No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
” ادی بہت ڈر لگ رہا ہے مجھے. ادا سائیں بہت ناراض ہوں گے نا مجھ سے.”
سمن کو جب سے سیاہل کے ساتھ ڈنر کرنے کا پتا چلا تھا وہ اِسی طرح کی گھبراہٹ اور پریشانی کا شکار تھی.
” نگار ادی کے غلط کام میں اُن کا ساتھ دے کر جو حرکت تم نے کی ہے. تمہیں کیا لگتا ہے وہ اتنی آسانی سے معاف ہوجائے گی. ادا سائیں کے غصے سے واقف تو ہو تم. ابھی تک اُنہوں نے تمہیں کچھ نہیں کہا. خیر مناؤ اِس بات پر.”
ایمن اُسے آنے والے وقت کی سنگینی کے بارے میں آگاہ کرتی کچن کی جانب بڑھ گئی تھی.
جبکہ نگار کو یاد کرتے بہت سارے آنسو اُس کی آنکھوں سے ٹوٹ کر گال پر پھسل گئے تھے.
سمن جانتی تھی اُس نے سیاہل خان کو ہرٹ کرکے بہت غلط کیا تھا. مگر نگار کو سیاہل کے اُس کی غلطی سے بڑی سزا دیے جانے پر وہ اُس سے دل ہی دل میں بہت زیادہ خوفزدہ ہونے کے ساتھ ساتھ خفا بھی تھی.
اُس نے نگار کا ساتھ یہی سوچ کر دیا تھا کہ اگر نگار پکڑی بھی گئی تو سیاہل خان اپنی لاڈلی بہن کو کچھ نہیں ہونے دے گا. مگر وہ شاید یہ بھول چکی تھی کہ مقابل بھی سیاہل خان تھا.
جو دھوکہ کبھی برداشت نہیں کرسکتا تھا.
خان حویلی میں سردار سیاہل موسیٰ خان اپنے پورے خاندان کے ساتھ مقیم تھا. وہ نہ صرف اپنے علاقے کا سردار تھا. بلکہ بلوچستان کے شاہی جرگے کے سرداروں میں بھی پہلے نمبر پر تھا.
اور یہی پوزیشن ہمیشہ سے بلوچ خاندان کے مردوں کو کھٹکتی آئی تھی. دونوں خاندانوں کی شروع سے چلی آنے والی دشمنی کی ایک یہی وجہ نہیں تھی. بلکہ اور بھی کئی بڑی وجوہات تھیں.
بی بی سائیں یعنی کے کشور بیگم کی پانچ اولادیں تھیں. شوہر عباس خان تو بہت پہلے ہی اُنہیں چھوڑ کر جاچکے تھے اور ساتھ ہی اُن کے سب سے بڑے بیٹے موسیٰ خان کی بھی کچھ سالوں پہلے ڈیتھ ہوچکی تھی. جن کی بیوی حُسنہ , بڑا بیٹا سیاہل موسیٰ خان اور بیٹی نگار موسیٰ خان تھی.
دوسرا نمبر رضیہ بیگم کا تھا. جن کی شادی شہاب بلوچ سے ہو رکھی تھی. شہاب بلوچ ذوالفقار بلوچ کے بھتیجے تھے. لیکن عرصہ دراز سے اُن کی آپس میں دشمنی چلی آرہی تھی. شہباز بلوچ اور اُن کے والد کے خان حویلی والوں کے ساتھ تعلقات بہت اچھے تھے. جن کو مزید مضبوط کرنے کے لئے اُنہوں نے اپنی بیٹی کی شادی بھی وہاں کر دی تھی.
مگر کچھ عرصے بعد شہباز بلوچ نے ثابت کردیا تھا کہ وہ بھی بلوچ خاندان کا حصہ ہے. اُس نے ذوالفقار بلوچ کے خاندان کے ساتھ اپنے تعلقات بلکل ٹھیک کر لیے تھے. جس کی وجہ سے خان حویلی والوں کا وہاں آنا جانا بہت کم ہوچکا تھا.
رضیہ بیگم کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا. رومینہ, رومیسہ اور عمیر.
موسیٰ خان سے چھوٹے فرمان خان تھے. جن کی شادی اپنی سیکنڈ کزن حمیرا بیگم سے ہوئی تھی. اُن کے تین بچے تھے. جواد, شہزاد اور سمن.
چوتھا نمبر تانیہ بیگم کا تھا. جو شادی کے سات سال بعد بیوہ ہوکر حویلی واپس لوٹ آئی تھیں. اُن کا ایک بیٹا فیصل اور بیٹی شمسہ تھی.
سب سے آخر پر اجمل خان تھے. جن کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں. نمیر, ایمن, فاخر اور کرن.
وہ پوری فیملی ایک ہی چھت کے نیچے کافی خوشحال زندگی بسر کررہے تھے. جس میں شاہی خاندان ہونے کی وجہ سے اکثر اوقات دکھ اور خوشی کی فضا گرم رہتی تھی.
عباس خان کی ڈیتھ کے بعد موسیٰ خان گدی نشین ہوئے تھے. اور روایت کے مطابق اُن کی ڈیتھ کے بعد سیاہل خان وہ عہدہ سنبھال چکا تھا.
نگار کو سنائی جانے والی سزا کے بعد خان حویلی کے زنان خانے میں ایک سوگوار سی فزا چل رہی تھی. آج تک کبھی کسی کی جرأت نہیں تھی کہ سردار کے فیصلے کو غلط ٹھہرا سکے.
اِس لیے بغاوت تو اُن میں بلکل بھی نہیں تھی. وہ سب جانتی تھیں کہ نگار خان کی غلطی بہت بڑی تھی. مگر نگار خان کو ملنے والی اتنی سنگین سزا پر اُن سب کے دل اشکبار تھے.
” میں نہیں چاہتی میرے پوتے کے سامنے تم لوگوں میں سے کوئی بھی آنسو بہا کر یا ایسا سوجا ہوا منہ لاکر اُسے زرا سا بھی پریشان کرے. اُس کے آنے میں تھوڑا سا وقت رہ گیا ہے. تم سب لوگ اپنا موڈ ٹھیک کر لو. “
بی بی سائیں کے کڑے تیوروں سے دیئے آرڈر پر سب خواتین نے فوراً اثبات میں سر ہلایا تھا.
جبکہ حُسنہ بیگم نے دکھ بھری نظروں سے اُن کی جانب دیکھا تھا. جو نگار کی جانب سے اِس قدر کھٹور اور سخت دل ہوچکی تھیں کہ جیسے وہ اُن کی سگی پوتی نہ ہو بلکہ کوئی دشمن کی اولاد ہو.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” یہ سب کیسے ہوا. اور وہ ارباز بھائی تمہارے پاس کھڑے تمہیں کیا کہہ رہے تھے. سب ٹھیک تھا نا. تم اتنی ڈری ہوئی کیوں لگ رہی تھی. اور یہ تمہاری کلائی پر انگلیوں کے نشان کیسے ہیں. “
خانی مینل کے زخم پر کریم لگاتی کھوجتی ہوئی نظروں سے اُس کی جانب دیکھتے ہوئے بولی. جس پر مینل زرا سا گڑبڑائی تھی.
” نہیں بی بی جی ایسا کچھ نہیں ہے. ارباز سائیں نے تو صرف آپ کا پوچھنے کے لیے روکا تھا. یہ نشان تو پہلے سے ہیں اور کسی کی اُنگلیوں کے بلکل نہیں ہیں. “
مینل کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیسے خانی کو مطمئن کرے. کیونکہ اگر خانی کو زرا سا بھی شک ہوجاتا شامت اُسی کی آنی تھی.
خانی کو مینل کی کسی بات پر بھی یقین تو نہیں آیا تھا. لیکن وہ دماغ میں آئی سب باتوں کو اپنا وہم سمجھ کر خاموش ہوچکی تھی.
ارباز بھائی اُسے زرا سخت مزاج کے لگے تھے. مگر اتنے نہیں کہ وہ اُن کے بارے محسوس ہونے والی زرا سی بات پر اتنا شک کرتی. جب مینل نے بھی کلیئر کر دیا تھا.
خانی مینل کو کچھ دیر آرام کرنے کا کہتی باہر نکل آئی تھی. شام کا وقت تھا. اور باہر موسم بہت خوبصورت ہورہا تھا. گہرے بادل نے کافی حد تک اندھیرا کررکھا تھا. سرد ہوا کی وجہ سے خزاں رسید درخت اور پودوں کے زرد پتے نیچے گرتے ایک بہت دلفریب منظر پیش کررہے تھے.
خانی بارش اور ایسے موسموں کی دیوانی تھی. اِس لیے وہ بنا کسی بات کی پرواہ کیے یہاں بھی باہر لان میں نکل آئی تھی.
جب اچانک اُس کی نظر دائیں طرف کچھ فاصلے پر لکڑی کے بنے انتہائی خوبصورت ہٹ پر پڑی تھی. جس کی چھت اور پلرز سر سبز بیلوں سے گھرے ہوئے تھے.
ہٹ میں ترتیب سے پڑی چیئرز میں سے ایک پر اُسے شہرام بلوچ بیٹھا نظر آیا تھا. جب سے وہ یہاں آئی تھی. پہلے دن کے بعد وہ آج اُسے دیکھ رہی تھی. کل بھی اُسے ملازمہ سے پتا چلا تھا کہ شہرام بلوچ کی طبیعت اچانک بہت خراب ہوگئی ہے. جس وجہ سے ڈاکٹر کو بلوایا گیا تھا.
خانی اُس کے آرام کے خیال سے کل نہیں گئی تھی اُس کے پاس. مگر آج جانے کا ارادہ رکھتی تھی.
لیکن ابھی ٹھنڈ میں اُسے ایسے ہی بیٹھے دیکھ خانی فکرمندی سے اُس کی جانب آئی تھی. جو اردگرد کے ماحول سے بے پرواہ کرسی کی پشت سے سر ٹکائے آنکھیں موندے ہوئے تھا.
” شہرام آپ ٹھیک ہیں. “
خانی کو وہ بکھرے بال اور زرد چہرے لیے صدیوں کا بیمار لگا تھا.
خانی کی آواز پر وہ چونک کر آنکھیں کھولتے سیدھا ہوا تھا.
” جی میں بلکل ٹھیک ہوں. آپ پلیز بیٹھیں نا.”
شہرام بہت مشکل سے مروتاً مُسکرایا تھا.
” مجھے پتا چلا کل آپ کی طبیعت بہت سخت خراب تھی. آپ کو اِس طرح ٹھنڈ میں نہیں بیٹھنا چاہیے. آپ کی طبیعت مزید خراب ہوسکتی ہے. “
خانی کے فکرمند لہجے پر شہرام بلوچ کی اذیت بھری مسکراہٹ چہرے پر بکھری تھی.
” یہ معمولی سا بخار میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا بہت ڈھیٹ ہوں میں. اندر میرا دم گھٹ رہا تھا. اِس لیے باہر آگیا. “
خانی نے ناسمجھی سے شہرام کی جانب دیکھا تھا. اُسے لگا تھا جیسے شہرام بہت تکلیف میں ہے.
” اگر اندر کی گھٹن بڑھ جائے تو اُسے باہر نکال دینا چاہے. آپ مجھ پر ٹرسٹ کرسکتے ہیں. “
خانی کو شہرام بلوچ یہاں کے باقی مردوں سے کافی مختلف اور اچھا لگا تھا. اِس لیے وہ اُس کی حالت دیکھ نرمی سے بولی.
شہرام نے خانی کی بات پر ایک نظر اُس بے حد حسین اور صاف دل لڑکی پر ڈالی تھی. جو کسی کی بھی توجہ اپنی جانب کھینچنے کا ہنر جانتی تھی.
لیکن اِس وقت اُس کے مقابل ٹوٹا بکھرا شہرام بلوچ تھا. جس سے اُس کے جینے کی وجہ چھین لی گئی تھی.
” میں جانتا ہوں. میں آپ پر ٹرسٹ کرسکتا ہوں. لیکن کہیں میرا بتایا گیا سچ آپ کے لئے پریشانی کا باعث نہ بن جائے. “
شہرام کی آنکھوں میں ہلکورے لیتا دکھ خانی کو مزید اُلجھن میں مبتلا کر رہا تھا. یہاں ہر انسان کی باتوں میں اُس کے لیے اتنی پہیلیاں کیوں تھیں. جب سے وہ یہاں آئی تھی. پہلے خان حویلی کے لوگ اور اب یہاں کوئی اُسے سیدھی بات کیوں نہیں بتاتا تھا.
” میرے ظاہر پر مت جائیے گا. بہت مضبوط ہے خانی اسجد بلوچ. بہت سے راز اپنے دل میں دفن کرنے کا ہنر جانتی ہوں. “
خانی کے جتاتے انداز پر شہرام بلوچ کے ہونٹوں کو مسکراہٹ نے چھوا تھا.
” بہت اچھی بات ہے خانی اسجد بلوچ کو بہت مضبوط ہونا چاہیے کیونکہ جس شخص سے آپ کا پالا پڑنے والا ہے. وہ بہت مشکل اور سنگلدل انسان ہے. کہیں خانی اسجد بلوچ پوری زندگی اُس پتھر سے سر ٹکرا ٹکرا کر خود کو لہولہان ہی نہ کردے. “
شہرام بلوچ کا لہجہ سیاہل موسیٰ خان کے ذکر پر کھردرا سا ہوا تھا.
” یہاں اُس شخص کا کیا ذکر. اور میں کیوں کسی بھی فضول انسان کے لیے اپنی زندگی خراب کروں.”
خانی کا موڈ یکدم خراب ہوا تھا. اُس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا اُسے شہرام کی بات بہت بُری لگی تھی.
” کیونکہ مجھ سے جو بات آپ نے پوچھی ہے. وہ اُسی شخص سے جُڑی ہے. میری اذیت کی وجہ وہی شخص ہے. “
خانی کی حیرت میں مزید اضافہ ہوا تھا. یہ سیاہل موسیٰ خان کا کام دوسروں پر ظلم ڈھانے اور دکھ پہنچانے کے علاوہ کچھ نہیں تھا کیا.
” میں جس لڑکی سے بے انتہا محبت کرتا تھا. جو کچھ ہی وقت میں میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی بن چکی تھی. اُس سردار سیاہل موسیٰ خان نے اُس معصوم کو بہت ہی بے دردی سے مجھ سے چھین لیا. “
بات کرنے کے دوران شہرام بلوچ جیسے لمبے چوڑے مضبوط انسان کی آنکھوں سے کئی آنسو ٹوٹ کر گرے تھے. جو اُس کے دل چیڑتے دکھ کی گواہی دے رہے تھے.
خانی نے جھٹکے سے سر اُٹھا کر شہرام کی جانب دیکھا تھا. مگر اُس کے اذیت بھرے چہرے کو دیکھ اُسے اِس لمحے سیاہل خان سے شدید نفرت محسوس ہوئی تھی. خانی کی آنکھیں بھی اِس بات پر ایک بار پھر نم ہوچکی تھیں.
جب اچانک اُس کے دماغ میں جھماکا ہوا تھا. شہرام جس کی بات کررہا تھا تو کیا وہ لڑکی سیاہل کی بہن نگار تھی. جس کے بارے میں اُس نے خود جرگے میں اُس سفاک انسان کا فیصلہ سنا تھا.
اور اُسی دن ہی تو اُس نے شہرام کی روئی سُرخ آنکھیں دیکھی تھیں.
” وہ لڑکی نگار موسیٰ خان تھی نا. میں اُس وقت خان حویلی میں ہی تھی. جب اُس گھٹیا شخص نے وہ ظلم ڈھایا تھا.”
خانی نے شہرام کی اُٹھتی حیرت بھری سوالیہ نظروں پر جلدی سے وضاحت دی تھی.
جس پر شہرام صرف سر ہلا کر رہ گیا تھا.
” مگر ایسا کیوں ہے. اُس شخص کو فرضی خدا بنا کر کیوں سب نے سر پر بیٹھا رکھا ہے. اُس کا ہر فیصلہ سب لوگ کیوں چپ چاپ مان لیتے ہیں. اُسے کِس نے حق دیا ہے ایسے ہی کسی کی بھی زندگی چھین لینے کا.
آپ تو لڑ سکتے تھے نا اِس ظلم کے خلاف اُس سے. یہ کیسی محبت ہے آپ کی. آپ نے اتنی آسانی سے کیسے اپنی محبت کو کسی کے غلط فیصلے کی بھینٹ چڑھنے دیا. “
خانی کو اُس دن کی بات یاد آتے ایک بار پھر سیاہل خان پر بہت غصہ آیا تھا. جس کی لپیٹ میں اُس نے شہرام کو بھی لیا تھا.
اِسی دوران دو ملازمین آکر اُن کے سامنے چائے کی ٹرے اور باقی لوازمات رکھنے لگی تھیں.
خانی کی بات پر شہرام کا سر ندامت سے مزید جھک گیا تھا. یہی بات تو اُسے سکون نہیں لینے دے رہی تھی کہ کاش وہ نگار کو بچا پاتا. کاش وہ اتنا بے بس نہ ہوتا سیاہل خان کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوجاتا.
” نہیں لڑ سکتا اُس شخص سے کوئی. بہت پاور فل ہے وہ. اُس سے ٹکرانا اُسے توڑنا بہت مشکل ہے. اپنے اردگرد بہت مضبوط خول چڑھا رکھا ہے اُس نے.
اگر کسی نے بھی اُس کے سامنے آنے کی کوشش کی آگے سے سیاہل خان نے اُسے ایسا جواب دیا کہ دوبارہ وہ اُس کے سامنے کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہا. مگر مجھے تو میری اپنی غلطی نے مارا ہے. “
شہرام کے لہجے میں اُس کا دکھ بول رہا تھا.
” لیکن کچھ تو ایسا ہوگا. جو اُسے توڑ سکتا ہوگا. جو سردار سیاہل موسیٰ خان کو ہرا سکتا ہو. “
خانی کی بات پر شہرام نے پر اسرار سی مسکراہٹ سے اُس کی جانب دیکھا تھا.
” ہے کوئی بلکل ہے. ہے ایک انسان جو سیاہل خان کا غرور اُس کی طاقت توڑ سکتا ہے. مگر سیاہل خان بہت شاطر ہے. کبھی اُس انسان کو اپنے قریب آنے دینا نہیں چاہتا. “
شہرام بلوچ نے بات ابھی ختم کی ہی تھی. جب اُس کا موبائل روشن ہوا تھا. جس پر جگمگاتا نام دیکھ خانی کی نگاہیں ساکت ہوئی تھیں. اُس نے سوالیہ نظروں سے شہرام کی جانب دیکھا تھا.
” یہ آپ کو فون کیوں کررہا ہے. “
خانی نے مشکوک نظروں سے شہرام کی جانب دیکھا تھا.
جس پر شہرام نے لاعلمی سے کندھے اُچکاتے فون آن کیا تھا.
” شہرام بلوچ مجھے یاد کررہے تھے تم. تو سوچا کیوں نہ میں تمہیں کال ہی کرلوں. بہت حیرت ہورہی مجھے ابھی تک یہ بلوچ حویلی والوں نے اِس حویلی کی نئی فرد کے دل میں میری نفرت پیدا نہیں کی.
اور تم جس شخص کو میں ایسا کرنے والا آخری انسان سمجھ رہا تھا شروعات اُسی کی طرف سے کی گئی. مجھ سے کسی قسم کا بدلہ لینے کی پلاننگ تو نہیں کررہے. “
سیاہل موسیٰ خان کے ہمیشہ کی طرح سرد لہجے میں کہی بات پر شہرام نے غصے سے پہلو بدلا تھا.
سیاہل خان کی یہی بات تو اُسے سب سے زیادہ بُری لگتی تھی. جس کی پہنچ ہر طرف تھی. اُس نے بلوچ حویلی میں بھی اپنے آدمی چھوڑ رکھے تھے. کئی بار تمام ملازمین سے پوچھ گچھ کی گئی تھی. اُن کی پوری تلاشی لی گئی تھی. لیکن کبھی کوئی ایسا مشکوک شخص برآمد نہیں کیا جاسکا تھا. ابھی بھی اُن دونوں کی گفتگو کے دوران کئی ملازم وہاں سے کام کے لیے آجا رہے تھے. جن پر اپنی باتوں میں اُن دونوں نے دھیان نہیں دیا تھا.
” فون کیوں کیا مجھے. “
شہرام اِس وقت اُس کے منہ لگنے کے موڈ میں بلکل نہیں تھا.
خانی کی نظریں شہرام پر ٹکی ہوئی تھیں.
” تمہیں یہ بتانے کے لیے کہ تمہارے خاندان والے جو ایک بار پھر میرے قتل کا منصوبہ بنا رہے ہیں. اِس بار ایسا کرنے کا سوچے بھی مت. کیونکہ مجھے نقصان پہنچانا اُن کو خواب ہی رہے گا. لیکن اِس بار اگر ایسی کوئی بھی ناکام کوشش کی اُنہوں نے تو اُس کے بدلے جنازہ بلوچ حویلی سے اُس خاندان کے کسی فرد کا اُٹھے گا. “
سیاہل خان کاٹ دار لہجے میں وارن کرتا فون بند کر گیا تھا.
” کیا کہا اُس نے. “
خانی شہرام کے چہرے پر اُبھرنے والے پریشانی کے تاثرات دیکھ جلدی سے بولی.
” نہیں کچھ نہیں. مجھے ایک ضروری کام ہے. میں بعد میں ملتا ہوں آپ سے. “
شہرام عجلت میں وہاں سے نکل گیا تھا.
” ضرور یہ شخص پھر سے کچھ اُلٹا سیدھا کرنے والا ہے. آخر اُس نے ایسا کیا بولا کہ شہرام اتنا پریشان ہوگیا. مجھے پتا لگانا ہوگا. ڈرتے ہونگے باقی لوگ اُس سے مگر میں نہیں ڈرتی. “
خانی کچھ سوچتے اپنے روم کی جانب بڑھ گئی تھی.
لیکن آغا جان کے روم کے سامنے سے گزرتے کھلے دروازے سے جو ادھوری بات خانی کے کانوں میں پڑی تھی. خانی اگلا قدم بھی اُٹھا نہیں پائی تھی.
سیاہل خان نے شہرام کو دھمکی دی تھی.
خانی صرف ارباز کی غصے میں دوہرائی گئی آدھی بات ہی سن پائی تھی. اور شدید غصے میں آتے اپنے روم کی طرف واک آؤٹ کرگئی تھی. اُس نے سوچ لیا تھا اُسے اب کیا کرنا ہے.
روم میں آکر دروازہ لاک کرتی وہ بیڈ پر آبیٹھی تھی. سیاہل خان کا نمبر کال لاگ سے ڈھونڈ کر ڈائل کرکے فون کان لگاتے اُس کا دل زور سے دھڑکا تھا.
جب وہ اُس کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتی تھی تو اُسے نجانے کیا کیا بول آئی تھی. مگر اب شہرام کی باتیں سن کر ناچاہتے ہوئے بھی اُسے محتاط ہونا پڑا تھا. وہ نہیں چاہتی تھی.
وہ نہیں جانتی تھی اُس کھڑدماغ شخص سے بات کرکے وہ ٹھیک کررہی ہے یا نہیں. مگر اِس وقت وہ بہت غصے میں تھی.
” سردار سیاہل موسیٰ خان سپیکنگ.”
کال اٹینڈ کرتے ہی سیاہل خان کی سحر بکھیرتی گھمبیر آواز سپیکر پر اُبھری تھی. خانی کی سانسیں ایک پل کے لیے مدھم ہوئی تھیں. موبائل پکڑا اُس کا ہاتھ نجانے کیوں ہولے ہولے کپکپانے لگا تھا.
اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا. کہ بات کا آغاز کہاں سے کرے. جو باتیں شہرام نے اُسے بتائی تھیں. وہ سوچتے وہ سیاہل خان کو کچھ بھی سخت لفظ کہنے سے پہلے سوچ میں پڑ گئی تھی.
اُسے اپنی ہی سوچوں سے اُلجھتے پانچ منٹ گزر چکے تھے. اور مقابل بھی جیسے مکمل فرصت میں تھا. جس نے نہ ہی فون بند کیا تھا اور نہ ہی کچھ بولا تھا.
” مجھے بات کرنی ہے آپ سے.”
خانی کے منہ سے خود با خود آپ نکل گیا تھا. جس کے جواب میں سیاہل خان کا ایک زور دار قہقہہ برآمد ہوا تھا.
اور خانی کو مزید تپانے کا باعث بنا تھا. زبان دانتوں تلے دباتے اُس نے خود کو روکا تھا.وہ کچھ بھی اُلٹا سیدھا بول کر اپنے خاندان والوں کے لیے کوئی پریشانی کھڑی نہیں کرنا چاہتی تھی.
” خانی اسجد بلوچ کو سردار سیاہل موسیٰ خان سے بات کرنے کے لیے سوچنے کی ضرورت کیسے پڑ گئی.”
جاری ہے
