Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

” خانی بیٹا رک جائیں. کہاں جارہی ہیں آپ. “
انا بی نے خانی کو باہر نکلنے سے پہلے ہی بازو تھام کر روک لیا تھا.
” انا بی…. پلیز مجھے…مجھے اُس کے پاس جانا ہے.………میں اُسے دیکھنا چاہتی ہوں.”
خانی اُن سے اپنا بازو چھڑواتی ٹوٹے پھوٹے لفظوں سے ہچکیوں کے درمیان بولی.
” بیٹا یہاں بیٹھو. آرام سے بات سنو میری. “
انا بی جانتی تھی خانی صدمے کی وجہ کچھ سمجھ نہیں پارہی. یہ بھول چکی ہے. کہ اگر کسی نے باہر خانی کو سیاہل کے لیے اِس طرح روتا دیکھ لیا تو خانی کس بُری طرح سے پھنس سکتی تھی. خانی اُن کے پاس سیاہل خان کی امانت تھی. جس پر وہ زرا سی بھی آنچ نہیں آنے دے سکتی تھیں.
” انا بی پلیز جانے دیں مجھے. “
خانی اُن کی کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھی. ماہناز بی بی نے بہت مشکل سے خانی کو بیڈ پر بیٹھاتے اُس کے ہونٹوں سے پانی کا گلاس لگایا تھا.
جس کا بنا ایک گھونٹ بھرے خانی نے پیچھے ہٹا دیا تھا.
” میری گڑیا آرام سے میری بات سنو آپ. یہ خبر اب تک ہر طرف پھیل چکی ہوگی. اِس گھر کے کچھ لوگوں کو پہلے ہی شک ہے کہ آپ سردار سائیں سے رابطے میں ہیں. اگر آج آپ کو اِس حالت میں اُن میں سے کسی نے دیکھ لیا تو بہت بُرا ہوگا. آپ صبر سے کام لیں. مجھے میرے ﷲ پر پورا یقین ہے وہ سردار سائیں کو کچھ نہیں ہونے دیں گے.
ابھی آپ کا سردار سائیں تک پہنچنا بہت مشکل ہے. وہ ہاسپٹل میں ہیں جہاں اِس وقت اُن کے آدمیوں کے ساتھ ساتھ ذوالفقار سائیں کے مخبر بھی موجود ہونگے. اور جب تک سردار سائیں کو ہوش نہیں آجاتا میں آپ کو ایسے کسی بھی خطرے میں نہیں جانے دے سکتی.
میں سائیں کے سب سے خاص اور قریبی آدمی سے رابطے میں ہوں. میں وعدہ کرتی ہوں. آپ کو سائیں کے بارے میں پل پل کی خبر دوں گی. اور جیسے ہی اُن کی حالت خطرے سے باہر آتی ہے. اُن کو ہوش آتا ہے. میں سردار سائیں سے آپ کی بات ضرور کرواؤں گی. “
انا بی نے بہت ہی مشکل سے خانی کو کوئی بھی جذباتی قدم اُٹھانے سے باز رکھا تھا. خانی کی حالت اُن سے دیکھنا بہت مشکل ہورہا تھا. مگر وہ بے بس تھیں. اور کچھ دیر ہی سہی مگر سردار سیاہل خان کا سایہ سر سے اُٹھ جانے کی وجہ سے وہ خود کو بہت کمزور محسوس کررہی تھیں. اُن کا دل مسلسل سیاہل خان کے لیے دعا گو تھا. آج تک اُنہوں نے ہمیشہ سیاہل خان کی جانب سے خانی کے لیے دیوانگی دیکھی تھی. مگر آج خانی کا سیاہل خان کے لیے ہوش سے بیگانہ ہونا اُنہیں خانی کی محبت اور پاگل پن دیکھا گیا تھا. جو ہر طرح کے خطرے سے بے پرواہ ہوکر صرف اپنے شوہر کے پاس جانا چاہتی تھی.
اور جو ہمیشہ سے یہ محبت دیکھنے کا خواہش مند تھا. وہ اِس وقت ہوش سے بیگانہ اپنی خانی سے بہت دور تھا.
” انا بی میں نہیں ڈرتی. جس کو جو بھی کرنا ہے کرلے. مجھے ہر حال میں سیاہل کے پاس جانا ہے. “
خانی کو اِس وقت سیاہل خان کے علاوہ کسی کی پرواہ نہیں تھی. اُسے لگ رہا تھا اگر اُس نے مزید کچھ دیر سیاہل خان کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا تو اُس کے دل کو کچھ ہوجائے گا.
” خانی بیٹا آپ کو میری قسم. آپ اِس طرح کی کوئی جذباتی حرکت نہیں کریں گی. “
خانی کو اپنی جگہ سے اُٹھتے دیکھ انا بی نے خانی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر پر رکھتے اپنی قسم دے کر خانی کے قدم وہی روک دیے تھے.
” انا بی.………… مت کریں ایسا. “
خانی کی برستی آنکھوں کی التجا پر انا بی بے حد بے چارگی سے نظریں جھکا گئی تھیں.
” خانی بیٹا آپ اِس حملے کے بارے میں کسی سے کوئی بات نہیں کریں گی. نہ میران سائیں سے نہ کسی اور سے. “
انا بی نے کسی خیال کے تحت خانی کو تنبیہ کی تھی. جس پر خانی اثبات میں سر ہلاتی وضو کرنے کے لیے واش روم کی جانب بڑھ گئی تھی.
کچھ ہی دیر میں اُس کی آنکھیں سوج کر لال انگارہ چکی تھیں.
خانی نے پوری زندگی میں کبھی بھی خود کو اتنا بے بس محسوس نہیں کیا تھا. جتنا اِس وقت کررہی تھی. سیاہل خان کے سامنے ہر بار وہ بہت آرام سے کہہ دیتی تھی. کہ وہ اُس سے محبت نہیں کرتی. کوئی فرق نہیں پڑتا اُس کے ہونے نہ ہونے سے.
مگر آج اُسے ادراک ہوا تھا کہ سیاہل اُس کی زندگی میں کس قدر اہم تھا. وہ شخص نجانے کب اپنی کج ادائیوں کے باوجود خانی کی سانسوں میں بس چکا تھا. جس شخص کی زرا سی قربت پر اُس کے دل کی دھڑکنوں کی رفتار ہر حد پار کر جاتی تھیں. آج اُسی کی جان خطرے میں ہونے کا سن کر خانی کی دھڑکنیں ساکت ہوچکی تھیں.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” خدا بخش میرے پوتے کی حفاظت نہیں کرسکے نا تم. کیسے پہنچ گئے وہ لوگ میرے سیاہل کے قریب. “
بی بی سائیں ہاسپٹل کے پریئر روم میں جائے نماز بچھائے ﷲ کے حضور جھولی پھیلائے اپنے عزیز ازجان پوتے کی سلامتی کی دعا مانگ رہی تھیں. جب سیاہل خان کا خاص آدمی جسے سیاہل خان اپنا دائیاں بازو کہتا تھا وہ سر جھکائے اندر داخل ہوا تھا.
اُس کے چہرے کا پتھریلا پن بتا رہا تھا کہ وہ اِس وقت کتنی تکلیف اور پچھتاوے میں ہے.
بی بی سائیں کے شکوے پر اُس کا سر مزید جھک گیا تھا.
” مجھے سخت سے سخت سزا دیں بی بی سائیں. میں زمہ دار ہوں سردار سائیں کی اِس حالت کا. اُنہیں شک تھا کہ اُن کے دشمن ضرور پھر کوئی سازش کرنے والے ہیں. مگر مجھے لگ رہا تھا ایسا کچھ نہیں ہے. اتنی جلدی وہ دوبارہ ایسی کوئی حرکت نہیں کریں گے.
اور ہوا وہی جس کا سردار سائیں کو اندازہ تھا. وہ لوگ شہر جانے والے راستے پر گھات لگائے بیٹھے تھے. وہ لوگ کافی زیادہ تعدار میں تھے. مگر میرے سائیں کو نقصان پہنچانے والوں میں سے کوئی بھی اُس جگہ سے زندہ سلامت واپس لوٹ کر نہیں گیا. ذوالفقار اب بیٹھا جشن منا رہا ہوگا. اپنے بندوں کی لاشوں پر. کاش کے اُن لاشوں میں کوئی ایک اُس کے خاندان کے کسی فرد کی ہوتی تو اُس کا جشن دوبالا ہوجاتا.”
خدا بخش کے لہجے میں ذوالفقار کے لیے شدید نفرت تھی. جبکہ سیاہل خان کا ذکر کرتے کوشش کے باوجود بھی اپنے آنسو نہیں روک پایا تھا. جو شخص ہمیشہ اُن لوگوں کی ڈھال بن کر کھڑا رہا تھا. آج وہ اُن سب کو بے آسرا چھوڑ کر زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا.
نہ صرف خان حویلی بلکہ اُن کا پورا قبیلہ اِس وقت غم و اذیت سے دوچار تھا. ہر دل بس سیاہل خان کی سلامتی کے لیے دعا گو تھا. سیاہل خان کو تین گولیاں لگی تھیں. اِس وقت وہ آپریشن تھیٹر میں تھا. اور ڈاکٹر ابھی تک اُس کے بارے میں کچھ نہیں بتا رہے تھے. سب کی جان سولی پر لٹکی ہوئی تھی. ہر گزرتا لمحہ اُن کی اذیت میں اضافہ کررہا تھا.
سیاہل کے کچھ خاص آدمی اور حویلی کے سارے مرد ہاسپٹل میں موجود تھے. عورتوں میں سے صرف بی بی سائیں اور حسنہ بیگم آئی تھیں. بی بی سائیں نے ہی باقی سب کو آنے سے منع کردیا تھا.
” خدا بخش رو مت. کچھ نہیں ہوگا میرے پوتے کو بہت بڑا جگرا ہے اُس کا. اِس سے بھی کہیں زیادہ گولیاں اپنی چھاتی پر کھانے کی طاقت رکھتا ہے. یہ گیدڑ پیٹھ پیچھے وار کرکے میرے بہادر شیر کو کچھ نہیں کرسکتے. انہوں نے میرے پوتے کا قیمتی خون بہا کر اپنی بربادی کو آواز دی ہے.”
بی بی سائیں ایک بہت ہی مضبوط خاتون تھیں. سالوں پہلے اپنے شوہر اور جوان بیٹے کو اُنہی دشمنوں کی وجہ سے کھویا تھا. اب اپنے پوتے کو کھونے کا مزید حوصلہ نہیں تھا اُن میں.
بی بی سائیں ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگ رہی تھیں. جب عمیر عجلت میں اندر داخل ہوا تھا. بی بی سائیں نے آنکھیں زور سے میچتے خود کو ہر طرح کی خبر کے لیے تیار کرلیا تھا.
” بی بی سائیں مبارک ہو بی بی سائیں. ادا سائیں کا آپریشن کامیاب رہا ہے. ڈاکٹرز نے بولا ہیں. اُنہیں کچھ دیر میں ہوش آجائے گا. ادا سائیں خطرے سے باہر ہیں. “
عمیر کی آواز کان میں پڑتے ہی بی بی سائیں ﷲ کے حضور سجدہ ریز ہوئی تھیں. جسں نے اِس بار اُنہیں نااُمید نہیں لُٹایا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” خانی بیٹا سردار سائیں کو ہوش آگیا ہے. ابھی خدا بخش سے میری بات ہوئی ہے. “
خانی پچھلے پندرہ گھنٹوں سے جائے نماز پر بیٹھی اپنے رب سے سیاہل خان کی زندگی, اُس کی سلامتی کے لیے گڑگڑا کر دعا مانگ رہی تھی. انا بی کی اتنی منتوں کے باوجود نہ اُس نے کچھ کھایا تھا نہ پیا تھا. اُس کی ایک ہی ضد تھی. جب تک سیاہل کو دیکھ یا اُس سے بات نہ کرلے. وہ ایک گھونٹ بھی اپنے حلق سے نہیں اُتارے گی. انا بی خانی کی ضد سے واقف تھیں. زندگی چاہے اِدھر سے اُدھر ہوجائے وہ اپنی ضد چھوڑنے والی نہیں تھی.
مگر اتنے گھنٹوں بعد انا بی کی سنائی گئی خبر اُس کے لیے نئی زندگی کی نوید ثابت ہوئی تھی.
” انا بی آپ سچ کہہ رہی ہیں نا. وہ ٹھیک ہے نا اب. “
خانی تشکر بھری نم آنکھیں انا بی پر ٹکاتی دل کی تسلی کے لیے دوبارہ پوچھ گئی تھی.
” خانی وہ اب بلکل خطرے سے باہر ہیں. بس اب پروردگار سے دعا ہے کہ وہ اُنہیں جلد از جلد صحت یاب کر دیں. اِس وقت اُن کے گھر والے اُن کے پاس موجود ہیں. مگر خدا بخش نے کہا ہے وہ موقع دیکھ کر آپ سے بات ضرور کروائے گا. “
انا بی خانی کی پیشانی پیار سے چومتے اُسے تسلی دیتے بولیں.
” تو کیا اُسے خود میرا خیال نہیں ہے. “
سیاہل خان کے ٹھیک ہوتے ہی خانی کے شکوے بھی شروع ہوچکے تھے. اُس کے منہ پھلا کر کہنے پر انا بی بھیگی چہرے سے مسکرائی تھیں.
” آپ جانتی ہیں خان سائیں نے ہوش میں آتے سب سے پہلے کس کا پوچھا. “
انا بی خانی کی گیلی پلکیں صاف کرتے بولیں.
” کس کا. “
خانی کا دل زور سے دھڑکا تھا.
” آپ کا. خان سائیں کو آپ کی جذباتی طبیعت کا پتا ہے. اِس لیے شاید اُنہیں اِس بات کا ڈر تھا کہ آپ نے کسی کے سامنے کچھ ظاہر نہ کردیا ہو.”
خانی کے ہونٹوں پر بہت پیاری سی مسکان پھیل گئی تھی.
” تو کیا وہ یہ بھی جانتا ہے کہ میں اُس سے محبت کرنے لگی ہوں. “
خانی نے انا بی سے سوال کرتے پہلی بار زبان سے اِس بات کا اعتراف کیا تھا. جس پر انا بی نے مسکراتے سر اثبات میں ہلایا تھا.
اُس کی ذو معنی باتیں یاد کرتے خانی کی پلکیں لرز اُٹھی تھیں.
” خانی بیٹا اب آپ تھوڑا سا کھانا کھا لو. اتنے ٹائم سے آپ نے کچھ نہیں کھایا. اب تو خان سائیں ہوش میں آگئے ہیں نا. اب تو کھا لیں.”
انا بی نے خانی کو پچکارتے راضی کرنا چاہا تھا.
” نہیں انا بی پلیز مجھے بار بار فورس مت کریں جب تک میں اُس سے بات نہیں کر لیتی تب تک کچھ نہیں کھاؤ گی. “
خانی کو ابھی تک اپنی ضد پر اڑا دیکھ انا بی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھیں.
خانی اتنے ٹائم سے کمرے میں بند تھیں. باہر بھی اِس سب ہنگامے کی وجہ سے گھروالوں میں سے ابھی تک کوئی بھی اُس کی جانب متوجہ نہیں ہوا تھا. شاید سب یہی سمجھ رہے تھے کہ خانی کو اِس سب سے کوئی خاص فرق نہیں پڑرہا. اور کہیں نہ کہیں آغا جان خوش تھے کہ وہ خانی کے دل میں سیاہل خان کی نفرت ڈالنے میں کامیاب ہوچکے ہیں.
میران کے بارے میں نہ خانی نے کچھ پوچھا تھا. اور نہ ہی انا بی نے کچھ بتایا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” خانی سردار سائیں کا فون ہے.آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں. “
خالی پیٹ ہونے اور مسلسل رونے کی وجہ سے خانی کا سر اب درد سے پھٹ رہا تھا. مگر زرا سا بھی آرام نہ کرنے کی قسم کھاتے وہ کتنے وقت سے بے چینی سے کمرے میں ٹہلنے میں مصروف تھی. ایک دو بار چکر آنے کی وجہ سے لڑکھڑائی بھی تھی. مگر اپنی ضد سے باز نہیں آئی تھی.
باہر انا بی نے آغا جان کے پوچھنے پر اور باقی سب کو یہی بتایا تھا کہ خانی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے وہ سو رہی ہے.
اب کافی دیر بعد موبائل لے کر اندر داخل ہوتے خانی کو پہلے والی حالت میں ہی کھڑا دیکھ وہ افسوس سے سر ہلا کر رہ گئی تھیں.
انا بی کی بات پر خانی کی سانسیں تیز ہوئی تھیں. اُس نے آگے بڑھتے لرزتے ہاتھوں سے موبائل تھام کر کان سے لگایا تھا.
انا بی اُسے موبائل دے کر باہر نکل گئی تھیں.
” خانی… “
سیاہل کی پکار پر خانی کی ہر سانس جیسے سمت بن گئی تھی.
” کیسے ہو تم. “
خانی بہت مشکل سے اتنا ہی بول پائی تھی.
” میں بلکل ٹھیک ہوں. تم کچھ کھا پی کیوں نہیں رہی. تم جانتی ہو. اِن گولیوں نے مجھے اتنی اذیت نہیں دی جتنی انا بی سے تمہارے بارے میں سن کر ہوئی.”
سیاہل خان کی آواز سن کر اُس کی آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی طرح ٹوٹ کر گالوں پر گرنے لگے تھے. جو آواز سننے کے لیے وہ پچھلے اتنے گھنٹوں سے اذیت میں تھی. اب وہ کانوں میں پڑتی اُسے زندگی کی نئی روح پھونک گئی تھی.
” انا بی کھانا لے کر آرہی ہیں. ابھی اور اِسی وقت جو کھانا بھی وہ تمہارے سامنے رکھیں گی. وہ تمہیں کھانا ہوگا. “
خانی اُس کی محبت پر دل و جان سے ایمان لے آئی تھی. جس کو اتنی تکلیف میں ہوتے ہوئے بھی اُسی کا خیال تھا. خانی کو اُس کی آواز میں نقاہت محسوس ہوئی تھی. جو سیاہل خان بہت ہی مہارت سے چھپانے کی کوشش کررہا تھا.
اُسی وقت انا بی ہاتھ میں ٹرے اُٹھائے اندر داخل ہوئی تھیں. جس میں کھانے کے ساتھ ساتھ فروٹ اور جوس دیکھ خانی نے خفگی سے انا بی کو دیکھا تھا. جو اُسے مسکراتی نظروں سے دیکھتیں باہر نکل گئی تھیں.
” ہاسپٹل کے بیڈ پر لیٹ کر بھی تم دھمکیاں دینے سے باز نہیں آ رہے. “
خانی اِس وقت سیاہل سے صرف اُس کے بارے میں پوچھنا چاہتی تھی. جبکہ وہ پہلے اُسے کھانا کھلانے پر بضد تھا.
” اور اگر تم نے ابھی میری بات نہ مانی تو اِس حالت میں بھی تمہیں. تمہاری اُس حویلی سے اُٹھوانے کی طاقت رکھتا ہوں. اِس لیے تمہاری بہتری اِسی میں ہے کہ چپ چاپ کھانا کھاؤ. “
سیاہل خان اپنے درد پر قابو پاتے اپنی ضدی بیوی کو اُسی کے انداز میں سمجھاتے ہوئے بولا.
اِس بار سیاہل خان کی دھمکی کارگر ثابت ہوئی تھی. کھانی بہت مشکل سے کھانا کھا کر جوس حلق سے اتارنے لگی تھی. جانتی تھی وہ جب تک انا بی سے اُس کے سارا کھانا کھانے کی تصدیق نہیں کرلے گا تب تک اُس سے سیدھے طریقے سے بات نہیں کرے گا.
اور ایسا ہی ہوا تھا. سیاہل نے فون بند نہیں کیا تھا. وہ آرام سے آنکھیں موندے فون کان سے لگائے لیٹا رہا تھا. اور جیسے ہی خانی نے کھانا کھا لینے کا بتایا. اگلے دو منٹ بعد انا بی کے تصدیق کرنے پر ہی دوسری طرف جیسے سیاہل خان کو سکون ملا تھا.
” کیا سردار سیاہل موسیٰ خان اب مجھے بتانا پسند کریں گے کہ اُن کی طبیعت کیسی ہے اب. یا پھر کوئی نیا حکم صادر کرنا چاہتے ہیں. “
خانی کی طنزیا چڑھے ہوئے مگر فکرمند انداز پر سیاہل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی.
” طبیعت تو میری اُسی وقت ٹھیک ہوگئی تھی. جب ہوش میں آنے کے بعد مجھے پتا چلا کہ کسی نے میری فکر اور محبت میں رو رو کر آنسو کا دریا بہا ڈالا ہے. “
سیاہل خان کا محبت کی لوہ دیتا لہجہ خانی کے چہرے پر مختلف رنگ بکھیر گیا تھا.
” تمہیں بہت درد ہورہا ہوگا ہے نا. میرے اپنوں نے تم پر حملہ کروایا ہے. کیا تمہیں مجھ سے نفرت محسوس نہیں ہوتی. کہیں نہ کہیں تمہاری اِس تکلیف کی زمہ دار میں بھی تو ہوں نا.”
خانی کا لہجہ ایک بار پھر بھیگ چکا تھا. جس پر سیاہل نے غصے سے مٹھیاں بھینچی تھیں.
” خانی تم اِس طرح رو رو کر مجھے مزید تکلیف دینا چاہتی ہو کیا. میری تمہارے لیے محبت اتنی کمزور نہیں ہے کہ کسی اور کی وجہ سے میں تم سے نفرت کروں گا.
اور درد پہلے کم تھا مگر تمہاری روتی آواز سن کر مزید بڑھ گیا ہے. تمہیں بیمار بندے کی عیادت کرنی نہیں آتی کیا. اپنی پیاری سی آواز میں اگر محبت کا اظہار کر دو تو تمہارا یہ مریض اپنا سارا درد بھول جائے گا. “
سیاہل کے گھمبیر لہجے پر خانی کو اپنی ہتھیلیاں بھیگتی ہوئی محسوس ہوئی تھیں.
سیاہل خان بہت ہی ہوشیاری سے اُس کی بات کا رُخ بدل گیا تھا.
” تم سے کس نے کہا میں محبت کرتی ہوں تم سے ایسا کچھ نہیں ہے. زیادہ خوش فہمیاں پالنے کی ضرورت نہیں ہے. “
خانی سیاہل کے فون پر ہونے کا خوب فائدہ اٹھا رہی تھی. جانتی تھی اگر وہ سامنے ہوتا تو وہ اتنی دیدہ دلیری سے اب یہ سفید جھوٹ نہیں بول پاتی. جب وہ اُس کے جذبات کے بارے میں واقف ہوچکا تھا.
” سردارنی صاحبہ دور ہو اِس لیے جتنی اپنی مرضی چلانی ہے چلا لو. میرے سامنے آؤ پھر دیکھنا محبت کا اظہار کیسے کرواتا ہوں. تمہاری زلفوں نے اُس دن کے بعد سے ویسے ہی مجھے بہت ڈسٹرب کیا ہوا ہے.”
سیاہل خان کی محبت بھری دھمکی نے خانی کو خود میں سمٹنے پر مجبور کردیا تھا.
” واقعی گولیاں کھا کر اتنے بڑے آپریشن کے بعد بیڈ پر پڑے ہوئے سردار سیاہل موسیٰ خان ہی ایسی باتیں کرسکتا ہے. “
خانی نے اپنی کیفیت پر قابو پاتے تپ کر جواب دیا تھا. جس کے جواب میں سیاہل کے زور دار قہقہے کے ساتھ ساتھ ہلکی سی کراہ بھی نکل گئی تھی. اُس کے دائیں کندھے پر بھی گولی لگی تھی. ہلنے کی وجہ سے زخم دکھ گیا تھا.
” کیا ہوا سیاہل. یہ کیا طریقہ ہے. مجھے میرے کھانا نہ کھانے پر ڈانٹ رہے تھے. اور اب خود زرا سی بھی اپنی کیئر نہیں کررہے. اب میں نے بھی اپنے جاسوس وہاں چھوڑ دینے ہیں. اور اگر تم نے اپنا خیال نہ رکھا تو مجھ سے بُرا بھی کوئی نہیں ہوگا.”
خانی فکرمندی سے اُسے جھڑکتے اُسی کی دھمکی واپس لُٹاتے ہوئے بولی. جبکہ سیاہل خانی کے انداز پر مسکرائے بنا نہ رہ پایا تھا.
اُس کی سردارنی بھلا کہاں اُس سے پیچھے رہتی تھی.
” خانی اسجد بلوچ خود کو ذہنی طور پر تیار کر لو. بہت جلد تم خانی سیاہل خان بن کر خان حویلی آنے والی ہو. “
سیاہل خان کی بہت سی کہانیاں لی گھمبیر سرگوشی خانی کی دل کی دنیا ہلا گئی تھی. وہ کتنی دیر کچھ بول ہی نہیں پائی تھی. وہ نہیں جانتی تھی. سیاہل خان کیا کرنے والا تھا. وہ کس طرف اشارہ کررہا تھا. اُس کے بُری طرح دھڑکتے دل نے اُس سے کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں چھین لی تھیں.
جس شخص کی کچھ دیر کی قربت اُس کو پاگل کر دیتی تھی. ہمیشہ کے لیے اُس کے قریب رہنا خانی کو لرزا گیا تھا.
اِس سے پہلے سیاہل مزید کچھ کہتا کچھ لوگوں کے ملنے آنے کی وجہ سے اُس نے فون بند کردیا تھا.
” سیاہل بیٹا آپ کی خاموشی کا وہ ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے. کئی بار اپنی حد کراس کرچکے ہیں. میں چاہتی ہوں. اب اُن کو منہ توڑ جواب ملنا ہی چاہیے.”
بی بی سائیں سیاہل کے پاس کرسی پر بیٹھتے لہجے میں اپنے دشمنوں کے لیے حد درجہ نفرت بھرے مخاطب ہوئیں.
” آپ فکر مت کریں. اب میں ذوالفقار اور اُس کے خاندان پر ایسی ضرب لگاؤں گا کہ وہ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے. “
سیاہل خان کی آنکھوں میں انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی.
” ذوالفقار کی پوتی کے بارے میں کیا ارادہ ہے. وہ جتنا اہم مہرہ اُن کے لیے ہے. اُس سے بھی کہیں زیادہ فائدہ مند ہمارے لیے ہے. “
بی بی سائیں نے جانچتی نظروں سے سیاہل خان کی جانب دیکھا تھا.
جہاں وہ خانی اسجد بلوچ کے لیے نفرت دیکھنے کی خواہش مند تھیں. لیکن سیاہل خان کے بولے گئے الفاظ اُنہیں بُری طرح آگ لگا گئے تھے.
” وہ مہرہ نہیں ہے کسی کے لیے بھی. اور نہ ہی میں بننے دوں گا. وہ بیوی ہے سردار سیاہل خان کی. اور کوئی اُس سے یہ مقام چھین نہیں سکتا.”
سیاہل نے اپنے لہجے اور الفاظ سے سامنے بیٹھی اپنی دادی کو باور کروایا تھا. کہ اُسے اُن کے خانی کے لیے استعمال کیے گئے الفاظ کس قدر بُرے لگے ہیں.
” تو میرا شک ٹھیک نکلا. تم اُن دشمنوں کی بیٹی کو اپنی بیوی تسلیم کرچکے ہو. تم اُن دھوکے بازو کی بیٹی پر یقین کرکے دوبارہ کسی بڑے نقصان سے دوچار ہونا چاہتے ہو. تمہیں کیا لگتا ہے. وہ اپنے دادا اور بھائی کے خلاف جاکر تمہاری وفا دار رہے گی. کبھی نہیں ایسا کبھی نہیں کرے گی وہ.
میں بہت کچھ کھو چکی ہوں. تمہیں کھونے کی ہمت نہیں ہے مجھ میں. اگر تمہیں کچھ ہوا تو میں زندہ نہیں رہ پاؤں گی. “
بی بی سائیں کے دل میں جہاں خانی کے لیے حددرجہ نفرت تھی وہیں سیاہل کے لیے اُن کا لہجہ ڈھیروں محبت اور فکر لیے ہوئے تھا.
” بی بی سائیں آپ جانتی ہیں نا اپنے پوتے کو. کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرے گا. وہ محبت ہے میری. دھوکہ کرے یا وفا داری. آنا تو اُسے میرے پاس ہی ہوگا. جب میں اُسے اپنی بیوی کی حیثیت سے قبول کر چکا ہوں. تو میں چاہتا ہوں آپ اور حویلی کے باقی لوگ بھی اُس کو پوری عزت اور اُس کے مقام سمیت قبول کرلیں.
اور ویسے بھی مجھے اب دھوکے برداشت کرنے کی عادت سی ہوچکی ہے. “
سیاہل خان بات کے اختتام پر اندر آتی اپنی ماں حسنہ بیگم کی جانب دیکھتے ناچاہتے ہوئے بھی طنز کر گیا تھا.
جبکہ اپنے بیٹے کی حالت پر دکھ اور پریشانی سے ہلکان حسنہ بیگم اس کے طنز پر چہرا جھکا گئی تھیں.
اُن کی پیاسی ممتا کی پیاس آج کئی گنا بڑھ گئی تھی. وہ اُسے گلے سے لگانا چاہتی تھیں. اُس کے سہی سلامت ہونے کا یقین کرنا چاہتی تھیں. مگر اُن کا بیٹا اُن کی جانب دیکھنے کو بھی تیار نہیں تھا. جو اُن کا برسوں پہلے کیا قصور معاف کرنے کو آج بھی تیار نہیں تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” اپنے اُس سردار کا آرڈر مانو آپ لوگ. میں نے فیصلہ کرلیا ہے. مجھے اُسے دیکھنے جانا ہے تو جانا ہے. آپ دونوں بتاؤ میرا ساتھ دو گے. یا میں خود ہی کچھ کروں. “
خانی سینے پر ہاتھ باندھے اپنے سامنے کھڑے شہرام اور انا بی سے مخاطب ہوئی تھی. شہرام سیاہل خان کے بارے میں سن کر نگار کو لیے اگلے دن ہی وہاں پہنچ گیا تھا. نگار سیاہل کے فارم ہاؤس پر ہی تھی. شہرام نے اُسے اِس حوالے سے کچھ نہیں بتایا تھا.
یہاں آکر خانی نے اُس کے لیے نئی آزمائش کھڑی کر دی تھی. وہ سیاہل سے ملنا چاہتی تھی. ہاسپٹل میں تو سیاہل کو ملنا مشکل تھا ہی مگر دو دن بعد ہی وہ ڈاکٹرز سے صلاح لے کر اور پوری میڈیکل کیئر کے ساتھ حویلی شفٹ ہوچکا تھا. جہاں جاکر ملنا تو ناممکن ہی تھا.
مگر خانی کی ضد تھی. اُسے ملنا ہے تو ملنا ہے. چاہے جو بھی ہوجائے. خانی کی اُس دن کے بعد سیاہل سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی. کیونکہ خانی نے انا بی کے ذریعے سیاہل کو یہی کہلوایا تھا. کہ وہ اُسے دیکھنا چاہتی ہے. لیکن سیاہل مسلسل منع کررہا تھا.
یہی بات خانی کے لیے زیادہ تشویش ناک تھی. اُس کا دل سکون میں نہیں آرہا تھا. جب تک کہ وہ سیاہل خان کو اپنی آنکھوں کے سامنے سہی سلامت نہ دیکھ لے.
” آپ تو اپنے سردار کی حکم عدولی کے بعد بچ جائیں گی. خیر ہم لوگوں کی نہیں ہوگی. خیر بولیں کیا کرنا ہوگا مجھے. “
شہرام آخر کار ہار مانتا ہاتھ کھڑے کر گیا تھا. خانی نے انا بی کا فیصلہ سننے کے لیے اُن کی جانب دیکھا تھا.
” سردار سائیں بہت غصہ کریں گے. آپ ابھی اُن کے غصے سے واقف نہیں ہیں. “
انا بی نے اُسے سمجھانا چاہا تھا.
“تو آپ اپنے سردار سائیں کی خاطر میرا ساتھ نہیں دیں گی. “
خانی اُنہیں ایموشنل بلیک میل کرتی ناراضگی سے بولی تھی.
جس پر بے حد لاچارگی کے عالم میں انا بی نے ہار مان لی تھی. زندگی میں شاید پہلی بار وہ سیاہل خان کے خلاف جارہی تھیں. وہ بھی اُسی کی لاڈلی کی وجہ سے.
” خان حویلی میں قدم رکھنا آسان کام نہیں ہیں. اگر آپ پکڑی گئیں تو…… “
انا بی نے اُسے روکنے کی ایک چھوٹی سی کوشش کی تھی.
” تو کیا پکڑی گئی تو آپ کا سردار سائیں وہی ہے. بچا لے گا. “
خانی مسکراتی آنکھوں اور پُر یقین لہجے سے بولی.
جس پر شہرام اور انا بی بھی مسکرائے بنا نہ رہ سکے تھے.

جاری ہے………..

لائکس اور کمنٹس کرنا مت بھولیں… جنتے لائکس کمنٹس زیادہ ہونگے. نیکسٹ ایپیسوڈ اُتنی ہی لمبی اور خانی سیاہل سپیشل ہوگی. 😍😍😍😍