Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

یہ سب کیا تھا. عینا اُس کی اکلوتی بیسٹ فرینڈ تھی. اگر وہ سیاہل خان کو پہلے سے جانتی ہوتی تو اُسے ضرور بتاتی. وہ اُس کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ نہیں کر سکتی تھی. عینا کو خانی کچھ ٹائم پہلے اپنے اور سیاہل کے بارے میں سب بتا چکی تھی. پھر سب جانتے بوجھتے یہ سب کیا تھا.
اور سیاہل….
خانی کی سوچوں کو جیسے بریک لگی تھی.
” میں بھی کتنی پاگل ہوں. میں بھلا سیاہل کے بارے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہوں. میران بھائی مجھے سیاہل سے دور کرنا چاہتے ہیں. اِسی وجہ سے کیا اُنہوں نے یہ سب. “
خانی نے اپنے دماغ کو ریلکیس کرکے ہر سوچ کو جھٹکتے سیاہل کا نمبر ملایا تھا. لیکن دو تین بار ٹرائے کرنے کے باوجود اُسے کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا.
بہت نفی کرنے کے باوجود خانی کے دل میں خدشات نے سر اٹھایا تھا.
” نہیں سیاہل مجھ سے اتنا بڑا دھوکہ نہیں کرسکتے نہیں ایسا کچھ نہیں ہوگا. میں شہرام سے پوچھتی ہوں وہ مجھے سیاہل کے خلاف کچھ غلط نہیں بتائے گا. “
خانی نے بے اختیار گال پر لڑھک آنے والے آنسو صاف کرتے شہرام کا نمبر ملایا تھا.
جس نے دوسری بیل پر ہی کال اٹینڈ کر لی تھی.
” شہرام مجھے ایک بہت ضروری بات پوچھنی ہے تم سے پلیز سچ سچ بتانا. “
خانی نے شہرام کی آواز سنتے ہی بنا سلام دعا کے اپنی بات کہی تھی.
” خانی کیا ہوا سب ٹھیک ہے نا. تم اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو. بولو کیا پوچھنا ہے. “
دوسری جانب شہرام خانی کی بھیگی آواز پر فکرمند ہوا تھا.
” تمہیں نگار کی قسم جھوٹ مت بولنا اور سیاہل کو بالکل نہیں بتاؤ گے میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے. کیا تم نے کل سیاہل کو کسی لڑکی کے ساتھ دیکھا تھا. جب تم میران بھائی کے ساتھ تھے. مجھے ہاں یا نہیں میں سیدھا اور صاف جواب چاہئے.”
خانی کی بات پر شہرام ٹھٹھکا تھا. اُسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا.
” ہاں دیکھا تو تھا خانی مگر…. “
شہرام نے تصدیق کرتے ساتھ کچھ بولنا چاہا تھا. مگر بنا اُس کی سنے خانی فون بند کر گئی تھی.
خانی کے آنسو اُس کا چہرا بھگونے لگے تھے. وہ اِس سب پر یقین نہیں کرنا چاہتی تھی. مگر حالات اور ثبوت اِسی رُخ پر جاتے خانی کا سکون غارت کرگئے تھے.
خانی ہاتھوں میں سر گرائے بیڈ پر ڈھے سی گئی تھی. جب اچانک اُس کا موبائل بج پڑا تھا.
سیاہل کا نمبر دیکھ خانی نے فوراً کال ریسیو کی تھی.
” لگتا ہے مجھے بہت زیادہ مِس کیا جارہا تھا. “
سیاہل خانی کی اتنی ساری مسڈ کال دیکھ کر مسکراتے لہجے میں بولا تھا.
” جی نہیں ایسی کوئی بات نہیں. آپ کہاں ہیں اِس وقت. “
خانی نے اپنے لہجے کو حد درجہ نارمل رکھنا چاہا تھا.
” کیا ہوا سب ٹھیک ہے وہاں. میں نے آپ کو بتایا تو تھا کہ میں کراچی میں ہوں. “
سیاہل کو خانی کا انداز کچھ عجیب سا لگا تھا.
” کس کے…… “
ابھی خانی مزید کچھ پوچھنے ہی لگی تھی. جب اُسے سیاہل کے پیچھے سے عینا کی آواز سنائی دی تھی. جو شاید سیاہل سے ہی مخاطب تھی. خانی کے آنسوؤں میں تیزی آگئی تھی. وہ بھلا اپنی بیسٹ فرینڈ کی آواز کیسے نہ پہچانتی.
” خانی کیا ہوا تم خاموش کیوں ہوگئی. کوئی پرابلم ہے کیا. “
سیاہل کو کسی گڑبڑ کا احساس ہوا تھا.
” نہیں کچھ نہیں. بس ویسے ہی کال کی تھی.
مجھے شاید بی بی سائیں بلا رہی ہیں.اوکے خدا حافظ.”
اِس سے پہلے کے خانی اپنا کنٹرول کھوتی اُس نے فون بند کردیا تھا.
موبائل دور اچھالتی وہ دونوں ہاتھوں میں سر دیے پھوٹ پھوٹ کر دو دی تھی. وہ سیاہل خان پر شک نہیں کرنا چاہتی تھی. مگر ابھی اُس کے قریب سے آتی عینا کی آواز یہی شو کر رہی تھی کہ سیاہل اُسی کے ساتھ ہے.
اِس کا مطلب تھا وہ تصویریں بالکل سچ تھیں. خانی کو لگ رہا تھا کہ شاید وہ اِس دنیا کی سب سے بڑی بے وقوف ہے. جسے پہلے سیاہل خان عینا کے ہاتھوں بے وقوف بنوا کر یہاں لایا تھا. اور اب کیسے اُسے ڈبل بے وقوف بنایا جارہا تھا.
” تو کیا وہ محبت, عزت و مقام دینا سب جھوٹ تھا. یا میں ابھی بھی غلط ہوں. کہیں میں سیاہل پر شک کرکے غلط تو نہیں کررہی.
سیاہل کی جنون کو چھوتی محبت بھلا جھوٹ کیسے ہوسکتی ہے. نہیں میں غلط سوچ رہی ہوں. سیاہل مجھ سے سچی محبت کرتے ہیں. وہ میرے ساتھ ایسا کبھی نہیں کر سکتے. “
خانی نے اپنے آنسو پہنچتے ہر غلط بات کی نفی کی تھی.
” مگر پھر یہ سب ہے کیا. یہ تصویریں, سیاہل کا عینا کے پاس ہونا. اگر یہ سب ویسا نہیں ہے جیسا میں سوچ رہی ہوں. تو سیاہل نے مجھے کچھ بتایا کیوں نہیں اِس بارے میں. کیوں چھپایا کہ وہ عینا کو جانتے ہیں. اور اتنے ٹائم سے اُس سے مل رہے ہیں. لیکن یہ تصویریں بھی تو کسی عام ریلیشن کی جانب اشارہ نہیں کررہی نا. ﷲ جی پلیز ایسا کچھ نہ ہو جیسا میں سوچ رہی ہوں. ورنہ میں برداشت نہیں کر پاؤں گی. “
خانی سوچ سوچ کر پاگل ہوچکی تھی. اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے. وہ اِس بارے میں سیاہل سے یوں فون پر بات نہیں کرنا چاہتی تھی. اُسے اب صرف سیاہل کے آنے کا انتظار تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” تم لوگوں کو آخر کس بات کے اتنے پیسے دے رہا ہوں میں. ابھی تک تم لوگ یہ بھی پتا نہیں لگا پائے کہ سیاہل خان کا عینا سے کیا رشتہ ہے. اگر دو دنوں کے اندر ساری سچائی تم لوگوں نے میرے سامنے نہ لائی تو میری جانب سے فارغ ہو تم لوگ. “
میران اپنی طرف سے شک کی بنیاد پر عینا اور سیاہل کی تصویریں تو بنوا کر خانی کو بھیج چکا تھا. لیکن ابھی تک اُسے اُن دونوں کے اصل رشتے کی خبر نہیں ہوپائی تھی. جس پر وہ اپنے آدمیوں پر کافی بھڑک رہا تھا. جنہیں اُس نے سیاہل خان کے پیچھے لگا رکھا تھا.
میران اُنہیں سختی سے ہدایت دے کر موبائل آف کرتے واش کی جانب بڑھا تھا. جب عجلت میں بنا دھیان دیے وہ واش روم سے نکلتی شہرین سے بُری طرح ٹکرا گیا تھا.
اِس سے پہلے کے شہرین اِس اچانک ہونے والے زور دار تصادم پر لڑکھڑا کر زمین بوس ہوتی میران نے ہاتھ بڑھا کر اُس کے نرم و نازک گیلے وجود کو تھام لیا تھا. شہرین روم میں میران کی غیر موجودگی کی وجہ سے بنا کوئی دوپٹہ شال لیے صرف کپڑے اور ٹاول لے کر ہی اندر گئی تھی.
لیکن اِس وقت اُس کے گیلے بالوں میں لپٹا اکلوتا ٹاول بھی شدید ٹکراؤ کی وجہ سے بالوں سے نکل کر نیچے گر چکا تھا. اور شہرین کے گیلے نرم و ملائم بال اُس کے نازک وجود پر بکھرتے میران پر مزید بجلیاں گرا گئے تھے. جو پہلے ہی اُس کے اِس سادگی لیے حُسن کے سحر میں اچھا خاصہ جکڑا کھڑا تھا.
شہرین کے وجود سے اُٹھتی دلفریب خوشبو میران پر خمار سا طاری کررہی تھی. وہ کتنی ہی دیر اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پایا تھا. آخر یہ کون سی کشش تھی جو اُسے اِس لڑکی کی جانب کھینچ رہی تھی.
میران کے بے خود انداز اور گرم نظروں کی تپیش سے گھبراتے شہرین نے اُس کے حصار سے کسمسا کر نکلنا چاہا تھا.
” سائیں چھوڑیں مجھے….. “
شہرین کی کپکپاتی آواز میران کے کانوں سے ٹکراتی اُسے ہوش کی دنیا میں لائی تھی.
ایک کمزور لمحے کے زیرِ اثر آنے پر وہ اپنی بے اختیاری پر خود کو جی بھر کر کوستے فوراً شہرین کو آزاد کرتا پیچھے ہٹا تھا.
وہ ایک مضبوط اعصاب کا مالک انسان تھا. اس نے اپنے آس پاس شہرین سے کہیں زیادہ حسین لڑکیوں کو دیکھا تھا. مگر ایسی حالت اُس کی پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی. پتا نہیں اِس لڑکی کے قریب آتے اُس پر یہ خمار کیوں طاری ہوجاتا تھا.
” تم سے میں نے کیا کہا تھا اُس دن. میرے سامنے کیسے آنا ہے تمہیں. “
میران اپنی خفت مٹانے کے لیے پاس سے نکلتی شہرین کا واپس بازو دبوچتے غرایا تھا.
شہرین جس کی دھڑکنیں ابھی تک نارمل نہیں ہوئی تھیں. میران بلوچ کے اگلے حملے پر وہ سہم سی گئی تھی.
دوپٹہ پاس نہ ہونے کی وجہ سے میران کے سامنے جو تھوڑا بہت کانفیڈنس ہوتا تھا. وہ بھی اِس وقت غائب ہوچکا تھا.
وہ بچاری تو یہ سوچ کر کمرے میں بے فکر گھوم رہی تھی. کہ میران کراچی میں ہے. اُسے اِس ستم کا کہاں علم تھا.
” وہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ واپس آچکے ہیں.”
شہرین چہرا جھکائے ہولے سے منمنائی تھی.
اُس کے اتنے معصوم اور سادہ سے انداز پر ناچاہتے ہوئے بھی میران کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی. جسے چھپانے کے لیے وہ چہرا موڑ گیا تھا.
” کل ہمیں کراچی جانا ہے. جو بھی اپنی پیکنگ کرنی ہے کرلو. “
میران چہرے پر سنجیدگی لاتے کہتا واش روم کی جانب بڑھ گیا تھا.
شہرین خاموش نظروں سے واش روم کے بند دروازے کو دیکھ رہی تھی. یہ عجیب و غریب مزاج کا مالک شخص اُس کی سمجھ سے باہر تھا. کبھی اتنا نرم مزاج اور مہربان اور کبھی شدید غصے میں ایسے ہوتا تھا. جیسے ابھی اُسے کچا چھبا جائے گا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” سردارنی سائیں وہ سردار سائیں حویلی آچکے ہیں. اُن کے ساتھ کوئی لڑکی بھی ہے. وہ اُسے بی بی سائیں سے ملوا کر اب گیسٹ روم میں لے کر گئے ہیں. “
خانی جو صبح سے ایک جان لیوا اذیت کے زیرِ اثر تھی. ملازمہ کی بات پر اُس کی اذیت مزید بھری تھی.
ملازمہ خانی کے حکم کے مطابق اپنا کام سر انجام دیتی کمرے سے نکل گئی تھی.
خانی بوجھل اور بے چین دل کے ساتھ کمرے سے نکل آئی تھی. اُس کا رُخ گیسٹ روم کی جانب تھا. سیاہل خان پورے تین دن بعد لوٹا تھا. اور بجائے اُس کے پاس آنے اُسے ملنے کے وہ اتنی دیر سے گیسٹ روم میں تھا. اور اُس لڑکی کو حویلی میں اپنے ساتھ بھی لے آیا تھا.
خانی کے دل کا درد بڑھا تھا. لمحہ بہ لمحہ اُس کی دھڑکنیں زور پکڑتی جارہی تھیں.
گیسٹ روم کے سامنے پہنچتے خانی نے نظریں اُٹھائی تھیں. مگر آدھ کھلے دروازے سے نظر آتا سامنے کا منظر خانی کے دل کے لاکھوں ٹکرے کر گیا تھا.
عینا سیاہل کے سینے سے لگی کھڑی تھی. اور سیاہل اُس کا سر سہلاتا اُسے اپنے ساتھ لگائے ہوئے تھا. خانی کی آنکھوں کے پردے آنسوؤں کی وجہ سے دھندلا گئے تھے. وہ ساکت سی اپنی جگہ کھڑی رہی تھی.
جب اچانک سیاہل کی غیر ارادی نظر دروازے کی جانب اُٹھی تھی. وہاں کھڑی خانی کو دیکھ سیاہل کو جھٹکا لگا تھا. جس کی وجہ خانی کا وہاں کھڑا ہونا نہیں. اُس کی سُرخ سوجی آنکھوں میں ہلکورے لیتی بے یقینی اور شک کی جھلک تھی. جس بے اعتباری سے نفی میں سر ہلاتے وہ اِس وقت بھی سیاہل کو دیکھ رہی تھی.
” خانی…… “
سیاہل نے عینا کو پیچھے کیا تھا. جب عینا بھی خانی کی جانب متوجہ ہوئی تھی. سیاہل خانی کی جانب بڑھا تھا. کیونکہ اُسے اپنی چھٹی حس کچھ غلط ہونے کا الارم دے رہی تھی.
” وہی رک جاؤ سردار سیاہل موسٰی خان. قریب مت آنا میرے. بہت بے وقوف بنا لیا مجھے تم نے. بہت مذاق بنا لیا میرے جذبات میری محبت کا. مگر اب اور نہیں. مان گئی تمھیں میں بہت بڑے اور شاندار کھلاڑی ہو. بہت اچھے سے استعمال کرنا آتا ہے لوگوں کا تمھیں. اگر اپنی دشمنی ہی نکالنی تھی. تو محبت جیسا درد دے کر مارنے کی کیا ضرورت تھی. تم کچھ اور بھی تو کرسکتے تھے نا.”
خانی بُری طرح آنسو بہاتی سیاہل خان کو اُنگلی اُٹھا کر وارن کرتی وہاں سے ہٹ گئی تھی.
سیاہل خانی کی اتنی کڑواہٹ پر کتنی دیر اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پایا تھا.
عینا اپنی جگہ الگ شاک سی کھڑی رہ گئی تھی.
” مجھے لگ رہا ہے. خانی کو آپ کے دشمن بہت بُری طرح سے مِس گائیڈ کر چکے ہیں. “
عینا سیاہل کا دھواں دھواں ہوتا چہرا دیکھ دکھ اور شرمندگی کے زیرِ اثر بولی تھی. یہ جو کچھ بھی ہوا تھا. اُسی کی وجہ سے ہی تو ہوا تھا. اُسے خانی کی پوزیسو اور جذباتی نیچر کا اچھے سے اندازہ تھا. وہ اِس وقت اُس کی کنڈیشن سمجھ پارہی تھی.
” تو کیا میری محبت اتنی کمزور تھی اُس کی نظر میں کہ وہ اتنی جلدی کسی کی بھی باتوں میں آگئی. “
سیاہل کا چہرا غصے اور ضبط سے لال ہوچکا تھا.
وہ لب بھینچتے کمرے سے نکل گیا تھا.
جبکہ عینا پہلے خانی اور اب سیاہل کو اتنے غصے میں دیکھ فکرمندی سے سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی. اب پتا نہیں اِن دونوں کا غصہ کیا تباہی لانے والا تھا. یہ دونوں لوگ ہی اُس کے دل کے بہت قریب تھے. اپنی وجہ سے اُن دونوں کا رشتہ خراب ہوتا دیکھ عینا کو بہت تکلیف ہورہی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

سیاہل خان طیش کے عالم میں روم میں داخل ہوتے بیڈ پر اوندھے منہ گری سسکی خانی کی جانب بڑھا تھا. اور جارحانہ انداز میں اُسے بازو سے کھینچ کر اپنے سامنے کھڑا کیا تھا.
” کیا بکواس کرکے آئی ہو تم ابھی وہاں. “
سیاہل پتھریلے تاثرات کے ساتھ شعلہ بار نظروں سے خانی کو گھورتے بولا.
” وہی جو سچ ہے سیاہل خان. جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا ہے. تم اب مزید مجھے دھوکہ دے کر بے وقوف نہیں بنا سکتے. “
خانی سیاہل خان سے بھی ڈبل غصے سے چلائی تھی. اُس کا دل بُری طرح ٹوٹا تھا. وہ کسی زخمی شیرنی کی طرح سیاہل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے تھی.
” تو تمہارے کہنے کا مطلب ہے. میری محبت, میرا تمہارے لیے وہ جنون اور عشق کی حدوں کو چھوتا پیار وہ سب جھوٹ تھا ناٹک تھا. سیاہل خان خانی کو صرف بدلے کے لیے استعمال کررہا تھا. “
سیاہل نے بھی اذیت کی انتہا پر پہنچتے سوالیہ نظروں سے خانی کی جانب دیکھا تھا.
” ہاں اور یہی سچ ہے. تمہیں کیا لگتا ہے. یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد بھی میں تمہاری جھوٹی محبت پر یقین کروں.”
کسی اور کو سیاہل کی بانہوں میں دیکھ خانی پاگل ہوچکی تھی. سیاہل خان پر صرف اُس کا حق تھا. کوئی اور لڑکی کیسے سیاہل کے اتنے قریب آسکتی تھی. اور سیاہل کیسے کسی کو بھی اپنے اتنے قریب کر سکتا تھا. بار بار وہ منظر آنکھوں کے سامنے آتے خانی کو پاگل کررہا تھا. غصے کی زیادتی سے اُس کا دماغ پھٹنے لگا تھا.
اُس نے جو سوچ رکھا تھا کہ کچھ بھی کہنے سے پہلے وہ سیاہل کی ساری بات سنے گی. اُس سے اصل حقیقت جانے گی. کیا پتا اُس کے خاندان والے اُسے سیاہل سے دور کرنے کے لیے کوئی چال چل رہے ہوں.
مگر پہلے سیاہل کے فون سے عینا کی آواز سن کر اور اب اُسے سیاہل کے اتنے قریب دیکھنا خانی کی سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیتں چھین گیا تھا.
سیاہل نے غصے کی انتہا پر پہنچتے خانی کو کھینچ کر اپنے قریب کیا تھا.
” خانی اتنی بڑی بڑی باتیں مت بولو. جن پر بعد میں تمہارے پاس پچھتانے کے علاوہ کچھ نہ بچے.”
دونوں کے چہرے ایک دوسرے کے بہت قریب تھے. سیاہل کی گرم سانسیں خانی کا چہرا جھلسا رہی تھیں. مگر اِس وقت خانی بھی بنا اُس سے دور ہونے کی کوشش کیے. غصے اور اشتعال انگیز نظروں سے سیاہل کو گھور رہی تھی.
سیاہل کی بات پر خانی نے زخمی نظروں سے اُسے دیکھتے اُس کا کالر اپنی مُٹھی میں دبوچتے سیاہل کو چہرا اپنے مزید قریب کرتے اُس کی سحر انگیز آنکھوں میں جھانکا تھا. جو اِس وقت خانی کو سب سے بڑی فریبی لگی تھیں. اتنے ٹائم سے وہ اِنہی سے ہی تو دھوکہ کھاتی آئی تھی.
” تو اگر یہ سب جھوٹ ہے تو بولوں کیا ہے سچ. کیسے اور کب سے جانتے ہو عینا کو. کیا رشتہ ہے تمہارا اُس سے. جو بھی ہے تم لوگوں کے درمیان مجھے کیوں نہیں بتایا. مجھ سے کیوں چھپایا یہ سب. کیا عینا کی دوستی بھی دھوکہ تھی. وہ بھی کیا تمہارے کہنے پر میرے پاس آئی تھی. کیا وہ بھی تمہاری پلاننگ کا کوئی حصہ تھا. “
خانی جس قدر تکلیف میں تھی. اُس کے الفاظ اُس سے کہیں زیادہ تکلیف سیاہل خان کو پہنچا گئے تھے.
سیاہل نے خانی کے بالوں کی گدی پر ہاتھ رکھتے اُس کا چہرا اپنے قریب تر کر لیا تھا. اتنا کہ سیاہل کے بولنے پر اُس کے لب خانی کے چہرے سے ٹچ ہونے تھے.
” بہت غلط کررہی ہو خانی تم. سیاہل خان پر شک کرکے. تمھیں میرے بارے میں جو لگ رہا ہے ٹھیک ہے سمجھو وہی. اگر تم یوں بنا شک کیے مجھ سے آرام سے پوچھتی تو میں سب کچھ بتا دیتا تمہیں. جو کہ آج میں تمہیں بتانے بھی والا تھا بھی. لیکن یہ سب کرکے تم نے اپنے اور میرے دونوں کے ساتھ بہت غلط کیا ہے.
میں سیاہل خان جس نے کبھی اپنے کیے پر کسی کو جسٹیفیکیشن نہیں دی. صرف تمہیں وہ حق دیا تھا. سیاہل خان خانی کو ہر سوال ہر وضاحت مانگنے کا حق دے چکا تھا. مگر اِس خانی کو نہیں اپنی پہلے والی خانی کو جسے مجھ پر بھروسہ تھا. تمہیں جو میرے بارے میں سوچنا ہے سوچو. اب میں تمہیں کسی قسم کی کوئی وضاحت نہیں دوں گا. جن کی بات پر یقین کرکے تم نے مجھ پر شک کیا ہے نا. اب اِس بات کے سچ یا جھوٹ ہونے کی تصدیق بھی اُنہی سے مانگنا. “
اپنی بات کہہ کر سیاہل خانی کو جھٹکے سے خود سے جدا کرتا روم سے باہر نکلتا چلا گیا تھا. خانی توازن برقرار نہ رکھ پاتے پیچھے موجود بیڈ پر جا گری تھی.
اُس کے جذبات اور احساسات بلکل منجمند ہوچکے تھے. اُسے لگ رہا تھا اِس قدر اذیت پر اُس کا دل پھٹ جائے گا.
سیاہل کو شدید بپھرے ہوئے انداز میں باہر نکلتا دیکھ عینا جلدی سے اُس کے سامنے آئی تھی.
” عینا میں اِس وقت کوئی بات نہیں کرنا چاہتا.”
سیاہل نے ہاتھ اُٹھا کر عینا کو روک دیا تھا.
” مگر بھائی آپ نے خانی کو کلیئر کیوں نہیں کیا کہ جیسا وہ سمجھ رہی ہے ویسا کچھ نہیں ہے. ہم نے اُسے دھوکہ نہیں دیا بے وقوف نہیں بنایا. اُسے مِس گائیڈ کیا جارہا ہے. “
عینا سے اپنے دو سب سے عزیز لوگوں کا اپنی وجہ سے اذیت میں ہونا کسی صورت برداشت نہیں ہورہا تھا.
” اُسے جتنا غلط سوچنا ہے. مجھ پر جتنا شک کرنا ہے کرنے دو. نہ تم اور نہ گھر والوں میں سے کوئی اور اُس کے آگے ہمارا رشتہ کلیئر کرے گا. میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں. خانی کس حد تک دوسروں کی باتیں سن کر مجھ سے نفرت کرسکتی ہے اور میرے خلاف جاسکتی ہے. “
سیاہل سُرخ ہوتی آنکھوں سے عینا کو اپنا فیصلہ سناتا وہاں سے نکل گیا تھا. جبکہ عینا بے بسی سے وہی کھڑی کی کھڑی رہ گئی تھی.
اُس کا دل چاہا تھا خود کو ہی ختم کرلے جو سیاہل اور خانی کے درمیان دوریاں لانے کی اصل وجہ تھی.