Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

” کیا ہوا میری سردانی اتنی جلدی گھبرا گئی. ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں. “
خانی کے لرزتے وجود کو نرمی سے اپنے سینے میں بھینچتے سیاہل سرگوشی بھرے لہجے میں بولا.
خانی کی سانسیں اِس قدر تیز رفتار سے چل رہی تھیں. کہ وہ کوئی جواب ہی نہیں دے پائی تھی.
” لگتا ہے ابھی بھی ناراضگی برقرار ہے. دوبارہ کوشش کرنی پڑے گی منانے کی. “
خانی کی جانب سے کوئی جواب نہ پاکر سیاہل نے زرا سا جھکتے خانی کے کان کی لوح کو لبوں سے چھوا تھا.
جبکہ اُس کی بات کا مفہوم سمجھتے خانی نفی میں سر ہلاتے فوراً پیچھے ہٹی تھی.
” سیاہل خان آپ بہت بُرے ہیں. مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی. دور رہیں مجھ سے. اگر اب دوبارہ میرے اتنے قریب آئے تو اچھا نہیں ہوگا. “
پہلے سیاہل کی جان لیوا حرکت اور اب اُس کی وارفتگی بھری چھیڑتی شوخ نگاہیں اُسے خود میں ہی سمٹنے پر مجبور کررہی تھیں.
اِس لیے اپنی خفت مٹانے کی کوشش کرتے وہ سیاہل کا دھیان بھٹکانے کے لیے تڑخ کر دھمکی آمیز لہجے میں بولی.
جس کا ہمیشہ کی طرح سیاہل خان پر اُلٹا اثر ہی ہوا تھا.
” تم مجھے دھمکی دے رہی ہو. “
سیاہل دیوار پر بازو ٹکاتے خانی کے مزید قریب ہوتے اُس کے اُوپر تقریباً جھک آیا تھا.
جس پر خانی کی نارمل ہوتی سانسوں میں ایک بار پر طوفان برپا ہوچکا تھا.
اب کی بار سیاہل کے ہونٹوں نے خانی کی چمکتی نوز پن کو چھوا تھا.
وہ آج لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی. کہ سیاہل کا دل مسلسل اُسے گستاخیاں کرنے پر اُکسا رہا تھا.
” سیاہل خان یہ غلط ہے. آپ اِس طرح مجھے کنفیوز نہیں کرسکتے. “
خانی ہولے سے منمنائی تھی.
سیاہل کی اتنی قربت پر خانی کے حواس ساتھ چھوڑ رہے تھے.
” کچھ غلط کہاں کررہا ہوں. میں تو پیار کررہا ہوں. “
سیاہل نے محبت پاش نظروں سے خانی کی لرزتی پلکوں کا حسین رقص دیکھا تھا.
وہ پہلے ہی اس لڑکی کے عشق میں پور پور ڈوب چکا تھا. جس میں سے جو تھوڑی بہت کسر رہ گئی تھی. وہ اب پوری ہورہی تھی.
سیاہل خان اب لمحہ بہ لمحہ اُس کی حسین اداؤں پر مزید اُس کا دیوانہ ہو رہا تھا.
” مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے. “
خانی نے اب کی بار رحم طلب نظروں سے سیاہل خان کی جانب دیکھا تھا. جس پر سیاہل آخر کار اُس کی حالت پر ترس کھاتے فاصلے پر ہوتا بیڈ پر جا بیٹھا تھا.
” جی محترمہ بولیں کیا ضروری بات کرنا چاہتی ہیں آپ ہم سے. “
سیاہل کے پیچھے ہٹنے پر خانی کی سانسیں کچھ حد تک بحال ہوئی تھیں. مگر آنکھوں کی شوخیاں دور سے بھی جاری تھیں. جن پر خانی کسی صورت بندھ نہیں باندھ سکتی تھی.
اپنی ساری ہمتیں اکھٹی کرتے خانی نے سامنے بیٹھے وجاہت اور خوبصورتی کے شاہکار اُس شاندار مرد کی جانب دیکھا تھا. جو صرف اور صرف اُس کا تھا. سیاہل خان کے دل پر صرف اُس کی حکمرانی تھی یہ بات خانی کو عرش پر پہنچا دیتی تھی. اُس کی خاطر یہ شخص کسی سے بھی لڑ جانے کو تیار رہتا تھا. مگر اُس کی عزت اُس کی ذات پر اک حرف بھی برداشت نہیں کرسکتا تھا.
” سیاہل خان کیا آپ مجھے اتنے بڑے جھوٹ بولنے اور غلط فہمی کی بنیاد پر آپ کو اُس خطرناک جگہ پر بلا کر انجانے میں نقصان پہنچانے میں شریک ہوکر کی جانے والی غلطی پر معاف کرسکتے ہیں. میں جانتی ہوں میرا قصور بہت بڑا ہے. اِسی لیے میں اب تک اُس بات پر خود کو معاف نہیں کر پائی. “
خانی ندامت سے سر جھکائے سیاہل خان کے سامنے ہاتھ جوڑ گئی تھی. جسے دیکھتے سیاہل تڑپ کر آگے بڑھا تھا.
” پاگل ہوگئی ہو خانی. یہ کیا حرکت تھی. آئندہ کبھی یہ مت کرنا ورنہ اچھا نہیں ہوگا. “
سیاہل نے خانی کے دونوں ہاتھ تھامتے اُسے غصے سے وارن کیا تھا.
اُسے خانی کا یوں اپنے سامنے جھکنا انتہائی بُرا لگا تھا.
” خانی میں تمہاری جھوٹ والی غلطی اُسی وقت ہی معاف کر گیا تھا. جب تم بنا ایک بھی سوال یا احتجاج کیے میرا مان رکھتے اپنا سب کچھ چھوڑتے میرے ساتھ آگئی تھی.
غصہ مجھے صرف ایک بات پر تھا. کہ تم اتنی بڑی بے وقوفی کرکے خود کو کیسے خطرے میں ڈال سکتی ہو. تم جانتی ہو اُس دن تم پر ارباز کو گن تانے دیکھ میں غصے سے کس قدر پاگل ہو اُٹھا تھا. آج بھی یہ سوچ کر مجھے اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوتی ہے. کہ اگر پہنچنے میں تھوڑی سی دیر ہوجاتی تو کتنی بڑی انہونی ہوسکتی تھی. تمہیں اگنور کرکے اُسی کی چھوٹی سی سزا دے رہا تھا. مگر تم نے تو اپنی اِن قاتلانہ اداؤں سے وہ بھی زیادہ دیر برقرار نہیں رہنے دی. “
سیاہل نے خانی کے دونوں ہاتھ تھامے اپنی والہانہ چاہت کا اظہار کرتے آخر میں اُسے خفگی سے گھورا تھا.
خانی مبہوت سی سیاہل خان کو دیکھے گئی تھی. کیا تھا یہ شخص ہر بار وہ اُسے پہلے سے کہیں زیادہ محبت کرنے پر مجبور کر جاتا تھا.
” ایسے کیا دیکھ رہی ہیں سردانی صاحبہ. اپنے سردار کو نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا. “
سیاہل نے اُس کی بے خود نظروں کا ارتکاز نوٹ کرتے چھیڑا تھا. جس پر خانی فوراً حواسوں میں آتے خفت سے سُرخ پڑی تھی.
” بالکل بھی نہیں. اب سردار سیاہل خان اتنا بھی کوئی حسین نہیں ہے کہ اُسے خانی کی نظر لگا جائے. “
خانی نے اپنے ہاتھ اُس کی گرفت سے آزاد کرواتے اُس کے مسلسل چھیڑنے کا بدلہ لیتے اُس کے پاس سے ہٹنا چاہا تھا.
” اچھا جی. فرار کہاں ہورہی ہو. اپنی بات کا جواب تو لیتی جاؤ. “
سیاہل نے خانی کی کلائی پکڑتے اُسے روکا تھا.
” نہیں مجھے نہیں چاہئے کوئی جواب. “
خانی پھر سے سیاہل خان کے بدلتے تیور دیکھ اپنی کلائی چھڑواتے واش روم کی جانب بڑھ گئی تھی.
اِس بار سیاہل نے بھی اُسے جانے دیا تھا. اُسے ایک ضروری کال کرنی تھی. اِس لیے موبائل ہاتھ میں لیے وہ ٹیرس پر چلا گیا تھا.
خانی شاور لے کر فریش ہوتی کمرے میں آئی تھی. جہاں سیاہل خان کو نہ پاکر وہ تھوڑا ریلیکس ہوئی تھی. ورنہ سیاہل کی بولتی شوخ نگاہوں اور جان لیوا قربت کو سہنا اُس نازک جان کے لیے بہت مشکل تھا.
گیلے بالوں کو خشک کرتے سیاہل کے خیالوں میں ہی کھوئے خانی کے ہونٹوں پر ایک دلفریب سی مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی. وہ سیاہل کی سوچوں میں اِس قدر گم تھی کہ اپنے قریب آکر کھڑے ہوتے سیاہل خان کی آہٹ سن ہی نہیں پائی تھی.
ہوش تو اُسے تب آیا جب سیاہل نے اُسے پیچھے سے آکر اپنی بانہوں کے حصار میں جکڑا تھا.
” جب جیتا جاگتا انسان سامنے موجود ہے. تو اُس کے خیالوں میں جانے کی کیا ضرورت ہے. “
سیاہل نے خانی کے گال کے ساتھ اپنا گال رگڑتے اُس کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں اُتارا تھا.
جبکہ سیاہل کی باریک داڑھی کی چبھن خانی کی سانسیں تیز کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کا گال لال کرگئی تھی. اُس کی زرا سی پیش قدمی پر خانی کا دل تو ویسے ہی دھڑک دھڑک کر پاگل ہو اُٹھتا تھا. مگر اِس وقت وہ عجیب گھبراہٹ کا شکار تھی. جسے سیاہل خان ایک نظر میں ہی بھانپ گیا تھا.
” کیا خانی سیاہل خان مجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہے. “
سامنے آئینے سے خانی کا گھبراہٹ سے زرد پڑتا چہرا دیکھ سیاہل جیسے اُس کے دل کی بات سمجھتا اُس کے بالوں میں چہرا چھپاتے محبت سے بولا.
” نہیں…. “
خانی نے فوراً نفی میں سر ہلایا تھا. کچھ بھی ایسا ویسا بول کر وہ سیاہل خان کو کسی صورت ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی. جس نے اُس کی خاطر بہت کچھ سہا تھا.
خانی کے انکار پر سیاہل کے ہونٹوں کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی.
سیاہل نے خانی کو دونوں کندھوں سے تھام کر اپنے سامنے کیا تھا.
” تم ابھی تک مجھے پوری طرح سے نہیں جان پائی ہو. مگر سیاہل خان اپنی خانی کی رگ رگ سے واقف ہے. “
سیاہل کی بات پر خانی نے حیرانی سے نظر اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا.
” میری جان میں جانتا ہوں. یہ سب بہت جلدی اور اچانک ہوا ہے. اور تم خود کو ابھی ذہنی طور پر اِس رشتے کے لیے تیار نہیں کرپائی.
خانی ہمارا رشتہ جسم کا نہیں روح کا ہے. تم جتنا چاہے ٹائم لے سکتی ہو. تم میرے قریب ہو میری دسترس میں ہو. میرے لیے یہی بات سب سے زیادہ سکون کا باعث ہے.”
سیاہل نے اپنی خانی کی مشکل آسان کرتے جھک کر اُس کی پیشانی چوم لی تھی.
جبکہ خانی کچھ دیر بعد اُس کی بات کا مفہوم سمجھتے محبت بھری نظروں سے اُس کی جانب دیکھتی اُس کے سینے پر سر رکھ گئی تھی.
جو ہمیشہ کی طرح بن کہے ہی اُس کے دل کی بات سمجھ گیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

میران بہت زیادہ بھڑکا ہوا کمرے میں داخل ہوا تھا. اُس کی اسد سے اچھی خاصی لڑائی بھی ہوچکی تھی. جو اُسے اپنا بیان بدلنے اور سیاہل خان کے خلاف ایکشن لینے پر راضی کررہا تھا.
شہرام کے علاوہ گھر کے تمام مرد حضرات اُس کی اِس بات کی وجہ سے اُس کے خلاف ہوچکے تھے.
مگر میران کو اِس وقت اپنی بہن کے علاوہ کسی کی پرواہ نہیں تھی. جس کو وہ اِنہی سب لوگوں کی باتوں میں آکر خود سے بدظن اور دور کرچکا تھا.
میران اِس وقت بہت ہی غصے اور تکلیف میں تھا. اُس کے بازو کا درد ریسٹ نہ کرنے اور مسلسل حرکت کرنے کی وجہ سے بڑھ چکا تھا.
بیڈ کے قریب آتے میران نے تکلیف کے باوجود کوٹ اُتار کر صوفے پر اُچھال دیا تھا. جب اچانک اُس کی نظر ٹو سیٹر صوفے پر بے خبر سوئی شہرین پر پڑی تھی.
میران کی دھمکی کے زیرِ اثر وہ اِس وقت اپنے مخصوص تھان سے بالکل آزاد تھی. لائٹ گرین سٹائلش سی لانگ شرٹ اور ٹراؤزر کے ساتھ ہم رنگ دوپٹہ اچھے سے اپنے گرد اوڑھے اپنے وجود کی رعنائیوں کو چھپانے کی ناکام سی کوشش کی گئی تھی. اُس کا نازک سراپا آج شاید پہلی بار اِس طرح میران کی نظروں کے سامنے آیا تھا.
اُس کا ڈریس دیکھ کر پتا چل رہا تھا یہ اُس نے یہاں سے نہیں لیا. ضرور اُسے خانی نے گفٹ کیا تھا.
میران کے قدم خود بخود ہی شہرین کی جانب اُٹھے تھے. اِس قدر پُرکشش نقوش اُس نے پہلے کبھی کسی کے نہیں دیکھے تھے. اُس کے چہرے کی معصومیت اور بھولپن نے میران کو پہلے دن ہی بہت اٹریکٹ کیا تھا. جسے وہ ہر بار آرام سے اگنور کردیتا تھا. لیکن آج وہ چاہنے کے باوجود اپنی نظریں نہیں ہٹا پارہا تھا.
صوفے کی بیک سے سرٹکائے نیم دراز حالت میں شاید میران کا ہی انتظار کرتے وہ گہری نیند میں جاچکی تھی.
میران بلوچ اِس وقت ذہنی سکون چاہتا تھا. اُسے شہرین کو دیکھنا اچھا لگ رہا تھا. وہ خود سمجھ نہیں پارہا تھا. اُسے ہو کیا رہا ہے.
شہرین کے سلیقے سے کیے دوپٹہ کے ہالے میں لپٹا چہرا ایمان شکن تھا. شاید یہی وجہ تھی کہ وہ خود کو بڑی سی شال میں ہمیشہ چھپاتی آئی تھی. جیسے اپنے حُسن سے اچھے سے باخبر ہو.
میران نے غور کیا تھا کہ شہرین کی رنگت اتنی سفید نہیں تھی. بلکہ ہلکی گندمی سی تھی. مگر اپنے اندر ایک غیر معمولی سی کشش لیے ہوئے تھی.
” گولڈن بیوٹی. “
میران کے لب ہولے سے ہلے تھے.
شہرین کا سر ہلکا سا ڈھلکا ہوا تھا. جس کی وجہ سے سلکی بالوں کی کچھ لٹیں پھسل کر اُس کے چہرے کو چھو رہی تھیں.
میران بے خودی میں ہی چلتا شہرین کے پاس آگیا تھا. اور ہاتھ بڑھا کر اُس کے چہرے سے بال ہٹانے چاہے تھے. اِس سے پہلے کے میران کا ہاتھ کوئی گستاخی کرتا وہ اچانک ہوش میں آیا تھا. پیشانی مسلتے وہ فوراً پیچھے ہٹا تھا.
” واٹس رانگ ود یو میران اسجد بلوچ تم پاگل تو نہیں ہوگئے. یہ کیا حرکت کرنے لگے تھے. اِس لڑکی کی مدد کرکے تم نے اِسے صرف سہارا دیا ہے. اِس سے زیادہ کچھ نہیں ہے یہ تمہارے لیے. “
میران اپنی بے اختیاری پر خود کو بُری طرح سرزنش کرتا بیڈ کی جانب بڑھ گیا تھا. تھوڑی دیر پہلے کا فسوں ٹوٹ چکا تھا. اب پھر سے دماغ پر پہلے جیسا غصہ سوار ہوچکا تھا.
میران نے پیشانی مسلتے دراز سے سگریٹ نکال کر جلاتے ہونٹوں میں دبایا تھا.
اب غصے کے ساتھ شہرین کے حوالے سے عجیب سی فرسٹیشن اُس کے سر پر طاری ہوچکی تھی. وہ اگنور کرنا چاہتا تھا. مگر نظریں بار بار بھٹک کر صوفے کی جانب اُٹھ رہی تھیں.
” اُف خدایا یہ مجھے کیا ہورہا ہے. “
ایک کے بعد دوسرا سگریٹ پھونکنے کے باوجود بھی اُس کے دل و دماغ سکون میں نہیں آپارہے تھے. بلکہ جھنجھلاہٹ میں مزید اضافہ ہورہا تھا.
میران نے آخر کار تنگ آکر فاکیہ کا نمبر ملا دیا تھا. مگر اُس سے بھی چند ایک باتیں کرنے کے بعد کال کاٹ دی تھی. وہ سمجھ نہیں پارہا تھا. کہ آخر اُس کے ساتھ ہوکیا رہا ہے
اپنی اتنی عجیب کیفیت پر میران کا دل چاہ رہا تھا. کمرے کی ہر چیز تہس نہس کردے.
کچھ دیر آرام سے سوچتے اُسے محسوس ہوا تھا. کہ اُس کی کیفیت تب ہی ٹھیک ہوسکتی تھی. جب صوفے پر نظر آتا منظر اُس کی نظروں سے اوجھل ہوتا. میران یہی سوچ کر ٹیرس پر آگیا تھا. مگر یہاں آکر بھی اُس کا وہی حال تھا. اُسے اپنی صبح والی بات پر غصہ آنے لگا تھا. آخر بولا ہی کیوں اِس لڑکی کو چادر نہ کرنے کا.
کمرے کے حرارت زدہ ماحول نے اُسے زیادہ دیر ٹیرس کی یخ بستہ ہواؤں میں کھڑا نہیں رہنے دیا تھا.
میران کچھ سوچ کر گہرا سانس ہوا میں خارج کرتا اندر کی جانب بڑھ گیا تھا.
اندر آکر میران نے صوفے کی سائیڈ ٹیبل پر رکھے ڈیکوریشن پیس کو ہاتھ مار کر نیچے گرا دیا تھا. زور دار آواز پر شہرین نے گھبرا کر آنکھیں کھولتے ناسمجھی سے سامنے کا منظر دیکھا تھا.
“کک کیا ہوا…. “
ایک نظر ٹوٹے ہوئے ڈیکوریشن پیس اور دوسری غضبناک ہوئے میران بلوچ پر ڈالتے شہرین خوفزدہ سی اتنا ہی بول پائی تھی. میران بلوچ کے قریب کھڑے ہونے کی وجہ سے وہ صوفے سے اُٹھ نہیں پائی تھی.
اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا. کہ اب اُس نے ایسا کیا کردیا جو یہ صاحب اتنا غصہ کررہے ہیں.
یہ لڑکی جو پچھلی اتنی دیر سے اُس کی جان کا عذاب بنی ہوئی تھی. اُس کا یہ ناسمجھ اور معصوم انداز میران کو مزید آگ لگا گیا تھا.
میران جارحانہ انداز میں شہرین کے قریب آتے اُس کے گرد صوفے پر ہاتھ رکھتے جھکا تھا.
جب ایک بار پھر اُس کی نظر شہرین کی گردن پر موجود اُس قاتل تِل کی جانب اُٹھی تھی. میران مٹھیاں بھینچتے بہت ضبط کرتے بمشکل اُس کے تل سے نظریں چرانے میں کامیاب ہوا تھا.
شہرین سرخ چہرے مگر ساکت نظروں سے میران کی جانب دیکھ رہی تھی.
” تھان کہاں ہے تمہارا وہ. جسے ہر وقت لپیٹے رکھتی ہو. “
شہرین کی نیند کے خمار سے گلابی ڈورے لیے آنکھوں میں جھانکتے میران غصے سے بولا تھا.
میران کا چہرا اتنا قریب دیکھ شہرین کا اُوپر کا سانس اُوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا.
” الماری میں. “
ایک ٹرانس کی کیفیت میں اُس کے لب ہلے تھے.
میران اُس کی بات پر وہاں سے ہٹتا الماری کی جانب بڑھا تھا.
اُس کی شال ہاتھ میں لے کر پلٹتے میران نے شہرین کی جانب اُچھالی تھی.
” آئندہ اگر میرے سامنے تم اِس کے بغیر آئی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا. “
میران اُنگلی اُٹھا کر شہرین کو وارن کرتا بیڈ کی جانب بڑھ گیا تھا.
شہرین ہونق بنی لائٹ آف کرکے خود پر کمبل اوڑھ کر سوتے میران کی طرف دیکھنے لگی تھی. اُس نے صرف یہی بات کہنے کے لیے اُسے نیند سے اُٹھایا تھا. شہرین نے کچھ نہ سمجھتے اُس کے آرڈر کے مطابق خاموشی سے شال اُٹھا کر اوڑھ لی تھی.
” عجیب انسان ہیں یہ بھی. ہر وقت اتنا غصہ کر کرکے لگتا ہے. دماغ کا کوئی سکریو ڈھیلا ہو گیا ہے. خود ہی پہلے بول کر گئے مت کرنا اب خود ہی نیند سے اُٹھا کر اتنے غصے سے آرڈر دے رہے. “
شہرین کمبل سینے تک اوڑھ کر آنکھوں پر بازو رکھ کر لیٹے میران کو گھورتے الماری سے کمبل نکال کر واپس صوفے پر نیم دراز ہوگئی تھی.
اِس بات سے انجان کے ابھی تھوڑی دیر پہلے کی اُس کی اپنے حلیے سے لاپرواہی میران بلوچ کے دل میں کیسا طوفان برپا کرگئی تھی. جو شاید اب بھی نہیں تھم سکا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

خانی شاور لے کر نکلی تھی. جب ٹیبل پر پڑا اُس کا موبائل بجنے لگا تھا. جو سیاہل نے اُسے نیا لاکر دیا تھا. سیاہل کو کسی ارجنٹ کام سے کراچی گئے تین دن ہوچکے تھے. وہ فون پر ہی خانی سے رابطے میں تھا.
سکرین پر جگمگاتا انجان نمبر دیکھ خانی نے کچھ سوچتے کال اٹینڈ کی تھی. مگر سپیکر پر اُبھرتی میران بلوچ کی آواز پر اُس کے بھنوئے تن گئے تھے.
اُس نے فون بند کرنا چاہا تھا. مگر میران کے اپنی قسم دے کر روکنے پر وہ ضبط کیے بنا کچھ بولے خاموش کھڑی رہی تھی.
” خانی مجھے تمہیں سیاہل خان کے حوالے سے کچھ بتانا ہے. پلیز ایک آخری بار میری بات سن لو. “
میران خانی کے کوئی جواب نہ دینے پر جلدی سے بولا. اُسے ڈر تھا کہیں وہ فون نہ بند کردے.
” آپ کو کیا لگتا ہے. میں اب اپنے شوہر کے خلاف آپ کی کوئی ایک بات بھی سنوں گی. آپ کا کھیل میرے سامنے آچکا ہے. اِس لیے خود کو مزید میری نظروں میں مت گرائیں. “
خانی میران کے پھر سے سیاہل کا نام لینے پر تلخی بھرے لہجے میں بولی.
” خانی میں جانتا ہوں. میں نے بہت بڑی غلطی کی ہے. تم سے جھوٹ بول کر. تمہارا اعتبار توڑ کر. میں غلط ہوں مگر اِس کا یہ مطلب نہیں کہ سیاہل خان بالکل ٹھیک ہے. وہ تمہیں اپنی اچھی سائیڈ دیکھا کر بہت بڑا گیم کھیل رہا ہے.
میری ساری زندگی تمہاری آنکھوں کے سامنے گزاری ہے. اگر اِس واقع کو بھلا کر تم میری باقی پوری زندگی پر نظر ڈالو. کیا اِس سے پہلے میں نے کبھی تمہیں دھوکہ دیا یا جھوٹ بولا. کیا میری اِس ایک غلطی کی وجہ سے تمہارا مجھ سے سارے تعلق توڑنا ٹھیک ہے. تم ایک ایسے شخص جس سے ملے تمہیں ابھی کچھ مہینوں سے زیادہ نہیں ہوا. صرف اُس کی خاطر اپنے سگے بھائی سے نفرت کرنے لگی ہو.
تم اُس شخص پر اندھا اعتماد کیسے کر سکتی ہو. جو ہمارے خاندان کا سب سے بڑا دشمن ہے. “
میران نے اپنی جانب سے اپنی بہن کا دل صاف کرنا چاہا تھا. جبکہ خانی سیاہل کے خلاف سن کر لب بھینچ کر رہ گئی تھی.
” سیاہل نے کبھی مجھے آپ کے خلاف اِس طرح بدظن نہیں کیا جیسے آپ کررہے ہیں. آپ سے رشتہ ختم کرنے اور دور ہونے کی وجہ یہ نہیں کہ سیاہل نے مجھے آپ کے خلاف کچھ کہا ہے. اِس سب کی وجہ وہ ہے جو اُس دن میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا. آپ نے مجھے استعمال کرکے میرے شوہر کو نقصان پہنچانا چاہا تھا. کیا آپ کی یہ غلطی چھوٹی ہے.
بے شک سیاہل سے ملے مجھے زیادہ وقت نہیں ہوا. مگر وہ شخص اتنے اچھے دل اور صاف نیت کا انسان ہے کہ اُس پر شک کرنا ہی گناہ کے مترادف ہے میرے لیے. “
خانی کے لفظوں میں سیاہل خان کے لیے اُس کے دل میں موجود بے پناہ محبت بول رہی تھی.
مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ آگے آنے والے وقت میں وہ اپنی کہی اِن باتوں پر قائم رہنے والی تھی بھی یا نہیں.
” خانی اعتبار کرنا اچھی بات ہے. مگر یہ اِس حد تک اندھا اعتبار بعد میں کہیں تمہیں ہی تکلیف نہ پہنچائے. کیا تم جانتی بھی ہو اِس وقت سیاہل خان کہاں اور کس کے ساتھ ہے. “
میران کی پر اسرار انداز میں کہی آخری بات پر خانی چونکی تھی.
” کیا مطلب ہے آپ کا میں سمجھی نہیں. “
خانی نے ابھی بھی اپنا لہجہ پہلے جیسا روکھا ہی رکھا تھا.
” میرے بہت ہی خاص آدمیوں نے مجھے اطلاع دی ہے. سیاہل خان کو پچھلے ایک مہینے سے کسی لڑکی کے ساتھ دیکھا جارہا ہے. پہلے تو میں نے اِس بات کو سیریس نہیں لیا مگر آج خود اپنی آنکھوں سے دیکھ کر یقین آگیا ہے. کہ سیاہل خان سے بڑا دھوکے باز اور فریبی کوئی نہیں ہے. اُس رات سیاہل خان کی آنکھوں میں تمہارے لیے جھوٹی محبت دیکھ میں بھی سچ سمجھ کر دھوکہ کھا گیا تھا. پھر تم تو بہت معصوم ہو تمہیں تو وہ شاطر انسان آرام سے اپنے جال میں پھنسا گیا.
میں جانتا ہوں تمہیں میری بات پر یقین نہیں آئے گا. میں نے سیاہل خان کی تصویریں بھیجی ہیں تمہیں. دیکھ سکتی ہو تم. اور اگر پھر بھی یقین نہ آئے تو سیاہل خان کے چہیتے دوست شہرام بلوچ سے پوچھ لینا. جو تمہاری طرح اُس منجھے ہوئے کھلاڑی کے ہاتھوں بے وقوف بن چکا ہے. وہ بھی میرے ساتھ ہی تھا. اور اپنی آنکھوں سے سیاہل خان کا دوسرا رُوپ دیکھ چکا ہے.
ایک اور بہت اہم راز بتانا ہے تمہیں. مگر وہ میں تمہیں تمہارے شوہر کے سامنے ہی بتاؤں گا. بہت جلد ملاقات ہوگی تمہارے اُس خان کی حویلی میں. “
میران اپنی ساری باتیں بہت ہی تفصیل سے بتاتے فون بند کر گیا تھا. خانی اُسے جھٹلانا چاہتی تھی.مگر بنا اُس کی کوئی بات سنے میران نے کال کاٹ دی تھی.
میران کی ساری باتیں خانی کے دماغ میں گھومنے لگی تھیں. غائب دماغی سے موبائل کی سکرین کو گھورتے خانی کی نظریں میران کے بھیجے نوٹیفیکیشن پر پڑی تھیں. جسے نہ کھولنے کا سوچتے غیر ارادی طور پر خانی کی اُنگلی اُس نوٹیفکیشن کو ٹچ کر گئی تھیں.
مگر سامنے آتی تصویریں دیکھ کر خانی کو لگا تھا. حویلی کی چھت اُس کے سر پر آن گری ہو.
تصویروں میں سیاہل خان کے ساتھ کوئی اور لڑکی نہیں بلکہ اُس کی بیسٹ فرینڈ عینا تھی.
ایک جگہ عینا ہاسپٹل کے بستر پر لیٹی تھی. اور سیاہل اُس کا ہاتھ تھامے پاس رکھی کرسی پر بیٹھا تھا. ایک کسی ریسٹورنٹ میں بیٹھی اُن کی تصویر تھی. اور اِسی طرح کی اور بھی بہت ساری تصویریں موجود تھیں. جنہیں بنا دیکھے ہی خانی موبائل بیڈ پر اُچھال چکی تھی.
اُس کا دماغ ماؤف ہوگیا تھا. وہ کتنی ہی دیر اپنی جگہ سے ہل ہی نہیں پائی تھی. اُس پر جیسے کوئی سکتہ سا طاری ہوچکا تھا.

جاری ہے.