Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

” یہ ڈریس میں نے پہننا ہے. “
سامنے پڑی انتہائی سٹائلش سی مہرون ساڑھی جس کے کناروں پر مہرون اور بلیک نگوں سے بہت ہی نفیس کام کیا گیا تھا جو دیکھ شہرین کے چہرے کا رنگ زرد پڑا تھا. اُس نے آج تک نہ ہی یہ لباس پہنا تھا. اور نہ ہی اِسے کیری کرنا آتا تھا. مہرون کلر کا ہی فل کام سے مزین ہاف سلیوز بلاوزر اور ساتھ رکھی ہائی ہیلز کو دیکھ شہرین اپنا متوقع حشر سوچ کانپ کررہ گئی تھی.
اُسے ہائی ہیلز بلکل بھی پسند تھیں اور نہ ہی اُس نے کبھی پہنی تھیں.
” جی آپ نے کیوں آپ کو اچھا نہیں لگا. “
فریحہ کو یہ سادہ اور معصوم سی لڑکی بہت اچھی لگی تھی. وہ کہیں نہ کہیں اُس کی مشکل سمجھ گئی تھی.
” نہیں اچھا ہے مگر…. میں نے ایسا ڈریس پہلے کبھی پہنا ہی نہیں. مجھے لگ رہا ہے اِن ہیلز کے ساتھ ساڑھی پہن کر ایک قدم بھی چل نہیں پاؤں گی. کیا کوئی اور ڈریس ارینج نہیں ہوسکتا.”
شہرین نے مدد طلب نظروں سے فریحہ کی جانب دیکھا تھا.
” ڈریس تو اور بھی ارینج ہوسکتا ہے. مگر پہلے میران سے بات کرنی پڑے گی. کیونکہ یہ اُس کے سپیشل آرڈر پر لائی ہوں میں. “
فریحہ کی بات پر شہرین کی رہی سہی امید بھی ختم ہوئی تھی. میران بلوچ کی حکم عدولی کرنے کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی.
اِس لیے بنا مزید کوئی بحث کیے خود کو فریحہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا.
” آپ کے بال بہت پیارے ہیں. میران کو ضرور یہ بہت پسند ہونگے. “
شہرین کے بقول میران کے خود پر لپٹے تھان اُتارنے پر فریحہ کی ستائشی نظریں اُس کے کمر سے نیچے تک آتے لمبے دراز سلکی بالوں پر اُٹھی تھیں. جبکہ اُس کے سوال پر شہرین کچھ بول بھی نہیں پائی تھی. کیا بتاتی کے پسند کرنا تو دور کی بات ہے میرے شوہر نے تو ایک بار نظر بھر کر میری جانب دیکھا بھی کبھی نہیں.
اُس کے بعد فریحہ جو کہتی گئی شہرین خاموشی سے اُس کی بات مانتی رہی. کافی دیر کی فریحہ کی محنت کے بعد وہ شہرین کا مکمل میک اوور کرنے میں کامیاب ہوچکی تھی.
شہرین نے جیسے ہی نظریں اُٹھا کر مرر کی جانب دیکھا اپنا اِس قدر حسین رُوپ دیکھ وہ خود ہی ساکت ہوئی تھی.
ساڑھی میں اُس کے نازک سراپے کے حسین نشیبوں فراز نمایاں تھے. ماتھے سے بالوں کا سٹائلش سا پف کاٹ کر جو چہرے کو بہت ہی خوبصورت لُک دے رہا تھا. اُس کے لمبے سیاہ بالوں کو سٹریٹ کرکے کندھوں اور نازک سی تراشی ہوئی کمر پر ڈال رکھا تھا.
ہاف سلیوز سے جھانکتی نازک کلائیاں اور نیل پینٹ سے سجے ناخنوں والی مخروطی اُنگلیاں ساری توجہ اپنی جانب کھینچ رہی تھیں.
چہرے پر بھی معمول سے ہٹ کر فل میک اپ کے ساتھ لائٹ سے آئی شیڈو , مسکارے اور آئی لائنر کے بوجھ سے جھکی دلفریب آنکھیں جن میں اگر ایک بار بھی میران بلوچ جھانک لیتا تو اُس کا ڈوبنا لازم تھا. ریڈ لپسٹک سے سجے نازک پنکھڑیوں جیسے حسین لب ایمان شکن ثابت ہورہے تھے. رنگ شیپ کے بنے ہیوی سے ائیرنگز اور صراحی دار گردن سے چپکا نازک سا نیکلس اپنی ایک الگ ہی رعنائیاں بکھیر رہے تھے.
فریحہ نے اُسے ساڑھی اور ہیل میں چلنے کی اچھی خاصی پریکٹس کروا دی تھی. جس کی وجہ سے شہرین کچھ حد تک کمفرٹیبل ہوگئی تھی. مگر دل کی پکڑ دھکڑ ابھی بھی جاری تھی.
شہرین نے فریحہ کو تو نہیں بولا تھا. مگر وہ خود اِس طرح غیر لوگوں کے سامنے جانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی. اُس نے اپنی ایک شال فولڈ کرکے اپنے پاس رکھ لی تھی. جو اُس نے پارٹی میں جانے سے پہلے اپنے بازوؤں اور بلاوز کا پچھلا گلا کافی گہرا ہونے کی وجہ سے اوڑھنی تھی.
اُس کی سلیوز نیٹ کی تھیں. اور پچھلا گلا نہ صرف گہرا تھا. بلکہ اُسے بند کرنے کے لیے صرف ایک نازک سی ڈوری موجود تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

شام ڈھلتے وہ لوگ سونمیانی ساحل پر پہنچے تھے. خانی نے خوشگوار حیرت سے سیاہل کی جانب دیکھا تھا. سیاہل نے پورے راستے اُنہیں نہیں بتایا تھا کہ وہ لوگ کہاں جارہے ہیں.
مگر اب وہ جگہ دیکھ جہاں وہ پہلی بار سیاہل سے ٹکرائی تھی اُسے بے پناہ خوشی ہورہی تھی. اُس دن تو اِسی مسٹر کی دھمکیوں کے خوف سے وہ اور عینا یہاں زرا بھی انجوائے نہیں کر پائی تھیں. مگر آج وہ اُسی شخص کے ساتھ ہر فکر سے آزاد اِس جگہ کی خوبصورتی سے لُطف اُٹھانے کا پورا ارادہ رکھتی تھی.
سیاہل کچھ دیر اُن کے ساتھ وہاں کھڑے ہونے کے بعد کسی امپورٹنٹ کال کا کہتا دوسری جانب بڑھ گیا تھا. جب کہ سیاہل خان کا یوں جانا خانی کو غصہ دلا گیا تھا.
خانی آف موڈ کے ساتھ سیاہل کا غصہ لہروں کو گھور گھور کر اُن پر نکالتی کھڑی تھی. جب ایک بچے نے اُس کی اُنگلی تھام کر اپنی جانب متوجہ کیا تھا.
” یہ آپ کے لیے. “
وہ خانی کے ہاتھ میں ایک گلاب کی آدھ کھلی کلی اور چھوٹی سی چٹ تھما کر بھاگ گیا تھا.
” یہ آدھ کھلی کلی میرے کھلتے گلاب کے لیے. اگر اتنا ہی مِس کررہی ہو مجھے تو اِسی شفاف پانی پر چلتی آجاؤ میرے پاس. تمہارا سردار سائیں تمہارا منتظر ہے. “
چٹ پڑتے خانی کا چہرا کھل اُٹھا تھا. اُس نے اردگرد دیکھا تھا. مگر وہاں اُسے سیاہل کہیں بھی نظر نہیں آیا تھا. وہ جس ڈائریکشن میں کھڑی تھی اُسی کی سیدھ میں چلتی نیلے پانیوں سے گزرتے آگے بڑھنے لگی تھی.
کافی دور چلتے خانی کو محسوس ہوا تھا وہ بہت دور آگئی ہے. وہاں اِکا دکا لوگ ہی موجود تھے. وہ بھی اب واپس کی جانب بڑھ رہے تھے. خانی پلٹنے لگی تھی. جب اچانک پیچھے سے کسی نے اُس کی آنکھوں پر پٹی باندھتے اُسے اپنے حصار میں لیا تھا.
” کک کون ہے چھوڑو مجھے. “
خانی بُری طرح گھبراتے لرزتی آواز میں بولی.
” سیاہل خان کے علاوہ کسی کی جرأت نہیں ہے تمہارے قریب بھٹکنے کی بھی. “
خانی کو اپنے حصار میں جکڑتے سیاہل سرگوشی بھرے لہجے میں بولا. جب کہ سیاہل کی آواز سن کر جہاں خانی کا ڈرو خوف ختم ہوا تھا. وہیں اُس کی دھڑکنوں کی رفتار بڑھ گئی تھی.
” سیاہل یہ سب کیا ہے. “
خانی نے اپنی آنکھوں سے پٹی ہٹانا چاہی تھی. جب سیاہل اُسے ایسا کوئی بھی موقع دیئے بغیر بانہوں میں اُٹھاتے چلنے لگا تھا.
” سیاہل یہ آپ کہاں لے کر جارہے ہیں مجھے. “
خانی اپنی دھڑکنوں کا شمار لگاتی بہت مشکل سے بولی تھی.
” اپنی آنکھوں سے دیکھ لو. “
سیاہل نے ایک جگہ رکتے خانی کو نیچے اُتار دیا تھا اور اُس کی آنکھوں کی پٹی کھول دی تھی.
خانی نے آنکھیں ملتے جیسے ہی سامنے دیکھا وہ پلکیں جھپکنا بھول گئی تھی.
وہ پہلے بھی یہاں آئی تھی مگر یہ حسین حصہ اُس نے پہلے بالکل بھی نہیں دیکھا تھا. سفید پہاڑوں کے پیچھے سے ڈھلتا سورج اِس قدر حسین منظر پیش کررہا تھا کہ خانی مبہوت سی ہوتی خاموشی سے تکے گئی تھی. وہاں سے نظریں ہٹاتے خانی نے سامنے کی جانب دیکھا تھا. سفید اور بے بی پنک پھولوں سے سجے چاروں پلرز کے اُوپر پھولوں کی ہی چھت بنائی گئی تھی. جس کے بلکل وسط میں ٹیبل کے گرد آمنے سامنے دو چیئرز رکھی گئی تھیں. پہاڑوں اور شور مچاتی نیلے پانیوں والی لہروں کے درمیان کیا گیا یہ انتہائی دلکش ارینجمنٹ اُس جگہ کی دلکشی کو مزید بڑھا گیا تھا.
” واؤ یہ سب کتنا خوبصورت ہے. آئی سویئر اتنا حسین منظر میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا. اور اِس طرف کوئی اور لوگ موجود کیوں نہیں ہیں. کہیں سیاہل موسٰی اِس جگہ کو بھی خرید تو نہیں چکے تھے. “
خانی سیاہل خان کی آنکھوں کی شوخیاں صاف اگنور کرتی جلدی سے بولتی آگے بڑھی تھی. مگر وہ دو قدم بھی نہیں لے پائی تھی. جب اُسے اپنی کلائی سیاہل خان کی گرفت میں جکڑتی محسوس ہوئی تھی.
” میڈم جگہ واقعی بہت خوبصورت ہے. مگر اِس کی خوبصورتی کو خراج تحسین بعد میں پیش کریں گے. پہلے مجھے اپنے کچھ حساب وصول کرنے ہیں. تم سے وہ بھی سود سمیت. “
سیاہل نے ہلکا سا خانی کی کلائی کو جھٹکا دیتے اُسے اپنے قریب کیا تھا. جبکہ اُس کو ابھی بھی پہلے والے رُوپ میں دیکھ خانی کو اپنے اردگرد خطرے کی گھنٹیاں سی بجتی محسوس ہوئی تھیں.
” کک کیا مطلب… کونسا حساب.”
خانی فوراً پریشان ہوئی تھی.
” جو باتیں ابھی وہ تینوں کررہی تھیں. وہ میں تمہارے منہ سے سننا چاہتا ہوں. ہمیشہ میں نے اظہار کیا ہے مگر آج میں اظہار سننے کا خواہش مند ہوں.”
سیاہل نے خانی کے گال پر دانتوں سے ہلکی سی چٹکی کاٹتے اُسے اپنی بات سمجھائی تھی. جب کہ اُس کی شدت پر خانی اپنا گال پکڑتے اُسے گھور کر رہ گئی تھی.
” سیاہل خان کبھی کبھی آپ بلکل جنگلیوں کی طرح بی ہیو کرتے ہیں. “
خانی کا گال بلکل لال ہوچکا تھا. جبکہ اُس کی بات پر سیاہل نے زور دار قہقہہ لگایا تھا.
” نہیں ابھی تک تم نے میرے اندر کا جنگلی ٹھیک سے نہیں دیکھا. بہت جلد ملاقات کرواؤں گا.”
سیاہل خانی کو اُسی کی بات پھنسا گیا تھا.
” اگر تم نے ابھی میری بات نہیں مانی تو یہی حال یہاں بھی ہوگا. “
سیاہل نے اُس کی بات کا کوئی خاص اثر نہ لیتے اُس کے دوسرے گال کی جانب اشارہ کیا تھا.
جس پر ایک نظر اُس کے تیور دیکھ خانی کو بمشکل مانتے ہی بنی تھی.
” اوکے مگر آپ کو میری بات ماننی ہوگی.”
خانی سیاہل کا ہاتھ تھامے کرسی کی جانب بڑھتے اُسے وہاں بیٹھانے کو بولا تھا. جس پر خانی کی بات مانتے سیاہل بہت ہی فرنمابرداری سے وہاں ٹک گیا تھا.
خانی پیچھے سے آکر اُس کے دونوں کندھوں پر اپنی ہتھیلیاں ٹکاتے آنکھوں میں شرارت لیے اُس کے کان کے قریب جھکی تھی.
” سیاہل موسٰی خان آئی لو یو سو مچ. آپ میری سانسوں میں بستے ہو. اب آپ کے بغیر ایک پل بھی جینا مشکل ہے. آپ کا وجود ہی میری آتی جاتی سانسوں کی ضمانت ہے. مجھے کبھی خود سے جدا مت کیجئے گا.
اور باقی آپ سے بڑا چیٹر میں نے اِس دنیا میں نہیں دیکھا. “
خانی نے سیاہل کو اظہار کرتے جلدی سے وہاں سے بھاگنا چاہا تھا مگر سیاہل خان جو پہلے ہی اُس کا ارادہ بھانپ چکا تھا. اُس کی کلائی اپنے حصار میں جکڑتے واپس اپنی گود میں گرا گیا تھا.
” سیاہل چھوڑیں مجھے یہ چیٹنگ ہے میں آپ کے کہے کے مطابق اظہار کرچکی ہوں. “
خانی نے مزاحمت کرنی چاہی تھی. جب سیاہل اُس کی دونوں کلائیاں قابو کرتے ایک بار پھر اُس کی جانب جھکا تھا.
” اتنے پیارے اظہار کا تھوڑا سا انعام تو ملتا ہے نا. اور ویسے بھی میں تو ہوں ہی چیٹر. تھوڑی سی چیٹنگ اور کرلوں. “
سیاہل اپنی بات مکمل کرتا خانی کی دوسری گال پر اپنی دیوانگی کی داستان رقم کر گیا تھا.
یہ لڑکی صبح سے اپنی اداؤں سے اُسے اچھا خاصہ گھائل کر چکی تھی. جس کا بدلہ لینے کی باری آب سیاہل کی تھی. جو وہ سود سمیت وصول بھی رہا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

فریحہ اُس کی بہت ساری تعریفیں کرتی جاچکی تھی. اب شہرین کو میران کا انتظار تھا. مگر اُس نے یہ بھی سوچ لیا تھا کہ اُس کی گاڑی کی آواز سنتے ہی وہ چادر لپیٹ لے گی کہی پھر نہ اُسے چادر نہ کرنے کی وجہ سے ڈانٹ پر جائے.
شہرین چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھا کر چلتی صوفے پر آبیٹھی تھی. اور پاؤں کو ہیلز سے آزاد کرتے ریلیکس ہوئی تھی. تھوڑی سی دیر میں ہی اُس کے پیر درد کرنے لگے تھے.
شہرین جھک کر پیروں کا ہلکا ہلکا مساج کرنے میں مصروف تھی. جب اچانک دروازہ کھول کر میران عجلت میں اندر آیا تھا. شہرین بوکھلا کر سیدھی ہوئی تھی. اُسے میران کی اِس طوفانی آمد کا اندازہ بلکل بھی نہیں تھا.
میران جو فون کان سے لگائے باتوں میں مصروف شہرین کو اُس کے روم سے بلانے آیا تھا. شہرین پر نظر پڑتے ہی وہ مبہوت سا ہوتے اپنی جگہ ساکت ہوا تھا. وہ نہ فون پر کچھ بول پایا تھا اور نہ ہی اپنی جگہ سے ایک قدم بھی آگے بڑھا پایا تھا. اُسے لگا تھا وہ اپنی جگہ پر جکڑا جاچکا ہے.
اُسے یہی لگ رہا تھا سامنے صوفے پر بیٹھی لڑکی اُس کی وہ دبو سی چادر میں لپٹی بیوی نہیں بلکہ کوئی اپسر تھی. جو راستہ بھول کر یہاں آنکلی تھی.
میران کی اِن گہری بدلتی نظروں پر شہرین کے پسینے چھوٹ چکے تھے.
میران کی توجہ ہٹانے کے لیے شہرین جھک کر ہیلز پیروں میں ڈالنے لگی تھی. مگر یہ بھول گئی تھی کہ اُس کے بلاوز سے جھانکتی شفاف کمر میران بلوچ پر کیا بجلیاں گرا گئی ہے. میران کی حالت تو پہلے ہی خراب تھی رہی سہی کسر اُس کے جھکنے نے پوری کردی تھی.
میران کو فوراً رُخ موڑ لینا ہی مناسب لگا تھا. کیونکہ شہرین کا یہ دلنشیں رُوپ دیکھ اپنا بہکا بہکا انداز اُسے خطرے کی گھنٹی بجاتا محسوس ہورہا تھا.
اُس کے رُخ پھیرنے پر شہرین نے سُکھ کا سانس بھرتے جلدی جلدی ہیلز پہنتے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی.
” تیار ہو تم… “
میران فون پر بات کرتے اپنے اعصاب کو نارمل کرتا پلٹا تھا. مگر اب کی بار شہرین کا مکمل حُسن اُس کے سامنے آتے اُس پر عجیب سا سحر طاری کر گیا تھا. وہ آدھی بات ہی بول پایا تھا باقی کے الفاظ اُس کے منہ میں ہی اٹک گئے تھے.
وہ خود بھی اِس وقت بلیک کلر کے فل تھری پیس سوٹ میں ہمیشہ کی طرح بہت ہی شاندار لگ رہا تھا. یہ شخص تو ویسے ہی چپکے سے شہرین کے دل میں بسنے لگا تھا. اُس کے تن من کا مالک تھا. لیکن شہرین کے مطابق مالک کو ہی اپنی چیز میں انٹرسٹ نہیں تھا.
اُسے اچانک ابھی کچھ دیر پہلے کی فریحہ کی کہی بات یاد آئی تھی. جو میران کے ہی فرینڈز سرکل میں ہونے کی وجہ سے اُس کے اور فاکیہ کے ریلیشن سے واقف تھی.
” فاکیہ اچھی لڑکی ہے اور بہت ٹائم سے میران کے ساتھ ہے. اگر یہ سب نہ ہوا ہوتا تو شاید وہ دونوں اب تک شادی بھی کر چکے ہوتے. مگر ہوتا وہی ہے جو قسمت میں لکھا ہوتا. اور میران بلوچ کی قسمت میں تم لکھی تھی. اُس کی بیوی کا درجہ تمہیں ملا ہے فاکیہ کو نہیں. نہ اِس سب میں تمہارا کوئی قصور ہے نہ کسی اور کا. تم خوبصورت ہو ,حسین ہو اور ابھی مجھے یہ سن کر بہت اچھا لگا کہ تم اتنی پڑھی لکھی بھی ہو. تو پھر کیوں جانے دے رہی ہو اپنے شوہر کو اپنے ہاتھ سے. اپنی خوبصورتی اور اداؤں سے اپنے شوہر کو اپنی مٹھی میں قید کرلو. اُسے اپنی زلفوں کے جال میں ایسا پھنساؤ کہ وہ کہیں دیکھنے کے قابل نہ رہے. جو رنگ میران کے نام پر تمہاری آنکھوں میں آتے ہیں. وہ یہی بتا رہے کہ تمہیں اپنے شوہر سے بہت محبت ہے. مجھے پورا یقین ہے تم آسانی سے اُسے اپنا اسیر بنا سکتی ہو. “
فریحہ کی باتیں کانوں میں گونجتی اُس کی دھڑکنے بے قابو کر گئی تھیں. وہ چاہ کر بھی میران کے سامنے زرا سا بولنے کی ہمت نہیں لاسکتی تھی. ادائیں دیکھانا تو دور کی بات تھی.
اِس وقت تو وہ الگ ہی پریشانی کا شکار تھی. جہاں میران کھڑا تھا وہاں بلکل ساتھ ہی کرسی پر اُس کی شال پڑی تھی. جسے اُٹھانے کے لیے اِسی حلیے میں اُسے میران کے پاس سے گزرنا تھا.
شہرین ہمت اکٹھی کرتے جلدی سے آگے بڑھی تھی. مگر جلد بازی میں لڑکھڑا گئی تھی. میران جو باہر جانے کے لیے پلٹ رہا تھا. شہرین کو گرتے دیکھ جلدی سے آگے ہوتے بانہوں میں بھر لیا تھا.
یہ سب اتنا اچانک ہوا تھا کہ دونوں ہی کچھ سمجھ نہیں پائے تھے. اور ایک دوسرے کے کافی قریب آگئے تھے. میران کا بازو شہرین کو تھامے اُس کی کمر کے گرد لپٹا ہوا تھا. اِسی طرح بے دھیانی میں شہرین نے بھی ایک ہاتھ سے میران کا کوٹ سینے سے دبوچ رکھا تھا. جبکہ دوسرا ہاتھ اُس کی گردن کے پاس سے کندھے کو جکڑ ہوا تھا.
دونوں کے چہرے ایک دوسرے کے بہت قریب تھے اور وہ ساکت سے ایک دوسرے کی خوشبو اور سحر میں جکڑے کھڑے تھے. محبت کے رنگ اُن کے آس پاس بکھرے ہوئے تھے. مگر فلحال اُن خوشنما رنگوں سے وہ انجان تھے.
اُن دونوں کے کتنے ہی لمحے ایک دوسرے میں گم ہوئے گزر گئے تھے.
شہرین تو تھی ہی میران بلوچ کی اسیر وہ تو چاہ کر بھی خود کو اُس کی شخصیت کے سحر سے نکال نہیں پارہی تھی. مگر آج کچھ کم دیوانوں والی حالت میران بلوچ کی بھی نہیں تھی.
میران کی نظریں بار بار بھٹک کر شہرین کی شفاف نیکلس سے سجی گردن پر اُٹھ رہی تھیں. جس کے عین وسط میں بنا تل اُسے اپنی جانب بلارہا تھا. میران جو ہر بار خود پر ضبط کر جاتا تھا. آج قیامت بنی اپنی اِس بیوی کے سامنے وہ جیسے بے بس سا ہورہا تھا.
میران ہر بات ہر گریز کو سائیڈ پر رکھے اپنے دل کی خواہش کی تکمیل کرتے شہرین کی گردن پر جھک گیا تھا. اور ہمیشہ جذبات بھڑکانے والے اُس سیاہ تل پر حملہ آور ہوا تھا.
شہرین جس کی دھڑکنیں ویسے ہی دھڑک دھڑک اُسے پاگل کررہی تھیں. میران کی یہ حرکت اُسے مزید آدھ موا کر گئی تھی.
میران اُس کے تل پر ہونٹوں کا پرتپیش لمس چھوڑتا جیسے مزید بہک گیا تھا. شہرین کو لگ رہا تھا اگر کچھ دیر مزید وہ ایسے ہی کھڑی رہی تو ضرور ہوش و خرد سے بیگانہ ہوجائے گی. اُس نے میران کے سینے پر گرفت میں مزید سختی لاتے اُس کے کندھے پر دباؤ ڈالتے اُسے پیچھے دھکیلنا چاہا تھا. میران جو اسی کیفیت کے زیرِ اثر مزید کوئی گستاخی سرزد کرنے والا تھا. شہرین کے کمزور سے احتجاج پر جیسے ہوش کی دنیا میں لوٹا تھا. اُس نے شہرین کو فوراً خود سے دور کیا تھا. جس پر تیز ہوتی سانسوں پر بے حال ہوتے شہرین نے واپس لڑکھڑانے سے بچنے کے لیے میران کا بازو پکڑا تھا. جب میران کی نظر شہرین کی سُرخ ہوئی گردن پر پڑتی اُسے شرمندگی کے سمندر میں دھکیل گئی تھی.
” آئم سوری… تم تیار ہوکر باہر آجاؤ میں ویٹ کررہا ہوں. “
میران نے شاید آج پہلی بار شہرین سے نظریں چرائی تھیں کیونکہ کہیں نہ کہیں شہرین کے حوالے سے اُس کے دل میں چور آچکا تھا.
وہ جلدی سے کہتا باہر نکل گیا تھا. جبکہ شہرین دل پر ہاتھ رکھتی پاس رکھی چیئر پر ٹک گئی تھی. میران بلوچ کی کچھ دیر کی قربت اُس کی جان نکال گئی تھی. اُس کا پورا جسم ابھی تک کانپ رہا تھا. اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا. آخر میران کو ہوا کیا تھا. کیا وہ واقعی اُسے اپنی بیوی تسلیم کرنے لگا تھا یا یہ صرف وقتی طور پر کمزور لمحے کے زیرِ اثر آئے اُٹھایا کوئی بے اختیاری عمل تھا. جس کی میران بلوچ کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں تھی.
شہرین بہت مشکل سے اپنی سانسوں کو اعتدال پر لاتی چادر اچھے سے اپنی کمر اور بازوؤں کے گرد اوڑھتی روم سے نکل آئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤