Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

جرگہ کچھ ہی دیر میں بیٹھنے والا تھا. جس میں سیاہل نے کچھ بہت اہم کیس ڈسکس کرنے تھے. جب موبائل پر آتی خانی کی کال اُسے خوشگوار حیرت میں ڈال گئی تھی. خانی کم ہی خود سے اُسے کال کرتی تھی. زیادہ تر وہی پہل کرتا تھا.
” مجھے تم سے ملنا ہے سیاہل خان. “
کال ریسیو کرتے ہی سیاہل کے کان میں خانی کا یہ جملہ ٹکرایا تھا.
” خیریت سب ٹھیک ہے نا. “
آج سے پہلے خانی نے ڈائریکٹ ایسی کوئی بات نہیں کی تھی. اور خانی کی جانب سے تو سیاہل کو ویسے ہی دھڑکا لگا رہتا تھا. اِس لیے خانی کی بات سن کر وہ فکرمندی سے بولا.
” کیا مطلب ہے سیاہل خان تمہارا میں خیریت میں تمہیں کال نہیں کرسکتی اور ایسا نہیں بول سکتی. کیا خانی اسجد بلوچ کو سیاہل خان کبھی یاد نہیں آسکتا.”
خانی سیاہل کے یوں پوچھنے پر بُرا مانتے بولی.
جس پر دوسری طرف سے اُسے سیاہل کا زندگی سے بھرپور قہقہ سنائی دیا تھا. جو خانی کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ لانے کے ساتھ ساتھ دل کی تار چھیڑ گیا تھا.
” مگر سیاہل خان کو تم کبھی یاد نہیں آتی کیونکہ خانی اسجد بلوچ ہر وقت اُس کے ساتھ اُس کی سانسوں میں ,دل کی دھڑکنوں میں رہتی ہے. اُس کی روح کا حصہ ہے. “
سیاہل کی گھمبیر سرگوشی پر خانی کتنی ہی دیر اُس کے لفظوں کے سحر میں جکڑی کچھ بول ہی نہیں پائی تھی.
” مگر میں تمہیں مس کررہی ہوں. اور ملنا چاہتی ہوں تم سے. “
خانی واپس اپنی پہلی والی بات پر آئی تھی.
” تو یہ کہنے والی بات تھوڑی ہے. کرنے والی ہے. آجاؤ ملنے میرے پاس. میں کہہ دیتا ہوں ڈرائیور کو. “
سیاہل نے فوراً سلوشن پیش کیا تھا.
” نہیں. ہر بار میں تمہارے پاس آتی ہوں. اِس بار تم آؤ گے. مجھ سے ملنے. “
خانی نے اِس بار اپنا آرڈر جاری کیا تھا. جس پر سیاہل کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی.
” کہیں تم آزمانا تو نہیں چاہتی ہو میری محبت کو. اگر ایسا ہے تو سیاہل خان ہر آزمائش کے لیے تیار ہے. میں تمہاری خاطر دشمنوں سے بھری تمہاری اُس حویلی میں بھی قدم رکھنے سے نہیں گھیراؤ گا. “
سیاہل کی بات پر خانی کا دل زور سے دھڑکا تھا. اُس کے اِس طرح بات کی طے تک پہنچنے پر گھبراہٹ کے مارے اتنی ٹھنڈ میں بھی پیشانی پسینے سے بھیگ تھی.
” میں نے ایسا کچھ نہیں کہا. میں کیوں آزماؤں گی تمہیں. آزمایا اُنہیں جاتا ہے. جن کی محبت پر شک ہو. اور خانی اسجد بلوچ سیاہل خان کی محبت پر دل سے ایمان لاچکی ہے. “
خانی نے بہت مشکل سے بات سنبھالی تھی.
” اگر تم مجھ سے ملنے نہیں آنا چاہتے تو کوئی بات نہیں. “
خانی نروٹھے پن سے بولی.
” میں نے ایسا کب کہا میں نہیں آؤ گا. خانی بلائے سیاہل خان نہ جائے ایسا ہوسکتا ہے بھلا. تم جگہ اور ٹائم بتاؤ مجھے. میں ضرور آؤں گا. “
سیاہل خان خانی کی بات نہ مان کر اُسے کیسے ناراض کرتا اِس لیے وہ فوراً حامی بھر گیا تھا.
جس پر خانی کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ خوش ہو یا پریشان. کیا وہ سیاہل کے حوالے سے اپنے بھائی پر بھروسہ کرکے ٹھیک کررہی تھی یا نہیں.
اُس کا دل اُسے کسی انہونی کی طرف اشارہ کررہا تھا. اِسی کشمکش میں وہ سیاہل سے مزید بات نہیں کر پائی تھی. کہ کہیں وہ اُس کے دل کا چور نہ پکڑ لے. ڈیرے کا ایڈریس اور کل رات کا ٹائم بتاتے خانی نے فون بند کردیا تھا.
کتنی ہی دیر وہ ایک ہی جگہ ساکت بیٹھی سوچتی رہی تھی. کیا یہ سب کرنا ٹھیک تھا. یا اُسے سیاہل کو اصل بات سے آگاہ کرنا چاہئے تھا. وہ انا بی اور شہرام سے بھی اِس بارے میں کچھ بھی ڈسکس نہیں کرسکتی تھی. جانتی تھی وہ دونوں بنا ایک منٹ کی بھی دیر کیے سیاہل کو سب بتا دیں گے. اور اگر واقعی میران جو کہہ رہا ہے. وہ سچ ہوا تو دشمنی ختم کروانے کا پہلا اور آخری اتنا اچھا موقع ہاتھ سے نکل جائے گا.
خانی نے یہی سوچ کر دل کو تسلی دیتے نارمل ہونے کی کوشش کی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” خانی بیٹا کیا بات ہے. کوئی مسئلہ ہے کیا. میں کل سے نوٹ کررہی ہوں. آپ بہت پریشان ہیں. کوئی بات ہوئی ہے کیا. آپ مجھ سے شیئر کر سکتی ہیں کیا پتا میں کوئی مدد کرسکوں. “
انا بی کو کل سے خانی بے چین اور بوکھلائی سی لگ رہی تھی. اُنہوں نے اُسے ماں بن کر پالا تھا. اُس کے ہر مزاج سے واقف تھیں. اِس وقت بھی وہ خانی کی پریشانی بھانپ گئی تھیں.
انا بی کی بات پر خانی کچھ دیر خاموش نظروں سے اُن کی جانب دیکھتی رہی تھی.
کچھ گھنٹے باقی رہ گئے تھے اُس مشکل گھڑی کے آنے سے. خانی کی حالت خراب ہورہی تھی. دل عجیب بوجھل ہورکھا تھا. وہ کب سے یہی سوچ رہی تھی کہ انا بی سے بات کرلے کیا پتا اُس کی ذہنی ٹینشن کچھ کم ہوجائے.
” انا بی وہ آپ کو کچھ بتانا ہے. پلیز آپ پرامس کریں اِس بارے میں سیاہل کو یا کسی کو کچھ نہیں بتائیں گی. “
خانی انا بی کے پاس بیٹھتی اُن سے وعدہ لیتے بولی. جبکہ اُس کے کپکپاتے ہاتھوں اور لڑکھڑاتے لہجے نے انا بی کو کچھ غلط ہونے کا سگنل دیا تھا.
خانی چہرا جھکائے میران کی ساری باتیں اور سیاہل کے یہاں آنے پر حامی بھرنے کے بارے میں سب بتا گئی تھی.
ساری بات سن کر انا بی دھواں دھواں ہوتا چہرا لیے خانی کی جانب دیکھ رہی تھیں. وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں. میران اپنی بہن کے ساتھ اتنا بڑا کھیل کھیل سکتا تھا.
” انا بی کیا ہوا آپ کچھ بول کیوں نہیں رہیں.”
خانی کو اُن کے تاثرات اور خاموشی مزید ہولا گئی تھی.
” خانی بیٹا میران بلوچ اب پہلے جیسا نہیں رہا اِن دشمنیوں اور نفرتوں نے اُسے بدل دیا ہے. وہ سردار سائیں کو نیک نیتی سے نہیں بلا رہا. وہ ذوالفقار سائیں کی باتوں میں آکر آپ کو دھوکہ دینے والا ہے. وہ لوگ سردار سائیں کو یہاں بلاکر نقصان پہنچانے والے ہیں.
آپ کو سردار سائیں کو یہاں نہیں بلانا چاہیے تھا. بہت بڑی تباہی آنے والی ہے. “
انا بی کا چہرا آنے والے وقت کے خوف سے زرد ہوچکا تھا.
جبکہ خانی کو لگا تھا کسی نے اُس کے دل پر خنجر کھونپ دیا ہو. اُس کا بھائی اتنا بڑا دھوکہ کیسے کرسکتا ہے اُس سے. خانی کے بتانے کے باوجود کے وہ سیاہل خان سے محبت کرتی ہے. وہ پھر بھی اُس کی محبت اُس کے شوہر کو ماروانے والا تھا. اور کس ہوشیاری سے اُسے استعمال کیا تھا. انا بی کی باتیں خانی کے دماغ کے پردے پر ہر بات واضح کر گئی تھیں.
” نہیں میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گی. اِن لوگوں کی سازش بلکل بھی کامیاب نہیں ہونے دوں گی. ابھی بھی دیر نہیں ہوئی. “
خانی بھیگے چہرے کے ساتھ بڑبڑاتی سیاہل کو فون ملا چکی تھی. اُسے کسی بھی قیمت پر سیاہل کو یہاں آنے سے روکنا تھا.
مگر خانی کا چہرا سرد تب پڑا تھا. جب اُس کے کئی بار ٹرائے کرنے پر دوسری جانب سے کال اٹینڈ نہیں کی جارہی تھی.
” انا بی وقت بہت کم رہ گیا ہے. وہ کال اٹینڈ نہیں کررہا میں کیا کروں اب. “
خانی نے گھڑی کی جانب دیکھتے انا بی سے پوچھا تھا. وہ خود پریشانی اور اضطراب کے عالم میں خدا بخش کا نمبر ملا رہی تھیں. جو اِس وقت بدقسمتی سے بند مل رہا تھا.
” اِس کا مطلب سردار سائیں یہاں آرہے ہیں. خانی دعا کرو. اُن کو اِس معاملے کی بھنک پڑجائے. اگر ایسا ہوا تو وہ سب سنبھال لیں گے. اور اگر وہ بے خبر ہوئے تو “
اِس سے آگے انا بی کچھ سوچ ہی نہیں پائیں تھیں. اور نہ وہ سوچنا چاہتی تھیں.
” مگر انا بی اگر سیاہل کی جان وہاں خطرے میں ہے. تو میں ایسے یہاں سکون سے نہیں بیٹھ سکتی. مجھے وہاں جانا ہے. “
خانی کا دل خوف کے مارے بیٹھا جارہا تھا. وہ بے چینی کے عالم میں شال اوڑھتی دروازے کی جانب بڑھی تھی.
” خانی بیٹا رکو. میں بھی آپ کے ساتھ چلتی ہوں. اور مین گیٹ سے اِس وقت آپ کو کوئی اکیلا کہیں نہیں جانے دے گا. سردار سائیں کا ایک آدمی جو یہاں کا ڈرائیور ہے. میں اُسے کال کرتی ہوں. وہ ہمیں پچھلے گیٹ سے نکال کر ڈیرے تک پہنچا دے گا. “
انا بی جلدی سے فون ملاتی ڈرائیور کو ہدایت دیتیں خانی کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے نکل آئی تھیں.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” انا بی یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے. “
خانی ڈیرے پر بنے بڑے بڑے کمروں اور خالی ہال کو دیکھ حیرت سے انا بی سے مخاطب ہوئی تھی.
وہ دونوں ایک قدرے چھوٹے کمرے میں آگئی تھیں.
یہاں سیاہل خان تو دور میران اور باقی کسی کا بھی کوئی نام و نشان نہیں تھا. چار دیواری کے باہر بہت سے لوگ اسلحہ لیے کھڑے تھے. لیکن گیٹ کے سامنے کوئی بھی موجود نہیں تھا. اِس لیے وہ آسانی سے اندر داخل ہوگئی تھیں.
خانی سیاہل کو بار بار کال کرنے کے ساتھ ساتھ ڈھیروں میسجز بھی بھیج چکی تھی. مگر ابھی تک اُسے سیاہل کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا تھا.
اُنہیں ابھی وہاں کمرے میں آئے کچھ وقت ہی گزرا تھا. جب باہر سے بہت سے لوگوں کے تیز تیز قدموں کی آوازیں آنے لگی تھیں.
” انا بی یہ کیا ہورہا ہے باہر. مجھے باہر جاکر دیکھنا ہے. “
خانی جلدی سے باہر کی جانب بڑھی تھی. جہاں میران اور ارباز اپنے سامنے بڑی تعداد میں کھڑے اسلحہ سے لیس آدمیوں کو جیسے کسی حملے کی ہدایت دے رہے تھے.
آگے بڑھنے پر اُن کی کچھ کچھ باتیں خانی کے کانوں تک پہنچ رہی تھیں. جو اُس کا شک یقین میں بدل گئی تھیں.
میران اور ارباز جو ہدایت دینے میں مصروف تھے. اچانک تالی کی آواز پر پلٹ کر دوسری سمت دیکھا تھا. خانی کو وہاں کھڑا دیکھ میران ششدر ہوا تھا.
” واہ کیا زبردست پلاننگ کی ہے. میران بلوچ تمہیں زرا شرم نہیں آئی اپنی بہن کو دھوکہ دے کر اتنا گھناؤنا کھیل رچنے پر. آنکھ بند کرکے بھروسہ کیا ہے میں نے تم پر اور تم نے کیا کیا. اِن گھٹیا لوگوں کی باتوں میں آکر مجھے ہی مہرا بنا کر میرے ہی شوہر کے خلاف استعمال کیا. اگر اتنی ہی دشمنی نکالنی تھی. تو اپنے بل بوتے پر لڑتے اپنی بہن کو استعمال نہ کرتے. تھو ہے تمہاری مردانگی پر. شرم آرہی ہے مجھے تمہیں اپنا بھائی کہتے ہوئے. “
خانی آنکھوں میں غصہ اور نفرت بھرے میران سے مخاطب ہوئی تھی. میران کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ خانی یہاں پہنچ سکتی ہے.
ارباز خانی کی باتوں اور اُس کے یوں سب کے سامنے آکر تماشہ کرنے پر غصے سے بپھرا اُس کی جانب بڑھا تھا.
اِس سے پہلے کہ خانی یا میران کچھ سمجھ پاتے ارباز نے ایک زور دار تھپڑ خانی کی گال پر رسید کیا تھا.
” بے غیرت شرم نہیں آتی. اِس طرح منہ اُٹھا کر یہاں غیر مردوں کے سامنے آگئی ہے اور ہمارے سامنے زبان چلا رہی ہے.
ارباز اُس کو بازو سے پکڑ کر گھسیٹتے واپس کمرے میں لے آیا تھا.
میران جو ساکت کھڑا تھا ارباز کی حرکت پر ہوش میں آتے انتہائی طیش اور غصے کے عالم میں بھاگتا اُن کے پیچھے گیا تھا.
ارباز نے خانی کو زور دار دھکا مارتے فرش پر پھینکا تھا. اِس سے پہلے کے خانی کا سر لگتا انا بی نے جلدی سے آگے آتے خانی کو سنبھال لیا تھا.
جبکہ انا بی کو وہاں دیکھ ارباز کے ساتھ ساتھ اندر آتا میران بھی ٹھٹھکا تھا.
” ارباز تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بہن پر ہاتھ اُٹھانے کی. میں تمہارے ہاتھ توڑ دوں گا. “
میران خانی کا پھٹا ہونٹ اور چہرے پر انگلیوں کے نشان دیکھ ارباز پر غضبناک ہوا تھا. اور ایک زور دار تھپڑ ارباز کو رسید کرگیا تھا. جس پر ارباز غصے سے پیچ و تاب کھا کر رہ گیا تھا. وہ اِس وقت میران سے بگاڑ نہیں سکتا تھا.
” خبردار بہن بھائی کے پاکیزہ رشتے کی توہین مت کرو. اِس شخص کی تو میری نظر میں کوئی حیثیت ہے ہی نہیں. اِس سے تو میں اِس سے بھی زیادہ گھٹیا پن کی امید کرسکتی ہوں. مگر تمہیں میں کبھی معاف نہیں کروں گی. “
خانی کے نفرت میں ڈوبے زہر خند لہجے نے اُس کی جانب بڑھتے میران کے قدم وہیں جکڑ لیے تھے. اپنی بہن کی بھلائی سوچتے سوچتے وہ اُس کا اعتبار شاید ہمیشہ کے لیے کھو چکا تھا.
” تجھ سے تو میں بعد میں نبٹتا ہوں. اُس کمینے سردار کی وجہ سے بہت اُچھلنے لگی ہے تو. اُس کا خاتمہ تو آج یقینی ہے. مگر یہ نمک حرام کیا کررہی ہے یہاں.”
ارباز کا رُخ اب ماہناز بی بی کی جانب تھا. جو پہلے خانی پر ہاتھ اُٹھانے اور اب سیاہل خان کے بارے میں غلط لفظ سن کر نفرت بھری نظروں سے ارباز کو دیکھ رہی تھی.
” زبان سنبھال کر بات کرو. تم جیسے غنڈے میرے سردار سائیں کے پیروں کی دھول بھی نہیں بن سکتے. جو طاقت صرف عورتوں کے آگے دیکھانا جانتا ہے. اگر ہمت ہے تو سیاہل موسٰی خان کا سامنا کرکے دیکھاؤ. “
ماہناز بی بی بنا ڈرے ارباز پر اُس کی اوقات واضح کرگئی تھیں. جس پر وہ مزید پاگل ہو اُٹھا تھا.
” دیکھا میران دیکھ لی اِس کی اصلیت. مجھے شروع دن سے لگا تھا یہ کم ذات اُس گھٹیا شخص کے لیے کام کررہی ہے. تم اور آغا جان اِس کے خلاف میری بات سننے کو تیار ہی نہیں تھے. اب اِسے مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا. “
ارباز غصے سے بے قابو ہوتا گن نکالتے ماہناز بی بی پر تان چکا تھا.
میران خود بے یقینی کی کیفیت میں کھڑا انا بی کا یہ نیا روپ دیکھ رہا تھا. اِس کا مطلب آغا جان کی اتنی برین واشنگ کے باوجود خانی کی سیاہل خان سے نفرت نہ کرنے کی وجہ اور یہ رابطے اور ملاقاتوں کے پیچھے ماہناز بی بی کا ہاتھ تھا. وہ اتنے سالوں سے اُن کو دھوکہ دیتی آئی تھیں.
” پاگل ہوگئے ہو تم نیچے کرو گن. انا بی کا کسی بھی بات میں کوئی قصور نہیں ہے. تم گولی نہیں چلا سکتے اُن پر. “
خانی انا بی کو ارباز کے نشانے پر دیکھ اُن کے سامنے آئی تھی.
” ارباز کیا کررہے ہو تم. یہ وقت اِن جذباتی باتوں کا نہیں ہے. انا بی سے اِس غداری کا حساب بعد میں لیں گے. نیچے کرو گن. “
میران بھی ارباز کو اِس عمل سے باز رکھنے کو چلایا تھا.
خانی انا بی کے سامنے کھڑی ہو گئی تھی. ارباز نے میران کے منع کرنے کے باوجود گولی چلا دی تھی.
مگر انا بی نے گولی چلنے سے پہلے ہی خانی کو اپنے آگے سے ہٹاتے دوسری جانب کردیا تھا. ارباز کی گن سے نکلنے والی گولیاں سیدھی ماہناز بی بی کے وجود میں پیوست ہوئی تھیں.
” نہیں…… انا بی….. “
خانی چختی انا بی کی جانب بھاگی تھی. اچانک باہر سے گولیاں چلنے کی آوازیں آنا شروع ہوچکی تھیں. جس کا مطلب تھا سیاہل خان آچکا ہے.
خانی انا بی کے بے سدھ پڑے وجود کو سیدھا کرتی اُن کا سر گود میں رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی.
” میران تمہاری بہن نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے. یہ اُس کو پہلے ہی آگاہ کرچکی ہے. وہ پوری تیاری کے ساتھ آیا ہے. میں اِسے چھوڑو گا نہیں.”
ارباز باہر سے آتی فائرنگ کی آوازیں سنتے صورتحال کا جائزہ لگاتے میران سے مخاطب ہوتا اب کی بار اپنا نشانہ خانی پر باندھ چکا تھا. میران کا دماغ تو اچانک اِس بدلتی صورتحال سے گھوم چکا تھا. اُس نے سوچا کیا تھا اور ہو کیا رہا تھا.
” ارباز رُک جاؤ. خانی کو کچھ مت کرنا ورنہ میں تم پر گولی چلا دوں گا. “
میران نے ارباز پر بندوق تانتے اُسے وارن کیا تھا. جس پر خانی نے افسوس اور اذیت سے اُن دونوں کی جانب سے نظریں پھیر لی تھیں. اُس کا بھائی ابھی بھی ارباز کے اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی صرف اُسے وارن کررہا تھا.
گولی چلنے کی آواز پر خانی نے خوف کے مارے سختی سے آنکھیں میچ لی تھیں. اُس کی موت اُس کے سر پر آن پہنچی تھی.
” ہتھیاروں کے زور پر عورتوں سے کیا مقابلہ کرتے ہو. ہمت ہے تو مجھ سے مقابلہ کرکے دیکھاؤ. “
سیاہل خان کی غصے اور نفرت کی شدت لیے غضبناک دہاڑ پر خانی نے جلدی سے آنکھیں کھولتے جھٹکے سے سر اُٹھایا تھا.
ارباز کے گولی چلانے سے پہلے ہی سیاہل نے اُس کے بازو پر وار کیا تھا. جس سے ارباز کی گن دور جاگری تھی. سیاہل کو اندر داخل ہوتا دیکھ میران نے گن کا رُخ اُس کی جانب موڑا تھا. مگر اُس سے پہلے ہی سیاہل کی بندوق سے نکلنے والی گولی میران کا بازو چھلنی کر گئی تھی.
سیاہل نے ایک سرد نظر خانی اور اُس کی گود میں بے سدھ پڑی انا بی پر ڈالی تھی.
” خدا بخش ماہناز بی بی کو ابھی اور اِسی وقت ہاسپٹل پہنچاؤ. ایک سیکنڈ کی بھی دیر نہیں ہونی چاہئے.”
سیاہل کی دہاڑ پر اُس کے پیچھے آتا خدا بخش جلدی سے ماہناز بی بی کی جانب بڑھا تھا. جن کا خون میں نہائے بے سدھ وجود کو دیکھ کر لگ رہا تھا. کہ اُن کی سانسیں ختم ہوچکی ہیں. خانی نے بُری طرح روتے انا بی کو خدا بخش کے حوالے کیا تھا.
انا بی کو اُس نے ماں مانا تھا.اُنہوں نے بھی ہر بار اِس رشتے کا حق بھی ادا کیا تھا. اور آج وہی حق ادا کرتے وہ اس کی خاطر خود کو قربان کرگئی تھیں. خانی کا دل دکھ سے پھٹ رہا تھا.
سیاہل نے ایک نظر خانی پر ڈالی تھی. مگر اُس کے ہونٹ اور گال پر آئے معمولی نشانات سیاہل خان کی شریانوں میں خون کا الاؤ مزید بھڑکا گئی تھیں. یہی وہ لمحہ تھا جو سیاہل کے اندر کا وحشی پن جگا گیا تھا.
اپنی جانب بڑھتے ارباز اور میران پر وہ بُری طرح ٹوٹ پڑا تھا. میران کے بازو پر گولی لگی تھی. مگر اُس کے باوجود وہ سیاہل خان پر حملہ آور ہوا تھا. وہ سیاہل خان کو ختم کرنے کا اتنا اچھا موقع جانے نہیں دینا چاہتا تھا. مگر سیاہل نے کچھ ہی لمحوں میں اُسے بے بس کر دیا تھا.
خانی اذیت کی انتہاؤں پر پہنچتے سامنے موجود اپنی زندگی کا سب سے بھیانک منظر دیکھ رہی تھی. جہاں اُس کا شوہر اور بھائی ایک دوسرے کو مارنے کے دم پر تھے.
اُس نے یہ سب تو بلکل بھی نہیں چاہا تھا. اُس نے تو یہ دشمنی ختم کرنی چاہی تھی. وہ نہیں جانتی تھی اپنے سگے بھائی پر اعتبار کرنا اُسے اتنا مہنگا پڑے گا.
ارباز کی اچھی خاصی درگت بنانے کے بعد بھی سیاہل کے دل میں لگی آگ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی. اِس انسان سے اُس کے ویسے بھی بہت حساب نکلتے تھے. ارباز کا چہرا مکوں اور گھونسوں سے خون آلود ہوچکا تھا.
خانی کی بلکل بھی ہمت نہیں ہورہی تھی آگے جاکر سیاہل کو پیچھے ہٹانے کی. اُسے اِس لمحے سیاہل سے بہت خوف آرہا تھا. جو کسی بپھرے زخمی شیر کی طرح اُن کو ماری جارہا تھا. سیاہل کا اپنا ہاتھ بھی بُری طرح زخمی ہو چکا تھا.
سیاہل نے اچھی خاصی دل کی بھڑاس نکالنے کے بعد پاکٹ سے گن نکالتے ارباز پر تانی تھی.
” یہ گولی میری بیوی پر ہاتھ اُٹھانے کے لیے. “
سیاہل نے ارباز کے بازو پر فائر کیا تھا.
” تم ٹھیک نہیں کررہے یہ. میرے خاندان والے تمہیں چھوڑیں گے نہیں. “
ارباز درد سے بلبلاتے چلایا تھا. وہ سمجھ چکا تھا کہ اب اُس کا سیاہل خان سے بچنا ناممکن تھا. اُس کی سیاہل خان کے خلاف کی گئی پچھلی ساری سازشوں کا جواب آج وہ ایک ہی بار میں دینے کا ارادہ رکھتا تھا.
” یہ گولی اُس پر بندوق تاننے کے لیے.”
سیاہل کی چلائی گولی ارباز کی ٹانگ میں پیوست ہوئی تھی. خانی نے منہ پر ہاتھ رکھتے اپنی چیخوں کا گلا گھونٹا تھا.
” میری بیوی کو ہماری دشمنی میں استعمال کرکے , اُس پر ہاتھ اُٹھا کر اور ماہناز بی بی کو موت کے منہ میں پہنچا کر تم نے بہت بڑا گناہ کیا ہے. جس کی میرے نزدیک کوئی معافی نہیں ہے. “
سیاہل نے یکے بعد دیگر بہت سی گولیاں ارباز کے وجود میں اُتار دی تھیں.
ٹھیک کہا تھا انا بی نے اُسے. سیاہل خان کا غصہ بہت بُرا تھا. آج وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی تھی.
سیاہل نے اب گن کا رُخ میران کی جانب کیا تھا. جس کے بازو سے خون بہہ کر اُس پر اچھی خاصی کمزوری طاری کر گیا تھا. اور باقی کی کسر سیاہل خان نے پوری کردی تھی.
سیاہل کو میران پر گولی چلاتے دیکھ خانی بھاگ کر میران کے آگے آئی تھی.
جو بھی تھا جیسا بھی تھا. وہ اُس کا ماں جایا تھا. وہ اُس کو اِس طرح اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے نہیں دیکھ سکتی تھی.
” پلیز سیاہل…… ایسا مت کرو. “
خانی سیاہل خان کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہچکیوں کے درمیان بولتی اُس کے غصے پر مزید تیل چھڑک گئی تھی.
سیاہل نے جارحانہ انداز میں آگے بڑھتے خانی کی کلائی اپنی آہنی گرفت میں جکڑتے اُسے اپنے ساتھ کھڑا کیا تھا.
سیاہل کی گرفت اِس قدر سخت تھی کہ خانی کو اپنی کلائی ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی تھی. وہ اِس گرفت سے ہی اندازہ لگا سکتی تھی کہ سیاہل اِس وقت اُس پر کس قدر غصے میں ہے. مگر وہ سیاہل کے ہر طرح کے رویے کے لیے تیار تھی. اُس نے سیاہل خان سے جھوٹ کر بہت بڑی غلطی کی تھی. جس کی سزا اُسے ملنی چاہی تھی.
” ایک بار پہلے بھی تمہیں اپنی بیوی کے صدقے معاف کیا تھا. آج بھی اُسی کی خاطر جان بخشی کررہا ہوں. ورنہ تمہیں مارنا میرے لیے کبھی مشکل نہیں رہا.
خانی اسجد بلوچ سیاہل خان کی بیوی ہے. جسے وہ مر جائے گا مگر کبھی اپنی دشمنی میں استعمال نہیں کرے گا. آج تمہیں صرف خانی کی وجہ سے چھوڑ رہا ہوں. اِس بات سے تم میری زندگی میں خانی کی اہمیت کا اندازہ خود ہی لگا لینا. آج میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی بیوی کو خان حویلی لے جارہا ہوں. تمہارے ہی علاقے سے تمہاری نظروں کے سامنے روک سکتے ہو تو روک لو. انفارم کردو اپنے تایا اور دادا کو ڈنکے کی چوٹ پر لے کر جارہا ہوں. اگر ہمت ہے تو مجھے روک لیں. پھر بعد میں یہ نہ کہیں چھپ کر لے کر گیا ہے سیاہل خان اُن کی بیٹی کو. “
سیاہل خان زہر خند لہجے میں بولتا میران پر بہت کچھ واضح کرتا خانی کو لیے وہاں سے نکل گیا تھا.
سیاہل خان کا یہ رُوپ دیکھ خانی کا دل سوکھے پتے کی طرح پھڑپھڑانے لگا تھا. وہ خاموشی سے اُس کے ساتھ بندھی چلی جارہی تھی. اُس کی کلائی پر گرفت ابھی بھی ویسی ہی تھی. حد درجہ سخت اور بے رحم.

جاری ہے……