٹ سردار سیاہل موسیٰ خان کی سوچ کیا ہے.”
خانی کے دل میں سیاہل خان کے بولے گئے الفاظ تیر کی طرح چبھے تھے. اِس لیے اُس کی اندرونی کیفیت سے انجان خانی اپنی ہی دھن میں بولنے لگی تھی.
سیاہل خان نے خود پر بہت ضبط کرنا چاہا تھا. مگر اِس بار وہ ایسا نہیں کر پایا تھا. یہ لڑکی ہر بار اُس کے جذبات کو ایسے ہی ہوا دیتی تھی. جو اِس بار بھڑک چکی تھی. اور اِس کو برداشت کرنا بھی خانی نے ہی تھا.
اچانک پلٹتے سیاہل نے اُس حُسن و نزاکت کی مورتی کو بازو سے تھام کر ایک جھٹکے سے اپنے قریب کیا تھا.
خانی کا سر سیدھا سیاہل خان کے سینے سے جاٹکرایا تھا. فوراً اُس کے سینے پر ہاتھ رکھتے خانی نے دونوں کے درمیان کچھ حد تک فاصلہ رکھنے کی ناکام کوشش کی تھی.
مگر سیاہل خان نے ایسا ہونے نہیں دیا تھا.
اُس کی اِس جارحانہ حرکت پر خانی کا دل اُچھل کر حلق میں آگیا تھا. سیاہل خان کی گرم سانسیں اپنے قریب محسوس کرتے خانی کی اپنی سانسوں کا شور الگ زور پکڑ چکا تھا.
سمن نے ٹھیک کہا تھا. آج اُس کی خیر نہیں تھی. خانی شاید انجانے میں آج سوئے شیر کو جگا چکی تھی.
جس کے ہاتھ کی مضبوط گرفت اپنے بازو پر محسوس کرتے خانی کا اِس کے چنگل سے چھٹکارا حاصل کرنا بہت مشکل کام لگ رہا تھا.

جاری ہے.