No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
میران گہری سانس ہوا میں خارج کرتے دوبارہ ڈرائیونگ کی جانب متوجہ ہوا تھا. مگر شہرین کی مدھم سانسوں کی آواز بہت قریب سے محسوس ہوتی میران کو بُری طرح ڈسٹرب کررہی تھیں.
میران کی سوچیں شہرین کی طرف اِس قدر بھٹک چکی تھیں کہ وہ بے دھیانی میں ڈرائیونگ کرتے غلط لائن سے نکل کر آتی گاڑی کو نہیں دیکھ پایا تھا. جو سیدھی اُنہیں کی جانب آرہی تھی.
ہوش تو اُسے تب آیا جب گاڑی اُس کے سر پر پہنچ چکی تھی. میران نے اِس اچانک نازل ہوتی آفت پر ہڑبڑاتے گاڑی کا اسٹیرنگ جلدی سے گھما کر تصادم سے بچنے کے لیے گاڑی کو دوسری جانب موڑتے کچی سڑک پر ڈال دیا تھا. جس کی وجہ سے میران کی گاڑی تیز سپیڈ میں ہونے پر بے قابو ہوتی سائیڈ پر بنے درخت سے جاٹکرائی تھی. میران نے جلدی سے شہرین کو تو تھام لیا تھا. مگر اپنا سر ڈیش بورڈ پر ٹکرانے سے نہیں بچا پایا تھا.
شہرین کی آنکھ تو پہلے جھٹکے پر ہی کھل چکی تھی. ایک تو اچانک کچی نیند سے جاگنے اُوپر سے ایسا منظر نے شہرین کو اچھا خاصہ سہما گیا تھا.
میران نے اپنے خون آلود ماتھے کی پرواہ کیے بغیر گاڑی کا دروازہ کھول کر پلٹ کر اُس گاڑی کا نمبر نوٹ کیا تھا. وہ اتنا تو سمجھ گیا تھا کہ یہ گاڑی غلطی سے نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اُسے نقصان پہنچانے کے لیے بھیجی گئی تھی.
” واہ تو شروع کردی سیاہل خان تم نے بھی اپنی دشمنی. باتیں تو بڑی بڑی کرتے تھے پیٹھ پیچھے وار نہیں کروں گا. آج میرے ساتھ میری بیوی کے ہوتے تم نے یہ جو گھٹیا حرکت کروائی ہے. چھوڑو گا نہیں میں تمہیں. “
میران دل ہی دل سیاہل خان کو مخاطب کرکے غصے اور طیش کے عالم میں سوچتا شہرین کی جانب متوجہ ہوا تھا.
مگر وہ غصے میں ہونے کی وجہ سے اِس بات پر دھیان نہیں دے پایا تھا کہ جانے انجانے میں وہ شہرین کو اپنی بیوی بول گیا ہے.
” سائیں آپ کے ماتھے سے بہت خون بہہ رہا ہے.”
شہرین میران کا ماتھا دیکھتی فکرمندی سے اپنی شال کا پلو لے کر اُس زخم پر رکھ کر اُس کا خون روکنے کے لیے آگے ہوئی تھی.
” نہیں بس ٹھیک ہے. اتنا بھی کچھ خاص زخمی نہیں ہوا میں تھوڑا سا سفر رہ گیا ہے. شہر پہنچ کر بینڈیج کروا لوں گا. “
میران جو پہلے ہی اِس لڑکی کی قربت پر اچھا خاصہ اُلجھا ہوا تھا. اُس کا مزید قریب آنا میران کے لیے اور ہی قیامت خیز ہوسکتا تھا. اِس لیے وہ شہرین کو دور رہنے کا کہتا ٹوک گیا تھا.
” مگر سائیں اُتنی دیر تک تو آپ کا بہت خون بہہ جائے گا. آپ کے پاس گاڑی میں کوئی میڈیکل کِٹ ہے کیا. میں ہی آپ کی بینڈیج کر دیتی ہوں.”
میران کے ماتھے سے گرتا قطرہ قطرہ خون شہرین کو بے چین کررہا تھا. وہ اپنی آنکھوں کے سامنے یہ سب نہیں دیکھ سکتی تھی. چاہے وہ اظہار نہ بھی کرتی تب بھی اُس کے دل میں میران بلوچ پوری آب و تاب کے ساتھ گھر کر چکا تھا. وہ اُس کی تکلیف برداشت نہیں کرسکتی تھی. شاید یہی وجہ تھی کہ آج پہلی بار معمول کے مطابق میران کی ہر بات ماننے کے بجائے شہرین اُس کی بات نہ مانتی اسرار کرگئی تھی.
میران نے بھی محسوس کیا تھا کہ اُس کے خون کے بہاؤ میں کمی آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی. اِس لیے شہرین کے اسرار پر اُس نے گاڑی روڈ سائیڈ پر لگاتے کسی ریک سے میڈیکل کٹ نکالتے شہرین کی جانب بڑھائی تھی.
اُسے شہرین کے اتنے سینسِ یبل الفاظ کافی حیران کر گئے تھے.
شہرین کو لگا تھا اُس کی بات پر میران اُسے سختی سے جھڑک دے گا. مگر اُس کے آرام سے مان جانے پر شہرین نے سکھ کا سانس بھرا تھا.
میران تھوڑا سا شہرین کی جانب ٹرن کرتا آگے ہوا تھا. اُس کی ہائٹ شہرین سے اچھی خاصی تھی. اِس لیے وہ اُس کی پہنچ تک آنے کیلئے تھوڑا سا جھکا ہوا تھا.
شہرین سیٹ پر ٹانگ موڑ کر تھوڑا اونچا ہوکر بیٹھی ڈیٹول کی مدد سے اُس کا زخم صاف کرنے لگی تھی. میران بلوچ کے اتنے قریب ہونے کی وجہ سے سے اُس کی سانسیں تیز سے تیز تر ہوتی جارہی تھیں. جو میران اپنے چہرے پر با آسانی محسوس کر پارہا تھا. کم حالت خراب اُس کی بھی نہیں تھی. شہرین کے نازک وجود اور شاید تازہ تازہ شاور کیے گیلے بالوں سے اُٹھتی مہک میران بلوچ کے حواسوں پر سوار ہورہی تھی.
آخر ایسا کیوں تھا. یہ لڑکی اُس پر حاوی کیوں ہورہی تھی.
شہرین اپنا کام کر کے پیچھے ہٹ گئی تھی. مگر حقیقت میں وہ میران بلوچ کے دل کا کام تمام کر گئی تھی.
پہلے جب وہ کافی حد تک سٹیبل تھا. تب بھی چاہے دوسرے کی غلطی سے ہی مگر ایکسیڈنٹ ہوچکا تھا. مگر اب تو یہ لڑکی مکمل اُس کے حواسوں پر چھا چکی تھی. اب آگے ﷲ ہی خیر کرتا.
” آئندہ کبھی اِس لڑکی کے ساتھ بیٹھ کر تو ڈرائیونگ بلکل بھی نہیں کرنی. پتا نہیں یہ انسان بھی ہے یا چڑیل. ایسے میری سوچوں پر قابو کرتی ہے کہ میں کسی کام کا نہیں رہتا. “
میران نے اپنی کیفیت سے ہی تنگ آکر زچ ہوتے سوچا تھا.
” سائیں آپ ٹھیک ہیں. آپ کو زیادہ درد تو نہیں ہورہا. “
شہرین میران کو گم صم دیکھ فکرمندی سے بولی تھی.
جس کا میران نے اُکتا کر غصے سے جواب دینا چاہا تھا. مگر نجانے کیوں کچھ سخت بول نہیں پایا تھا. اور غصے سے لب بھینچتے گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا.
شہرین اِس سب کی عادی تھی. اِس لیے اپنے اگنور کیے جانے پر بغیر بُرا منائے رُخ موڑ گئی تھی. اُس نے پہلے دن سے ہی میران کی زندگی میں اپنی حیثیت کا اندازہ لگا لیا تھا. وہ میران بلوچ کے گلے میں زبردستی کی باندھی گئی کوئی انتہائی فالتو شے تھی. جسے میران بلوچ کبھی بھی اُتار کر پھینک سکتا تھا. اور شاید ایسا کرنے میں اُسے زرا سی بھی مشکل یا پریشانی نہ ہوتی.
شہرین نے کن اکھیوں سے میران کی طرف دیکھتے ایک حسرت بھری نظر اُس پر ڈالتے رُخ واپس موڑ لیا تھا. وہ اِس شاندار انسان کی صرف خواہش ہی کر سکتی تھی. نہ اُسے حاصل کرنے کی کوشش کرسکتی تھی نہ دعا. کیونکہ فاکیہ سے بات کرتے سن کر شہرین کو اُس کی میران کی زندگی میں اہمیت کا اندازہ تو ہو ہی چکا تھا. شہرین کی آنکھ سے ایک بے مول آنسو گرتا اُس کی چادر میں جذب ہوچکا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
سیاہل کی آنکھ فون کی بیل پر کھلی تھی. ایک نظر بانہوں میں سوئی اپنی حسین بیوی پر ڈالتے اُس کی نیند خراب ہونے کے خیال سے سیاہل نے جلدی سے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اُٹھاتے کال ریسیو کی تھی. اور جلدی جلدی دھیمی آواز میں خدا بخش سے کوئی ضروری بات کرتے اور ہدایت دیتے فون بند کرگیا تھا. وہ اِس وقت اِن حسین لمحوں کو جینا چاہتا تھا.
خانی اُس کے سینے سے لگی چہرے پر آسودگی بھری مسکراہٹ سجائے گہری نیند میں تھی.
سیاہل بنا پلکیں جھپکائے کتنی ہی دیر اُس کی منموہنی صورت آنکھوں میں جذب کرنے لگا تھا.
وہ خانی پر جس قدر غصہ اور جتنی اذیت میں تھا. خانی کی کل رات کی خودسپردگی کے عمل نے سب کچھ سیاہل کے دل سے مٹا دیا تھا. خانی بنا کچھ بولے ہی سیاہل خان پر واضح کر گئی تھی کہ وہ اُس کی زندگی میں کیا اہمیت رکھتا تھا. وہ چاہے زبان سے اقرار نہ بھی کرتی مگر رات کو سیاہل کو بخار میں تپتا دیکھ خانی کی بے قراری سب واضح کر گئی تھی. سیاہل خان اِس وقت بے انتہا خوش تھا. اُس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی اور دل کا سکون اُس کی خانی اُس کی بانہوں میں تھی. اِس سے زیادہ اُسے زندگی سے کچھ نہیں چاہا تھا.
انسان اگر زندگی میں اپنے اردگرد ہونے والے واقعات کو منفی رُخ پر موڑنے کے بجائے اُن میں سے مثبت باتیں تلاش کرے تو اُس کی زندگی تباہی سے بچ کر پرسکون اور خوشگوار ہوسکتی ہے.
جیسے سیاہل خان نے کیا تھا. اگر وہ کل خانی کی بے اعتباری کو انا کا مسئلہ بنا کر غصے میں کوئی غلط فیصلہ کر لیتا تو اُس کی زندگی میں ویرانیوں کے سوا کچھ نہ بچتا. مگر اُس نے بہت ہی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے اُس بے اعتباری کو اپنی بیوی کی بے پناہ محبت اور جذباتیت میں کی گئی نادانی مانتے اپنی مردانگی بھری انا کو سائیڈ پر رکھتے اُس کی جانب پیش قدمی کر لی تھی. ایسی ہی تو ہوتی ہے سچی محبت جس میں محبوب کی نادانیوں پر اُس کو سزا دے کر خود سے جدا نہیں کیا جاتا. بلکہ درگزر سے کام لیتے اُس کی اصلاح کرکے عزت بخشی جاتی ہے.
سیاہل نے جھک کر خانی کی پیشانی پر نرمی سے لب رکھ دیئے تھے. اُس کا دل کوئی شوخ سی شرارت کرنے پر مچل رہا تھا. مگر خانی کی نیند خراب نہ کرنے کے خیال سے خود کو بہت مشکل سے باز رکھے ہوئے تھا.
سیاہل نے گھڑی پر ٹائم دیکھا تھا. جہاں دس بج چکے تھے. اُسے جرگے کے کسی بہت اہم فیصلے کے لیے نکلنا تھا. اِس لیے جانے سے پہلے وہ خانی کو ایک بار جگا کر اُس کی آنکھوں کے حسین رنگ دیکھنے کا خواہش مند تھا.
سیاہل جانتا تھا خانی کو کیسے جگانا ہے. سیاہل نے جھک کر اپنے انداز میں خانی کی گال پر ہونٹوں کا پرشدت لمس چھوڑا تھا.
خانی کے چہرے کی سرخ و سفید رنگت اِس قدر نرم و نازک سی تھی. کہ وہاں سیاہل کے استحقاق بھرے عمل سے اُس کی مونچھوں کی رگڑ خانی کی گال پر کافی گہرا نشان چھوڑ گئی تھی.
خانی نظروں کی تپیش اور اِس لمس پر کسمساتے بیدار ہوئی تھی. اُس کو آنکھیں کھولتا دیکھ سیاہل فوراً سوتا بن گیا تھا. اب اُسے خانی کا خود کو بے خبر سمجھ کر اظہار کرنا بہت مزا دیتا تھا.
خانی کچھ دیر تو غائب دماغی سے اپنے بے حد قریب موجود سیاہل خان کا چہرا دیکھتی رہی تھی. مگر پھر جیسے جیسے اُس کا ذہن بیدار ہوا رات کے سارے مناظر یاد آتے خانی کے چہرے پر شرمیگی خوبصورت مسکراہٹ بکھیر گئے تھے.
سیاہل خان کی شدتیں یاد آتیں اُسے خود میں سمٹنے پر مجبور کر گئی تھیں.
سیاہل خان نے اُس کی ہر بدتمیزی کو درگزر کرتے جس محبت سے خود میں سمیٹا تھا. خانی خود کو دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی تصور کرنے لگی تھی.
خانی ہمیشہ کی طرح اِس بات سے انجان کہ سیاہل خان اُس کی ہر ایک موومنٹ پر نظر رکھے ہوئے ہے. خانی نے تھوڑا سا اُوپر کو اُٹھتے سیاہل کی ٹھوڑی پر لب رکھتے سیاہل خان کے جاگنے سے پہلے ہی اُس کے حصار سے نکلنا چاہا تھا.
مگر کتنی کوششوں کے بعد بھی وہ اُس کا حصار توڑ نہیں پائی تھی. خانی کے اتنے زور لگانے کے بعد بھی سیاہل کا ہاتھ ٹس سے مس نہیں ہوا تھا. خانی نے پلٹ کر مشکوک نظروں سے سیاہل خان کی جانب دیکھا تھا. سیاہل کی بند آنکھوں مگر ہونٹوں کی شوخ مسکراہٹ دیکھ خانی سمجھ گئی تھی وہ ایک بار پھر اِس شخص کے ہاتھوں بے وقوف بن چکی ہے.
” سیاہل خان آپ سے بڑا چیٹر اِس پوری دنیا میں کوئی نہیں ہے.”
خانی سیاہل کے سینے پر دونوں ہتھیلیاں جما کر اُس سے فاصلہ بنانے کی کوشش کرتے ناراضگی سے چلائی تھی.
جس کے جواب میں سیاہل خان کا ایک زور دار قہقہہ گونجا تھا.
” نہیں یہ سراسر مجھ پر الزام ہے. میں چیٹر نہیں ہوں میری بیوی بہت معصوم ہے. “
سیاہل نے خانی کا غصے اور شرم سے لال پڑتا چہرا دیکھ شوخ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا تھا.
” چھوڑیں مجھے. مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی. “
خانی اپنی خفت مٹانے کی ناکام سی کوشش کرتے سیاہل سے دور ہونے لگی تھی. مگر اُس کی ہر مزاحمت کے جواب میں سیاہل اُسے مزید اپنے قریب کر لیتا تھا.
” مسئلہ کیا ہے آپ کے ساتھ سردار سائیں. اب مزید مجھ سے کیا چاہتے ہیں آپ. “
خانی نے تپ کر باقی سب لوگوں جیسے طرز سے سیاہل کو مخاطب کیا تھا.
خانی کا ہر انداز سیاہل خان کے دل پر بجلیاں سی گرا جاتا تھا.
” جو ابھی تھوڑی دیر پہلے یہاں کی ہے. وہ یہاں چاہئے.”
سیاہل نے پہلے ٹھوڑی پر اُنگلی رکھتے پھر ہونٹوں کی جانب اشارہ کیا تھا.
جبکہ اُس کے اتنے واضح انداز میں کہنے پر خانی شرم سے پانی پانی ہوئی تھی.
” سیاہل پلیز. “
سیاہل خان کی لوح دیتی نظریں اب خانی کی برداشت سے باہر تھیں. خانی سیاہل کی بانہوں کا حصار کمزور پڑتے دیکھ جلدی سے نکلی تھی.
” مجھے تمہیں کچھ بتانا ہے خانی. “
سیاہل نے اب کے زرا سنجیدگی اختیار کرتے خانی کا بازو تھام کر روکا تھا.
خانی نے اب بھی اِسے سیاہل کی کوئی شرارت سمجھ کر انکار کرنا چاہا تھا. مگر سیاہل کی آنکھوں کی سنجیدگی دیکھ وہ خاموشی سے اُس کے پاس ٹک گئی تھی.
خانی کا سر اپنے بازو پر رکھتے سیاہل نے اُسے قریب کر لیا تھا.
” خانی بہت بار کی کہی میں اپنی بات ایک بار پھر دوہرا رہا ہوں. کہ تم سیاہل خان کی زندگی کی سب سے قیمتی ہستی ہو. تمہاری زندگی میں میں اب آیا ہوں. مگر تم بہت پہلے سے اِس دل میں بستی ہو. تم سے سیاہل خان محبت نہیں عشق کرتا ہے. یہی وجہ ہے کہ تمہاری اپنے خلاف سنی اتنی باتوں اور بدگمانیوں کے باوجود میں تم سے دور نہیں رہ پایا. اور نہ آگے ایسا کبھی کروں گا. خانی تمہاری بے اعتباری نے مجھے بہت دکھ پہنچایا ہے. سیاہل خان چاہے پوری دنیا کے لیے بُرا اور ظالم ہو. مگر خانی کے خلاف یا اُسے کسی بھی چیز میں استعمال کرنے سے پہلے وہ مرنا پسند کرے گا. “
سیاہل خانی کا ہاتھ اپنی ہتھیلی میں جکڑے اُسے اپنی بے پناہ چاہت کا مان بخشتے عینا اور اپنے رشتے کی ہر سچائی بتاتا چلا گیا تھا.
جسے سن کر خانی کی نظریں شرم سے جھک گئی تھیں. اپنے الفاظ یاد آتے اُس کا دل شرم سے ڈوب مرنے کو چاہ رہا تھا. اپنی اکلوتی عزیز دوست کا دکھ اُس کا دل چیر گیا تھا.
جس وقت میں اُسے خانی کی سب سے زیادہ ضرورت تھی. خانی اُسے دلاسہ دینے کے بجائے مزید دکھ دے گئی تھی.
اُسے سیاہل سے معافی مانگنے کے لیے الفاظ تک
نہیں مل رہے تھے. جسے سمجھتے سیاہل خود بول پڑا تھا.
” میری جان میں اپنی سردارنی کو کسی صورت شرمندہ اور اپنے آگے جھکتے نہیں دیکھ سکتا. تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے. میرے لیے یہی کافی ہے. اور شرمندہ تو مجھے بھی ہونا چاہیے غلطی تو میری بھی ہے. تمہیں پہلے ہی اگر ساری سچائی بتا دیتا تو یہ سب نہ ہوتا. “
سیاہل خان اپنی خانی کو شرمندہ نہیں دیکھ سکتا تھا. اِس لیے بہت ہی رسانیت سے بولتا خانی کا گلٹ بہت حد تک کم کرگیا تھا.
خانی کے دل میں سیاہل خان کی عزت کئی گناہ بڑھ گئی تھی. اُس نے سوچ لیا تھا. اب چاہے کچھ بھی ہوجائے. وہ اِس پیارے سے انسان کو کبھی ہرٹ نہیں کرے گی. لیکن وہ اِس بات سے بےخبر تھی کہ آنے والا وقت اُس کی محبت کو ایک بار پھر سے آزمانے والا تھا.
“خانی اب دوبارہ مجھے کبھی یوں بے اعتبار مت کرنا. میرے لیے وہ لمحہ بہت تکلیف دہ تھا. جب میں نے تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے شک دیکھا تھا. سیاہل خان دوسروں کے لئے جس قدر مضبوط , سنگدل اور اصول پسند ہے. خانی سیاہل خان کے معاملے میں اُتنا ہی کمزور ,نرم دل اور اُس سے دور رہنے کے لیے خود سے کیے ہر عہد کو توڑنے والا انسان ہے. اور تم ہمیشہ میری انہی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتی ہو. “
سیاہل نے آخری جملہ کہتے خانی کی بالوں کی چند لٹوں کو اُنگلی پر لپیٹتے ہلکا سا کھینچا تھا.
خانی جو بہت ہی دھیان اور توجہ سے اُس کی بات سن رہی تھی سیاہل کی آخری بات اور حرکت پر بھنوئے اُچکا کر گھورا تھا.
خانی ایسا کرتے سیاہل کو بہت کیوٹ لگی تھی.
” ویسے سردارنی صاحبہ آپ کو اپنے سردار پر پیار صرف اُس کو سوتا دیکھ کر ہی آتا ہے کیا.”
سیاہل کو ایک بار پھر پٹری سے ہٹتے دیکھ خانی کو اپنے اردگرد خطرے کی گھنٹی بجتی محسوس ہوئی تھی.
” نہیں اِس وقت بھی آرہا ہے. “
اب کی بار خانی کو بھی شرارت سوجی تھی. وہ سیاہل کے بازو سے سر اُٹھا کر اُٹھ کر بیٹھتے اُس کے سینے پر کہنی جماتے ہلکا سا جھکی تھی.
سیاہل خان بہت ہی دلچسپی سے اُس کی حرکتیں دیکھ رہا تھا.
” مجھے کچھ کہنا ہے. مگر آپ کو آنکھیں بند کرنی ہونگی. “
خانی سے سیاہل کی بولتی نظروں کا سامنا مشکل ترین ہورہا تھا. جسے دیکھتے سیاہل نے شرافت سے آنکھیں بند کرلی تھیں.
وہ خانی کی رگ رگ سے واقف تھا. جانتا تھا وہ کیا کرنے والی ہے. مگر جان بوجھ کر بہت ہی فرمانبرداری سے اُس کی بات مان رہا تھا.
” آنکھیں کھولیے گا مت اگر اِس بار چیٹنگ کی تو میں آپ سے بالکل بات نہیں کروں گی. “
خانی نے سیاہل کے مزید قریب ہوتے اُسے وارن کیا تھا.
” سیاہل موسٰی خان آئی ریئلی ہیٹ یو. “
خانی سیاہل خان کے کان میں سرگوشی بھرے انداز میں کہتی کھلکھلا کر ایک ہی جست میں بیڈ سے اُتری تھی. سیاہل نے اُسے پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا مگر تب تک وہ اُسکی پہنچ سے دور جاچکی تھی.
” خانی یہ چیٹنگ ہے. “
سیاہل نے خانی کی کھلکھلاہٹوں پر دل سے خوش ہوتے اُسے مصنوعی گھوری سے نوازا تھا.
” آپ ہی سے سیکھی ہے سردار سائیں. “
خانی واش روم کے دروازے کے قریب پہنچتے بہادر بنے بولی جو سیاہل کے نزدیک آتے کہیں غائب ہوجاتی تھی.
” ویسے ایک اور بات کہنی تھی. میں سیاہل موسٰی خان سے تو ہیٹ کرتی ہوں. مگر مجھے اپنے سردار سائیں سے بہت پیار ہے. کبھی کبھی تو وہ اتنے پیارے لگتے ہیں کہ دل چاہتا ہے….. “
خانی کی شرارت ابھی بھی برقرار تھی.
جبکہ اُس کا کھلکھلاتا مسکراتا یہ حسین روپ سیاہل خان کو مزید اپنا دیوانہ بنا رہا تھا. وہ بیڈ سے اُٹھ کر خانی کی جانب قدم بڑھا چکا تھا.
” کیا چاہتا ہے دل.”
سیاہل نے پرتجسس لہجے میں پوچھا تھا.
” وہ میں کبھی نہیں بتاؤں گی. “
سیاہل خان کو دبے قدموں اپنے قریب آتا دیکھ خانی اُسے چڑھاتی واش روم میں گھس چکی تھی. جبکہ سیاہل خان اُس کے ایک بار پھر ہاتھ سے نکل جانے پر افسوس کرکے رہ گیا تھا.
” سردارنی صاحبہ اِس چیٹنگ کا حساب میں سود سمیت لوں گا تیار رہنا. “
خانی واش روم کے دروازے پر کھڑی اپنی دھڑکنوں کو شمار کرتی اُس کی محبت بھری دھمکی پر حیا سے خود میں ہی سمٹ کر رہ گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
صبح ساڑھے نو بجے کے قریب وہ لوگ کراچی اپنے گھر پہنچے تھے. جہاں میران خانی اور انابی کے ساتھ رہتا تھا. جو دونوں ہی اِس وقت اُس کے ساتھ نہیں تھیں. میران کا دل بوجھل سا ہوا تھا.
ملازم کو سامان اُوپر کمرے میں پہنچانے کا آرڈر دیتے جیسے ہی میران نے ڈرائنگ روم میں قدم رکھا. نظر سامنے صوفے پر تھکن زدہ سی بیٹھی شہرین پر پڑی تھی. جو سفر کی وجہ سے شاید بہت زیادہ تھک گئی تھی. اور اب میران کی موجودگی کی وجہ سے ریلیکس ہوکر بیٹھ بھی نہیں پارہی تھی.
” یہاں کا ماحول حویلی سے مختلف ہے. تم اپنی مرضی سے جو چاہے کر سکتی ہو. ملازمین نے تمہارا کمرہ سیٹ کردیا ہے. تم جاکر ریسٹ کرلو. تھک گئی ہوگی. “
میران خلافِ معمول بہت ہی نرمی سے بولتا شہرین کو اچھا خاصہ حیران کرگیا تھا. اُس نے اتنے مہربان انداز پر اچھنبے سے میران کی جانب دیکھا تھا. مگر اُسے اپنی جانب دیکھتا پاکر وہ فوراً نظریں جھکا گئی تھی. اور سامنے رکھا پانی کا گلاس اُٹھا کر لبوں سے لگا لیا تھا. جو ابھی کچھ دیر پہلے ملازمہ رکھ کر گئی تھی.
” فرزانہ بیگم صاحبہ کو اُن کا کمرہ دیکھا دو. “
میران نے پاس آتی ملازمہ کو خانی کی جانب اشارہ کرتے آرڈر دیا تھا.
جبکہ میران کے طرزِ تخاطب پر خانی کو اب کی بار حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا. اُسی بے دھیانی میں ہاتھ میں پکڑے گلاس سے پانی چھلکتا کپڑوں کو بھیگو گیا تھا.
” کیا ہوا تم ٹھیک ہو. “
میران نے سوالیہ نظریں اُس پر گاڑھی تھیں.
” کک کچھ نہیں. “
شہرین نے فوراً گھبرا کر نفی میں سر ہلایا تھا.
اور خاموشی سے ملازمہ کی معیت میں اُس کے پیچھے چل دی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شہرین نیند کی دیوانی ایسی سوئی تھی کہ شام کے چار بجے جاکر کہیں اُس کی آنکھ کھلی تھی.
” اُف ﷲ جی میں اتنا کیسے سوتی رہی. میران سائیں بھی باہر کیا سوچ رہے ہونگے. “
شہرین جلدی سے پیروں میں سلیپرز اڑستے بیڈ سے اُتری تھی. مگر پھر اپنی جگہ پر ہی رکتی اپنی خوش فہمی پر خود ہی مُسکرا دی تھی. آخر اُس کی اتنی حیثیت ہی کہاں تھی کہ میران بلوچ اُس کے بارے میں سوچتا یا اُس کی غیر موجودگی محسوس کرتا.
شہرین گہرا سانس بھرتی فریش ہونے کے لیے واش روم کی جانب بڑھ گئی تھی.
سیڑھیوں سے نیچے قدم رکھتے ہی شہرین کو نسوانی زندگی سے بھرپور ہنسی سنائی دی تھی. جو شاید ڈرائنگ روم سے ہی آرہی تھی. جسے سنتے شہرین عجیب سی کشمکش کا شکار ہوئی تھی. تھی. اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا. اندر جانا چاہئے یا نہیں.
جب کافی دیر کی سوچ و بچار کے بعد آخر کار اندر جانے کا فیصلہ کرتے شہرین نے قدم اُس جانب بڑھا دیئے تھے.
ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے شہرین کی نظر میران کے ساتھ ہی صوفے پر پورے استحقاق سے براجمان ایک انتہائی خوبصورت اور سٹائلش سی لڑکی پر پڑی تھی. جو میران کا بازو تھام کر اُس کے موبائل پر جھک کر کچھ دیکھتی مسلسل کھکھلائے جارہی تھی. جس میں میران بھی اُس کا پورا ساتھ دے رہا تھا.
شہرین نے اُس لڑکی کو دیکھتے ایک نظر اپنے حلیے پر ڈالی تھی. وہ کسی طرح بھی اِس لڑکی کے لیول کی نہیں تھی. شہرین نجانے کتنی ہی دیر اپنا مقابلہ اُس لڑکی سے کرتی مزید احساسِ کمتری کا شکار ہوتی جب میران کی نظر اُس پر پڑی تھی.
” وہاں کیوں کھڑی ہو. آؤ اندر آؤ. “
میران نے فوراً اُسے اندر آنے کا اشارہ کیا تھا. جس پر عمل کرتے شہرین چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی اُن کی جانب بڑھی تھی.
” فاکیہ یہ شہرین ہے تمہیں یاد ہوگا میں نے تمہیں بتایا تھا اِس کے بارے میں. “
میران نے وہیں بیٹھے بیٹھے جس انداز میں اُس لڑکی کے سامنے شہرین کا تعارف کروایا تھا. اُسے سنتے شہرین کا دل کئی حصوں میں بٹا تھا.
کاش کے وہ اُسے بیوی کہہ کر متعارف کروا دیتا. ایسا کرنے سے اُس کی شان میں بھلا کیا فرق آجانا تھا.
مگر ایک طرح سے شہرین کو یہ ٹھیک بھی لگا تھا. جب وہ دل سے اُسے بیوی مانتا ہی نہیں تھا تو منافقت کیوں کرتا.
” ہممہ اچھے سے یاد ہے بھلا میں کیسے بھول سکتی ہوں اِس لڑکی کو. جیسا تم نے بتایا تھا اُس سے بھی کافی زیادہ گوار لگتی ہے یہ تو. “
فاکیہ بنا شہرین سے مخاطب ہوئے ناگواری سے اُس کی جانب دیکھتے میران سے بولی تھی. یہ چادر میں چھپی دبو سی مگر پرکشش حُسن کی مالک لڑکی اُسے زہر سے بھی بُری لگی تھی. کیونکہ جو مقام میران کی زندگی میں وہ حاصل کرنا چاہتی تھی. وہ اُس سے بھی پہلے یہ لڑکی اپنے نام لگوا چکی تھی.
فاکیہ میران کی بات کے جواب میں اپنی طرف سے انگلش میں بولتے یہی سمجھی تھی. کہ شہرین کو اُس کی کوئی بات سمجھ نہیں آئی.
شہرین نے بھی بے تاثر چہرے سے یہی ظاہر کیا تھا کہ واقعی وہ اِس زبان سے انجان ہے. وہ بس اِس بات کے جواب میں میران کا جواب سننا چاہتی تھی.
جاری ہے…..
