No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
” سیاہل خان تم سے بڑا ڈرامے باز انسان میں نے آج تک نہیں دیکھا. اگر تم جاگ رہے تھے تو پہلے کیوں نہیں بتایا. “
خانی اپنی خجالت چھپانے کی کوشش کرتے سیاہل کو گھورتے ہوئے بولی. مگر سیاہل خان کی شوخی بھری نظروں نے زیادہ دیر اُسے ایسا نہیں کرنے دیا تھا. وہ گھبرا کر فوراً نگاہیں موڑ گئی تھی.
” اگر جاگ جاتا تو یہ کیسے پتا چلتا. کوئی مجھ سے بہت محبت کرتا ہے. میری فکر میں کس قدر پاگل ہورہا ہے. اور وہ یہاں پر جو….. “
سیاہل خانی کو چھیڑتے ماتھے کی جانب اشارہ کرتے مزید کچھ بولنے ہی والا تھا. جب خانی نے ہاتھ اُٹھا کر اُسے روک دیا تھا.
” سیاہل خان مجھے لگتا ہے. آپ بہت گہری نیند میں کوئی خواب دیکھ رہے تھے. ایسا کچھ نہیں ہوا. “
خانی نے دل ہی دل میں اپنی بے اختیاری پر خود کو کوسا تھا. پہلے سیاہل خان سے سامنا کرنا کوئی آسان کام تھا. جو اب دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر یہ حرکت بھی کر دی تھی.
” کیسا کچھ نہیں ہوا. میں نے تو کچھ کہا ہی نہیں. کیا واقعی کچھ ہوا ہے. “
سیاہل خان کی بات پر خانی نے تپ کر اُس کی طرف دیکھا تھا. بات گھمانہ تو کوئی سیاہل خان سے سیکھے.
” جب میں نے منع کیا تھا تو یہاں کیوں آئی. اگر کوئی دیکھ لیتا تو. “
سیاہل خان کی پرشوق نظریں خانی کے دلکش سراپے پر تھیں. جو دور کھڑی اُس کے جذبات کا اچھا خاصہ امتحان لے رہی تھی.
نازک پیشانی پر سجی بھاری ماتھا پٹی سیاہل خان کے دل پر بجلیاں گرا رہی تھی. پنز کی مدد سے سیٹ کیا گیا بھاری کامدار دوپٹہ خانی کے ہاتھوں سے بار بار پھسل کر کندھوں پر ڈھلک رہا تھا. جسے سنبھالنے میں وہ الگ ہلکان ہوتی خانی پر سیاہل خان کو ٹوٹ کر پیار آیا تھا.
سیاہل خان سب کو بتانا چاہتا تھا کتنی اہم تھی یہ لڑکی اُس کے لیے. وہ اِس کے ساتھ اپنی زندگی کا ہر لمحہ گزارنا چاہتا تھا. یہ لڑکی اُس کی چاہت, محبت, دیوانگی, جنون اور دل کا سرور تھی. جس سے دور کرنے کے لیے نجانے کتنی بار اُسکا بھائی سیاہل پر قاتلانہ حملے کروا چکا تھا. سیاہل خان کے بہت سارے آدمی بلوچ حویلی میں اُس کے لیے کام کررہے تھے. اگر وہ چاہتا تو ایک ہی بار میں میران کو ختم کروا سکتا تھا. مگر یہاں بھی خانی سے اُس کے دل کا قریبی رشتہ چھیننے کا سوچتے سیاہل ہر بار بے بس ہوجاتا تھا.
” کیوں نہیں آسکتی میں یہاں. سیاہل خان کی حویلی پر میرا کوئی حق نہیں ہے کیا. “
خانی نے خفگی بھرے تاثرات سے سیاہل کی جانب دیکھا تھا.
خانی کے دوآتشہ سادگی بھرے حُسن کے جال سے بہت مشکل سے باہر آتے سیاہل اُس کی باتوں کی جانب متوجہ ہوا تھا.
اُس کے الفاظ سیاہل کے ہونٹوں پر وہی مقابل کو اپنا آثیر کردینے والی مسکراہٹ بکھیر گئے تھے.
اگر خانی کو پتا چل جاتا کہ اُس کا یوں استحقاق جتانا سیاہل کے پہلے سے بھڑکتے احساسات اور جذبات پر تیل چھڑکنے کا کام کرگیا ہے. تو وہ ایسا کبھی نا بولتی.
” ویری نائس تو مطلب تم دل سے تسلیم کرچکی ہو اِس رشتے کو. اگر مجھے اِس بات کا زرا بھی اندازہ ہوتا تو میں بہت پہلے ہی گولیاں کھا لیتا. “
سیاہل خان کے خوشی بھرے مسکراتے لہجے پر خانی نے تڑپ کر اُسکی جانب دیکھا تھا. جیسے اُسے سیاہل خان کی بات بلکل بھی پسند نہ آئی ہو.
” یار اتنے دور کیوں کھڑی ہو. زرا پاس آکر اپنی موجودگی کا احساس تو دلاؤ. پہلے تو میں سورہا تھا. کچھ محسوس ہی نہیں کرپایا. “
سیاہل خان نے ہاتھ بڑھا کر خانی کو اپنے پاس بلایا تھا. سیاہل خان کی ذومعنی بات خانی کو سر سے پیر تک سرخ کرگئی تھی.
” مجھے اب واپس جانا ہے. میں یہاں ایک ملازمہ بن کر آئی ہوں. اور ملازمہ کا زیادہ دیر یہاں رُکنا ٹھیک نہیں ہے. “
خانی سے اُس کی شوخ نظریں برداشت کرنا انتہائی مشکل ہورہا تھا.
سیاہل کی جذبے لُٹاتی نظروں پر خانی کا شرمایا گھبرایا رُوپ دیکھ اُس کے عنابی گداز لبوں پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ رینگنے لگی تھی.
” اچھا تو وہ کام تو پورا کر کے جاؤ. جو ملازمہ کرنے آئی تھی .”
سیاہل کی مسکراتی آنکھوں کی شوخی ابھی بھی برقرار تھی. مہرون رنگ میں خانی کی سفید رنگت مزید نکھری اور رُخسار سے چھلکتا گلال اُسے مزید دیوانہ بنا گیا تھا.
وہ اِس بلوچی لباس میں اتنی حسین لگ رہی تھی. کہ سیاہل کا اُس پر سے نظر ہٹانے کا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا.
وہ جانتا تھا.خانی آرام سے تو اُس کے قریب آئے گی نہیں. اِس لیے اب اُسے اپنے طریقے سے ہی اُسے پاس بلانا تھا.
” کونسا کام. “
خانی نے سیاہل خان کے انداز پر مشکوک نظروں سے اُسے گھورا تھا.
جس پر سیاہل قہقہ لگائے بغیر نہیں رہ پایا تھا.
” سوپ پلانے والا کام. میری شکی سردانی. “
سیاہل نے اس کے ٹیبل کے پاس رکھے گئے سوپ کی جانب اشارہ کیا تھا.
جسے یاد آتے ہی خانی جلدی سے اُس کی جانب بڑھی تھی. اور سوپ لے کر سیاہل کے بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا تھا.
” سردارنی صاحبہ میں مریض ہوں. خود نہیں اُٹھ سکتا نہ ہی ایک ہاتھ سے سوپ پی سکتا ہوں. “
خانی کے سوپ پاس رکھ کر دور ہوجانے پر چوٹ کرتے سیاہل نے اُسے احساس دلایا تھا.
سیاہل بیڈ پر چت لیٹا تھا. اب سوپ پلانے کے لیے اُسے تکیوں کے سہارے سیدھا بیٹھانا تھا. جس کے لیے خانی کو اُس کے بہت قریب جانا پڑتا. اُس سے اتنی قربت کا سوچ کر ہی خانی کے پسینے چھوٹ چکے تھے.
” میں کیسے اُٹھا سکتی ہوں. میں باہر سے بلاتی ہوں کسی کو. اُف میرے خدا میں بھلا باہر کیسے جاسکتی ہوں. “
خانی نے باہر کی طرف قدم بڑھائے تھے. مگر پھر اپنے یہاں چھپ کر آنے کا خیال آنے پر وہ وہی رک گئی تھی. خانی اچھی خاصی بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی تھی. وہ یہاں صرف سیاہل خان کو ایک نظر دیکھنے آئی تھی. مگر شاید آنے سے پہلے یہ بھول چکی تھی کہ آگے اُس کا پالا سیاہل خان سے پڑنا تھا. جو اُسے اتنی آسانی سے چھوڑنے والا بلکل بھی نہیں تھا.
سیاہل بڑے ہی سکون سے لیٹا اپنی سردارنی کی غیر ہوتی حالت سے مزے لے رہا تھا.
اِس لڑکی کی تھوڑی دیر کی قربت سیاہل خان کے دل کی راحت اور سکون کا باعث تھی. وہ خانی کے نزدیک ہوتے ہی ہر شے بھول جاتا تھا.
اگر اُسے آپشن دیا جاتا کہ ایک طرف پوری دنیا جبکہ دوسری طرف خانی اسجد بلوچ ہے کس کے ساتھ وہ پوری زندگی گزار سکتا ہے. تو بنا سوچے بنا کسی ڈاؤٹ کے وہ سیدھا خانی اسجد بلوچ کا انتخاب کرتا. جس کے بغیر شاید اب اُس کا گزارا نہیں تھا.
وہ چاہتا تھا یہ خوشبو جیسی لڑکی ہر وقت اُس کے آس پاس مہکتی رہے.
” دیکھو سیاہل خان میں تمہاری ہیلپ کرنے کو تیار ہوں. لیکن اگر تم نے زرا سی بھی کوئی اُلٹی سیدھی حرکت کی تو میں تمہارے زخموں کی پرواہ کیے بغیر تمہیں وہیں چھوڑ دوں گی. “
خانی نے اور کوئی راہ نہ ملتے آخر ہار مان لی تھی. مگر پھر بھی وہ سیاہل خان کو وارن کرنا نہیں بھولی تھی.
جس انداز میں خانی سیاہل سے بات کرتی تھی. اِس انداز میں تو کبھی بی بی سائیں نے بھی نہیں کی تھی. اور نہ ہی کسی اور کو اجازت تھی. سیاہل خان کے ساتھ زرا سے بھی تیز لہجے میں بات کرنے کی. مگر خانی اسجد بلوچ کو تو جیسے ہر حق حاصل تھا.
اگر خانی ایک بار بھی سیاہل کا غصہ دیکھ لیتی تو جان پاتی کے سب لوگ اُس سے اتنا کیوں ڈرتے ہیں. لیکن ابھی تک تو وہ اُس کے غصے کے ایک پرسنٹ سے بھی واقف نہیں تھی.
” اوکے ڈن.”
سیاہل کے چہرے کے مصنوعی تاثرات سے صاف ظاہر تھا کہ اُس پر کس حد تک خانی کی بات کا اثر ہوا ہے.
خانی بےقابو ہوتے دل کے ساتھ سیاہل کے قریب آئی تھی.
سیاہل کی جانب بڑھتے اُس کے ہاتھ ہولے ہولے لرز رہے تھے. اُس کی سُرخی مائل رنگت سیاہل کے جذبات کو اچھا خاصہ چھیڑ گئی تھی. مگر اِس وقت خانی کی قابلے رحم حالت کی وجہ سے اس نے بہت مشکل سے خود کو کوئی گستاخی کرنے سے روک رکھا تھا.
خانی نے ایک گز کا فاصلہ رکھتے دور سے ہی سیاہل کے بازو کو اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے تھامتے اُسے سہارا دے کر اُٹھانا چاہا تھا.
” سردارنی صاحبہ میرا یہ کندھا زخمی ہے. میں ہل نہیں سکتا. جتنی دور آپ کھڑی ہیں. وہاں سے تو یہ سب کرنا ناممکن ہے. “
خانی کے اِس قدر گھبرانے پر اُس نے ہونٹوں کو سختی سے آپس میں پیوست کرتے اپنی بے ساختہ اُمڈ آنے والی ہنسی کو روکا تھا.
ہر وقت بلکل کسی شیرنی کی طرح اُس سے لڑنے کو تیار اُس کی نزدیکی پر ایسے ہی بھیگی بلی بن جاتی تھی.
” تم بعد میں پی لینا نا سوپ. “
خانی نے بیچارگی سے سیاہل کی جانب دیکھا تھا. یہ سب اُس کے لیے جان لیوا ثابت ہورہا تھا.
” مجھے ابھی سوپ پی کر میڈیسن لینی ہے. اور اگر تم اِس طرح کھڑی سوچتی رہو گی. تو میری میڈیسن کا ٹائم لیٹ ہوجائے گا. “
سیاہل خانی کو تنگ کرنے کا اتنا اچھا موقع جانے نہیں دینا چاہتا تھا. اُسے خانی کا یہ گھبرایا شرمایا رُوپ مزا دے رہا تھا.
خانی سیاہل خان کی بولتی نگاہوں کی وجہ سے اِس قدر کنفیوز ہورہی تھی. کہ اُس کی آنکھوں میں چمکتی شرارت نہیں دیکھ پائی تھی.
سیاہل کی میڈیسن کا سن کر خانی بہت مشکل سے تیز ہوتی سانسوں اور دھڑکتے دل کے ساتھ اُس کے قریب آئی تھی.
وہ سیاہل کی جانب دیکھنے سے صاف گریز برت رہی تھی. خانی سمجھ گئی تھی جب تک وہ سیاہل کے قریب نہیں ہوگی. اُسے اُٹھانے میں سہی سے ہیلپ نہیں کرسکتی.
خانی نے مزید قریب ہوتے سیاہل کے کندھے کے گرد اپنی نازک بانہوں کو حصار بناتے اُسے سہارا دیا تھا. اِس چکر میں وہ سیاہل خان کے انتہائی قریب آچکی تھی. سیاہل کی خوشبو اُس کے نتھنوں میں گھستی اُسے اپنے سحر میں جکڑ رہی تھی.
خانی کی نازک بانہیں سیاہل خان جیسے باڈی بلڈر کو سہارا دینے کی کوشش کررہی تھیں. سیاہل خان اس منظر پر بے ساختہ اُمڈ آنے والے قہقہے کو بہت مشکل سے دانتوں تلے دبا گیا تھا.
وہ سیاہل کے اُوپر تقریباً جھکی ہوئی تھی. سیاہل کی گرم سانسیں خانی کو اپنے چہرے پر محسوس ہورہی تھیں. خانی سیاہل کی جانب دیکھنے سے مکمل گریزاں تھی. مگر اُسکی پرتپیشں لوح دیتی نظروں کا ارتکاز خانی کی سانسوں میں انتشار برپا کررہا تھا. اُس کا دل چاہ رہا تھا کہ یا وہ یہاں سے غائب ہوجائے یا سیاہل خان کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دے.
” سیاہل خان یہ جو تم کررہے ہو مجھے سب سمجھ آرہا ہے. “
خانی کے لئے ایک پہاڑ جیسے شخص کو سہارا دینا آسان کام بلکل بھی نہیں تھا. اِس لیے اُس کا خیال کرتے سیاہل نے بہت کم وزن اُس پر ڈالا تھا. جس سے وہ سیاہل کو کافی حد تک سیدھا کرنے میں کامیاب ہوچکی تھی. مگر اچانک سیاہل کو نجانے کیا شرارت سوجھی اُس نے اپنا سارا وزن خانی کے ناتواں بازوؤں پر ڈالتے اُسے چلانے پر مجبور کردیا تھا.
سیاہل خان تکیوں کے سہارے سیدھا ہوکر بیٹھ چکا تھا. اور اُس کی حرکت کی وجہ سے خانی کا سیاہل کے کندھے پر پھلایا بازو اُس کے پیچھے دب گیا تھا.
” سیاہل خان چھوڑو مجھے. “
اُس کی حرکتوں پر خانی اچھی خاصی زچ ہوچکی تھی. مگر سیاہل جیسے ابھی ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا.
” کتنی محبت کرتی ہو مجھ سے. “
سیاہل کا ہر بار پوچھا جانے والا سوال ہنوز تھا. لیکن اب لفظ نفرت کی جگہ محبت کا ردوبدل ہوچکا تھا.
” سیاہل خان یہ کیا بدتمیزی ہے. ہٹو میرے بازو سے.”
خانی کا چہرا سیاہل کے اِس قدر قریب جھکے ہونے کی وجہ سے لال اناری ہوچکا تھا. اگر سیاہل تھوڑا سا بھی اپنا چہرہ آگے کرتا تو خانی کے ہونٹ سیاہل کی پیشانی سے ضرور ٹچ ہوجاتے.
” پہلے میرے سوال کا جواب دو. “
سیاہل ڈھیٹ بنا وہی بیٹھا رہا تھا.
” نہیں کرتی محبت بلکل بھی نہیں کرتی. ہر بار دماغ گھاس چرنے چلا جاتا ہے جو بے وقوف بننے تمہارے پاس آجاتی ہوں. “
خانی مسلسل اپنا بازو نکالنے کی کوشش کررہی تھی. اُس کی سانسوں کی تیز ہوتی رفتار سیاہل کو اچھے سے محسوس ہورہی تھی. جو سیاہل کا کب سے خود پر کیا کنٹرول ختم کرگئی تھیں.
سیاہل نے اب کی بار اپنے منہ زور جذبات کے آگے ہار مانتے خانی کی کلائی گرفت میں لیتے ایک ہی جھٹکے میں اپنے اُوپر گرا لیا تھا. وہ نازک سی ٹہنی کی طرح اُس کے وجود کا حصہ بنی تھی. سیاہل نے اُس کے گرد اپنے بازو کا حصار باندھتے فرار کی راہیں مسدود کردی تھیں.
خانی کا دل جو پہلے ہی آؤٹ آف کنٹرول ہوچکا تھا. سیاہل خان کے اتنے قریب آجانے کی وجہ سے اُسے لگا تھا اُس کے دل کو کچھ ہوجائے گا.
” اب بھی کہوں محبت نہیں ہے تمہیں مجھ سے.”
سیاہل کا چہرہ خانی کے چہرے کے بہت قریب تھا. اتنا کہ دونوں کی گرم سانسیں ایک دوسرے میں اُلجھ رہی تھیں. سیاہل کی خود میں جکڑتی آنکھیں خانی کو آج پھر جیسے ہپنوٹائز سا کرگئی تھی. وہ کچھ بول ہی نہیں پائی تھی.
اُسے محسوس ہوا تھا. شاید وہ اب کبھی یہاں سے ہل نہیں پائے گی. اِس مضبوط حصار سے اُس کا نکلنا جیسے اب ناممکن تھا.
” اگر محبت نہیں ہے تو تمہاری یہ نشیلی دلکش آنکھیں میرے زرا نگاہوں سے اوجھل ہونے پر مجھے کیوں بے قراری سے تلاشتی ہیں.”
سیاہل نے جھک کر خانی کی لرزتی گھنیری پلکوں پر اپنے دہکتے لب رکھ دیئے تھے. اُسے اِن بڑے بڑے دلفریب نین کٹوروں میں اپنا عکس واضح نظر آیا تھا. اُس کی مونچھوں کی چبھن خانی کا دل بُری طرح گدگدا گئی تھی. سیاہل کی جسارتوں پر خانی کا تنفس تیز سے تیز تر ہوتا چلا گیا تھا.
خانی نے کچھ بولنا چاہا تھا. جب سیاہل نے اُس کے نرم گداز ہونٹوں پر اُنگلی پھیرتے اُسے خاموش کروا دیا تھا.
” اگر محبت نہیں ہے تو میرے قریب آنے پر اِس دل کی دھڑکنوں میں مجھے کیوں اپنے نام کی پکار سنائی دیتی ہیں. “
سیاہل نے خانی کے دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے اُس کی دھڑکنوں کا محسوس کرنا چاہا تھا.
خانی کے دل نے اقرار کر لیا تھا.کہ یہ شخص ساحر تھا. اور بُری طرح اُسے اپنے سحر میں جکڑ چکا تھا. جس سے نکلنا اب خانی کے بس کی بات بلکل بھی نہیں تھی.
وہ بتانا چاہتی تھی. کہ وہ اُس سے کس قدر بے پناہ محبت کرتی ہے. کتنا چاہنے لگی ہے اُسے. اُس کے دل کی دھڑکنیں اُس کی سانسیں سیاہل خان کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بندھ چکی تھیں.اُس کا تن من , ظاہر باتن صرف سیاہل خان کا طلب گار تھا. مگر خانی اِس وقت ایسا کوئی بھی اظہار کرکے اپنی جان مزید عذاب میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی.
سیاہل خان کی بڑھتی جسارتوں پر شرم و حیا سے خانی کا چہرہ مکمل سُرخ ہوچکا تھا. جیسے ابھی خون چھلک پڑے گا.
” خانی اسجد بلوچ اپنی محبت کو تم اب مزید نہیں چھپا سکتی. میں اِن ہونٹوں پر, اِن سانسوں میں صرف اپنا نام چاہتا ہوں. اِن سب پر صرف میرا حق ہے. تم اب چاہ کر بھی اِس سب سے انکاری نہیں ہوسکتی میں ایسا ہونے ہی نہیں دوں گا. ہمت ہے تو کر لینا مقابلہ میری دیوانگی کا.”
سیاہل نے جھک کر خانی کے کپکپاتے شنگرفی گلابی ہونٹوں پر ایک میٹھی سی کہانی رقم کرنی چاہی تھی. جب خانی نے اُس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے اِس سے باز رکھا تھا.
سیاہل خان کو اپنے ہونٹوں پر رکھا خانی کا ہاتھ بُری طرح لرزتا محسوس ہوا تھا.
وہ پہلے ہی سیاہل کی اتنی قربت پر قیامت کے زیر اثر تھی. اگر سیاہل مزید کوئی جسارت کرتا تو اُس کو یقین تھا کہ اُس کا حواس کھونا لازمی تھا.
” پلیز….”
خانی نے لمحہ بہ لمحہ بڑھتی دھڑکنوں کے شور پر گھبرا کر سیاہل کو روکنا چاہا تھا. مگر سیاہل نے بہت ہی سہولت سے اُس کی ہتھیلی چوم کر اپنے ہونٹوں پر سے ہٹا دیا تھا. جیسے اِس وقت وہ اُس کی سانسوں کی مہک اپنے اندر اُتارنے پر بضد تھا. خانی اِس وقت سیاہل کی شدتیں سہنے کے لیے بلکل بھی تیار نہیں تھی. اُسے لگا تھا اگر یہ شخص مزید اُس کے قریب آیا تو اُس کی سانسیں رُک جائیں گی.
جس سیاہل سے ہی بچنے کے کوشش کرتے خانی نے اُسی کے کشادہ سینے میں سر چھپاتے اُس کی بڑھتی جسارتوں سے بچنا چاہا تھا. اُسے اِس وقت اِس سے زیادہ مضبوط پناہ گاہ کوئی نہیں لگی تھی.
خانی کی خود میں پناہ ڈھونڈنے والی اِس پیاری ادا پر قربان ہوتے سیاہل خان نے اُس کے گرد بازو کا گھیرا مزید تنگ کرتے خود میں بھینچ لیا تھا.
” خانی کبھی کسی کی بھی باتوں میں آکر مجھے دھوکہ مت دینا. بہت محبت کرتا ہوں تم سے. پوری دنیا کا دھوکہ برداشت کرسکتا ہوں. مگر تمہارا نہیں. “
سیاہل کو نجانے اچانک کیا ہوا تھا کہ خانی کے دور ہوجانے کے خوف کے زیرِ اثر وہ دل میں پنپتے ڈر کو زبان دے گیا تھا.
سیاہل کی بات پر خانی نے جھٹکے سے سر اُٹھایا تھا. سارا فسوں جیسے ختم ہوا تھا.
” تو سیاہل خان کو اب بھی خانی اسجد بلوچ پر اعتبار نہیں ہے کیا. “
خانی کی آنکھوں میں شکوے نارضگی واضح تھے.
” اعتبار ہے خود سے بھی زیادہ. اِسی لیے تو ڈرتا ہوں اگر یہ ٹوٹ گیا تو شاید سیاہل موسیٰ خان بھی ٹوٹ جائے. اگر ایسا ہوا تو میں چاہ کر بھی خود پر اختیار نہیں رکھ پاؤں گا. اور آنے والی بربادی کو روکنا مشکل ہوجائے گا.”
سیاہل خانی کا گلابی گال چومتے بولا.
جبکہ سیاہل کی باتوں پر خانی کا دل لرز سا گیا تھا.
” کیا تم اِس حملے کا بدلا لینے والے ہو. “
خانی کی نظروں میں اپنے بھائی کو کھونے کا خوف تھا.
” مجھے تمہارے بھائی اور دادا کی طرح پیٹھ پیچھے وار کرنے کی عادت نہیں ہے. اگر بدلہ لوں گا. تو سرعام لوں گا. مگر فلحال میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے. ابھی میں دیکھنا چاہتا ہوں. وہ لوگ کِس حد تک گر سکتے ہیں. “
سیاہل خانی کے سامنے ایسی کوئی بات نہیں کرنا چاہتا تھا. مگر اُس کے پوچھنے پر نا چاہتے ہوئے بھی یہ سب بول گیا تھا.
مگر خانی کا بُجھا چہرا دیکھ اُسے بہت بُرا لگا تھا.
” ویسے آج جس طرح تم مجھ سے چھپ کر میری حویلی میں داخل ہوکر میرے ہی لوگوں کی مدد لے کر میرے کمرے تک پہنچی ہو. ماننا پڑے گا اتنی پاور اور ٹیلنٹ سیاہل خان کی بیوی میں ہی ہوسکتا ہے. “
سیاہل کی بات پر اُس کا حصار توڑتی خانی جھٹکے سے اُس سے دور ہوئی تھی. سیاہل کی کوشش کامیاب رہی تھی. اُس کا دھیان پچھلی بات سے ہٹ چکا تھا.
” اِس کا مطلب تم جانتے تھے سب. “
خانی نے بے یقینی سے اُس کی جانب دیکھا تھا. جس پر سیاہل نے پیچھے لگی سکرین کی طرف اشارہ کیا تھا. جہاں پر حویلی کے مختلف حصوں پر لگے سی سی ٹی وی کیمرہ کی فوٹیج چل رہی تھی. سیاہل نے ریموٹ اُٹھاتے اُن پر پہلے سے ریکارڈ کی گئی ویڈیوز اوپن کی تھیں. جن میں کہیں خانی سمن کے ساتھ کچن میں کھڑی نظر آرہی تھی. اور کہیں بی بی سائیں کے ساتھ سیڑھیاں چڑھتے.
خانی نے خونخوار نظروں سے سیاہل کی جانب دیکھا تھا.
یہ شخص اُس کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھا. اور اُس کے سامنے کیسے بے خبر بنا ہوا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” آپ کی چائے. “
شہرین نے فون پر مصروف میران کے سامنے چائے کا کپ رکھتے اُسے آگاہ کیا تھا.
جس پر بنا کچھ بولے سیاہل نے سر ہلا دیا تھا.
شہرین ہر وقت خود کو بڑی سی شال میں چھپائے رکھتی تھی جو اُس نے کمرے میں کبھی میران کے سامنے بھی نہیں اُتاری تھی.
میران نے تو شاید ابھی ٹھیک سے اُس کا چہرہ بھی نہیں دیکھا تھا. وہ گھر میں اور خاص کر اپنے کمرے میں کم ہی پایا جاتا تھا.
شہرین چائے رکھ کر اُس کے پاس سے ہٹی تھی. جب بے دھیانی میں میران کا پیر اُس کی فرش پر لٹکتی شال پر آگیا تھا.
” آؤچ….”
شہرین دو قدم ہی چل پائی تھی. جب کھنچاؤ کی وجہ سے اُس کی گردن پر بہت زور دار قسم کا دباؤ آیا تھا. اور شال اُس کے سر سے ڈھلک کر کندھوں پر آگئی تھی.
روکنے کی بہت کوشش کے باوجود بھی شہرین کی ہلکی سی چیخ نکل گئی تھی. اُسے محسوس ہوا تھا شاید میران نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے.
میران جو فون پر مصروف تھا. شہرین کی چیخ پر حیرانگی سے اُس کی جانب متوجہ ہوا تھا.
پہلے اُس کی شال اور پھر اپنے پاؤں کی جانب دیکھ کر سچویشن سمجھتے میران کو شدید قسم کی ندامت نے آن گھیرا تھا.
وہ جلدی سے اُٹھتے شہرین کے پاس آیا تھا.
” آئم ریلی سوری بے دھیانی میں ہوگیا یہ سب. میں نے دیکھا ہی نہیں. آپ ٹھیک ہیں. “
میران شہرین کے سامنے آتے تشویش کے عالم میں اُس کی جانب دیکھتے ہوئے بولا.
مگر بے اختیاری میں اُٹھائی گئی اُس کی نظریں کچھ پل کے لیے شہرین کی گھٹاؤں جیسی سیاہ زلفوں سے اُلجھ گئی تھی. شاور لینے کے بعد اُسے بال باندھنے کا ٹائم ہی نہیں ملا تھا.
شہرین کے پرکشش نقوش پر ناچاہتے ہوئے بھی میران کی نظر ٹھہر سی گئی تھی. مگر اگلے ہی لمحے وہ بڑے محتاط انداز سے نظریں پھیر چکا تھا.
” نہیں کوئی بات نہیں میں ٹھیک ہوں. “
شہرین کو گردن پر شدید قسم کی جلن محسوس ہوئی تھی. مگر میران کے ساتھ اُس کا ایسا کوئی رشتہ نہیں تھا کہ وہ اپنی تکلیف اُس سے شیئر کرے. اِس لیے واپس جلدی سے شال سے اپنی گردن کو کور کرتے شہرین نے دھیمے لہجے میں جواب دیا تھا.
لیکن تب تک میران کی نظر اُس کی گردن پر پڑچکی تھی. شال پر بنے موتیوں اور شیشوں کے بارڈر سے رگڑ آجانے کی وجہ سے اُس کی گردن وہاں سے اچھی خاصی چھل چکی تھی.
” مگر مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا. آپ کی گردن زخمی ہوچکی ہے. آپ کو بینڈیج کی ضرورت ہے.”
میران کی اِس بے ضرر لڑکی سے کوئی دشمنی نہیں تھی. اِس لیے وہ انجانے میں دی جانے والی تکلیف پر اپنی شرمندگی کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا تھا.
میران شہرین کو صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے الماری سے فرسٹ ایڈ باکس نکالتے اُس کی جانب بڑھا. اُس کے اتنے نرم اور مہربان انداز پر شہرین کتنی ہی دیر اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پائی تھی.
مگر میران کے حکم پر شہرین کو مجبوری کے عالم میں وہاں بیٹھنا پڑا تھا. اُسے یہاں سختی سے بتایا گیا تھا کہ اُسے کسی کی بھی حکم عدولی کی اجازت نہیں ہے. خاص کر میران کی تو بلکل بھی نہیں. اِس لیے وہ کسی روبوٹ کی طرح اُس کی ہر بات مانتی تھی. اور یہی بات میران کو عجیب سی محسوس ہوتی تھی.
اُس نے آج تک ایسی لڑکی کبھی نہیں دیکھی تھی.
” گردن سے شال ہٹائیں. “
شہرین واپس خود کو شال میں قید کرچکی تھی. اِس لیے میران کو اُسے بولنا پڑا تھا.
شہرین کی شکل سے صاف ظاہر تھا کہ وہ کس قدر بے دلی سے اِس طرح میران کے سامنے بیٹھی تھی. وہ سمجھ نہیں پارہی تھی. یہ شخص اتنا مہربان کیوں ہورہا ہے.
” میرے پاس اِس کے علاوہ اور بھی بہت کام ہیں. “
میران نے شہرین کے زرا سا شال نیچے سرکانے پر ہاتھ آگے بڑھا کر شال اُس کی گردن سے بلکل پیچھے ہٹا دی تھی. اُس کے جارحانہ انداز پر شہرین کا چہرا ڈر اور حیا کے مارے لال ہوا تھا.
میران کریم ہاتھ پر لگا کر شہرین کی گردن پر زخم کی جگہ لگانے لگا تھا. شہرین نے اُس کے لمس پر گھبرا کر فوراً آنکھیں میچ لی تھیں. اور شال کو دونوں مٹھیوں میں سختی سے جکڑ رکھا تھا.
گردن پر کریم لگاتے میران کی ایک غیر ارادی نظر سامنے بیٹھی اُس ڈری سہمی لڑکی پر پڑی تھی.
قدمی رنگت, پرکشش کھڑے نقوش, بڑی بڑی آنکھیں جنہیں اِس وقت اُس نے سختی سے میچ رکھا تھا, نازک سراپا, لمبے گھنے بال. وہ مکمل حُسن کا پیکر تھی. مگر میران کو اِس سب سے کوئی انٹرسٹ نہیں تھا. اِس لیے وہ فوراً نظریں پھیر گیا تھا.
سارے زخم پر اچھے سے کریم لگاتے میران کی نظریں اُس کی گردن کے عین وسط میں بنے تل پر پڑی تھیں. بلاشبہ یہ لڑکی مقابل کو بہکانے کی پوری صلاحیت رکھتی تھی. میران بھی کوشش کے باوجود اُس کی صراحی دار گردن پر چمکتے اُس مغرور دل سے نظریں نہیں ہٹا پایا تھا.
اُس کی نظروں کے ارتکاز سے گھبرا کر شہرین نے جلدی سے شال کو اپنے گرد دوبارہ سے لپیٹ لیا تھا.
” کمرے کے اندر اِس تھان کو لپیٹنا ضروری ہے کیا. “
اپنی بے اختیاری پر خفت مٹانے کے لیے وہ شہرین پر طنز کرتے بولا.
جب اچانک اُس کی نظر شہرین کی جلی کلائی پر پڑی تھی.
” یہ کیسے جلا تمہارا ہاتھ. “
تازہ تازہ زخم بتا رہا تھا کہ یہ کچھ دن پہلے ہی آیا ہے.
” وہ کچن میں کام کرتے غلطی سے جل گیا تھا.”
شہرین نے مختصر جواب دیا تھا.
میران کو اُس کی بات پر کافی حیرت ہوئی تھی.
” واٹ مگر تم کچن میں کام کیوں کررہی تھی. اتنے سارے ملازم موجود تو ہیں. “
یہ سوال پوچھتے وہ یہ بھول گیا تھا. کہ سامنے بیٹھی اپنی بیوی کو وہ عزت سے رخصت کروا کر نہیں لایا تھا. بلکہ وہ خون بہا میں لائی گئی تھی.
جبکہ اُس کے سوال پر شہرین کو لگا تھا کہ شاید وہ غلط بول گئی ہے. اگر میران نے بشرا بیگم سے کچھ بول دیا تو شامت اُسی کی آنی تھی. شروع کے دنوں میں تو خانی اُس کی ڈھال بنی رہی تھی. مگر اب نجانے وہ اپنے کن کاموں اور پریشانیوں میں بزی ہوگئی تھی کہ اُسے فراموش کرگئی تھی.
جس پر بشرا بیگم کو لگا تھا شاید ہمدردی کا بھوت اُتر چکا ہے. وہ واپس شہرین سے اپنا ناروا سلوک اختیار کر چکی تھیں.
شہرین دن رات کچن میں مصروف رہتی. اور میران کے آنے کے ٹائم پر بشرا بیگم اُسے کمرے میں بھیج دیتیں.
” نہیں وہ ایک دن ہی اپنے لیے چائے بنائی تھی. تب ہوا یہ. “
شہرین نے جلدی سے بات سنبھالنی چاہی تھی. کیونکہ وہ میران بلوچ کی زرا سی بھی ہمدردی افورڈ نہیں کرسکتی تھی.
” تمہارے ہاتھ پر ایک بار نہیں بہت بار جلنے کے نشانات ہیں. آئندہ مجھ سے جھوٹ بولنے کی کوشش مت کرنا. “
میران اُس کے لہجے کی لڑکھڑاہٹ پر اُس کا جھوٹ پکڑتے سختی سے بولا تھا.
جس پر شہرین اپنی جگہ سہم سی گئی تھی.
” آرام کرو اب تم. باہر نکلنے کی ضرورت نہیں ہے. دیکھ لیتا ہوں میں باقی سب کو بھی. “
میران بلوچ اچھے سے جانتا تھا اپنے سے منسلک لوگوں کا خیال کیسے رکھنا ہے.
جب وہ صرف اپنی بہن کو ایک ناپسندیدہ شخص سے بچانے کے لیے قتل تک کرنے کی کوشش کرسکتا تھا. تو اپنی بیوی چاہے وہ اَن چاہی ہی سہی اُس کے لیے تھوڑا سا سٹینڈ تو لے ہی سکتا تھا.
میران شہرین کو آرڈر دیتا روم سے نکل گیا تھا.
جبکہ شہرین کتنی ہی دیر ہل بھی نہیں پائی تھی.
اِس شخص کی اتنی عنایت اُس سے بلکل بھی ہضم نہیں ہورہی تھی. جس کا خیال رکھنے کا انداز بھی اتنی سختی لیے ہوئے تھا.
کیا واقعی ہی اُس کی زندگی کا سفر اتنا کھٹن ہونے والا نہیں تھا جتنا وہ سمجھ رہی تھی. شہرین نے بے اختیار اپنی گردن پر ہاتھ پھیرا تھا. جہاں ابھی بھی میران بلوچ کا دہکتا لمس اُسے محسوس ہورہا تھا.
جو شخص انجانے میں دیے جانے والے زخم پر اِس قدر شرمندہ ہوا. وہ جان بوجھ کر تو کوئی زخم کبھی نہیں دے گا.
شہرین میران بلوچ کے بارے میں سوچتی آپ ہی آپ مسکرا دی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے….
