No Download Link
Rate this Novel
Episode 38
میران شدید غصے کے عالم میں شہرین کو لیے حویلی چھوڑ کر نکل آیا تھا. اُس کے چچا جمشید بلوچ اور احمر بلوچ نے اُسے روکنے کی بہت کوشش کی تھی. لیکن وہ نہیں مانا تھا.
جمشید بلوچ میران کے نانا کی طرح کافی سلجھے ہوئے انسان تھے. اُنہیں اِن دشمنیوں اور بدلوں میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا. جس میں نقصان اور نارسائی کے علاوہ کچھ نہیں رکھا تھا. یہی بات وہ اپنے بچوں کو بھی سمجھانا چاہتے تھے. مگر اُن کی یہ کوشش احمر پر ہی کامیاب ہوئی تھی. اُن کے ناچاہنے کے باوجود بھی اسد میں بھی کچھ نہ کچھ تایا اور دادا والی عادات پیدا ہوگئی تھیں. جسے وہ کسی بھی قیمت پر ختم کرنے کا ارادہ رکھتے تھے. وہ ارباز کی طرح اپنے لختِ جگر کو نہیں کھونا چاہتے تھے.
شہرین نے میران کو اتنے غصے میں کبھی نہیں دیکھا تھا. جس قدر غصے میں وہ حویلی سے نکلا تھا. شہرین اُس کا جلالی رُوپ دیکھ مزید سہم گئی تھی.
گاڑی میں اُس کے برابر بیٹھے شہرین نے کن اکھیوں سے میران کی جانب دیکھا تھا. جو آنکھوں میں غصے کی آگ بھرے ہونٹ بھینچے ڈرائیونگ میں مصروف تھا.
شہرین اُس کے غصے کی وجہ سے پہلے ہی خوفزدہ تھی. لیکن اب اُس کا غیض و غضب سے بھرا یہ شعلے برساتا رُوپ شہرین کو مزید سہمنے پر مجبور کرگیا تھا. کچھ کچھ آئیڈیا تو تھا اُسے مگر وہ پوری طرح نہیں جانتی تھی کہ آخر اتنی سیریس بات کیا ہوئی ہے جس کی وجہ سے میران یوں سب سے ناراض ہوکر حویلی چھوڑ کر آگیا تھا.
اِس سب سے بھی زیادہ اُسے اپنے اندر کا گلٹ پریشان کررہا تھا. جو اُس نے میران کو انتہائی فضول بول کر اپنے قریب آنے سے پہلے ہی دور کردیا تھا. اب اُس میں اتنی ہمت تو تھی نہیں کہ میران سے خود بات کرتی. وہ اچھی خاصی کانفیڈنٹ لڑکی میران کے سامنے سہمی ہوئی ہرنی لگ رہی تھی.
مگر اِس وقت میران کا اضطراب دیکھ وہ سکون سے نہیں بیٹھ پائی تھی.
” سائیں آپ ٹھیک ہیں. “
بہت ہمت اکٹھی کرتے آخر کار وہ مختصر سا جملہ بولنے میں کامیاب ہوگئی تھی.
جس پر میران نے چہرا موڑ کر ایک غصے بھری گھوری سے اُسے نوازا تھا. اور بنا کوئی جواب دیئے واپس ڈرائیونگ کی جانب متوجہ ہوگیا تھا.
پہلے خانی کا انکشاف, پھر شہرین کی کہی اتنی سخت بات اور اب اپنوں کا وہ بھیانک رُوپ اُسے اپنے آغا جان سے ایسی کسی بات کی اُمید نہیں تھی. یہ سب چیزیں مل کر میران کو بہت زیادہ ڈسٹرب کررہی تھیں. اُسے اپنا دماغ پھٹتا ہوا محسوس ہوا تھا.
وہ ابھی اِنہیں سوچوں میں گِھرا ہوا تھا. جب اچانک اُسے محسوس ہوا تھا کہ کوئی گاڑی اُن کا پیچھا کررہی ہے. ابھی سے نہیں اُن کے حویلی سے نکلنے کے بعد سے.
میران کی چھٹی حس جیسے کچھ غلط ہونے کا الارم دینے لگی تھی. وہ شدید غصے میں بنا گارڈز لیے نکلا تھا. اور اب صورتحال کا اندازہ ہوتے اُسے اپنی غلطی کا شدت سے اندازہ ہوا تھا. اپنے اتنے سارے دشمنوں کی پہچان ہوتے ہوئے بھی وہ اِن علاقوں میں اتنی بے فکری سے کیسے آسکتا تھا. وہ نہ صرف اپنی بلکہ جذباتی پن میں شہرین کی زندگی بھی خطرے میں ڈال چکا تھا.
میران کو اچانک یاد آیا تھا کہ یہ تو سیاہل خان کا علاقہ شروع ہوچکا ہے. تو کیا یہ سب سیاہل خان کی کوئی چال تھی. یا سیاہل خان کا نام بدنام کرنے کی آڑ میں کسی اور کی.
میران نے اپنی گن نکالتے جیسے ہی گاڑی کی سپیڈ بڑھائی اُس کی توقع کے عین مطابق اُس کی گاڑی پر پہلا فائر کیا گیا تھا. اور پھر یہ سلسلہ رکا نہیں تھا. گولیوں کی بوچھاڑ جاری ہوچکی تھی. اور جس طرح فائر کیے جارہے تھے. صاف ظاہر تھا وہ یہ سب دھمکانے کے لیے نہیں کررہے بلکہ اُن دونوں کو مارنے کا پورا ارادہ رکھتے ہیں.
” سائیں یہ سب کیا ہورہا ہے. “
شہرین اِس اچانک پیدا ہوجانے والی صورتحال پر بُری طرح ڈرتی میران کے قریب کھسکی تھی. میران تو اِس سب کا عادی تھا. مگر شہرین کے لیے یہ بلکل نیا تھا.
” پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے. کچھ نہیں ہوگا تمہیں. تم زرا سا نیچے جھک کر بیٹھ جاؤ. “
میران نے جیسے اُس سے زیادہ خود کو تسلی دی تھی. اگر وہ اکیلا ہوتا تو اِس صورتحال کو آرام سے ہینڈل کر لیتا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اِس وقت اُس کے ساتھ شہرین تھی. جس کی وجہ سے واپس اُن لوگوں پر حملہ کرکے وہ زرا سا بھی رسک نہیں لینا چاہتا تھا.
اُن کے نشانوں سے بچنے کے لیے گاڑی کو زگ زیگ شکل میں چلاتے میران اُسے کچے راستے پر اُتار چکا تھا. جو جھاڑیوں سے گھرا ہوا تھا. اور اُن کے لیے کافی مددگار ثابت ہوسکتا تھا.
تیز سپیڈ میں گاڑی کو بھگاتے میران اُن لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہی دوسری جانب جنگل کی طرف گاڑی موڑتے جلدی سے شہرین کو لے کر باہر نکل آیا تھا.
شہرین کا ہاتھ تھامے میران گھنے درختوں کی جانب بڑھ گیا تھا. اور ایک قدرے محفوظ جگہ کا انتخاب کرتے جو اردگرد سے بالکل جھاڑیوں سے ڈھکا ہوا تھا شہرین کو وہاں بیٹھا کر وہ واپس پلٹا تھا.
” سائیں آپ کہاں جارہے ہیں پلیز مت جائیں. “
میران جو چند قدم ہی آگے بڑھا تھا. شہرین نے اُس کا بازو اپنے دونوں ہاتھوں میں جکڑتے اُسے روک دیا تھا.
” مجھے جانے دو. تم فکر مت کرو. میں اُنہیں تم تک کسی صورت نہیں پہنچنے دوں گا. تم بالکل یہاں ریلیکس ہوکر بیٹھو. کچھ نہیں ہوگا تمہیں.”
میران سمجھا تھا شہرین یہاں اکیلے رہ جانے کی وجہ سے ڈر رہی ہے. لیکن وہ یہ نہیں سمجھ پایا تھا کہ شہرین کے ڈر اور پریشانی کی وجہ اُسے خطرے میں جاتے دیکھنا تھی.
میران نے نامحسوس انداز میں شہرین کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھوڑواتے اُس سے دور ہونا چاہا تھا. مگر اُس کی سانسیں تو تب تھمی جب شہرین روتے ہوئے اُس کے چوڑے سینے سے آلگی تھی.
اور میران کے گرد دونوں ہاتھ باندھ کر خود کو اُس کے سینے میں چھپانا چاہا تھا.
شہرین کے نرم گرم وجود کے اِس طرح یکدم قریب آجانے کی وجہ سے میران اپنی جگہ بالکل ساکت ہوا تھا. دل کی دھڑکنوں کا شور باقی سارے شور پر حاوی ہوگیا تھا.
جس لڑکی نے اُس کے جذبوں کی اِس بُری طرح سے تزلیل کی تھی. وہ اُسے خود سے دور کردینا چاہتا تھا. مگر اُس کا دل ایسا کوئی بھی سخت عمل کرنے سے صاف انکاری تھا.
” شہرین مجھے جانے دو. ورنہ وہ لوگ ہمیں ڈھونڈتے یہاں تک پہنچ جائیں گے. میں اپنی وجہ سے تمہیں کسی صورت نقصان پہنچتا نہیں دیکھ سکتا. “
دل کے خلاف جاکر میران نے شہرین کو کندھوں سے تھام کر دور ہٹانا چاہا تھا. مگر شہرین مزید قریب ہوئی تھی. شاید وہ یہ سب کرکے اپنی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتی تھی.
” سائیں میں آپ کو کہیں نہیں جانے دوں گی. اگر آپ کو کچھ ہوا تو میں مر جاؤں گی. “
میران کے سینے سے لگی بے آواز روتے وہ لرزتے وجود کے ساتھ کسی چھوٹے بچے کی طرح اُس سے چمٹی کھڑی تھی.
شہرین شاید ڈر و خوف کی وجہ سے حواسوں میں نہیں تھی. گولیوں کی قریب آتی آواز پر آنے والی کسی انہونی کا سوچتے شہرین اُس کو اپنے دل کا اقرار سونپتی اُس کے تپتے دل پر جیسے ٹھںنڈی پھوار رکھ گئی تھی.
میران اُس پر شدید غصے کے باوجود اب کی بار شہرین کے نازک وجود کے گرد اپنے بازو پھیلاتے اُسے مزید خود سے قریب کر گیا تھا.
ایک دوسرے میں کھوئے نجانے اُنہیں کتنی دیر گزر گئی تھی جب گولیوں کی بوچھاڑ اُنہیں اپنے بہت قریب سنائی دی تھی.
میران کو محسوس ہوا تھا کہ یہ فائرنگ یک طرفہ نہیں ہے. بلکہ شاید اب دو گروپوں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا. جیسے کوئی اُن کے دفاع میں آگیا ہو.
میران ابھی یہی سوچ رہا تھا. جب قریب آتی قدموں کی آواز پر میران شہرین کو اپنی چوڑے وجود کے پیچھے چھپاتے گن سامنے کی طرف تان گیا تھا.
مگر عجلت میں سر جھکائے مؤدب انداز میں سامنے آنے والا شخص کوئی اور نہیں سیاہل خان کا خاص آدمی خدا بخش تھا. جو شاید سیاہل کے حکم پر ہی مقابل کو منہ توڑ جواب دیتے اُس کی مدد کو پہنچ گئے تھے.
” میران سائیں سردار سائیں نے مجھے آپ کی حفاظت کے لیے بھیجا ہے. سیاہل خان کے علاقے میں حملہ کیا گیا ہے آپ پر. اُن کو کسی صورت گوارہ نہیں کہ آپ کو یہاں نقصان پہنچایا جائے. آپ کو ہم پر بھروسہ کرنا ہوگا. ہم بحفاظت آپ کو محفوظ مقام پر پہنچا دیں گے. “
خدا بخش سر جھکائے کھڑا ساری تفصیل سمجھاتے اب میران کے فیصلے کا منتظر تھا.
جس پر میران نے کچھ سوچتے حامی بھر لی تھی. وہ شہرین کے ساتھ ہونے کی وجہ سے اِس وقت چاہ کر بھی حملہ آوروں سے مقابلہ نہیں کرسکتا تھا. اِس وقت سیاہل خان کی بھیجی گئی مدد کو قبول کرنا ہی اُسے سہی لگا تھا.
اگر یہی واقع کچھ دن پہلے پیش آتا تو وہ کسی قیمت پر بھی یہ مدد لینا گوارہ نہ کرتا مگر اب اُس کے سیاہل خان کے حوالے سے خیالات بدل چکے تھے.
میران شہرین کا ہاتھ تھامے خدا بخش کے ساتھ وہاں سے نکل آیا تھا. باہر آکر اُسے معلوم ہوا تھا کہ اُس پر حملہ کرنے کے لیے ایک نہیں تین گاڑیاں بھیجی گئی تھیں. اور اُن کا ارادہ کسی بھی قیمت پر میران کو ختم کرنا تھا.
سب سے بڑا دھچکا تو اُسے تب لگا جب اُسے پتا چلا کہ یہ حملہ کسی اور نے نہیں اُس کے اپنے تایا ارشد بلوچ نے کروایا ہے. جو اپنے بیٹے کی موت کا بدلہ لینے کے ساتھ ساتھ آج کی میران کی کی گئی اپنی بے عزتی کا بدلہ بھی لینا چاہتے تھے. لیکن اُن کی بیڈ لک اور میران کی گڈ لک تھی کہ پہلے اُس کی عقلمندی اور پھر عین وقت پر سیاہل خان کے بھیجے گئے آدمیوں نے اُنہیں بچا لیا تھا.
سیاہل کے مطابق کے ارشد بلوچ نے اُسے مارنے کے لیے جگہ جگہ اپنے آدمی پھیلا رکھے تھے. اِس وقت اُن کا کراچی کے لیے نکلنا بلکل بھی سیف نہیں تھا. اِس لیے سیاہل کے اسرار پر میران اُس کے بنگلے پر آگیا تھا.
سیاہل نے یہ بات کرنے کے لیے میران سے خود بات کی تھی. اور شاید پہلی بار نفرت اور لڑائی سے ہٹ کر اُن دونوں کے طنز و مزاح پر مشتمل گفتگو کی تھی.
” بہت حیرت ہورہی ہے مجھے. آخر سیاہل موسی خان کو کب سے میران اسجد بلوچ کی جان کی فکر لگ گئی. جو اُس کی خاطر اتنا کچھ کیا جارہا ہے. “
میران نے سیاہل کے اپنے بنگلے پر رُکنے کے اسرار پر حیرت بیان کرتے طنز کیا تھا.
” کیونکہ لوگ مانے یا نہ مانے مگر سیاہل موسٰی خان کو اپنی بیوی سے بے پناہ عشق ہے. اُس کی خوشی کی خاطر میں کچھ بھی کرسکتا ہوں. میران بلوچ میری بیوی کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے. جس کو تکلیف پہنچنے سے آنسو میری بیوی کی آنکھوں میں آئیں گے جو کہ مجھے کسی صورت گوارہ نہیں.”
سیاہل خان نے بھی جوابی طنز کرتے میران کو چپ کروا دیا تھا.
” اور دوسری بات کہ سیاہل خان کی غیرت کو یہ بات کسی صورت گوارہ نہیں دیتی کہ اُس کے علاقے میں کسی بھی شخص کو کوئی دشمن آکر نقصان پہنچائیں. میں نے تمہیں اُس دن ہی باور کروا دیا تھا کہ اپنے آس پاس دھیان دو. کیونکہ تمہارے تایا آج کی لڑائی کے بعد سے نہیں بلکہ پہلے سے تمہیں مروانا چاہتے ہیں. اُس دن تمہارا ایکسیڈنٹ کروانے کے لیے بھیجی گئی گاڑی میری نہیں ارشد بلوچ کی تھی. مجھے لگا تھا وہ لوگ صرف میرے دشمن ہیں. مگر وہ لوگ تو اپنوں کے خون کے پیاسے ہوئے پڑے ہیں.”
سیاہل خان میران کی کافی حد تک آنکھیں کھولنے میں کامیاب ہوتے اُس کے خاندان کے کچھ لوگوں پر افسوس کرتے بولا.
” جب انسان کا ضمیر ہی مرجائے تو وہ کچھ ایسا ہی کرتے ہیں. اینی ویز تھینکس میری مدد کرنے کے لیے. تمہارا یہ احسان ہمیشہ یاد رکھوں گا. “
جب سیاہل خان اپنی انا ہٹا کر خانی کی خاطر اُس کی اتنی مدد کرسکتا تھا. تو اُسے بھی سیاہل خان کو شکریہ ادا کرنے اور اُس کے لیے اپنا دل صاف کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی تھی.
” تمہیں میں بتا چکا ہوں. کہ تمہاری مدد کرنے میں بھی غرض میری ہی تھی. اِس لیے تمہیں احسان مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے. “
سیاہل خان اُس کے احسان مند ہونے پر ایک بار پھر خانی کا حوالہ دیتا فون بند کر گیا تھا.
جس پر میران کو ایک پھر سیاہل کو اِس قدر غلط سمجھنے پر بہت افسوس ہوا تھا. اُس کی بہن بلکل ٹھیک کہتی تھی. سیاہل خان ویسا نہیں تھا جیسا اُن کے گھروالوں نے اُنہیں بتایا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
آج سمن اور فیصل کی بارات تھی. پوری حویلی میں ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں پھیلی ہوئی تھیں. خانی خاندان کی بڑی بہو ہونے کا فرض ادا کرتی ہر کام میں حصہ لے رہی تھی. اُسے یہ سب بہت اچھا لگ رہا تھا.
ایسی شادی اُس نے پہلے کبھی اٹینڈ نہیں کی تھی. اِس وقت وہ سیاہل کے لائے ڈریس ریڈ فراک میں ملبوس وہاں موجود سب عورتوں سے حسین اور نمایاں لگ رہی تھی. بی بی سائیں کی خواہش پر اُس نے اِس وقت خاندانی زیور پہن رکھا تھا. بھاری خوبصورت بیش قیمت ہار اُس کی نازک گردن پر بہت زیادہ جچ رہا تھا.
نفاست سے تیار دوپٹہ سر پر سیٹ کیے بالوں کو ہلکا سا کیچر میں جکڑے کمر پر کھلا چھوڑ رکھا تھا. جو اُس کی نازک سی کمر پر سیاہ آبشار جیسے معلوم ہورہے تھے.
خانی کسی کام سے ڈرائنگ روم کے سامنے سے گزری تھی. جب اچانک اندر کے منظر پر نظر پڑتے ہی اُس کے قدموں کو بریک لگی تھی. وہ جھٹکے سے پلٹی تھی. لیکن اندر چلتا منظر اُس کے لپسٹک سے سجے ہونٹوں پر بھرپور مسکراہٹ بکھیر گیا تھا. خانی دل میں سکون اُترتا محسوس کرتے کتنے ہی لمحے یک ٹک وہ منظر دیکھے گئی تھی.
سیاہل خان حُسنہ بیگم کو اپنے بازو کے گھیرے میں لے کر صوفے پر اُنہیں ساتھ لیے بیٹھا چہرے پر پرسکون سی دلکش مسکراہٹ سجائے اُن سے باتوں میں مصروف تھا. جبکہ حُسنہ بیگم ممتا بھری پیاسی نظروں سے ہر دو سیکنڈ بعد سیاہل کی جانب دیکھتیں نجانے کتنی بار اُس کی پیشانی چوم چکی تھیں.
خانی اُن دونوں کو ڈسٹرب نہ کرنے کے خیال سے وہاں سے ہٹنا چاہتی تھی. جب اچانک حُسنہ بیگم کی نظر واپس پلٹتی خانی پر پڑی تھیں.
” خانی بیٹا کہاں جارہی ہیں آپ. یہاں آئیں نا ہمارے پاس. “
حُسنہ بیگم سے اپنی لاڈلی بہو کا یوں جانا بلکل بھی برداشت نہیں ہوا تھا. اِس لیے فوراً اُسے آواز دیتے اپنے پاس بلایا تھا.
جب ریڈ لباس میں سجی سنوری اپنی سردارنی کو دیکھ سیاہل خان مبہوت سا مسکراتی آنکھوں سے اُسے پاس آتے دیکھنے لگا تھا.
خانی نے ایک لمحے کے لیے نظریں اُٹھا کر سیاہل کی جانب دیکھا تھا. جب سیاہل نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اُس کا شکریہ ادا کیا تھا. جس نے اُس کے دل پر پڑی گرد صاف کرتے اُسے اپنی زندگی کے بہت ہی قیمتی رشتے سے روشناس کروایا تھا.
آج حُسنہ بیگم سے ملتے اُسے اتنے ٹائم اُن سے خود کو دور رکھنے پر بہت افسوس اور شدت سے اپنی غلطی کی سنگینی کا احساس ہوا تھا. مگر دوسری جانب اپنے دادا کا وقت یاد آتے اُسے کسی حد تک اپنا آپ ٹھیک بھی لگتا تھا.
لیکن حُسنہ بیگم کو معاف کرتے اور اتنے عرصے اُنہیں خود سے دور رکھنے پر معافی مانگتے وہ اُن اذیت بھری سوچوں سے نکل آیا تھا.
” جی ماں آپ نے بلایا مجھے. “
خانی سیاہل خان کی بولتی نظروں سے کنفیوز ہوتی حُسنہ بیگم کے قریب ہوئی تھی. جنہوں نے اُسے اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا.
خانی خاموشی سے اُن کے قریب ٹک گئی تھی.
” میں بہت خوش ہوں آج. میری آج ساری خواہشیں پوری ہوگئیں. سیاہل بیٹا میں آپ کی زندگی میں ایسی ہی لڑکی دیکھنا چاہتی تھی. جو آپ کو اپنے خاندان والوں سے جوڑ کر رکھے. آپ کے ہر دکھ سکھ میں ڈٹ کر آپ کے ساتھ کھڑی رہے. اور آپ سے بے پناہ محبت کرتی ہو. مجھے بہت خوشی ہے کہ میری خانی میری اِن سب اُمیدوں پر پوری اُترتی ہے. خدا سب کو ایسی پیاری بہوؤں سے نوازے. میری دعا ہے تم دونوں کی جوڑی ہمیشہ سلامت رہے اور میرا رب تم دونوں کو حاسدوں کی نظر سے ہمیشہ بچائے رکھے. “
حُسنہ بیگم نے خانی کا ماتھا چومتے اُس کا مہندی اور گجرے سے سجا خوشبوؤں میں مہکتا ہاتھ پکڑتے سیاہل کی چوڑی مضبوط ہتھیلی میں دے دیا تھا. جسے سیاہل نے اپنی گرفت میں مضبوطی سے تھام لیا تھا.
خانی حُسنہ بیگم کے سامنے سیاہل خان کے اِس عمل پر جھینپ گئی تھی. اُس نے غیر محسوس انداز میں سیاہل کی گرفت سے اپنا ہاتھ آزاد کروانے کے کوشش کی تھی. مگر سیاہل حُسنہ بیگم کی باتوں کا جواب دیتا اُس کی مزاحمت کو بالکل نظر انداز کرتا اُس کے سُرخ ہوتے چہرے کو نظروں کی گرفت میں لیے مزے سے بیٹھا رہا تھا.
” سردار سائیں آپ بہت ہی بے شرم ہوتے جارہے ہیں. بنا دیکھے کبھی بھی کہیں بھی شروع ہوجاتے ہیں. ماما کیا سوچتی ہوں گی. “
حُسنہ بیگم کے اُٹھ کر جانے پر خانی اُس کی گرفت سے اپنا ہاتھ نکالنے کی کوشش کرتے خفگی سے بولی. جبکہ سیاہل ڈھیٹ بنا ابھی بھی خانی کا ہاتھ آزاد کرنے کے موڈ میں نہیں تھا.
” یہی کہ اُن کے بیٹے کو اُن کی بہو سے کتنا پیار ہے. “
سیاہل مزے سے صوفے پر پھیل کر بیٹھا خانی کی مزاحمت ملاحظہ کررہا تھا. جس وہاں کسی کے آجانے کی وجہ سے گھبراہٹ کا شکار ہوتی اپنا ہاتھ چھڑوانے پر بضد تھی.
” جب جانتی ہو یہ ممکن نہیں ہے تو کیوں کوشش کرتی ہو. دور جانے کی. ایک تو اتنی حسین لگ کر میرے کمزور سے دل پر اپنی اداؤں کے تیر چلاتی ہو. اور اوپر سے اپنے قریب بھی نہیں آنے دیتی.”
سیاہل نے خانی کو اُٹھتا دیکھ جھٹکے سے واپس اپنے قریب صوفے پر گراتے چہرے پر دنیا جہاں کی مسکینیت طاری کرتے اپنا دکھ بیان کیا تھا.
جس پر خانی نے اُس کی حددرجہ اداکاری پر پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُسے گھورا تھا.
” سیاہل خان آپ سے بڑا ڈرامے باز اِس دنیا میں نہ کوئی آیا ہے اور نہ ہی آئے گا.”
خانی نے اپنا ہاتھ آزاد کروانے کی کوشش جاری رکھی تھی.
جب سیاہل نے ہلکا سا جھٹکا دیتے اُسے اپنے قریب کیا تھا.
” سیاہل ہم اِس وقت ڈرائنگ روم میں ہیں. بیڈ روم میں نہیں. کوئی بھی آسکتا ہے.”
سیاہل خان کو صوفے پر اپنے گرد بازو ٹکا کر خود پر جھکتا دیکھ خانی لرزتی آواز میں بولی تھی.
مگر سیاہل خان کو آج تک کسی اور کی پرواہ رہی تھی یا اب ہوتی.
” آپ آج میری تیاری خراب نہیں کریں گے. آج تو میں آپ کی مرضی سے ہی تیار ہوئی ہوں نا. “
خانی اب اتنا تو سمجھ گئی تھی کہ سیاہل کو ضد دلا کر شامت اُسی کی آتی تھی. اِس لیے اب کی بار سیاہل کو اپنے چہرے پر جھکتے دیکھ میک اپ خراب ہونے کے خیال سے منت بھرے لہجے میں بولی تھی.
” یہ کیا بات ہوئی سردارنی صاحبہ. یہ میک اپ تو میرا رقیب ہی بن کررہ گیا ہے. “
سیاہل خانی کے گال پر ہلکے سے ہونٹوں کا لمس چھوڑتے پیچھے ہٹا تھا.
جبکہ سیاہل کے یوں اتنی آسانی سے مان جانے اور اُس کا میک اپ کا خیال کرنے پر خانی کو ایکدم اُس پر بہت پیار آیا تھا.
” سیاہل.”
صوفے سے اُٹھ کر دور جاتے سیاہل خان کی چوڑی پشت کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے خانی اُسے پکار اُٹھی تھی.
سیاہل نے پلٹ کر سوالیہ نظروں سے خانی کی جانب دیکھا تھا.
جب وہ چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی سیاہل کے مقابل آن کھڑی ہوئی تھی. اور اپنی نازک ہتھیلی اُٹھا کر اُس کی دونوں آنکھوں پر رکھتے اُنہیں بند کردیا تھا. سیاہل خاموشی سے آنکھیں موندے کھڑا رہا تھا.
” سردار سائیں آپ کی خانی کو عشق ہو چکا ہے. اپنے سیاہل موسی خان سے. جن کے بغیر ایک لمحہ بھی سانس لینا اب جیسے ناممکن ہے. “
خانی ایک جذب کے عالم میں بولتی ہلکا سا اُوپر اُٹھتے عقیدت سے اپنے لب سیاہل خان کے رخسار پر رکھتی تیر کی تیزی سے دور ہٹی تھی. کیونکہ وہ جانتی تھی اب سیاہل خان کی آنکھیں کھولنے کے بعد اُس کی خیر نہیں تھی.
سیاہل نے فوراً آنکھیں کھولتے خانی کو اپنی گرفت میں لینا چاہا تھا. مگر اِس بار خانی بہت ہی پھرتی کا مظاہرہ کرتے اُس کے حرکت میں آنے سے پہلے ہی اُس کی پہنچ سے دور جاچکی تھی.
” خانی واپس آؤ. “
سیاہل اُسے دروازے کے قریب پہنچتا دیکھ چہرے پر مصنوعی سخت تاثرات سجاتے بولا.
” سیاہل موسی خان جتنا مرضی غصہ کرنا ہے کرلیں. اب اتنی جلدی میں آپ کے ہاتھ آنے والی نہیں. اور ویسے بھی سردار سائیں خانی سیاہل خان کو آپ کے غصے سے نہیں پیار سے ڈر لگتا ہے. “
خانی بنا اُس کی باتوں میں آئی اپنے عمل سے اُس کے جذبات میں چنگاری لگا کر جاچکی تھی.
” کتنا بھاگو گی. آنا تو میرے پاس ہی ہے. پھر دیکھنا کیسے بدلا لیتا ہوں تمہاری اِس حرکت کا. “
سیاہل نے خانی کو باہر نکلتے دیکھ اُونچی آواز میں وارن کیا تھا.
اُس کے الفاظ اور لہجے کی گھمبیرتا پر خانی اپنی دوہری ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالتی جلدی سے آگے بڑھ گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” فیروز پتا کرنے کی کوشش کرو. وہ لوگ سیاہل خان کے خلاف ضرور کوئی بڑا پلان بنا رہے ہیں. مجھے جلد از جلد اُس کے بارے میں اطلاع دو. میں اُن لوگوں کو اُن کے کسی گھناؤنے کھیل میں کامیاب نہیں ہونے دوں گا. “
میران کو حویلی کے اندر چھوڑے اپنے مخبری سے خبر ہی ملی تھی کہ وہ لوگ سیاہل کے خلاف کوئی بڑا منصوبہ تیار کررہے تھے. جو اگر کامیاب ہوجاتا تو اُس میں بربادی صرف سیاہل خان کی ہونی تھی. لیکن اب میران یہ کسی صورت نہیں ہونے دینا چاہتا تھا.
سیاہل خان اُس کے لیے اب خانی کی وجہ سے بہت اہمیت رکھتا تھا. اور ساتھ ہی اُسے سیاہل کا اپنے لیے بدلتا رویہ اور مشکل وقت میں پرانی باتوں پر دشمنی نکالنے کے بجائے کسی خیر خواہ کی طرح مدد کرنا مزید اُس کے لیے دل نرم کرگیا تھا. کیونکہ اُس کے مطابق سیاہل خان جیسا بڑا ظرف رکھنے والے لوگ کم کی ہوتے ہیں. جس شخص نے بار بار اُس پر قاتلانہ حملہ کروایا اُسے مارنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے دیا. سیاہل خان آج اُسی کی مدد کرنے کے لیے اپنے لیے مزید دشمنی مول لیتے خطرہ بڑھا گیا تھا.
” چائے پی لے لیں اور یہ میڈیسن لے لیں. آپ کو کچھ ریسٹ ملے گا.”
شہرین ٹرے میں چائے کا مگ اور میڈیسن لیے میران کے قریب آئی تھی. جو ہاتھ سے مسلسل اپنی پیشانی مسل رہا تھا.
شہرین کافی ٹائم سے اُس کی یہ کیفیت نوٹ کررہی تھی. وہ میران کی پریشانی اور اضطراب سمجھتی تھی. پچھلے کچھ دنوں سے اُسے اپنوں سے ایسے درد ملے تھے. جنہیں برداشت کرتا وہ اندر ہی اندر ٹوٹ چکا تھا. اور آخر میں جس کے پاس سکون کی تلاش میں گیا تھا اُس نے اُسے ہوس کا پجاری کہتے خود سے دور دھتکارتے رہی سہی کسر پوری کردی تھی.
میران اِس وقت خود کو جتنا تنہا محسوس کررہا تھا. شاید ہی کبھی اُس نے کیا ہو.
میران کو اتنا مضطرب اور پریشان دیکھ شہرین کا اپنا دل خون ہوا تھا. وہ میران بلوچ سے بے انتہا محبت کرتی تھی. اُس کے وجود اُس کی سانسوں پر صرف میران بلوچ کا حق تھا. اب اُسے خود سے ہی پیشِ قدمی کرکے اپنی بے وقوفی اور نادانی پر پردہ ڈالتے میران بلوچ کے سامنے اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہتی تھی.
کیونکہ میران بلوچ تو اُس دن شدید غصے کے باوجود اُسے اپنی محبت کا مان بخش گیا تھا.
اُس نے جو خود سے وعدہ کیا تھا چاہے کچھ بھی ہوجائے کبھی اپنی محبت کا اظہار نہیں کرے گی. اور نہ ہی میران بلوچ کو پتا لگنے دے گی.
مگر اب اُسے ناراض اور بے چین دیکھ وہ اپنی بات پر قائم نہیں رہ پائی تھی.
” سائیں چائے…….. “
میران صوفے کی بیک سے سرٹکائے آنکھیں موندے بیٹھا تھا. اُس کو زرا سا بھی نہ ہلتا دیکھ شہرین نے ایک بار پھر پُکارا تھا.
جس پر میران نے اپنی لال انگارہ ہوتی آنکھیں کھول کر سامنے کھڑی شہرین کو گھورا تھا.
” کچھ نہیں چاہئے مجھے. تم جاسکتی ہو یہاں سے. “
میران نے واپس آنکھیں موندتے اب کی بار اُن پر بازو رکھ لیا تھا.
” سائیں آپ کے سر میں درد میں دبا…”
” مجھے اِس وقت کوئی بات نہیں کرنی….. “
ابھی بات شیریں کے منہ میں ہی تھی. جب میران پاس رکھا تکیہ اُٹھا کر خود سے دور اچھالتا باہر کی جانب بڑھ گیا تھا.
” کیسے سوری کروں اِن سے یہ تو بہت غصے میں ہیں. “
شہرین میران کے تیور دیکھ مزید ڈر گئی تھی. ابھی وہ کھڑی یہی سوچ رہی تھی. جب نیچے سے آتی گاڑی کی آواز پر شہرین کا چہرا بجھ سا گیا تھا. مطلب میران اُسے یہاں اکیلا چھوڑ کر باہر جاچکا ہے.
” غلطی ہوئی ہے. اُس پر شرمندہ ہوں معافی مانگنا چاہتی ہوں. ایک بار بات تو سن لینی چاہئے نا. “
شہرین آنکھوں میں نمی بھرے خاموشی سے کمرے میں آگئی تھی. غصے سے اپنی شال اُتار کر صوفے پر اُچھالتی وہ روم میں اِدھر سے اُدھر ٹہلنے لگی تھی.
نیوی بلو سوٹ میں ملبوس تھوڑی دیر پہلے شاور لینے کی وجہ سے ہلکے گیلے بال کمر پر بکھرے لاپرواہ سے حلیے میں بھی وہ کسی کا بھی ایمان ڈگمگانے کی طاقت رکھتی تھی. میران جو پہلے کی اُس کی اداؤں کا شکار تھا. اُس کا تو بچنا ناممکن ہی تھا.
شہرین ابھی اُسی ٹینشن اور پریشانی میں تھی. جب میران دروازہ کھولتا سیدھا اندر داخل ہوا تھا. اُسے شاید اندر کے ماحول کا اندازہ تھا. اِس لیے وہ بنا شہرین پر ایک نظر ڈالے اُسی طرح کال پر مصروف صوفے پر آبیٹھا تھا. اور اپنے نیچے آتی شہرین کی شال کو. بنا دیکھے وہ سامنے ٹیبل پر پڑا لیپ ٹاپ آن کر چکا تھا.
شہرین اِس طرح اچانک اُسے دیکھ حیران ہوئی تھی.اُسے تو لگا تھا وہ یہاں سے جاچکا ہے. لیکن ابھی سب سے پہلے اُسے اپنی شال کی فکر ہوئی تھی. جو میران کے نیچے دبی ہوئی تھی.
مگر میران بلوچ کو چھیڑنے کے بجائے اُس نے خاموشی سے جاکر اپنے بیگ سے سوٹ کا ہم رنگ دوپٹہ نکال لیا تھا. کیونکہ اِس وقت اُس کے پاس وہ ایک ہی شال تھی.
میران کی سُرخ آنکھیں اور مضطرب انداز شہرین کو اپنی جگہ بے چین کیے جارہا تھا. وہ خود ہی تھی جو اپنے محبوب انسان کو اِس وقت آرام دے سکتی تھی. اِس لیے ساری شرم و ججھک ایک سائیڈ پر کرتے شہرین لیپ ٹاپ بند کرتے میران کے قریب آئی تھی.
” آپ ایک بار میری بات تو سن لیں پلیز. مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے آپ سے. “
شہرین صوفے سے اُٹھ کر بیڈ کی جانب بڑھتے میران کی راہ میں حائل ہوئی تھی.
” اب کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ. اب تو تمہیں کوئی تکلیف اور اذیت نہیں پہنچ رہی ہوگی. کیونکہ اب نہ میں تمہارے قریب آرہا ہوں. اور نہ ہی تمہاری جانب دیکھ رہا ہوں. تو پھر اب کیوں بار بار میرے سامنے آرہی ہو. پھر کوئی الزام لگانا ہے کیا. “
میران پہلے ہی غصے میں تھا. اب شہرین کے چھیڑنے پر وہ پھٹ پڑا تھا. وہ اِس وقت خود بہت اذیت میں تھا. بہت ساری باتیں اکھٹی ہوکر اُس کے سر پر سوار ہوچکی تھیں. وہ نہیں چاہتا تھا اِس وقت شہرین کے ساتھ وہ زرا سی بھی سختی سے پیش آئے. اِس لیے نرمی سے اُس کا بازو پکڑ کر اپنے آگے سے ہٹاتے وہ بیڈ کی جانب بڑھتے وہاں نیم دراز ہوا تھا.
جبکہ شہرین منہ پھلائے کتنی ہی دیر اپنی جگہ پر کھڑی رہی تھی. وہ اِس وقت دل سے میران بلوچ کی تکلیف اور ذہنی اذیت کم کرنا چاہتی تھی. مگر یہ بندہ کچھ زیادہ ہی اکڑ رہا تھا.
مگر وہ بھی شہرین تھی ہمت ہارنا تو اُس نے بھی سیکھا ہی نہیں تھا.
” آپ ایسے نہیں سو سکتے مجھے آپ سے بات کرنی………. “
شہرین نے گے بڑھتے میران کے اُوپر سے کمبل کھینچنا چاہا تھا. جس پر میران نے کب سے ضبط آزماتی اپنی بیوی کے ہوش ٹھکانے لگانے کے لیے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جانب کھینچتے خود پر گرا لیا تھا.
” سائیں یہ آپ……. “
شہرین کی سانسیں تو اُس وقت اٹکیں جب میران نے کروٹ بدلتے اُسے بیڈ پر لٹا کر خود اُس کے اُوپر جھکا جیسے اب فرصت سے اُس کی باتیں سننے کے موڈ میں تھا. لیکن اب اِس جارحانہ عمل سے شہرین کی بولتی بند ہوچکی تھی.
” بولو کیا کہا چاہتی تھی تم… “
میران جو بنا کوئی گستاخی کیے نہایت ہی شرافت سے شہرین کے گرد بازو ٹکائے مکمل طور پر اُس کے اُوپر جھکا ہوا تھا. لیکن شہرین کے وجود سے اُٹھتی بھینی بھینی مہک اُس کی سانسیں میں اترتی اپنی جانب متوجہ کررہی تھی. جس پر میران بلوچ کسی پل بھی بہک سکتا تھا. اِس لیے اپنے بہکتے جذبات کے بے قابو ہونے سے پہلے ہی وہ شہرین کے اُوپر سے ہٹا تھا. وہ. زبردستی کا قائل بلکل بھی نہیں تھا. اگر شہرین کو اُس کا قریب آنا پسند نہیں تھا تو وہ ایسا کوئی عمل نہیں کرنا چاہتا تھا.
” سائیں… “
شہرین جس کا پورا وجود لرز رہا تھا. وہ میران کو اتنے قریب آکر اب دور جانے نہیں دینا چاہتی تھی. اِس لیے میران کو ہٹتے دیکھ اُس نے اُسے کالر سے پکڑ کر روک لیا تھا. اُس کے اِس بے ساختہ عمل پر میران اپنی جگہ ساکت ہوا تھا.
” سائیں آپ کا قریب آنا کبھی بھی میرے لیے اذیت کا باعث نہیں رہا. اُس دن جو بھی میں نے کہا تھا وہ بس گھبراہٹ میں اُس لمحے وقتی طور پر کہے گئے الفاظ تھے. جن کا کوئی معنی نہیں تھا. سائیں آپ میرے وجود کے پور پور میں سما چکے ہیں. میں صرف آپ کی ہوں. مجھ سے زیادہ مجھ پر حق صرف آپ کا ہے. “
شہرین میران کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بول رہی تھی. اپنی بات کے جواب میں میران کی آنکھوں میں اُترتا سکون شہرین کو رگ وپے میں بھی خوشی کی لہر دوڑا گیا تھا. مطلب اُس کی کوشش ضائع نہیں گئی تھی. وہ اپنی محنت میں کامیاب رہی تھی. اُس کے لب بات کرتے نجانے کتنی بار کپکپائے تھے. جو میران بلوچ کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہ پائے تھے.
” مجھے لفظوں سے زیادہ عمل پر یقین ہے. تم نے لفظوں سے تو ثابت کردی اب عمل سے بھی اپنی محبت ثابت کرنی ہوگی. “
میران کی آنکھوں کی رونق ایکدم لوٹ آئی تھی. شہرین کا اقرار اُس کے دل و دماغ سے ایک بھاری بوجھ سرکا گیا تھا. اِس وقت شاید اِسی چیز کی اُسے سخت ضرورت تھی.
جبکہ اس کی آنکھوں کے بدلتے رنگ شہرین کے دل کی دنیا اتھل پتھل کر گئے تھے. مگر اِس وقت وہ پیچھے ہٹ کر ایک بار پھر پہلے والی غلطی نہیں دوہرانا چاہتی تھی.
اِس لیے پاگل ہوتی دھڑکنوں پر قابو پاتے اُس نے زرا سا سر اُوپر اُٹھاتے میران کی پیشانی چوم لی تھی.
جاری ہے
