Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

” دیکھا سامنے آگئی نا اُس لڑکی کی اصلیت. سیاہل کی دی ہوئی اتنی عزت راس نہیں آئی اُسے وقت آنے پر دکھا دی اپنی فطرت. اب سیاہل کو بھی سمجھ آجانا چاہئے. کتنا غلط کیا ہے اُس نے اِس لڑکی پر اعتبار کرکے. “
تانیہ بیگم کو کچھ دیر پہلے ہی ساری بات کا پتا چلا تھا. تب سے اُن کے دل میں خوشی سے لڈو پھوٹ رہے تھے. وہ یہی تو چاہتی تھیں کہ خانی کسی طرح سیاہل کی نظروں سے گر جائے. اور آج وہی ہوا تھا. اُن کے بنا کچھ کیے ہی اُن دونوں کے درمیان بہت بڑی دیوار کھڑی ہوچکی تھی.
” کیا ہوا بی بی سائیں آپ اتنی خاموش کیوں ہیں. آپ کو خوشی نہیں ہورہی یہ سب دیکھ کر.”
تانیہ بیگم نے ایک نظر گم صم سی بیٹھی بی بی سائیں پر ڈالتے پوچھا تھا.
” کس بات پر خوش ہوں. کہ میرا سیاہل تکلیف میں ہے. مجھے اُس لڑکی سے مسئلہ تھا. لیکن سیاہل کی اُس کے لیے اتنی محبت دیکھ میں کہیں نہ کہیں اُسے قبول کرنے لگی تھی. اتنے عرصے بعد تو میں نے اپنے پوتے کی آنکھوں میں خوشی کی چمک دیکھی تھی. اُس کی ویران زندگی میں اِسی لڑکی کی وجہ سے بہار آئی تھی. سیاہل کو اتنا خوش دیکھ کر اب میں نہیں چاہتی تھی وہ جدا ہو اِس لڑکی سے.
مگر لگتا ہے میری اپنی ہی نظر لگ گئی میرے بیٹے کی خوشیوں کو. پہلے دن مجھے یہی لگا تھا. ذوالفقار بلوچ کی پوتی اُسی کی طرح شاطر اور چالباز ہے. وہ کہیں ہمارے سیاہل کو نقصان نہ پہنچائے. اُسے ہم سے دور نہ کردے. لیکن کچھ دن اُس کو جانچنے کے بعد میں اتنا تو سجھ گئی تھی کہ وہ خون تو اُنہیں کا ہے. مگر اُس میں اُن جیسی کوئی خصلت نہیں.
میرا سیاہل بھلا کبھی کسی کو پہچاننے میں غلطی کر بھی کیسے سکتا ہے. “
بی بی سائیں اداسی بھرے لہجے میں بولی تھیں. اُن کے لیے سیاہل خان کی خوشی سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا. اُسی کی خاطر اُنہوں نے خانی کو پہلے اپنی حویلی اور کہیں نہ کہیں اب اپنے دل میں بھی جگہ دے دی تھی. وہ بس اپنے پوتے کو خوش دیکھنا چاہتی تھیں.
لیکن آج سیاہل کی سُرخ آنکھیں اور اذیت بھرے تاثرات سے سجا چہرا اُنہیں تکلیف میں مبتلا کر گیا تھا. وہ سیاہل کو اُس لڑکی سے جدا کرنے کے بارے میں سوچ بھی کیسے سکتی تھیں. جس کی صرف زرا سی بے رخی اور بے اعتباری اُن کے مضبوط اعصاب کے مالک پوتے کو بکھیر گئی تھی.
” آپ کیسی باتیں کررہی ہیں بی بی سائیں. آپ دشمنوں کی بیٹی کو کیسے بہو کے روپ میں قبول کر سکتی ہیں. جس نے آتے ساتھ ہی ہمارے سیاہل کو دکھ دینا شروع کردیا ہے. اُس لڑکی کی اوقات ہی نہیں ہے خان حویلی کی بہو اور یہاں کی سردارنی بننے کی. میں تو کہتی ہوں سیاہل کو اُسے نکال باہر کرنا چاہیے. “
تانیہ بیگم کو بی بی سائیں کی خانی کے لیے کی گئی حمایت ایک آنکھ نہیں بھائی تھی. اِس لیے اُنہوں نے فوراً بی بی سائیں کو خانی کے حوالے سے بدظن کرنا چاہا تھا.
” بس تانیہ خاموش ہوجاؤ اب تم. اب میں مزید سیاہل کی بیوی کے خلاف کچھ نہیں سننا چاہتی. جو لڑکی میرے سیاہل کے دل میں موجود ہے اُس کی اوقات سب سے اُوپر ہے. اُس لڑکی کی اہمیت کا اِسی بات سے اندازہ لگا لو. آج جو الفاظ اُس نے سیاہل کو بولے ہیں. اگر یہی کسی اور نے بولے ہوتے تو اب تک وہ اپنے انجام کو پہنچ چکا ہوتا.”
بی بی سائیں کو بار بار تانیہ بیگم کی ایک ہی بات دوہرانا اور خانی کی توہین کرنا پسند نہیں آیا تھا. اِس لیے وہ فوراً اُسے ٹوک گئی تھیں.
جس پر تانیہ بیگم اندر ہی اندر پیچ و تاب کھاتی رہ گئی تھیں.
” جادوگرنی نہ ہو تو. ہر ایک کو کیسے اپنے جال میں پھنسا رہی ہے. اچھی بھلی خوشی غارت ہوکر رہ گئی ہے. “
تانیہ بیگم جو اپنی خوشی کا اظہار کرنے بی بی سائیں کے پاس آئی تھیں. یہاں کی اِس کایا پلٹ نے اُن کے خانی کے خلاف حسد کو مزید بڑھا دیا تھا. وہ جتنا اِس لڑکی کو یہاں سے نکالنے کی خواہش مند تھیں اُس کے قدم اُتنے ہی مضبوط ہورہے تھے. وہ دل ہی دل میں خود سے بڑبڑاتیں باہر نکل گئی تھیں.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

سیاہل رات کے وقت یخ ٹھٹھرتی جما دینے والی سردی میں باہر لان میں سیمنٹ کے سنگی بینچ پر بیٹھا آسمان کو تکی جارہا تھا. جہاں شاید آج چاند بھی اُس سے ناراض بادلوں میں چھپا سامنے آنے سے انکاری تھا. جب اُس کے کانوں سے حسنہ بیگم کی آواز ٹکرائی تھی.
” سیاہل بیٹا باہر بہت ٹھنڈ ہے آپ کی صحت خراب ہوجائے گی. پلیز اندر آجاؤ.”
حسنہ بیگم سے کسی صورت اپنے بیٹے کو اذیت میں نہیں دیکھا جارہا تھا. اِس لیے دل کے ہاتھوں مجبور وہ کتنی دیر دور سے کھڑے ہوکر دیکھتیں آخر کار اُس کے پاس آتے مخاطب کرگئی تھیں.
” کچھ نہیں ہوتا مجھے. اتنے دھوکہ برداشت کرکے کافی سخت جان ہوچکا ہوں میں. آپ اندر جاسکتی ہیں. “
سیاہل نے ایک تلخی بھری نگاہ اپنی ماں پر ڈالتے نظریں واپس پھیر لی تھیں.
” میں نے دھوکہ نہیں دیا تھا بیٹا. میں اُس وقت مجبور تھی.”
حسنہ بیگم نے ہر بار کی کہی اپنی بات دوہرائی تھی.
” غلطیوں کو بعد میں مجبوریوں کا نام دینا بھی اچھا ہنر ہے. “
اُن کی بات پر سیاہل اذیت سے مسکراتے زیرِ لب بڑبڑایا تھا.
حسنہ بیگم اپنے بیٹے کو اذیت میں دیکھ وہاں آ تو گئی تھیں. مگر جانتی تھیں سیاہل اُن کی بات نہیں سنے گا. اِس لیے کچھ دیر مزید وہاں کھڑے رہنے کے بعد وہاں سے ہٹ گئی تھیں. شاید اُنہیں محسوس ہوگیا تھا کہ اُن کا یہاں ہونا اُن کے بیٹے لیے زیادہ تکلیف کا باعث تھا.
سیاہل نے پلٹ کر دور جاتی اپنی ماں کو دیکھا تھا. وہ اتنے سالوں بعد بھی چاہنے کے باوجود انہیں معاف نہیں کر پایا تھا. جو اُس کی زندگی کی عزیز ترین ہستی اُس کے دادا کے قاتلوں میں سے ایک تھیں.
اُسے جس دن سے اِس بات کا علم ہوا تھا. تب سے وہ اپنی ماں سے دور ہوگیا تھا. وہ اُنہیں کوئی اور سنگین سزا تو نہیں دے سکتا تھا. اِس لیے اپنے طور پر تجویز کی گئی سزا کے مطابق خود کو ہمیشہ کے لیے اُن سے دور کرکے وہ اُن کے لیے مکمل اجنبی بن گیا تھا.
حسنہ بیگم کے مخاطب کرنے پر وہ تلخ حقیقت ذہن کے پردوں پر اُبھرتی اُس کی اذیت میں اضافہ کرگئی تھی.
جس دن ذوالفقار بلوچ نے سازش کے تحت اُس کے دادا کو زہر دی تھی. وہ اور حسنہ بیگم ہی ساتھ تھے. سیاہل خان تب بہت کم عمر تھا. اور اِس سب واقع سے لاعلم بھی. مگر حسنہ بیگم نے چھپ کر اُن کی باتیں سن لی تھیں. وہ اپنے سسر عباس خان کو بتانا چاہتی تھیں. لیکن اُس سے پہلے ہی ذوالفقار اور اسجد کی نظر اُن پر پڑ چکی تھی. اُنہوں نے حُسنہ بیگم کو سیاہل کو ختم کرنے کی دھمکی دیتے کسی کو بھی کچھ بھی بتانے سے منع کیا تھا. اُنہوں نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ اُن کے بہت سے لوگ ہر وقت خان حویلی میں کسی نہ کسی بھیس میں موجود رہتے ہیں. اگر اُن لوگوں کو حسنہ بیگم کی جانب سے زرا سا بھی شک ہوا تو وہ سیاہل خان کو اُسی لمحے ختم کردیں گے.
حسنہ بیگم جو اِن ساری دشمنیوں سے آگاہ تھیں. وہ کسی صورت بھی اپنے بیٹے کو اِن میں لاکر قربان نہیں کرنا چاہتی تھیں. اِس لیے اُنہوں نے اپنے سسر پر بیٹے کو فوقیت دیتے اُنہیں قربان کردیا تھا. وہ اگر پہلے دن ہی کسی کو زہر دیئے جانے کے بارے میں بتا دیتیں تو عباس خان اتنی اذیت ناک موت سے بچ سکتے تھے. مگر اُن لوگوں کی دھمکی کے زیرِ اثر وہ خان حویلی واپس آکر بھی خاموش ہی رہی تھیں. اور عباس خان کو اپنے سامنے تڑپ تڑپ کر مرنے دیا تھا.
سیاہل کو آج بھی یاد تھا. کیسی حالت ہوگئی تھی آخری وقتوں میں اُس کے دادا کی. کتنی اذیت میں تھے وہ. مگر اُس کی ماں کو رحم نہیں آیا تھا. سیاہل کو بعد میں ایک ملاقات کے دوران اسجد بلوچ سے اِس سچ کا پتا چلا تھا. جس کو بہت سارے رازوں کی طرح اُس نے اپنی ماں کی عزت کی خاطر دل میں چھپا لیا تھا.
اپنی ماں کے اتنے بڑے دھوکے اور یہ سوچ کر کہ صرف اُس کی وجہ سے اُس کے دادا کو اتنی اذیت برداشت کرنی پڑی سیاہل کا دل چاہتا تھا. خود کو ختم کرلے. جو بھی تھا مگر اب تک سیاہل اپنی ماں کی اتنی بڑی غلطی معاف کرنے کے لیے دل بڑا نہیں کر پایا تھا. جب بھی وہ ایسا سوچتا تھا تو اُس کے دادا کا آخری وقت اُس کی آنکھوں کے سامنے آجاتا تھا.
اذیت ناک سوچوں کو جھٹکتے سیاہل کی غیر ارادی نظر اپنے روم کے ٹیرس کی جانب اُٹھی تھی. جس کی لائٹ ابھی تک جل رہی تھی.
سیاہل نے فوراً نظریں گھما لی تھیں.
خانی نے آج جذبات میں آکر اُسے بُری طرح ہرٹ کر دیا تھا. وہ اپنی غلطی مانتا تھا کہ اُسے خانی کو پہلے ہی سب بتا دینا چاہئے تھا. مگر خانی نے جو آج کیا تھا. خانی کے الفاظ اُسے بُری طرح غصہ دلا گئے تھے. سیاہل خان مر سکتا تھا مگر خانی کو کبھی اپنی دشمنی میں استعمال نہیں کرسکتا تھا.
خانی کی غصے میں کہی ساری باتیں سیاہل کا دل چیر گئی تھیں.
خانی اُس کی اولین چاہت تھی. اُس کی زندگی کی سب سے بڑی اور حسین حقیقت تھی. وہ ہر ملاقات ہر بات میں خانی پر اُس کا مقام واضح کرچکا تھا. پھر بھی وہ یہ سوچ بھی کیسے سکتی تھی کہ سیاہل اُس کی جگہ کسی کو بھی دے سکتا تھا.
عینا کوئی غیر نہیں سیاہل کی بہن تھی. سیاہل کو اپنے بابا کی وفات کے کافی عرصے بعد فرمان خان کے ذریعے پتا چلا تھا کہ موسٰی خان نے شہر میں خفیہ شادی کر رکھی تھی. جس میں سے اُس کی ایک بہن بھی تھی عینا. جن کے حالات کافی خراب تھے.
سیاہل کو جیسے ہی اِس حقیقت کا علم ہوا تھا. وہ فوراً اُن کے پاس پہنچ گیا تھا. اُس نے نہ صرف اُن کے سارے اخراجات برداشت کرتے اُن کو ایک شاندار لائف سیٹ کرکے دی تھی. بلکہ اُن کی ہر بات کا خیال بھی رکھتا آیا تھا.
حویلی میں بی بی سائیں اور حسنہ بیگم اور باقی کچھ اہم لوگوں کو وہ اِس حقیقت کے بارے میں بتا چکا تھا. لیکن عینا اور اُس کی مدر کو اُس نے اپنے حوالے سے کسی سے بھی کچھ بتانے سے منع کیا تھا. وہ نہیں چاہتا تھا. اُس کے دشمنوں کو اِس بارے میں ذرا سی بھی بھنک پڑے. سیاہل سے وعدے کے مطابق عینا نے یہ بات کسی کو بھی نہیں بتائی تھی. اپنی بیسٹ فرینڈ خانی کو بھی نہیں.
سیاہل کو پہلے بالکل بھی علم نہیں تھا کہ عینا خانی کی دوست ہے. وہ تو ایک دن خانی کو دیکھنے کی خاطر وہ ایک ریسٹورنٹ میں اُس کے پیچھے گیا تھا. وہاں عینا کو دیکھ کر اُسے اِس بات کا پتا چلا تھا.
سیاہل نے بعد میں سرسری سا خانی کا پوچھا تھا. جس پر عینا نے چونکتے اُسے بتایا تھا کہ خانی کے منہ سے بھی اُس نے ایک بار سیاہل خان کا نام سنا ہے کیا وہ اُسے جانتا ہے. سیاہل نے اُس وقت تو عینا کو ٹال دیا تھا. لیکن بعد میں اُس کے بہت اسرار پر خانی اور اپنا رشتہ بتا دیا تھا. عینا یہ سب سن کر بہت خوش ہوئی تھی. اُس کی بیسٹ فرینڈ اُس کی بھابھی تھی.
وہ خانی سے اِس بارے میں بات کرنا چاہتی تھی. لیکن سیاہل کے سختی سے منع کرنے پر خانی کے سامنے بلکل انجان بننے پر مان گئی تھی.
جنید عینا کو پسند تھا. سیاہل نے ویسے بھی کبھی کسی بات پر اعتراض نہیں کیا تھا. جنید اچھا انسان لگا تھا اُسے اِس لیے وہ عینا کی منگنی پر آرام سے راضی ہوگیا تھا.
عینا اکثر اُس سے بلوچستان آنے کی ضد کرتی تھی. اور اُسی پر عمل کرتے خانی کے دماغ میں بھی یہ بات ڈالتے وہ خانی کو لیے آخر کار بلوچستان پہنچ گئی تھی.
جہاں سیاہل کے آرڈر کے مطابق وہ سیاہل کے حوالے سے خانی کے سامنے بلکل ہی انجان بنی رہی تھی. جس سے خانی کو زرا سا بھی اُس پر ایسا کوئی شک نہیں ہوپایا تھا. سیاہل عینا کی سیکیورٹی کی خاطر ہی نہیں چاہتا تھا کہ یہ بات خانی کو پتا چلے اور کسی بھی طرح اُس کے دشمنوں تک پہنچ سکے. کیونکہ تب خانی اپنی فیملی والوں کی حقیقت سے واقف نہیں تھی.
سیاہل کے کہنے پر ہی شہرام نے میران کو راضی کیا تھا کہ کسی انجان لڑکی کو حویلی لے کر جانا مناسب نہیں تھا. اِس لیے میران نے عینا کو واپس بھیجوا دیا تھا. سیاہل بالکل بھی نہیں چاہتا تھا. اُس کی بہن دشمنوں کی حویلی میں ایک قدم بھی رکھے.
بعد میں خانی کے ساتھ ریلیشن ٹھیک ہونے کے بعد سیاہل اِس حوالے سے بتانا چاہتا تھا. مگر عینا کی لائف میں آنے والے بھیانک واقع کی وجہ سے سیاہل خانی کی پریشانی کے خیال سے اُسے کچھ نہیں بتا پایا تھا.
یہ اُن دنوں کی بات تھی جب سیاہل پر حملہ ہوا تھا.
جنید کچھ غلط کاموں میں پر چکا تھا. اُس نے اپنے گھر والوں کے سامنے عینا سے شادی سے انکار کردیا تھا. مگر اُنہوں نے اُس سے زبردستی کرتے شادی کرنے پر راضی کیا تھا.اور شادی میں جلدی مچا دی تھی. جس کا یہ نتیجہ نکلا تھا. کہ وہ بارات والے دن عین رخصتی کے ٹائم عینا کو طلاق دیتے اُس معصوم بے قصور لڑکی کے دامن کو داغدار کرتے جاچکا تھا.
اتنے بڑے دکھ اور بدنامی کو نہ سہہ پاتے عینا نے خودکشی کی کوشش کی تھی. مگر ابھی زندگی باقی ہونے کی وجہ سے اُس کی جان بچ گئی تھی. جس کے بعد سیاہل نے اپنی بہن کو پوری طرح اپنی شفقت کے سائے میں لیتے سنبھالا تھا. جسے دشمنوں نے کچھ اور نام دیتے خانی کو سیاہل سے بدظن کر دیا تھا.
سیاہل کے کانوں میں بار بار خانی کی روتی چیختی آواز میں کہے الفاظ گونجتے اُسے نئے سرے سے اذیت میں مبتلا کر رہے تھے.
لان میں چلتی سرد ہوائیں سیاہل خان کے وجود سے ٹکرانے کے باوجود اُس کے دل میں لگی آگ بجھانے میں ناکام تھیں.
” سائیں میں نے بہت کوشش کی مگر سردارنی جی کھانا کھانے پر بالکل بھی راضی نہیں ہورہی. وہ مسلسل رو رو کر اپنی طبیعت خراب کر چکی ہیں. “
سیاہل کے حکم پر پچھلے تین گھنٹوں سے خانی کو کھانا کھلانے کی کوشش میں ہلکان ہوتی اُس کی خاص ملازمہ آخر کار ہمت ہارتی سیاہل کے پاس آئی تھی. اُس کی بات سنتے سیاہل نے گہری سانس بھرتے اُسے واپس بھیج دیا تھا.
خانی کے شک کرنے اور اتنی اذیت پہنچانے کے باوجود سیاہل خانی کو تکلیف میں نہیں دیکھ پارہا تھا. اُس جیسے مضبوط اور سنگدل انسان کا دل خانی اسجد بلوچ کے معاملے میں حد سے زیادہ نرم تھا.
وہ غصے میں اُس کی بدگمانی دور کرنے کے بجائے مزید بدظن کرتا اُس کے پاس سے تو ہٹ آیا تھا. مگر اب غصے کے ساتھ ساتھ خانی کے اذیت میں ہونے کا سنتے سیاہل خان کی تکلیف مزید بڑھ گئی تھی.
وہ خانی سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا. اُس کے سامنے کچھ بھی کلیئر کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا. اِس بار وہ اُس کی جانب سے سنگدل ہونا چاہتا تھا مگر اپنی جان سے عزیز ہستی کو وہ ایسے اذیت میں بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا. چاہے اُس کے لیے سیاہل خان کو اپنی سب سے قیمتی چیز اپنی انا بھی مارنی پڑتی تب بھی.
سیاہل جو خود سے عہد کرچکا تھا کہ جب تک خانی اسجد بلوچ خود چل کر اُس کے پاس نہیں آئے گی. وہ اُس کی جانب کوئی پیش قدمی نہیں کرے گا. مگر جیسے پہلے خانی کے حوالے سے کیے اپنے عہد وہ قائم نہیں رکھ پایا تھا. اُن سے بھی کہیں زیادہ جلدی اُس کا یہ عہد ٹوٹ گیا تھا.
آج یہ بات اُس پر مکمل واضح ہوچکی تھی. کہ خانی سے دور رہنے سے زیادہ اُس کے لیے مرنا آسان تھا.
سیاہل دل اور دماغ کی جنگ میں دل سے ہار مانتا اُٹھ کھڑا ہوا تھا.
بڑے سے بڑا فیصلہ آرام سے کر جانے والا سردار سیاہل موسیٰ خان خانی اسجد بلوچ کے معاملے میں دنیا کا سب سے کمزور دل انسان تھا.
سیاہل کے قدم جس تیزی سے روم کی جانب بڑھ رہے تھے. یہ خانی کے حوالے سے اُس کی بے قراری کا واضح ثبوت تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

روم میں داخل ہوتے سیاہل کی نظر نیچے کارپٹ پر بیٹھی ساتھ پڑے صوفے پر بازوؤں میں چہرا چھپائے اردگرد سے بیگانہ خانی پر پڑی تھی.
خانی کا ایک طرف ڈھلکا وجود یہی ظاہر کر رہا تھا کہ خانی ہوش سے بیگانہ ہے.
آج کا واقعہ چاہے جتنا بھی بُرا تھا. مگر سیاہل خان پر یہ بات تو اچھے سے واضح کر گیا تھا کہ خانی اُس سے دیوانگی کی حدوں کو چھوتی بے پناہ محبت کرتی تھی.
ساتھ ٹیبل پر جوں کے توں رکھے کھانے کو دیکھتے سیاہل خانی کی جانب بڑھا تھا. کھانا اُس نے بھی نہیں کھایا تھا. مگر اپنی پرواہ تھی ہی کہاں اُسے. اُس کے لیے تو اُس سے بھی پہلے اُس کی خانی تھی. چاہے وہ خانی سے جتنا بھی ناراض ہوتا, جتنی بھی بڑی بدگمانی یا غلط فہمی اُن کے درمیان آجاتی سیاہل خان اپنی خانی کو کبھی خود سے جدا نہیں کر سکتا تھا.
وہ اُس سے بات بھی نہ کرتا مگر اُس کا اپنے سامنے ہونا, اُس کی موجودگی اُس کی خوشبو ہی سیاہل خان کی سانسوں کی ضمانت تھی.
یہی تو تھی سیاہل خان کی بے لوث محبت جو اتنے برسوں سے وہ خانی سے کرتا آیا تھا.
سیاہل کے کہنے پر ملازمہ جوس کا گلاس رکھ کر جاچکی تھی.
سیاہل آگے بڑھا تھا. اور بنا ایک لفظ بھی بولے اُس نے جھک کر خانی کو اپنی بانہوں میں بھرتے اُٹھا لیا تھا.
خانی کا جسم ہلکا ہلکا تپ رہا تھا. وہ غنودگی میں تھی. سیاہل کے اُٹھانے پر اُس کا سر ایک جانب لڑھک گیا تھا.
سیاہل بہت ہی نرمی سے اُسے اُٹھا کر لاتے بیڈ پر. لیٹا چکا تھا. جب اُس کی نظروں کے سامنے خانی کا سرخ چہرا اور گریہ زاری کی وجہ سے سوجی آنکھیں تھیں.
سیاہل نے لب بھینچتے ٹیبل سے جوس کا گلاس اُٹھاتے خانی کے گرد بازو پھیلا کر اُسے اپنے سہارے اُٹھایا تھا.
” خانی تھوڑا سا جوس پی لو.”
سیاہل خانی کا گال تھپتھپاتے اُسے ہوش میں لاتے بولا. جس پر خانی نے کسمسا کر آنکھیں کھولی تھی.
خانی کی اُسی سوئی جاگی کیفیت میں سیاہل نے بہت مشکل سے اُسے جوس پلایا تھا.
خانی جتنی دھان پان سی تھی. سیاہل کو ویسے ہی اُس کے کھانے کی فکر رہتی تھی. کیونکہ وہ اُس کی چڑیوں جیسی خوراک سے واقف تھا. اور اِس حالت میں تو وہ کسی صورت بھی خانی کو بھوکا نہیں سونے دے سکتا تھا.
جوس کا گلاس سائیڈ پر رکھتے سیاہل نے خانی کو واپس بیڈ پر لٹاتے اُٹھنا چاہا تھا. جب خانی نے اُس کے گلے میں بازو ڈالتے اُسے روک لیا تھا.
” سیاہل خان تم صرف میرے ہو. تم مجھ سے دھوکہ کیسے کرسکتے ہو. “
خانی غنودگی میں بڑبڑائی تھی. جو بہت مدھم تھی مگر اس پر جھکے ہونے کی وجہ سے سیاہل واضح الفاظ سن پایا تھا.
سیاہل جو پلٹنے کا ارادہ رکھتا تھا. خانی کی یہ بے خود حرکت اُسے خور سے باندھ گئی تھی.
شاید اِس اذیت بھرے تھکا دینے والے دن کے بعد اب سیاہل خان بھی کچھ سکون کا طلبگار تھا.

آج بھی وہ خانی کے اپنی جانب بڑھے ہاتھ جھٹک نہیں پایا تھا.
سیاہل دل کی آواز پر ایمان لاتے خانی کے قریب نیم دراز ہوتے اُسے اپنی بانہوں کے حصار میں لے گیا تھا. سیاہل خان جو اتنی دیر ٹھنڈ میں بیٹھے رہنے کی وجہ سے بلکل سرد تھا. خانی کا نرم گرم وجود اُس کو حرارت بخشتا دل کے کسی بے چین گوشے کو سکون دے گیا تھا.
خانی غنودگی میں بھی سیاہل کو اپنے قریب محسوس کرتی اُس کے مزید قریب ہوتی چوڑے سینے میں سر چھپا گئی تھی.
دونوں ایک دوسرے سے بے حد ناراض, بدگمان اور غصے کی انتہاؤں پر تھے. مگر اِس وقت بھی سکون اُنہیں ایک دوسرے کی موجودگی میں, ایک دوسرے کے لمس میں ہی محسوس ہورہا تھا.

جاری ہے…….