No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
بہت زیادہ سوچنے کہ بعد بھی خانی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیسے خان حویلی میں داخل ہوا جائے. کیونکہ شہرام کے مطابق وہاں بہت زیادہ سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے. چھپ کر اندر گھسنا بلکل بھی ممکن نہیں تھا.
شہرام کے کہنے پر کہ حویلی کے اندر سے کسی کے تعاون سے ہی خانی اندر داخل ہوسکتی ہے.
خانی نے انا بی کو خدا بخش سے بات کرنے کو کہا تھا.
اور ساتھ ہی خاص ہدایت کی تھی کہ وہ اگر مدد کرنے کو تیار ہے تو ٹھیک ورنہ سیاہل خان کو اِس سب کی بھنک بھی نہیں پڑنی چاہئے.
انا بی کے پوچھنے پر تو خدا بخش نے صاف انکار کر دیا تھا. جس پر خانی نے اُن سے موبائل لیتے خود خدا بخش سے بات کی تھی. بہت دیر کی کوششوں کے بعد جاکر کہیں خدا بخش نے حامی بھر لی تھی.
اُس نے خانی کو حویلی کے اندر داخل کروانے کا وعدہ کیا تھا. مگر اُس سے آگے کسی قسم کے تعاون سے انکار کردیا تھا. خانی کے لیے اتنا ہی بہت تھا.
انا بی کی مدد سے خانی نے مہرون کلر کے بلوچی لباس میں مکمل بلوچی خواتین والا گیٹ اپ اپناتے اپنا چہرا اُس کے بڑے سے دوپٹے سے ڈھانپ لیا تھا. خانی کو یاد تھا. وہاں ملازمین کا حلیہ ایسا ہی کچھ تھا.
خانی اُس حلیے میں بہت ہی منفرد اور حسین لگ رہی تھی. مہرون بھاری لباس میں سلور ماتھا پٹی لگائے. سیاہل خان کی بات کے بلکل اُلٹ لائٹ لپسٹک اور کس کر جوڑا باندھے خانی سیاہل کے دل پر بجلیاں گرانے کو بلکل تیار تھی.انا بی نے بے اختیار اُس کی نظر اُتار لی تھی. اور زیرِ لب بہت ہی سورتوں کا ورد کرتے خانی کو ﷲ کی حفظ و امان میں بھیج دیا تھا.
شہرام خانی کو بہت ہی ہوشیاری سے پچھلے گیٹ سے گاڑی میں لانے میں کامیاب ہوگیا تھا. کیونکہ خانی کے حلیہ کو دیکھ کر بہت سوال اُٹھ سکتے تھے. حویلی سے نکل کر اُس نے بشرا بیگم کو انفارم کردیا تھا کہ خانی اُس کے ساتھ باہر جارہی ہے. جس پر چاہنے کے باوجود بشرا بیگم کوئی اعتراض نہیں کر پائی تھیں.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
خدا بخش اپنے وعدے کے مطابق خانی کو حویلی کے اندر لے آیا تھا. جہاں بہت ساری ملازمین کے درمیان کوئی خانی کو پہچان ہی نہیں پایا تھا. گھونگھٹ میں سر ڈھکا ہونے کی وجہ سے کسی کا بھی دھیان خانی کی جانب نہیں. وہ سب خاموشی سے اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھیں. بنا یہ جانے کے اُن کی سردارنی بھی اِس وقت اُن کے درمیان موجود ہے.
” بانو ادا سائیں کے لیے سوپ ابھی تک تیار نہیں ہوا کیا. بی بی سائیں بہت غصہ ہورہی ہیں. “
خانی بڑے سے کچن میں ایک طرف کھڑی یہ سوچ رہی تھی. کہ سیاہل کے کمرے تک کیسے پہنچے. اُس دن ملازمین کے ساتھ جس کمرے میں وہ سیاہل سے ملنے گئی تھی. وہ تو اُسے بلکل بھول چکا تھا.
وہ اِسی کشمکش میں تھی کہ باہر جائے یا نہ جائے. جب سمن کی آواز نے اُس پر ابھی تھوڑی دیر پہلے چھا جانے والی مایوسی ختم کردی تھی.
سمن جو آرڈر دے کر پلٹنے لگی تھی. خانی نے جلدی سے اُس کے سامنے آتے اُس کا راستہ روک دیا تھا.
” یہ کیا حرکت ہے. ہٹو آگے…… “
سمن جو ملازمہ کی حرکت پر بُرا مناتے اُسے جھڑکنے لگی تھی. خانی نے اردگرد سب کو اپنے کاموں میں مصروف دیکھ ہلکا سا اپنا گھونگھٹ اُوپر اُٹھا دیا تھا. خانی پر نظر پڑتے سمن کی بولتی بند ہوئی تھی.
” آپ……”
سمن اِس سے پہلے کے حیرت و بے یقینی کے عالم میں چیخ پڑتی. خانی نے جلدی سے اُس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اُس کی آواز دبا دی تھی. اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر سائیڈ پر لے جاتے اپنا دوپٹہ ہلکا سا چہرے سے پیچھے سرکا دیا تھا.
” آپ یہاں کیسے. اور یہاں کچن میں کیا کررہی ہیں. “
سمن کا منہ حیرت کی زیادتی سے کھل چکا تھا.
” تمہارے اُس بھائی سے ملنا ہے مجھے. سرعام تو آ نہیں سکتی تھی. اِس لیے یہ سب کرنا پڑا. اب مجھے اپنے بھائی کے کمرے تک پہنچاؤ.”
خانی نے مختصر الفاظ میں اُسے ساری بات بتاتے آخر میں مدد مانگی تھی.
” اگر بی بی سائیں یا کسی اور کی نظر آپ پر پڑ گئی تو آپ جانتی ہیں کتنا بڑا ایشو بن سکتا ہے. آپ جانتی ہیں لاسٹ ٹائم بھی بار بار ملازمہ کو ادا سائیں کے پاس بھیجنے پر اُن سے مجھے کتنی ڈانٹ پڑی تھی. آپ پلیز واپس چلی جائیں ادا سائیں تک پہنچنا آسان نہیں ہے. آپ پکڑی جائیں گی. “
سمن پچھلی بار آنے والی اپنی شامت کی وجہ سے اِس بار خانی کی مدد کرنے کو بلکل بھی تیار نہیں تھی.
” تو تم میری مدد نہیں کرو گی. “
خانی نے خفگی بھرے تاثرات سے سمن کی جانب دیکھا تھا.
” آپ تو ادا سائیں سے بھی زیادہ ضدی ہیں. اچھا میں کرتی ہوں کچھ.”
سمن کو اُس دن والی اُس کی ضد کا اندازہ تھا. اِس لیے اِس سے پہلے کہ یہاں کسی کو شک ہوتا سمن نے مدد کرنے کی حامی بھر لی تھی.
” آپ یہ سوپ لے کر آئیں میرے ساتھ. اور راستے میں اگر گھر کی کسی لیڈی یا بی بی سائیں نے کچھ پوچھا تو آپ کچھ مت بولیے گا. میں ہی جواب دوں گی. “
سمن خانی کو ٹرے تھماتے بولی. دونوں آگے پیچھے کچن سے باہر نکل آئی تھیں.
” ایک منٹ رکو. “
راہداری عبور کرتے وہ لوگ سیڑھیوں کی جانب بڑھ رہی تھیں. جب بی بی سائیں کی آواز پر سمن کے ساتھ ساتھ خانی بھی اپنی جگہ رُک گئی تھی.
” یہ کون ہے. اور بانو کدھر ہے. سیاہل کے لیے میں نے اُس کی ڈیوٹی لگائی تھی. “
بی بی سائیں سمن کے پیچھے کھڑی خانی کو گھورتی.اُس سے مخاطب ہوئی تھیں
” وہ بانو شاید ادا سائیں کے لیے کاہڑا بنانے میں مصروف تھی. اِس لیے میں اِس کو ساتھ لے آئی.”
سمن خود اپنی جگہ ڈر گئی تھی. جبکہ خانی کوفت ذدہ سی وہیں کھڑی رہی تھی.
” اُف اِن دونوں اکڑو دادی پوتے کے ساتھ. یہ بچارے لوگ کیسے گزارا کرتے ہونگے. ہر باس بنے وقت آرڈر ہی چلاتے رہتے ہیں. “
خانی کو بی بی سائیں کا مزاج بلکل سیاہل جیسا ہی لگا تھا.
” اچھا چلو تم جاؤ. میں ساتھ جاتی ہوں. اپنے پوتے کو اپنے ہاتھوں سے پلاؤں گی. “
بی بی سائیں سمن کو وہاں سے جانے کا کہہ کر. خانی کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتیں سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی تھیں.
” بی بی سائیں سر فراز سائیں آپ سے ملنا چاہتے ہیں. اُن کا کہنا ہے کہ کوئی بہت ضروری بات کرنی ہے آپ سے. “
اِس سے پہلے کہ بی بی سائیں دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتیں. ملازمہ کے آکر بتانے پر بی بی سائیں خانی کو اندر جانے کا اشارہ کرتیں دوسری جانب بڑھ گئی تھی.
خانی ایک گہرا سانس ہوا میں خارج کرتے دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
خانی نے روم میں داخل ہوکر ٹرے پاس پڑے ٹیبل پر رکھی تھی. اور بھاری دوپٹہ چہرے سے ہٹاتے کھل کر سکون کا سانس لیا تھا. صرف اُس شخص کو ایک نظر دیکھ کر دل کی تسلی کے لیے بہت سی مشکلات سے گزرتی آخر کار یہاں پہنچ ہی گئی تھی.
کچھ دیر بعد خود کو نارمل کرتے خانی کو ہوش آیا تھا کہ وہ کہا ہے اور کس لیے آئی ہے. اُس کی نظریں بے اختیار بیڈ کی جانب اُٹھی تھی. جہاں موجود دشمنِ جاں کو دیکھتے خانی کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئی تھیں.
دروازہ اندر سے لاک کرتے دبے قدموں سے خانی سیاہل کی جانب بڑھی تھی.
ہمیشہ روایتی لباس قمیض شلوار میں رہنے والا سیاہل خان آج سیاہ ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس کمبل سینے تک اوڑھے ایک بازو سائیڈ پر جگہ دوسرا سینے پر رکھے وہ خانی کو گہری نیند میں معلوم ہوا تھا. شاید دوائیوں کے زیرِ اثر سورہا تھا.
خانی اُس کے سوئے ہونے کی مکمل تسلی کرتی اُس کے پاس بیڈ پر آ بیٹھی تھی.
چوڑی کشادہ پیشانی پر سیاہ بال بکھرے اُس کی شان میں مزید اضافہ کررہے تھے. مغرور کھڑی ناک, گھنی مونچھوں تلے ایک دوسرے میں پیوست ہونٹ وہ خانی کو رف سے حلیے میں بھی مردانہ وجاہت کا شاہکار لگا تھا.
ہر وقت چہرے پر چھائی سختی اِس وقت بلکل مفقود تھی. خانی کو سیاہل خان سوتے ہوئے بہت ہی معصوم اور پیارا لگا تھا.
اُس کے سوئے ہونے کے باوجود اُس کے اتنے قریب بیٹھے ہونے کی وجہ سے خانی کی ہتھیلیاں اور پیشانی پسینے سے بھیگ چکی تھیں. وہ اِس شخص کی شدت پسندی کی جھلک دیکھ چکی تھی. اِس لیے اُس کی قربت خانی کا دل دھڑکائے جارہی تھی.
ہاف سلیوز ہونے کی وجہ سے سیاہل کے ایک بازو سے اُس کے زخم پر لگائی گئی بینڈیج جھانک رہی تھی. جسے دیکھتے خانی کے دل کو کچھ ہوا تھا. سیاہل کی تکلیف کا سوچتے خانی کی پلکیں بھیگ گئی تھیں. وہ اُس سے کتنی محبت کرتا تھا. اتنی تکلیف میں ہونے کے باوجود اُسی کا خیال تھا.
خانی کی نظریں سیاہل خان کے خوبرو چہرے سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں.
وہی اِس شخص کی دوسروں کو اپنے مقناطیسی شکنجے میں جکڑنے والی کشش خانی کو آہستہ آہستہ اپنے حصار میں لے رہی تھی. کتنا روئی تھی. وہ اِس شخص کی سلامتی کے لیے. شاید اتنے آنسو اُس نے اپنی پوری زندگی میں نہیں بلائے تھے. جتنے اُس ایک رات سیاہل خان کی زندگی مانگتے گزار دیئے تھے.
یہ شخص اپنی ساحرانہ پرسنیلٹی اور ہمدردانہ دل رکھنے کی وجہ سے خانی کو خود سے محبت کرنے پر مجبور کر گیا تھا. خانی چاہ کر بھی اپنے دل کو سیاہل خان کی محبت کے وار سے بچا نہیں پائی تھی.
خود کو اُس کے گہری نیند میں سوئے ہونے کی تسلی دیتے خانی نے دل کی آواز پر حامی بھرتے ہاتھ بڑھا کر سیاہل کی پیشانی پر بکھرے بال سمیٹ دیئے تھے. اور جھک کر وہاں اپنے نرم گرم ہونٹوں کا لمس چھوڑتے اُس کی بے خبری میں اپنی محبت کی پہلی مہر ثبت کی تھی. یہ سب کرتے خانی کا دل دھڑک دھڑک کر باہر آنے کو تیار ہوچکا تھا. خانی نے بے اختیار اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے اُسے نارمل کرنا چاہا تھا.
کچھ دیر استحقاق بھری نظروں سے سیاہل کو دیکھتے خانی نے بے دلی سے اُٹھنا چاہا تھا. ابھی اُس کا بلکل بھی دل نہیں چاہ رہا تھا. یہاں سے اُٹھنے کو. مگر اُسے ڈر تھا. کسی بھی وقت کوئی بھی اندر آسکتا تھا. خانی ہولے سے سیاہل خان کے چہرے کو چھوتی اُس کے پاس سے اُٹھی تھی. جب اگلے ہی لمحے زور دار چیخ مارتے وہ سیاہل خان کے اُوپر آگری تھی.
کب سے آنکھیں بند کرکے سونے کا ناٹک کرتے سیاہل خان نے خانی کو اُٹھتے دیکھ اُس کی کلائی تھام کر ہلکا سا جھٹکا دیتے اُسے اپنی جانب کھینچ لیا تھا.
خانی جو اِس افتاد کے لیے. بلکل بھی تیار نہیں تھی. سیدھی سیاہل خان کے چوڑے سینے پر آگری تھی.
اُس کی چیخ ڈرنے کے ساتھ ساتھ سیاہل خان کا زخم ہرٹ ہونے کی وجہ سے نکلی تھی.
” تم… تم جاگ رہے تھے. “
خانی نے اُس کے سینے سے اٹھنے کی کوشش کرتے بے یقینی سے اُس کی جانب دیکھا تھا. جو محظوظ کن مسکراہٹ اور پر شوق نظروں سے خانی کے شرم اور خفت سے سُرخ پڑتے چہرے کی جانب دیکھ رہا تھا.
سیاہل کے بائیں کندھے پر گولی لگی تھی. جسے وہ زرا بھی حرکت نہیں دے سکتا تھا. مگر اُس نے دوسرے بازو سے خانی کے گرد حصار قائم کرتے اُس کی مزاحمت کے باوجود اُٹھنے کی اجازت نہیں دی تھی.
” تو تمہیں کیا لگا خانی اسجد بلوچ سیاہل خان کے اتنے قریب آئے اور وہ اِس بات سے بے خبر رہے گا. “
سیاہل خان کی نظریں خانی کے خوبصورت رُوپ کا طواف کررہی تھیں. خانی سیاہل خان کے سینے پر جھکی اُس کے بے حد قریب تھی.
وہ مسلسل مزاحمت کرتے اُس کے حصار سے نکلنے کی جدوجہد کررہی تھی.
” جب میں سویا ہوا تھا. تب تو بڑا پیار جتایا جارہا تھا. اب میرے اُٹھتے ہی ساری بہادری غائب. اور مجھ سے بھاگنے کے چکروں میں ہو.”
سیاہل کا اشارہ اُس کی مزاحمت کی طرف تھا.
خانی جو سیاہل خان کو سرپرائز کرنے آئی تھی. سیاہل کی حرکت نے اُسے سرپرائز کردیا تھا.
سیاہل نے خانی کی ٹھوڑی کو ہونٹوں سے چھوتے اُس کی غیر ہوتی حالت کی جانب دیکھتے آخر کار آزادی بخش دی تھی. جبکہ سیاہل خان کے اتنے سے لمس پر خانی کا دل پاگل ہو اُٹھا تھا.
خانی اُس کے پاس سے اُٹھتی کچھ فاصلے پر جاکر کھڑی ہوئی تھی.
جاری ہے….
