No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
خانی کے قریب ہونے پر سیاہل اُسے مزید خود میں بھینچتا اُس کی کھلے بالوں سے ڈھکی گردن میں چہرا چھپا گیا تھا.
ایک بجے کے قریب کسی احساس کے تحت خانی کی آنکھ کھلی تھی. روم میں زیرو پاور بلب کی ملگجی سی روشنی پھیلی ہوئی تھی. خانی نے اُٹھنا چاہا تھا مگر وہ ہل بھی نہیں پائی تھی. خود کو کسی مضبوط حصار میں جکڑا محسوس کرتے اُس کا دل دھک سے رہ گیا تھا. گرم سانسوں کی تپیش سے اُسے اپنی گردن جھلستی ہوئی محسوس ہوئی تھی. خانی کا بازو سیاہل خان کے کشادہ سینے کے گرد لپٹا ہوا تھا. اور وہ خود پوری طرح سے اِس وقت اُس کے کسرتی مضبوط بازوؤں کے حصار میں جکڑی ہوئی تھی.
خانی نے ناسمجھی کی کیفیت میں چہرا موڑ کر سیایل خان کی جانب دیکھا تھا. جب آہستہ آہستہ اُس کا ذہن نیند سے بیدار ہوتے گزرے دن کی ساری کہانی اُس کو دوبارہ سے یاد کروا گیا تھا.
خانی نے فوراً غصے سے اپنا بازو سیاہل خان کے سینے سے کھینچ لیا تھا. اور جھٹکے سے اُس کا حصار توڑنا چاہا تھا. لیکن شاید اُس کا حصار اتنا کمزور نہیں تھا جو اتنی آسانی سے ٹوٹ جاتا.
” سیاہل خان چھوڑیں مجھے. آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرے اتنے قریب آنے کی. “
خانی زہر خند لہجے میں چلائی تھی. مگر سیاہل نے اُس کی بات پر کوئی رسپانس نہیں کیا تھا. اور نہ ہی آنکھیں کھولیں تھیں. یا تو وہ واقعی ہی نیند میں تھا یا پھر صرف خانی کو زچ کررہا تھا.
خانی نے سیاہل کو ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے اُوپر سے اُس کا بازو ہٹانا چاہا تھا. مگر ہاتھ کو چھوتے ہی خانی کو زور کا جھٹکا لگا تھا. سیاہل خان کا ہاتھ بُری طرح تپ رہا تھا. شاید اِسی گرمائش کے احساس کی وجہ سے اُس کی آنکھ کھلی تھی.
خانی نے ساری ناراضگی بھلاتے اُس کے حصار کے اندر ہی سے کہنی کے بل زرا سا اُوپر اُٹھتے سیاہل خان کے چہرے کو چھوا تھا. جس کی ہاتھ سے کہیں زیادہ گرمائش پر خانی کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا تھا. سیاہل خان کو بہت تیز بخار تھا. وہ خانی کی مزاحمت پر جان بوجھ کر خاموش نہیں تھا بلکہ وہ واقعی غنودگی میں تھا.
سیاہل کو اِس قدر شدید بخار میں پھنکتا دیکھ خانی کا دل پاگل ہو اُٹھا تھا. وہ چاہے اُس سے جتنی بھی ناراض یا بدگمان ہو. مگر اُس کی سیاہل خان کے لیے بے پناہ محبت کبھی کم نہیں ہوسکتی تھی. بلکہ اِسی واقعہ سے ہی تو اُس پر ادراک ہوا تھا کہ وہ دیوانوں کی طرح چاہنے لگی تھی اِس ساحر کو. جس کی محبت میں وہ کسی کی شراکت برداشت نہیں کرسکتی تھی.
اُسی غصے میں ہی تو اُسے نجانے کیا کچھ بول گئی تھی. مگر چھوڑ جانے کی بات ایک بار بھی نہیں کی تھی. اور نہ اب وہ سیاہل خان کے بغیر ایک پل بھی رہ سکتی تھی.
” سیاہل آنکھیں کھولے پلیز کیا ہوا ہے آپ کو. “
خانی فکرمندی سے سیاہل کے چہرے پر ہاتھ پھیرتی اُسے ہوش میں لانے کی کوشش کررہی تھی. مگر شدید بخار کی شدت نے اُس پر غنودگی طاری کر رکھی تھی. وہ کوشش کے باوجود آنکھیں نہیں کھول پارہا تھا. جس کا مطلب تھا. اُس کے بخار کی شدت خطرناک حد تک زیادہ تھی. جس نے اُس جیسے انسان کو بھی بےسدھ کرکے رکھ دیا تھا.
خانی کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے اگر رات کے اِس وقت وہ کسی کو ڈاکٹر بلانے کو کہتی تو سیاہل کی طبیعت خرابی کا سن کر ویسے ہی حویلی میں بھگدڑ مچ جانی تھی.
خانی نرمی سے سیاہل خان کا وزنی بازو بہت ہمت جمع کرنے کے بعد اپنے اُوپر سے ہٹانے میں کامیاب ہوگئی تھی. مگر اُسے بازو کی مزاحمت سے محسوس ہوا تھا کہ جیسے سیاہل خان غنودگی میں بھی خانی کا دور جانا برداشت نہیں کر پایا تھا.
خانی نے فون اُٹھا کر خدا بخش کو ڈاکٹر بلوانے کے لیے کال کرنی چاہی تھی. مگر رات کے اِس پہر کسی کو بھی یوں ڈسٹرب کرنا اُسے نا مناسب لگا تھا.
اِسی کشمکش میں انتہائی فکرمندی سے سوچتے خانی کو یاد آیا تھا کہ جب اُسے بخار ہوتا تھا تو انا بی دوائی دینے کے ساتھ اُس پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھتی تھیں. جس سے جلد ہی اُس کے بخار کا زور ٹوٹ جاتا تھا.
خانی اِسی پر عمل پیرا ہوتی جلدی سے کچن سے جاکر ٹھنڈے پانی سے بھرا باؤل لے آئی تھی.
سیاہل کے قریب بیڈ پر بیٹھتے خانی نے کروٹ لے کر سوئے سیاہل خان کو سیدھا کرنا چاہا تھا. مگر جس کا ایک بازو اپنے اُوپر سے ہٹاتے اُسے دانتوں تلے پسینا آگیا تھا. اُس پورے بندے کو ہلانا تو کئی گنا زیادہ مشقت بھرا کام تھا.
مگر سیاہل کو تکلیف میں دیکھ خانی کا دل بے کل ہوا پڑا تھا. اُسے اِس وقت صرف اِس شخص کی صحت عزیز تھی. چاہے اُن کے درمیان اِس سے بھی کہیں بڑی غلطی فہمی اور لڑائی ہوتی. اپنی سانسوں میں بستے اِس شخص کو وہ تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی.
خانی بیڈ پر سیاہل کے قریب بیٹھتے اُس پر جھک کر اُس کو دونوں کندھوں سے تھام کر سیدھا کرنے لگی تھی. اِس عمل میں اُس کی پوری جان صرف ہوئی تھی. پوری قوت سے سیاہل خان کو سیدھا کرتے خانی کا ہاتھ پھسلا تھا. جس پر وہ سیدھی سیاہل خان کے اُوپر جاگری تھی. خانی کے نرم ہونٹ سیدھے سیاہل کے گال سے ٹچ ہوئے تھے.
خانی فوراً سے پہلے سیدھی ہوئی تھی. اُس کا دل بُری طرح دھڑکنے لگا تھا. اُسے اچھے سے پتا تھا کہ اگر اِس وقت سیاہل خان مکمل ہوش و حواس میں ہوتا تو اُس کی خیر نہیں تھی.
خانی ٹھنڈے پانی میں ڈبو کر پٹیاں سیاہل کے ماتھے , گردن اور بازو پر پر رکھتے دل ہی دل میں کچھ سورتوں کا ورد کرتے اُس پر پھونکتی اُس کے بخار کی شدت کم کرنے کی کوشش کررہی تھی. جب کافی بار پانی چینج کرنے اور دو گھنٹوں کی مسلسل کوششوں کے بعد سیاہل کے بخار کا زور ٹوٹ چکا تھا. سیاہل پر طاری غنودگی بھی کسی حد تک کم ہو چکی تھی.
خانی کتنے ہی لمحے سیاہل کا خوبرو اور مغرور نقوش سے سجا چہرا دیکھتی رہی تھی. کس قدر ٹیڑھا اور مشکل انسان تھا وہ. جس نے آج تک کبھی اُسے کوئی بھی بات سیدھے طریقے سے نہیں بتائی تھی. اور اگر کہیں اور سے سن کر وہ بدگمان ہوجاتی تھی. تو پھر غصہ بھی یہ جناب ہی اُس پر کرتے تھے.
بے قراری سے سیاہل خان کے ایک ایک نقوش کو اُنگلی کی پوروں سے چھوتے خانی کا دل سیاہل خان کے حق میں اُس سے بغاوت کرنے لگا تھا. کہیں نہ کہیں اب اُسے لگنے لگا تھا کہ اتنی جلدی ری ایکٹ کرنا اور سیاہل کو صفائی کا ایک بھی موقع دیے بغیر الزام لگا دینا شاید بہت غلط تھا. جس شخص نے اُسے اتنی محبت دی تھی. اُسے کچھ ثبوتوں کی بنا پر یوں بے اعتبار کرنا بھی تو غلط تھا نا.
خانی کو لگ رہا تھا کہ اُس نے سیاہل خان کے ساتھ ساتھ عینا پر بھی شک کرکے کچھ غلط تو ضرور کیا تھا. عینا شروع سے اُس کے ساتھ تھی. وہ جان چھڑکتی تھی خانی پر. بھلا وہ اُس کے شوہر کو چھیننے کی کوشش کر بھی کیسے سکتی تھی. خانی کو لگ رہا تھا کہ جو وہ سوچ رہی ہے. اگر ایسا کچھ نہ ہوا تو وہ اپنی نظروں میں ہی گر جائے گی. تصویر کا دوسرا رُخ ابھی تک اُس سے پوشیدہ تھا. اُسے نے صرف وہی دیکھا تھا. جو میران نے اُسے دیکھانا چاہا تھا.
ضرور ابھی بھی کوئی ایسا راز تھا. جس سے وہ لاعلم تھی. جو اب اُسے ہر حال میں جاننا تھا. وہ مزید کسی بھی لاعلمی میں رہ کر دوسروں کی باتوں میں آکر اپنا رشتہ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی.
مگر بعد میں سیاہل نے بھی تو غلط کیا تھا. اُسے کچھ نہ بتا کر. اگر وہ بدگمان ہورہی تھی تو سیاہل خان کو اُس کی بدگمانی دور بھی تو کرنی چاہی تھی نا. یوں فیصلہ سنا کر نہیں چلے جانا چاہئے تھا.
” اکڑو انسان….. ہر وقت ایٹیٹیوڈ ہی ختم نہیں ہوتا اِس بندے کا. “
سیاہل خان کی یہ حالت دیکھ خانی کا دل اُسے اندر ہی اندر ملامت کررہا تھا کہ وہ مضبوط ترین شخص اُس کی بے اعتباری پر اگر اِس حد تک تکلیف میں پہنچ سکتا تھا. تو اُس کی محبت خانی کے لیے کس قدر بے لوث اور اُونچے مقام پر ہوسکتی تھی. خانی کی اُس کی محبت اور رشتے پر بے اعتباری نے سیاہل خان کو کتنا ہرٹ کیا تھا. شاید یہ بات سیاہل خان اُسے زبان سے نہ بولتا مگر اُس کی یہ حالت اور خانی کی اتنی بدتمیزی کے باوجود اُس کا خانی کی فکر اُس کی کیئر کرنا اور یوں بانہوں میں لے کر سونا خانی کا آدھے سے زیادہ غصہ کم کرگیا تھا.
اُسے محسوس ہورہا تھا اِس شخص کی محبت پر شک کرکے شاید اُس نے بہت بڑا گناہ کردیا تھا. نجانے کتنی ہی دیر وہ اپنی سوچوں سے اُلجھتی خود سے لڑ لڑ کر تھک چکی تھی.
اچانک اُسے نجانے کیا ہوا تھا. کہ سیاہل خان کی جانب دیکھتے خانی ہر بات پس پشت ڈالتی جھکی تھی. اور اپنے نرم ہونٹوں کا لمس سیاہل خان کی پیشانی پر چھوڑتے جیسے اپنی جذباتی حرکت کا ازالہ کرنا چاہا تھا. جب اِس سے بھی دل مطمئن نہ ہوا تو خانی نے ایک بار پھر سیاہل خان پر جھکتے اُس کی مغرور کھڑی ناک جس پر ہر وقت غصہ ہی سوار رہتا تھا کو چوم لیا تھا. اِس بات پر دھیان دیے بغیر کے سیاہل خان کے بخار کا زور ٹوٹ چکا ہے. اور اب اُس پر پہلی سی غنودگی باقی نہیں رہی. وہ خانی کی ہر حرکت نہ صرف محسوس کر پارہا ہے. بلکہ پوری طرح باخبر بھی ہے.
خانی تو یہی سمجھ رہی تھی کہ شاید اب سیاہل خان گہری نیند میں ہے. اِس لیے اُس نے آنکھیں نہیں کھولیں. خانی سیاہل خان کے قریب نیم دراز کہنی تکیے پر ٹکا کر اُس کے چہرے کے قریب جھکی محبت سے اُسے دیکھتی. اُس کا ایک ایک نقش آنکھوں کے راستے دل میں اُتارنے لگی تھی.
” آئی ہیٹ یو سیاہل موسٰی خان. آپ صرف میرے ہو. آپ سے محبت, نفرت, شک, لڑائی جھگڑا اور پیار کرنے کا حق صرف میرا ہے. میں کسی کو بھی ہمارے درمیان آنے ہی نہیں دوں گی. اور اگر آپ نے کسی کو لانے کی کوشش کی بھی تو نہ میں اُسے چھوڑوں گی نہ آپ کو. یہ سردار بن کر غصہ باقیوں پر چلایا کریں مجھے ڈرانے کی ضرورت بالکل بھی نہیں ہے. “
خانی جو باتیں سیاہل کے سامنے نہیں کہہ سکتی تھی. اُس کی بے خبری میں بہت مدھم سرگوشی کے سے انداز میں بولتی اِس بات سے انجان تھی کہ اُس کی ہر بات آرام سے سیاہل خان کی سماعتوں تک پہنچ رہی ہے.
سیاہل خان کی بند آنکھوں پر باری باری اپنے لبوں کا محبت بھرا نرم گرم لمس چھوڑتے خانی اُس کے پاس سے اُٹھی تھی.
مگر اِس سے پہلے کہ وہ بیڈ سے اُتر پاتی اُس نے اپنی کلائی کو سیاہل کی آہنی گرفت میں جکڑا پایا تھا. خانی کا سانس اٹک چکا تھا.
سیاہل نے خانی کو ایک جھٹکے سے اپنی جانب کھینچا تھا. جس پر کسی ٹوٹی پتنگ کی طرح وہ سیاہل خان کے سینے پر جاگری تھی. خانی کا دل بے قابو اور سانسیں بے ترتیب ہوئی تھیں. وہ جو اتنی دیر سے بولے اور کیے جارہی تھی. کیا سیاہل خان وہ سب سن رہا تھا. یہ سوچ ہی خانی کے ٹھنڈے پسینے چھڑا گئی تھی.
سیاہل خان کروٹ بدل کر خانی کو بیڈ پر ٹکاتے خود مکمل طور پر اُس کے اُوپر جھک آیا تھا. اِس طرح کے خانی اُس کے چوڑے وجود تلے چھپ سی گئی تھی.
خانی پہلے تو آنکھیں پھاڑے سکتے کے عالم میں یہ سب دیکھ رہی تھی. مگر پھر جیسے اپنی چوری پکڑی جانے اور جو والہانہ محبت وہ ابھی سیاہل خان کی بے خبری میں کرچکی تھی کا خیال آتے ہی خانی نے خفت اور شرمندگی کے مارے اپنی آنکھیں سختی سے میچ لی تھیں.
” کیا بول رہی تھی ابھی تم. “
سیاہل کی گھمبیر نیند کے خمار سے بھاری اور پُرسوز آواز خانی کے کانوں سے ٹکراتی اُس کا حلق تک خشک کر گئی تھی. آخری امید بھی ختم ہوئی تھی. مطلب وہ سب سن چکا تھا.
” سیاہل خان ہٹیں میرے آگے سے. میں نے کچھ نہیں بولا. کوئی خواب دیکھا ہوگا آپ نے. “
خانی بنا اُس کی جانب دیکھتے نظریں جھکائے بولی. اور سیاہل کے سینے پر دونوں ہاتھ جمائے اُسے اپنے اُوپر سے ہٹانا چاہا تھا.
جس پر سیاہل نے خانی کی دونوں کلائیاں پکڑ کر تکیے سے لگاتے اُس کی مزاحمت ختم کردی تھی.
” پہلے بولو کیا کہہ رہی تھی ابھی. “
سیاہل خانی کی باتیں دوبارہ کھلی آنکھوں سے سننے پر بضد تھا.
ابھی بھی بخار سے اُس کا جسم ٹوٹ رہا تھا. مگر خانی کے استحقاق بھرے الفاظ اور اُس کی والہانہ محبت نچھاور کرتا انداز سیاہل خان کے دل پر مرہم رکھ گیا تھا.
وہ ناراضگی کے باوجود کچھ دیر محبت پاش نظروں سے اپنی دیوانی کو دیکھ رہا تھا. جو اُس کے معاملے میں واقعی پاگل تھی.
سیاہل خان کی معنی خیز کچھ کہتی چھیڑتی شوخ نظریں خانی کی جان مشکل میں ڈال گئی تھیں. اُسے اپنی بے اختیاری اور لاپرواہی پر غصہ آیا تھا. وہ اُس کو نیند میں سمجھنے کی غلطی کیسے کرسکتی تھی.
” پہلے زخم دیتی ہو. پھر اتنی محبت سے مرہم رکھ کر میرے دل کو واپس اپنا اسیر بنا لیتی ہو. کہیں کا نہیں چھوڑا خانی اسجد بلوچ تم نے سیاہل موسیٰ خان کو. اِسی لیے دور رکھنا چاہتا تھا. تمہیں خود سے. “
سیاہل خان نے بانہوں کے حصار میں قید اپنی معصوم سی جادوگرنی کو دیکھا تھا. جو اُس کی آنکھیں کھولنے سے پہلے جتنی شیرنی بنی ہوئی اُس پر اپنا حق جتا رہی تھی. اُس کے آنکھیں کھولتے ہی خطرناک تیور دیکھ واپس اپنے خول میں سمٹ چکی تھی.
سیاہل نے جھک کر خانی کی نوزپن پر ہونٹ رکھ دیے تھے. جو اِس وقت اُس کا رہہہ سہہ چین و قرار لوٹ رہی تھی. سیاہل خان کی جسارت پر خانی کا چہرا لال ہوچکا تھا. اُوپر سے سیاہل کی کہی بات اُسے بُری لگی تھی.
” سیاہل خان مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی. پلیز چھوڑیں مجھے. “
خانی اپنی کلائیاں اُس کی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کرتے شدید ناراضگی سے بولی. جو ابھی بھی اُس کی غلط فہمی دور کرنے کے بجائے مزید اُسے ظالم کہہ رہا تھا.
” کتنی نفرت کرتی ہو مجھ سے. “
مدھم روشنی میں جگمگاتا سیاہ کالی زلفوں میں چھپا خانی کا معصومیت بھرا چہرا سیاہل خان کو اپنی جانب بلا رہا تھا. سیاہل نے خانی کی آنکھوں میں موجود غصہ دیکھ اپنا بہت بار کا پوچھا سوال دوہرایا تھا.
” بہت زیادہ. جتنی کبھی کسی نے کسی سے نہ کی ہو. “
خانی نے سیاہل خان سے ناراضگی بھرے لہجے میں بولتے آنکھوں میں غصہ لیے اُس کی جانب دیکھا تھا. مگر اُس کا چہرا بہت قریب ہونے کی وجہ سے خانی فوراً نظریں جھکا گئی تھی.
” اگر اتنی ہی نفرت کرتی ہو تو اتنی دیر سے میرے قریب کیا کررہی تھی. کیوں مجھے بخار میں دیکھ خانی اسجد بلوچ کی سانسیں اٹکنے لگی تھیں. مرنے دیتی مجھے. تمہارا اور تمہارے خاندان والوں کی اپنے سب سے بڑے دشمن سے جان تو چھوٹ جاتی. “
خانی نے جو الفاظ اُسے شام کو بولے تھے. وہ اب تک اُس کے کانوں میں گونج رہے تھے.
خانی نے سیاہل خان کی اِس سنگدلی پر تڑپ کر اُس کی جانب دیکھا تھا. وہ کیسے اتنی آسانی سے اپنے مرنے کی بات بول سکتا تھا.
” سیاہل خان آپ بہت ظالم اور سنگدل ہو. “
خانی کی آنکھ سے آنسو ٹپکا تھا.
” نہیں یہ غلط ہے. خانی اسجد بلوچ مجھ سے زیادہ ظالم اور سنگدل ہے. “
سیاہل نے ہاتھ بڑھا کر خانی کا آنسو گر کر بے مول ہونے سے پہلے ہی اپنے ہونٹوں سے چن لیا تھا. جس پر خانی کے گال دھک اُٹھے تھے. سیاہل خان کا لمس اِس قدر شدت بھرا تھا کہ اُس کی مونچھوں کی سختی نے خانی کا گال ایک جگہ سے لال کر دیا تھا.
” مجھے سچ جاننا ہے. “
خانی نے سوالیہ نظریں اُٹھائی تھیں.
” اب میں نہیں بتاؤں گا. “
سیاہل نے فوراً انکار کیا تھا.
” سیاہل خان آپ ظالم اور سنگدل ہونے کے ساتھ ایک بہت ہی ضدی اور گھمنڈی انسان بھی ہو. “
خانی نے اُس کے دو ٹوک انکار پر دانت پیستے اُس کو مزد خوبیاں گنوائی تھیں.
” اِسی لیے تمہیں اتنا اچھا لگتا ہوں کیا. جو میری بے خبری میں مجھ پر اتنی کرم نوازیاں کی جارہی تھیں.”
سیایل نے بھی فوراً بدلا پورا کیا تھا. جبکہ اُس کے انداز اور بات پر خانی کا دل چاہا تھا زمین پھٹکے اور وہ اِس میں سما جائے. آخر ضروت ہی کیا تھی. اتنا بے خود ہوکر پیار جتانے کی. وہ بھی اِس بے مہر شخص پر.
خانی مزید ناراض ہوئی تھی.
” مجھ پر اعتبار کیوں نہیں کیا خانی. کیا میری محبت اتنی کمزور اور سطحی لگی تھی تمہیں. “
سیاہل نے آنکھوں میں درد بھرے شکوہ کیا تھا.
خانی نے نظریں اُٹھا کر سیاہل کی جانب دیکھا تھا. اُس کے الفاظ اور انداز خانی کا دل چیر گئے تھے.
سیاہل خان کی آنکھیں بتا رہی تھیں. کہ وہ خانی کی بے اعتباری پر کس قدر تکلیف میں ہے. مگر وہ دل کے ہاتھوں مجبور اِس وقت بھی خود کو درد دینے کی ذمہ دار اپنی بیوی کے قریب تھا.
خانی سیاہل کا لال چہرا دیکھتے اور انگارے کی طرح دہکتے ہاتھوں کا لمس اپنی کلائیوں پر محسوس کرتے مزید فکرمند ہوئی تھی.
” سیاہل آپ کو آرام کی ضرورت ہے. آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے. “
سیاہل خان کی حالت پر خانی کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہورہا تھا.
” میرا آرام سکون اور قرار صرف میری خانی میں ہے. کیا تم مجھے میرا سکون دے سکتی ہو. “
سیاہل آج خانی کی قربت کا طلبگار تھا. سیاہل کی بات پر خانی کی پلکیں لرز سی گئی تھیں. وہ اُسے اِس وقت کوئی ضدی بچہ معلوم ہوا تھا.
جب سیاہل خان نے ہمیشہ خانی کی ہر خواہش ہر بات کا مان رکھا تھا تو خانی کیسے اپنے محبوب شوہر کو انکار کر سکتی تھی. وہ جانتی تھی سیاہل اِس وقت بخار کی وجہ سے مکمل طور پر اپنے حواسوں میں نہیں تھا.
اگر وہ ہوش میں ہوتا اور اُس کے اعصاب اپنے کنٹرول میں ہوتے تو شاید وہ یہ طلب نہ کرتا کیونکہ اُس نے اِس رشتے کو شروع کرنے کے لیے خانی کو ٹائم دے رکھا تھا. مگر اِس وقت نجانے اُس کے دماغ میں کیسی اِن سیکیورٹی تھی یا اُس کے دل کی طلب تھی. کہ وہ خانی سے سکون کی خواہش کر بیٹھا تھا.
خانی کی خاموشی پر اُس کی کلائیاں آزاد کرتے سیاہل پیچھے ہٹا تھا.
خانی جو لاکھ سیاہل خان سے بدگمان اور ناراض تھی. مگر اپنے خان کی بات کا مان رکھنا چاہتی تھی. وہ اب اپنی جانب سے مزید سیاہل خان کو کوئی درد نہیں دینا چاہتی تھی.
اِس لیے اُسے دور ہوتا دیکھ خانی نے سیاہل خان کے گلے میں بازو ڈالتے اُس کے سینے سے لگتے اپنا آپ سونپ دیا تھا.
خانی کی اِس خود سپردگی کے عمل نے سیاہل خان کی جیسے ساری ناراضگی دور کر دی تھی. خانی کو کسی قیمتی متاع حیات کی طرح اپنی بانہوں میں سمیٹتے سیاہل خان کے رگ و پے میں سکون اُترتا چلا گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
میران کی ایک بہت امپیورٹینٹ میٹنگ تھی. اِس لیے وہ شہرین کو لیے صبح صبح ہی نکل آیا تھا. اب اُس کا ارادہ واپس کراچی رہنے کا ہی تھا. اِس لیے وہ شہرین کو بھی ساتھ لے کر جارہا تھا.
شہرین جو نیند کی کافی بُری تھی. کل رات بھی لیٹ سونے اور اب جلدی اُٹھنے کی وجہ سے اُس کی آنکھیں نیند سے بند ہورہی تھیں. اُسے جب نیند آتی تھی تو وہ چھوٹے بچوں کی طرح کہیں بھی آنکھیں موند لیتی تھی.
اِس وقت بھی اُس نے ایسا ہی کیا تھا. اتنی دیر میران کے ڈر سے آنکھیں کھولنے کی کوشش کرنے کے باوجود آخر کار وہ نیند سے ہار مان کر آنکھیں موندتے خوابوں کی حسین وادیوں میں پہنچ چکی تھی.
میران جو خاموشی سے بنا شہرین کی جانب دھیان دیے ڈرائیونگ میں مصروف تھا. موڑ موڑتے اچانک اُسے اپنے کندھے پر نرم و ملائم سا لمس محسوس ہوا تھا.
میران نے جیسے ہی چہرا روڈ سے ہٹاتے اپنے کندھے کی جانب موڑا وہاں کا دلفریب منظر اُس کے دل کا چین و قرار لوٹ گیا تھا. شہرین اُس کے کندھے پر سر ٹکائے دنیا و مافیہا سے بے خبر, سیاہ چادر کے ہالے میں معصوم چہرا لیے ہوئے اردگرد سے بیگانہ تھی. چہرے پر اُس کی شال سے بالوں کی شریر لٹیں نکل کر بکھری اُس کو مزید دلکش بنا رہے تھے. میران نے نوٹ کیا تھا شہرین کے ہونٹوں پر سوتے میں بھی ایک الوہی مسکان بکھری ہوئی تھی. جیسے اِس وقت وہ کسی بہت ہی حسین سپنے کے زیر اثر ہو.
میران سے اِس منظر سے نظریں ہٹا کر روڈ کی جانب مرکوز کرنا کافی مشکل ہوگیا تھا.
میران نے اپنی سوچوں کو آج پھر کسی اور طرف پہنچنے سے پہلے ہی شہرین کو جگانا چاہا تھا.
مگر پھر اپنا بڑھا ہاتھ راستے میں ہی روک لیا تھا. وہ آج چاہ کر بھی صرف اپنی وجہ سے شہرین کو بے آرام نہیں کر پایا تھا.
جاری ہے….
