No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
” تو کیا کیا جانتی ہے خانی اسجد بلوچ میرے بارے میں. زرا مجھے بھی تو پتا چلے. “
سیاہل خان قدم اُٹھاتے خانی کے مقابل جا کھڑا ہوا تھا.
” جو کچھ تم نے کیا ہے یا جو بھی کرتے پھر رہے ہو. سب جانتی ہوں. تم سب کو اپنے اشاروں پر نچا سکتے ہو مگر مجھے نہیں. “
خانی نے سیاہل خان کے بلکل سامنے آنے کے باوجود اپنی جگہ ڈٹ کر کھڑے رہتے جواب دیا تھا.
” یہ سراسر الزام ہے. میں نے کبھی ایسا کچھ نہیں کیا. “
سیاہل خان کے ایک دم معصوم بن کر ہر بات سے انکار کرنے پر خانی تپی تھی.
” بن تو ایسے رہا ہے جیسے اِس سے معصوم اور بے چارہ انسان اِس دنیا میں کوئی نہ ہو. “
خانی دانت پیستے دل ہی دل میں کھول کر رہ گئی تھی.
” اچھا تو انا بی کو کس نے اتنا ٹائم روکی رکھا مجھے سچ بتانے سے. وہ پوری زندگی تمہارے آرڈر ہی تو فالو کرتی آئی ہیں. میری لائف میں بنا میری پرمیشن کے تم گھسے رہے. جب تمہارا دل چاہا مجھے اپنے پاس بلا لیا. جب دل چاہا میرے سامنے ایسی چیزیں لانے لگے. جس سے میں تم سے نفرت کرنے لگوں. تم سمجھتے کیا ہو اپنے آپ کو. اور اب شہرام ,نگار اِن کی زندگیوں کے فیصلے بھی تم ہی اپنی مرضی سے کرتے پھر رہے ہو. یہ سب کیا ہے پھر…. “
خانی اپنی اندر کی ساری بھڑاس نکالتی سیاہل کے مزید اپنی طرف قدم بڑھانے پر پیچھے ہٹی تھی. سیاہل خان نے بنا کچھ بولے پرشوق نظریں خانی کے چہرے پر ڈالی تھیں.
” بہت لائٹ لپسٹک لگاتی ہو تم. ڈارک زیادہ سوٹ کرے گی تمہیں. آئندہ مجھے تمہارے ہونٹوں پر ڈارک کلر کی لپسٹک ہی نظر آئے. “
خانی نے آنکھیں پھاڑے سیاہل کی طرف دیکھا تھا.
اپنے اتنے سیریس سوال کے بدلے سیاہل کے شوخی بھرے جواب پر خانی کا ٹمپر لوز ہوا تھا. وہ ہمیشہ اُس کے ساتھ ایسا ہی کرتا تھا. جس بات کا جواب دینے کو دل نہیں چاہتا تھا. اُسے ایسے اگنور کرتا تھا. جیسے اُس نے سنی ہی نہ ہو. یا بات کہنے والا شخص کو پاگل ہو.
” واٹ نان سینس. مجھے میری بات کا جواب چاہئے. “
سیاہل خان چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتا خانی کی جانب بڑھ رہا تھا. جس کے جواب میں خانی اُس سے فاصلہ برقرار رکھنے کے چکر میں اُلٹے قدموں پیچھے جارہی تھی.
سیاہل خان کی نظریں مسلسل خانی کے چہرے کا طواف کررہی تھیں. جیسے پچھلی تمام ملاقاتوں کی کسر آج ہی پوری کرنا چاہتا ہو.
” تمہیں بتا تو چکا ہوں کہ مجھے کسی کے آگے بھی اپنے کیے عمل کی جواب دہی پسند نہیں. “
خانی نے قدم مزید پیچھے بڑھانے چاہے تھے. مگر اور جگہ نہ ہونے کی وجہ سے پیچھے موجود دیوار سے جاٹکرائی تھی. لیکن سیاہل خان نے اپنے قدموں کو اب بھی نہیں روکا تھا. وہ خانی کے بلکل قریب آکر کھڑے ہوتے دونوں ہاتھ دیوار پر اُس کے اردگرد رکھتے خانی کی فرار کی ساری راہیں مسدود کرگیا تھا.
” تم مجھے ایسے کنفیوز نہیں کرسکتے. اور پانچ فٹ دور رہو مجھ سے. “
خانی اُس کے حاوی ہوتے انداز پر جزبز ہوتی چڑ کر بولی تھی.
خانی کو لگا تھا یہ ساحر اُسے اپنی شخصیت کے طلسماتی حصار میں پھنساتے شاید کہیں کا نہیں چھوڑنے والا تھا. وہ چاہنے کے باوجود خود کو اُس کے سحر میں جکڑنے سے روک نہیں پارہی تھی. اُسے لگا تھا اُس کے کمزور پڑنے سے سیاہل خان اپنی کوشش میں کامیاب ہورہا تھا.
آج اُسے سیاہل خان کے ارادے پہلی تمام ملاقاتوں سے کافی خطرناک لگ رہے تھے. جس طرح وارفتگی سے دیکھتے وہ اُس کے قریب کھڑا تھا. خانی اپنے دھڑک دھڑک کر پاگل ہوتے دل پر قابو پانے میں ناکام ہورہی تھی.
خانی اُس کے سامنے بلکل بھی کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی. اِس لیے بنا اُس کی بولتی آنکھوں میں دیکھتے خانی نے اُسے باز رکھنا چاہا تھا.
” کتنی نفرت کرتی ہو مجھ سے. “
سیاہل خان پر بھلا کہاں کسی بات کا اثر ہونا تھا. اُسے آج تک اپنی مرضی چلانے سے کوئی روک پایا تھا. جو خانی روک پاتی. سیاہل نے خانی کا چہرا ٹھوڑی سے تھامتے اُس کی آنکھوں میں جھانکتے ہر بار کی طرح اپنا سوال دوہرایا تھا. جس کا جواب وہ پہلے سے جانتا تھا.
پہلے دن سیاہل خان کو اِن آنکھوں میں ہلکی سی نفرت کی جھلک دکھی تھی. پھر غصہ, بدگمانی. مگر آج اُسے خانی کی آنکھوں میں مصنوعی غصے کے پیچھے کچھ خاص دکھا تھا. شاید یہی رنگ چھپانے کے لیے خانی اُس کی آنکھوں میں نہیں دیکھ رہی تھی.
سیاہل خان کی قربت اُس پر کس بُری طرح اثر انداز ہورہی تھی. اِس بات کا اندازہ سیاہل خان اُس کے گلابیاں چھلکاتے چہرے سے آسانی سے لگا سکتا تھا.
سیاہل خان کے چہرے پر ایک مبہم سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی.
” نہیں کرتی میں تم سے نفرت. کتنی بار بتا چکی ہوں تمہیں. تم اتنے بُرے نہیں ہو جتنا میں نے تمہیں سمجھا تھا. اور جو تم نے میرے سامنے خود کو ثابت کرنا چاہا تھا.
مجھے نگار والی بات پر بہت غصہ تھا تم پر. لیکن وہ نگار کی ساری باتیں سن کر ختم ہوچکا ہے. “
خانی اُس کی آنکھوں میں دیکھتے بلا ارادہ ہی اُس کی تعریف کر گئی تھی. اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اچانک اُسے ہو کیا گیا ہے.
” اتنے قریب کھڑے ہوکر میری تعریف کرنا تمہیں کافی مہنگا بھی پڑ سکتا ہے سردارنی صاحبہ. “
سیاہل خان نے ذیرِ لب مسکراتے اُسے آگاہ کیا تھا. جب کے سیاہل خان کی اِس مسکراہٹ پر خانی کو اپنا دل اُس کی دلکشی میں ڈوبتا سا محسوس ہوا تھا.
” تم اتنے اکڑو اور اُلٹے دماغ کے کیوں ہو. کیا تم سیدھے طریقے سے کچھ دیر مجھ سے بات نہیں کرسکتے. “
سیاہل خان کی گہری نظریں خانی کو خود میں سمٹنے پر مجبور کررہی تھیں. وہ اتنی کانفیڈنٹ لڑکی ہزاروں لوگوں کے سامنے بولنے والی. سیاہل خان کی عقل ٹھکانے لگا دینے والی خانی آج سیاہل کی خود میں جکڑتی نظروں کے آگے اپنے الفاظ بھول رہی تھی.
اسے لگا تھا کہ یہ بندہ اگر اِسی طرح کرتا رہا تو نہ وہ کچھ کہہ پائے گی. اور نہ وہ اُسے اتنی آسانی سے یہاں سے جانے دے گا.
اِس لیے وہ شاید پہلی بار سیاہل خان کے سامنے اپنا لہجہ کافی حد تک نرم کرتے بولی. تاکہ سیاہل اُسے مزید تنگ کرنے سے باز رہتے آرام سے اس کی بات سن لے. اور اُسے جانے دے.
لیکن شاید اِس وقت یہ اُس کی بہت بڑی غلطی فہمی تھی.
” اوکے بولو. مگر سوچ سمجھ کر بولنا اگر مجھے ایک پرسنٹ بھی لگا کہ خانی اسجد بلوچ کو سیاہل موسیٰ خان سے محبت ہوگئی ہے تو یہ تم پر بہت بھاری پڑ سکتا ہے. “
خانی کے خفگی سے کہنے پر سیاہل نے اُسے بولنے کا موقع دے کر جیسے احسانِ عظیم کرنے کے ساتھ وارن بھی کیا تھا.
” ایسا کچھ نہیں ہے. لیکن خدانخواستہ اگر ایسا کچھ ہو بھی جاتا تو کیا کرتے تم. “
سیاہل کی گھمبیر سرگوشی میں دی گئی یہ معنی خیز دھمکیاں خانی کی سانسیں اتھل پتھل کر جاتی تھیں. اپنے دل میں اچانک پنپتے جذبات نے اُسے اندر ہی اندر کہیں خوفزدہ کردیا تھا.
مگر وہ بھی خانی تھی. سیاہل خان کی وارنگ دینے پر تڑخ کر بولی.
” تو کوئی دوسرا کیا خانی اسجد بلوچ خود بھی خود کو سیاہل موسیٰ خان کا ہونے سے روک نہیں پائے گی. اِسی لیے تو چاہتا ہوں کہ تم نفرت کرو مجھ سے. کیونکہ میری دیوانگی سہنا تمہارے بس کی بات بلکل بھی نہیں ہے.
تم سوچ بھی نہیں سکتی سیاہل موسیٰ خان تمہارے سامنے آنے سے پہلے اپنے جذبات پر ضبط کے پہرے بیٹھانے کے لیے کونسے کڑے مراحل طے کرکے آتا ہے. تاکہ کسی بھی کمزور لمحے سے بچ سکے. “
سیاہل خان کے انداز خانی کی دھڑکنیں بُری طرح منتشر کررہے تھے. وہ شخص ہر بات کے جواب میں کچھ ایسا بول دیتا تھا کہ خانی کی بہت مشکل سے جتائی ہمت جواب دے دیتی تھی.
” تمہارے نزدیک محبت کیا ہے سیاہل خان. صرف دوسرے انسان کو چاہنا, اُس کی حفاظت کے لیے ہمیشہ تیار رہنا, اُس پر زرا آنچ نہ آنے دینا.
مگر اُس انسان پر زرا سا بھی اعتبار, بھروسہ اور یقین نہ کرنا. کیا اِن سب کے بغیر تمہاری محبت کی ڈیفینیشن پوری ہوتی ہے.
مجھے انا بی سے لے کر تم سے منسلک ہر انسان سے سننے کو مل رہا ہے کہ سیاہل موسیٰ خان مجھ سے بہت محبت کرتا ہے. پر انا بی کا کہنا ہے تم مجھے دھوکے باز مانتے ہو. “
خانی نے اب بنا کو لحاظ کرتے سیاہل خان سے وہ بات پوچھ ہی لی تھی. جس نے اُسے بہت ہرٹ کیا تھا. اِس بار اُس نے اپنا لہجہ بہت نرم رکھا تھا. کہ غصے سے پوچھنے پر سیاہل خان نے اُسے ویسے ہی سیدھا جواب نہیں دینا تھا.
” تمہارے بال بہت خوبصورت ہیں میں ابھی اِنہیں کھلا دیکھنا چاہتا ہوں. “
سیاہل خان شاید اِس وقت خانی کو تنگ کرنے کے فل موڈ میں تھا. اِس لیے خانی کے جوڑے پر اٹکے دوپٹے کو اُوپر سے پیچھے اُتارتے خانی کو بنا کچھ سمجھنے کا موقع دیے. اُس کا کیچڑ بالوں سے نکال چکا تھا.
جبکہ خانی ہکا بکا سی اپنی جگہ کھڑی رہ گئی تھی. کچھ پل تو اُسے سمجھ ہی نہیں آیا تھا. سیاہل خان نے کیا کیا ہے.
خانی کے سلکی سیاہ بال اُس کے گلابی شرم و حیا سے خون چھلکاتے چہرے کے گرد ہالہ سا بناتے سیاہل خان کو مبہوت کرگئے تھے.
” کوئی اتنا حسین کیسے ہوسکتا ہے. “
بے اختیار سیاہل خان کے دل نے اُس سے سوال کیا تھا.
سیاہل خان کو ہمیشہ کی طرح آج پھر لگا تھا کہ اِس لڑکی سے دور رہنا اُس کے لیے دن بدن مشکل ہوتا جا رہا تھا.
مگر آج جیسے سیاہل خان کا دل اُس کے ساتھ بے ایمانی کررہا تھا. اِس لیے بنا خود پر پہرے بیٹھائے سیاہل خان نے جھک کر خانی کا دھکتا گال چوم لیا تھا.
خانی جو سیاہل کی پہلی حرکت پر ہی ابھی نہیں سنبھلی تھی. اِس اگلی گستاخی پر اُسے اپنے حواس ساتھ چھوڑتے معلوم ہوئے تھے.
” ہاں تو کیا پوچھ رہی تھی تم. خاموش کیوں ہوگئی. “
سیاہل خانی کے لال اناری چہرے کی جانب دیکھتے بھرپور شوخی سے پوچھا تھا. جیسے یہ سب تو اُن دونوں کے درمیان معمول کی بات ہو.
دوسری طرف خانی کے اچھے خاصے پسینے چھوٹ چکے تھے. سیاہل خان کی خوشبو اُس کا پرتپیش لمس پر خانی کو لگا تھا وہ تھوڑی دیر مزید یہاں کھڑی ہوئی تو اُس کا فل سپیڈ میں دھڑکتا دل ضرور پسلیاں توڑ کر باہر نکل آئے گا.
” ہٹو میرے آگے سے مجھے جانا ہے یہاں سے. مجھے تم جیسے فضول شخص سے کوئی بات نہیں کرنی. “
خانی سیاہل خان کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرتے کانپتی آواز میں بولی.
وہ چاہنے کے باوجود اِس وقت سیایل خان پر غصہ نہیں کرپارہی تھی. اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اچانک اُسے ہو کیا گیا ہے. اِس شخص کی قربت کیوں اُسے خود سے بیگانہ کررہی تھی.
” ہاہاہاہاہاہا مجھے نہیں پتا تھا. خانی اسجد بلوچ اتنی جلد میدان چھوڑ کر بھاگنے والوں میں سے ہے.”
سیاہل بنا زرا سا ہلے اُس کے سامنے دیوار بنے کھڑا قہقہہ لگاتے اُسے مزید چھیڑ گیا تھا.
جبکہ سیاہل کے مذاق اُڑاتے انداز پر خانی کا دماغ گھوم چکا تھا.
” سردار سیاہل موسیٰ خان تم ایک نمبر کے بے شرم اور…..”
خانی نے غصے سے کچھ بولنا چاہا تھا جب سیاہل خان اُس کے منہ پر ہاتھ رکھتے اُس کے قریب جھکا تھا.
خانی کو لگا تھا کہ شاید اِس بندے نے قسم کھا رکھی ہے کہ ہر ملاقات میں کچھ اُلٹا سیدھا بول یا کرکے اس کا خون ضرور جلانا ہے.
” ریلیکس سرادنی صاحبہ. میں نے پہلے بھی کہا ہے آپ سے میرے سامنے ایسے الفاظ استعمال مت کریں جو آپ کے لیے مشکل پیدا کریں.
ابھی تو آپ نے سردار سیاہل موسیٰ خان کی بےشرمی, دیوانگی, محبت , غصہ کچھ بھی نہیں دیکھا. مگر مجھے کیوں ایسا محسوس ہورہا ہے. کہ بہت جلد آپ یہ سب دیکھنے والی ہیں.”
سیاہل کی گھمبیر آواز میں کی گئی سرگوشی پر خانی کے وجود میں سنسنی سی دوڑ گئی تھی.
سیاہل خان کی گرم سانسیں خانی کے چہرے کو چھوتیں بُری طرح دھکا رہی تھیں.
اُسے لگا تھا شاید آج یہ شخص اُس سے پوری طرح اپنی دشمنی نکالنے کے موڈ میں ہیں.
” سیاہل خان پلیز…. “
سیاہل کے ہاتھ ہٹانے پر خانی ہولے سے منمنائی تھی.
” تم جاننا چاہتی ہو نا. کہ انا بی کو میں نے کیوں منع کیے رکھا تمہیں کچھ بھی بتانے سے. میں نہیں چاہتا تھا وقت سے پہلے تم اِس طرح کی کسی بھی ذہنی ٹینشن کا شکار ہو. جیسی اب یہ سب جاننے کے بعد ہورہی ہو.
خانی اسجد بلوچ تم سیاہل خان کے دل میں اُس وقت سے ہو جب تم دونوں خاندانوں کی رضامندی سے میرے نام لکھ دی گئی تھی.
یہی وجہ ہے کہ دونوں خاندانوں کی اتنی دشمنی اور نفرت کے باوجود میں تم سے دستبردار نہیں ہوپایا. یہ جانتے ہوئے بھی کہ تمہیں میرے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے. میرے گھر کا ہر فرد یہی چاہتا ہے کہ میں تم سے اپنا تعلق توڑ دوں. کیونکہ وہ بھی کہیں نہ کہیں یہ بات سمجھتے ہیں کہ تم ہی وہ واحد ہستی ہو. جو سیاہل خان جیسے مضبوط انسان کو توڑ سکتی ہو. اِسی لیے تو کہتے ہیں محبت میں بہت طاقت ہوتی ہے. یہ بڑے بڑے سورماؤں کا غرور توڑ کر اُن کو گھٹنوں پر گر جانے پہ مجبور کر دیتی ہے.
میں اِسی لیے چاہتا تھا تم مجھ سے دور رہو. میں نے زندگی میں کبھی ہارنا نہیں سیکھا اور نہ آگے کبھی ہارنا چاہتا ہوں. لیکن خود کو چاہنے کے باوجود بھی تمہارے قریب آنے سے روک نہیں پارہا. یہ دل بہت بُری طرح دغا بازی کر چکا ہے. یہ مجھے مسلسل اُکسا رہا ہے کہ تمہیں پوری دنیا سے چھپا کر ہمیشہ کے لیے اپنے دل میں چھپا لوں. جہاں کوئی نفرت, کوئی دشمنی نہ ہو. جہاں خانی اسجد بلوچ نہیں بلکہ خانی سیاہل خان ہو.
تم سیاہل خان کی سانسوں میں بستی ہو. بہت خاص ہو میرے لیے.
سیاہل خان شاید زندگی میں پہلی بار کسی بات پر کشمکش کا شکار ہے. کہ اُسے خانی اسجد بلوچ کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہیے یا نہیں.”
سیاہل خان خانی کی کان کی لوح چومتے پیچھے ہٹا تھا.
خانی جو مسمرائز سی اُس کی بے پناہ چاہت کا اظہار سن رہی تھی. جس کے بعد وہ چاہنے کے باوجود سیاہل خان کا نام جپتی اپنی دھڑکنوں کو جھٹلا نہیں پائی تھی.
یہ شخص ہمیشہ کی طرح اپنی پلاننگ میں کامیاب ہوتا خانی کو اپنا مریض بنا گیا تھا.
سیاہل خان کے آخری جملے پر خانی نے نظریں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا. یہ بات خانی کے دل میں تیر کی طرح چبھی تھی.
” اِس لیے کیونکہ سیاہل موسیٰ خان کو خانی اسجد بلوچ پر بھروسہ نہیں ہے. وہ سمجھتا ہے کہ خانی زندگی کے کسی مقام پر بھی اُسے دھوکہ دے سکتی ہے. “
خانی نے سوالیہ نظروں سے سیاہل خان کی جانب دیکھا تھا.
خانی کو لگا تھا کہ وہ ضرور انکار کردے گا. مگر اُس کو دھچکا تو اُس وقت لگا جب سیاہل خان نے مسکراتے اثبات میں سر ہلایا تھا.
” اِن سب باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ سیاہل خان کو لگتا ہے. خانی اسجد بلوچ بھی شاید اُس پر بھروسہ نہ کرپائے. اور دونوں خاندانوں کی دشمنی کسی ایسے موڑ پر نہ آجائے جس پر خانی سیاہل خان سے نفرت کرتے اُس سے دور ہوجائے. اُسے چھوڑ دے.”
سیاہل خان کو اپنی بات پر خانی کی آنکھوں میں نمی سی محسوس ہوئی تھی. جو سیاہل خان کو کبھی بھی برداشت نہیں ہوتی تھی.
خانی بنا کچھ بولے سیاہل خان کا حصار ڈھیلا ہوتا دیکھ اُس کے پاس سے ہٹ آئی تھی.
یہ ساحر اُس کے دل پر اپنا جادو چلا چکا تھا. اور اب اُس کی کہیں کڑوی باتیں خانی کے دل پر بہت گراں گزر رہی تھیں.
ابھی کچھ دیر پہلے جس شخص کی آنکھوں میں اُس نے اپنے لیے بے پناہ دیوانگی دیکھی تھی. اب اچانک وہی آنکھیں بہت بے دردی سے اُسے بے اعتبار کہہ رہی تھیں.
خانی کو معلوم ہورہا تھا کہ سیاہل خان بہت ہی ٹف انسان ہے. جسے سمجھنا اپنا بنانا دنیا کا سب سے مشکل کام ہونے والا تھا.
خانی چند لمحوں میں دل پر گزر جانے والی قیامت پر ویسے ہی بہت گھبراہٹ کا شکار تھی. اُوپر سے ابھی جو باتیں سیاہل خان نے اُسے بولی تھیں. اُنہوں نے اُسے بہت ہرٹ کیا تھا.
” ایڈیٹ کسی کا دل رکھنا بھی نہیں آتا. کیا ہوگیا ہے. مجھے کیوں میرا دل اِس شخص کی جانب کھینچ رہا ہے. مجھے تو کبھی کسی کی بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا نا. تو اب سیاہل خان کا یوں بے اعتبار کیا جانا مجھے کیوں اتنی تکلیف دے رہا ہے.
نہیں میں اِس شخص سے دل کا ایسا کوئی رشتہ کبھی نہیں جوڑنا چاہتی. آخر ہو کیا گیا ہے مجھے.”
خانی سیاہل خان سے دور ہوتی دروازے کی جانب بڑھی تھی.
” خانی.. “
سیاہل خان کی بھاری بوجھل آواز نے خانی کے قدم وہیں جکڑ لیے تھے. وہ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا پائی تھی.
سیاہل خان بھلا اپنی خانی کو اِس طرح ناراض کیسے بھیج سکتا تھا. اِس لیے سیاہل خان نے پیچھے سے جاکر خانی کو اپنے بازو میں بھرلیا تھا.
” مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی سیاہل خان. پلیز جانے دو مجھے. “
خانی نے اُس کے دونوں بازو اپنے گرد سے ہٹانے چاہے تھے. جس کے جواب میں سیاہل نے اُس کے ہاتھوں کو بھی قید کرلیا تھا.
” کتنی محبت کرتی ہو مجھ سے. کہاں تھا نا مجھے محسوس مت ہونے دینا کہ خانی کو سیاہل سے محبت ہوگئی. “
سیاہل نے خانی کے کندھے پر ٹھوڑی ٹکاتے اُس کے بالوں کی نرماہٹیں محسوس کرتے پوچھا تھا.
سیاہل خان کی بڑھتی جسارتوں پر خانی کی جان آدھی ہوچکی تھی.
اُس کو لگ رہا تھا کہ اگر مزید وہ اِسی طرح اِس شخص کے حصار میں اِس کے قریب کھڑی رہی تو اُس کی سانسیں ضرور تھم جائیں گی.
” نہیں کرتی محبت بلکل بھی نہیں. نفرت کرتی ہوں تم سے شدید نفرت. اتنی کہ تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی. دور رہو مجھ سے. نہیں پسند مجھے تمہارا میرے قریب آنا. “
خانی کو اب خود پر بھی شدید غصہ آرہا تھا کہ وہ اِس شخص کی سنگدلی کے بارے میں بہت کچھ سننے کے بعد بھی اِس کے لیے کیسے کچھ فیل کرسکتی تھی.
اِن گزرے پچھلے چند لمحوں میں خانی پر سیاہل خان کے لیے دل میں موجود جذبات کا جو جان لیوا ادراک ہوا تھا. خانی اُسی سے ہی ابھی تک سنبھل نہیں پائی تھی.
اِس لیے اپنے اندر کا غصہ اور خفگی اُسی شخص پر نکالنا چاہا تھا. جو اِس سب کی وجہ تھا.
جاری ہے
