Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

” کاش کہ سیاہل خان کبھی کسی اور کی پسند کے مطابق چل سکتا. مگر افسوس ایسا نہ کبھی ہوا ہے نہ آگے ہوگا.
خانی اسجد بلوچ تم میری زندگی میں بہت اُونچا مقام رکھنے کے باوجود یہ حق نہیں رکھتی کہ مجھے اپنے قریب آنے سے روک سکو. اُس کے علاوہ جو تم کہوں میں اُس پر غور کرسکتا ہوں. “
سیاہل خان نے خانی کی کلائیوں میں پہنے گجروں کو چھوتے وارن کیا تھا. کہ چاہے خانی اُس سے دور جانے کی جتنی بھی کوشش کرلے. جب تک وہ خود نہیں چاہے گا ایسا نہیں ہوسکتا.
” تم ہر وقت کیوں دھمکیاں دے کر دوسروں کو اپنی بات منانے پر راضی کرتے رہتے ہو. کیا تمہیں بنا دھونس جمائے بات کرنے کی عادت نہیں ہے.”
خانی خود کو اُس کی گرفت سے نکالتے چڑتے ہوئے بولی.
” تم کیوں ہر وقت مجھ سے لڑنے کو تیار رہتی ہو. کبھی پیار سے بھی بات کرلیا کرو سیاہل خان اتنا بُرا بھی نہیں ہے. ٹرسٹ می.”
سیاہل جواب دینے کے بجائے اُلٹا اُسی سے سوال کر گیا تھا. اور ایک بار بھرپور انداز میں خانی کو خود میں بھینچتے سیاہل خان نے اُسے آزاد کردیا تھا.
“کیونکہ تم سے آرام سے بات کرنے پر بھی آگے سے دھمکی ہی ملتی ہے. سیاہل خان مجھے اِس وقت تم پر اتنا غصہ آرہا ہے کہ میں بیان بھی نہیں کرسکتی. اگر میرے بس میں ہوتا تو تمہارا اِس وقت وہ حال کرتی کے تم ساری زندگی یاد رکھتے. تم بہت بُرے, بے حس اور فضول انسان ہو. نہیں کرتے تم مجھ سے محبت. اگر محبت کرتے تو اعتبار بھی ہوتا. یہ جھوٹا دیکھاوا مت کرو.”
خانی کے ہر ہر انداز سے غصہ, بے چینی اور اضطراب جھلک رہا تھا.
جو باتیں سیاہل نے انا بی کو اُسے خود سے دور رکھنے کے لیے کہلوائی تھیں. وہ اب خانی کی تکلیف کا باعث بن رہی تھیں. جو اُسے کسی صورت گوارہ نہیں تھا.
سیاہل خان نے بغور اُس کی جانب دیکھا تھا.
جب تک خانی اِس بات کے پیچھے موجود اصل وجہ سے انجان تھی.اُسے اِس طرح خانی کا اُن باتوں سے ٹارچر ہونا بہت بُرا لگ رہا تھا. سیاہل کبھی کسی بھی قیمت پر خانی کی تکلیف کا باعث نہیں بننا چاہتا تھا. جو وہ جانے انجانے میں کرچکا تھا. آج خانی کی نم آنکھیں سیاہل خان کو اچھا خاصہ بے چین کر گئی تھیں.
وہ خانی اسجد کو بتانا چاہتا تھا کہ وہ اُس کی روح کا حصہ تھی. وہ اُس پر بہت زیادہ یقین کرتا تھا. اور یہ باتیں صرف اُن آگے آنے والے حالات کے لیے پیشن گوئی تھیں. کہ خانی نہ چاہتے ہوئے بھی سیاہل خان کو دھوکہ دے سکتی تھی. اور اگر ایسا ہوا تو سیاہل خان کو واپس پتھر بننے سے کوئی نہیں روک پائے گا.
سیاہل نے آگے بڑھ کر خانی کو دونوں شانوں سے تھام کر اپنے قریب کیا تھا. اور اُس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے اُس کی آنکھوں کے جھانکا تھا.
” خانی جو شخص قدم قدم پر دھوکے اور فریب کا ڈسا گیا ہو. غیروں سے نہیں بلکہ اپنے بہت قریبی رشتوں سے تو اُس کے لیے کسی پر بھی اعتبار کرنا زندگی کا سب سے مشکل کام ہے.
میں نے ماہناز بی بی کو جو باتیں کہیں اُن کا یہ مطلب نہیں تھا. کہ میں خانی سیاہل خان پر اعتبار نہیں کرتا. یا وہ دھوکہ باز ہے. میں نے وہ سب صرف اِس لیے کہا کہ اگر ہم دونوں خاندانوں کی دشمنی خانی کو اُس مقام پر لے آئے جہاں اُسے مجھے اور اپنے خاندان والوں کو چننا ہو. تو مجھے پورا یقین ہے وہ مجھے میری محبت کو بے اعتبار کرکے مجھے چھوڑ دے گی. اور یہی ایک حقیقت مجھے تمہارے قریب آنے سے روکتی ہے. ورنہ ایسا کبھی مت سمجھنا کہ سیایل موسی خان خانی پر بھروسہ نہیں کرتا. اگر اعتبار نہ ہوتا تو تمہیں اُس راز میں کبھی شامل نہ کرتا جو سالوں سے میں نے چھپاکر رکھا ہوا ہے. میں کئی بار بول چکا ہوں. کہ میری زندگی میں سب سے اُونچا مقام, سب سے زیادہ اہمیت خانی سیاہل خان کی ہے. “
خانی بلکل ساکت کھڑی سیاہل خان کا ایک ایک لفظ اپنے دل میں اُترتا محسوس کر رہی تھی. وہ نہیں جانتی تھی کہ سیاہل کن حالات کی بات کررہا ہے. مگر اُسے کہیں نہ کہیں یہ محسوس ہورہا تھا کہ اِس شخص کی اسیری سے بچنا اُس کے لیے اتنا آسان کام نہیں تھا.
آج زندگی میں پہلی بار اُس کا دل اِس انداز میں کسی انسان کے لیے دھڑکا تھا. اور شاید کافی حد تک اُس شخص کی چھا جانے والی شخصیت کے طلسم میں ڈوب چکا تھا.
اُس نے غور کیا تھا کہ جب بھی وہ اُس کا نام خانی اسجد بلوچ لیتا تھا. تو اُس کے انداز میں ایک روکھا پن سا در آتا تھا. جبکہ خانی سیاہل خان کہنے پر اُس کی آنکھوں کی چمک بڑھ جاتی تھی. اور یقیناً یہ اُس کے خاندان سے نفرت کرنے کی وجہ سے ہوتا تھا.
سیاہل خانی کا گال سہلاتے والہانہ نظروں سے اُس کی جانب دیکھ رہا تھا. خانی کی تنے نقوش ڈھیلے پڑتے دیکھ وہ سمجھ گیا تھا کہ اُس کی باتیں پر خانی کو یقین آگیا ہے. سیاہل خان خانی کا چہرا پڑھنے کی صلاحیت رکھتا تھا.
” مجھے لگ رہا ہے کہ جیسے مجھے تم سے دوبارہ پیار ہوگیا ہو. جب بھی تمہیں دیکھتا ہوں. ایسے لگتا ہے میری ویران خزاں رسید زندگی میں ایک خوبصورت بہار آگئی ہو.
ویسے تم اپنا سارا غصہ نکال سکتی ہو مجھ پر. میرا سینہ حاضر ہے. میں جانتا ہوں میں نے تمہیں بہت گھمایا ہے. بہت تنگ کیا ہے. مگر اُس سب پر معذرت میں بلکل بھی نہیں کروں گا. کیونکہ آگے بھی میں ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں. “
سیاہل ڈھٹائی سے مسکراتا خانی کو زہر لگا تھا. اِس بندے نے کتنے دن اُس کا دماغ خراب کیے رکھا تھا. اور اب بنا اُس پر شرمندہ ہوئے. اپنے کی پر فخریہ انداز میں کھڑا تھا.
خانی کے غصے سے پھولے نتھنوں پر سیاہل کو بہت پیار آیا تھا.
” تمہارے سامنے کھڑا ہوں. حشر بگاڑ سکتی ہو. اپنا غصہ اُتارنے کے لیے جو کرنا چاہو. میں حاضر ہوں. “
سیاہل بانہیں پھیلائے سر خم کرتے جیسے خانی کو اپنا آپ سونپتے بولا.
جس پر بنا کوئی لحاظ کیے خانی نے بھی آگے بڑھ کر ایک زور دار مکہ سیاہل کے سینے پر رسید کیا تھا. مگر اگلے ہی لمحے وہ خود بلبلا اُٹھی تھی.
” تم انسان ہو یا فولاد سے بنے ہو. اُف ﷲ جی میرا ہاتھ. “
سیاہل خان کے تو کسرتی وجود کو زرا فرق نہیں پڑا تھا. مگر خانی کا ہاتھ اتنے زور سے اُس کے سینے سے ٹکرانے کی وجہ سے درد کرنے لگا تھا.
سیاہل خان چاہنے کے باوجود اپنا قہقہ روک نہیں پایا تھا.
” سردارنی صاحبہ دھان پان سی تو ہو. کیوں خود سے بڑے کام کرنے کا سوچتی ہو. “
سیاہل نے آگے بڑھتے خانی کا ہاتھ دیکھنا چاہا تھا. جو خانی نے ناراضگی سے پیچھے کی جانب کرلیا تھا. یہی بات سیاہل کو بلکل بھی پسند نہیں آئی تھی.
سیاہل نے خانی کا بازو پکڑ کر اُسے ایک جھٹکے سے اپنی جانب کھینچ کر اُس کے گرد بازو کا حصار قائم کرتے اُس کا ہاتھ تھام لیا تھا.
جبکہ خانی اُس کی جرأت پر تلملا کر رہ گئی تھی. یہ شخص کسی بات میں اُس کی مرضی نہیں چلنے دے رہا تھا.
” سردارنی صاحبہ اپنا حلیہ ٹھیک کرو. ہمیں ابھی کہیں جانا ہے. “
خانی کے ہاتھ پر ہونٹوں کا مرہم رکھتا سیاہل نیا آرڈر جاری کر گیا تھا.
اُس کی شوخ نگاہیں خانی کے بکھرے حلیے پر تھیں. جو اُسی کی کرم نوازی سے ہوا تھا. دوپٹہ بچارہ نیچے لٹک رہا تھا. شال بھی ایک کندھے سے ڈھلک چکی تھی. اور کھلے لمبے بال خانی کے نازک وجود کو ڈھانپے ہوئے تھے.
” چھوڑو مجھے. مجھے اب حویلی واپس جانا ہے. تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانا. تمہارا کیا بھروسہ اغوا کرکے اپنی حویلی لے جاؤ. “
سیاہل خان کی گہری پرشوق نظریں خانی کو کنفیوز کررہی تھیں. اُس کے حصار سے آزاد ہوتے وہ چڑ کر بولی تھی. اُس میں اب ہمت نہیں بچی تھی. مزید تھوڑی دیر بھی اِس شخص کی گہری بولتی نظریں برداشت کرنے کی.
جبکہ اُس کی بات پر سیاہل کا زندگی سے بھرپور قہقہ گونجا تھا.
” اغوا کرنا ہوتا تو بہت پہلے کر چکا ہوتا. پھر بھی اچھا آئیڈیا ہے. کبھی ضرورت پڑنے پر سوچا جاسکتا ہے اِس بارے میں بھی. “
اپنی بات کے ایسے جواب پر خانی کا دل چاہا تھا اپنا ماتھا پیٹ لے.
جب اچانک سیاہل کا فون بجنے پر خانی نے اپنی جان بخشی پر سکون کا سانس لیا تھا.
سیاہل فون کان سے لگاتا ونڈو کے پاس جا کھڑا ہوا تھا.
جبکہ خانی اُس کو دوسری طرف متوجہ دیکھ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جاکر کھڑے ہوتے بال باندھنے لگی تھی.
مگر پھر بھی اُسے گاہے بگاہے سیاہل خان کی نظروں کی تپیش خود پر محسوس ہوتی تو اُس کے ہاتھ کانپ جاتے.
” چلیں. “
سیاہل فون بند کرکے خانی کے پاس آتا اُسے بنا بولنے کا موقع دیئے ہاتھ تھام کر باہر نکل آیا تھا.
” مجھے کہیں نہیں جانا چھوڑو مجھے. شہرام کو بلاؤ مجھے جانا ہے اُس کے ساتھ واپس.”
خانی مسلسل اُس سے اپنا ہاتھ چھوڑوانے کی کوشش کرتی ساتھ چلی آرہی تھی. جب ایکدم سیاہل اپنے قدم روکتے خانی کی جانب مُڑا تھا.
” شہرام اور نگار کچھ ٹائم پہلے ہی کراچی کے لیے نکل چکے ہیں. تم فکر مت کرو اِس وقت تم سب سے زیادہ محفوظ پناہ گاہ میں ہو. تمہیں بحفاظت تمہاری حویلی پہنچا دیا جائے گا. مگر اُس سے پہلے اپنی زندگی کے کچھ بہت خاص لوگوں سے ملوانا چاہتا ہوں میں اپنی سردارنی کو. “
نگار کے ذکر پر خانی کو اُس کی ریکویسٹ یاد آئی تھی.
” کیا تم نگار کی غلطی معاف کرسکتے ہو. اُسے اپنی غلطی کا احساس ہوچکا ہے. اور اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہے وہ. “
خانی کی بات پر سیاہل کی آنکھوں میں غصے کی شدید لہر دوڑ گئی تھی.
” ایک بہن نہیں بلکہ بیٹی کی طرح سینے سے لگا کر پالا ہے میں نے اُسے. مگر اُس نے صرف ایک عمل سے میرے مان, بھروسہ, یقین کی دھجیاں اڑا دیں. معاف تو اُسے اُس دن ہی کرچکا تھا. جس دن شہرام سے اُس کے نکاح کا فیصلہ کیا تھا. مگر اتنی جلدی واپس اُسے پہلے والا مقام دینا میرے لیے اتنا آسان نہیں ہوگا. “
خانی کو بات کرنے کے دوران سیاہل کی آنکھوں میں ایک عجیب سا درد نظر آیا تھا. جسے وہ بہت ہی مہارت سے چھپاتا چہرا موڑ گیا تھا. شاید ابھی وہ خانی کو اپنے درد بتانے کے قابل نہیں سمجھتا تھا. خانی یہی اندازہ کر پائی تھی.
سیاہل خان بات ختم کرتا اُسی طرح خانی کا ہاتھ تھامے باہر کی جانب بڑھ گیا تھا.
” ایک منٹ رکو یہ, یہ کیا پلیز مجھے اِن پر نہیں چلنا. “
ہال کے دروازے سے باہر رکھتے ہی خانی کی ہلکی سی چیخ برآمد ہوئی تھی. کیونکہ باہر کی زمین عجیب و غریب قسم کے لاتعداد کیڑوں سے بھری ہوئی تھی. وہاں پاؤں رکھنے کی بھی جگہ نہیں تھی. شاید یہ یہاں اردگرد جنگلات اور بہت زیادہ گھاس ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں پائے جاتے تھے.
” چچ چچ مجھے نہیں پتا تھا. میری بیوی اتنی ڈرپوک ہے. “
خانی کی ڈری شکل دیکھ سیاہل نے بنا ایک منٹ ضائع کیے خانی کو اپنی بانہوں میں اُٹھا لیا تھا. جس پر خانی بھونچکا کر رہ گئی تھی.
سیاہل خانی کو بانہوں میں بھرے گاڑی کی جانب بڑھا تھا.
جو جگہ آتے وقت ملازمین سے بھری ہوئی تھی. وہاں اِس وقت کوئی بھی موجود نہیں تھا. شاید اُنہیں پہلے ہی یہاں سے ہٹا دیا گیا تھا.
خانی کو بہت ہی نرمی سے فرنٹ سیٹ پر بیٹھاتے سیاہل خان خود ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا تھا.
” یہ کیا تھا. سیاہل خان میرے ساتھ زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے. “
خانی کے دل سے سیاہل خان کے لیے غصہ ختم ہوچکا تھا. مگر وہ ابھی اتنی جلدی اِس بات کا اقرار نہیں کرنا چاہتی تھی.
اِس مغرور شخص نے اُسے جتنا تنگ کیا تھا. اُسے اِس بات کا بدلہ بھی تو لینا تھا.
” تم مجھے چیلنج کررہی ہو. “
گاڑی سٹارٹ کرتا سیاہل ایک دم خانی کی جانب پلٹا تھا. اُس کے تاثرات ایسے تھے. جیسے اُس نے خانی کی بات بہت سیریس لی ہو.
” نہیں میں پاگل نہیں ہوں. ایسے چیلنچ میں نہیں کرتی جسٹ وارن کررہی ہوں. “
خانی نامحسوس انداز میں دروازے کے قریب ہوتی اُسے گھورتے ہوئے بولی. جس نے قسم کھا رکھی تھی اُس کی کوئی بات بھی سیریس نہیں لے گا.
جبکہ اُس کا یوں خفگی دیکھانا سیاہل کو بہت مزا دے گیا تھا.
” ایک تو خود ایسی حرکتیں کرتی ہو. اُوپر سے پیار کرنے پر بھی غصہ کرتی ہو. “
خانی کی حرکت پر چوٹ کرتے خود کو کوئی بھی گستاخی کرنے سے باز رکھتے سیاہل نے گاڑی سٹارٹ کردی تھی.
جبکہ خانی اُسے ڈرائیونگ کی جانب متوجہ دیکھ سکون کا سانس لے کر باہر کے خوبصورت نظارے دیکھنے لگی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤

سیاہل خانی کو ایک بہت ہی خوبصورت وادی میں لے آیا تھا. رات ہوچکی تھی. اور وہاں رات کا منظر بہت ہی دلفریب اور رومانوی تھا.
خانی کے چہرے پر پھیلتی زندگی سے بھرپور مسکان سیاہل کو اندر تک سرشار کر گئی تھی. وہ ویسے ہی نئی نئی جگہیں دیکھنے کی دیوانی تھی. اور یہ جگہ تو اُسے یہاں کا سب سے خوبصورت حصہ لگا تھا.
سڑک کے ایک طرف نہر کا پانی بہہ رہا تھا. جس کے کناروں پر لگی روشنیاں رات کے وقت اُس کی دلکشی میں اضافہ کررہی تھی. جبکہ دوسری طرف خوبصورت پہاڑی سلسلہ ختم ہوکر اب آبادی شروع ہوچکی تھی.
پہاڑ اور نہر کے درمیان چھوٹے چھوٹے مگر انتہائی خوبصورت مکان موجود تھے.
” واؤ کتنی پیاری اور پرسکون جگہ ہے یہ.”
خانی کب سے خود پر کنٹرول کرتی آخر ایکسائٹمنٹ کے مارے بول ہی پڑی تھی.
سیاہل نے گاڑی سڑک کے کنارے ایک طرف روک دی تھی. جہاں کچھ فاصلے پر مکانوں کے باہر کچھ لوگ شاید اُنہیں کے استقبال میں کھڑے تھے.
گاڑی کے رکتے ہی اُن میں سے کچھ نے احتراماً آگے بڑھتے سیاہل کی طرف کا دروازہ کھول دیا تھا.
جبکہ سیاہل نے نیچے اُترتے سب سے پہلے خانی کی جانب جاتے اُس کی سائیڈ کا دروازہ کھول کر اُسے نیچے اُتارا تھا. وہاں موجود سب لوگوں کی رشک بھری نظریں خانی پر پڑی تھیں.
خانی کو ساتھ لیے سیاہل چہروں پر خوشی اور محبت کے جذبات لیے کھڑے اپنے لوگوں کی طرف بڑھ گیا تھا.
” ماشاءﷲ آج تو ہمارے غریب خانے کی شان بڑھا دی سردار سائیں آپ نے. بہت پیاری جوڑی ہے. ﷲ اِس جوڑی کو ہمیشہ سلامت رکھے. اور ہر قسم کی نظر بد سے بچائے. سردار سائیں سردارنی جی تو ہماری سوچ سے بھی زیادہ پیاری ہیں.”
مختلف آوازیں خانی کے کانوں میں پڑتیں اُس کے اندر عجیب سی فیلنگز پیدا کررہی تھیں. پہلی دفعہ اُسے سرعام سیاہل خان کے حوالے سے پکارا جارہا تھا.
وہاں اُس گاؤں کے بہت سے لوگ جمع تھے. اور جس قدر محبت اور خلوص سے خانی سے ملے تھے اور اُسے ویلکم کیا تھا. خانی کے چہرے سے مسکراہٹ ہٹ ہی نہیں رہی تھی.
وہاں موجود سب خواتین اُسے ایسے ٹریٹ کررہی تھیں. جیسے وہ آسمان سے اُتری کوئی نازک پری ہو. مگر جو بھی تھا سردارنی کہنے پر جہاں وہ سیاہل خان پر چڑھ جاتی تھی. اِس وقت اُسے اپنے لیے یہ نام سن کر بہت اچھا لگ رہا تھا.
اُنہوں نے بیٹھنے کا انتظام باہر ہی کیا ہوا تھا. جہاں ایک طرف خواتین جبکہ دوسری طرف مرد بیٹھے ہوئے تھے. خانی کو اُن سب کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ جیسے اُنہیں پہلے سے معلوم ہو کہ وہ دونوں یہاں آنے والے ہیں. جلد ہی اُسے اِس بات کا جواب مل بھی گیا تھا.
” سردارنی جی آپ جانتی ہیں. سردار سائیں یہاں ہر مہینے آتے ہیں. اور ہر بار ہم لوگوں کی یہی فرمائش ہوتی تھی کہ ہمیں ہماری سردارنی جی سے ملنا ہے. سردار سائیں ہمیں ہمیشہ کچھ نہ کچھ کہہ کر ٹال دیتے تھے. اُنہوں نے ہمیں بتایا تھا کہ آپ شاید کراچی میں پڑھ رہی ہیں. اِس لیے نہیں آسکتیں. ہم سب کی بہت خواہش تھی. اُس خوش قسمت لڑکی سے ملنے کی جو سردار سیاہل موسیٰ خان کی بیوی ہے. اور آج جب صبح ہمیں خبر ملی کہ آج آپ لوگ آرہے ہیں تو آپ سوچ بھی نہیں سکتیں. ہم سب کتنے خوش تھے. آپ بہت اچھی اور پیاری ہیں. ہمارے سردار سائیں کے ساتھ بہت سوٹ کرتی ہیں. “
وہاں موجود خواتین کے اپنے بارے میں ایسے اشتیاق انگیز خیالات پر خانی مسکرائے بنا نہ رہ سکی تھی. بلوچستان میں اُس کے خاندان کے علاوہ شاید ہی ایسا کوئی انسان تھا جو اِس شخص کا دیوانہ نہ ہو.
” لگتا ہے بہت پیار ہے اِس گاؤں والوں کو اپنے سردار سے. “
خانی نے کچھ فاصلے پر بیٹھے سیاہل خان کی جانب دیکھتے اُن سے سوال کیا تھا.
وہاں اسپیشل سیاہل خان کے لیے اُنہوں نے صوفہ ارینج کرکے رکھا ہوا تھا. مگر سیاہل نے اُس پر بیٹھنے کے بجائے اُن سب لوگوں کے ساتھ وہاں بچھی چارپائیوں پر بیٹھنے کو ترجیح دی تھی.
چارپائی پر رکھے گھاؤ تکیے سے ٹیک لگائے وہ بڑے ہی آرام دہ انداز میں بیٹھا ہمیشہ کی طرح بہت شاندار لگ رہا تھا.
خانی نے نوٹ کیا تھا کہ وہ کبھی کبھی کسی بات پر مسکرا بھی دیتا تھا. مگر یہ وہ مسکراہٹ نہیں تھی. جو خاص خانی کے لیے مختص تھی.
وہ بہت ہی عاجزی سے اُن کے درمیان بیٹھا چاندی کے خوبصورت سے گلاس میں اُن کی طرف سے پیش کیا گیا گرم دودھ پی رہا تھا.
اِس وقت خانی کا بلکل بھی دل نہیں چاہ رہا تھا سیاہل خان سے نظریں ہٹانے کا.
مگر وہ اُس سے نظریں ہٹاتی خواتین کی بتائی جانے والی باتوں کی طرف متوجہ ہوئی تھی.
” کچھ سال پہلے آنے والے سیلاب میں ہمارا پورا گاؤں بہہ گیا تھا. ہمارے گھر مال مویشی کچھ بھی نہیں بچا تھا. اُس مشکل گھڑی میں سردار سائیں نے ہماری بہت مدد کی. یہ ساری جگہ اُنہیں کی ملکیت تھی. اُنہوں نے نا صرف ہمیں جگہ دی بلکہ اِس پر یہ سارے مکانات بھی تعمیر کروا کر دیئے. اِس گاؤں کا ہر شخص اُن کے لیے بہت محبت اور عقیدت رکھتا ہے. اُن کی خاطر ہم لوگ کچھ بھی کرسکتے ہیں. اور آپ جانتی ہیں. وہ جب بھی پریشان ہوتے ہیں. تو ذہنی سکون کی خاطر یہیں آتے ہیں. “
اُن عورتوں کی بات پر خانی نے بے اختیار سیاہل خان کی جانب دیکھا تھا. مگر اُسے اپنی جگہ پر بیٹھا نہ پاکر خانی کی نظریں لاشعوری طور پر اُسے ڈھونڈنے لگی تھیں.
مگر سیاہل خان وہاں بیٹھے لوگوں میں کہیں بھی موجود نہیں تھا. اُسے وہاں نہ پاکر خانی کی تلاشتی آنکھوں میں فکرمندی سی اُبھری تھی. وہ اُسے یہاں اِن لوگوں میں چھوڑ کر خود کہاں چلا گیا تھا.
اِس سے پہلے کہ خانی اُن میں سے کسی سے کچھ پوچھتی اُس کی نظر گاڑی سے کچھ فاصلے پر کھڑے سیاہل خان پر پڑی تھی.
جو فون پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ خانی کی جانب بھی دیکھ رہا تھا. دونوں کی نظریں ملنے پر خانی اپنی چوری پکڑے جانے پر جزبز سی ہوئی تھی. اُس کے چہرے پر موجود محظوظ کن مسکراہٹ صاف بتا رہی تھی کہ وہ اُسے اپنے لیے فکرمند ہوتا دیکھ چکا ہے.
اِس سے پہلے کہ خانی نظروں کا زاویہ بدلتی سیاہل نے آنکھوں کے اشارے سے سب ٹھیک ہونے کا پوچھا تھا. جس پر خانی بہت ہی فرمانبرداری سے سر اثبات میں ہلاتی جواب دے گئی تھی.
اِن لوگوں کی باتیں سن کر خانی کے دل میں سیاہل خان کی عزت کئی گنا بڑھ چکی تھی. اُس نے سیاہل خان کو جیسا انسان سمجھا تھا. وہ اُس کے بلکل اُلٹ نکلا تھا.
خانی نا چاہتے ہوئے بھی سیاہل خان کے بارے میں سوچنے لگی تھی. اور ایسا کرتے نجانے کیوں اُسے بہت اچھا لگ رہا تھا.
اِس شخص کا ہر روپ ہی مقابل کو اپنا گرویدہ بنا دیتا تھا. چاہے وہ اگنور کرنا ہو, غصے بھرا جلالی انداز ہو یا کچھ دھمکاتا وارن کرتا لہجہ ہو یا پھر شوخی سے چھیڑتا مذاق اُڑاتا, محبت جتاتا اور کیئر سے بھرپور اپنا بناتا سب سے منفرد اور پیارا رُوپ. سیاہل خان ہر وقت مقابل کو اپنے آگے چاروں شانے چت گرانے کو تیار رہتا تھا.
اور ہر بار خود کو اُس کے وار سے بچانے والی خانی کے انداز اِس بار کافی بدلے بدلے لگ رہے تھے. جنہیں خانی جان کر بھی انجان بننے کی کوشش کرتے اگنور کیے جارہی تھی.
مگر زیرک نگاہ رکھنے والے سیاہل خان سے یہ سب بلکل بھی پوشیدہ نہیں رہ سکا تھا. وہ خانی کو اِس بارے میں کچھ بھی نہیں بولنا چاہتا تھا.
بہت اچھا وقت گزار کر وہ دونوں اُس حسین وادی سے لوٹ آئے تھے. آتے وقت وہاں کی عورتوں نے خانی سے دوبارہ آنے کا وعدہ بھی لیا تھا.
خانی کو سیاہل خضدار کی بیرونی حدود تک خود چھوڑنے گیا تھا. جس سے آگے اُسے حویلی کے ایک ڈرائیور کے بھیس میں ملبوس سیاہل کے آدمی نے حویلی تک لے کر جانا تھا.
شہرام نے گھر والوں کو یہی بتایا تھا کہ وہ خانی کو اپنے کسی دوست کی شادی میں ساتھ لے کر آیا ہے. اور اب اچانک کوئی ضروری کام آجانے کی وجہ سے اُسے شہر جانا پڑا تھا. اسی لیے حویلی سے شہرام کے بلائے گئے ڈرائیور جو کہ حقیقت میں سیاہل خان کا آدمی تھا نے خانی کو حویلی تک لے کر جانا تھا. اُس کے ساتھ سیکیورٹی گارڈز بھی موجود تھے.
خانی کو گاڑی میں بیٹھانے سے پہلے سیاہل کے دل کو اچانک کیا ہوا تھا کہ خانی کو اپنے سینے میں بھینچتے اُسے اپنی ذات کا احساس بخش گیا تھا.
” اپنا خیال رکھنا. تم اُس حویلی میں بلکل سیف ہو. میرے بہت سے لوگ ہر وقت تمہارے آس پاس موجود ہیں. لیکن پھر بھی اگر کوئی مسئلہ ہو تو میرے اِس نمبر پر کانٹکیٹ کرنا. یہ تمہارے لیے ہمیشہ آن رہے گا.
میری ایک بات یاد رکھنا. اُس حویلی میں انا بی کے علاوہ کسی پر بھی بھروسہ مت کرنا. تم میرے لیے بہت قیمتی ہو. اگر تم پر آنچ بھی آئی تو میں اُس حویلی کو آگ لگا دوں گا. “
خانی کی خوشبو اپنی سانسوں میں اُتارتے سیاہل خان کا ایک ایک لفظ اُس کی دیوانگی کی گواہی دے رہا تھا.
خانی کتنے لمحے تو سیاہل خان کی مضبوط پناہ گاہ میں ہل بھی نہیں پائی تھی. سیاہل کی پر شدت زندگی سے بھرپور لمس خانی کو کسی اور ہی دنیا میں پہنچا گئی تھی.
” تھینکس مجھے نہ پاکر میرے لئے فکرمند ہوکر مجھے اپنے آس پاس تلاشنے کے لیے. وہ لمحہ میرے لیے بہت خاص تھا. “
خانی کے ماتھے پر بوسہ دیتے سیاہل خان اُس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولتا واپس پلٹ گیا تھا.
جبکہ بے جان قدموں سے گاڑی میں بیٹھتی خانی کو لگا تھا کہ جیسے جاتے جاتے وہ شخص اُس کا دل بھی اپنے ساتھ لے گیا ہو.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” انا بی انا بی کہاں ہیں آپ. “
خانی انا بی کو ڈھونڈتی اُن کے کمرے میں داخل ہوئی تھی. مگر وہاں کا منظر اُسے شاک کرنے کے لیے کافی تھا.
وہاں ایک لڑکی چادر میں خود کو چھپائے گھٹنوں میں سر دیے فرش پر بیٹھی بُری طرح سسک رہی تھی.
” انا بی یہ کون ہے. اور اِس بُری طرح سے رو کیوں رہی ہے. کیا ہوا ہے اِسے.”
خانی اُس لڑکی کی جانب فکرمندی سے دیکھتی انا بی سے مخاطب ہوئی تھی.
” یہ بچاری ذوالفقار سائیں کے بھتیجے کے خون بہا میں آئی ہے. ابھی تھوڑی دیر بعد ارباز سائیں سے نکاح ہے اِس کا.”
انا بی نے جیسے خانی کہ سر پر بم پھوڑا تھا.
” واٹ یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ. ایسا کیسے ہوسکتا ہے. ارباز کی تو پہلے سے ہی شادی ہوچکی ہے. “
خانی کی ہمدردی بھری نظریں اُس قدمی رنگت مگر بے حد پرکشش نقوش والی لڑکی پر تھیں.
” اِسے کونسا وہ درجہ دیا جائے گا. “
انا بی بھی جیسے دکھ کی انتہا پر تھیں.
” مگر ارباز سے ہی کیوں. باقی کسی سے کیوں نہیں. “
خانی اِس لڑکی کی خاطر کچھ کرنا چاہتی تھی جب اُس کے دماغ میں اچانک ایک بلب روشن ہوا تھا.
یہاں کچھ دن رہ کر وہ اتنا تو سمجھ گئی تھی. کہ ارباز کے علاوہ اُس کے باقی کزنز بھی کسی حد تک شہرام اور میران کی نیچر کے تھے. اگر اِس لڑکی کا نکاح اُن میں سے کسی سے ہوجاتا تو یہ بہت حد تک ظلم سہنے سے بچ سکتی تھی.
” کوئی اور اِس سب میں دلچسپی نہیں رکھتا.”
انا بی کا جواب سنتے خانی اُس کمرے سے نکل آئی تھی. اُسے جو بھی کرنا تھا. جلد از جلد کرنا تھا.
اُس کا رُخ میران کے کمرے کی جانب تھا. ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ملازمہ سے اُسے پتا چلا تھا کہ میران واپس آچکا ہے. مگر وہ ناراضگی کی وجہ سے اُس سے ملنے نہیں گئی تھی. لیکن اِس وقت ساری ناراضگی بھلائے وہ میران سے مل کر اُسے راضی کرنا چاہتی تھی. کہ وہ اِس لڑکی کو اِس ظلم سے بچا کر اپنے نکاح میں لے لے.

جاری ہے…..