No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
سیاہل خان اُس کی آنکھوں میں تیرتی الجھنوں پر خانی کا گلابی گال تھپتھپاتے بولا تھا.
جبکہ خانی سیاہل خان کی بڑھتی جسارتوں پر اُسے گھورتے دو قدم مزید دور ہوئی تھی. یہ سب اتنا اچانک ہورہا تھا کہ وہ کچھ سمجھ ہی نہیں پارہی تھی.
سیاہل خان سے خانی کی حرکت پوشیدہ نہیں رہ سکی تھی.
خانی کے فیس ایکسپریشن سیاہل کے چہرے پر وہی مقابل کو اپنا آثیر کر دینے والی مسکراہٹ بکھیر گئے تھے.
” اسی وجہ سے چاہتا تھا دور رہو مجھ سے. خانی اسجد بلوچ سے سیاہل موسیٰ خان زبردستی محبت یا نفرت تو نہیں کروا سکتا. مگر خود سے دور کرنے یا قریب کرنے کا پورا اختیار رکھتا ہوں. ابھی بھی وقت ہے دور رہو مجھ سے. ورنہ جس دن میں نے اپنا ارادہ بدل لیا تو تمہاری یا تمہارے خاندان والوں کی ایک بھی نہیں چل پائے گی. “
اُس کی حرکت پر چوٹ کرتا سیاہل خان خانی کو بہت کچھ باور کروا گیا تھا.
خانی اِس بات سے ناواقف تھی کہ وہ سیاہل خان کے قریب آکر اُس کے اپنے گرد سالوں سے بنائے خول کو کس حد تک کمزور کرگئی ہے.
سیاہل خانی پر ایک بھرپور نظر ڈالتا کمرے سے باہر نکل گیا تھا.
جبکہ خانی وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی. اُس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اُس کا بھائی اتنی گھٹیا حرکت کرسکتا ہے. پہلے شہرام اور اب میران کے بارے میں یہ سب سن کر خانی کا دماغ بلکل ماؤف ہوچکا تھا.
وہ سیاہل خان کی بات کو جھٹلانا چاہتی تھی. مگر سیاہل خان کی آنکھوں کی سچائی اور لہجہ کی پختگی پر خانی ایسا نہیں کرپائی تھی. لیکن پھر بھی اِس بات پر یقین کرنے سے پہلے اُس نے ایک بار میران سے بات کرنے کا سوچ لیا تھا.
خانی نجانے کتنی دیر اپنی سوچوں سے اُلجھتی وہاں بیٹھی رہتی جب سیاہل خان کی ملازمہ دروازہ ناک کرتی اندر داخل ہوئی تھی.
” بی بی جی آپ جلدی سے باہر آجائیں. وہ بڑی بیگم سائیں کو وہاں سمن بی بی جی کے کہنے پر آپکی ملازمہ نے یہی بتایا گیا ہے کہ شور کی وجہ سے آپ گاڑی میں جاکر بیٹھ گئی ہیں. اب وہ لوگ نکلنے کے لیے گاڑی کی جانب آرہی ہیں. آپ کو اُن سے پہلے وہاں پہنچنا ہوگا. “
ملازمہ عجلت میں بات کرتی بشرا بیگم کا حوالہ دیتی خانی کے قریب آئی تھی.
جس پر خانی غائب دماغی سے سر ہلاتے وہاں سے نکل آئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” یہ انا بی ہیں کہاں آ کیوں نہیں رہیں. میں خود ہی جاکر دیکھتی ہوں. “
خانی حویلی واپس آکر جلد از جلد انا بی سے ملنا چاہتی تھی. اُس نے دو دفعہ ملازمہ کو بھیجا تھا اُنہیں بلانے مگر وہ آ ہی نہیں رہی تھیں. اِس لیے خانی بیڈ سے اُٹھتی اُنہیں ڈھونڈنے خود ہی باہر نکل آئی تھی.
وہ اگلے دس منٹ میں اُنہیں ہر اُس جگہ ڈھونڈ چکی تھی. جہاں اُن کا ہونا متوقع تھا. مگر وہ اُسے کہیں نظر نہیں آئی تھیں. ملازمین نے بھی اُس کے پوچھنے پر لاعلمی کا اظہار کیا تھا.
اب خانی کافی حد تک فکرمند ہوچکی تھی. وہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ آخر معاملہ کیا ہے. ہر کوئی کیسے لاعلم ہوسکتا تھا.
خانی اپنی ہی سوچوں میں الجھی راہداری کے آخری دہانے پر آکھڑی ہوئی تھی. جہاں سے سیڑھیاں نیچے بیسمنٹ کی جانب مڑتی تھی. اُسی لمحے اُسے وہاں سے ایک زور دار نسوانی چیخ سنائی دی تھی. جو اتنی درد ناک تھی کہ وہاں کھڑے خانی کا دل دہل گیا تھا.
وہ اِس طرف پہلی دفعہ آئی تھی. اِس سے پہلے اُسے معلوم نہیں تھا کہ اِس حویلی کا کوئی بیسمنٹ بھی ہے.
خانی بنا سوچے سمجھے سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی تھی. نیچے اُتر کر ایک لمبی تاریک راہداری عبور کرتے وہ جیسے ہی آگے بڑھی وہاں کا منظر دیکھ وہ بھونچا کر رہ گئی تھی. یہاں تو ایک الگ ہی دنیا آباد تھی.
یہاں ہر طرف ذرد روشنیاں جگمگا رہی تھیں. ایک طرف بڑا سا ہال تھا جہاں بڑی تعداد میں زمین پر بستر بچھے تھے. یا شاید جنہیں بستر کہنا بھی مناسب نہیں ہوگا. پتلی سی کپڑے کی بنی دری کے اُوپر میلی چادریں فولڈ کرکے رکھی گئی تھیں. ایسا بستر تو سزا یافتہ جیل کے قیدیوں کا بھی نہیں ہوتا تھا.
خانی ایک ترحم آمیز نظر وہاں پر ڈال کر جلدی سے آگے بڑھی جہاں سے اُسے ہلکی ہلکی سسکیوں کی آوازیں آرہی تھیں. ہال سے آگے ایک بڑے سے ہال نما کچن کے دروازے پر آتے خانی کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں.
ارباز بلوچ کسی ملازمہ کو بالوں سے دبوچے اُس کے منہ پر تھپڑ مار رہا تھا. اور وہاں موجود بڑی تعداد میں کھڑی ملازمائیں سر جھکائے سامنے ہوتے ظلم پر تھر تھر کانپ رہی تھیں. کیونکہ اُن میں سے بہت سو پر ایسا قہر ٹوٹ چکا تھا. اور بہت سو پر ابھی ٹوٹنا باقی تھا.
خانی کتنے لمحے سکتے کے عالم میں اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پائی تھی.
یہ سب کیا تھا. اتنے دن حویلی میں رہنے کے باوجود وہ اِس بارے میں کیسے لاعلم رہی تھی.
” بول اب چلائے گی میرے آگے زبان. آج میں تیرا وہ حال کروں گا کہ تجھ سمیت اِن میں سے کوئی بھی میرے آگے سر اُٹھانے کے قابل نہیں رہیں گی. “
ارباز بلوچ اُس لڑکی کے ساتھ نازیبا حرکتیں کرتا وہاں سے گھسیٹ کر ساتھ لے جاتے وہاں موجود دوسرے دروازے کی جانب بڑھنے لگا تھا. جس پر بے جان ہوتے وجود کے ساتھ کھڑے ہوکر یہ منظر دیکھتی خانی شدید غصے کے عالم میں آگے بڑھی تھی. خانی وہاں سب سے آخر میں کھڑی تھی اِس لیے ارباز سمیت ابھی تک کسی کی نظر اُس پر نہیں پڑی تھی. اُس نے ارباز بلوچ پر چلانے اُسے روکنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا. جب انا بی نے ایکدم خانی کے سامنے آتے خانی کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اُسے روک دیا تھا.
” خانی آپ کچھ نہیں بولیں گی. خاموشی سے چلیں میرے ساتھ. “
انا بی خانی کو وہاں دیکھ گھبراہٹ سے دھیمی آواز میں بولیں.
خانی نے اُن کا ہاتھ ہٹانا چاہا تھا مگر اُن کی گرفت بہت مضبوط تھی. وہ اُسے کچھ بھی بولنے کا موقع دیے بغیر ساتھ لیے واپس ہال کمرے کی جانب لے آئی تھیں.
” انا بی یہ کیا کررہی ہیں آپ چھوڑیں مجھے. وہ وحشی درندہ کیا حال کر رہا ہے اُس معصوم کے ساتھ اور آپ اُسے منع کرنے کے بجائے مجھے روک رہی ہیں. آپ پلیز ارباز کو روکیں یا مجھے جانے دیں وہ کیسے اُس پر اتنا ظلم کرسکتا ہے.
اور ہم یہ سب اپنی آنکھوں سے ہوتا دیکھ خاموش کھڑے رہ کر اُس سے کم ظلم نہیں کریں گی.”
خانی کی آنکھوں سے دکھ , ندامت اور بے بسی کے احساس سے آنسو نکل آئے تھے. اُسے انا بی پر اِس وقت شدید غصہ آرہا تھا جو اُسے زبردستی وہاں روکے کھڑی تھیں. اور وہ درندرہ صفت ارباز بلوچ اُس لڑکی کو گھسیٹتے اندر لے جارہا تھا.
” خانی بیٹا آپ اُس کو نہیں روک سکتی. اُلٹا اگر اُس نے آپ کو یہاں دیکھ لیا تو بہت غلط ہوجائے گا. لیکن اگر آپ سامنے آئے بنا بھی اِس ظلم کو روکنا چاہیں تو روک سکتی ہیں. “
خانی نے اب غور کیا تھا کہ ماہناز بیگم کا چہرا بھی آنسوؤں سے تر تھا. وہ بھی اِس ظلم پر اُتنی ہی تکلیف میں تھیں جتنی خانی تھی.
ماہناز بیگم خانی کی ضدی طبیعت سے اچھی طرح واقف تھیں. وہ جانتی تھیں زیادہ دیر خانی کو روک نہیں پائیں گی. اِس لیے اُسے حالات کو مدنظر رکھتے دوسرا حل بتایا تھا.
اُن کی آخری بات پر خانی نے عجلت میں اثبات میں سر ہلاتے سوالیہ نظروں سے اُن کی جانب دیکھا تھا.
” سیاہل موسیٰ خان کو کال کرو وہیں اِس درندے کو ابھی اور اِسی وقت روک سکتے ہیں. “
انا بی کی بات پر جہاں خانی کو حد درجہ حیرت ہوئی تھی وہیں اُس نے اُن کی بات پر فوراً عمل کیا تھا. وقت بہت کم تھا وہ کوئی سوال کرکے مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی.
جب اچانک خانی کو یاد آیا تھا کہ آج ہی تو سیاہل خان کا نمبر ملانے پر اُسے پتا چلا تھا کہ اُس نے خانی کو بلاک کیا ہوا ہے.
خانی کو ایک پل کے لیے لگا تھا وہ اِس انجان مظلوم لڑکی کو ظلم سے بچانے کے لیے کچھ نہیں کرپائے گی. مگر پھر بھی ایک امید کے تحت اُس نے کال ملا دی تھی. لیکن شاید اِس وقت اُس کا رب بھی اُس کے ساتھ تھا. پہلی بیل پر ہی کال اٹینڈ کر لی گئی تھی. اور سیاہل خان کی مخصوص گھمبیر آواز خانی کے کانوں سے ٹکراتی جیسے اِس وقت خانی کو باقی سب آوازوں سے اُوپر اور زندگی بخش لگی تھی.
” مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے پلیز اِس کے بدلے تم جو کہو گے میں کروں گی. پر خدا کے لیے اُس معصوم لڑکی کو ارباز کے ظلم سے بچا لو پلیز. “
خانی کی روتی آواز پر دوسری جانب سے سیاہل خان نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لی تھیں. اور بنا کچھ بولے فون بند کرگیا تھا.
رابطہ ٹوٹنے کے ساتھ ساتھ خانی کو اپنی آخری امید بھی ٹوٹتی محسوس ہوئی تھی.
” انا بی آپ نے بھی کس بنیاد پر مجھے اُس بے حس انسان سے مدد مانگنے کی کہا. وہ بھلا کیوں مدد کرے گا ہماری. پلیز مجھے جانے دیں. “
خانی کو دروازہ بند ہونے کے ساتھ اُس لڑکی کی چیخ سنائی دی تھی. خانی کو انا بی اِس بُری طرح سے جکڑے کھڑی تھیں کہ وہ ہل بھی نہیں پارہی تھی.
اُس نے اذیت کے احساس سے آنکھیں بند کر لی تھیں. جب اچانک دروازہ کھلا تھا اور ارباز بلوچ عجلت کے عالم میں باہر کی جانب بھاگا تھا.
اُس کے قریب آنے پر انا بی نے خانی کو اپنے پیچھے چھپالیا تھا.
لیکن ارباز بلوچ شاید اِس وقت اردگرد دیکھنے کی کنڈیشن میں نہیں تھا.
خانی کے ساتھ ساتھ ماہناز بی بی کے دل میں بھی ایک معصوم کو اِس درندے کے ظلم سے بچانے کے لیے ایک سکون سا سرایت کرگیا تھا.
خانی کو یقین نہیں آرہا تھا کہ سیاہل موسیٰ خان اِس قدر طاقت ور ہے کہ ارباز بلوچ کو اُس کی حویلی سے اِس طرح نکلنے پر مجبور کرسکتا ہے. اُسے معلوم نہیں تھا کہ سیاہل خان نے ایسا کیا کیا ہے. مگر جو بھی تھا. اُس کے دل میں اِس عمل کے بعد سیاہل خان کے لیے عزت اور کہیں نہ کہیں ایک نرم گوشہ پیدا ہوچکا تھا.
” سیاہل موسیٰ خان سے مدد مانگی جائے اور وہ نہ کرے ایسا ہو ہی نہیں سکتا. چاہے سامنے دوست ہو یا دشمن سیاہل خان ہر وقت مدد کرنے کو تیار رہتا ہے. اور اِس بار تو مدد خانی اسجد بلوچ نے مانگی تھی. سیاہل خان کو اپنی جان پر کھیل کر خود یہاں آنا پڑتا وہ یہ بھی کر گزرتا. “
انا بی خانی کو آزاد کرتیں پیچھے ہٹتے بولیں. سیاہل خان کے لیے اُن کے لہجے اور الفاظ میں فخر اور مان نمایاں تھا.
جس پر خانی بہت زیادہ حیران ہوئی تھی. وہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ انا بی کیسے جانتی ہیں. سیاہل خان کو اور اُس کے بارے میں یہ سب اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہیں.
مگر یہ سب خیالات جھٹکتی وہ اندر کی جانب بڑھی تھی. خانی اُس لڑکی سے ملنا چاہتی تھی.
” خانی بیٹا ابھی آپ اندر نہیں جائیں گی. اِس وقت اُوپر سے کوئی بھی آسکتا ہے. آپ اِس وقت اپنے کمرے میں جائیں. میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں. آپ کو اِن لڑکیوں سے ملوانے ضرور لاؤں گی.”
انا بی نے خانی کا ہاتھ تھام کر اُسے روکتے منت بھرے لہجے میں کہا تھا.
” پر انا بی یہ سب کیا ہے. کیوں رکھا گیا ہے اِن سب کو یہاں قید کرکے. کون ہیں یہ لوگ. اور ارباز کو کس نے حق دیا ہے اِن سب سے اتنا غیر انسانی سلوک کرنے کا. “
خانی کا دماغ پھٹ رہا تھا. قدم قدم پر اُس کو جن چیزوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا. وہ اُس جیسی نازک مزاج لڑکی کو اندر تک ہلا کر رکھ گیا تھا.
” بیٹا سب کچھ بتاؤں گی آپ کو. آج ہی بتاؤں گی. مگر اِس وقت آپ جاؤ یہاں سے. اگر کسی کی گھر والے کی نظر آپ پر پڑ گئی تو بہت بُرا ہوگا. “
انا بی نے خانی کے آگے تقریباً ہاتھ جوڑ دیئے تھے.
جس پر نا چاہتے ہوئے بھی خانی مجبوراً بنا کوئی سوال کیے اُوپر کی جانب بڑھ گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” انا بی پلیز مجھے بتائیں یہ سب کیا ہے. مجھے جاننا ہے سب ورنہ میں پاگل ہوجاؤں گی. روز مجھے یہاں کچھ نہ کچھ اُلٹا سیدھا دیکھنے کو مل رہا ہے. لیکن حقیقت کیا ہے مجھے کوئی نہیں بتا رہا. “
انا بی کے کمرے میں آتے ہی خانی دروازہ لاک کرتی اُنہیں لیے اپنے بیڈ پر آبیٹھی تھی. اتنا تو وہ سمجھ چکی تھی کہ انا بی سب کچھ جانتی ہیں ہر حقیقت سے آشنا ہیں. اِس لیے آج وہ کسی بھی قیمت پر اُن سے ہر بات جاننا چاہتی تھی.
اور شاید آج تو انا بی کو بھی سب کچھ بولنے کی اجازت دے دی گئی تھی. اِس لیے وہ بھی خانی کے سامنے سچائی سے پردہ ہٹانے کے لیے تیار تھیں.
بلوچستان میں شروع سے ہی قبائلی اور خاندانی دشمنیاں چلتی آرہی تھیں. اُنہی دشمنیوں میں ایک دشمنی خان اور بلوچ خاندانوں کی تھی. دونوں ہی ہمیشہ سے طاقت ور رہیں ہیں. اور ہمیشہ سے اُن کی نظریں بلوچستان کے شاہی جرگے کے سب سے بڑے سردار کی کرسی پر رہیں. مگر بلوچ خاندان کی بدقسمتی سے وہ کرسی ایک بار کے بعد کبھی اُن کے ہاتھ نہیں آئی. ہر بار اُس عہدے کے حقدار خان حویلی والے ہی ٹھہرائے گئے. اور یہی بات بلوچ خاندان کو ہمیشہ سے کھٹکتی رہتی. اُن کی ہر بار کی گئی سازشیں ناکام ہوجاتیں.
عباس خان شروع سے ہی اپنے روایتی انصاف پر مبنی فیصلوں کی وجہ سے قبائلی جرگے کے جدی پشتی سردار بھی تھے. اُن کے علاقے میں جتنے بھی قبائل آتے تھے. اُن سب کا ہر طرح سے خیال رکھنا اور اُن کے اچھے بُرے کا فیصلہ کرنا عباس خان کے ہاتھ میں تھا. آہستہ آہستہ بلوچ خاندان کے ظلم کی وجہ سے بہت سارے قبائلی خاندان اُن کی حکمرانی میں جاچکے تھے. اور مزید بہت سارے علاقے اِسی مقصد کے لیے اُن کی جانب دیکھ رہے تھے.
یہی بات بلوچ خاندان سے ہضم نہیں ہورہی تھی. آہستہ آہستہ اُن کی طاقت کم پڑ رہی تھی. جسے دیکھتے اُنہوں نے ایک بہت بڑا منصوبہ بنایا تھا. اور اُسی پر عمل کرتے کچھ بہت اچھے کام کرکے جو خان حویلی والوں کے حق میں تھے. ذوالفقار بلوچ نے اُن کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا تھا. عباس خان پہلے تو بلکل بھی یقین کرنے پر تیار نہیں تھے. مگر پھر اُن کے اچھے سلوک اور پچھلے رویوں پر معافی مانگنے کی وجہ سے عباس خان نے بھی درمیان میں موجود پرانی دشمنی کی دیوار گراتے اُن کا بڑھا ہاتھ تھام لیا تھا. اور یہی پر وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کرگئے تھے.
پرانی دشمنی دوستی میں بدلنے کی خبر پر جگہ پھیل گئی تھی. سب قبائلی لوگ بہت خوش تھے. کیونکہ اِس دشمنی میں اُنہوں نے بھی بہت کچھ کھویا تھا. اب وہ بھی امن و امان چاہتے تھے.
دونوں خاندانوں کی خواتین بھی ایک دوسرے سے مل کر بہت خوش تھیں.
جب اُنہی دنوں ذوالفقار بلوچ نے اِس دوستی کو مزید گہرا کرنے کے لیے اپنی تین سالہ پوتی خانی کا نکاح عباس خان کے آٹھ سال کے پوتے سیاہل سے کرنے کا فیصلہ کیا تھا. جس پر کچھ سوچ وبچاد کے بعد سب لوگوں نے حامی بھر دی تھی. یہ سوچے بغیر کہ ذوالفقار بلوچ نے عباس خان کے اُسی پوتے کو کیوں چنا تھا. جس کو مستقبل میں سردار بنایا جانا تھا. مگر تب بلوچ دوستی اور محبت کی ایسی پٹی خان حویلی والوں کی آنکھوں پر باندھ چکے تھے کہ وہ لوگ دوسرے رُخ پر سوچ ہی نہیں سکے تھے. اُن کے تو فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا. کہ اُن کو کس سازش کے اندر پھنسایا جا رہا ہے.
بلوچ خاندان سب سے پہلے خان حویلی کی سب سے مضبوط کڑی عباس خان کو توڑنا چاہتے تھے. دوستی کے اِس ناٹک کے دوران وہ اتنا تو سمجھ چکے تھے کہ عباس خان کو ختم کرنے سے اُن کا کام کس حد تک آسان ہوسکتا ہے.
جاری ہے.
