No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
ماہناز بیگم نے بات کے اختتام میں گہرا سانس لیا تھا. جیسے وہ کچھ ہی پلوں میں صدیاں کی مسافت طے کر آئی ہوں.
” یہ سب اتنے بُرے ہیں تو مجھے اتنی عزت اور محبت کیوں دے رہے ہیں. میرے ساتھ اتنا اچھا برتاؤ کیوں. “
ایک یہی بات خانی کو پوری طرح سے انا بی کی باتوں پر یقین نہیں کرنے دے رہی تھی.
” وہ آپ کو سیاہل خان کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں. تاکہ سردار سائیں کو جڑ سے کمزور کرسکیں. اتنی تباہی مچانے اور اپنا جوان بیٹا کھونے کے باوجود بھی اُن کی ضد ختم نہیں ہوسکی. “
خانی شاکڈ سی بات ختم ہونے کے بعد بھی ابھی تک اُسی پوزیشن میں بیٹھی تھی. وہ کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہی تھی. یہ ساری سچائی اُس کے دل پر بہت گراں گزر رہی تھی.
بے شک انا بی بہت اچھی تھیں. ہمیشہ اُس کا بہت خیال رکھا تھا. مگر کہیں نہ کہیں خانی کا اعتبار اُن سے اُٹھ چکا تھا. اور ماہناز بی بی بھی خانی کی آنکھوں سے اِس بات کا اندازہ لگا چکی تھیں. وہ جانتی تھیں اُن کی آخری باتوں پر خانی ہرٹ ہوگی. اُنہوں نے خانی سے سیاہل خان کے بارے میں اتنا کچھ چھپائی جو رکھا تھا.
” مجھے معاف کردیں بیٹا. پر میں مجبور تھی. اور مصلحت کے تحت اپنے محسن جس نے مجھے جہنم سے نکال کر عزت والی زندگی بخشی اُس کے حکم کی تابع تھی. مگر میری محبت آپ کے لیے بلکل سچی ہیں اور ہمیشہ رہے گی. “
ماہناز بی بی سے خانی کی زرا سی بدگمانی بھی نہیں دیکھی جارہی تھی. وہ اُس کا چہرا تھامتے محبت سے بولیں.
” تو کیا اگر آپ کا وہ سردار آپ کو کسی وجہ سے حکم دیتا کہ آپ مجھے چھوڑ کر چلی جائیں. تو کیا آپ چلی جاتیں. “
خانی کو بہت ساری باتوں کہ ساتھ ایک بات جس نے بہت ہرٹ کیا تھا. وہ یہ کہ سیاہل خان خانی اسجد بلوچ پر اعتبار نہیں کرتا. اِس وجہ سے کہ وہ بھی اِسی خاندان کا حصہ ہے. کبھی بھی کسی بھی وقت دھوکہ دے سکتی ہے.
یہ بات خانی کے اندر الاؤ سے بھڑکا گئی تھی. وہ بنا اُسے جانے اُس کے بارے میں اتنی بڑی بات کیسے بول سکتا تھا.
” نہیں میری رانی ایسا کبھی نہیں ہوتا. سردار سائیں کبھی ایسا کوئی حکم دیں گے ہی نہیں جس سے آپ کو تکلیف ہو. “
انا بی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اِس ٹوٹی بکھری خانی کو کیسے سنبھالیں. جو اپنے اردگرد موجود قریبی رشتوں کا ایک نیا روپ دیکھ کر بُری طرح ہرٹ تھی.
” ہممہ ہونہہ. نہیں چاہیئے مجھے آپ کہ اُس گھمنڈی سردار کی کوئی ہمدردی اور کسی قسم کی کوئی بھیک. وہ آپ سب کو تو کٹ پتلیوں کی طرح اپنی مرضی سے چلا سکتا ہے. مگر مجھے بلکل بھی نہیں.
اگر میرے خاندان والے گھٹیا ہیں. تو اچھا وہ بھی نہیں ہے. اتنے سالوں سے سردار ہے. تو سوائے حکم چلانے کے کیا کیا ہے اُس نے. وہ نکال سکتا ہے نا. اِن مظلوم عورتوں کو اِس جہنم سے. تو کیوں نہیں کی ابھی تک اِن کی مدد. کہیں وہ بھی اندر سے ایسا کھوکھلا مرد تو نہیں. بعد میں پتا چلے کہیں اُس نے بھی اپنی حویلی میں ایسا بیسمنٹ بنا رکھا ہو. “
خانی کو اِس وقت سب سے زیادہ غصہ سیاہل خان پر ہی آرہا تھا. جبکہ ماہناز بی بی کو سیاہل خان کے لیے ایسے الفاظ کا استعمال بہت بُرا لگ رہا تھا. لیکن ابھی کچھ بھی بول کر پہلے سے روٹھی خانی کو مزید خفا نہیں کرسکتی تھیں.
” وہ آپ سے ہمدردی نہیں بلکہ بہت محبت کرتے ہیں. اور اِن عورتوں کے لیے وہ بہت کچھ کرچکے ہیں. کئی عورتوں کو تو یہاں سے بازیاب بھی کروا چکے ہیں.
کچھ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر وہ فلحال سرعام دشمنی کا علان کرکے اُن کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لینا چاہتے. مگر خانی بیٹا آپ اُن کو بہت غلط سمجھ رہی ہیں. وہ کسی بھی معاملے میں بلکل بھی غلط نہیں ہیں. “
ماہناز بی بی نے اُسے سمجھانا چاہا تھا. مگر خانی اِس وقت نہ ہی سیاہل خان کے مزید عظمت کے قصے سننا چاہتی تھی. نہ کچھ اور.
اِس لیے اُس کے انکار پر ماہناز بی بی بنا کچھ بولے. اُس کے کمرے سے نکل آئی تھیں.
اُن کے جاتے ہی خانی بیڈ پر اوندھے منہ گرتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی.
اُس کے بابا اتنے بُرے انسان تھے. اُس کے آغا جان جنہوں نے ہر بار اُس سے مل کر اتنی محبت اتنا مان بخشا تھا. اُن کے نزدیک عورتوں کی حیثیت جوتے کے برابر بھی نہیں تھی. وہ جس حویلی میں اتنی شان اور فخر سے رہ رہی تھی. اُس میں عورتوں کو کس کیڑے مکوڑے کی طرح مسل دیا جاتا تھا. اُس کی ماں صرف اِن عورتوں کو انصاف دلانے کی خواہش دل میں لیے اِس دنیا سے جاچکی تھیں. مگر خانی نے اپنے آنسو پونچھتے دل ہی دل میں خود سے عہد کیا تھا کہ وہ اپنی ماں کی یہ خواہش پوری کرکے رہے گی. وہ اِن سب عورتوں کو اِس زندان خانے سے نکال کررہے گی. چاہے اُسے اِس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے.
خانی کے لیے ابھی یہی دکھ کم نہیں تھا کہ اُس کا بھائی میران جسے وہ اِس دنیا کا سب سے زیادہ ہمدرد اور پیار کرنے والا شخص مانتی تھی. وہ کسی اور کے قتل کی پلاننگ کرکے اُس پر قاتلانہ حملہ بھی کروا سکتا ہے. اور وہ بھی کس پر اُس شخص پر جس کے نکاح میں اُس کی لاڈلی بہن ہے.
یہ بات جان کر خانی کا دل مزیر لہولہان ہوچکا تھا. کہ اُس کے باپ نے تو سیاہل خان کے باپ کو قتل کیا تھا اور اُس کی ماں کو باندی بنانا چاہتا تھا.
سیاہل خان کے خیال پر خانی کے آنسوؤں میں مزید شدت آگئی تھی. جس شخص کے ساتھ اُس کے خاندان والوں نے اتنا بُرا سلوک کیا تھا. وہ اُس سے اتنی محبت کیسے کرسکتا تھا.
اور کیسی محبت تھی اُس کی جس میں اعتبار نہیں تھا. جس میں مقابل کو اتنا چاہنے کے باوجود اُس پر زرا برابر بھی بھروسہ نہ کیا جائے. محبت تو اِنہی سب چیزوں کا نام تھی. اگر یہ سب ہی نہیں تھا تو محبت کیسی.
ماہناز بی بی کی ایک بات جو خانی کے کانوں میں مسلسل بجتی اُس کا دل بار بار چھلنی کر رہی تھی.
“دوسری وجہ یہ تھی کہ اُنہیں آپ پر اعتبار نہیں تھا. اُن کے مطابق آپ میں بھی ذوالفقار سائیں کا خون ہے. کبھی بھی کسی مقام پر بھی آپ اُنہیں دھوکہ دے سکتی ہیں. “
خانی سمجھ نہیں پارہی تھی کہ اُس شخص کا کہا گیا یہ جملہ خانی کو اِس قدر تکلیف کیوں دے رہا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” تو آخر آج آپ نے میری بات نہیں مانی. اور ساری حقیقت بتانے کے باوجود ایک بہت بڑا سچ چھپا گئیں اُس سے. “
سیاہل خان سپاٹ چہرے اور سرد تاثرات کے ساتھ کسی غیر مرئی نقطے کو گھورتے فون پر ماہناز بی بی سے مخاطب تھا.
” معاف کیجئے گا مگر آج زندگی میں پہلی بار میں نے آپ کی حکم عدولی کی. خانی بہت نازک جذبات اور احساسات کی مالک ہیں. آج یہ ساری حقیقت جان کر وہ پہلے ہی بُری طرح ٹوٹ چکی ہیں. اپنے سب گھر والوں سے تو نفرت محسوس کر ہی رہی ہیں. کم بدگمان آپ سے بھی نہیں ہیں. میں اِس وقت وہ سچ بتا کر نہ اُنہیں مزید ہرٹ کر سکتی ہوں. اور نہ ہی آپ کی طرف سے مزید بدگمان. “
ماہناز بی بی نے آج پہلی بار کھل کر سیاہل خان کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا. کیونکہ آج بات اُن کی خانی کی تھی.
” میں آپ کو فورس نہیں کروں گا. مگر یہ بھی دیکھ لیں. کہ اگر اُسے یہ بات کسی اور طرف سے پتا چلی. اور جس انداز میں اُسے یہ بات بتائی جائے گی. آپ کی نازک مزاج خانی مجھ سے صرف بدگمان ہی نہیں ہوگی. بلکہ نفرت کرے گی. “
سیاہل خان اُنہیں تصویر کا دوسرا رخ دیکھاتے فون بند کرگیا تھا. مگر انا بی سیاہل خان کی بات سمجھتے چاہنے کے باوجود خانی کی حالت کے پیش نظر اُسے فلحال مزید کچھ بھی بتانے کے حق میں نہیں تھیں.
کیونکہ اِس وقت تو خانی اُن سے بھی روٹھی ہوئی اور بدگمان تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ٹھنڈ اچھی خاصی بڑھ چکی تھی. خانی اپنے گرد گرم شال لپیٹے باہر کھلی فزا میں نکل آئی تھی. دو دن سے طبیعت خرابی کا بہانہ بنا کر اُس نے خود کو کمرے میں بند کر رکھا تھا. وہ کسی سے بھی بات کرنا نہیں چاہتی تھی.
جب اُس کا اندر کی گھٹن زدہ فزا سے دم گھٹنے لگا تھا گھبرا کر وہ باہر نکل آئی تھی. اور ساتھ ہی اُن عورتوں کے خیال سے اُس کی آنکھیں ایک بار پھر بھر آئی تھیں. جو اِتنے سالوں سے اِس قید خانے میں بند تھیں.
خانی کریم کلر کی لانگ شرٹ کے نیچے کھلے پائنچوں والا ٹراؤزر پہنے اپنے لمبے سیاہ بالوں کو جوڑے کی شکل میں باندھے ,پیروں میں کریم کلر کے ہی کھسے پہنے اور بلیک کلر کی شال کندھوں کے گرد اوڑھے خود سے بھی روٹھی وہ اُس سہانی شام کا ایک حسین حصہ معلوم ہورہی تھی.
جب اچانک شہرام اُسے اپنی طرف آتا دیکھائی دیا تھا. خانی اِس بزدل شخص کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی اِس لیے فوراً رُخ موڑ گئی تھی.
” میران آپ سے بات کرنا چاہتا ہے. کافی فکرمند ہے آپ کی جانب سے. آپ شاید کل سے اُس کی کال ریسیو نہیں کررہی. بات کر لیں ایک بار. “
شہرام اپنا موبائل اُس کی جانب بڑھاتا نرم لہجے میں بولا.
میران دو دن پہلے ہی آفس کے کسی ضروری کام سے کراچی گیا تھا.
” کہہ دیں اُنہیں. مجھے کوئی بات نہیں کرنی اُن سے. اور آپ بھی پلیز اگر اپنا پیغام دے چکے ہیں تو جائیں یہاں سے مجھے اکیلا چھوڑ دیں. “
خانی نے شہرام کو دو ٹوک جواب دیتے قدم دوسری سمت بڑھا دیئے تھے. مگر شہرام کو اپنے ساتھ چلتا دیکھ خانی ایک دم رکتی تڑخ کر بولی.
” ڈئیر کزن ہوا کیا ہے. اتنا غصہ کس بات پر ہے. مجھ بچارے سے بھلا ایسا کیا قصور سرزد ہوگیا. جو آپ مجھ سے بھی بات نہیں کرنا چاہتیں. “
شہرام بلوچ اُس دن کی ملاقات کے برعکس آج خانی کو کافی خوش اور مطمئن سا لگا تھا. جیسے کچھ دن پہلے اُس کی لائف میں کوئی ایسی ٹریجڈی نہ ہوئی ہو.
خانی اِس کا مطلب سمجھ گئی تھی یہ شخص صرف دکھاوے کی خاطر کچھ دن کے لیے وہ سب ناٹک کررہا تھا.
خانی کا دل چاہا تھا اِس ظالم شخص کے چہرے سے اِس کی مسکراہٹ نوچ لے. جو ایک معصوم لڑکی کو موت کے گھاٹ اُتروا کر اب مزے سے کھڑا مسکرا رہا تھا.
” صرف بات نہیں میں آپ جیسے کمزور اور کم ظرف انسان کی شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتی. اور آپ سے صرف قصور نہیں بہت بڑا گناہ ہوا ہے.”
خانی بنا اُس کا لحاظ کیے چلا کر بولی تھی. شہرام بلوچ نے ایک نظر آس پاس سے گزرتے ملازمین پر ڈالی تھی. جو خاموشی سے سر جھکائے اپنے کام میں مصروف تھے. لیکن شہرام کو اتنا تو سمجھ آگیا تھا. کہ یہاں اِس شیرنی کو مزید کچھ بول کر سب کے سامنے اپنی عزت کا فالودہ نکالنے والی بات ہی تھی.
کیونکہ خانی کے انداز بتا رہے تھے وہ کسی قیمت پر اُس کا لحاظ نہیں رکھے گی.
” میں باہر کی طرف جارہا تھا کیا آپ چل سکتی ہیں میرے ساتھ. مجھے آپ سے کچھ ضروری بات بھی کرنی ہے. کیا پتا جیسا آپ سوچ رہی ہیں یا جو آپ کو بتایا گیا ہے ویسا کچھ نہ ہو. پلیز یہاں ملازمین کے سامنے مزید ایسا کچھ مت بولیئے گا. “
شہرام نے پہلے کی طرح بہت ہی نرمی سے سوال کرنے کے ساتھ آہستہ آواز میں ایک تنبہیہ بھی کی تھی.
جس پر خانی بنا کچھ بولے کچھ لمحوں کے لیے شہرام کو جانچتی مشکوک نظروں سے دیکھنے لگی تھی.
” آپ مجھ پر ٹرسٹ کرسکتی ہیں. اور آپ کسی شخص کے تحفظ کے بہت ہی مضبوط حصار میں ہیں. آپ کو زرا سی بھی تکلیف پہنچا کر مجھے اِس دنیا سے اپنا پتا نہیں کٹوانا.”
خانی کے مشکوک انداز پر شہرام بلوچ اُس کی تسلی کرتے آخر میں پُر مزاح لہجے میں بولا.
اُس کی بات کا مفہوم سمجھتے خانی اچھی خاصی حیران ہوتی اُس کے ساتھ جانے کے لیے حامی بھر گئی تھی.
اُس کا دماغ ایک بار پھر اُلجھ چکا تھا. دشمن ہونے کے باوجود شہرام بلوچ سیاہل موسیٰ خان کے بارے میں اِس طرح اتنے اچھے انداز میں بات کیسے کرسکتا تھا.
” آپ نے نگار کے ساتھ اتنا غلط کیوں کیا. کیا زرا سا بھی رحم اور شرم نہیں آئی آپ کو ایک معصوم کو اپنی محبت کے جھوٹے جال میں پھنسا کر موت کے گھاٹ اتارتے. آپ مرد اپنی دشمنیاں مردوں سے کیوں نہیں لڑتے. بزدلوں کی طرح اُن کی عورتوں کو کیوں استعمال کرتے ہو.”
خانی شہرام بلوچ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھتے ہی پھٹ پڑی تھی.
” ایسا کچھ نہیں ہے. آپ غلط سمجھ رہی ہیں.”
شہرام نے بہت ہی ضبط سے جواب دیا تھا.
” ایسا ہی ہے. عزت دینے کہ اِس ڈھونگ سے آپ لوگ مجھے مزید بے وقوف نہیں بنا سکتے. “
خانی اُس کی بات کاٹتے جلدی سے بولی. جس پر شہرام سر جھٹکتے خاموشی سے ڈرائیونگ کی جانب متوجہ ہوگیا تھا.
وہ سمجھ گیا تھا کہ اِس وقت خانی نہ اُس کی کوئی بات سننے کی پوزیشن میں ہے . اور نہ ہی کچھ سمجھنے کے موڈ میں.
کچھ سوچتے شہرام نے موبائل پر میسیج ٹائپ کرکے ڈئیر اینیمی کے نام سے سیو نمبر پر سینڈ کردیا تھا.
” مجھے واپس حویلی جانا ہے.”
خانی کا موڈ ٹھیک ہونے کے بجائے مزید خراب ہوچکا تھا.
شہرام کو سلو ڈرائیونگ کرنے کے ساتھ ساتھ موبائل پر بزی دیکھ خانی تپے ہوئے لہجے میں بولی.
” کیا آپ تھوڑا سا مزید ٹرسٹ کرتے میرے ساتھ ایک جگہ چل سکتی ہیں مجھے آپ کو کسی سے ملوانا ہے. کیا پتا اُس انسان سے مل کر آپ کے نزدیک میری پوزیشن کلیئر ہوجائے. پلیز. “
شہرام جوابی میسیج موصول ہوتے ہی خانی کی جانب دیکھتے ایک امید کے تحت بولا.
” مگر…. “
خانی نے انکار کرنا چاہا تھا.
” پلیز اب تو میں سپریم کورٹ سے بھی اجازت لے چکا ہوں. “
شہرام نے اُسے انکار کرنے سے پہلے ٹوک دیا تھا. جبکہ خانی اُس کی بات پر ناسمجھی سے اُس کی جانب دیکھ کر رہ گئی تھی.
” ٹھیک ہے. مگر اگر مجھے وہاں جاکر اچھا نہیں لگا تو میری بات مانتے مجھے فوراً واپس لانا ہوگا.”
رضامندی دینے کے ساتھ ساتھ خانی نے اپنی بات بھی سمجھائی تھی. جس پر شہرام نے زیرِ لب مسکراتے فوراً سر تسلیم خم کیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
کچھ گھنٹوں کی ڈرائیونگ کے بعد شہرام خانی کو ایک بہت ہی خوبصورت علاقے میں لے آیا تھا. وہاں خضدار کا بورڈ دیکھ خانی نے بہت ہی حیرت سے اُس کی جانب دیکھا تھا. یہ تو سیاہل خان کو علاقہ تھا. اور شاید یہ وہاں کا کوئی چھوٹا سا گاؤں تھا.
جہاں چھوٹے چھوٹے مگر بہت ہی پیارے مکانات بنائے گئے تھے. شہرام اُن مکانات کے درمیان موجود سڑک سے گزرتے گاڑی کو ایک درختوں سے ڈھکے روڈ کی جانب موڑ گیا تھا.
جس کے اردگرد گھنے جنگلات تھے. اتنا سبزا اور خوبصورت جنگلی درخت دیکھ خانی کا موڈ کافی حد تک بحال ہوچکا تھا. درختوں کے سنگ لمبی مسافت طے کرتے شہرام کی گاڑی ایک وائٹ کلر کے فارم ہاؤس کے گیٹ پر آکر رکی تھی.
گیٹ کھلتے ہی گاڑی سُرخ پتھروں کی روش سے ہوتی پورچ میں پہلے سے کھڑی گاڑیوں کے پاس آرکی تھی.
” یہ ہم کہاں آئیں ہیں. کس کا گھر ہے یہ. کس قدر خوبصورت اور پرسکون سی جگہ پر بنا ہے.”
گاڑی سے باہر نکلتے خانی اردگرد کے خوبصورت نظارے دیکھتی شہرام سے مخاطب ہوئی تھی.
” آپ اندر چلیں سب پتا چل جائے گا. “
شہرام خانی کی بات پر مسکراتے اُسے ساتھ لیے اندر کی جانب بڑھا تھا.
” کیا یہاں کسی کی شادی ہے. “
وہاں ملازمین کو رنگ برنگے تھال اُٹھا کر لے جاتے دیکھ خانی نے سوالیہ نظروں سے شہرام کی جانب دیکھا تھا.
” جی ابھی تھوڑی دیر بعد یہاں ایک نکاح سیرمنی ہونے والی ہے. ہم اُسی میں شرکت کرنے آئیں ہیں. “
شہرام نے بہت ہی پرسکون لہجے میں جواب دیا تھا.
” سائیں خان سائیں کا حکم ہے کہ آپ بی بی سائیں کو ریشماں کے ساتھ اُوپر بھجوا کر اندر ہال کمرے میں آجائیں. “
اِس سے پہلے کہ خانی اُس سے کوئی سوال کرتی ایک ملازم شہرام کے قریب آتے بولا.
” اُف میرے خدا یہاں بھی کوئی خان ہے. لگتا ہے یہ نام کبھی میرا پیچھا نہیں چھوڑے گا. “
خان کے نام پر خانی کا سیاہل خان پر موجود غصہ اور ناراضگی ایک بار پھر سے عود آئی تھی. مگر شہرام کی تنبہیہ پر وہ بُرا سا منہ بناتے پاس کھڑی ملازمہ کے ساتھ اُوپر کی جانب بڑھ گئی تھی.
خانی نے ملازمہ کی میعت میں ایک کمرے میں قدم رکھا تھا. جہاں ایک بہت ہی پیاری سی لڑکی بلوچی لباس میں ملبوس ملازمہ کی کسی بات پر شرماتی مسکرا رہی تھی.
خانی کے اندر داخل ہونے پر وہ اُس کی جانب متوجہ ہوتی اپنی جگہ سے اُٹھی تھی.
” ادی آئیں پلیز تشریف رکھیں. “
ملازمہ کے بتانے پر کہ وہ شہرام بلوچ کے ساتھ آئی ہے. وہ لڑکی آنکھوں میں چمک لیے خانی سے ملتی اُسے لیے صوفے کی جانب بڑھی تھی.
” میں شہرام بلوچ کی کزن ہوں خانی اسجد بلوچ. کیا آپ کا نکاح ہے آج. “
خانی اپنا تعارف کرواتے سامنے بیٹھی لڑکی کی تیاری دیکھ بولی. جو لال رنگ کا جوڑا پہنے ہلکے پھلکے میک اپ میں ہاتھوں میں گجرے اور ماتھا پٹی کہ ساتھ بظاہر مسکراتی مگر وہ اُداس آنکھوں والی لڑکی خانی کو بہت پسند آئی تھی.
” جی میرا نکاح ہے. “
اُس لڑکی کے جواب پر خانی کو کافی حیرت ہوئی تھی. کیونکہ اُس کے پاس تین چار ملازمین کے علاوہ کوئی اور رشتہ دار خاتون موجود نہیں تھی.
خانی نے اِسی بات پر سوال کرنا چاہا تھا. مگر ملازمہ کے اُس لڑکی کو بلائے جانے والے نام نے خانی کو اپنی جگہ سے اُچھلنے پر مجبور کردیا تھا.
” یہ ملازمہ نے ابھی کیا کہہ کر مخاطب کیا آپ کو. کیا نام ہے آپ کا. “
خانی کو لگا تھا شاید اُسے سننے میں غلطی ہوئی ہو. اِس لیے اُس نے تصدیق چاہی تھی.
” نگار. نگار نام ہے میرا. یہی کہہ کر مخاطب کیا ریشماں نے مجھے. “
نگار نے جیسے خانی کی کیفیت سمجھتے نرمی سے جواب دیا تھا.
” پورا نام کیا ہے تمہارا. “
خانی جیسے ابھی بھی بے یقین تھی.
” نگار موسیٰ خان. سردار سیاہل موسیٰ خان کی بہن نگار. “
خانی کو لگا تھا اُس نے اپنا نام نہیں بتایا تھا. بلکہ خانی کے سر پر ایک بہت بڑا بم پھوڑا تھا.
جاری ہے……………
