No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
” اُس نے اچھے طریقے سے دعوت نہیں دی بلکہ ہمیں دھمکی دی ہے کہ ہر حال میں اُس کا کہا ماننا ہوگا. مگر میں یہ سب پھینک کر اُس شخص کی غلط فہمی دور کرنا چاہتی ہوں کہ مجھے وہ اپنے علاقوں کے لوگوں کی طرح کمزور اور اپنا غلام نہ سمجھے. میرا نام بھی خانی اسجد بلوچ ہے ڈرنے والوں میں سے نہیں ہوں میں.
اور پلیز اب تم مزید اُس کی حمایت میں کچھ مت بولنا. پہلے ہی تم اُس انجان شخص کو ہمارے بارے میں انفو دے کر بہت بڑی غلطی کر چکی ہو. “
خانی کی بات پر عینا خاموشی سے اُس کی مدد کرنے آگے بڑھ چکی تھی.
کچھ ہی لمحوں میں اُنہوں نے سارے تھال بالکنی سے نیچے پھینک دیئے.
” خانی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے. جس طرح اُس کے آدمی ہمارا پیچھا کرتے یہاں تک پہنچ چکے ہیں. تمہیں کیا لگتا ہے. وہ ہمیں آسانی سے یہاں سے نکلنے دیں گے. “
عینا خوفزدہ سی بولی.
” تم ڈر کیوں رہی ہو پاگل. کچھ نہیں ہو گا ہمیں. میں سوچ چکی ہوں ہمیں کیا کرنا ہے. تم پریشان نہ ہو اور بس ریلیکس کرو.”
خانی عینا کو تسلی دیتی صوفے پر جا بیٹھی تھی. اُسے اب سمجھ آرہی تھی کہ میران بھائی اور انا بی اُس کے یہاں آنے پر خوش کیوں نہیں تھے.
” سردار سیاہل موسیٰ خان سمجھتے کیا ہو تم خود کو. “
خانی نے زیرِ لب نخوت سے اُس کا نام بڑبڑایا تھا. مگر اِس عمل میں اُس کی آنکھوں نے چہرے کا ساتھ بلکل نہیں دیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اگلے دن وہ سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی گیسٹ ہاؤس سے نکل آئی تھیں. اُن کا رُخ خضدار کی جانب تھا. وہ لوگ جلد از جلد لسبیلہ سے نکلنا چاہتی تھیں.
” تمہیں پتا ہے سیاہل خان کی حویلی کہاں ہے. “
آس پاس سے گزرتے خوبصورت نظاروں کی جانب دیکھتے عینا نے اپنی خیالوں میں کھوئی خانی سے پوچھا.
” ہاں پتا ہے مجھے. میں تو روز جاتی ہوں نا اُس کی حویلی. “
ایک بار پھر سیاہل خان کے ذکر پر خانی کا ویسا ہی جلا بھنا سا جواب موصول ہوا تھا.
” مجھے لگتا ہے لسبیلہ میں ہی ہے. تبھی تو وہ وہاں سسی پنوں کے مزار پر ملا ہمیں. اور پھر وہ ساری تحفے بھجوائے.”
عینا نے خود ہی اپنے سوال کا مطلب اخز کیا تھا.
” ہمم مجھے بھی یہی لگ رہا ہے. اِس لیے ہی تو صبح صبح وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا تاکہ اُن لوگوں کو معلوم ہونے سے پہلے ہی وہاں سے نکل آئیں. “
ساڑھے پانچ گھنٹے کا لمبا سفر طے کرتے وہ لوگ خضدار پہنچ چکی تھیں.
لسبیلہ سے سیاہل خان کے قبضے سے اتنی آسانی سے نکل آنے پر وہ دونوں بہت مسرور نظر آرہی تھیں. مگر عینا کا کہیں نہ کہیں دل چاہ رہا تھا. کہ سیاہل خان کی حویلی ہی دیکھ لیتی. لیکن خانی کے سامنے بول کر وہ اپنا سر نہیں پھٹوانا چاہتی تھی.
اُنہوں نے صبح جلد بازی میں نکلنے کی وجہ سے ناشتہ نہیں کیا تھا. اِس لیے اب اُن کو بہت زوروں کی بھوک لگ رہی تھی. ایک چھوٹے مگر خوبصورت سے ڈھابے کے سامنے گاڑی رُکوا کر وہ لوگ جیسے ہی گاڑی سے اُترنے لگیں. خانی کا موبائل کا بجنے لگا تھا.
” کس کی کال ہے. “
عینا کی بات پر خانی نے انجان نمبر کی جانب دیکھتے لاعلمی سے سر ہلایا تھا.
” سردار سیاہل موسیٰ خان سپیکنگ. “
گھمبیر بھاری سحر طاری کرتی آواز اور الفاظ جیسے ہی خانی کے کانوں میں پڑے اُس کا اُوپر کا سانس اُوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا.
عینا خاموشی سے اُس کے چہرے کے بدلتے تاثرات دیکھنے لگی تھی.
” مجھے بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے میری دعوت قبول کی اور میرے بتائے گئے ٹائم کے مطابق یہاں پہنچ گئیں. “
خانی کی خاموشی پر ایک بار پھر سیاہل خان کی آواز اُبھری تھی.
اُس کی بات پر اپنی اتنی بڑی بے وقوفی پر خانی کا دل چاہا تھا اپنا ماتھا پیٹ لے. مگر یہ تو پہلے ہی سوچ چکی تھی کہ اِس شخص سے اُس نے کبھی نہیں ڈرنا. چاہے وہ جو کچھ بھی کرے.
عینا کو اُس نے باہر نکلنے کا اشارہ کیا تھا کہ ڈھابے پر جاکر کچھ کھانے کا پتا کرے.
وہ نہیں چاہتی تھی کہ عینا کو اِس بارے میں کچھ بھی پتا چلے.
” بہت خوش فہمی پال رکھی ہے آپ نے سردار صاحب. مجھے تو لگا تھا آپ کو کل رات اپنے تحفوں کی حالت دیکھ میرا جواب مل چکا ہوگا. مگر کافی ڈھیٹ لگ رہے ہیں آپ مجھے. “
خانی بھی ایک ایک لفظ پر زور دیتی بنا گھبرائے اپنے لہجے کو مضبوط بناتے بولی. ویسے بھی اِس شخص سے اُس کے بہت سارے حساب نکلتے تھے.
” مطلب ابھی سے ہی بہت اچھے سے سمجھنے لگی ہیں آپ مجھے سردارنی صاحبہ. ڈھیٹ ہونے کے ساتھ مجھے دوسرے پر حکم چلانے اور ہمیشہ اپنی منوانے کی بھی عادت ہے. آپ کو بھی اب میرے مطابق چلنے کی عادت ڈالنی ہوگی. “
جہاں لفظ سردارنی پر خانی کا چہرا غصے سے لال ہوا تھا. وہیں اُس کے استہزایہ لہجے میں کہی بات خانی کو مزید کوئلوں پر لُٹا گئی تھی.
” جسٹ شٹ اپ. میرا نام خانی اسجد بلوچ ہے. بلوچ خاندان کی بیٹی. میرے ساتھ یہ فضول نام جوڑنے کی کوشش مت کیجئے گا سردار صاحب. “
خانی غصے سے چلاتے ہوئے بولی.
” اتنی گستاخیاں مت کریں سردارنی صاحبہ کے بعد میں اِن کا بھگتان بھرتے بھرتے تھک جائیں. “
سیاہل خان کی بات پر خانی کا دل چاہا تھا کہ یہ شخص اُس کے سامنے ہو اور وہ اِس کا چہرا نوچ لے. اپنے اندر کی ساری بھڑاس سارا غصہ اِس شخص پر اُتار دے مگر شاید وہ ایسا کوئی حق نہیں رکھتی تھی. اور نہ ہی مقابل شخص اُسے اتنی بڑی حیثیت اور اُونچا مقام دینے کا ارادہ رکھتا تھا.
کتنے ہی لمحے خاموشی میں گزر گئے تھے. خانی مزید اِس گھمنڈی شخص کے ساتھ اُلجھنا نہیں چاہتی تھی. جس میں واقعی نقصان صرف اُس کے حق میں ہی آنا تھا.
دوسری جانب چند لمحوں کے لیے سیاہل خان بھی آنکھیں موندے خانی کی مدھم سانسیں سنتا رہا تھا. مگر یہ سب صرف چند لمحوں کے لیے تھا. اگلے ہی لمحے وہ واپس اپنی ٹون میں لوٹ چکا تھا.
” میرے فون کرنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی گاڑی کے چاروں اطراف میرے آدمیوں کی گاڑیاں موجود ہیں. آپ چاہ کر بھی اپنی مرضی سے وہاں سے کہیں نہیں بھاگ سکتیں. تو خاموشی سے میرے آدمیوں کو فالو کرتے میری بات مان لیں. ورنہ نتائج کی ذمہ دار آپ خود ہوں گی. کیونکہ مجھے نہیں لگتا آپ چاہیں گی کہ آپ کی بے قصور دوست کو آپ کی غلطی کی سزا ملے.”
اپنے مخصوص بے لچک لہجے میں کہتے اُس نے خانی کی کچھ بھی سنے بغیر فون رکھ دیا تھا.
” ایڈیٹ. دھمکیوں کے علاوہ اِسے کچھ آتا ہی نہیں ہے. “
کچھ فاصلے پر موجود اسلحہ سے لیس لوگوں کو دیکھتے خانی ناچاہتے ہوئے بھی سیاہل خان کی دھمکی کے زیر اثر آچکی تھی.
کچھ دیر مزید سوچنے کے بعد خانی نے گاڑی میں بیٹھے عینا کو اشارہ کیا تھا. اور اُسے بلا کر مختصراً چند باتیں بتا دی تھیں.
” خانی اُن کے ہاتھوں میں گنز ہیں. ہمیں خاموشی سے چلے جانا چاہئے. ایسے نہ ہو دھمکی کے مطابق اُن کی بات نہ ماننے پر وہ ہمیں گولی مار دیں.
جتنی تعداد میں اُس نے ہمارے لیے اپنے یہ آدمی بھیجے ہیں اُس سے لگ تو یہ رہا ہے کہ وہ کافی غصے میں ہے ہم پر. “
عینا کی بات پر خانی نے بھی غائب دماغی سے سر ہلا دیا تھا.
مزید سفر طے کرتے کہیں سر سبز اور کہیں پتھریلے خوبصورت اور بلند و بالا پہاڑی راستے طے کرتے وہ خضدار کے پہاڑوں میں گِھرے ایک انتہائی خوبصورت علاقے فیروز آباد میں آپہنچے تھے.
” واؤ خانی یہ جگہ تو باقی سب جگہوں سے بہت دلکش ہے. “
عینا اور خانی دونوں ہی مبہوت سی وہ حسین نظارے دیکھ رہی تھیں.
لیکن جیسے ہی وہ تمام گاڑیاں بیلوں سے بھری اُونچی دیوار کے ساتھ سے گزرتیں ایک بڑے سے لکڑی کے آہنی دروازے کے سامنے جا کھڑی ہوئیں.
آہنی جالی دار دروازے کے اُس پار بلند اور بالا شاندار عمارت پر نظر پڑتے ہی وہ دونوں اپنی جگہ دم بخود سی اُسے تکے گئی تھیں.
دروازہ کھلتے ہی وہ حویلی اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ اب مکمل طور پر اُن کے سامنے تھی.
وہ اُنہیں موجودہ طرز پر بنی مغلیہ دور کے محلوں کو مات دیتی جدید دور کی شاید سب سے شاندار عمارت معلوم ہوئی تھی.
حویلی کے لان کا رقبہ اتنا زیادہ تھا.کہ گاڑی میں ہونے کے باوجود مین گیٹ سے حویلی کی بلڈنگ کے قریب پہنچنے میں اُنہیں دس منٹ لگ چکے تھے. لان کے بلکل وسط میں سفید رنگ کا ایک فاؤنٹین بنایا گیا تھا. جس کے ساتھ مختلف پھولوں کے درمیان گھرے تالاب میں چھوٹی چھوٹی بطخیں اور مختلف رنگوں کی مچھلیاں ایک الگ ہی منظر پیش کررہی تھیں.
اُن کی گاڑی حویلی کے بڑے سے شیشیے اور لکڑی سے تیار کیے گئے گیٹ کے سامنے جارکی تھی. جہاں پہلے ہی بہت سی ملازماؤں کے ساتھ دو صوبر سی خواتین بھی اُن کے استقبال کیلئے موجود تھیں. اُن دونوں نے نوٹ کیا تھا کہ اِس طرف صرف عورتیں ہی موجود تھیں. کوئی ایک بھی مرد یہاں تک کہ ملازم بھی اِس جانب نظر نہیں آئے تھے.
بعد میں انہیں غور کرنے پر پتا چلا تھا کہ اِس اتنی بڑی حویلی کا انٹرس پوائنٹ صرف ایک نہیں تھا بلکہ کافی زیادہ سارے تھے.
بہت ہی پرتپاک سے انداز میں اُن کا استقبال کرتے وہ عورتیں اُنہیں اپنے ساتھ لیے اندر کی جانب بڑھ گئی تھیں.
حویلی کا اندرونی نظارہ دیکھ کر اُنہیں باہر کی خوبصورتی تو بھول ہی چکی تھی. پورے فرش پر ہر جگہ پر بیش قیمت قالین بچھائی گئی تھی. وہاں اُنہیں ہر جانب ملازمائیں ہی آتی جاتی دکھائی دی تھیں.
اُنہیں ایک بڑے سے ڈرائنگ روم میں لے جایا گیا تھا. جہاں بڑی تعداد میں ایک ترتیب سے صوفے رکھے گئے تھے. اور اُن پر بہت ہی خوبصورت بلوچی لباس میں زیورات سے سجی خواتین موجود تھیں. اُن میں سے چند ایک نے سمپل ڈریسز بھی پہن رکھے تھے. مگر زیورات اور میک اپ میں وہ بھی باقیوں جیسی ہی تیار تھیں.
” آئیں بیٹا اِن سے ملیں یہ ہماری بی بی سائیں ہیں. یہاں کی مالکن. اِنہیں سب لوگ جھک کر سلام کرتے ہیں. آپ لوگ بھی. “
وہاں موجود تمام خواتین کی گہری نظریں خانی پر جمی ہوئی تھیں. کچھ نظروں میں رشک اور کچھ میں حسد اور جیلسی نمایاں تھی. خانی کا سادگی لیے معصوم حُسن اُن سب کو اچھا خاصہ چونکا گیا تھا. اُس کے سلام کرنے اور نام بتانے پر اُنہوں نے سر ہلا کر سلام کا جواب دیا تھا. جو بات خانی کو بہت فیل ہوئی تھی. مگر زیادہ بُرا تو اُسے اپنے ساتھ اندر آئی لیڈی کی بات کا لگا تھا.
جس نے سامنے بڑے سے صوفے پر براجمان سفید کپڑوں میں ملبوس ایک بزرگ خاتون کی جانب اشارہ کرتے اُنہیں جھک کر سلام کرنے کو کہا تھا جسے وہ بی بی سائیں کہہ رہی تھی.
اُن بی بی سائیں کی پرسنیلٹی سے خانی کافی مرعوب ہوئی تھی. سرخ و سفید صحت مند چہرا, جس پر موجود ہلکی ہلکی جھڑیاں اُن کی عمر کا پتا دے رہی تھیں. گلے میں بھاری سا گلوبند اور ہاتھوں میں بہت ساری بڑے بڑے نگوں والی قیمتی انگوٹھیاں پہنے وہ بہت جانچتی نظروں سے خانی کی جانب دیکھ رہی تھیں. اُن کی نگاہوں کا سرد پن خانی با آسانی دیکھ پارہی تھی.
عینا تو اُن کی رعب دار پرسنیلٹی کی وجہ سے جھک کر اُنہیں سلام کر چکی تھی. اب باقی سب کی نظریں خانی کی جانب تھیں.
” بُرا مت مانیئے گا بی بی سائیں. مگر میں خانی اسجد بلوچ ہوں. میرا نام مجھے کسی کے سامنے جھکنے کی اجازت نہیں دیتا. میں نہ ہی کبھی کسی کے سامنے جھکی ہوں اور نہ ہی کبھی کسی کو اپنے سامنے جھکانا مجھے پسند ہے. “
سینے پر بازو باندھتے خانی انتہائی عزت و احترام سے کہتے سامنے بیٹھی بی بی سائیں کو بہت کچھ جتا گئی تھی.
وہاں موجود تمام خواتین ہکا بکا سی خانی کے الفاظ پر اُس کی جانب دیکھ رہی تھیں. آج تک کسی کی ہمت نہیں ہوئی تھی بی بی سائیں کا حکم ٹالنے کا. اُن کے مطابق یہ لڑکی آتے ہی اتنی بڑی غلطی کر چکی تھی. اب اِس کا بی بی سائیں کے قہر سے بچنا ناممکن تھا.
بی بی سائیں اپنی توقع کے عین مطابق جواب سنتے کچھ دیر اُس دھان پان لڑکی کی جانب دیکھی رہی تھیں. اگلے ہی لمحے اپنی جگہ سے اُٹھتے کچھ فاصلے پر موجود خانی کے سامنے آکھڑی ہوئی تھیں. اُن کو اُٹھتا دیکھ وہاں موجود تمام خواتین اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھیں.
” بہت خوبصورت ہو تم لڑکی. اور لگتا ہے اِس بات کا بہت غرور بھی ہے تمہیں.”
خانی کے چہرے پر نگاہیں گاڑھے وہ اپنے اندر کے اُٹھتے غصے کو کنٹرول کرتے بظاہر مسکرائی تھیں.
” جس خوش فہمی کے سہارے اتنے بڑے بڑے بول بول رہی ہو. پہلے اُس کی حقیقت تو جان لو. میرے پوتے نے تمہیں صرف میرے کہنے پر یہاں بلوایا ہے. وہ تو تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا. بہت محبت کرتا ہے میرا پوتا مجھ سے. میری کوئی بات نہیں ٹالتا. تم جو آج اپنے خاندان کے نام پر اتنا اُچھل رہی ہو نا کچھ دنوں میں ہی اِس حویلی کی باندی بنا کر نہ رکھ دیا تو کہنا. “
خانی کو نفرت برساتی نظروں سے دیکھتے وہ پھنکارتے لہجے میں بولیں. جس پر کچھ لمحوں کے لیے وہاں موجود باقی تمام نفوس کے ساتھ ساتھ خانی بھی سہم گئی تھی.
” مجھے آپ کے پوتے سے ایسی کسی بھی غلط فہمی کی کوئی اُمید نہیں ہے. وہ کیا میں خود اُس کی شکل دیکھنا پسند نہیں کرتی.
ہوگی آپ کو اور آپ کے پوتے کو دوسروں کو اپنا غلام بنانے کی عادت مگر خانی اسجد بلوچ کے حوالے سے ایسے خواب دیکھنا چھوڑ دیں. ایسا اِس دنیا میں تو کبھی ممکن نہیں ہے. آپ لوگ پہلے ہی میرے خاندان کے ساتھ جو کرچکے ہیں. اُس کا حساب دینا ابھی باقی ہے. “
خانی کی بات پوری ہی ہوئی تھی جب ایک طرف سے ایک ملازمہ حواس باختہ سی بھاگتے ہوئے آئی تھی.
” بی بی سائیں سردار سائیں دیوان میں آچکے ہیں. اور نگار بی بی کے حوالے سے فیصلہ سنانے والے ہیں. “
ملازمہ کی اتنی بات کہنے کی دیر تھی کہ بی بی سائیں اور باقی سب عورتیں اُن کے پیچھے ڈرائنگ روم کے دوسرے دروازے کی جانب بڑھ تھیں. جس سے آگے ایک راہداری عبور کرتے مخالف رُخ پر ایک جالی دار دیوار موجود تھی.
جہاں سے دیوان کا پورا نظارہ نظر آتا تھا. خانی اور عینا کو وہیں چھوڑ کر باقی سب اُس دیوار کے ساتھ جا کھڑی ہوئی تھیں.
دیوان میں صدارتی کرسی پر اِس وقت اُن کے قبیلے کا سردار سیاہل موسیٰ خان اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ براجمان تھا. جس کے آگے دائیں بائیں دونوں جانب لمبی قطار میں صوفے رکھے گئے تھے. جہاں تمام معزز لوگ بیٹھے اپنے سردار کے فیصلے کے منتظر تھے. اور باقی بہت سارے سائیڈوں پر سر جھکائے کھڑے تھے.
” یہ سب کیا ہورہا ہے. “
عینا اور خانی نے ناسمجھی سے اُنہیں دیکھتے اُس طرف بڑھی تھیں. جس پر اُن کے ساتھ چلتی اُنہیں کی عمر کی لڑکی تلخی سے مسکراتے اُن کی اُلجھن دور کرنے کے لیے قریب آئی تھی.
” ہمارے قبیلے کے پچھلے سردار یعنی کے میرے دادا ہمایوں خان جہاں ایک طرف بہت نرم مزاج تھے وہیں دوسری طرف حد سے زیادہ اصول پسند اور انصاف پسند بھی تھے.
اُن کے قانون میں عزت اور کسی کی جان سے کھیلنے والے کے لیے کوئی معافی نہیں تھی. اور ہر مجرم کو وہ سخت سے سخت سزا سناتے تھے. چاہے وہ کوئی چور ہو, کسی کا قاتل ہو یا غیرت کے نام پر اِن نام نہاد عورتوں کا خون چوستی رسموں سے بغاوت کرکے اپنی مرضی سے آزادی سے زندگی گزارنے کی قصور وار عورت.
دادا کے بعد میرے تایا اور اب سیاہل ادا سائیں. اِس قبیلے کے سردار بن چکے ہیں. جنہیں اپنے بڑوں کی روایت پر ہی چلنا ہے.
ادا نے جب سے یہ گدی سنبھالی ہے یہ اُن کی صدارت میں پہلا ایسا سنگین اور مشکل ترین فیصلہ ہے. “
بات کرتے دوران اُس لڑکی کے لہجے میں نمی گُھل چکی تھی. اور وہ اپنے آنسوؤں پر قابو پانے کے لیے ایک پل کو رُکی تھی.
” کیوں ایسا کیا سنگین ہے اِس کیس میں.”
اُس کی بات غور سے سنتی عینا بہت ہی متجسس سے لہجے میں بولی.
” کیونکہ ادا سائیں اتنے سنگدل نہیں ہیں. آج تک جس طرح میرے دادا اور تایا عورتوں کو قصوروار قرار دے کر کاری کروا دینے جیسی سزا دیتے آئے ہیں. یہ سب کرنے کی امید سیاہل ادا سائیں سے کسی کو بھی نہیں ہے. اور اگر اُنہوں نے ایسا نہ کیا تو قبیلے میں بہت انتشار پھیلال سکتا ہو جو بہت بڑی تباہی کا باعث بن سکتا ہے.
کیونکہ اِس بار قصور وار کوئی اور نہیں سردار سیاہل موسیٰ خان کی چہیتی اور اکلوتی بہن نگار موسیٰ خان ہے.”
اُس لڑکی کی بات پر عینا اور خانی دونوں کو جھٹکا لگا تھا.
” اِن نام نہاد عزت کے پجاری مردوں کو عورت پر ظلم کرنے کے سوا آتا ہی کیا ہے. دوسری عورتیں تو چلو اِن کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتیں. مگر کیا تم لوگوں کا سردار اپنی بہن کو بھی کاری کروا دے گا. “
خانی کا لہجہ طنز سے بھرپور تھا.
” پتا نہیں کوئی نہیں جانتا وہ کیا کرنے والے ہیں. یہاں تک کہ بی بی سائیں بھی نہیں. اُن پر بہت پریشر ہے مگر وہ اتنے طاقتور ہیں کہ اِس سب سے صفائی سے اپنی بہن کو بچا سکتے ہیں. اور قبیلے میں اُٹھنے والے ہر انتشار کو جڑ سے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں. لیکن پھر بھی ہم سب بہت ڈرے ہوئے ہیں. کیونکہ ادا سائیں کے فیصلے کے بارے میں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا.”
وہ لڑکی آنکھوں سے بہہ جانے والے آنسو صاف کرتی آگے بڑھ گئی تھی.
عینا خانی کا ہاتھ کھینچتی اُسے جالی دار دیوار کے پاس آکھڑی ہوئی تھی. جہاں سے وہ لوگ تو سب کچھ دیکھ اور سن سکتی تھیں. مگر اندر بیٹھے لوگ نہیں.
خانی نے چہرا مزید آگے کرتے سردار سیاہل موسیٰ خان کو دیکھنا چاہا تھا. مگر وہ جہاں پر کھڑی تھی. اُس جگہ آگے ایک پردہ موجود ہونے کی وجہ سے وہ سیاہل خان کا چہرا نہیں دیکھ پائی تھی.
تبھی سیاہل خان کی وہاں گونجتی گھمبیر بھاری آواز گونجتے ہی باقی تمام سرگوشیاں دم طور گئی تھیں.
” میں سردار سیاہل موسیٰ خان اپنے قبیلے والوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ میرے نزدیک ہر مجرم کی حیثیت ایک جیسی ہے. چاہے وہ میرے خاندان کا شخص ہو یا قبیلے کا کوئی معمولی فرد.
میری بہن نے ہماری رسموں سے بغاوت کرکے جو گناہ کیا ہے. وہ کسی صورت معاف کیے جانے کے قابل نہیں ہے. جو لوگ سمجھتے ہیں کہ میں اپنی بہن کی اتنی بڑی غلطی معاف کر دوں گا تو وہ غلط سوچتے ہیں.
میری بہن کو بھی سزا ملے گی اور اِس معزز خاندان کی عزت داؤ پر لگانے کی وجہ سے باقیوں سے بھی بڑھ کر ملے گی. نگار موسیٰ خان کو کاری نہیں کیا جائے گا. بلکہ اُسے کال کوٹھڑی میں ڈالا جائے گا. جہاں نہ تو کسی کو جانے کی اجازت ہوگی نہ ہی اُسے کھانے پینے کو کچھ دیا جائے گا. اور وہ اپنی زندگی کے باقی کے چند دن وہیں تڑپ تڑپ کر گزارے گی تاکہ گھر سے بھاگنے کی کوشش کرنے والی تمام لڑکیوں کے لیے یہ سب عبرت کا نشان بن سکے.”
سیاہل موسیٰ خان کی بات ختم ہوتے ہی وہاں سب لوگ ہی خوش ہوتے اُس کے نام کے نعرے لگانا شروع ہوچکے تھے. کیونکہ اُن سب کی نظروں میں وہ انصاف کی ایک بہت بڑی کی مثال پیش کرچکا تھا.
خانی رُکی سانسوں کے ساتھ نجانے کتنے ہی لمحے وہاں ساکت سی کھڑی رہی تھی. کوئی انسان اتنا سنگدل اور پتھر دل کیسے ہوسکتا تھا کہ اپنی سگی بہن کے ساتھ ایسا سلوک کرے. جس کا قصور کیا تھا. صرف اپنی مرضی اپنی پسند سے زندگی گزارنے کے لیے کی گئی چھوٹی سی کوشش.
سردار سیاہل موسیٰ خان اپنی کرسی سے اُٹھتا مزید کسی سے بھی کوئی بات کیے بغیر باہر کی جانب بڑھا تھا.
ڈارک براؤن قمیض شلوار کے اُوپر بلیک کلر کا کوٹ پہنے چوڑے شانے کمر پر دونوں بازو باندھے سیاہل خان کو باہر کی جانب بڑھتا دیکھ خانی ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے بغیر آنکھوں میں غصہ لیے اُسی راہداری کے اختتام پر بنے بیرونی دروازے کی جانب بڑھی تھی.
اُسے اِس وقت سردار سیاہل موسیٰ خان سے شدید نفرت محسوس ہورہی تھی. جو شاید واقعی میں اپنے سینے میں دل نہیں رکھتا تھا.
جاری ہے
