No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
” اگر سیاہل موسیٰ خان نے خانی اسجد بلوچ کو باندی بنانا ہوتا تو بہت پہلے بنا چکا ہوتا. نہ تمہاری اجازت کی ضرورت تھی نہ کسی اور کی. میں تم سے کوئی رشتہ رکھنا ہی نہیں چاہتا. نہ تمہاری شکل دیکھنا چاہتا ہوں. آخر کیوں آجاتی ہو میرے سامنے. تم واپس کیوں نہیں لوٹ جاتی یہاں سے. “
خانی کی خوشبو سیاہل خان کو بُری طرح ڈسٹرب کر رہی تھی. اُسے لگ رہا تھا جیسے آج وہ اپنے ضبط کے سارے بندھن توڑ دے گا.
ایک اِسی کمزور لمحے سے ڈرتا تھا سیاہل خان.
وہ جتنی کوشش اِس لڑکی کو خود سے نفرت کروانے کے لیے کررہا تھا. اُتنا ہی وہ خود اُس کے قریب جارہا تھا.
” چھوڑو مجھے یہ کیا بے ہودگی ہے. تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی.
میں تو جیسے مری جارہی ہوں نا سیاہل خان سے رشتہ رکھنے کے لیے. مجھے بھی تم جیسے جلاد میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے. تم میرے نزدیک….”
خانی نے سیاہل خان سے دوری بنانے کی کوشش کرتے جیسے ہی نگاہ اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا. سیاہل خان کی سیاہ آنکھیں اپنے چہرے پر گڑھی دیکھ خانی کی بولتی بند ہوئی تھی. اُسے اب احساس ہوا تھا. وہ دونوں غصے اور لڑائی میں ایک دوسرے کے کتنے قریب آچکے ہیں. اُن دونوں کے چہرے اتنے قریب تھے. کہ اگر سیاہل خان زرا سا بھی سر کو مزید جھکاتا تو اُس کا چہرا خانی کے چہرے کو چھو جانا تھا.
خانی کو سیاہل خان کی آنکھوں میں ضبط کے سُرخ ڈورے سے نظر آئے تھے. جیسے وہ خود پر کسی بات کے لیے بہت قابو کیے کھڑا ہے.
خانی نے محسوس کیا تھا کہ جتنے سخت تاثرات سیاہل خان کے چہرے پر تھے. اُس کی خانی کے بازو پر موجود گرفت میں اُتنی ہی نرمی تھی.
” کیوں آئی ہو یہاں. “
سیاہل خان کو اِس وقت خانی کا نرم گرم وجود ضبط کے کڑے مراحل سے گزار گیا تھا. اُسے لگا تھا اگر وہ مزید کچھ دیر اُس کے قریب ایسے ہی رہی تو وہ ضرور کسی کمزور لمحے کی گرفت میں آجائے گا. اور ایسا وہ ہرگز نہیں چاہتا تھا. وہ جانتا تھا خانی اسجد بلوچ پر سب سے زیادہ حق اُسی کا تھا.
مگر وہ اِس لڑکی کو اپنے قریب کسی قیمت پر نہیں کرسکتا تھا.
اِس لڑکی کی قربت ہی سیاہل خان کو کمزور کرسکتی تھی. اور یہی وہ نہیں چاہتا تھا.
” مجھے کوئی شوق نہیں ہے تم سے ملنے کا. میں یہاں صرف یہ بتانے آئی تھی. کہ میں نے کچھ لوگوں کو تمہارے قتل کی پلاننگ کرتے سنا ہے. وہ اِس فنکشن کے اختتام پر تم پر قاتلانہ حملہ کروانے والے ہیں. “
خانی نے اپنی طرف سے اُس پر بہت بڑا انکشاف کیا تھا.
سیاہل خان جو خانی کو خود سے دور کرنے والا تھا. بلوچ خاندان کے کسی بھی فرد سے کی جانے والی ایسی عنایت پر وہ ایک پل کے لیے ٹھٹھکا تھا. خانی اسجد بلوچ صرف اُسے بچانے, اُس کی مدد کی خاطر اِس طرح اتنا خطرہ مول لے کر یہاں پر آئی ہے. یہ جانتے ہوئے بھی کہ اگر وہاں کسی کو بھی اُس کی غیر موجودگی کا پتا چل گیا تو کیا ہوسکتا تھا.
مگر سیاہل خان کو تو جیسے اِن سب ہمدردیوں کی بھی پرواہ نہیں تھی.
اِس لیے سیاہل خان نے جس جارحانہ انداز میں خانی کو اپنے قریب کیا تھا. اُس سے بھی کہیں زیادہ بُرے طریقے سے جھٹکتے خود سے دور کیا تھا. جیسے سمجھانا چاہا ہو کہ میرے قریب آنے کا یہی انجام ہوگا.
” بتا دیا اب جاسکتی ہو تم یہاں سے. نیکسٹ ٹائم ایسی کسی قسم کی ہمدردی کرنے کی کوشش مت کرنا. مجھے تم لوگوں کا کوئی احسان نہیں چاہیے. “
سیاہل خان نے جیسے سفاک پن کی انتہا کردی تھی.
خانی اتنا تو جانتی تھی کہ یہ شخص اُس سے کوئی خاص اچھا برتاؤ نہیں کرے گا. مگر اِس قدر توہین آمیز رویہ اپنائے گا اُسے بلکل اندازہ نہیں تھا.
وہ خود کو جتنا بھی مضبوط ظاہر کرلیتی پر تھی تو وہ بھی ایک لڑکی. جسے اِس طرح کے لہجے ہرٹ کرتے تھے.
خانی کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی.
” تم بہت بُرے ہو سیاہل خان. تم ہو ہی اِسی قابل کہ تم سے نفرت کی جائے. وہ لوگ پاگل ہی ہیں جو تم سے پیار کرتے ہیں. ٹھیک کرتے ہیں میرے خاندان والے تمہارے خلاف جاکر. تم جیسا بے حس اور پتھر دل شخص میں نے آج تک نہیں دیکھا. تم جیسے لوگ ہی ہوتے ہیں. جو اپنی انا اور خودپسندی کی وجہ سے ساری زندگی کے لیے تنہا رہ جاتے ہیں. “
خانی آنکھوں میں غصہ اور نفرت بھرے سیاہل خان کے سامنے آکر کھڑی ہوتی اُنگلی اُٹھا کر اُسے اُس کی اصل حقیقت سے واقف کرتے بولی.
” تم اب جاسکتی ہو یہاں سے. “
سیاہل دبے لہجے میں دہاڑا تھا.
خانی کے الفاظ سے زیادہ سیاہل خان کو اُس کے آنسو تکلیف دے رہے تھے. دانت پر دانت چڑھا کر ہونٹوں کو سختی سے ایک دوسرے میں پیوست کیے. دونوں ہاتھوں کی مُٹھیاں بھینچے سیاہل خان جیسے ضبط کے آخری مراحل سے گزر رہا تھا.
خانی جو پہلے سے ہی یہاں سے جانے کا ارادہ رکھتی تھی اُس کے آگے سے پلٹی تھی.
جب اُسی وقت بہت قریب سے اندھا دھند فائرنگ کی آوازیں آنے لگ گئی تھی.
جنہیں سنتے خانی کی بے اختیار چیخ نکل گئی تھی.
اتنی تیز اور بہت قریب سے آنے والی آوازوں پر خانی بے انتہا خوفزدہ ہوتے بے دھیانی میں واپس پلٹتے سیاہل خان کے قریب ہوئی تھی.
” یہ یہ فائرنگ کون کررہا ہے. اور وہ بھی اتنے بُرے طریقے سے. مجھے باہر نہیں جانا مجھے ڈر لگ رہا ہے. “
خانی سیاہل کا بازو جکڑتی خوف کے زیرِ اثر اُس کے قریب ہوئی تھی. باہر کی آوازیں تھی ہی اتنی دہشت ناک اور دل دہلا دینے والی کہ خانی کی ابھی تھوڑی دیر پہلے کی ساری دلیری ہوا ہوچکی تھی.
وہ بھول چکی تھی کہ ابھی جس شخص کے قریب وہ ہورہی ہے. تھوڑی دیر پہلے وہ اِسے ہی بہت باتیں سنا چکی ہے.
یہاں کہ باقی لوگوں کی طرح وہ اِس طرح فائرنگ کی عادی بلکل بھی نہیں تھی. اُس نے تو اِس طرح اپنے سامنے ایک بار بھی گولی کی آواز نہیں سنی تھی. آج اتنے قریب سے اور اتنی خوفناک آوازیں سننا اُس کی جان نکال گیا تھا.
خانی اِس وقت سب کچھ بھلائے اپنے دشمن جس سے ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ نفرت کا اظہار کرچکی تھی کے ساتھ تقریباً چپکی کھڑی تھی. وہ اِس قدر ڈری ہوئی تھی کہ اگر اُس کا بس چلتا تو سیاہل خان کی گود میں چڑھ جاتی.
سیاہل خان خانی کی کیفیت سمجھتے باہر جانے کا ارادہ ترک کرتے اُس کے پاس ہی کھڑا رہا تھا. اُس نے محسوس کیا تھا کہ خانی کا پورا جسم ہولے ہولے لرز رہا ہے. اُس کی نم آنکھیں اور زرد پڑتا چہرا دیکھ سیاہل خان مزید خود کو بے حس نہیں رکھ پایا تھا.
وہ اِس لڑکی کو خود سے دور تو رکھنا چاہتا تھا مگر تکلیف میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا. سیاہل نے بازو پھیلا کر خانی کو حصار میں لیتے اپنے سینے میں بھینچ لیا تھا. وہ سمجھ گیا تھا. اِس وقت اُس کی ڈری سہمی ہرنی کو اِس کی کتنی ضرورت تھی. اور کہیں نہ کہیں اُسے خود بھی.
آج نجانے سردار سیاہل موسیٰ خان کو کیا ہوا تھا کہ وہ خود سے کیے گئے تمام عہد بھول رہا تھا. اِس لڑکی کے لیے دل میں موجود جذبے جس کو وہ ہمیشہ خود سے بھی چھپاتا آیا تھا آج ایک چھوٹے سے واقع پر پوری آب وتاب سے باہر آنے کے لیے تیار تھا.
خانی کو قریب کرتے سیاہل خان کو لگا تھا نجانے کتنے عرصے بعد اُس کے تڑپتے بے چین دل پر خانی کی قربت جیسے کسی مرہم کا کام کرگئی تھی. ایک سکون سا سیاہل خان کے رگوں پے میں اُتر گیا تھا.
جن لمحوں سے دور بھاگنے کے لیے وہ اپنے دل تک کو چیڑ چکا تھا. آج وہ اُنہیں طلسماتی لمحوں میں جکڑا کھڑا تھا. جس محبت کی طاقت کو وہ اگنور کرتا دھتکارتا آیا تھا. آج اُسی محبت نے غلط وقت پر اپنا جادو چلا دیا تھا.
خانی کو بھی جیسے اِس وقت سیاہل خان کے سینے جیسے ہی کسی مضبوط قلعے کی ضرورت تھی. خانی بہت زیادہ خوفزدہ ہوتی سیاہل خان کے سینے میں منہ چھپاتے باہر سے آتی آوازوں سے پیچھا چھڑانا کے چکروں میں تھی. اُس لگ رہا تھا کہ آوازیں لمحہ بہ لمحہ اُس کے قریب آرہی ہیں. کچھ دیر پہلے جن آوازوں سے خانی کو لگ رہا تھا کہ وہ شاید اپنے حواس کھو بیٹھے گی. اب سیاہل خان کی کچھ کہتی دھڑکنیں سنتے باہر کا شور تو بہت پیچھے رہ گیا تھا.
خانی کو سیاہل خان کی مضبوط پناہ گاہ میں ایک عجیب سا تحفظ بھرا سرور محسوس ہوا تھا. جیسے یہی ایک حقیقت تھی اُس کی زندگی میں. باقی سب فریب تھا.
وہ دونوں ایسے ایک دوسرے کے قریب سحرذدہ سے کھڑے تھے کوئی یقین ہی نہیں کرسکتا تھا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے اِنہیں دونوں کا کتنا بُرا جھگڑا ہوا ہے.
وہ دونوں نجانے کتنی ہی دیر ایسے ہی ایک دوسرے میں کھوئے رہتے جب سیاہل کے موبائل کی آواز پر وہ ہوش میں لوٹے تھے.
سیاہل نے فوراً کال اٹینڈ کی تھی. خانی نے اُس سے دور ہونا چاہا تھا مگر سیاہل خان نے ایسا نہیں ہونے دیا تھا.
باہر سے اب آوازیں آنا کم ہوچکی تھیں. جبکہ بے حال ہوتے حواسوں پر قابو پاکر خانی نے اپنی پوزیشن پر غور کرتے شرم سے ڈوب مرنا چاہا تھا. وہ سیاہل خان کی بانہوں میں تھی. وہ بھی صرف فائرنگ کی آواز سے ڈر کر اُس کے قریب ہوئی تھی.
خانی کو خود پر جی بھر کر غصہ آرہا تھا. یہ وہی شخص تھا جو کچھ دن پہلے اُس کے قریب آنے پر کسی اچھوت شے کی طرح اُسے دھتکار چکا تھا. وہ کیوں اِس شخص کی پناہوں میں آئی تھی. صرف اپنے درمیان موجود اُس رشتے کی بنیاد پر. اگر سیاہل خان کی جگہ یہاں کوئی اور ہوتا تو وہ اُس شخص کے قریب جاتی.
خانی نے خود سے سوال کیا تھا. جس کا جواب بھی آگے سے واضح تھا.
یقیناً کبھی نہیں. تو کیا اُس نے سیاہل خان سے جڑا اپنا رشتہ قبول کرلیا تھا. پہلے سیاہل خان کی فکر میں اُسے بچانے کی خاطر یہاں تک آنا, اُس کی باتوں پر ہرٹ ہوکر آنسو بہانہ اور اب اُس کے حصار میں تحفظ تلاش کرنا.
خانی کے اندر مختلف سوال سر اُٹھانے لگے تھے. جن کا اِس وقت اُس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا.
” نہیں. یہ مجھے اچانک کیا ہونے لگا ہے. یہ میرے لیے بہت غلط ہے. ایسا نہیں ہونا چاہیئے. میرا خود پر سے اختیار کیوں ختم ہورہا ہے.”
خانی اپنی بے اختیاری پر خود کو لعنت ملامت کرتی. فون کان سے ہٹاتے سیاہل خان کا حصار توڑنے کے لیے اُس کے چوڑے مضبوط سینے پر دونوں ہاتھوں کا دباؤ ڈالتی پیچھے ہٹی تھی.
مگر سیاہل نے اپنی گرفت مضبوط کرتے اُسے ہلکا سا جھٹکا دیتے اپنے مزید قریب کیا تھا.
” تمہیں نہ میری نفرت برداشت ہے اور نہ قربت. تم آخر مجھ سے چاہتی کیا ہو. “
سیاہل کی نظریں اب بھی خانی کے غصے اور شرم سے لال ہوتے چہرے پر تھیں.
” چھوڑو مجھے. کچھ بھی نہیں چاہیئے. میں پاگل ہوں بہت بڑی جو ایک سردار سیاہل موسیٰ خان کی مدد کرنے یہاں تک آگئی. جسے کسی کی ضرورت ہی نہیں. جو مجھے اپنی باندی بنانا چاہتا ہے یا اُس کے نزدیک میں ایک باندی سے بھی نیچے کی حیثیت رکھتی ہوں. “
وہ جو بنا کچھ بولے سیاہل کے حصار سے نکلنے کے لیے مسلسل مزاحمت کیے جارہی تھی ایک پل کے لیے رک کر اُسے جواب دیا تھا. خانی کو خود ہی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اُسے اِس شخص کی باتیں اتنی ہرٹ کیوں کررہی ہیں.
خانی کی بات پر سیاہل بھی خاموشی سے ہی کھڑا اُس کو دیکھے گیا تھا.
” مجھے لگتا ہے تم کافی زیادہ انٹرسٹڈ ہو میری باندی بننے میں. میں نے ایک بار بھی تمہیں اپنی بنانے کا ذکر تک نہیں کیا. ہر بار تم نے ہی یہ بات دوہرائی ہے. اگر اتنا ہی شوق ہورہا ہے. تو بتاؤ ابھی اُٹھا کر لے جاتا ہوں. میرے اختیارات سے تو واقف ہو ہی چکی ہوگی تم اب تک. “
سیاہل خان کی بات اور انداز پر خانی کے دل کی دھڑکنیں تو بے قابو ہوئی ہی تھیں. مگر چاہنے کے باوجود بھی وہ چہرے پر پھیل جانے والی سرخی بھی نہیں روک پائی تھی.
” بے ہودہ شخص. “
دل ہی دل میں اُسے ایسے القابات سے نوازتے خانی نے مزاحمت تیز کردی تھی.
لیکن اتنی کوششوں کے باوجود وہ سیاہل خان کے حصار سے ایک انچ بھی ہل نہیں پائی تھی.
سیاہل خان کے انداز سے لگ رہا تھا جیسے وہ ابھی مزید کچھ دیر اُسے اپنے پاس رکھنے کا خواہشمند تھا.
” جانے دو مجھے. کیا چاہتے ہو تم اب. ہمیشہ کی طرح یہ سننا چاہتے ہو. کہ کتنی نفرت کرتی ہوں میں تم سے. تو سن لو آج نہیں کرتی نفرت میں تم سے. تمہارے اتنے بُرے رویوں کے باوجود بھی. کیونکہ میں خانی اسجد بلوچ ہوں. میں نفرت بھی اپنی مرضی سے کرتی ہوں. اور محبت بھی. تمہارے یا کسی کے بھی مجبور کرنے سے میرے جذبات نہیں بدلیں گے. چاہے تم خود کو میری نظروں میں کتنا بھی گرا لو. “
خانی بھی جیسے اچانک پھٹ پڑی تھی.
کچھ دیر اُسے اِسی طرح خاموشی سے دیکھتے اگلے ہی لمحے سیاہل نے ہاتھ بڑھا کر خانی کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے اُس کی بھیگی نم آنکھوں کو چھوا تھا.
یہ لڑکی واقعی عام نہیں تھی. سردار سیاہل موسیٰ خان کے دل تک رسائی رکھنے والی لڑکی عام کیسے ہوسکتی تھی.
خانی سیاہل خان کی اِس گستاخی پر اندر تک ہل گئی تھی.
ایک طرف یہ شخص اُس سے نفرت سے دھتکار رہا تھا. تو دوسری طرف یہ عنایت. اب یہ کونسا نیا دھوکہ تھا.
خانی نے اپنے چہرے سے اُس کے ہاتھ ہٹانا چاہے تھے مگر سیاہل خان نے اُسے اِس بات کی اجازت نہیں دی تھی.
سیاہل خان نے جیسے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب اُسے کیا کرنا ہے.
” میں پہلے سے جانتا تھا کہ مجھ پر حملہ ہونے والا ہے. اور یہ بھی کہ کون کروانے والا ہے. مگر وہ شاید ابھی تک نہیں جانتے کہ سیاہل خان پر ہاتھ ڈالنا اتنا آسان کام کبھی نہیں رہا ہے.
ابھی جو یہ فائرنگ ہورہی تھی یہ اُنہیں حملہ آوروں کی تھی. اُنہیں لگا شاید میں واپس جارہا ہوں. میرے آدمیوں کے پہلے سے بنائے گئے پلان کے جھانسے میں آکر اُنہوں نے میری گاڑی پر فائرنگ کی. جس کو میرا ایک آدمی آن چھوڑ کر بہت ہی ہوشیاری سے وہاں سے نکل آیا تھا.
اتنی دیر یہ فائرنگ کا سلسلہ اِسی لیے جاری رہا کیونکہ میرے آدمیوں نے بھی اُس حملے کا بھرپور جواب دیا. جانتی ہو یہ حملہ کس نے کروایا. “
خانی جو ششدر سی سیاہل خان کی باتیں سن رہی تھی. اُس کی بات پر سوالیہ انداز میں اُس کی جانب دیکھا تھا.
” بلوچ خاندان نے. اور میرے قتل کی اِس پلاننگ کا سرغنہ تمہارا بھائی میران بلوچ تھا. جو اپنی دشمنی نکالنے کے ساتھ ساتھ تمہیں مجھ سے چھٹکارا دلوانا چاہتا ہے.
میں نے اُس دن شہرام بلوچ کو فون کرکے اِسی بات کا وارن کیا تھا. کہ اگر مجھ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو جنازہ بلوچ حویلی سے بھی اُٹھے گا. اور میرے کہے کے مطابق آج میرے آدمیوں کے نشانے پر اس سازش کا سرغنہ میران بلوچ تھا. “
جیسے جیسے خانی سیاہل کی باتیں سنتی جارہی تھی. اُس کے چہرے کی رنگت متغیر ہوتی جارہی تھی. میران کی فکر میں کئی آنسوں خانی کی آنکھوں سے ٹوٹ کر گرے تھے.
” تم نے میرے بھائی کو…. “
خانی نفی میں سر ہلاتے ہولے سے بڑبڑائی تھی. اُسے لگا تھا یہ شخص اُس کے بھائی کو نقصان پہنچا چکا ہے.
” نہیں کچھ نہیں کیا میں نے تمہارے بھائی کو. سیاہل موسیٰ خان نے خانی اسجد بلوچ کے صدقے اُس کے بھائی کو اس کی زندگی بخش دی. “
سیاہل خان کی بات پر خانی نے بے یقینی سے اُس کی جانب دیکھا تھا. کیا یہ وہی سیاہل خان تھا. جو ابھی کچھ ٹائم پہلے اُسے بُری طرح بے عزت کررہا تھا.
نہیں یہ وہ شخص بلکل نہیں تھا. یہ تو کوئی احساس اور جذبات رکھنے والا پیارا سا انسان تھا. جس کی آنکھوں میں خانی نے اپنے لیے کچھ بہت خاص دیکھا تھا.
سیاہل خان نے اُس کی خاطر خود پر حملہ کرنے آئے اپنے دشمن کو چھوڑ دیا تھا.
سیاہل خان جس وجہ سے خانی سے دور رہتا تھا. آج چند پل کے لیے اُن کے درمیان آئے کمزور لمحے سیاہل خان سے سب کچھ کروا گئے تھے.
کبھی کسی کو اپنی کسی بھی بات کی وضاحت نہ دینے والا سیاہل خان آج خانی کے آگے سب کچھ بیان کرگیا تھا.
خانی نہیں جانتی تھی کہ وہ سیاہل خان کی زندگی میں کیا مقام رکھتی تھی. اُس کی کیا اہمیت تھی سیاہل خان کی زندگی میں. وہ اکیلی اُس شخص سے بہت کچھ کروا سکتی تھی. کتنے سالوں سے سیاہل خان اِس لڑکی کی زرا سی قربت کے لیے کتنا تڑپا تھا.
مگر ہر بار خانی کے قریب آنے پر سیاہل خان اِسی وجہ سے اُسے دھتکار دیتا تھا کہ کہیں اُس کا پتھر دل موم نہ ہوجائے. لیکن آج اُس کی کوئی احتیاط , سرد مہری کام نہیں آئی تھی.
خانی نے اُس کی تڑپتی روح کو کچھ دیر کے لیے اپنی قربت بخش کر جو احسان سیاہل خان پر کیا تھا. سیاہل خان موقع پر ہی اُسے اُس کے بھائی کی زندگی بخش اُس بات کا بہت بڑا قرض چکا گیا تھا.
” تم تو نفرت کرتے ہونا مجھ سے. پھر میری خاطر کیسے بخشا میرے بھائی کو. “
خانی سیاہل خان کی باتوں میں اِس قدر اُلجھ چکی تھی کہ وہ بھول گئی تھی کہ وہ ابھی بھی سیاہل خان کے ساتھ لگی اُس کی بانہوں میں کھڑی ہے.
” میں نے کبھی نفرت نہیں کی تم سے. ہاں مگر اتنا جانتا ہوں کہ تم ضرور شدید نفرت کرو گی مجھ سے. آج نہیں تو کل. بس اُسی دن کا انتظار ہے. “
سیاہل خان نے تلخی سے مسکراتے خانی کو کچھ پل کے لیے خود میں زور سے بھینچتے اُس کے ماتھے پر اپنے پرشدت ہونٹوں کا لمس چھوڑتے آزاد کردیا تھا.
سیاہل خان کے لمس میں موجود شدت خانی کی دھڑکنیں بُری طرح منتشر کرگئی تھی. اُس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا. وہ کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہی تھی. مگر اُس کی الجھنیں سلجھنیں کے بجائے مزید اُلجھ چکی تھیں.
” جانتا ہوں تمہارے دماغ میں میرے حوالے سے بہت سارے سوالات ہیں. آج جاکر اپنی انا بی سے پوچھنا وہ آج تمہارے ہر سوال کا جواب دیں گی.”
جاری ہے
