No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
خانی کو لگا تھا جیسے دوسری طرف اُس کا مذاق اڑایا گیا ہو.
” ہاں کیونکہ آپ جیسے قاتل اور بدمعاش لوگوں سے کسی بھی بات کی اُمید کی جاسکتی ہے. آپ کو زرا سا بھی خوفِ خدا نہیں ہے. کیسے لے لیتے ہیں اتنی آسانی سے دوسروں کی جانیں. دوسروں کی کیا بات کرنی. سیاہل خان نے تو اپنی سگی بہن کو بھی نہیں بخشا.”
خانی زہرخند لہجے میں بولتی سیاہل خان کو اچھا خاصہ تپا گئی تھی.
سیاہل خان آگے کچھ سن ہی نہیں پایا تھا. اُس کی سماعتوں میں ابھی تک قاتل لفظ ہی گھوم رہا تھا.
خانی اسجد بلوچ ہر بار سیاہل خان کی برداشت کا کچھ زیادہ ہی فائدہ اُٹھا لیتی تھی.
” لگتا ہے خانی بلوچ کو میری اُس دن کی کہی بات سمجھ نہیں آئی. میں ایسے لہجوں کا عادی بلکل نہیں ہوں. اپنی زبان سنبھال کر بات کرو. ورنہ انجام کی ذمہ دار تم خود ہوگی. “
خانی جان بوجھ کر اُسے غصہ دلا گئی تھی. اور اُس کا اچھا خاصہ موڈ صرف ایک لفظ سے غارت کر چکی تھی.
ابھی شاید وہ ٹھیک سے سمجھ نہیں تھی. جس شخص سے وہ بات کررہی ہے. وہ کیا کچھ کرجانے کی طاقت رکھتا تھا.
” مجھے دھمکی دینے کی کوشش مت کرنا سیاہل خان. کیا مطلب ہے تمہارے اِس ورنہ کا. کیا کر لو گے تم. مجھے مروا دو گے. یا میرے خاندان کے کسی فرد کو. “
خانی بھی اُسی کے انداز میں غصے سے بولی تھی.
جبکہ اُس کے شدید چلانے پر بھی نجانے کیوں سیاہل خان کے چہرے پر غصے کے بجائے مسکراہٹ بکھر گئی تھی.
آج تک کوئی ایسا شخص نہیں تھا. جو اُس کے غصہ کرنے پر آگے سے آواز بھی نکال پاتا. مگر خانی نے جس طرح بنا دبے سیاہل خان کو جواب دیا تھا. اُس سے صاف ظاہر تھا وہ کوئی عام لڑکی بلکل نہیں تھی.
وہ سردار کی سردارنی ہی تھی.
” تمہیں خود سے محبت کرنے پر مجبور کردوں گا. اور اِس سے بڑی سزا تمہارے لیے کوئی نہیں ہوگی. پھر روتی رہنا پوری زندگی.”
خانی کو لگا تھا جیسے بات کرنے کے دوران وہ مسکرایا ہو.
” محبت اور وہ بھی تم سے. سیاہل خان محبت کا مطلب بھی جانتے ہو.
تم نے اچھا نہیں کیا. شہرام اور نگار کے ساتھ اتنا غلط کرکے. کیا فرق پڑ جاتا تمہاری شان میں اگر تم اُن کو ایک ہونے دیتے. اُنہیں اتنی بے دردی سے جدا نہ کرتے. “
خانی کا لہجہ نم ہوا تھا.
” سردار سیاہل موسیٰ خان کسی کے آگے اپنے کسی بھی عمل کے لیے جواب دہ نہیں ہے.”
سیاہل نے اپنی پہلے کہی بات ایک بار پھر دوہرائی تھی.
سیاہل خان جانتا تھا کہ یہ لڑکی اُس سے ہر بات پوچھنے کا حق رکھتی ہے. مگر وہ ایسا مقام اُسے کبھی بھی دینے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا.
جبکہ خانی کا دل چاہا تھا کہ یہ شخص اُس کے سامنے ہو اور وہ اِس کا منہ توڑ دے.
” تو پھر میری بھی بددعا ہے سیاہل موسیٰ خان کو بھی کسی سے شدید محبت ہو. اور اُسے اُس کی محبت کبھی نہ ملے. تم بھی ایسے ہی تڑپو جیسے باقی لوگوں کو تڑپاتے ہو.”
خانی جذبات میں بہت غلط بول گئی تھی. جس کا اُسے اِس وقت کوئی احساس نہیں ہوا تھا.
” بہت بڑی بات بول دی ہے خانی اسجد بلوچ تم نے. ایسا نہ ہو. یہ واپس تمہارے پاس ہی لوٹ آئے. کیونکہ سیاہل خان کو اِس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا.”
سیاہل نے بہت ضبط سے کہتے اپنی کنپٹی کو مسلا تھا.
خانی کی بات کا اثر سیاہل خان پر کس حد تک ہوا تھا. اِس بات کا اندازہ اِس وقت باآسانی اُس کے چہرے سے لگایا جاسکتا تھا.
” میں بھی نہیں ڈرتی تم سے سیاہل خان. اور نہ ہی تمہاری کسی بات سے کوئی فرق پڑتا ہے. سردار ہوگے تم باقی لوگوں کے لیے. میرے لیے نہیں. “
خانی چاہتی تھی جیسے وہ غصے سے جل رہی ہے. ویسا ہی حال سیاہل خان کا بھی ہو. اِس لیے جو بات اُس کے منہ میں آرہی تھی. وہ بولی جارہی تھی.
” تمہاری اِن سب باتوں کا جواب بہت جلد مل جائے گا تمہیں. دیکھتا ہوں. کیسے ڈر نہیں لگتا خانی اسجد بلوچ کو سردار سیاہل موسیٰ خان سے.”
سیاہل خان ہمیشہ کی طرح خانی کو اُس کے پورے نام سے پکار کر اپنے ساتھ ساتھ اُس کو بھی کچھ باور کروانے کی کوشش کرتا صرف اتنا ہی کہتے کال کاٹ چکا تھا.
جبکہ خانی ہکا بکا سی موبائل کان سے ہٹا کر اُس کے لفظوں پر غور کرنے لگی تھی. اب پھر کیا کرنے والا تھا وہ.
اُسی وقت دروازہ ناک ہوا تھا.
” بی بی جی بشرا بی بی سائیں آپ کو زنان خانے میں بُلا رہی ہیں. “
ملازمہ کے کہنے پر خانی موبائل سائیڈ پر رکھتی باہر نکل گئی تھی. اِس وقت اُس کا موڈ سخت آف تھا. مگر وہ اِس طرح انکار کرکے یہاں کسی کو بھی دکھ پہنچانا نہیں چاہتی تھی. کیونکہ یہاں سب لوگوں نے اُسے بلکل ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھا ہوا تھا.
جیسے ہی اُس نے زنان خانے میں قدم رکھا. وہاں گھر کی سب خواتین اپنے آگے ڈھیر سارے کپڑے پھیلائے بیٹھی تھیں. اور پانچ یا چھ کے قریب عورتیں وہاں درمیان میں بیٹھی اُن کی فرمائش کے مطابق اُنہیں کپڑے نکال کر دے رہی تھیں. شاید یہ یہاں کی شاپنگ کا طریقہ تھا. کیونکہ عورتوں کو صرف کسی بہت زیادہ ضرورت کے تحت گھر سے نکلنے کی اجازت تھی.
بشرا بیگم کی محبت سے بانہیں پھیلانے پر خانی اُن کے پاس جا بیٹھی تھی.
” واؤ بہت خوبصورت ڈریسز ہیں. “
خانی ایک مہرون اور بلیک کنٹراس کے بلوچی کڑائی اور شیشوں سے مزین سوٹ کو دیکھتے بولی. وہ وہاں موجود ڈریسز میں سے اُسے سب سے ڈفرینٹ اور ڈیسنٹ سا لگا تھا.
خانی کے اُسے تھامنے پر بے اختیار وہاں موجود سب کی نظریں اُس جانب اُٹھی تھیں.
سب نے ہی اُس کی پسند کو سراہا تھا.
” بیٹا میں نے آپ کو اِسی لیا بلایا ہے کہ آپ بھی اپنی پسند کی شاپنگ کر لو. کچھ دنوں بعد ہمارے خاندان میں ایک شادی ہے. تو اِس وجہ سے باقی سب بھی شاپنگ کر رہی ہیں. آغا جان کی خواہش ہے آپ بھی باقی سب خواتین کی طرح یہ لباس پہنے. اُس شادی میں ہمارے سارے رشتہ دار شرکت کرنے والے ہیں. آغا جان آپ کو سب سے ملوانا چاہتے ہیں.”
زمرہ بیگم نے خانی کا ہاتھ کھینچنے پر محبت سے اُسے سمجھاتے پوری بات بتائی تھی.
جس پر ناچاہتے ہوئے بھی خانی کو ماننا پڑا تھا.
خانی نے اپنے لیے اُسی مہرون سوٹ کا انتخاب کیا تھا. اور ساتھ ہی بہت ہی نفیس سا چاندی کا جیولری سیٹ بھی لے لیا تھا.
وہاں باقی خواتین ابھی ویسے ہی بیٹھی تھیں. اور خانی اپنی شاپنگ پوری کر چکی تھی.
خانی چاہنے کے باوجود اپنا موڈ ٹھیک نہیں کر پارہی تھی. اِس لیے وہ سر درد کا بہانا کرکے آرام کرنے کا کہتی روم کی جانب بڑھ گئی تھی.
خانی جانے سے پہلے چائے کا بول کر گئی تھی. جو کہ اِس وقت اُس کے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر موجود تھی.
خانی نے بیڈ پر بیٹھتے ایک سانس میں ہی کپ میں موجود ساری چائے منہ میں اُنڈیل دی تھی. اُس نے باہر سب کو بول دیا تھا. اُسے کوئی ڈسٹرب نہ کریں وہ آرام کرنا چاہتی ہے. اِس لیے مینل اور نوراں بھی باہر ہی تھیں.
چائے پیئے ابھی چند سیکنڈز ہی گزرے تھے. جب خانی کو اپنا سر بُری طرح چکراتا محسوس ہوا تھا. اور اگلے ہی لمحے وہ حواس گنواتی تکیے پر جاگری تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” ماشاءﷲ ﷲ کرے میرا خاندان ایسے ہی شاد و آباد رہے. اور دشمن کی بُری نظروں سے ہمیشہ کے لیے محفوظ رہے. “
بی بی سائیں آج اتنے ٹائم بعد اپنے پورے خاندان کو اکٹھا دیکھ بہت خوش تھیں.
آج خان حویلی کے سبھی لوگ رات کے کھانے پر ایک ہی جگہ اکٹھے تھے. بڑے سے ڈائننگ ہال میں براؤن کلر کی کارپٹ پر دستر خوان بچھائے سب لوگوں ڈھیر سارے لوازمات کے ساتھ وہاں موجود تھے.
سیاہل خان کے ایک طرف بی بی سائیں جبکہ دوسری طرف شہزاد خان براجمان تھے. ایک طرف مرد جبکہ دوسری جانب خواتین موجود تھیں.
” انشاءﷲ ایسا ہی ہوگا. میرے ہوتے کوئی میرے خاندان پر گندی نظر نہیں ڈال سکتا. “
سیاہل خان بی بی سائیں کا ہاتھ تھام کر یقین دلاتا محبت سے بولا.
جس پر بی بی سائیں نے عقیدت سے اُس کا ہاتھ چوم لیا تھا.
اُنہیں اپنے اِس پوتے سے بہت زیادہ محبت تھی.
” رضیہ اور اُس کا شوہر آج آئے تھے. پہلے بھی بہت بار فون کرچکے ہیں. مگر میں نے آج بھی اُنہیں صاف لفظوں میں بتا دیا ہے کہ ہم اِس بار اُن کے گھر کی شادی میں شرکت بلکل بھی نہیں کریں گے. پچھلی بار والا دھوکا بھولے نہیں ہیں ہم. “
بی بی سائیں اپنی بیٹی اور داماد کی بات کرتے دو ٹوک لہجے میں بولی تھیں. جس پر باقی سب نے بھی اُن کی تائید کی تھی.
پچھلی بار شہاب بلوچ کے بھتیجے کی شادی پر وہاں جانے پر بلوچ خاندان کی طرف سے سیاہل خان پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا. جس سے سیاہل تو صاف بچ گیا تھا. لیکن اُس کا ایک آدمی بُری طرح زخمی ہوا تھا.
جس کا بدلہ سیاہل نے بعد میں اُن سے اپنے طریقے سے لے بھی چکا تھا.
اِس بار صرف ایک اسی وجہ سے بی بی سائیں وہاں جانے کے خلاف تھیں.
” آپ اُنہیں ہاں بول دیں. ہم سب ضرور شرکت کریں گے. اُن کی بیٹی کی شادی میں. “
سیاہل کی بات پر سب نے حیرانی سے اُس کی جانب دیکھا تھا. مگر کوئی کسی قسم کا بھی سوال نہیں کرسکتا تھا سیاہل خان سے.
” آپ لوگ فکر مت کریں. سیاہل خان اپنا اور اپنے خاندان والوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے.”
اُن سب کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات دیکھ سیاہل اُنہیں تسلی دیتے بولا.
سیاہل خان ابھی ڈنر میں اور گھر والوں کے ساتھ باتوں میں ہی مصروف تھا. جب موبائل کی میسج رنگ ٹون کے ساتھ جو پیغام اُس تک پہنچا تھا. اُس نے سیاہل خان کے ہونٹوں پر ایک دل کو چھو لینے والی مسکراہٹ چھوڑ دی تھی.
سیاہل تھوڑی دیر مزید وہاں بیٹھنے کی بعد ضروری کام کا کہتا وہاں سے نکل آیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
خانی نے کسمساتے آنکھیں کھول دی تھیں. اُس کا سر ابھی بھی چکرا رہا تھا. لیکن خود کو اپنے کمرے کے بجائے کہیں اور دیکھ خانی کی آنکھوں اور دماغ کی ساری خماری غائب ہوئی تھی.
یہ وہ کہا تھی.
جس کمرے میں اِس وقت وہ موجود تھی. وہ بہت ہی عالی شان اور جدید آرائش سے مزین ایک انتہائی خوبصورت روم تھا.
خانی ایکدم بیڈ سی اُٹھتی اپنے اُوپر سے کمبل ہٹاتی سیدھی ہوئی تھی. جب اچانک اُس کی نظر کچھ فاصلے پر صوفے پر بیٹھے شخص پر پڑی تھی.
خانی کو لگا تھا جیسے اِس کمرے کی چھت اُس کے سر پر آن گری ہو.
بلیک قمیض شلوار کے اُوپر بلیک ہی کوٹ پہنے وہ اپنے مخصوص مغرور انداز میں بیٹھا سامنے لگی پینٹنگ کو گھور رہا تھا. آج بھی جیسے وہ خانی کی جانب دیکھنے سے اجتناب برت رہا تھا.
” تم… تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے یہاں لانے کی. کیوں لے کر آئے ہو مجھے یہاں. “
خانی بیڈ سے اُٹھتی چلائی تھی. اُس کے چلانے پر بھی مقابل کے سکون میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا.
” تم نے ہی تو مجھے چیلنج کیا تھا کہ تم نہیں ڈرتی مجھ سے اور نہ ہی کوئی فرق پڑتا ہے مجھ سے. تو وہی دیکھنے لایا ہوں کتنی سچائی ہے تمہاری باتوں میں.
اور میری ہمت کی تو بات کرو ہی مت. اگر میں ہمت دیکھانے پر آگیا نا. تو سب سے زیادہ نقصان تمہارا ہی ہوگا. “
سیاہل نے صرف ایک نظر ہی خانی پر ڈالی تھی. اور جیسے اُسی ایک نظر میں ہی خانی کا حسین سراپا اُس کی آنکھوں میں قید ہوچکا تھا.
” میں اب بھی کہہ رہی ہوں. نہیں ڈرتی میں تم سے. جیسے ہی میرے گھر والوں کو تمہاری اِس حرکت کا پتا چلے گا. وہ تمہیں چھوڑیں گے نہیں.”
خانی کو اُس وجیہہ شخص کا شاہانہ انداز ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا.
جبکہ اُس کی بات پر سیاہل کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ آئی تھی. کہ جیسے کسی معصوم بچے نے کوئی بچکانہ سی بات کردی ہو.
” کبھی بھی کسی انسان سے کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے. اور بلوچ خاندان یا اُس کے کسی ایک بھی فرد سے تو بلکل بھی نہیں. ایسی جگہ آکر مارتے ہیں کہ انسان دوبارہ کسی پر اعتبار کرنے کے قابل نہیں رہتا. وہ تو ابھی تک یہ بھی نہیں جانتے کہ تم اپنے روم میں موجود ہو بھی یا نہیں. تمہیں ڈھونڈنا تو بہت دور کی بات ہے.
ویسے تم میں بھی اُنہی کا خون ہے نا. اُنہی دھوکے بازوں میں سے ایک ہو نا. “
سیایل کے ہر ہر لفظ میں شدید نفرت اور انتقام بھرا ہوا تھا.
لیکن خانی اُس کے الفاظ پر اتنے غصے میں آگئی تھی کہ اُس کے لہجے پر غور ہی نہیں کر پائی تھی.
” تم میری سوچ سے بھی بڑھ کر گھٹیا انسان ہو. دھوکے باز ہم نہیں تم ہو. تم کیسے بھلا کسی پر بھی الزام لگا سکتے ہو. جس نے اپنی انا اپنے غرور میں اپنی سگی بہن کو بھی نہیں چھوڑا.
تو میں یا میرا خاندان بہت پیچھے آتے ہیں.…”
خانی کی بات ابھی ختم ہی نہیں ہوئی تھی لیکن سیاہل خان کا ضبط جواب دے چکا تھا. وہ ایک ہی جھٹکے میں صوفے سے اُٹھتے خانی کی جانب بڑھا تھا.
خانی اُس کے جارحانہ انداز پر ڈر کے مارے دو قدم پیچھے ہٹی تھی.
” تمہیں میں نے وارن کیا تھا. دوبارہ کبھی مجھ سے ایسے بات مت کرنا. میں واقعی تمہاری سوچ سے بھی کہیں زیادہ گھٹیا ہوں.
جانتی بھی ہو اِس وقت تمہارے ساتھ کیا کرسکتا ہوں. ہر بار بخشش نہیں مل سکتی تمہیں.”
سیاہل شعلے برساتی نظریں خانی پر گاڑھتے زہر خند لہجے میں بولا تھا.
خانی اِس وقت لائٹ فیروزی قمیض شلوار میں ملبوس دوپٹے کو سر اور کندھوں پر پھیلائے بلکل سادہ سے حلیے میں بھی بہت پرکشش اور پاکیزگی کا پیکر لگ رہی تھی.
اُس کے ناک میں سجی نوزپن کا نگ شائن کرتا جیسے ساری توجہ اپنی جانب کھینچنے کا متمنی تھا.
مگر سیاہل اُس کے جادو میں کسی صورت نہیں آنا چاہتا تھا. اِس لیے اُس نے خود کو اِن لمحے میں بلکل بے حس کرلیا تھا.
وہ اِس لڑکی کی آنکھوں میں اپنے لیے خوف, ڈر اور شدید نفرت دیکھنا چاہتا تھا. جو پچھلی بار کی طرح اِس بار بھی اُسے زرا سا بھی نظر نہیں آئے تھے.
سیاہل کی سیاہ آنکھیں خانی کو ایک بار پھر اپنے طلسماتی حصار میں جکڑتی محسوس ہوئی تھیں.
اُسے اِس سحر انگیز شخص سے ایکدم خوف سا محسوس ہوا تھا.
وہ اِس سے شدید نفرت کرنا چاہتی تھی. مگر جب بھی وہ اِس کے سامنے آتا تھا وہ اُس کی جانب ایک نفرت بھری نگاہ بھی نہیں اُٹھا پاتی تھی.
سیاہل کے ایک بار پھر قدم آگے بڑھانے پر خانی اُسی کے سحر میں جکڑی پیچھے ہٹی تھی.
لیکن بے دھیانی میں اُسکا پیر کارپٹ سے اُلجھا تھا. اُسے ڈس بیلنس ہوکر لڑکھڑا کر گرتے دیکھ کر بھی سیاہل خان ہنوز کھڑا رہا تھا. جیسے اُسے پرواہ ہی نہیں تھی کہ وہ گرے یا بھاڑ میں جائے.
خانی نے خود کو سنبھالنا چاہا تھا. مگر پیروں میں ہیل ہونے کی وجہ سے وہ خود کو سنبھال ہی نہیں پائی تھی. اور اِس سے پہلے کے وہ لڑکھڑا کر بُری طرح زمین بوس ہوتی اُس نے اپنے مقابل بے حس بنے کھڑے سیاہل خان کے کوٹ کو سینے سے سختی سے دبوچ لیا تھا. اور اپنا سارا وزن اُس پر ڈالتے خود کو گرنے سے بچالیا تھا.
جیسے ہی خانی کی سانسیں بحال ہوئیں. اُسے احساس ہوا تھا کہ بے اختیاری میں وہ اِس بے مروت انسان کے اتنے قریب ہوکر اُس کا سہارا لے چکی ہے. خانی دل ہی دل میں خود پر ڈھیر ساری لعنت بھیجتی غصے میں سیاہل خان کو بُری طرح دور جھٹکتی پیچھے ہٹی تھی.
مگر پہلے کی طرح وہ ایک قدم بھی اپنی جگہ سے نہ ہلا تھا.
” یہ شروع سے عادت ہے تم لوگوں کی. پہلے خود ہی کسی کے قریب آکر اُس سے مدد مانگتے ہو. اور پھر اپنا کام پورا ہونے پر اُسے دھتکار دیتے ہو. اِس لیے تم جیسوں کو خود سے دور رکھنا ہی بہتر ہے. “
سیاہل نے خانی کی حرکت پر طنز کرتے اپنے کوٹ کے عین اُسی جگہ سے رومال کی مدد سے اَن دیکھی گرد ہٹائی تھی. جیسے ابھی کچھ دیر پہلے کسی اچھوت نے چھوا ہو اِس جگہ کو.
خانی کا اِس قدد بے عزتی پر دماغ گھوم چکا تھا.
اُس کا چہرا شرمندگی سے لال ہوا تھا. اور آنکھوں میں غصے کے ساتھ ساتھ نمی تیر گئی تھی.
” تم بہت بُرے ہو سردار سیاہل موسیٰ خان. آئی ہیٹ یو. آئی ہیٹ یو. “
خانی کی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر گال پر پھسل چکے تھے.
سیاہل کو اُس کی نوزپن بھی اُداس ہوتی محسوس ہوئی تھی.
” جب جانتی ہو اتنا بُرا ہوں. اور نفرت کے قابل ہوں تو یہاں سے دور کیوں نہیں چلی جاتی. واپس اپنی دنیا میں. میری دنیا میں تمہیں اِن آنسوؤں کے سوا کچھ نہیں ملے گا سردارنی صاحبہ. “
وہ دو قدموں کا فاصلہ طے کرتے مزید قریب ہوا تھا. اتنا کہ اُن دونوں کے درمیان بہت کم فیصلہ رہ گیا تھا. اِس بار خانی پیچھے نہیں ہٹی تھی. وہ شاید سیاہل خان کے عمل سے کافی ہرٹ ہوئی تھی.
سیاہل کی گہری نظریں خانی کی نم آنکھوں پر جمی ہوئی تھیں. سیاہل نے سختی سے اپنی مُٹھیاں بھینچ رکھی تھیں. جیسے کسی بات پر بہت ضبط کررہا ہو.
” کیوں بولتے ہو مجھے یہ لفظ. نہیں ہوں میں کہیں کی سردارنی. ہمارے درمیان کوئی ایسا مضبوط رشتہ نہیں ہے کہ تم مجھے اِس نام سے پکارو.
بڑوں کے کیے گئے غلط فیصلے کے مطابق ہماری صرف منگنی ہوئی تھی. جو کہ کب کی ختم ہوچکی ہے. اِس لیے یہ سب ڈرامے بند کرو. منگنی کی کوئی حیثیت نہیں میرے نزدیک. “
خانی شدید غصے کے عالم میں چلائی تھی.
جس کے جواب میں سیاہل خان نے بہت ہی پرسکون انداز میں اُسے دیکھا تھا.
” کہا تھا نا بہت دھوکے باز ہیں بلوچ حویلی والے. اِس معاملے میں بھی جھوٹ بول گئے تم سے. منگنی نہیں نکاح جیسا غلط فیصلہ کیا تھا اُنہوں نے ہمارے لیے.
نکاح کی حیثیت تو ہو گی نا. تمہاری نظر میں. “
خانی کو لگا تھا سیاہل خان نے بات نہیں کی. بلکہ کوئی بم پھوڑا تھا خانی کے سر پر.
جاری ہے
.
