No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
” واٹ کیا یہ علاقہ سردار سیاہل موسیٰ خان کا ہے. “
خانی کے منہ سے بے اختیار نکلا تھا. لیکن جلد ہی اُس نے زبان اپنے دانتوں تلے دباتے خود کو مزید کچھ کہنے سے روکا تھا.
” کیا ہوا تم جانتی ہو اُنہیں.”
عینا اُس کے چہرے کے بدلتے تاثرات کی جانب غور سے دیکھتے بولی. خانی اُس کی بات پر گڑبڑا سی گئی تھی.
” عینا تم بھی کچھ بھی بولتی ہو. میں کیسے جانتی ہوں گی یہاں کسی کو. فرسٹ ٹائم آئی ہوں. ابھی جو انہوں نے بتایا تو تب ہی میں حیران ہو رہی کہ یہ اتنا سارا علاقہ اِس ایک بندے کا. “
خانی بہت ہی مشکل سے بات بناتے بولی. اور دل ہی دل میں خود کو کوسنے لگی تھی. کیونکہ اُسے اپنی زبان پر کنٹرول کم ہی رہتا تھا.
” میم سائیں. صرف یہ علاقہ نہیں بلکہ آدھے سے زیادہ بلوچستان ہی سردار سائیں کا ہے. سوائے چند علاقے چھوڑ کر. “
اُس مقامی شخص جس کا نام بخشل تھا کے لہجے میں اُنہیں سیاہل موسیٰ خان کے لیے بہت عزت اور محبت چھلکتی نظر آئی تھی. جو خانی کو کسی صورت ہضم نہیں ہوئی تھی.
” اوہ اگر تمہارے سردار سائیں اتنے ہی پاور فل ہیں تو وہ چند علاقے کس کے لیے چھوڑ رکھے ہیں. “
عینا کو اِن سب باتوں میں بہت ہی دلچسپی پیدا ہوئی تھی. اِس لیے وہ اپنی معلومات میں مزید اضافہ کرنے کے لیے سوالیہ انداز میں بخشل کی جانب دیکھتے بولی.
جبکہ خانی نے اِس بار خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا تھا. وہ ایسے ظاہر کر رہی تھی جیسے اُسے اِس قصے میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے. لیکن اُس کی سماعتیں اُن دونوں کی جانب ہی تھیں.
” کیونکہ باقی کا علاقہ افضال بلوچ اور اُن کے بیٹوں کی ملکیت میں ہے. بظاہر تو باقی صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی حکومت اور پولیس فورسز کے تمام ادارے کام کررہے ہیں. مگر در پردہ وہ اِن با اثر لوگوں کے ہاتھوں کی کٹ پتیلاں بن کر رہ گئے ہیں. اُن کے پاس اپنی مرضی سے کام کرنے کا اختیار نہیں ہے.
سردار سائیں کے خاندان اور بلوچ خاندان میں برسوں کی دشمنی چلتی آرہی ہے. جسے ختم کرنے کو کوئی بھی تیار نہیں ہے. اُن کی اِس ضد اور جنگ میں کبھی بلوچستان کو بہت زیادہ فائدہ بھی پہنچتا ہے. اور کبھی نا قابلے یقین نقصان بھی. “
وہ شخص اپنی باتوں میں اُن کی دلچسپی دیکھ تفصیل سے اُنہیں سب بتانے لگا تھا.
” اور اِس سب کے باوجود بھی تمہیں اپنے سردار سائیں سے اتنا پیار ہے. “
خانی کو اُس شخص کا سیاہل موسیٰ خان کے لیے اتنی عزت سے بات کرنا بلکل بھی پسند نہیں آرہا تھا.
” جی میم سائیں. بہت پیار کرتے ہیں ہم لوگ اپنے سردار سائیں سے. اُن کی خاطر اپنی جان بھی قربان کرنے کو تیار ہیں ہم. “
بخشل عقیدت بھرے لہجے میں بولا تھا.
” ہممہ اوکے. بہت شکریہ اتنی معلومات دینے کے لیے. چلو عینا ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے. یہاں کھڑے ہوکر کسی کی بائیو گرافی سننے کا.”
خانی کو پہلے تیز دھوپ اور اب اِس شخص کی باتیں دونوں ہی اچھی طرح تپا گئے تھے. اِس لیے وہ عینا کو بھی آنے کا اشارہ کرتی گاڑی میں جا بیٹھی تھی.
” ویسے جو بھی ہے لیکن تمہارے یہ سائیں وغیرہ مہمان نواز تو بلکل بھی نہیں لگتے مجھے. مطلب کہ اگر یہ اُن کا علاقہ ہے تو یہاں آئے مہمان بھی اُن کے مہمان ہوئے. جن کے پاس رُک کر سلام دعا کرنے. زرا سی مہمان نوازی دیکھا کر اپنے گھر دعوت پر انوائٹ کرنے کے بجائے وہ ہم پر اپنے علاقے کی یہ گرم مٹی اُچھال کر چلے گئے.
بہت ہی کوئی بے مروت انسان ہیں. “
عینا ابھی مزید بھی کچھ بولتی جب خانی کی آنکھیں دیکھانے پر وہ بخشل سے چند ایک مزید معلومات لیتی گاڑی میں خانی کے برابر آبیٹھی تھی.
” عینا کیا ضرورت تھی اُس شخص سے اتنی باتیں کرنے کی. یہ قبائلی لوگ اپنے مالکوں کے بہت وفادار ہوتے ہیں. اب اگر جو یہ واقعی اُس سیاہل خان کا آدمی نکلا تو ہماری ساری باتیں جا کر اُسے بتا آئے گا. اور جہاں تک میں جانتی ہوں یہ بظاہر مہذب دکھنے والے سردار ٹائپ لوگ اندر سے انتہا کے جنگلی ہوتے ہیں. “
خانی نے عینا کو سمجھانا چاہا تھا. کیونکہ اُس نے ماہناز بی بی سے یہاں کی تھوڑی بہت کہانیاں سن رکھی تھیں. کہ کیسے چھوٹی چھوٹی باتوں پر خاندان کے خاندان ختم ہوجاتے تھے. افغانستان کا بارڈر بلکل ساتھ ہونے کی وجہ سے اِن علاقوں میں اسلحہ کی کمی بلکل بھی نہیں تھی. ہر دوسرے بندے کے پاس اسلحہ موجود ہوتا تھا.
” نہیں خانی بہت ہی سادہ سا بندہ لگ رہا تھا. یہ کہاں جاسوس ہوسکتا ہے کسی کا. “
عینا کو یہ سب خانی کا وہم ہی لگا تھا.
” ہوپ سو ایسا ہی ہو. “
خانی اُس کی بات پر کچھ خاص انکار یا اقرار نہیں کر پائی تھی.
” اچھا چھوڑوں اِن سب باتوں کو. میں تو بہت خوش ہوں. سسی پنوں کا مزار دیکھ کر. “
عینا مسکراتے ہوئے بولی. جس پر خانی بھی اُس کی جانب دیکھ کر مسکرائی تھی. وہ جانتی تھی عینا کو کتنا شوق تھا یہاں آنے کا.
” ہممہ.”
خانی کے لاپرواہی سے ہنکارا بھرنے پر عینا افسوس سے اُسے دیکھنے لگی تھی.
” ﷲ کرے تمہیں بھی محبت ہو. تو پتا چلے تمہیں کہ محبت کا جذبہ جسے تم مذاق سمجھتی ہو کتنا طاقت ور ہوتا ہے. انسان کو بے بس کرکے رکھ دیتا ہے.
یہ دنیا کا ایسا زور آور جذبہ ہے جو ماضی میں کتنے ہی بادشاہوں کو فقیر بننے پر مجبور کرگیا. بہت خوش قسمت لوگ ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں بہت آسانی سے اُن کی سچی محبت مل جاتی ہے. لیکن ایسے لوگ دنیا میں بہت کم ہوتے ہیں.
کیونکہ بہت سے لوگ محبت میں خوار ہوکر اپنی جانیں قربان کردیتے ہیں. مگر اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتے.
لیکن میرے مطابق اِسی بات میں ہی تو مزا ہے. کیونکہ وہ محبت سچی محبت ہے ہی نہیں. جو اتنے آرام سے آپ کی جھولی میں آگرے. “
عینا کھوئے کھوئے لہجے میں بولتے خانی کو محبت ہونے کی دعا دینے کے ساتھ اُسے اچھے سے محبت جیسے جذبے سے بھی باور کروا گئی تھی.
جس پر خانی نے ہمیشہ کی طرح بے فکری سے سر ہلایا تھا.
” تو تمہارا کیا مطلب ہے. تمہاری اور جنید کی محبت سچی نہیں ہے. “
خانی کو اُس کی آخری بات پر کافی حیرانی ہوئی تھی.
” ہاں تو میں نے آج تک کبھی کہا کہ مجھے اُس سے سچی محبت ہے. ہم دونوں تو صرف ایک دوسرے کو لائک کرتے ہیں. انڈرسٹینڈنگ بھی اچھی تھی. تو سوچا منگنی کر لیں. “
عینا ایسے بولی جیسے وہ اپنی نہیں کسی ڈرامے کے مصنوعی کرداروں کی بات کررہی ہو.
” عینا بہت عجیب ہو تم. میں تمہیں کبھی نہیں سمجھ سکتی. ایک طرف تم محبت کی اتنی بڑی سکالر بنی پھرتی ہو. اور دوسری جانب اپنی لائف میں محبت کو بلکل ہی آؤٹ رکھا ہوا ہے.”
خانی اُلجھن بھری نظروں سے عینا کی جانب دیکھتے ہوئے بولی.
” ہاں میں نہیں چاہتی کہ میری زندگی میں کبھی بھی محبت جیسا جان لیوا جذبہ شامل ہو. میں بہت بزدل اور کمزور لڑکی ہوں. اِس محبت کے وار سہنہ کم از کم میرے بس کی تو بات بلکل بھی نہیں ہے. “
عینا نے ہنستے ہوئے استہزایہ لہجے میں کہا تھا.
” تو مجھے کیوں دعا دے رہی ہو محبت کی. میں جیسے بہت بہادر ہوں نا. “
خانی اُسکی جانب مصنوعی غصے سے دیکھتے ہوئے بولی.
” کیونکہ مجھے تم بہت مضبوط لگتی ہو. اور ایسا بھی لگتا ہے کہ تم اِس سب کو بہت اچھے سے نبھا سکتی ہو.
میں چاہتی ہوں تمہاری بھی محبت کی لازوال داستان بنے اور جیسے سسی پنوں کی سٹوری میں اُن کی دوست دلاری کا ذکر ہے اُسی طرح میرا بھی کسی طرح سے تو ذکر تمہاری داستان میں لکھا جائے. “
عینا نے بہت ہی سنجیدگی سے کہتے آخر میں زور دار قہقہ لگایا تھا. جس میں خانی نے بھی اُس کا بھرپور ساتھ دیا تھا.
لیکن وہ دونوں نہیں جانتی تھیں.کہ کبھی کبھی مذاق میں بھی کہیں باتیں آگے چل کر حقیقت بن کر آپکے سامنے آکھڑی ہوتی ہیں. جن سے پھر چاہ کر بھی آپ پلٹ نہیں سکتیں.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” کیا بکواس کررہے ہو کیسے پکڑے جا سکتے ہیں ہمارے آدمی. اتنے خفیہ پیمانے پر کیے گئے منصوبے کے بارے میں آرمی کو کیسے خبر ہوسکتی ہے. نہیں ہم اِس وقت اتنا بڑا نقصان اُٹھانے کے متحمل بلکل بھی نہیں تھے.
تم اور تمہاری نفری کہاں مر گئی تھی. کوئی بھی بچانے کیوں نہیں گیا میرے آدمیوں کو. “
شہرام بلوچ اپنے سامنے کھڑے انسپکٹر اور اپنے آدمیوں پر دھاڑتا آپے سے باہر ہوا تھا.
ایک گھنٹے پہلے اُس کی مہینوں کی محنت غارت ہوچکی تھی. اِس وقت اُس کا دل چاہ رہا تھا کہ ہر چیز تہس نہس کر دے.
ضلع چاغی کے علاقے نوشکی میں افغان بارڈر پر اسمگلنگ کے دوران اُس کے آدمی بڑی تعداد میں تمام منشیات کے ساتھ پکڑے جاچکے تھے.
سب سے زیادہ جو چیز اُس کے قہر میں اضافہ کر رہی تھی. وہ یہ تھی کہ ابھی تک اُسے اُس کا مجرم بھی نہیں مل پایا تھا.
” سائیں ہمیں خود سمجھ نہیں آرہا کہ آخر کون اتنی جرأت کرسکتا ہے. “
شہرام کا خاص آدمی باسط خود پریشانی کے عالم میں سر جھکائے کھڑا تھا.
جب ذلفی ایک آدمی کو گریبان سے پکڑے گھسیٹتے ہوئے اندر لایا تھا.
” سائیں یہ ہے وہ نمک حرام جس نے ہماری مخبری کروائی ہے. میں نے ابھی اِسے کسی سے مشکوک انداز میں فون پر بات کرتے دیکھا “
ذلفی روتے گرگراتے اُس درمیانی عمر کے شخص کو شہرام بلوچ کے قدموں میں پھینکتے ہوئے بولا. ذلفی کی بات پر پہلے سے بپھرے شہرام بلوچ کی آنکھوں میں خون اُتر آیا تھا.
وہ پاس کھڑے اپنے آدمی کے ہاتھ سے چاقو کھینچتا اُس شخص کی جانب بڑھا تھا. اُس آدمی نے خوف کے مارے کلمہ پڑھتے اپنی آنکھیں موند لی تھیں. اُسے لگا تھا موت کا فرشتہ سر پر آن پہنچا ہے. مگر شاید ابھی اُس کی کچھ سانسیں باقی تھیں. کیونکہ اِس سے پہلے کہ شہرام اُس شخص کی گردن پر وار کرتا کچھ فاصلے پر ٹیبل پر پڑا موبائل بج اُٹھا تھا.
” سائیں سردار سیاہل موسیٰ خان کا فون ہے. “
موبائل پر نظریں جمائے باسط کی آواز پر شہرام کا ہاتھ ہوا میں ہی معلق ہوچکا تھا. اور اگلے ہی لمحے جیسے ساری بات شہرام کی سمجھ میں آچکی تھی. اُسے چند ہی سیکنڈ لگے تھے یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ ساری سازش کس کی تھی. وہ کیسے بھول سکتا تھا کہ بلوچ خاندان کے خلاف اِس ایک شخص کے علاوہ کسی میں جرات نہیں تھی اُس کے خلاف جانے کی.
” تو اِس سب کے پیچھے تم تھے سیاہل خان. “
ہاتھ میں پکڑا خنجر وہیں پھینک کر شہرام بلوچ نے فون کان سے لگاتے دھاڑ کر کہا.
جس کے جواب میں اُسے ایک جاندار قہقہ سنائی دیا تھا. جو اُسے مزید انگاروں پر لوٹا گیا تھا.
” آخر شہرام بلوچ بھی اپنے باپ دادا جیسا ہی نکلا مظلوموں کو سزا دے کر تم سب کی کونسی انا کو تسکین ملتی ہے آج بتا ہی دو مجھے. اگر اتنا ہی غصہ بھرا ہے تم لوگوں میں تو مجھ سے مقابلہ کرو.
ہاہاہاہاہا میں بھی کیا بول جاتا ہوں. تم لوگوں کی اتنی اوقات کہاں کہ مجھ تک پہنچ سکو. تم لوگوں نے تو صرف کمزوروں اور لاچاروں پر اپنی طاقت کا زور چلانا سیکھا ہے. “
سیاہل خان بظاہر مسکراتے ہوئے بولا. مگر اُس کے لہجے کا زہریلا اور سرد پن شہرام بلوچ با آسانی محسوس کرسکتا تھا.
” تو تم نے اپنی یہ بکواس سنانے کے لیے فون کیا ہے مجھے.”
شہرام بلوچ کو اِس وقت اتنا غصہ آرہا تھا کہ اُس کا دل چاہا تھا یہ شخص اُس کے سامنے ہو اور وہ اِس کا سینہ گولیوں سے چھلنی کردے.
” نہیں یہ بتانے کے لیے کہ جس شخص کو تم میرا جاسوس سمجھ کر مارنے لگے ہو. وہ بچارہ تو تمہارا وفادار ہے. تمہیں کیا لگتا ہے میرا مخبر اتنا عام انسان ہوگا. اور اتنی آسانی سے تمہارے ہاتھوں چڑھ جائے گا. میرے ہوتے ہوئے تم اور تمہارے خاندان والے اُس کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتے.
اور یہ سب جو میں نے کیا ہے یہ تین مہینے پہلے میرے علاقے سے تمہارے آدمیوں کے ہاتھوں اُٹھائی گئی لڑکی کا بدلہ اُتارنے کے لیے تھا. کیونکہ اتنا تو تم جانتے ہی ہو گے کہ اُدھار چکانا مجھے کتنے اچھے سے آتا ہے. “
اپنا لہجہ ہمیشہ کی طرح دھیما رکھتے سیاہل خان نے اِس بار بھی لفظوں کی مار مارتے مقابل کو بھڑکا دیا تھا.
مگر یہ تو کچھ بھی نہیں تھا اُس کی اگلی کہی جانے والی بات شہرام بلوچ کو سچ میں آگ لگا گئی تھی.
” سننے میں آیا ہے کہ میرے علاقے میں تمہارے خاندان کی دو لڑکیاں آئی ہوئی ہیں. کہو تو تھوڑی مہمان نوازی ہو جائے اُن کی.
سنا ہے کافی خوبصورت بھی ہیں. تم جانتے ہو مجھے تو ویسے بھی خوبصورتی بہت اٹریکٹ کرتی ہے. “
سردار سیاہل موسیٰ خان اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے کسی احساس کے تحت مسکراتے شہرام بلوچ کی دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھ گیا تھا.
” خبردار سیاہل خان ہر گز نہیں. میرے خاندان کی لڑکیوں پر بُری نظر ڈالنے کی کوشش مت کرنا میں چھوڑوں گا نہیں تمہیں.”
شہرام بلوچ نے غصے سے دھاڑتے سامنے پڑا ٹیبل اُلٹ دیا تھا.
” اتنا غصہ مت کرو شہرام بلوچ جو تمہاری صحت کے لئے ہی نقصان کا باعث ہو. اگر اُن لڑکیوں کو نقصان پہنچانا ہوتا تو اب تک وہ میرے قبضے میں ہوتیں. مگر فلحال میرا ایسا کوئی موڈ نہیں ہے. بچاری اتنی دور سے آئی ہیں زرا آرام سے ہمارا بلوچستان تو دیکھ لیں. پھر اُس کے بعد ہم بھی اُنہیں دیکھ لیں. “
سیاہل خان دبے لفظوں میں شہرام بلوچ کو بہت کچھ باور کرواتا فون بند کر چکا تھا.
لیکن سیاہل کی باتوں میں چھپی دھمکی کی وجہ سے ابھی تک شہرام کی کنپٹی کی نسیں پُھولی ہوئی تھیں.
” یہ میران بلوچ کبھی کوئی بات نہیں سنتا. کیا ضرورت تھی اپنی بہن کو اِس طرح اکیلا بلوچستان بھیجنے کی وہ بھی سیاہل خان کے علاقے میں. “
شہرام بے چینی سے ٹہلتے بڑبڑاتے ہوئے بولا
” سائیں آپ میران سائیں کو اطلاع کر دیں کہ بی بی سائیں کو خطرہ ہے یہاں. وہ اُنہیں واپس بلوا لیں. “
باسط نے اُسی طرح سر جھکائے اپنی صلا پیش کی تھی. جس پر اپنی پیشانی مسلتے شہرام بلوچ نے نفی میں سر ہلایا تھا.
” نہیں میں ایسا کچھ نہیں کر سکتا. سیاہل خان اُن لڑکیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے. اگر میران کو میں نے یہ خبر دے دی تو وہ اُن لوگوں کو واپس بلوا لے گا. اور سیاہل خان ایسا ہونے نہیں دے گا. اُس کی مرضی کے بغیر اُس کے علاقے میں کچھ نہیں ہوسکتا. ایسا کرنے سے اُن لڑکیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے. “
شہرام بلوچ عجیب سے شش و پنج کا شکار ہوچکا تھا. اُس کی پریشانی کا اندازہ اُس کے چہرے سے آسانی سے لگایا جاسکتا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
سسی پنوں کے مزار سے نکل کر اب اُن دونوں کا رُخ لسبیلہ کی سب سے خوبصورت جگہ سونمیانی ساحل کی جانب تھا.
وہاں جانے کا راستہ بہت ہی خوبصورت تھا. راستے میں کبھی بہت ہی خوبصورت بلند و بالا پہاڑی سلسلہ شروع ہو جاتا تو کبھی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتی سر سبز ہریالی شروع ہوجاتی.
وہ دونوں باتوں کے دوران انجوائے کرتیں اپنی منزل کی جانب گامزن تھیں. خانی کے دماغ میں ابھی بھی وہ منظر گھوم رہا تھا. جب سسی پنوں کے مزار پر اُس نے بہت سے لوگوں کو وہاں ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگتے دیکھا تھا. وہ تب سے ایک عجیب سی اُلجھن کا شکار تھی.اور اِس وقت اُس کی کنفیوژن دور کرنے کیلئے انا بی بھی اُس کے ساتھ نہیں تھیں.
جب اچانک اُس کی نظر روڈ سائیڈ کی ایک طرف بنے بہت ہی پیارے مدرسے پر پڑی تھی. جہاں سے بہت ہی خوبصورت بلوچی لباس میں ملبوس چھوٹی بچیاں اور بڑی خواتین اُسے آتی جاتی دکھائی دی تھیں.
” ڈرائیور گاڑی روکو. اور اُس مدرسے کی جانب ٹرن لو. ہمیں نماز پڑھنی ہے. “
عینا نے گھڑی کی جانب دیکھا جہاں نماز کا ٹائم ہورہا تھا. اُن دونوں نے کبھی سفر کے دوران بھی اپنی نماز قضا نہیں ہونے دی تھی.
انا بی نے شروع سے ہی اُسے باقاعدگی سے نماز ادا کرنے کی عادت ڈال رکھی تھی.
اکثر لوگ سفر کے دوران یہ سمجھتے ہیں کہ نماز اگر رہ بھی گئی تو کوئی بات نہیں بعد میں قضا ادا کردیں سفر میں ہونے کی وجہ سے اُنہیں چھوٹ مل جائے گی. مگر ایسا نہیں ہے جیسے اسلام میں لوگوں کے لیے ہر کام میں آسانیاں پیدا کی گئی ہے. ویسے ہی سفر کے دوران نماز کی رکعت کم کرنے کا حکم دیا گیا ہے. لیکن سفر میں بھی نماز کے ساتھ لاپرواہی برتنے کی اجازت نہیں ہے.
گاڑی سے اُتر کر وہ دونوں مدرسے کی جانب بڑھ گئی تھیں. اُن دونوں کی نظریں دلچسپی سے وہاں موجود عورتوں کے پہناوے کا جائزہ لے رہی تھیں.
بڑے بڑے گھیرا دار فراک پہنے جن کے گلے پر مختلف رنگوں کے دھاگوں سے لمبائی میں کام کیا گیا تھا. اِسی طرح لباس کے سامنے والے حصے , پتلون اور آستینوں کے کفوں پر اور کمر سے لے کر فراک کے کناروں تک مختلف دھاگوں کے ملاپ سے بہت ہی منفرد اور خوبصورت کڑھائی کی گئی تھی.
” یہ لوگ اپنی روزمرہ کی لائف میں اتنے ہیوی ڈریسز کے ساتھ کیسے کام کرتی ہوں گی. کتنی مشکل پیش آتی ہوگی نا اِنہیں. “
عینا ستائشی نظروں سے اُن کی جانب دیکھتے بولی.
جاری ہے
¤¤¤¤¤¤¤¤
