Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

خانی میران بلوچ اور شہرام بلوچ کے ساتھ تربت میں واقع اپنی آبائی حویلی کی جانب روانہ ہوچکی تھی. جس پر خانی کو کافی حیرت بھی ہوئی تھی کہ آج تک اُس کو ہمیشہ یہاں آنے سے روکنے والا اُس کا بھائی خود ہی اُسے وہاں لے کر جارہا تھا.
لیکن کہیں نہ کہیں اُسے یہ بھی فیل ہورہا تھا کہ شاید اُسے بلوچستان نہ آنے دینے کی وجہ سیاہل خان ہی تھا. اور اب جب اُس سے ہی آمنا سامنا ہوچکا تھا تو میران نے اُسے اپنے خاندان سے ملوانے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا.
ہوش سنبھالنے کے بعد آج وہ پہلی دفعہ وہاں قدم رکھنے والی تھی.
سیاہل موسیٰ خان کی حویلی سے نکل کر اُس نے اُن دونوں کو اپنے لیے بہت ہی پریشان اور فکرمند پایا تھا. لیکن خانی اپنے اندر کی ہر اُلجھن اور بے چینی پر قابو پاتے اُن سے بہت ہی بشاشت سے ملی تھی. اور یقین دلایا تھا کہ خان حویلی میں اُس سے بہت اچھا سلوک کیا گیا ہے.
شہرام بلوچ سے مل کر خانی کو بہت اچھا لگا تھا. وہ ایک دو بار اُس سے پہلے بھی مل چکی تھی. جب وہ میران سے ملنے اُن کے گھر آیا تھا.
شہرام خانی سے کچھ دیر بات کرنے کے بعد خاموش ہوچکا تھا. خانی نے نوٹ کیا تھا کہ شہرام بلوچ کی آنکھیں حد سے زیادہ سُرخ اور سوجی ہوئی تھیں.
جیسے بہت زیادہ رونے سے کسی کی آنکھیں ہوجاتی ہیں.
” مگر شہرام بلوچ کیوں رویا ہوگا اتنا. شاید اُسے کوئی الرجی ہو. یا کوئی اور پرابلم ہو خانی تم بھی نا کچھ بھی سوچ لیتی ہو. “
خانی اپنی سوچوں پر خود کو کوستے سر جھٹک گئی تھی.
لیکن اُس نے پچھلی دو ملاقاتوں میں شہرام بلوچ کو کافی خوش مزاج ہی پایا تھا. آج وہ اُس کے بلکل برعکس لگ رہا تھا.
گرے قمیض شلوار میں ملبوس کندھوں پر کریم کلر کی شال ڈالے وہ ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر براجمان تھا. جبکہ خانی اور میران بیک سیٹ پر تھے.
عینا کو میران واپس کراچی کی جانب بھیج چکا تھا.
اُن کی گاڑی کے آگے پیچھے گارڈز کی گاڑیاں تھیں.
میران بلوچ خانی سے بات کرکے کافی حد تک مطمئن ہوچکا تھا. کہ سردار سیاہل موسیٰ خان نے اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا. لیکن وہ اِس سب میں بھی سیاہل خان کی کوئی پلاننگ سمجھ رہا تھا.
کافی دیر کے سفر کے بعد وہ آخر کار اپنی منزل پر پہنچ چکے تھے.
بلوچ حویلی بھی اپنی پوری شان و شوکت سے زمین پر وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی تھی. بڑا سا سرسبز پھولوں اور گھاس سے سجا خوبصورت لان, آتے جاتے ملازمین کی ویسی ہی بھیڑ.
یہ حویلی بھی خوبصورتی میں اپنی مثال ایک تھی. مگر بلوچ حویلی اپنی تمام تر چارم کے باوجود حسین پہاڑوں اور سبزے کے درمیان گھری سردار سیاہل موسیٰ خان کی شاندار حویلی کا مقابلہ نہیں کر پارہی تھی.
خانی نے میران بلوچ اور شہرام بلوچ کے درمیان میں چلتے حویلی کے بڑے سے ڈرائنگ روم میں قدم رکھا تھا. جہاں گھر کی تمام خواتین کے ساتھ ساتھ آغا جان اور خاندان کے باقی کچھ مرد حضرات بھی موجود تھے. جن میں سے خانی ابھی کسی سے واقف نہیں تھی.
خانی کا وہاں بہت ہی والہانہ استقبال کیا گیا تھا. سب لوگ اُسے بہت ہی محبت اور گرم جوشی سے ملے تھے.
خانی ابھی اپنی فیملی کی خواتین میں سے کسی کو بھی بائے فیس نہیں جانتی تھی. مگر اُسے وہ سب بہت اچھی لگی تھیں. کسی نے بلوچی لباس زیب تن کر رکھا تھا. اور کسی نے سادہ قمیض شلوار.
خانی کو آغا جان اپنی بانہوں کے حصار میں لیے صوفے پر براجمان تھے. خانی کی دوسری طرف میران بلوچ بیٹھا تھا. اور سامنے اُس کے چچا اور اُن کے بیٹے براجمان تھے.
خانی نے نوٹ کیا تھا کہ خواتین میں سے کوئی بھی مردوں کے ساتھ صوفے پر نہیں بیٹھی تھیں. لیکن گھر کے مرد اُن سے بہت عزت سے بات کررہے تھے. جو خانی کو بہت اچھا لگا تھا.
” میرے بچے کو خان حویلی میں کسی نے کوئی تکلیف تو نہیں پہنچائی یا کچھ بُرا بھلا تو نہیں بولا. اگر کسی نے زرا سی بھی میری بیٹی کی توہین کی ہے تو نام بتاؤ میں چھوڑوں گا نہیں اُسے. “
آغا جان خانی کو اپنے ساتھ لگائے محبت اور فکر سے بولے. خانی کو آغا جان بہت اچھے لگے تھے. جو کچھ ہی دیر میں اُسے اپنے دل کے بہت قریب محسوس ہونے لگے تھے. اُسے دکھ ہوا تھا کہ وہ اتنا ٹائم اِن سب سے دور کیوں رہی تھی. ضد کرکے یہاں کیوں نہیں آگئی تھی. سب لوگ اتنے اچھے تھے. اور اِن سب کے اتنے مضبوط حصار کے پیچھے سیاہل خان کی جرأت کہاں تھی کہ اُسے ہاتھ بھی لگائے.
اُسے لگ رہا تھا کہ سیاہل موسیٰ خان واقعی ایک بزدل انسان ہے جس نے اُسے بغیر نقصان پہنچائے اپنی بڑائی کی وجہ سے نہیں بلکہ خانی کے خاندان والوں کے ڈر سے چھوڑا تھا.
” نہیں آغا جان اُن کی اتنی ہمت نہیں تھی کہ مجھے کچھ کہیں. بلکہ میں اُن سب کی بہت اچھے سے طبیعت صاف کرکے آئی ہوں. انہیں بتا کر آئی ہوں کہ میں بلوچ خاندان کی بیٹی ہو. اُن سے ڈرنے والی بلکل بھی نہیں.”
خانی کی بات پر وہاں موجود تمام نفوس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی. جیسے خانی نے کوئی جوک سنایا ہو. مگر آغا جان کی تنبیہ کرتی نظروں کی وجہ سے وہ سب اپنے تاثرات چھپا گئے تھے. جو موبائل میں بزی ہونے کی وجہ سے سیاہل خان بھی دیکھ نہیں پایا تھا.
خانی نے اب جاکر شہرام کی غیر موجودگی نوٹ کی تھی. جو اُس کے ساتھ اندر آنے کے بعد وہاں سب کے ساتھ ایک منٹ بھی نہیں بیٹھا تھا.
” میری پوتی واقعی بہت بہادر اور عقل مند ہے.”
آغا جان خانی کی پیشانی چومتے بولے.
” آغا خان میرا اِن سب سے تعارف تو کروا دیں. میں اِن میں سے کسی کو بھی نہیں جانتی. “
خانی کی بات پر آغا جان نے مُسکرا کر سر ہلاتے اُس کا سب سے تعارف کروانا شروع کیا تھا.
آغا جان یعنی ذوالفقار بلوچ کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھیں.
سب سے بڑے بیٹے ارشد بلوچ تھے. جن کی شادی اپنی خالہ زاد بشرا بیگم سے ہوئی تھی. اُن کی تین اولادیں تھیں. ارباز بلوچ, شہرام بلوچ اور سومیہ بلوچ.
دوسرے نمبر پر اسجد بلوچ تھے. جن کی شادی چچا زاد مہرین بیگم سے ہوئی تھی. اسجد بلوچ کا ایک بیٹا میران بلوچ اور بیٹی خانی بلوچ تھی. لیکن سالوں پہلے حادثے کی وجہ سے پہلے اسجد بلوچ اور پھر مہرین بلوچ اپنے پیاروں کو روتا چھوڑ اِس جہان فانی سے کوچ کر چکے تھے.
تیسرا نمبر فضیلہ بلوچ کا تھا. جن کا بیاہ ماموں زاد فرقان بلوچ سے ہوا تھا.
جمشید بلوچ سب سے چھوٹے تھے. جن کی شادی چچازاد زمرہ بلوچ سے ہوئی تھی. اُن کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں. اسد بلوچ, مہوش بلوچ, احمر بلوچ, اور پلوشہ بلوچ.
وہ سب ایک ہی حویلی میں وہاں کے رسم و رواج کے مطابق مل جل کر رہ رہے تھے.
آغا جان نے ایک ایک کرکے خانی کو سب کے بارے میں بتایا تھا. خانی ماہناز بی بی سے اپنے خاندان والوں کے بارے کبھی کبھی معلومات لیتی رہتی تھی. مگر آج یہ جان کر اُسے بہت زیادہ خوشی ہورہی تھی کہ اُس کے اتنے سارے کزنز تھے.
آغا جان نے کچھ دیر مزید بات کرنے کے بعد خانی کو اُس کے سیٹ کروائے گئے روم میں آرام کرنے کے لیے بھیج دیا تھا. میران پہلے ہی کوئی امپورٹینٹ کال آجانے کی وجہ سے اُٹھ کر جا چکا تھا.
” ادی یہ آپ کا کمرہ ہے. اور یہ دونوں ہر وقت آپ کی خدمت کے لیے موجود رہیں گی. لیکن اگر پھر بھی کسی چیز کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں. “
سومیہ خانی کے ساتھ اُس کے کمرے میں داخل ہوتے بولی. اور ساتھ ہی پیچھے موجود سرجھکا کر کھڑی دونوں ملازمہ کی طرف اشارہ کیا تھا.
” ارے نہیں نہیں اِس سب کی کوئی ضرورت نہیں ہے. میں اپنا ہر کام اپنے ہاتھوں سے کرنے کی عادی ہوں. یہ ہر وقت میرے ساتھ رہ کر کیا کریں گی. یہ بھی انسان ہیں. اِن کی بھی لائف ہے. “
خانی کو اُن دونوں کا جھکا سر اور بندھے ہاتھ دیکھ کر بہت بُرا فیل ہوا تھا.
جبکہ اُس کی بات پر ایک ملازمہ نے بے حد حیرانگی کے عالم میں جھٹکے سے سر اُٹھایا تھا. پہلی بار اپنے لیے ایسا کوئی جملہ اُنہوں نے اپنے لیے کسی کے منہ سے سنا تھا. لیکن سومیہ کی سخت گھوری پر وہ واپس سر جھکا گئی تھی.
” ادی اِن کا یہی کام ہے. آپ اِن کی فکر مت کریں. آغا جان کا سختی سے حکم ہے کہ آپ کو کسی طرح کی بھی پریشانی نہ ہو. اور اُن کو بلکل بھی اچھا نہیں لگے گا.
اگر آپ اِن کی وجہ سے ڈسٹرب ہونے کی وجہ سے کہہ رہی ہیں. تو یہ بلا ضرورت آپ کے کمرے میں نہیں آئیں گی. باہر ہی کھڑی رہیں گی. “
سومیہ کی ضد پر آخر کار خانی نے ہار مان ہی لی تھی. وہ ذہنی اور جسمانی طور پر کافی زیادہ تھکی ہوئی تھی. تھوڑا ریسٹ چاہتی تھی.
لیکن خانی کو سومیہ کا ملازمین کے لیے اتنا حقارت آمیز انداز بلکل بھی پسند نہیں آیا تھا.
اُس کے مطابق ملازمین سے تو باقی لوگوں سے بھی زیادہ عزت سے پیش آنا چاہیے. کیونکہ یہی لوگ ہر وقت آپ کے قریب موجود ہوتے ہیں. آپ کی خدمت کرتے ہیں. آپ کا خیال رکھتے ہیں. لیکن بہت سے لوگ چند پیسے دے کر سمجھتے ہیں کہ اُنہوں نے اِن لوگوں کو خرید لیا ہے. اور اب اُنہوں نے ساری زندگی جانوروں کی طرح اپنے مالکوں کی خدمت میں صرف کرنی ہے.
وہ اُنہیں ہر جگہ چھوٹی سے چھوٹی بات پر بے عزت کرتے یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی اُن جیسی ہی اُوپر والے کی بنائی گئی مخلوق ہیں.
مگر خانی اِس وقت کسی قسم کی بحث کے موڈ میں نہیں تھی. وہ جانتی تھی وہ اتنی جلدی اُن کی سوچ نہیں بدل سکتی. اِس لیے سومیہ کی بات پر خاموشی سے سر ہلاتے فریش ہونے کے لیے واش روم کی جانب بڑھ گئی تھی.
” ارے آپ لوگ ابھی تک ایسے ہی کیوں کھڑی ہو. بیٹھ جاؤ. “
واش روم سے نکل کر اُن کو ایسے ہی سر جھکائے کھڑا دیکھ خانی جلدی سے بولی.
جس پر وہ فوراً حکم کی تکمیل کرتیں فرش پر بچھے کارپٹ پر بیٹھ گئی تھیں.
” ارے ارے یہ کیا کررہی ہیں آپ لوگ. اُوپر بیٹھیں پلیز. “
خانی اُن کے نیچے بیٹھنے پر شرمندہ سی ہوئی تھی.
” بی بی جی ہمیں اُوپر بیٹھنے کا حکم نہیں ہے. ہماری جگہ تو آپ کے قدموں میں ہے.”
اُن میں سے ایک ملازمہ کارپٹ سے اُٹھتی سر جھکائے بولی.
” واٹ نان سینس. یہ کیا بات ہوئی. باقی سب کے جو بھی رولز ہیں. مگر پلیز میرے سامنے یہ سب نہیں ہوگا. آپ دونوں کو اب میرے ساتھ رہنا ہے تو میرے رولز فالو کرنے پڑیں گے.
اور میرے سامنے آپ لوگ نیچے بلکل بھی نہیں بیٹھیں گی.”
خانی اتنا تو سمجھ گئی تھی کہ وہ لوگ جس ماحول کا حصہ تھیں. اتنی جلدی اُن کو اُس سے نکالنا بہت مشکل تھا. اِس لیے وہ اُنہی کے انداز میں اُنہیں آرڈر دیتے بولی.
جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گئی تھیں.
” نام کیا ہے تم دونوں کا. “
خانی مرر کے سامنے کھڑی بال ڈرائیر سے خشک کرکے اب خود پر پرفیوم سپرے کر رہی تھی. جب اُس نے اُن میں سے ایک ملازمہ کو کن اکھیوں سے اپنی جانب دیکھتے مسکراتے ہوئے پوچھا.
اُسے ڈری سہمی سی وہ دونوں لڑکیاں بہت پیاری لگی تھیں. جو عمر میں اُس کے قریب قریب ہی تھیں.
” میرا نام مینل ہے بی بی جی. اور اِس کا نام نوراں ہے. “
بلوچی لباس میں ملبوس بڑے سے دوپٹے میں خود کو چھپائے. جس کے پلوں سے اُنہوں نے اپنے چہرے کا بھی آدھا حصہ کور کر رکھا تھا. اُن دونوں کے چہروں سے معلوم ہوتا تھا کہ اُنہیں اپنی نئی مالکن بہت پسند آئی ہے.
جو نرم مزاج ہونے کے ساتھ ساتھ بہت حسین بھی تھی.
” بہت پیارے نام ہیں تم دونوں کے. بلکل تمہارے جیسے. اور یہاں کوئی مرد موجود نہیں ہے. ریلیکس ہو جاؤ. “
خانی کا اشارہ اُن کے چہرا لپیٹنے کی طرف تھا. جو دونوں ہی جھجھک بھرے انداز میں صوفے پر ٹکی ہوئی تھیں.
لیکن خانی کے نرم انداز پر اُن کی جھجھک اور ڈر آہستہ آہستہ کم ہورہا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” کیسا لگ رہا ہے میری گڑیا کو یہاں آکر. اپنوں سے مل کر. “
میران خانی کے ساتھ ناشتے کے لیے نیچے کی جانب بڑھتے اُس کے چہرے پر جگمگاتی خوشی دیکھ کر بولا.
” بہت اچھا بھیا. سب لوگ اتنے اچھے ہیں. میرا اتنا خیال رکھتے ہیں. بہت اچھا فیل ہورہا ہے یہاں آکر. پر انا بی کو بہت مِس کررہی ہوں میں. آپ پلیز اُنہیں بھی بلوا لیں نا یہاں.”
خانی کو انا بی کی کمی بہت محسوس ہورہی تھی.
” میں جانتا ہوں. اِسی لیے بلوا رہا ہوں میں انا بی کو. کچھ دنوں تک پہنچ جائیں گی. “
میران بلوچ بنا کہے کی اپنی لاڈلی کی ہر بات جان لیتا تھا. اِس لیے محبت پاش نظروں سے اُس کے مسکراتے چہرے کو دیکھتا دل میں ایسے ہی ہمیشہ اُس کے خوش رہنے کی دعا کر گیا تھا.
” تھینکیو سو مچ بھیا. آئی لو یو سو مچ. آپ سے زیادہ اِس دنیا میں مجھے کوئی پیار نہیں کرسکتا. “
خانی میران کے سینے سے لگتی چہکتے ہوئے بولی. اِسی طرح باتوں کے دوران وہ لوگ ڈائنگ ہال تک آپہنچے تھے.
ڈائننگ ہال کا منظر خانی کے لیے خوشگوار حیرت کا باعث تھا.
بڑے سے کمرے میں لال رنگ کا خوبصورت سا کارپٹ بچھا ہوا تھا. جس کے اُوپر کمرے کے چاروں اِطراف دیوار کے ساتھ گھاؤ تکیے رکھے گئے تھے.
درمیان میں دسترخوان بچھایا گیا تھا. جس پر انواع و اقسام کے کھانے رکھے گئے تھے. آغا جان کے بلانے پر خانی اُن کے پاس جا بیٹھی تھی. کل کی طرح اِس وقت بھی وہاں گھر کی کوئی بھی عورت کھانے میں شریک نہیں تھی. بلکہ ملازمین کے ساتھ سرونگ میں مصروف تھیں.
ایک صرف خانی کو ہی یہ خاص پروٹوکول مل رہا تھا.
” ادی میں ایسی کیا بات ہے جو ہم میں نہیں. ہم بھی تو اسی گھر کی بیٹیاں ہیں نا. تو ہمیں کیوں حق نہیں اپنے باپ بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کا. “
پلوشہ سومیہ کے کان میں گھسی آغا جان اور ارشد بلوچ کے ساتھ بیٹھی خانی کی جانب دیکھتے ہوئے بولی.
” تم جانتی ہو ایسا کیوں ہے. ادی خانی کو یہ پروٹوکول صرف اِس گھر کی بیٹی ہونے کی وجہ سے نہیں مل رہی اِس کی وجہ کچھ اور ہے. “
سومیہ کا لہجہ بے لچک تھا.
” ادی کتنی خوش نصیب ہے نا. “
پلوشہ رشک بھرے لہجے میں خانی کی جانب دیکھتے بولی.
” پتا نہیں خوش نصیب ہے یا بد نصیب.”
سومیہ کی بات پر پلوشہ نے سوالیہ انداز میں اُس کی جانب دیکھا تھا. لیکن سومیہ مسکرا کر بات کو ٹالتی کاندھے اُچکا گئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” کل میری بات کیوں نہیں مانی. ایک دن میں ہی اوقات بھول گئی اپنی. “
ارباز بلوچ مینل کا ہاتھ دبوچے زہر خند لہجے میں بولا. اُس کے جھٹکا دینے کی وجہ سے مینل کے ہاتھ میں موجود گرم چائے کپ سے چھلک کر اُس کی ہتھیلی جلا گئی تھی.
مینل پہلے ارباز بلوچ کی سخت گرفت اور اب جلن کے درد سے بلبلا اُٹھی تھی. مگر وہ ہونٹوں کو دانتوں تلے دباتے اپنی سسکی کا گلا گھونٹ گئی تھی. کیونکہ اُنہیں شدید درد میں بھی اپنے مالکوں کے آگے آواز اُٹھانے کی اجازت نہیں تھی.
” مینل تم یہاں کیا کررہی ہو. “
راہداری سے مڑتے خانی کی نظر ارباز بلوچ کے پاس کھڑی مینل پڑی تھی. خانی کی جانب ارباز بلوچ کی بیک تھی. اور مینل اُس کے آگے چھپی ہوئی تھی. اِس لیے وہ مینل کا ایک جانب سے ہی تھوڑا سا دیکھ پائی تھی.
جبکہ خانی کی آواز پر ارباز بلوچ اپنی جگہ سے ایسے اُچھلا تھا جیسے اُس کے ہاتھ میں مینل کا ہاتھ نہیں بلکہ بجلی کی کوئی ننگی تار ہو.
” ارے خانی میں تمہارا ہی پوچھ رہا تھا تمہاری ملازمہ سے.”
ارباز بلوچ چہرے پر مسکراہٹ لاتے خانی کی طرف پلٹا تھا. اور بغور خانی کے تاثرات جاننے چاہے تھے کہ کیا اُس نے کچھ دیکھا یا سنا ہے یا نہیں. مگر خانی کے چہرے سے وہ کچھ خاص اخذ نہیں کر پایا تھا.
” مینل یہ کیا ہوا. کیسے جلا تمہارا ہاتھ. “
خانی ارباز کی بات کا جواب دینے ہی والی تھی. جب اُس کی نظر مینل کے جلے ہاتھ پر پڑی تھی. وہ فکرمندی کے عالم میں مینل کی جانب بڑھی تھی. جس پر مینل بہت ہی سہولت سے اپنا دوپٹہ آگے کرتی کلائی پر موجود ارباز کی اُنگلیوں کے نشان چھپا گئی تھی.
” میں بھی اِسے یہی کہہ رہا تھا کہ اتنی لاپرواہی نہیں برتنی چاہیے. “
ارباز کی بات پر خانی نے جن نظروں سے اُسے دیکھا تھا. وہ خود بھی گڑبڑا گیا تھا. شاید خانی کی نظر مینل کی کلائی پر پڑ چکی تھی.
” مینل چلو روم میں تمہیں فرسٹ ایڈ کی ضرورت ہے. ارباز بھائی میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں. “
خانی بہت مشکل سے مصنوعی مسکراہٹ ہونٹوں پر لاکر کہتی مینل کو لیے آگے بڑھ گئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

آج زنان خانے میں بہت رونق لگی ہوئی تھی. کیونکہ آج کافی دنوں کے بعد سردار سیاہل موسیٰ خان نے وہاں اپنے سب گھر والوں کے ساتھ رات کا کھانا کھانا تھا. جو کچھ مصروفیات کی وجہ سے وہ ایک مہینے سے اپنے خاندان والوں کو ٹائم نہیں دے پایا تھا.
بی بی سائیں نے سیاہل کی پسند کے علاوہ نجانے کتنی ہی ڈشز بنوا ڈالی تھیں. ڈنر کا انتہائی شاندار پیمانے پر اہتمام کیا گیا تھا.

جاری ہے