Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

” بھائی مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے.”
خانی نے ناک کرکے میران کے کمرے میں داخل ہوتی بنا اُس کا حال چال پوچھے آنے کی وجہ بیان کی تھی.
” لگتا ہے میری گڑیا بہت سخت ناراض ہے اپنے بھائی سے. “
میران صوفے سے اُٹھ کر خانی کے قریب آتے محبت سے بولا.
” جی بہت سخت ناراض ہوں. مگر اُس بارے میں ابھی بات نہیں کرنا چاہتی. ابھی مجھے آپ سے ایک اور فیور چاہئے. “
خانی پچھلی بات چھیڑ کر ٹائم ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی. اِس لیے مین مُدعے پر آئی تھی.
” میری گڑیا کو مجھ سے کچھ بھی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے. تمہاری ہر خواہش ہر فرمائش پوری کرنے کو تیار ہوں. “
میران صرف اپنی لاڈلی بہن کی ناراضگی دور کرنا چاہتا تھا.
” پرامس کریں جو میں کہوں گی کریں گے. “
خانی نے پراسرار انداز میں مسکراتے اپنی ہتھیلی سیاہل کے آگے پھیلا دی تھی.
” پرامس. “
میران خانی کا ہاتھ تھامتا بنا اصل بات جانے حامی بھر گیا تھا.
” آپ کو خون بہا میں آئی لڑکی سے ارباز بھائی کی جگہ خود نکاح کرنا ہوگا. “
خانی نے بہت ہی پرسکون انداز میں اُس پر بم پھوڑا تھا.
” واٹ. یہ کیسا مذاق ہوا. خانی یہ باتیں مذاق میں کرنے والی بلکل بھی نہیں ہیں. “
میران یہی سمجھا تھا کہ خانی مذاق کررہی ہے. اِس لیے اُسے ٹوکتے مرر کے سامنے کھڑے ہوکر بال بنانے لگا تھا.
” میں جانتی ہوں سب. اور نہ ہی میں اِس بارے میں کوئی مذاق کررہی ہوں. میں بلکل سیریس ہوں اور چاہتی ہوں. آپ اُس لڑکی کو اِس ظلم سے بچا لیں. ارباز کا وحشیانہ اور ظالمانہ پن یہاں رہ کر میں اچھے سے دیکھ چکی ہوں. اِس لیے اُس لڑکی کا نکاح میں کسی صورت ارباز سے تو ہونے نہیں دوں گی. چاہے مجھے اُس کے لیے آغا جان سے ہی کیوں نہ لڑنا پڑے. “
میران کو خانی سے ایسی کسی بات کی امید بلکل نہیں تھی. لیکن وہ اتنا بھی جانتا تھا کہ اُس کی بہن اپنی آنکھوں کے سامنے اتنا ظلم ہوتا نہیں دیکھ سکتی تھی. اِس لیے وہ جو کہہ رہی تھی اُس پر عمل کر بھی سکتی تھی.
” گڑیا یہ کیسی ضد ہے. تم بلاوجہ اِن سب باتوں میں کیوں پڑ رہی ہو. آغا جان فیصلہ کرچکے ہیں ارباز سے اُس کے نکاح کا. اب میں کچھ نہیں کرسکتا. “
میران نے بہت ہی نرمی سے خانی کو سمجھانا چاہا تھا.
” نکاح کا فیصلہ ہوا ہے. نکاح تو نہیں ہوا. آپ پلیز جاکر بچا لیں نا اُس لڑکی کو. وہ بہت رو بھی رہی تھی. میں یہ نہیں کہہ رہی کہ آپ میرے مجبور کرنے پر زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ لیں. آپ بعد میں اپنی مرضی اور پسند سے شادی کرلیجیئے گا. مگر اِس وقت صرف اُس لڑکی کو اپنا نام دے کر ارباز سے بچا لیں. “
خانی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ میران کو کیسے راضی کرے.
” خانی انف از انف. ارباز اگر مزاج کا تیز ہے تو اِس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اتنا وحشی ہے کہ اُس لڑکی کو کھا جائے گا. مجھے اب مزید اِس ٹاپک پر کوئی بات نہیں کرنی. اب تم جاسکتی ہو. “
میران لہجے میں سختی بھرے دوٹوک انداز میں کہتا خانی کو وہاں سے جانے کو بول گیا تھا.
” کیا واقعی ارباز وحشی نہیں ہے. اگر اُس لڑکی کی جگہ آپ کی بہن اِسی پوزیشن میں ہوتی اور اُس کا نکاح کسی ایسے شخص کے ساتھ ہورہا ہوتا. تو تب بھی آپ ایسا ہی سوچتے.
آپ جانتے ہیں یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے. اگر آج آپ اپنا ظرف بڑا کر کے کسی کی بہن کو تحفظ دیں گے. تو کیا پتا وقت آنے پر کوئی آپ کی بہن کو بھی ایسے ہی بچالے. وہ لڑکی نہ ہی کس کی قاتل ہے اور نہ مجرم. اور کسی بے گناہ پر اپنی آنکھوں کے سامنے خاموش کھڑے رہ کر ظلم ہوتے دیکھنا بھی گناہ ہے. آپ ایسا گناہ کرنے کی ہمت رکھتے ہونگے پر ﷲ کا شکر ہے میں ابھی اتنی بے حس نہیں ہوئی. اُس لڑکی کی زندگی ہمیشہ سے جہنم ہونے سے بچانے کے لیے مجھے جو کچھ کرنا پڑا میں کروں گی. “
خانی میران کو شکوے اور ناراضگی بھری نظروں سے دیکھتی اُس کا ضمیر جگانے کی ہلکی سی کوشش کرتی وہاں سے پلٹ آئی تھی.
” ایک منٹ رکو. میں تیار ہوں. صرف اپنی بہن کے صدقے اور آج تو تم نے اپنے لیے ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں. اگر نیکسٹ خود کو اِس طرح کسی سے کمپیئر کیا تو میں بلکل بھی بات نہیں کروں گا تم سے. “
میران لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا تھا کہ وہ اپنی بہن سے کس قدر پیار کرتا تھا. خانی کا زرا سا اپنا حوالہ دے کر آئینہ دیکھانا اُسے اچھا خاصہ ہلا گیا تھا. وہ یہ بات کیسے بھول سکتا تھا کہ خانی ابھی بھی سیاہل خان کے نکاح میں تھی.
ابھی چاہنے کے باوجود وہ اُسے سیاہل خان سے آزاد نہیں کروا پایا تھا. سیاہل خان خانی کو کسی صورت چھوڑنے کو تیار نہیں تھا. جبکہ میران سیاہل کا نام اپنی بہن کے نام سے ہٹانا چاہتا تھا. اِس لیے اُس نے سیاہل کے خانی کو چھوڑنے سے مسلسل انکار پر طیش میں آکر قاتلانہ حملہ کروایا تھا. مگر سیاہل خان اُس میں سے بھی بہت ہی ہوشیاری سے بچ نکلا تھا. مگر میران کسی صورت خاموش بیٹھنے کو تیار نہیں تھا. وہ پھر ایسا ہی کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا. مگر آغا جان نے اُسے نجانے کیوں دوبارہ ایسا کوئی بھی انتہائی قدم اُٹھانے سے روکا ہوا تھا.
خانی میران کے فیصلے پر بہت خوش ہوئی تھی. وہ جانتی تھی اُس کا بھائی اُس کی بات کا مان ضرور رکھے گا. خانی اُس سے اُس دن سیاہل پر کروائے گئے قاتلانہ حملے کی تصدیق چاہتی تھی. لیکن ابھی وہ ایسا کچھ بھی پوچھ کر میران کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی. اِس لیے اِس بارے میں بعد میں ڈسکشن کرنے کا سوچتی وہ انا بی کو یہ گڈ نیوز دینے کے لیے خوشی خوشی لوٹ آئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ارباز کے بہت زیادہ ہنگامہ کرنے کے باوجود آغا جان نے اُس لڑکی کا نکاح میران سے کروا دیا تھا. پہلی دفعہ اُن کے پوتے نے اُن سے کچھ مانگا تھا. وہ اُسے انکار کرکے ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے.
خانی اپنی پہلی جیت پر بے انتہا خوش تھی. بشرا بیگم نے نکاح کہ بعد اُس لڑکی کو اچھا خاصہ بےعزت اور اُس کی تذلیل کرتے کچن میں جاکر سب کا کھانا بنانے کا حکم دیا تھا.
خانی کو اِس وقت اُن پر بہت غصہ آیا تھا. جنہیں اُس دھان پان سی ڈر اور خوف سے کپکپاتی لڑکی پر زرا سا بھی رحم نہیں آرہا تھا. اُس بخار میں تپتی نقاہت ذدہ لڑکی کے آہستہ چلنے پر وہ اُسے کچھ زور دار تھپڑ بھی رسید کرچکی تھیں. جیسے اُن کے بھائی کا قتل اِسی لڑکی نے کیا ہو.
” مجھے اِس لڑکی سے اپنا کام کروانا ہے. آپ کھانا کسی اور سے بنوا لیں. “
خانی ضبط نہ کرپاتے اُس لڑکی کا ہاتھ تھام کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی. جبکہ بشرا بیگم اپنی حکم عدولی پر پیچھے سے پیچ و تاب کھا کررہ گئی تھیں.
اگر سیاہل خان کا حوالہ اور آغا جان کا ہاتھ خانی کے سر پر نہ ہوتا تو وہ اب تک اِس لڑکی کی اکڑ مٹی میں ملا چکی ہوتیں. جس پر ویسے ہی ہر وقت مظلوموں سے ہمدردی کا بھوت سوار رہتا تھا.
” کیا نام ہے آپ کا. “
خانی اُسے اپنے ساتھ لاکر بیڈ پر بیٹھاتی نرم لہجے میں بولی.
وہ لڑکی خود کو سیاہ چادر میں چھپائے یہاں کے ہر فرد سے چھپنے کی سعی میں تھی.
مگر خانی کا نرم لہجہ. اور ہر جگہ اپنی ڈھال بنتا دیکھ وہ لڑکی اُس کے ساتھ تھوڑی نارمل ہوئی تھی.
” شہرین “
یک لفظی جواب دے کر اُس کے ہونٹ دوبارہ آپس میں پیوست ہوگئے تھے.
گندمی رنگت بڑی بڑی آنکھیں, ستواں آنسوؤں سے لال ہوئی ناک, پرکشش نقوش کی مالک وہ لڑکی خانی کو بہت پسند آئی تھی. اُس کا دل چاہا تھا کہ یہی لڑکی ہمیشہ اُس کی بھابھی رہے. جو بہت ہی معصوم اور بے ضرر سی تھی. اُس کے دھیمے مزاج بھائی کے ساتھ بہت سوٹ بھی کرتی.
مگر اب وہ اِس سے زیادہ اِس لڑکی کے لیے مزید کچھ نہیں کرسکتی تھی. میران کے دل میں جگہ یہ خود ہی بنا سکتی تھی.
” نام تو بہت پیارا ہے آپ کا. کیا آپ مجھ سے دوستی کریں گی. میں آپ کی معصوم سی اکلوتی نند ہوں. “
خانی کے تعارف پر وہ لڑکی بہت دقت کے ساتھ اپنے مردہ چہرے پر ہلکی سی مسکان لائی تھی.
خانی نے محسوس کیا تھا کہ وہ لڑکی تیز بخار کی وجہ سے اچھی خاصی نڈھال اور تھکی ہوئی ہے. اِس لیے اُسے مزید کوئی بات کرنے کا ارادہ ترک کرتی اُسے میڈیسن دے کر آرام کرنے کا کہتی باہر نکل آئی تھی. وہ اُس کی طبیعت کی وجہ سے ابھی اُسے میران کے کمرے میں بھیجنا نہیں چاہتی تھی. کیونکہ دوسری طرف میران کے خراب موڈ کا اندازہ تو اُسی وقت ہوچکا تھا. جب وہ نکاح ہوتے ہی بنا کسی سے کوئی بات کیے حویلی سے نکل گیا تھا. مگر خانی اپنی جگہ مطمئن تھی. اُس نے صحیح وقت پر درمیان میں آتے ایک مظلوم کی زندگی برباد ہونے سے بچا لی تھی.
خانی کوریڈور سے گزر رہی تھی جب اُس کے کان میں کچھ فاصلے پر بیٹھی کام کرتی ملازمہ کی بات پڑی تھی.
پہلے تو اُس کا وہم ہی گزرا تھا. مگر وہاں کھڑے ہوکر سننے پر اُسے سمجھ آگئی تھی کہ یہ سیاہل خان کی بات ہی کررہی ہیں.
” کیا بول رہی تھی آپ لوگ سردار سیاہل خان کے بارے میں.”
خانی نے اُن کی جانب مڑتے پوری بات جاننا چاہی تھی. جبکہ خانی کو اِس طرح اپنی جانب متوجہ دیکھ وہ ڈر گئی تھیں. وہ لوگ جانتی تھیں کہ سیاہل خان کا ذکر اِس حویلی میں کرنا بہت بڑا جرم ہے. اُن سے یہ جرم سرزد ہوچکا تھا. اب نجانے اُن کا کیا بننا تھا.
” مجھے ساری بات بتاؤ اُس کے بارے میں کیا باتیں کررہی تھی. اگر مجھے ساری بات سچ بتا دی تو میں کسی کو بھی نہیں بتاؤں گی کہ میں نے تم لوگوں کی کوئی بھی بات سنی. “
اُن لوگوں کے ڈرنے پر خانی نے جان بوجھ کر بات اگلوانے کے لیے دھمکی دی تھی. کیونکہ اگر وہ نہ بھی بتاتیں تب بھی خانی نے کسی کو نہیں بتانا تھا.
” وہ بی بی سائیں ہم نے سنا ہے کہ سردار سائیں کی شادی ہورہی ہے. تو اُسی سلسلے میں آج کل خان حویلی میں بہت زیادہ جشن منایا جارہا ہے. “
ملازمہ کی بات پر خانی شاک ہوئی تھی.
” کِس سے ہورہی شادی اُس کی. “
خانی اپنے اندر اُٹھتے غصے پر قابو پاتے صرف اتنا ہی بولی.
” اُن کے اپنے ہی قبیلے کی لڑکی ہے کوئی. “
ملازمہ کی بات ختم ہوتے ہی خانی تن فن کرتی اپنے کمرے کے جانب بڑھ گئی تھی.
” سمجھتا کیا ہے اپنے آپ کو یہ ایڈیٹ شخص. اُس دن تو بہت ڈائیلاگ مار رہا تھا. جھوٹا دھوکے باز. “
موبائل لے کر ٹیرس کی جانب آتے خانی خود سے ہی بڑبڑا رہی تھی.
” لیکن مجھے اتنا غصہ کیوں آرہا ہے. میں کیوں کرنے لگی فون اُسے. محبت کے دعوے تو وہ مجھ سے کرتا ہے میں تو نہیں. پھر مجھے کیوں بُرا لگ رہا ہے. ایک شادی کرے یا چار. مجھے اُس کے کسی بھی عمل سے کوئی فرق نہیں پڑتا. “
خانی اپنی جان کھاتی مسلسل ٹیرس ہر ٹہل رہی تھی. اور ساتھ اُس دن سیاہل خان کے ساتھ بتائے لمحے یاد آکر اُس کا دل مزید دھڑکا رہے تھے.
وہ بظاہر یہی شو کر رہی تھی کہ اُسے فرق نہیں پڑتا مگر اُس کے اندر کی بے چینی اور اضطراب اُس کے چہرے پر صاف دِکھ رہا تھا کہ وہ اِس بات سے کِس قدر متاثر ہوئی ہے.
” لیکن میں اُس کی پہلی بیوی ہوں مجھ سے پوچھے بغیر وہ دوسری شادی کیسے کرسکتا ہے. ابھی عقل ٹھکانے لگاتی ہوں اِس کی. “
خانی سیاہل خان کو فون کرنے کا اپنے آپ کو ٹھوس جواز دیتی موبائل کان سے لگا گئی تھی.
جب کچھ ہی سیکنڈز بعد سپیکر پر اُبھرنے والی سیاہل خان کی گھمبیر آواز خانی کی دھڑکنیں مزید بڑھا گئی تھی.
” جی فرمائیں خانی اسجد بلوچ نے کیسے یاد کرلیا ہمیں. سب ٹھیک ہے نا وہاں. “
سیاہل خان کے لہجے میں خانی کے لیے فکر نمایاں تھی.
” میں بلکل ٹھیک ہوں. اور یہاں میرا خیال رکھنے کے لیے بہت سارے لوگ موجود ہیں. آپ کو زیادہ فکرمندی کا ناٹک کرنے کی ضرورت نہیں ہے. “
سیاہل خان کا معصوم بننا خانی کو مزید تپا گیا تھا. جبکہ جواب میں سیاہل خان کا قہقہہ گونجا تھا.
” یہ تو بہت خوشی کی خبر ہے. مگر پھر میری سردارنی اتنے غصے میں کیوں ہے. کیا مجھ سے کوئی بہت بڑی غلطی سرزد ہوگئی. “
سیاہل خان کو اِس وقت بہت عجلت میں کہیں نکلنا تھا. اُس کے پاس وقت کم تھا. مگر خانی کی اہمیت ہر چیز سے زیادہ تھی.
سیاہل خان بنا فون کان سے ہٹائے ایک ہاتھ سے اپنی تیاری کرتا خانی کی باتوں کے جواب دینے میں مصروف تھا.
” ہاں بہت بڑی سزا. میں نے سنا ہے تم دوسری شادی کررہے ہو. تو مجھ سے اجازت لیے بغیر ایسا کیسے کرسکتے ہو. “
خانی اپنی بے چینی کی وجہ زبان پر لے آئی تھی. جبکہ اُس کی بات پر دوسری جانب سیاہل خان ٹھٹھکا تھا.
” کیوں نہیں کرسکتا. “
سیاہل بھی جواب دینے کے بجائے فوری طور پر سوال کرگیا تھا.
” کیونکہ میں تمہاری پہلی بیوی ہوں. اور میری اجازت کے بغیر تم ایسا نہیں کرسکتے. “
خانی بنا سیاہل کی چلاکی سمجھے اُس کے سوال کا دوبدو جواب دیتے بہت استحقاق سے اُس پر اپنا حق جتا گئی تھی.
ہوش اُسے تب آیا جب دوسری طرف سے سیاہل کا جاندار قہقہ سنائی دیا تھا.
” آئی لو یو سو مچ بیوی نمبر ون. یہ جملہ بول کر تم نے میرا دن بنا دیا آج. “
سیاہل خان کی سرشار آواز نے خانی کو خود میں جکڑ لیا تھا.
“سیاہل خان اگر چار شادیاں بھی کر لے تب بھی اُس کا دل ہمیشہ کے لیے خانی اسجد بلوچ کا رہے گا.
مگر ایسا کچھ ہے ہی نہیں. وہاں میرے بارے میں ہر وقت ایسی بہت سی افواہیں گردش کرتی رہتی ہیں. لیکن مجھے بہت خوشی ہوئی کہ میری بیوی نے اُن میں سے کسی پر بھی یقین کرنے سے پہلے مجھ سے پوچھا. تمہاری یہی باتیں تو اُکساتی ہیں کہ ایک لمحہ بھی ضائع کیے بنا تمہیں ہمیشہ کے لیے اپنے پاس لے آؤں. “
سیاہل خان ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر اُسے اپنے حوالے سے معتبر کرگیا تھا.
” میں نے یہ سب اِس لیے نہیں پوچھا کہ مجھے اِس سے کوئی فرق پڑتا ہے. اِس لیے زیادہ غلط فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے. “
خانی اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہتی تھی. اِس لیے فوراً اپنی بات پر پردہ ڈالتے بولی.
” میں جانتا ہوں سردارنی صاحبہ. آپ کو زرا بھی فرق نہیں پڑتا میں ایک شادی کروں یا چار. ہیں نا. “
خانی کو محسوس ہوا تھا کہ جیسے بات کرتے وہ مسکرایا ہو.
” ہاں بلکل ایسا ہی ہے. “
خانی اصل بات جانتے پر اعتماد لہجے میں بولی.
” تو پھر بی بی سائیں کو رضامندی دے دوں اپنی دوسری شادی کی. “
سیاہل خان کو خانی کو تنگ کرنے میں مزا آتا تھا. جبکہ اس کی یہ بات خانی کا اچھا خاصہ خون جلا گئی تھی.
” میری طرف سے تم ایک نہیں پچاس شادیاں کرو. لیکن خبردار جو اُس کے بعد ایک بار بھی میرے سامنے آنے کی کوشش کی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا. نکلے نا تم بھی وہی عام روایتی سردار. “
خانی اُس کی بات پر تپ کر جواب دیتی فون بند کرگئی تھی.
“مجھے کال ہی نہیں کرنی چاہئے تھی. پتا نہیں سمجھتا کیا ہے خود کو. “
خانی کا غصہ کے مارے بُرا حال ہوچکا تھا. جس شخص کو وہ اپنی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں دینا چاہتی تھی. جانے انجانے میں وہ اُسی کے بارے میں سوچتی اُس کے قریب ہوتی جارہی تھی.
خانی لاشعوری طور پر نجانے کتنی ہی بار موبائل پر نظر ڈال چکی تھی. اُسے کہیں نہ کہیں اُمید تھی کہ سیاہل خان اُسے کال بیک کرے گا.
مگر اب اُسے لگ رہا تھا کہ اِس مغرور انسان سے دل لگانا یا کسی قسم کی اُمید کرنا سراسر حماقت تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤

سٹڈی روم میں ریوالونگ چیئر پر جھولتے سیاہل کی نظریں سامنے لگی خانی کی بڑی سی پینٹنگ پر تھیں.
خانی اسجد بلوچ اُس کے سب سے بڑے جانی دشمنوں کی بیٹی تھی. جنہوں نے اُس سے اُس کے جان سے عزیز باپ اور دادا کو چھین لیا تھا. اور اُس پر بھی نجانے کتنی بار حملہ کرواچکے تھے. مگر سیاہل نے بہت کم ہی اُنہیں منہ توڑ جواب دیا تھا. کیونکہ اُس کی سب سے بڑی کمزوری اُن کے پاس تھی.
اور شاید وہ لوگ بھی اِس بات سے واقف تھے. کہ سیاہل خان کے لیے اُس کی بیوی کیا مقام رکھتی تھی. سیاہل خان ڈرتا تھا تو صرف ایک بات سے کے کہیں خانی کبھی اِس دشمنی کے درمیان اُس کے سامنے نہ آکر کھڑی ہوجائے. اُسے دھوکہ نہ دے جائے. کیونکہ اگر ایسا ہوا تو سیاہل خان اتنے سالوں سے دبایا اپنے اندر کا وحشی پن باہر آنے سے روک نہیں پائے گا. جو اُس نے اپنے خاندان کے خلاف ہونے والی اتنی سازشوں کے باوجود اپنے اندر چھپا کر رکھا ہوا تھا.
مگر اُسے پورا یقین تھا اُس کی خانی اُسے کبھی دھوکہ نہیں دے گی.
خانی کے بارے میں سوچتے اُسے خانی سے ہوئی آج کی بات یاد آگئی تھی. جس پر وہ کھل کر مسکرایا تھا. خانی جتنا اپنے جذبات اُس سے چھپانے کی کوشش کرتی تھی. اُتنے ہی انجانے میں آشکار کر جاتی تھی.
خانی کے غصے سے فون کاٹنے پر سیاہل نے اُسے کال بیک کرنی چاہی تھی. مگر دوسری جانب اپنے کسی خاص آدمی کا فون آجانے کی وجہ سے وہ اُس طرف متوجہ ہوگیا تھا.
اُس کے بعد اُس نے کئی بار ٹرائے کیا تھا مگر خانی کا فون بند ملا تھا. لیکن انا بی سے اُس کی نئی مصروفیت اور ایک لڑکی کو ظلم سے بچانے کے لیے اُس کے اُٹھائے جانے والے اتنے اچھے قدم پر سیاہل کو اُس پر فخر محسوس ہوا تھا.
بچپن سے لے کر اب تک وہ خانی سے محبت کرتا آیا تھا. اُس کی ہر چھوٹی بڑی بات سے واقف تھا. جانتا تھا کہ خانی اپنے بھائی سے کتنی محبت کرتی ہے. اِس لیے ہر بار اُس کی اتنی دھمکیوں کے باوجود سیاہل صرف اور صرف خانی کی خاطر اُس کی جان بخشی کرتا آیا تھا.
انا بی کے اتنے کہنے کے باوجود وہ کبھی خانی کے سامنے نہیں آیا تھا. وہ چاہتی تھیں وہ خانی کے سامنے آئے. اُسے اپنے ہونے کا احساس دلائے. اُسے اپنے بارے میں ہر بات بتائے. مگر سیاہل صرف خانی کی خاطر اُس کے سامنے نہیں آتا تھا. وہ جانتا تھا وہ کمزور پڑ جائے گا.
اور ہوا بھی ایسا ہی تھا. خانی کے قریب آتے ہی وہ اپنا ہر عہد بھول گیا تھا. بہت پہلے کیا اپنا فیصلہ کہ کبھی خانی اسجد بلوچ کو نہیں اپنائے گا. اب چاہنے کے باوجود اُس پر قائم نہیں رہ پارہا تھا.
خانی اُس کی محبت اُس کی دیوانگی اُس کے دل کا سکون تھی. جسے اب وہ ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” خانی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے. آپ پلیز تھوڑی دیر بیٹھیں نا میرے پاس. “
خانی نکاح کے دو دن بعد کافی حد تک شہرین کو ہمت اور حوصلہ دیتی آج میران کے کمرے میں لے ہی آئی تھی. بشرا بیگم کی جانب سے خانی پر بہت پریشر تھا.
میران سے دن میں دو بار بات کرکے وہ اُسے شہرین کے ساتھ نرم رویہ رکھنے کی تلقین کرچکی تھی. جس پر جواب میں ایک بار تو اُسے میران کی جانب سے ڈانٹ بھی پڑی تھی.
” خانی تم کیا مجھے کوئی جنگلی پاگل انسان سمجھتی ہو جسے اِس بات کا نہیں پتا کہ اُسے ایک لڑکی کے ساتھ کیسے بی ہیو کرنا ہے. میں شروع سے ہی اِن فضولیات کے خلاف ہوں. چاہے وہ لڑکی خون بہا میں آئی ہو یا عزت کے ساتھ رخصت ہوکر. اگر میں نے اپنے ﷲ کو خاضر ناظر جان کر اُس سے نکاح کیا ہے تو میرے نزدیک وہ میری بیوی کی حیثیت سے قابلے عزت ہے.”
میران کے غصے میں کہے الفاظ خانی کو اندر تک سرشار کر گئے تھے. اُسے اپنے بھائی کی سوچ پر فخر ہوا تھا. یہاں چند ایک مردوں کی منفی حرکات اور سوچ دیکھ وہ سب کو ہی ایک ہی کیٹیگری میں دیکھنے لگی تھی. مگر سیاہل خان, شہرام بلوچ اور اب میران بلوچ نے اُس کی سوچ بدل دی تھی.
خانی شہرین کو بہت ساری تسلیاں دیتی وہاں سے نکل گئی تھی.
شہرین خانی کی بہت مشکور تھی. جو اِن دو دنوں میں اُس کی ڈھال بن کر اُسے ہر تکلیف سے بچاتی آئی تھی. ورنہ وہ تو مینٹلی طور پر خود کو ہر قسم کے حالات کے لیے تیار کرکے آئی تھی. وہ جانتی تھی خون بہا میں آنے والی لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے.
شہرین صوفے پر بیٹھی اپنی ہی سوچوں میں اُلجھی ہوئی تھی. جب میران اندر داخل ہوا تھا. شہرین گھبراہٹ کے مارے جلدی سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی.
میران ایک نظر اُس پر ڈالتا ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھ گیا تھا. نیوی بلو گرم سوٹ میں ملبوس کپڑوں کے ہم رنگ شال سے خود کو اچھے سے ڈھکے وہ سر جھکائے مجرموں کی طرح کھڑی تھی. میران نے محسوس کیا تھا کہ جیسے ڈر کے مارے وہ ہولے ہولے کانپ رہی ہے.
اِس سمے میران کو خانی کی بات مان کر اِس ڈری سہمی لڑکی کو ارباز سے بچانے کا فیصلہ بلکل درست لگا تھا.
” آپ ریلیکس ہوکر بیٹھ جائیں. “
میران نے پلٹ کر شہرین کی مشکل آسان کرنی چاہی تھی. جب اُس کی نظر چادر سے جھانکتے جھیل سے نین کٹوروں پر پڑی تھی. جو دنیا جہاں کا خوف خود میں سمائے ہوئے تھے.
میران کی نظریں کچھ پل کے لیے اُن پر جم سی گئی تھیں. مگر جلدی ہی سر جھٹکتے اُس نے نظریں پھیر لی تھیں.
شہرین میران کے حکم پر عمل کرتی واپس صوفے پر ٹک گئی تھی. اُسے تو یہاں آنے سے پہلے یہی بتایا گیا تھا کہ اُسے جانوروں سے بھی بدتر سلوک برداشت کرنا تھا. اور یہاں آکر بشرا بیگم کا رویہ دیکھ کر وہ زیادہ حیران نہیں ہوئی تھی.
مگر انا بی, خانی کے ساتھ ساتھ اب میران بلوچ کا بھی اتنا مہربان رُوپ اُس کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھا.
شہرین نے کن اکھیوں سے فون پر بزی میران کی جانب دیکھا تھا. جو اُس کی طرف بلکل بھی متوجہ نہیں تھا.
براؤن قمیض شلوار میں وجیہہ شخصیت کا مالک میران بلوچ شہرین کو اچھا لگا تھا. نکاح کے بعد آج پہلی بار ہی وہ اُسے دیکھ رہی تھی.
شہرین میران پر ہی نظریں جمائے اُسے آبزرو کرنے میں مصروف تھی. جب میران ایک دم اُس کی جانب پلٹا تھا.
شہرین نے یکدم چہرے کا رُخ دوسری جانب موڑا تھا. مگر میران سے اُس کی حرکت پوشیدہ نہ رہ سکی تھی. جسے وہ صاف اگنور کرتا شہرین سے مخاطب ہوا تھا.
” میں ایک ضروری کام سے باہر جارہا ہوں. تمہاری مرضی ہے یہی سو جاؤ یا خانی کے پاس جانا ہے تو وہاں چلی جاؤ. “
میران بنا اُس کا جواب سنے باہر نکل گیا تھا. اُس کے جاتے ہی شہرین نے اپنا رُکا ہوا سانس بحال کرتے. چہرے سے چادر ہٹائی تھی.
اُسے میران بلوچ کا اُسے کوئی بیکار چیز سمجھ کر یوں اپنا اگنور کیا جانا بلکل بھی بُرا نہیں لگا تھا. وہ تو اِس سے بھی بُرے رویہ کی توقع کررہی تھی.
اُسے خانی کو بار بار چھوٹی چھوٹی باتوں پر ڈسٹرب کرنا اچھا نہیں لگا تھا. اِس لیے خاموشی سے وہیں صوفے پر ہی لیٹ گئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” آپ جانتی ہیں خانی بیٹا آج مہرین بی بی جی کو آپ پر کتنا فخر ہورہا ہوگا. وہ بہت خوش ہونگی کیونکہ جیسا مضبوط وہ اپنی خانی کو بنانا چاہتی تھیں. آج وہ ویسی ہی بن چکی ہے.
آپ نے جس طرح شہرین کی مدد کی ہے. اُسے انسان ہونے کا مارجن دیتے بہت بڑے ظلم کی بھینٹ چڑھنے سے بچایا ہے. یہ سب بہت ہی قابلے تحسین ہے. آپ جانتی ہیں. سردار سائیں یہ سب سن کر کتنے خوش ہوئے ہیں. “
انا بی کی باتوں سے بے پناہ خوشی جھلک رہی تھی. جبکہ سیاہل خان کے ذکر پر خانی نے خفگی سے منہ پھلایا تھا.
” انا بی یہ سب آپ کی دی ہوئی تربیت کی وجہ سے ہے. آپ نے ہی تو مجھے مشکلات سے ڈٹ کر لڑنے اور ظلم کے خلاف آواز اُٹھانا سکھایا ہے.”
خانی کے لہجے میں اُن کے لیے عقیدت اور محبت تھی. جب اچانک سائیڈ ٹیبل پر رکھا انا بی کا موبائل بجا تھا. جس پر جگمگاتا نمبر انا بی کے ماتھے پر تفکر کا جال بن گیا تھا.
یہ سیاہل کے سب سے خاص بندے کا نمبر تھا. جو ہمیشہ کسی ایمرجنسی میں ہی کال کرتا تھا.
” یا ﷲ خیر. “
انا بی نے کال ریسیو کرتے فون کان سے لگایا تھا. اُن کی پریشانی دیکھ خانی بھی اُن کے قریب آئی تھی.
دوسری جانب سے نجانے کیا خبر دی گئی تھی کہ انا بی کا چہرے لٹھے کی ماند سفید ہوگیا تھا.
” انا بی کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے نا. پلیز بتائیں مجھے. “
خانی اُن کو کندھے سے تھامتے تشویش کے عالم میں بولی. انا بی نے ڈبڈبائی نظروں سے اُسے دیکھا تھا. جب ہولے سے اُن کے لب ہلے تھے.
” سردار سائیں پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے. اُنہیں گولیاں لگی ہیں. بہت ہی تشویش ناک حالت میں ہاسپٹل لے جایا گیا ہے. “
انا بی نے زارو قطار روتے جو لفظ بولے خانی اپنی جگہ سے بُری طرح لڑکھڑا گئی تھی. اگر انا بی اُسے آگے بڑھ کر نہ تھامتی تو وہ ضرور زمین بوس ہوجاتی.
یہ روح فنا کردینے والی خبر خانی پر قیامت بن کر ٹوٹی تھی.
” انا بی آپ اُسے کال کریں. یہ جھوٹ ہوگا. اُس نے مجھے کہا تھا. اُس کے خلاف غلط افواہیں اُڑائی جاتی ہیں.
اُسے کچھ نہیں ہوسکتا. اُسے کوئی کچھ نہیں کرسکتا. “
خانی سکتے کے عالم میں مسلسل نفی میں سر ہلا رہی تھی. اُسے اِس وقت معلوم ہوا تھا وہ شخص اُس کے لیے کیا اہمیت رکھتا تھا. اُسے اپنی سانسیں رُکتی ہوئی محسوس ہوئی تھیں.
” کاش یہ سب جھوٹ ہوتا. کاش میں ایسا کہہ پاتی.”
انا بی کی حالت ایسی تھی. جیسے اُن کا سگا بیٹا خطرے میں ہو.
” انا بی اُس پر کس نے حملہ کروایا ہے. “
اچانک کسی خیال کے تحت خانی نے دھندلائی آنکھوں سے اُن کی جانب دیکھتے پوچھا.
” اور کون کرسکتا ہے وہی جو اُن کے خون کے پیاسے ہیں. دعا کرو بیٹا سردار سائیں کو کچھ نہ ہو. اور اگر سردار سائیں بچ گئے تو وہ اب کی بار کسی کو نہیں چھوڑیں گے. آنے والا وقت بربادی کے سوا کچھ نہیں لائے گا. “
انا بی کی بات پر خانی نے اذیت سے آنکھیں میچی تھیں. وہ انا بی کا اشارہ سمجھ چکی تھی. دونوں طرف سے نقصان اُسی کا ہونا تھا.
” مجھے سیاہل کے پاس جانا ہے. ابھی اور اِسی وقت. “
خانی کو لمحہ بہ لمحہ اپنی سانسیں مدھم ہوتی محسوس ہورہی تھیں. وہ بنا کسی بات کی پرواہ کیے دیوانہ وار باہر کی جانب بھاگی تھی.

جاری ہے….

….