Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

¤¤¤¤¤¤¤¤¤

خانی کے حلیے کے پیشِ نظر سیاہل اُسے سیدھا خان حویلی لے جانے سے پہلے حویلی سے ایک گھنٹے کی دوری پر واقعہ اپنے ایک کاٹیج میں لے آیا تھا. اُسے کبھی بھی دوسروں کی باتوں کی پرواہ نہیں رہی تھی. مگر وہ خانی پر کسی قسم کی اُنگلی اُٹھتی برداشت نہیں کرسکتا تھا. اور نہ ہی کسی کو پتا لگنے دینا چاہتا تھا کہ خانی کسی بھی طرح اِس معاملے میں انوالو ہے. یا سیاہل کو جھوٹ بول کر وہاں بلوایا ہے.
وہ کسی قیمت پر بھی اپنی بیوی کی عزت میں کمی آتے نہیں دیکھ سکتا تھا.
سیاہل نے گاڑی سے اُتر کر خانی کی سائیڈ پر آتے اُس کا دروازہ کھولا تھا. جو پورے سفر میں خود کو رو رو کر ہلکان کرتی سیاہل کا ضبط آزماتی آئی تھی.
سیاہل نے ہاتھ بڑھا کر خانی کو نیچے اُتارا تھا.
خانی حویلی سے تو پہلے سے کیے دوپٹے کے اُوپر شال لے کر نکلی تھی. مگر وہ شال کہیں گر چکی تھی. اب اُس کے گلے میں ایک دوپٹہ جھول رہا تھا. جس کا اپنے دکھ میں خانی کو کوئی ہوش نہیں تھا. انا بی کو سنبھالتے اُس کے کپڑے خون آلود ہوچکے تھے. ہمیشہ کی طرح باندھے جوڑے میں سے بال نکل کر اُس کے چہرے کے گرد بکھرے ہوئے تھے. گال پر اُنگلیوں کے ہلکے ہلکے نشان ابھی بھی واضح تھے. اور ہونٹ کے کنارے پر ننھا سا خون کا قطرہ جما ہوا تھا.
ایک نظر بغور اُس کے حلیے پر ڈالتے لب بھینچتے سیاہل نے اپنی بلیک گرم چادر خانی کے گرد اچھے سے اوڑھا دی تھی. اُسے کسی صورت گوارہ نہیں تھا اندر موجود کسی بھی ملازم کی نظر اِس حلیے میں اُس کی بیوی پر پڑے. اِس بار قدرے نرمی سے اُس کا ہاتھ تھام کر اندر کی جانب بڑھ گیا تھا.
خانی بلکل خاموشی کے ساتھ اُس کے ساتھ چلی جارہی تھی. اُس نے ایک بار بھی نظر اُٹھا کر اردگرد کے منظر کی جانب نہیں دیکھا تھا. اُس کی جھکی نظریں فرش پر ٹکی ہوئی تھیں. جب سیاہل اُسے لیے ایک کمرے میں داخل ہوا تھا. کمرے کے درمیان میں رکتے سیاہل نے ضبط کی انتہاؤں پر پہنچتے پلٹ کر خانی کی جانب دیکھا تھا. جس کی آنکھوں کا سیلاب ابھی تک نہیں تھما تھا. رو رو کر آنکھیں اور چہرا سوج چکے تھے.
” خانی سٹاپ کرائنگ. “
اُس کے دونوں کندھوں پر ہاتھ جما کر سیاہل نے اُسے اپنے مقابل کھڑا کرتے سرد لہجے میں وارن کیا تھا.
جس پر خانی نے ایک لمحے کے لیے برستی آنکھیں اُٹھا کر سیاہل خان کی جانب دیکھا تھا. اُس کا چہرا بلکل سرد اور سپاٹ تھا. خانی کو سیاہل کے پتھریلے تاثرات مزید خوفزدہ کررہے تھے.
مگر ہمیشہ کی طرح بنا اُسکی بات مانے. اُس کی کہی بات کے آپوزٹ جاتے خانی کے رونے میں مزید شدت آگئی تھی. وہ اور زور سے روتی سیاہل خان کے سینے سے آلگی تھی. سیاہل نے مٹھیاں بھینچتے خود کو کسی بھی کمزور لمحے میں جانے سے روکا تھا. مگر خانی کا نرم گرم ہچکیوں کی ذد میں ہلتا وجود سیاہل خان کو زیادہ دیر پتھر نہیں بنا پایا تھا.
سیاہل خان کی خانی اُس کے سینے سے لگی رو رہی ہو تو وہ کب تک خود کو بے حس رکھ سکتا تھا. سیاہل نے اُس کے گرد بانہیں پھیلاتے خانی کو اپنے حصار میں قید کر لیا تھا. سیاہل خان کا سہارا ملتے ہی خانی کے رونے میں مزید شدت آگئی تھی. مگر اِس بار سیاہل نے اُسے روکا نہیں تھا.
خانی کے آنسوؤں میں انا بی کو کھونے کا دکھ تھا, اپنے جان چھڑکنے والے اکلوتے بھائی کے اتنے بڑے دھوکے کا دکھ تھا, اور اُس سے بھی زیادہ سیاہل خان کے ہر بار کسی پر اعتبار نہ کرنے کی نصیحتوں کو جھٹلا کر اُسے جھوٹ بول کر وہاں بلا کر اپنے خاندان والوں کی سازش کا شکار بنانے کا دکھ تھا.
یہ بات سوچ کر ہی خانی کے دل میں ہول اُٹھ رہے تھے کہ اگر سیاہل خان کو اِس بارے میں خبر نہ ہوتی اور وہ صرف خانی کی بات کا مان رکھ کر وہاں پہنچ جاتا تو کیا ہوتا آگے. خانی اِس سے آگے کچھ سوچ ہی نہیں پارہی تھی.
اُس نے سیاہل خان کا بھروسہ, اُس کا مان اور اعتبار کو ٹھیس پہنچائی تھی. اگر سیاہل اُسے کچھ نہ بھی بولتا خانی تب بھی خود کو اُس سے نظریں ملانے کے قابل نہیں سمجھ رہی تھی. وہ سیاہل خان کی قصوروار تھی. اور خود کو اُس کی سزا کی مستحق مانتی تھی.
خانی کو مزید رونا اِس بات پر آرہا تھا کہ اُس کی اتنی بڑی غلطی کے بعد بھی سیاہل نے اُسے دھتکارا نہیں تھا. یہ جانتے ہوئے بھی کہ خانی کی اِس غلطی کی وجہ اُس کی جان جاسکتی تھی. وہ پھر بھی خانی کو سینے سے لگائے کھڑا تھا. یہی تو تھی اُس کی بے لوث محبت جس کے بارے میں وہ سینہ ٹھوک کر میران کو بول کر آیا تھا.
آدھے گھنٹے سے اُوپر ٹائم ہوچکا تھا. سیاہل اُسی طرح بنا کچھ بولے اُسے سینے سے لگائے کھڑا تھا. خانی کو شاید اِس وقت اُس کے اِسی لمس کی ضرورت تھی. خانی کے آنسوؤں میں کافی حد تک کمی آچکی تھی. کافی دیر بعد جب سیاہل کو یقین ہوگیا کہ اب خانی بلکل ریلیکس ہوچکی ہے تو اُس نے خانی کو خود سے جدا کیا تھا.
خانی کا آنسو سے بھیگا گلابی چہرا سیاہل کے اندر کے غصے اور اضطراب کو مزید ہوا دے گیا تھا. جو اُس نے کافی دیر سے بہت مشکل سے دبا رکھا تھا.
سیاہل نے ہاتھ بڑھا خانی کے آنسو پونچھے تھے. اور انگوٹھے سے اُس کے ہونٹ پر لگا خون بھی صاف کر دیا تھا. جس کے بہانے والے کو مارنے کے باوجود اُس کا غصہ کم نہیں ہورہا تھا.
خانی کی حالت کے پیش نظر وہ اِس وقت بہت کنٹرول کرکے کھڑا تھا. شاید ہی اتنا کنٹرول اُس نے پوری زندگی میں کبھی کیا ہو.
خانی کا چہرا اچھی طرح خشک کرنے کے بعد سیاہل اُس سے مخاطب ہوا تھا.
” ہمیں ابھی تھوڑی دیر کے بعد خان حویلی کے لیے نکلنا ہے. اِس حلیے میں میں تمہیں وہاں بلکل بھی نہیں لے کر جاسکتا. ابھی ملازمہ کو بھیجتا ہوں وہ تیار ہونے میں تمہاری مدد کردیں گی. اور اب مزید رونا مت ورنہ مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا. “
سیاہل جو کب سے خانی کا رونا برداشت کررہا تھا. اب کی بار سپاٹ سے لہجے میں وارن کرتا باہر نکل گیا تھا.
خانی اُس کے اتنے غصے اور ناراضگی میں بھی اپنے لیے چھپی فکر محسوس کر گئی تھی. جو اُس سے ناراض بھی تھا. مگر نہ ہی اُسے روتے دیکھ سکتا تھا. اور نہ ہی کسی بھی لحاظ سے اپنے خاندان والوں کے سامنے اُس کی عزت اور مقام میں کمی آنے دینا چاہتا تھا.
اِس سچویشن میں بھی سیاہل خان کی بے پناہ محبت پر خانی کے ہونٹوں پر کچھ دیر ہی سہی مگر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کی جھلک دکھی تھی. جو اپنا دھوکہ یاد آتے ہی فوراً معدوم ہوگئی تھی.
ملازمین نے سیاہل کے آرڈر کے مطابق خانی کو تیار کردیا تھا. مرجنڈا کلر کے شیفون کے ڈریس میں جس پر انتہائی نفیس سی ایمبرائیڈری کی گئی تھی خانی کے نازک وجود پر بہت جچ رہا تھا.
خانی کی دودھیا رنگت جس میں بہت زیادہ رونے کی وجہ سے گلابیاں سی گھلتیں اُس حسین مورتی کے حُسن کو مزید دو آتشہ کر گئی تھیں. میک اپ کے نام پر لائٹ سی لپسٹک لگائی گئی تھی. جو خانی نے ابھی سے ہی دانتوں کی مدد سے ہونٹ نوچتے بلکل ہی ہلکی کردی تھی. سر پر دوپٹہ ایک سٹائل سے ٹکائے سیاہل کی ہی بلیک شال اپنے گرد اوڑھے وہ ہر طرح سے سردار سیاہل خان کی سردارنی ہی لگ رہی تھی. اُسے نیچے آتے دیکھ سیاہل کی نظریں ایک پل کے لیے خانی پر ٹھہر سی گئی تھیں.
سیاہل خان ابھی بھی اپنے پہلے والے حلیے میں موجود تھا. بلیک لباس پر کریم کلر کا کوٹ پہنے سپاٹ چہرے اور سرخ آنکھوں کے ساتھ. اِس حلیے میں بھی وہ ہمیشہ کی طرح شاندار لگ رہا تھا. سیاہ بالوں کو شاید اُس نے ہاتھ کی مدد دے سیٹ کیا تھا. کیونکہ اُن میں سے کچھ بال ابھی بھی کشادہ پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے.
خانی کو ساتھ آنے کا اشارہ کرتے سیاہل باہر کی جانب بڑھ گیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

سیاہل کا ہاتھ تھامے خانی نے خان حویلی میں قدم رکھا تھا. جہاں کی چہل پہل بتارہی تھی کہ شاید سیاہل خان پہلے ہی انفارم کرچکا ہے. گاڑی سے اُترنے سے لے کر حویلی کے ہال میں قدم رکھنے تک ملازمین اور گھر کی باقی خواتین نے پھول برسا کر خانی کا استقبال کیا تھا.
خانی ہر چیز کی اُمید کررہی تھی مگر اِس سب کی بلکل بھی نہیں. لیکن اِس وقت اُسے لگ رہا تھا وہ یہ کیسے بھول سکتی ہے کہ اب وہ سیاہل موسیٰ خان کی پناہ میں خانی سیاہل خان بن کر آچکی ہے. جو اُس کی عزت کرنا اور کروانا اچھے سے جانتا تھا.
خانی کو دل میں آسودگی سی اُترتی محسوس ہوئی تھی. لیکن ساتھ انا بی کا اِس وقت اپنے ساتھ یہاں نہ ہونے کا دکھ بھی بڑھ گیا تھا.
خانی نے ایک نظر اپنے اردگرد موجود مسکراتے خوشیاں مناتے لوگوں پر ڈالی تھی.
اگر اِن سب لوگوں کو پتا چل جائے کہ اُس نے سیاہل خان کو وہاں دھوکے سے جھوٹ بول کر بلایا ہے تو یہ محبت دیکھانے کے بجائے وہ سب اُس پر نفرت بھری نظر ڈالنا بھی پسند نہ کریں. مگر یہاں بھی سیاہل اُس کی ڈھال بنتے بہت ہی صفائی سے اُسے سب کے سامنے معتبر کر گیا تھا. خانی کا سیاہل کی گرفت میں موجود ہاتھ لرز رہا تھا. جس پر سیاہل کی مزید مضبوط ہوتی گرفت پر خانی نے سر اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا. مگر اُس کا چہرا پہلے کی طرح بلکل بے تاثر تھا. اور نہ ہی اُس نے پلٹ کر خانی کی جانب دیکھا تھا. شاید وہ ہاتھ کی لرزش محسوس کرتے خاموش انداز میں اُسے تسلی دے گیا تھا.
سب کو اپنی جانب متوجہ دیکھ خانی نے فوراً نظریں پھیر لی تھیں.
بڑے سے ڈرائنگ روم میں اِس وقت خان حویلی کے ایک ایک فرد سے لے کر تمام ملازمین جمع تھے. بی بی سائیں کی نظریں ایک ساتھ ہاتھ پکڑ کر اندر آتے سیاہل خان اور خانی پر تھیں. جس بات کا اتنے وقت سے اُنہیں دھڑکا لگا ہوا تھا. آج وہ ہوگئی تھی. وہاں موجود کچھ لوگ خانی کے آنے پر جہاں بہت خوش تھے. وہیں بی بی سائیں کی طرح کچھ انتہائی ناپسندیدگی سے یہ سب دیکھ رہے تھے. مگر سیاہل خان کی وجہ سے چاہ کر بھی وہ کچھ نہیں بول سکتے تھے. جبکہ کچھ ایسے بھی تھے جو ملی جلی کیفیت کا شکار تھے. وہ سیاہل خان کی بیوی کو دیکھ کر خوش بھی تھے. مگر اُس کا ذوالفقار بلوچ جو اُن کے اپنوں کا قاتل تھا کی پوتی ہونے کی وجہ سے ناخوش بھی تھے.
” بی بی سائیں ملیں میری بیوی خانی سیاہل موسیٰ خان سے. میں جانتا ہوں آپ کو یہ سب دیکھ کر بہت خوشی ہورہی ہوگی. “
سیاہل خانی کو لیے بی بی سائیں کے سامنے آکھڑے ہوتے بولا. وہ خانی کے پورے نام کے ساتھ اپنے آخری جملے پر بھی زور دیتے اُن کو اور وہاں موجود اپنے خاندان کے باقی سب افراد کو بہت کچھ باور کروا گیا تھا.
جس پر نا چاہتے ہوئے بھی بی بی سائیں نے آگے بڑھ کر خانی کا ماتھا چوم کر اُسے ساتھ لگایا تھا. سیاہل نے پہلے ہی فون کرکے اُنہیں بتادیا تھا کہ وہ اپنی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ کرچکا ہے. جس کو اُس کی خوشی میں شریک ہونا ہے. وہ آسکتا ہے اور جس کو اعتراض ہے وہ بے شک شامل نہ ہو. جس پر بہت سے لوگ صرف سیاہل کی خاطر ناچاہتے ہوئے بھی موجود تھے. جن میں سرِفہرست بی بی سائیں اور اُن کی چھوٹی بیٹی تانیہ بیگم تھیں.
خانی کو بی بی سائیں کے انداز میں کسی قسم کی گرمجوشی محسوس نہیں ہوئی تھی. مگر پھر بھی آج سیاہل خان کی خاطر اُس نے جھک کر بی بی سائیں کا ہاتھ چوم لیا تھا. اگر بی بی سائیں سیاہل کی خاطر ناچاہتے ہوئے بھی اُسے اِس حویلی میں قبول کرسکتی تھیں. تو اتنا تو وہ بھی کرہی سکتی تھی.
بی بی سائیں کے بعد گھر کے مرد حضرات نے خانی کے سر پر ہاتھ رکھتے جبکہ خواتین نے اُسے گلے ملتے ویلکم کیا تھا.
خانی نے محسوس کیا تھا وہاں موجود ہر شخص کے چہرے پر مسکراہٹ تھی. چاہے دیکھاوے کے لیے ہی سہی مگر سیاہل خان کے چہرے پر مسکراہٹ کا شائبہ تک نہیں تھا.
خانی کا دل اُس کی حد درجہ ناراضگی سوچ کر بے کل ہورہا تھا.
کچھ دیر وہاں خواتین کی خواہش پر چند ایک رسمیں کی گئی تھیں. کیونکہ سب جانتے تھے سیاہل کو یہ سب نہیں پسند اِس لیے اِسے زیادہ نہیں کھینچا گیا تھا.
” مجھے تم سے بات کرنی ہے. “
فیصل نے سیاہل کے پاس آتے اُسے سرگوشی کے انداز میں کچھ بتایا تھا. جس پر سیاہل کا وہاں سے اُٹھنے کا ارادہ دیکھ خانی دھیمی آواز میں اُس سے مخاطب ہوئی تھی.
وہ دونوں اِس وقت ایک ہی صوفے پر ساتھ بیٹھے تھے. سیاہل خان اُس کے ساتھ تو بیٹھا تھا. مگر اُس کی جانب بلکل بھی متوجہ نہیں تھا. اُس کا دھیان مسلسل اپنے موبائل کی جانب تھا.
” بی بی سائیں آپ باقی یہ سب جو بھی کرنا ہے کل کر لیجئے گا. آج اب کافی دیر ہوچکی ہے.”
خانی کی آواز پر چہرا موڑ کر اُس کی جانب دیکھتے سیاہل بنا اُسے کوئی جواب دیئے بی بی سائیں سے مخاطب ہوا تھا.
جس پر بی بی سائیں نے اُس کا اشارہ سمجھتے سب کچھ وہیں روک دیا تھا. بی بی سائیں نے شمسہ اور رومیسہ کو خانی کو کمرے میں لے جانے کا اشارہ کیا تھا. مگر اُن لوگوں کے آگے آنے سے پہلے ہی سیاہل خانی کا ہاتھ تھامے کمرے میں لے جانے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا تھا.
جسے دیکھ بی بی سائیں اور اُن کے ساتھ کھڑی تانیہ بیگم پیچ و تاب کھا کر رہ گئی تھیں. سیاہل کا اپنے دشمنوں کی بیٹی کو اتنی پذیرائی دینا اُن کو ایک آنکھ نہیں بھایا تھا. وہ جس لڑکی کو پیروں کی نوک پر رکھنا چاہتی تھیں. سیاہل خان اُسے اُن کے سر پر بیٹھا رہا تھا. یہ بات ہضم کرنا اُن کے لیے بہت مشکل تھی. مگر اِس وقت وہ سیاہل کے تیور دیکھ کچھ نہیں بول پائی تھیں. لیکن اُس سے بعد میں اِس ٹاپک پر بات کرنے کا پورا ارادہ رکھتی تھیں.
خانی کا ہاتھ تھامے سیاہل روم میں داخل ہوا تھا.
” ریسٹ کرو تم کافی تھک گئی ہوگی. “
خانی کا ہاتھ اپنی گرفت سے آزاد کرتے وہ ڈریسنگ ٹیبل کے آگے جاکر کھڑے ہوتے اپنے بال بنانے لگ گیا تھا.
خانی اُسے پھر کہیں جانے کے لیے تیار دیکھ بجھے دل کے ساتھ خاموش کھڑی دیکھتی رہی تھی. جس نے روم میں آنے کے بعد اُس پر ایک نظر بھی نہیں ڈالی تھی.
” مجھے تم سے بات کرنی ہے. “
سیاہل کو اِس طرح خود سے ناراض دیکھ خانی کا دل بے چین ہوا تھا.
” مجھے کچھ ضروری کام ہے میں باہر جارہا ہوں. تم چینج کرکے ریسٹ کرو. اور میرا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے. مجھے دیر ہوجائے گی.”
سیاہل خود پر پرفیوم سپرے کرتا اُس کی بات کو صاف اگنور کرتے بولا. اور ایک نظر خانی پر ڈالتے باہر کی جانب بڑھا تھا.
” سیاہل خان تم اِس طرح مجھے اگنور نہیں کرسکتے. “
خانی اُس کے باہر نکلنے سے پہلے ہی آگے بڑھ کر اُس کا بازو اپنے ہاتھ میں جکڑتے اُسے روکتے ہوئے بولی.
” جب خانی سیاہل خان سے جھوٹ بول سکتی ہے. تو سیاہل خان بھی اُسے اگنور کرسکتا ہے. اِس وقت تمہیں اگنور کرنے میں بھلائی بھی تمہاری ہی ہے. کیونکہ اِس وقت جس قدر غصے کی آگ میرے اندر بھڑک رہی ہے اگر میں اُس کی وجہ سے تم سے کچھ مس بی ہیو کر گیا تو اُس کے لیے میں خود کو بلکل بھی معاف نہیں کر پاؤں گا. “
سیاہل مقابل کو جما دینے والے سرد ترین لہجے میں بولتا نرمی سے اُس کی گرفت سے اپنا ہاتھ آزاد کرواتے باہر نکل گیا تھا.
سیاہل خان جانتا تھا کہ اُس کا غصہ کس قدر بُرا ہے. اِس وقت اُسے خانی کے جھوٹ بولنے سے بھی زیادہ غصہ اِس بات پر تھا. کہ اگر اُسے زرا سی بھی دیر ہوجاتی تو ارباز خانی کو نقصان پہنچا چکا ہوتا. وہ منظر یاد آتے ہی سیاہل کے اندر لگی غصے اور اشتعال کی آگ مزید بھڑک اُٹھتی تھی. اِس لیے اِس وقت وہ خانی کے پاس مزید ایک پل بھی نہیں رُکنا چاہتا تھا.
جس کا خانی کوئی اور مطلب نکالتی آنکھوں میں نمی بھرے اُسے جاتے دیکھ رہی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

جہاں خان حویلی میں اِس وقت جشن اور خوشیوں کا سماں تھا. وہیں ارباز کی جوان موت پر بلوچ حویلی میں ماتم اور ایک قہرام سا مچا ہوا تھا.
ذوالفقار اور ارشد اپنی سازش خود پر ہی اُلٹ جانے پر گم صم سے سر جھکائے بیٹھے تھے. دوسرے کے لیے کھودے گڑھے میں وہ خود جاگرے تھے.
شہرام بلوچ جو کراچی گیا ہوا تھا. اِس ہولناک خبر پر رات کو ہی حویلی پہنچ چکا تھا. آدمیوں کے ذریعے ساری حقیقت جان کر وہ کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہا تھا. وہ کس منہ سے اپنے بھائی کی موت کا حساب مانگتا سیاہل خان سے جب ساری سازش کی جڑ ہی اُس کے اپنے لوگ تھے.
میران اِس وقت ہاسپٹل میں ہی تھا اُس نے جنازے میں شریک ہونے یا کسی کا بھی سامنا کرنے سے انکار کردیا تھا.
میران کی نظروں سے خانی کی نفرت چھلکاتی آنکھیں اور اُس کا سیاہل کے ساتھ اِس طرح منہ پھیر کر جانے والا منظر ہٹ ہی نہیں رہے تھے.
سیاہل خان کی آنکھوں میں وہ خانی کے لیے بے پناہ محبت دیکھ چکا تھا. مگر وہ کیا کرتا سیاہل خان کے حوالے سے جس حقیقت سے وہ واقف تھا وہ چاہ کر بھی اُس کے بارے میں کچھ اچھا نہیں سوچ سکتا تھا. اور یہی وہ مقام تھا جہاں پر آکر وہ سیاہل خان سے نفرت کرنے پر مجبور ہوجاتا تھا.
وہ جانتا تھا خانی ابھی اُس حقیقت سے واقف نہیں ہے مگر اُسے پورا یقین تھا کہ حقیقت جان کر وہ بھی سیاہل خان سے نفرت کرنے لگے گی. اِس لیے وہ ابھی ہی خانی کو سیاہل خان سے جدا کرنا چاہتا تھا. وہ نہیں چاہتا تھا کہ بعد میں خانی کو زیادہ تکلیف اُٹھانی پڑے. مگر اُس کی جلد بازی نے سب کچھ خراب کردیا تھا. ارباز جیسے شخص پر بھروسہ کرکے اپنی بہن کو خود سے بہت دور کردیا تھا.
میران کے پاس اب اِن سب باتوں پر افسوس کرنے کے علاوہ کچھ نہیں تھا. اُسے حویلی سے مسلسل کالز آرہی تھیں. آغا جان سیاہل خان کے خلاف جرگہ بیٹھانا چاہتے تھے کہ اُن کے علاقے میں آکر سیاہل خان نہ صرف اُن کی پوتی کو زبردستی یہاں سے لے کر گیا تھا. بلکہ ارباز کا قتل اور میران کو بُری طرح زخمی کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کے بہت سارے آدمیوں کو بھی ہلاک کرگیا تھا.
وہ سیاہل خان کو پوری طرح پھنسانے کا ارادہ رکھتے تھے. مگر میران نے اِس وقت اُن کی بات سن کر سختی سے انکار کرتے پہلے ارباز کا جنازہ اُٹھانے کا کہا تھا. اُسے آغا جان کا اپنے پوتے کی جوان موت پر بھی سیاست کرنا اُن سے سخت بدگمان کرگیا تھا.

جاری ہے…….