Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

” آج آخر کار موقع مل ہی گیا بلوچستان کے شہزادے کو دیکھنے کا. آؤ نا تم لوگ بھی.”
پلوشہ سومیہ کو آنکھ مارتی اُن سب کو بھی اشارہ کرتے بولی.
جبکہ خانی حیرانی سے اُن کی حرکتیں دیکھ رہی تھی. پلوشہ اُسے کافی ایکسائٹڈ سی لگی تھی.
“اگر اماں سائیں لوگوں میں سے کسی نے یہ حرکت دیکھ لی نا تو یہی پر چمڑی ادھیڑ کر رکھ دیں گی. “
مہوش چاہنے کے باوجود بھی انکار کرگئی تھی.
” یہ تو ہر وقت ڈرتی ہی رہے گی. ادی آپ دونوں آجاؤ میرے ساتھ. ایک جھلک دیکھ کر ہی آجائیں گے.
بہت تعریف سنی ہے میں نے. آمنہ کے منہ سے سردار سیاہل موسیٰ خان کی وجاہت کی. آج بہت مشکل سے اگر موقع ملا ہے تو. ایک نظر دیکھ ہی لوں. اماں سائیں اور چچی سائیں تو اپنی باتوں میں مصروف ہیں. اُنہیں پتا بھی نہیں چلے گا.”
پلوشہ اپنی کسی دوست کا حوالہ دیتے اُنہیں مناتے ہوئے بولی. جس پر کچھ دیر میں وہ دونوں تو مان چکی تھیں. مگر خانی کے صاف انکار کر دیا تھا. لیکن اُس کے انکار کے خاطر میں لائے بغیر وہ اُسے بھی اپنے ساتھ گھسیٹ لائی تھیں.
پردے کے قریب آتے خانی نے پلوشہ کے پوچھنے پر وہاں کھڑی لڑکی کی نشاندہی پر جیسے ہی ایک طرف بنے تخت پر نظریں اُٹھائیں. خانی کچھ پل کے لیے پلکے جھپکنا بھول گئی تھی.
سیاہل موسیٰ خان شہباز بلوچ کے ساتھ ایک بہت ہی خوبصورت لکڑی کے صوفے نما بڑے سے تخت پر اپنے مخصوص شاہانہ انداز میں بیٹھا مہرون تکیوں سے ٹیک لگائے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے کسی بات پر مسکرا رہا تھا.
بلیک قمیض شلوار کے اُوپر کریم کلر کی گرم شال گلے میں ڈالے وہ کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا.
خانی اُس کے لیے لاکھ ناپسندیدگی کے جذبات رکھنے کے باوجود دل سے اِس بات کا اقرار کرگئی تھی. کہ یہ ساحر شخص مسکراتے ہوئے اور زیادہ پرکشش اور وجیہہ لگتا تھا.
اُس کے ساتھ دونوں ملاقاتوں میں اگر وہ مسکرایا بھی تھا. تو صرف آنکھوں سے. چہرا ہمیشہ سپاٹ ہی رہا تھا. ایسی مسکراہٹ خانی نے پہلے اُس کی نہیں دیکھی تھی.
وہاں باقی بھی رعب و دبدبہ والے اور بھی بہت سے شاندار لوگ موجود تھے. مگر سیاہل کی منفرد پرسنیلٹی پورے فنکشن پر چھائی ہوئی تھی.
خانی کو اُس کے رکھ رکھاؤ میں ایک عجیب سی مغروریت دکھائی دیتی تھی.
وہ ایسی رعب دار شخصیت کا مالک تھا کہ اُس کے نظر اُٹھا کر دیکھنے پر کوئی بھی شخص اُس سے بات کرنے سے پہلے ایک بار جھجھک ضرور جاتا تھا. مگر خانی ہر بار بہت ہی دلیری سے اُسے کچھ بھی بول جاتی تھی. یا تو وہ تھی اتنی نڈر یا شاید یہ سیاہل خان کی اُس کو بخشی گئی کوئی خاص رعایت تھی.
وہاں کھڑی خواتین اب ڈھول کی تھاپ پر ہونے والے رقص سے زیادہ کن اکھیوَں سے سیاہل خان کو بھی دیکھ لیتی تھیں.
جس کے انصاف پر مبنی کبھی سفاکیت تو کبھی نرمی لیے فیصلے اُنہوں نے سن رکھے مگر اُس شخص کو دیکھنے کا موقع آج ملا تھا بہت سوں کو.
خانی خود کو سمجھاتی کہ اُسے اِس شخص میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے وہاں سے ہٹ آئی تھی.
بی بی سائیں اور خان حویلی کی باقی ساری خواتین بھی وہاں آچکی تھیں.
” کیسی ہیں آپ. “
خانی ایک سائیڈ پر کھڑی وہاں بلوچی خواتین کا ڈھول کی تاپ پر گول دائرے کی شکل میں شروع کیا رقص دیکھ رہی تھی. جب سیاہل خان کی کزن سمن اُس کے پاس آتے بولی.
” ﷲ کا کرم ہے. آپ کیسی ہو. “
خانی اُس کو پہچان گئی تھی. یہ وہی لڑکی تھی. جس نے اُس دن خان حویلی میں اُسے نگار کے بارے میں بتایا تھا.
” میں بھی ٹھیک ہوں. آپ بہت حسین لگ رہی ہیں آج. “
سمن کی ستائشی نظریں خانی کے سراپے پر تھیں.
” شکریہ. آپ بھی بہت پیاری لگ رہی ہیں. بلکہ آپ ہیں ہی بہت پیاری. لگتا ہی نہیں آپ خان حویلی کی فرد ہیں. آپ نہ ہی ہر وقت اپنے سردار سیاہل خان کی طرح غصہ اور اکڑ ماتھے پر سجا کر دوسروں کو بے عزت کرتی ہیں اور نہ اپنی انا کی تسکین کے لیے کسی کو سزا دیتی ہیں. اور نہ ہی اپنی بی بی سائیں کی طرح دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتی ہیں. “
خانی کو شاید کچھ دن پہلے ہوئی سیاہل خان سے ملاقات کا غصہ تھا. جو وہ ایک ہی سانس میں سمن کو بہت کچھ سنا گئی تھی.
” ایسا کچھ نہیں ہے. وہ دراصل آپ کا ٹکراؤ ہی اُن دونوں سے ایسے ٹائم پر ہوا کہ بی بی سائیں کسی اور کا غصہ آپ پر نکال گئیں.
آپ کو غلط فہمی ہوئی تھی. ہماری بی بی سائیں کسی کو زبردستی اپنے سامنے نہیں جھکاتیں. سب اُن کی عزت اور مقام کی وجہ سے خود ہی ایسا کرتے ہیں. اُس دن چچی سائیں نے تو ویسے ہی آپ لوگوں کو بتا دیا تھا کہ ہم سب جھک کر ملتے ہیں بی بی سائیں سے. “
سمن کو خانی کا اِس طرح اپنے خاندان سے بدگمان ہونا پسند نہیں آیا تھا. اِس لیے وہ وضاحت کرتے بولی.
” کس بات کا غصہ تھا اُس وقت اُن کو بلوچ خاندان پر. جو مجھ پر نکالا گیا. “
خانی کو بی بی سائیں کی اُسے اپنے پوتے کی باندی بنانے والی دھمکی یاد آتے ایک بار پھر غصہ آیا تھا.
” نگار ادی کے ساتھ جو آپ کے خاندان والوں نے کیا. اُس کا غصہ تھا. “
سمن کو خانی پہلی نظر میں ہی اچھی لگی تھی. اِس لیے وہ ہی بی سائیں سے نظر بچا کر اُس کے پاس آکھڑی ہوئی تھی.
” کیا مطلب میں سمجھی نہیں. “
خانی نے سوالیہ انداز میں اُس کی جانب دیکھا تھا.
” نگار ادی کو شروع سے ہی پڑھائی کا بہت شوق تھا. ہم حویلی کی لڑکیوں کو بارہ جماعت تک کی ضروری تعلیم حویلی کے اندر ہی دی جاتی ہے. نہ کبھی کسی لڑکی نے آگے پڑھنے کی خواہش کی. اور نہ ہی کبھی آگے پڑھایا گیا.
مگر نگار ادی کو اِس سے آگے بھی پڑھنا تھا. جسے سنتے بی بی سائیں اور گھر کی باقی بڑی خواتین نے تو اُن کی خواہش وہی دبا دی تھی. کیونکہ اُن کے مطابق حویلی سے باہر ہر جگہ دشمن اُن کی زرا سی بھی کمزوری کے لیے گھات لگائے بیٹھے تھے. مگر نگار ادی سیاہل ادا سائیں کے پیار کی وجہ سے شروع سے ہی تھوڑی ضدی رہی تھیں. اُنہوں نے اِس بار بھی اپنی یہ ضد ادا سائیں کے سامنے پیش کردی تھی. جنہوں نے نہ پہلے کبھی اُن کی کوئی خواہش ادھوری رہنے دی تھی. نہ اُس وقت ایسا کیا تھا.
اور اُنہیں پرائیویٹ آگے پڑھنے کی اجازت دے دی تھی. جس کے صرف پیپر دینے ہی اُنہیں یونیورسٹی جانا تھا. جو کہ ادا سائیں نے خود نگار ادی کو ساتھ لے جاکر دلوانے کا کہا تھا.
دو سال تک ادا سائیں ہی نگار ادی کے پیپرز کے دنوں میں اُن کے ساتھ جاتے. سوائے چند ایک بار کے.
اور شاید وہی اُن کا ساتھ نہ جانا نگار ادی کو کسی اور طرف موڑ گیا تھا. میں نہیں جانتی نگار ادی کی ملاقات شہرام بلوچ سے کیسے ہوئی. کب کب اور کہاں رابطہ کیا انہوں نے. مگر ایک سال کے اندر وہ دونوں بہت گہری محبت میں گرفتار ہوچکے تھے. اور ہر صورت ایک ہونا چاہتے تھے.
اُنہوں نے اِس بات کی خبر کانوں کان کسی کو نہیں ہونے دی تھی. وہ جانتے تھے دونوں خاندانوں کے درمیان جو دشمنی چل رہی ہے. وہ سب کی رضا سے ایک کبھی نہیں ہوسکتے. اِس لیے اُنہوں نے خفیہ طور پر فرار ہونے کا ارادہ باندھ لیا تھا. مگر اچانک پتا نہیں کیا ہوا کہ ادا سائیں نے نگار ادی کو یونیورسٹی جاکر پیپر دینے سے روک دیا تھا.
جو بات اُن کے لیے اور زیادہ پریشانی کا باعث بنی تھی. تبھی اُنہوں نے مجھے اپنے راز میں شریک کیا تھا. اور میں اُس وقت اُن کی مدد کرکے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر گئی تھی.
کیونکہ حویلی سے فرار کے دوران اُن کی مخبری ہو گئی تھی. اور وہ پکڑی گئی تھیں. “
بات کرتے سمن کا چہرا آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا. جبکہ خانی بھی دم سادھے یہ ساری باتیں سن رہی تھی.
” جب صرف آپ نگار کے راز سے واقف تھیں تو مخبری کس نے کی تھی.”
خانی کے ذہن میں یہ سوال اٹک گیا تھا.
” مخبری کی نہیں کروائی گئی تھی. شہرام بلوچ کی طرف سے. میرے علاوہ یہ راز شہرام بلوچ ہی جانتا تھا. وہی ہے نگار ادی کا سب سے بڑا گنہگار. سب جانتے بوجھتے اُس نے اپنی محبت کے بارے میں اپنے خاندان والوں کو بتا دیا تھا.
وہ تو چاہتے ہی یہی تھے. خان حویلی کو بدنام کرنا. سیاہل ادا کو ہرانا. اِسی لیے انہوں نے یہ سارا کھیل رچا تھا. اُنہوں نے ہی مخبری کروائی. اُنہیں یہی لگا تھا کہ سردار سیاہل موسیٰ خان اِس بار ہار جائے گا.
مگر ہر بار کی طرح اِس بار بھی اُنہیں ہی منہ کی کھانی پڑی. اگر نقصان خان حویلی کا ہوا. تو ہاتھ بلوچ حویلی والوں کے بھی کچھ نہیں آیا. معاف کیجئے گا. مگر بہت ہی گھٹیا مرد ہیں آپ کے خاندان کے. اگر اتنی ہی دشمنی نبھانے کا شوق ہے تو اپنی مردانگی کے زور پر لڑیں نا. عورتوں کو بیچ میں لاکر اور پیٹھ پیچھے وار کرکے کونسی دشمنی نبھائی جاتی ہے. “
خانی ساکت نظروں سے سمن کی جانب دیکھ رہی تھی. نہیں اُس کے خاندان والے اتنی گھٹیا حرکت نہیں کرسکتے تھے. شہرام بلوچ تو بلکل بھی نہیں.
خانی کسی بات پر بھی یقین کرنے کو تیار نہیں تھی.
” مگر ایسا کیسے ہوسکتا ہے. میں نے خود شہرام بلوچ کو نگار کے لیے روتے تڑپتے دیکھا ہے. وہ بہت محبت کرتا تھا اُس سے. “
خانی کو لگا تھا وہ یہاں پاگل ہوجائے گی. ہر روز ایک نئی عجیب و غریب کہانی اُس کے لیے تیار رہتی تھی.
” کر رہا ہوگا ویسا ہی کوئی ناٹک. جیسا نگار ادی کے سامنے کرکے اُنہیں بے وقوف بنایا. یا پھر شاید شہرام بلوچ کے ساتھ بھی اُس کے خاندان والوں نے دھوکہ یا غداری کی ہو. میں اُس طرف سے کچھ نہیں کہہ سکتی.
مگر اگر شہرام بلوچ اپنے خاندان والوں کے ساتھ ملا ہوا نہیں بھی ہے. تو پھر بھی اُنہیں اپنے راز کے بارے میں بتا کر اُس حوالے سے مدد مانگ کر اُس نے سب سے بڑا دھوکہ اور نقصان نگار ادی کا کیا ہے. “
سمن کے لہجے میں بھی بلوچ خاندان کے لیے بلکل سیاہل خان کے جیسی نفرت موجود تھی.
مگر خانی اتنی جلدی کسی بھی بات کا یقین کرنے والی نہیں تھی. اگر وہ یقین کرنا بھی چاہتی تو کہیں نہ کہیں اُسے لگ جاتا کہ یہ بھی سیاہل خان کی کوئی چال ہوسکتی تھی. وہ شہرام بلوچ سے تصدیق کیے بنا اِس بات پر بھروسہ نہیں کرسکتی تھی.
کیونکہ اُس نے تو جتنا بھی آج تک سن رکھا تھا. وہ یہی تھا کہ خان حویلی والوں نے بلوچ خاندان سے بہت سارے دھوکے کیے تھے. اور ظلم ڈھائے تھے.
” نگار کہاں ہے کیسی ہے وہ.”
خانی کو اُس اَن دیکھی لڑکی کی اذیت پر بہت رونا آیا تھا.
” اُن کی تو کال کوٹھڑی میں ڈالنے کے اگلے دن ہی ڈیتھ ہوچکی ہے. “
سمن کے ضبط کیے آنسو ایک بار پھر جاری ہوچکے تھے. جبکہ اِس بار خانی بھی اپنے آنسوؤں پر بند نہیں باندھ پائی تھی.
” واٹ مگر کیسے. “
خانی کو اِس بات پر شدید جھٹکا لگا تھا. اُسے سمجھ ہی نہیں آیا تھا وہ کیا بولے.
” اُن کے پاس زہر تھی. جو اگلے دن ہی نگل کر اُنہوں نے خود کو اُس کال کوٹھڑی ہی نہیں بلکہ اِس ظالم دنیا سے ہمیشہ کے لیے آزاد کروا لیا. “
سمن کی بات پر خانی کچھ سیکنڈز تو کچھ بول ہی نہیں پائی تھی.
” مگر آپ کی تو پوری فیملی یہاں موجود ہے. اور کسی ایک فرد کے چہرے سے ایسا معلوم نہیں ہورہا کہ ایک ہفتے پہلے اِس خاندان میں جوان موت ہوئی ہے. “
خانی کو لگا تھا. یہاں لوگوں کے سینوں میں دل نہیں پتھر تھے. اتنا سنگدل کوئی کیسے ہوسکتا تھا. سیاہل خان بھی تو پھر اپنی لاڈلی بہن کو کھو کر خوش و خرم مسکرا رہا تھا.
آخر اس شخص کا اصلی چہرا کیا تھا. جو سمن بول رہی تھی. یا جو ہر بار اُس نے دیکھا تھا.
” ہمیں کسی سزا یافتہ کی موت پر ماتم کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے. یہاں موجود سب خواتین کے دل نگار کے دکھ پر اندر سے زخمی ہوچکے ہیں. مگر کوئی بھی کسی مرد کے سامنے اِس بات کا اقرار کرکے خود کسی سزا کا حصہ نہیں بننا چاہتی.”
سمن خود اذیتی کے احساس سے بولی.
” تو اب کہاں گیا تمہارا وہ سردار بھائی. اُس کے اختیار میں تو سب کچھ ہے نا. وہ تو بچا سکتا تھا نا اپنی بہن کو. اُس نے ایسا کیوں نہیں کیا.”
خانی کی سوئی واپس اپنے جانی دشمن پر آکر اٹکی تھی.
” نگار ادی نے سب سے بڑا دھوکہ اُنہیں سے تو کیا. ادا سائیں کے اعتماد, مان اور بھروسے کو چکنا چور کردیا. اور باقی آنے والی ساری لڑکیوں کے لیے باہر نکل کر تعلیم حاصل کرنے کے دروازے ایک بار پھر بند کردیے. “
سمن کی آواز میں اب کے نگار کے لیے غصہ تھا.
” نہیں اِس میں نگار کی کوئی غلطی نہیں ہے. کیا اُس کو اپنی پسند سے زندگی گزارنے کا کوئی حق نہیں. اگر وہ بتا دیتی تو کونسا تمہارا وہ ظالم بھائی اُس کا ساتھ دیتا. تب بھی تو یہی ہونا تھا نا.
جب مرد اپنی عورتوں کو اپنے ہونے کا مان اور اعتبار نہیں بخشتے تو وہ ایسے ہی بغاوت کرتی ہیں. جس کے قصور وار صرف اور صرف وہ نام نہاد مردانگی والے بزدل مرد ہوتے ہیں. جیسے کے وہ سیاہل خان ہے. “
خانی کا غصہ اُس شخص پر ایک بار پھر عود آیا تھا.
” آپ پلیز میرے ادا سائیں کے بارے میں اتنے غلط لفظ استعمال مت کریں. میں اُن کے بارے میں یہ سب نہیں سن سکتی.
اور آپ نہیں جانتی ادا سائیں نے نگار ادی کو کس حد تک مان اور اعتبار بخشا تھا. اُنہوں نے نگار ادی کو بھائیوں سے بڑھ کر پیار دیا. مگر پھر بھی ادی نے اُن کو دھوکہ دیا. اِس سب میں ادا سائیں کا کوئی قصور نہیں ہے. میرے ادا سائیں دنیا کے سب سے اچھے انسان ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے بھائی بھی ہیں. “
کب سے بہت ضبط سے خانی کی سیاہل کے خلاف باتیں سنتے آخر میں سمن تھوڑے تیز لہجے میں بول گئی تھی.
ناراض ہونے کے باوجود وہ اپنے بھائی کے خلاف کچھ نہیں سن سکتی تھی.
اِس سے پہلے خانی اُس سے مزید کوئی بات کرتی. ایمن اُسے بی بی سائیں کا بلاوا دیتی وہاں سے لے گئی تھی.
شاید اُنہیں خانی سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی. اور سمن اپنی بی بی سائیں کو حکم عدولی کرچکی تھی.
خانی نے نوٹ کیا تھا کہ دونوں خاندانوں کی خواتین کے درمیان بھی ایک عجیب سا سرد پن تھا. ایک فنکشن میں ہونے کے باوجود کسی نے آپس میں بات نہیں کی تھی.
یا شاید خاندان کے مردوں کی طرف سے اُنہیں اِس بات کی اجازت نہیں تھی.
خانی کے سر میں پہلے ہی درد تھا. اور سمن کی باتوں سے اُس کا دل عجیب سا بوجھل ہوچکا تھا. کافی مشکل سے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرتے خانی وہاں ایک طرف رکھی چیئر پر خاموشی سے بیٹھتی اپنی ساری سوچوں کو جھٹکتے بلوچی میوزک انجوائے کرنے لگی تھی.
درمیان میں چھوڑی گئی خالی جگہ پر بلوچی خواتین اتنی مہارت سے رقص کرنے میں مصروف تھیں. کہ خانی کا دل چاہا تھا وہ بھی اُن کے ساتھ شامل ہوکر سب کچھ بھولتے اِن لمحوں کو انجوائے کرے.
دل کی خواہش پر وہ ایسا کر بھی لیتی. مگر اچانک آجانے والی عینا کی کال نے اُس کی ساری توجہ کھینچ لی تھی.
” بدتمیز لڑکی ملے بغیر چلی گئی تم. “
خانی نے چھوٹتے ہی اُسے لتاڑا تھا. اُس دن کے بعد اُن کی آج بات ہورہی تھی.
” تمہیں زرا سی بھی شرم آتی ہے. تم کہاں غائب ہوگئی تھی اُس دن اچانک. تمہیں پتا ہے میں کتنی پریشان ہوگئی تھی. اُس اتنی بڑی حویلی میں مجھے لگا تھا جیسے میں کہیں کھو گئی ہوں. اُوپر سے وہاں کی خواتین اتنی عجیب سی نظروں سے دیکھ رہی تھیں مجھے جیسے میں نے بہت برا نقصان کردیا ہو.
اگر میران بھائی کی کال نہ آتی تو میں نے رونا شروع کردینا تھا. اُنہوں نے ہی کہا مجھے کہ تم اب اُن کے ساتھ اپنی آبائی حویلی جاؤ گی.
اور میں تو میران بھائی کی اتنی بےمروتی پر حیران رہ گئی. ایک بار بھی مجھے ساتھ چلنے کو نہیں کہا. بلکہ سیدھے منہ بول دیا تمہیں میرا ڈرائیور چھوڑ آئے گا. “
عینا ایک ہی سانس میں شکوے کرتی آخر میں خانی کو قہقہ لگانے پر مجبور کرگئی تھی.
” سانس تو لے لو یار. آئم ریلی سوری مجھے بلکل نہیں پتا تھا اُنہوں نے ایسا کیا.
اگر میں وہاں ہوتی تو تمہیں کبھی نہ جانے دیتی. عینا میں یہاں ایک شادی میں آئی ہوئی ہوں کیا بتاؤں یار تمہیں. کتنی زبردست شادی ہے. کاش تم یہاں ہوتی. بہت مزا آتا. “
خانی عینا کو بتاتے ایکسائٹمنٹ سے بولی. خانی شور کی وجہ سے ایک طرف زرا سنسان گوشے میں آکھڑی ہوئی تھی.
” واؤ یار. اچھا مجھے یہ بتاؤ وہ اُس دن میران بھائی کے ساتھ ہینڈسم سا بندہ کون تھا. اور یار وہ سردار سیاہل موسیٰ خان کتنا حسین بندہ ہے. مجھے تو لگا تھا وہ کوئی بڑی عمر کا کھڑوس سا ٹھرکی سا بندہ ہوگا. مگر وہ تو میری سوچ کے بلکل اُلٹ نکلا. یار مجھے نہیں پتا تھا یہ بلوچی مرد اتنے خوبصورت ہوتے ہیں. “
عینا کو اپنے اتنی جلدی واپس آجانے کا بہت افسوس ہورہا تھا.
” میران بھائی کے ساتھ میرے تایا کا بیٹا تھا شہرام بلوچ. اور پلیز اُس سردار کی تعریف میرے سامنے تو کرنا ہی مت. جیسا نظر آتا ہے ویسا ہے نہیں. ٹھرکی کا تو پتا نہیں. مگر انتہا کا کھڑوس ضرور ہے. ﷲ دور ہی رکھے اُس جلاد سے. “
خانی چہرے کے بُرے بُرے زاویے بناتی عینا کے سامنے سیاہل خان کی برائیاں کرنے لگی تھی. جو اُسے سمن نے نہیں کرنے دی تھیں.
” اُف خدا ایک تو یہاں نیٹ ورک کا بہت مسئلہ ہے. “
خانی کا ابھی عینا سے بہت ساری باتیں کرنے کا دل تھا. مگر اچانک کال کٹ جانے کی وجہ سے اُن کو رابطہ منقطع ہوگیا تھا.
خانی نے دوبارہ کال کرنی چاہی تھی. جب ٹینٹ کے اس طرف سے اُسے کچھ عجیب سی آوازیں سنائی دی تھیں.
خانی کو غور کرنے پر پتا چلا تھا کہ وہ مردان خانے والی سائیڈ پر کھڑی ہے.
کچھ سوچتے خانی نے مزید آگے ہوتے دوسری سائیڈ پر کھڑے لوگوں کی باتیں سنی چاہتی تھیں. کیونکہ اُسے اُن کی باتوں میں سردار سیاہل کا نام سنائی دیا تھا.
قریب ہونے پر جو باتیں خانی کی سماعتوں سے ٹکرائی تھیں. اُنہوں نے خانی کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی تھی.
خانی منہ پر ہاتھ رکھتے نفی میں سر ہلاتے پیچھے ہٹی تھی.
وہ لوگ اِس فنکشن کے اختتام پر سردار سیاہل موسیٰ خان پر قاتلانہ حملہ کرنے کی بات کررہے تھے.

جاری ہے.