Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

” فاکیہ یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا. اور وہ گوار تو بالکل بھی نہیں ہے اُسے بس خود کو ڈھانپ کر رکھنے کا شوق ہے. “
میران کو اس طرح شہرین کو گوار کہا جانا بُرا لگا تھا. اِس لیے وہ بنا فاکیہ کی ناراضگی کی پرواہ کیے شہرین کے حق میں بول گیا تھا.
شہرین کا دل میران کی بات پر جیسے خوشی سے جھوم اُٹھا تھا.
” میران پلیز اب تم تو ایسا مت بولو. وہ بہت ہی کمزور مرد ہوتے ہیں جو ایسی مڈل کلاس لڑکیوں کی اِن چیپ اداؤں میں پھنس جاتے ہیں. اور میں تم سے تو بالکل بھی ایسی کسی بات کی امید نہیں رکھتی. “
فاکیہ کچھ فاصلے پر بیٹھی شہرین کو حقارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی. جو خاموشی سے چائے کا کپ ہاتھ میں لیے بظاہر بالکل اجنبی بنی بیٹھی تھی. جیسے اِن لوگوں کی گفتگو کا مین کریکٹر وہ ہو ہی نہ.
” فاکیہ واٹس رانگ ود یو. تم کیا بولے جارہی ہو. میں جانتا ہوں ہمارا ریلیشن کیا ہے. اور میرے لیے وہ بہت امپورٹنٹ بھی ہے. مگر یہ بھی میری بیوی ہے. اگر یہ مجھے ادائیں دیکھائے یا جو بھی کرے. اُس میں چیپ کیا ہے. “
میران جس کے لیے شہرین کوئی امپورٹنس نہیں رکھتی تھی. نہ ہی کبھی اُسے بیوی جیسا مقام دیا تھا. مگر فاکیہ کا اِس طرح اپنے جائز رشتے کے بارے میں غلط لفظ سننا اُسے نجانے کیوں اچھا خاصہ تپا گئے تھے.
” اوکے اوکے آئم سوری تمہیں بُرا لگا مگر میرا وہ مطلب بلکل بھی نہیں تھا. تم جانتے ہو تمہارے معاملے میں, میں کتنی پوزیسیو ہوں. مجھ سے اِس سب کو قبول کرنا کافی مشکل ہورہا ہے. “
میران کو غصے میں دیکھ فاکیہ نے جلدی سے بات کو سنبھالا تھا.
” ہممہ اٹس اوکے. “
میران اُس کے فوراً غلطی مان کر ایکسکیوز کرنے پر مسکرا کر سر ہلاتے بجتا فون آن کرکے کان سے لگاتا باہر نکل گیا تھا.
” ہاں بولو ابھی تک پتا نہیں چلا وہ گاڑی کس کی تھی. اور کس نے کی وہ گھٹیا حرکت.”
میران کو یقین تو تھا ہی کہ یہ حرکت سیاہل خان نے ہی اُس سے بدلہ لینے کے لیے کی ہے. مگر پھر بھی اُس نے ایک بار اِس بات کی مکمل تصدیق کروا کر ثبوت حاصل کرنے چاہے تھے. جنہیں خانی کے سامنے رکھتے اُسے مکمل طور پر سیاہل سے بدگمان کردے. وہ بہت جلد خان حویلی جانے کا ارادہ رکھتا تھا. جس سے پہلے وہ خانی کو سیاہل خان کے خلاف شک میں ڈال کر ہلکی سی چنگاری تو لگا ہی چکا تھا.
میران کے کال سننے کے لیے باہر جانے پر فاکیہ کی ساری توجہ اب شہرین کی جانب مبذول ہوئی تھی.
” سنو لڑکی میران بلوچ سے دور رہنا. وہ صرف میرا ہے. اور اپنے حق پر ڈاکا ڈالنے والوں کو میں چھوڑتی نہیں ہوں. تمہیں اُس نے صرف سہارا دیا ہے. اِس سے زیادہ نہ وہ تمہیں کوئی مقام دے گا اور نہ ہی تم ڈیزرو کرتی ہو. “
فاکیہ کی نفرت اور جیلسی اُس کے الفاظ اور آنکھوں سے ٹپک رہی تھی.
” جو جس مقام کے لائق ہوتا ہے میرا رب اُسے وہی بخشتا ہے. جیسے مجھے میران بلوچ کی بیوی اور آپ کو صرف ایک دوست کا مقام دیا ہے. ہم دونوں کو ہی اپنی اپنی جگہ یہ اچھے سے نبھانا چاہئے. “
شہرین جو کب سے فاکیہ کی بکواس سن رہی تھی. چہرے پر نرم سی مسکراہٹ سجائے بنا کسی بدتمیزی اور غلط لفظ استعمال کیے فاکیہ کو اُس کی اوقات بتا گئی تھی.
” تم…تم بہت شاطر ہو. یہ سب بول کر تم نے ٹھیک نہیں کیا. میران کے سامنے کیسی میسنی بن کر بیٹھی تھی تم. مجھے میری اوقات بتارہی ہو. اب دیکھو میں تمہارے ساتھ کرتی کیا ہوں. چند دنوں میں ہی میران کی زندگی سے اُٹھا کر باہر نہ پھینکوا دیا تو میرا نام بھی فاکیہ نہیں.”
شہرین کے الفاظ فاکیہ کے سر پر لگے اور تلوں پر بجھے تھے. وہ جس لڑکی کو گوار اور دبو سی سمجھ رہی تھی. اُس کے منہ میں زبان اور اُس کا ایٹیٹیوڈ دیکھ فاکیہ کا دل چاہا تھا. ابھی اِس کا ہاتھ پکڑ کر گھر سے اور میران کی زندگی سے نکال باہر پھینکے.
فاکیہ کی دھمکی پر شہرین بنا کچھ بولے ویسی ہی مسکراہٹ سے اُسے دیکھتی رہی تھی. وہ اُسے کیا بتاتی کہ باہر تو تم تب نکالو گی. جب میں میران بلوچ کی زندگی میں ہونگی. میں تو اُس کے لیے کسی بیکار سی شے سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی. شہرین حسرت بھرے انداز میں سوچتی ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئی تھی.
تبھی میران کو اندر داخل ہوتا دیکھ فاکیہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی.
” میران آج کی پارٹی میں تم نے لازمی شرکت کرنی ہے. اِس لڑکی کو بھی لانا یہ بھی ہماری پارٹیز دیکھ لے گی. اور ویسے بھی تم دونوں تو خاص مہمان ہو آج کی ہماری پارٹی کے.”
فاکیہ تیز نظروں سے شہرین کو گھورتی میران کے ساتھ باہر نکل گئی تھی.
شہرین نے اُن دونوں کو ایک ساتھ چلتے دیکھ خود کو میران کے ساتھ کافی مِس فٹ محسوس کیا تھا.
مگر جو بھی تھا آج میران کا یوں اُس کے لیے اپنی بہت خاص دوست سے سے الجھنا, شہرین کی انسلٹ برداشت نہ کرنا اُسے بہت مزا دے گیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” خانی اِس ڈریس میں تم بہت پیاری لگو گی یہی لے لو. “
عینا خانی کے سر پر مہرون رنگ کا دوپٹہ ڈالتی ستائشی انداز میں بولی.
خانی نے عینا سے معافی مانگ کر منا لیا تھا. ناراض تو عینا پہلے بھی نہیں تھی اُس سے. مگر اُس سے اتنے ٹائم یہ سچائی چھپانے پر شرمندہ تھی. جس پر خانی نے اُسے اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہونے کا کہتے پچھلی بات بھول جانے کو بولا تھا. وہ پہلے ہی اپنی زندگی میں ملنے والے گہرے صدمے کی وجہ سے کافی خاموش ہوگئی تھی. اِس لیے خانی اُسے اپنی اور سیاہل کی لڑائیوں کا بتاتی ہنساتے کافی حد تک بہلانے میں کامیاب ہوگئی تھی.
فیصل اور سمن کی شادی تھی. جس کی تیاریاں پوری حویلی میں زور و شور سے شروع ہوچکی تھیں. وہ دونوں بھی اِس وقت گھر کی باقی خواتین کے ساتھ بیٹھ کر نئے فینسی ڈریسز دیکھ رہی تھیں. جو مارکیٹ سے بڑی تعداد میں ہر طرح کے ڈیزائن اور رنگوں کے منگوائے گئے تھے.
” ہممہ بہت پیارا ڈریس ہے یہ. مگر مجھے اِس شادی کے تمام ڈریسز سیاہل خان کی پسند کے پہننے ہیں. یہ خصوصی آرڈر ہے آپ کے بھائی کا.”
سیاہل کا ذکر کرتے خانی کی آنکھوں میں اُس کے لیے محبت اور چاہت کے بےشمار رنگ نمایاں تھے. جنہیں عینا نے ہمیشہ ایسے ہی قائم رہنے کی دعا کی تھی.
” اُس دن سسی پنوں کے مزار پر میں نے کہا تھا نا. میں چاہتی ہوں تمہاری بھی سسی پنوں جیسی محبت کی لازوال داستان ہو. تو وہ میں نے بلاوجہ نہیں بلکہ صرف اِس لیے کہا تھا کہ میں سیاہل بھائی کی آنکھوں میں تمہارے لیے جنون کی حد تک محبت دیکھ چکی تھی. اور آپ دونوں کے درمیان کے مضبوط رشتے سے مجھے یہی لگا تھا کہ بہت سی دشمنیوں کے باوجود اُن سے ملنے کے بعد, اُن کی محبت دیکھنے کے بعد تم خود کو اُن سے محبت کرنے سے روک نہیں پاؤ گی. اور ایسا ہی ہوا. میرے بھائی ہیں ہی اتنے شاندار اور ہینڈسم سے کوئی اُن سے محبت کیے بغیر رہ ہی نہیں سکتا. تم جانتی ہو. جب وہ مجھے ملنے آتے تھے. اور کبھی میری خواہش پر مجھے اپنے ساتھ باہر ریسٹورنٹ یا کہیں گھومنے پھیرانے لے کر جاتے. وہاں موجود لڑکیاں اُنہیں کس قدر ستائش اور حسرت بھری نظروں سے دیکھتی تھیں میں بتا نہیں سکتی. مجھے تو لگتا ہے تم جتنی اُن کے معاملے میں پوزیسیو ہو اگر وہ سب تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوتا تو تم نے لڑائی شروع کردینی تھی اُن لڑکیوں کے ساتھ. “
عینا نے تفصیل سے اپنے بھائی کی شان میں قصیدہ گوئی کرتے اپنی بات مکمل کی تھی.
” تم نے ٹھیک کہا تھا عینا محبت کا جذبہ واقعی دنیا کا سب سے حسین اور خوبصورت جذبہ ہے. اِس کے بغیر تو زندگی میں کوئی خوبصورتی ہی نہیں. مجھے تو ایسا فیل ہوتا ہے جیسے پہلے تو میں بہت ہی سادہ بے رنگ سی زندگی گزار رہی تھی. زندگی کی اصل ایکسائٹمنٹ اور اِس میں حسین رنگ تو ابھی بھرنا شروع ہوئے ہیں.
اور یہ بات بھی سچ ہے کہ جو محبت سچی ہوتی ہے اُس میں بہت ساری مشکلات آتی ہیں. ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا. ہمیں بہت بار علیحدہ کرنے کی کوشش کی گئی. مگر مشکلات سے گزرتے اپنی محبت کو ثابت کرتے ہم آج بھی ایک ہیں اور آگے بھی ہمیشہ ساتھ ہی رہیں گے. “
خانی کے انداز میں سیاہل خان کا ذکر کرتے عقیدت اور بے پناہ محبت بھری تھی. جس شخص نے اُس کی اتنی غلطیوں کو اگنور کرتے اُسے ہمیشہ سینے سے لگاتے عزت اور محبت بخشی تھی.
” اور رہی بات سیاہل خان کی تو وہ تو صرف میرے ہیں. جن کو دیکھنا ہے وہ دیکھتی رہیں. مگر قریب آنے کی کوشش کی تو میں چھوڑوں گی نہیں اُنہیں.”
خانی بولی ایسے تھی جیسے تصور میں اِس وقت وہ لڑکیاں اُس کے سامنے ہوں.
عینا اُس کے انداز پر کھلکھلا کر رہ گئی تھی.
تبھی خانی کی خاص ملازمہ نے اُسے کوئی ضروری بات کرنے کے لیے کچن کی طرف بلایا تھا. خانی کچھ حیران ہوتی مگر خاموشی سے اُس سائیڈ پر آگئی تھی.
” کیا ہوا ہے نسیمہ سب ٹھیک ہے نا. “
خانی نسیمہ کی خاموشی پر فکرمندی سے بولی.
” جی سردارنی سائیں ایک دکھوں کی ماری بہت ہی مجبور اور لاچار ماں آپ سے ملنا چاہتی ہے. یوں سب کے سامنے اُسے اگر کسی نے آپ سے ملتے دیکھ لیا تو اُس کی خیر نہیں ہوگی. اِس لیے وہ کچن کے سٹورروم میں چھپ کر کھڑی ہے. آپ مہربانی کرکے ایک بار اُس کی فریاد سن لیں. بہت دعائیں دے گی آپ کو. “
نسیمہ خانی کے ساتھ ایک سائیڈ پر رکتی اُسے تفصیل بتانے لگی تھی. اور امید بھری نظروں سے خانی کی جانب دیکھا تھا. جیسے یقین ہو وہ انکار نہیں کرے گی.
“اوکے شیور چلو. میں سننا چاہتی ہوں اُس عورت کی بات. “
خانی نے فوراً حامی بھر لی تھی.
کچن میں داخل ہوتے لمبا فاصلہ عبور کرتے خانی ملازمہ کے ساتھ ایک قدرے نیم تاریک سٹور میں داخل ہوئی تھی. جہاں سبزیوں کے ڈھیر کے ساتھ ساتھ دالوں اور مسالوں کے ڈبے رکھے گئے تھے.
اُنہیں کے درمیان کونے میں ایک درمیانی کمر کی خاتون چھپ کر کھڑی تھی. جو مکمل چادر میں لپٹی تھیں. بس چہرے کا آدھا حصہ باہر تھا.
خانی کو دیکھ وہ عقیدت سے آگے بڑھی تھی. اور سلام دیتے اُس کا ہاتھ تھام کر چوم لیا تھا.
” جی بولیں آپ کی کیا پریشانی ہے. “
خانی بھی بہت عزت سے اُن سے سلام دعا کرنے کے بعد اصل بات کی طرف آئی تھی. اُسے یہاں کھڑا ہونا عجیب سا لگ رہا تھا.
” سردانی سائیں میں پہلے ہی معذرت کرنا چاہتی ہوں اگر آپ کو میری کہی کوئی بات بُری لگے تو. میں جانتی ہوں بہت بڑے انسان کا نام لینے والی ہوں. مگر میں اپنے ﷲ کو حاضر ناظر جان کر بلکل سچ بولوں گی. سردار سائیں کے چچا کے بیٹے شہزاد خان سائیں کی عادتیں شروع سے ہی بہت خراب رہی ہیں. بلاوجہ دھنگا فساد کرنا, لڑائیاں کرنا لوگوں کا پیٹنا یہ سب کرتے تھے. تب یہ بات جیسے ہی سردار سائیں کے علم میں آئی اُنہوں نے فوراً شہزاد سائیں کو سزا دیتے آگے ایسا کچھ بھی کرنے سے باز رکھا. جس پر شہزاد سائیں شاید سردار سائیں کے بہت خلاف بھی ہوگئے. مگر اُن کے رعب اور ڈر کی وجہ سے دوبارہ ویسا کچھ نہیں کیا. لیکن وہ بات تو پھر بھی قابلے قبول تھی. پر اب تو وہ مزید گندگی پر اُتر آئے ہیں. وہ ہماری گاؤں کی لڑکیوں کو سکول آتے جاتے بہت حراسہ اور تنگ کرتا ہے. ایک بار تو اُس نے میری بیٹی کا ہاتھ بھی پکڑ لیا. اور اُسی لمحے بدقسمتی سے میرا بیٹا وہاں پہنچ گیا. سامنے چلتا منظر اُس کا خون کھولا گیا تھا. اُس نے بنا سوچے سمجھے شہزاد سائیں کے منہ پر سب کے سامنے تھپڑ مارتے آئندہ ایسی کوئی بھی حرکت کرنے سے باز رکھا. اُس وقت تو شہزاد سائیں خاموش ہوگئے مگر اُس واقعہ کے اگلے دن سے میرا بیٹا غائب ہے. اُس کا کوئی اتا پتا نہیں ہے. سرادر سائیں تک جیسے ہی یہ بات پہنچی اُنہوں نے سارے واقع کو خود ہینڈل کرتے نہ صرف شہزاد سائیں کو دو تھپڑ لگاتے سب کے سامنے بُری طرح بے عزت کیا بلکہ ایک مہینے کے لیے حویلی میں ہی نظر بند کردیا. جس پر میرے سمیت گاؤں کا ہر فرد اُن کا مشکور ہے. جنہوں نے ہمیشہ ہم لوگوں کا خیال کرتے ہمارے حق میں انصاف کرتے کبھی اپنے گھر والوں کی غلطیوں پر پردہ نہیں ڈالا.
مگر سردارنی سائیں میرا بیٹا خود گھر سے غائب نہیں ہوا اُس کو شہزاد سائیں نے اُٹھوایا ہے. اور اب روز مجھے اور میری بیٹی کو دھمکیاں مل رہی ہیں کہ ہمیں بھی وہ اغوا کر لے گا. ہم دونوں کا واحد سہارا میرا بیٹا ہی تھا. اب ہم دونوں کا گھر سے نکلنا دوبھر ہوگیا ہے. شہزاد سائیں کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے یہ بات سردار سائیں تک پہنچائی تو وہ ہمیں تو نقصان پہنچائیں گے ہی سہی ساتھ ساتھ ہمارے سردار سائیں سے بھی اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے اُنہیں مروا دیں گے. میں نے بہت کوشش کی سردار سائیں تک پہنچنے کی مگر مجھے نہیں معلوم تھا اُن کے آدمیوں میں سے کون مخلص ہے اور کون شہزاد سائیں کے ساتھ ملا ہوا ہے. اِس لیے بہت مشکل سے نسیمہ کی مدد سے میں آپ تک پہنچی ہوں. بیٹے کی جدائی تو برداشت کررہی ہوں. مگر بیٹی کی عزت پر لگا دھبہ برداشت نہیں کر پاؤں گی. آپ میری مدد کریں گی نا.”
اُس عورت نے بات کا اختتام کرتے بھیگے چہرے اور آس بھری نظروں سے خانی کو دیکھا تھا. خانی اُن کی دکھ بھری داستان سن کر اپنے آنسو نہیں روک پائی تھی. اُس نے آگے بڑھتے اُن کے دونوں ہاتھ تھام لیے تھے.
” آپ فکر مت کریں. میں بات کرتی ہوں سردار سائیں سے. وہ آپ کی مدد ضرور کریں گے. اور بہت جلدی آپ کو اپنے بیٹے کے ساتھ ساتھ اِس عذاب سے بھی چھٹکارا مل جائے گا. “
خانی کی بات پر اُس عورت کی ویران آنکھوں میں ہلکی سی چمک اُبھری تھی. لیکن ساتھ ہی شہزاد خان کی دھمکی کا خوف بھی.
” مگر وہ کہیں سردار سائیں کو.….”
وہ. عورت اپنا خوف زبان پر لائی تھی.
” کچھ نہیں ہوگا سردار سائیں کو. یہ عورتوں پر وار کرنے والے , اُنہیں ڈرانے دھمکانے والے کمزور مرد سردار سیاہل موسی خان جیسے شیر کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت بھی نہیں رکھتے.”
خانی کے لہجے میں اپنے شوہر کے لیے فخر اور مان تھا. جو صرف اپنے رشتوں کا نہیں بلکہ اپنی رعایا کا بھی خیال رکھنا جانتا تھا.
” سردارنی سائیں جتنا آپ کے حُسن کے بارے میں سن رکھا ہے. آپ اُس سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت ہیں. ﷲ آپ دونوں کی جوڑی ہمیشہ سلامت رکھے. آپ کو دنیا کی بُری نظروں سے محفوظ رکھے. اور بہت جلدی آپ کو اولاد جیسی نعمت سے نوازے. “
وہ عورت ایک بار پھر خانی کا ہاتھ چومتی اُسے بہت ساری دعائیں دیتی رخصت ہوگئی تھی. جبکہ اُس کی آخری بات پر خانی کے چہرے پر شرمیگی سی پیاری مسکراہٹ پھیل گئی تھی.
” سردار سائیں آئی مِس یو سو مچ. “
خانی کو اُس عورت کی باتیں سن کر جہاں بہت دکھ اور تکلیف محسوس ہوئی تھی. وہیں سیاہل کے لیے اُس کی محبت میں مزید اضافہ ہوچکا تھا. وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اُس شخص کی مزید دیوانی ہوتی جارہی تھی.
یہ جانتے ہوئے کہ سیاہل خان نے آج جرگے کے بعد کراچی جانا ہے وہ نکل چکا ہوگا. اِس لیے جان بوجھ کر اُسے چھیڑنے کے لیے محبت بھری ایموجیز والا میسج سینڈ کردیا تھا.
میسج سینڈ کرکے وہ کچن سے نکلی ہی تھی. جب ایک ملازمہ سر جھکائے اُس کے قریب آئی تھی.
” سردارنی سائیں آپ کو سردار سائیں باہر بلا رہے ہیں. “
ملازمہ کی غیر متوقع بات پر خانی کے ہاتھ سے موبائل چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا.
” کیا مطلب اُنہوں نے تو کراچی نہیں جانا تھا آج….. اچھا تم جاؤ.….اُف ﷲ جی مجھے آخر ضروت ہی کیا تھی اِس بندے کو چھیڑنے کی. اب سیاہل خان جب تمہیں اپنے انداز میں اِس مِس یو اور اُن ایموجیز کا جواب دے گا تو تمہاری عقل ٹھکانے آہی جائے گی. “
خانی سیاہل خان کی شوخیوں اور شدتوں سے اچھے سے واقف تھی. اُوپر سے اگر چھیڑ بھی اُسی نے دیا تھا. تو اب خیر بلکل بھی نہیں تھی.
خانی ابھی خود کو ہی کوس رہی تھی. جب اُس کا فون بج اُٹھا تھا.
” کیا ہوا سردارنی صاحبہ آپ تو مجھے بہت مِس کررہی تھیں. تو اب میرے پاس آنے میں اتنی دیر کیوں لگا رہی ہیں. “
سیاہل خان کی آواز سے خانی صاف اندازہ کر پارہی تھی کہ وہ اِس وقت اُس کی کیفیت سے کس قدر حظ اُٹھا رہا تھا.
” میں نے ایسا کوئی میسج نہیں کیا.آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے سردار سائیں. اور نہ ہی میں آپ کو مِس کررہی ہوں. مجھے آپ کے ساتھ کہیں نہیں جانا. مجھے حویلی میں بہت کام ہیں. “
خانی دھڑکتے دل کے ساتھ سیاہل کو انکار کرتے بولی.
” مگر میں نے تو کسی میسیج کا نام ہی نہیں لیا. مجھ تک تو میری سردانی کے دل کی بات پہنچی ہے. “
سیاہل خان سے پہلے کہاں وہ باتوں میں جیت پائی تھی جو اب جیتتی. اُس کی گھمبیر آواز پر اپنی دھڑکنوں کا شمار لگاتی خانی خاموشی سے کھڑی رہی تھی.
” سردانی صاحبہ اگلے دس منٹ میں آپ میرے پاس ہونی چاہئے ورنہ وہاں سب کے سامنے سے بانہوں میں اُٹھا کر لانے میں مجھے تو بالکل کوئی مسئلہ نہیں ہوگا. “
سیاہل بہت ہی نرمی و محبت بھرے لہجے میں خانی کو دھمکی دیتا فون بند کر گیا تھا.
” سیاہل موسی خان جس انداز میں آپ اگلے کو دھمکی دے کر اپنی بات مناننے پر مجبور کرتے ہیں. تب آپ سردار نہیں بلکہ کوئی ایکسپرٹ قسم کے کڈنیپر معلوم ہوتے ہیں. “
خانی موبائل سکرین پر جگمگاتی سیاہل خان کی تصویر دیکھ چڑ کر بولتی سمن لوگوں کی جانب بڑھ گئی تھی. وہ سمجھ گئی تھی اُسے اب کیا کرنا ہے.
” بھابھی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ہم لوگ کیسے جاسکتی ہیں. ادا سائیں نے تو صرف آپ کو بلایا ہے نا. اُنہیں اگر بُرا لگ گیا اور غصہ آگیا تو. “
خانی بھی سیاہل خان کو تنگ کرنے کے لیے سمن, عینا اور شمسہ کو اپنے ساتھ لے جانے کا ارادہ کرتی اُن کے پاس آئی تھی. مگر اُس کی بات سنتے وہ تینوں سرے سے ہی انکاری ہو گئی تھیں.
” کچھ نہیں ہوتا میں ہوں نا. میں نہیں ڈرتی اُن کے غصے سے. “
خانی نے جس بہادری سے یہ بات بولی تھی. اگر سیاہل خان سامنے ہوتا تو اپنا قہقہ نہ روک پاتا. جو اُس کے زرا سے قریب آنے پر ہرنی کی طرح سہم جاتی تھی.
” مگر خانی اگر واقعی ڈانٹ پڑ گئی تو…. “
عینا بھی انکاری تھی. لیکن خانی کی ضد پر آخر کار اُن کو مانتے ہی بنی تھی.
سیاہل خان جو گاڑی سے کچھ فاصلے پر کھڑا فون پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ خانی کا انتظار کررہا تھا. باقی تینوں کو بھی خانی کے ساتھ باہر آتے دیکھ وہ پہلے تو حیران ہوا تھا.
مگر پھر خانی کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ دیکھ ساری بات سمجھتے سیاہل اپنی بے ساختہ اُمڈ آنے والی ہنسی روکنے کے لیے رُخ موڑ گیا تھا. اُس کی لاڈلی معصوم بیوی اُس سے بچنے کے لیے اپنے ساتھ تین تین باڈی گارڈز لا رہی تھی.
” میری پاگل سردارنی…. “
سیاہل فون بند کرکے ہونٹوں پر آئی مسکراہٹ کو چھپا کر سنجیدگی اختیار کرتے اُن کی جانب بڑھا تھا.
” میں نے سوچا یہ لوگ گھر میں بور ہی ہوتی رہتی ہیں. اِن کا بھی باہر نکل کر تھوڑا موڈ فریش ہوجائے گا. “
سیاہل کو خاموشی سے گاڑی میں بیٹھتے دیکھ خانی نے خود ہی بہت خوشی سے بتایا تھا. خانی فرنٹ سیٹ پر اور باقی تینوں پیچھے براجمان تھیں. گاڑی سیاہل خود ہی ڈرائیو کرنے والا تھا. جبکہ پیچھے گارڈز کی دو گاڑیاں موجود تھیں. سیاہل خان کے دشمن ہر علاقے میں بڑی تعداد میں پائے جاتے تھے. اِس لیے احتیاطً اُسے یہ سب کرنا پڑتا تھا.
” جی بالکل آپ نے بہت اچھا سوچا. مجھے بہت خوشی ہورہی ہے اِن کو ساتھ دیکھ کر. “
سیاہل نے واقعی یہ بات دل سے کہی تھی. جسے سن کر وہ تینوں جو تھوڑی ٹینشن میں تھیں. اب کافی حد تک ریلیکس ہوچکی تھیں.
” ادا سائیں آپ کو ایک مزے کی بات بتاؤں. پہلے میری جب بھی بھابھی سے آپ کے بارے میں بات ہوتی تھی. اِن کو آپ کی تعریف سننا بہت بُرا لگتا تھا. مگر اب اب تو آپ کی تعریفوں کے علاوہ اِن کے پاس کوئی بات ہی نہیں ہے. “
آج شاید سیاہل خان کا موڈ بہت اچھا تھا. اِس لیے معمول سے ہٹ کر آج وہ اپنی سنجیدگی کی چادر ہٹائے اُن سب سے بہت ہی بے تکلفی سے بات کررہا تھا. جس کی وجہ سے وہ لوگ بھی بہت خوش ہوتیں کھل کر باتیں کرتیں سفر کو بہت انجوائے کر رہی تھیں.
خانی جو کچھ دیر کے لیے خاموش ہوئی اُن کی باتیں سن رہی تھی. سمن نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ سیاہل کو بتاتے اُس کا پول کھول دیا تھا. جبکہ خانی اِس اچانک حملے پر اچھی خاصی بوکھلا گئی تھی.
” کیا واقعی ایسا ہے. کیا تعریفیں کرتیں ہیں یہ میری مجھے بھی تو پتا چلے. میرے سامنے تو آج تک کبھی نہیں کیں. “
سیاہل کو تو جیسے موقع مل گیا تھا خانی کو چھیڑنے کا. ایک گہری بھرپور نظر اورنج سوٹ میں ملبوس نکھری نکھری سی اپنے بالکل قریب بیٹھی بیوی پر ڈالتے سیاہل اُسے اچھا خاصہ پزل کر گیا تھا.
” سمن فضول باتیں مت کرو. میں نے کبھی ایسا کچھ نہیں کیا. “
خانی جن کو اپنی فیور کے لیے ساتھ لائی تھی. وہ اب اُلٹا سیاہل کے ساتھ مل کر اُس کی کھنچائی کررہی تھیں.
خانی نے پلٹ کر سمن کو باز رکھنے کی کوشش کرتے تنبیہی نظروں سے گھورا تھا. یہ عمل سیاہل خان سے بلکل بھی پوشیدہ نہیں رہ سکا تھا.
سمن کا بات کرنے کے لیے کھلا منہ خانی کی گھوری پر واپس بند ہوگیا تھا.
” ہاں تو سمن کیا کہہ رہی تھی تم. “
سیاہل نے اپنی ظالم بیوی کی گھوری کی وجہ سے سہم جانے والی اپنی بہن کا حوصلہ بڑھایا تھا.
اسے خانی کا یہ رُوپ دیکھنے میں بہت مزا آرہا تھا.
سمن سیاہل کی شے دینے پر بالکل رٹو طوطے کی طرح شروع ہوچکی تھی. جبکہ سیاہل کی پرسنیلٹی سے لے کر اُس کے مضبوط کردار ,اُس کے کیئرنگ انداز اور نجانے کیا کچھ جو بھی خانی نے اُن کے سامنے سیاہل کے بارے میں بولا تھا. وہ لوگ سب بتاتی چلی گئیں تھیں. خانی نے سیاہل کی جذبے لُٹاتی شوخ نظروں پر چہرا ونڈو کی جانب موڑ لیا تھا. جبکہ وہ لوگ جیسے اُس کا لفظ با لفظ حفظ کیے بیٹھی تھیں. کوئی ایک بات جو چھوڑی ہو. خانی کا دل چاہا تھا یا تو اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لے یا پھر پیچھے بیٹھی تینوں کے منہ پر کچھ لگا کر اُنہیں خاموش کروا دے.
لیکن وہ اِن دونوں میں سے کچھ بھی نہیں کر پائی تھی. سیاہل خان کے بدلتے تیور اُسے اچھا خاصہ خوفزدہ کررہے تھے. صبح سے وہ جو حرکتیں کرتی پھر رہی تھی. اور اب جو گوہرافشانی کی جارہی تھی. اِس سب کے بعد اُس کی خیر بلکل بھی نہیں تھی. یہی سوچتے خانی کی دھڑکنیں سینے میں دوہری ہوئی جارہی تھیں.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” بات سنو. میں ابھی ایک ضروری کام سے باہر جارہا ہوں. آج رات تمہیں میرے ساتھ ایک پارٹی میں آنا ہے. بہت منع کرنے کے باوجود فاکیہ نے میرے سوشل سرکل میں سب کو ہماری شادی کے بارے میں بتا دیا ہے. اور آج تمہیں میں نے سب کے سامنے اپنی بیوی کے طور پر انٹروڈیوس کروانا ہے. اِس لیے تمہیں بالکل میری بیوی کے معیار کے مطابق تیار ہونا ہوگا. میرے فرینڈ کی وائف بیوٹیشن ہے. میں نے اُسے کال کر دی ہے وہ پہنچنے والی ہونگی. جیسے وہ کہیں اُن کی ہدایت کے مطابق تیار ہوجانا. “
میران موبائل پر مصروف بنا شہرین کی جانب دیکھے اپنا حکم صادر کرتا باہر نکل گیا تھا. جبکہ شہرین کے دل میں اُس کا لفظ معیار کھب کر رہ گیا تھا.
میران بلوچ اُسے کوئی بہت ہی اَن پڑھ گوار اور گئی گزری لڑکی سمجھ رہا تھا. جبکہ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ شہرین نہ صرف پڑھی لکھی تھی. بلکہ چار سال کراچی میں پڑھائی کے سلسلے میں ہاسٹل میں رہ چکی تھی. اور ہائی سوسائٹی سے موو کرتی اپنی کلاس فیلوز کی وجہ سے اُن کے طور طریقوں سے واقف بھی تھی.
شہرین اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی. اُس کی ماں کی اُس کے بچپن میں ہی ڈیتھ ہوگئی تھی. اُسے اُس کے بابا نے بہت ہی لاڈ پیار سے پالا تھا. اُس کی خواہش پر خاندان والوں سے مخالفت کرکے اُسے شہر اکیلا پڑھنے بھیج دیا تھا. گاؤں کی سب لڑکیاں اُس کی قسمت پر رشک کرتی تھیں. لیکن اچانک اُس کی قسمت نے ایسا پلٹا کھایا تھا. کہ اُسے عرش سے فرش پر لاپٹخا تھا. اُس کی دنیا اندھیر تب ہوئی جب ایک دن اچانک دل کا دورہ پڑنے پر اُس کے بابا ہمیشہ کے لیے اُسے چھوڑ کر چلے گئے تھے. وہ اپنے روایتی سوچ رکھنے والے چچا اور چچی کے رحم و کرم پر آگئی تھی. اور یہاں تک بھی اُنہیں کے بیٹے کے کیے قتل کے خون بہا کے طور پر پہنچی تھی. جہاں اُس کا اپنا شوہر ہی اُسے دنیا کی سب سے فالتو شے سمجھ کر بالکل سائیڈ پر کر چکا تھا. آج اگر اُسے بیوی کے طور پر متعارف کروانے والا بھی تھا تو وہ بھی اپنی محبوبہ کی خوشی کی وجہ سے.
شہرین اپنی اذیت بھری سوچوں کو جھٹکتی خاموشی سے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی. اُسے اپنے شوہر کی جانب سے ملے حکم کی ہر حال میں تکمیل کرنی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤

جاری ہے……..