Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

ڈیڑھ سال کے اندر ذوالفقار سائیں اور اُن کے خاندان والے اچھی طرح سے خان حویلی والوں کا اعتبار جیتنے میں کامیاب ہوچکے تھے. اِسی دوران ایک دن جب ذوالفقار سائیں کے اسرار پر کسی تقریب کے سلسلے میں عباس خان اپنی بڑی بہو حسنہ اور پوتے سیاہل خان کے ساتھ بلوچ حویلی آئے تو اپنے بنائے گئے پلان کے مطابق اُنہوں نے عباس خان کے کھانے میں ایسا زہر ملا دیا. جو آہستہ آہستہ انسان کو اندر ہی اندر کھا جاتا ہے اور اُسے پتہ بھی نہیں چلتا.
عباس خان کے ساتھ بھی یہی ہوا. چار ماہ بعد جب اُن کو اِس کے آثار ظاہر ہونے لگے تو اُن کو ڈاکڑز کی تشخیص سے پتا چلا کہ اُنہیں زہر دیا گیا ہے. جو اُن کے جگر, گردے اور ہڈیوں کو ناکارہ بنا چکا ہے. جس کا اب کوئی علاج نہیں ہے. مگر اُن کے بیٹوں نے ہار نہ مانی اور کوئی ایسی جگہ نہ چھوڑی جہاں سے تھوڑی بہت بھی شفا کی امید باقی ہو. اپنی زندگی سے ناامید ہوکر عباس خان نے اپنے بڑے بیٹے موسیٰ خان کو اپنی گدی سونپ دی. اور کچھ ہی مہینوں بعد وہ اپنے پورے خاندان کو روتا چھوڑ کر اِس دنیا سے رخصت ہوگئے. مگر ذوالفقار سائیں اور اُن کے خاندان کا انتقام ابھی بھی ختم نہیں ہوا تھا. وہ جو چیز حاصل کرنا چاہتے تھے. وہ اُنہیں اُس وقت بھی نہیں مل پائی تھی. لیکن عباس خان کی وفات کی وجہ سے وہ کچھ وقت کے لیے خاموش ہوگئے تھے.
خان حویلی میں عورتوں کو بہت عزت دی جاتی تھی. اُن کا ایک مقام ہوتا تھا. جبکہ ذوالفقار سائیں کی حویلی میں اِس کا بلکل اُلٹ تھا. عورتوں کی نہ کوئی عزت ہوتی ہے نہ ہی کوئی مرضی. اُنہیں پوری زندگی مردوں کے اشاروں پر ہی گزارنی ہوتی ہے. صرف یہی نہیں. وہ تو دوسروں کی عورتوں کو بھی نہیں بخشتے. ذوالفقار سائیں کے علاقے میں جتنے بھی قبائل آتے تھے. وہ سب ذوالفقار سائیں اور اُن کے بیٹوں کے ستائے ہوئے تھے.
زرا زرا سی بات پر اُن کو عورتوں کو کاری قرار دے کر حویلی کے اُس بیسمنٹ میں قید کردیا جاتا ہے. جہاں اُن کی زندگی جہنم سے بدتر ہوتی ہے. ذوالفقار سائیں اور اِس خاندان کے مردوں سے لے کر اُن کے خاص ملازم تک اِن باندی بنائی گئی عورتوں کی روح اور جسم سے کھیلتے ہیں. اُن کو انسان ہونے کی کیٹیگری سے باہر نکال دیا جاتا ہے.”
انا بی کی باتیں سنتیں خانی کو اپنا دل پھٹتا محسوس ہوا تھا. اُس کے چہرے پر زلزلے کے سے آثار نظر آرہے تھے.
“دوسری عورتوں کے بارے میں کیا بتاؤں میں تو خود یہ سارے ظلم سہہ چکی ہوں.
میرے بابا کی میرے تایا سے لڑائی ہوگئی تھی. جس کی وجہ سے جھگڑا اِس قدر بڑھ گیا کہ میرے تایا ذوالفقار سائیں کو بیچ میں لے آئے. جس نے ساری غلطی میرے بابا کی بنا کر سزا کے طور پر مجھے اور میری بہن شبانہ کو اُٹھوا لیا. اور اِس زندان خانے میں ڈال دیا. صرف ہم دونوں بہنیں ہی بے قصور ہونے کے باوجود یہ ظلم نہیں جھیلتی رہیں. بلکہ یہاں آنے والی ہر عورت اپنے مردوں کے کردہ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہی ہیں. اور یہ سب آج تک چلتا آرہا ہے. یہاں کی پولیس حکومت کوئی بھی اِن سب میں پڑ کر اپنے ہاتھ گندے نہیں کرنا چاہتے.”
ماہناز بی بی کی آپ بیتی سن کر خانی کا چہرا آنسوؤں سے تر ہوچکا تھا. اُس نے بے اختیار آگے ہوتے اُن کے دونوں ہاتھ چوم لیے تھے. اُس کے گھر والوں نے اُن پر کس قدر ظلم ڈھائے تھے. اُس کے باوجود اُنہوں نے اُن دونوں بہن بھائی کو سینے سے لگا کر پالا تھا.
“آج مجھے آپ کو ساری حقیقت بتا دینے کا حکم ہے. اِس لیے میں آپ سے کچھ نہیں چھپاؤں گی. افسوس کے ساتھ مگر آپ کے والد اسجد سائیں بھی اِس حویلی کی درندوں میں سے ایک تھے. اُنہوں نے بھی ظلم ڈھانے کی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی. اُن کی شادی اپنے چچا شیراز بلوچ کی بیٹی مہرین بلوچ سے ہوئی تھی. شیراز بلوچ ایک پڑھے لگے سُلجھے ہوئے انسان تھے. اُنہیں شروع سے ہی اِن دشمنیوں میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا. یہی وجہ تھی کہ وہ شادی کے بعد اپنی بیوی بچوں کے ساتھ شہر میں ہی رہے تھے. اور اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی تھی.
مگر بچپن سے طے شدہ رشتے کی وجہ سے بھائی سے دشمنی مول نہ لینے کی وجہ سے ناچاہتے ہوئے بھی اُنہوں نے اپنی بیٹی کی شادی اسجد بلوچ سے کردی. مہرین بلوچ ایک بہت ہی حسین, پڑھی لکھی اور نرم مزاج خاتون تھیں. شادی کے شروع کے کچھ سال تو اسجد بلوچ نے اُن کی محبت میں اُن کے ساتھ بہت اچھا رویہ اختیار کئے رکھا. مگر جیسے جیسے مہرین بلوچ کے سامنے اُن کی اصلیت آتی گئی. اُن دونوں کے درمیان اختلاف بڑھتے گئے. مہرین بلوچ چاہتی تھیں وہ یہ سب غلط کام چھوڑ دیں. مگر وہ اُن کی کوئی بات بھی ماننے کو تیار نہیں تھے. اِسی جھگڑے میں مہرین نے اُن سے طلاق مانگ لی تھی. اور یہ گھر چھوڑنے کا فیصلہ کردیا تھا. جس کے بعد اُنہیں طلاق تو نہ ملی مگر وہ بھی باقی باقی عورتوں کی طرح اس حویلی میں قید ہوکر مردوں کی بےعزتی سہنے کے لیے چھوڑ دی گئی تھیں.”
ماہناز بیگم دل پر پتھر رکھ کر آج خانی کو ہر بات بتاتی چلی گئی تھیں. خانی کے چہرے سے اُس کی تکلیف محسوس کرتے ماہناز بی بی کا اپنا دل دکھی ہونے لگا تھا. مگر اب خانی سے کچھ بھی چھپانے کا وقت نہیں تھا.
“میں ہی مہرین بی بی جی کی خاص ملازمہ تھی. وہ اپنی دل کی ہر بات مجھ سے شیئر کرتیں. دن بہ دن اُن کا دل اِس حویلی میں گھٹ رہا تھا. وہ آپ کے اتنی چھوٹی عمر میں ہونے والے نکاح کے بھی خلاف تھیں. مگر اُن کی ایک نہیں سنی گئی.
لیکن جیسے ہی اُنہیں عباس خان کی موت کی اصل وجہ پتا چلی. اُنہوں نے بلوچوں کا پردہ فاش کرنے کے لیے مجھے کسی طرح خان حویلی والوں تک یہ بات پہنچانے کے لیے تیار کیا. وہ بس یہ چاہتی تھیں. یہاں بیسمنٹ میں قید پل پل مرنے والی عورتوں کو انصاف مل سکے. اور ایسا صرف خان حویلی والے ہی کرسکتے تھے. ایک دن مجھے ایسا موقع مل بھی گیا.
عید کی وجہ سے کچھ خاص تحائف جو بلوچ حویلی کی طرف سے خان حویلی تک پہنچانے تھے. ڈرائیور کے ساتھ ہم کچھ ملازمیں بشرا بلوچ کے ساتھ خان حویلی آگئی تھیں.
میں نے بہت کوشش کی تھی اُس گھر کے کسی بھی ایک فرد سے اکیلے میں ملنے کی پر مجھے موقع نہ مل پایا تھا. لیکن حویلی سے نکلتے اچانک میری نظر لان میں فٹ بال کھیلتے بارہ سالہ سیاہل خان پر پڑی تھی. جس سے پہلے ایک دو بار میں بلوچ حویلی میں بھی مل کر میں اتنا تو جانتی تھی کہ سیاہل خان ایک بہت ہی سمجھ دار بچہ ہے. اپنی عمر کے باقی بچوں سے کافی زیادہ میچیور. اس لیے میں نے ان کے پیر کے کھلے تسمیں باندھنے کے بہانے اُن کے قدموں میں جھک کر وہ چٹ پکڑا دی تھی. جس پر مہرین بلوچ نے ساری حقیقت بیان کی تھی.
چٹ تو اُنہوں نے بہت ہی ہوشیاری سے میرے اشارہ کرنے پر تھام لی تھی. مگر مجھے اپنے پیروں کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دیا تھا.
اُن کا کہا جملہ مجھے آج بھی یاد ہے.
” پلیز میرے پیروں کو چھو کر مجھے گنہگار مت کریں. میرے بابا کہتے ہیں وہ دنیا کا سب سے کمزور مرد ہوتا ہے. جو عورت کو اپنے آگے جھکاتا ہے. اور سیاہل موسیٰ خان کمزور نہیں ہے. “
سیاہل خان کی بات کرتے ماہناز بیگم کے بھیگے چہرے پر عقیدت بھری خوبصورت مسکراہٹ پھیل گئی تھی.
“ایک بارہ سال کے بچے کے منہ سے ایسی بات سننا میرے لیے بہت حیران کن تھا. وہ بچہ جو منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوا تھا.جو مستقبل کا سردار تھا. اُس کی اتنی خوبصورت سوچ میرے دل میں اُس بچے کی عزت اور محبت مزید بڑھا گئی تھی. اُس دن سے ہی سیاہل موسیٰ خان کا میرے دل میں ایک الگ ہی مقام بن چکا تھا.
مہرین بلوچ بھی یہ سب سن کر بہت خوش ہوئی تھیں. اور کہیں نہ کہیں اُن کا دل آپ کی جانب سے سکون میں آچکا تھا. “
سیاہل خان کے ذکر کے دوران ایک پل کے لیے بھی ماہناز بی بی کے چہرے سے سمائل نہیں ہٹی تھی.
“میری دی گئی وہ خبر کسی قیامت سے کم ثابت نہیں ہوئی تھی. خان حویلی والے اتنے بڑے دھوکے پر جیسے پاگل ہو اُٹھے تھے.
موسیٰ خان نے غصے اور انتقام میں ذوالفقار سائیں پر حملہ بھی کروایا تھا. جس سے خوش قسمتی سے ذوالفقار سائیں بچ نکلے تھے. شاہی جرگے کے سردار ہونے کی وجہ سے اُنہوں نے بڑی تعداد میں پولیس فورس کو بھیج کر بلوچ حویلی پر ریڈ بھی کروائی تھی تاکہ اُن تمام مظلوم عورتوں کو آزاد کروا کر ذوالفقار سائیں اور اُن کے خاندان کو بے نقاب کرسکیں. مگر کچھ بکاؤ پولیس والوں کی پہلے ہی کر دی جانے والی مخبری کی وجہ سے تمام باندی بنائی گئی عورتوں کو یہاں سے کچھ ٹائم کے لیے کسی خفیہ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا.
جس کی وجہ سے پولیس فورس کو ناکام لوٹنا پڑا تھا. مگر حویلی میں پولیس کے آنے کی وجہ سے ہر جگہ جو اُن کا تماشہ لگا تھا. اور جو بے عزتی اُنہیں برداشت کرنی پڑی تھی. اُس کا بدلہ لینے کے لیے ذوالفقار بلوچ اور اُن کے بیٹے پاگلوں کی طرح کسی موقع کی تلاش میں تھے. جو اُنہیں بہت جلد مل بھی گیا تھا.
موسیٰ خان اپنی بیوی حسنہ بیگم اور بیٹے سیاہل خان کے ساتھ شہر سے اپنی حویلی کی جانب جارہے تھے جب اسجد بلوچ نے اُن پر بھرپور تیاری کے ساتھ حملہ کردیا تھا. اور اُن تینوں کو اُٹھوا لیا تھا.
اسجد بلوچ کا ارادہ موسیٰ خان اور سیاہل خان کو مار کر حُسنہ خان کو اپنی باندی بنانے کا تھا. مگر یہاں قسمت نے اُن کا ساتھ نہیں دیا تھا.
سیاہل خان کی آنکھوں کے سامنے اُن کے والد موسیٰ خان کا بے دردی سے قتل کرنے کے بعد وہ اُن کا اگلا شکار سیاہل خان تھا. لیکن موسیٰ خان کے خاص آدمیوں نے وہاں پہنچ کر اسجد بلوچ کو ختم کرکے اُن دونوں کو بچا لیا تھا.
جس کے بعد یہاں کے حالات بہت خراب ہوگئے تھے. جرگے والوں نے بہت مشکل سے موسیٰ خان کے قتل کے بدلے اسجد بلوچ کے جگہ پر ہی قتل ہونے کی وجہ سے سارا معاملہ وہیں ختم کر دیا تھا. کیونکہ اُن دنوں یہاں کے حالات بہت زیادہ خراب ہوچکے تھے.
لیکن جب بات سردار بننے کی آئی تھی تو ہمیشہ کی طرح اُس وقت بھی ذوالفقار سائیں اور اُن کے بیٹوں کو منہ کی کھانی پڑی تھی. اور سردار کے لیے ہر ایک نے سیاہل موسیٰ خان کا نام ہی تجویز کیا تھا. کیونکہ یہاں کے سب معزز لوگ بھی اِس بات سے واقف تھے. کہ اگر حکمرانی ذوالفقار سائیں کے خاندان کے ہاتھوں میں چلی گئی تو آنے والی تباہی کو کوئی نہیں روک پائے گا. اِسی وجہ سے سب نے کم عمری کے باوجود سیاہل خان کو اِس عہدے کا حقدار بنا دیا تھا.
مہرین بلوچ اتنی کوششوں کے باوجود اِن سب مظلوم عورتوں کے لیے کچھ نہیں کرپائی تھیں. اور اسی چکر میں اپنے شوہر کو گنوا دیا تھا. اسجد بلوچ جیسے بھی تھے. مگر مہرین بلوچ اپنے بچوں کو یتیم کرنے کی وجہ خود کو مانتی تھیں.. یہ دکھ سینے سے لگائے وہ کچھ عرصہ ہی زندہ رہ پائی تھیں. مگر جاتے جاتے اپنے بھائی حسن بلوچ کو آپ کی اور میران بیٹا کی ذمہ داری سونپ گئی تھیں. اُنہوں نے اپنے بھائی سے قسم لی تھی کہ وہ کچھ بھی کرکے اُن کے دونوں بچوں کو وہاں سے نکال لے.
شیراز بلوچ تو اپنی بیٹی کے لیے کچھ نہ کر پانے کی وجہ سے اُس کی اُجری زندگی کا غم لیے بہت پہلے اِس دنیا سے رخصت ہوچکے تھے.
مگر حسن بلوچ نے اپنی مرتی بہن کے آخری وقتوں میں کیا وعدہ نبھاتے عدالت میں درخواست دائر کرتے کچھ ہی پیشیوں کے بعد آپ دونوں کو وہاں سے نکال لیا تھا. جس کی وجہ سے مجبورأ ذوالفقار بلوچ کو آپ دونوں کو اُن کے حوالے کرنا ہی پڑا تھا. اور مجھے اُن بچوں کے بہت قریب ہونے کی وجہ سے اِس لیے ساتھ بھیج دیا تھا کہ آپ دونوں کے اپنے خاندان سے دور ہونے کو باوجود اُن کی محبت آپ کے دلوں میں زندہ رکھوں.
مہرین بی بی جی کبھی نہیں چاہتی تھیں کہ اِس عمر میں آپ دونوں کے کچے ذہنوں میں اِن دشمنیوں اور سازشوں کا کوئی بُرا اثر پڑے اِس لیے اُن کے کہنے پر میں نے آپ کو کبھی آپ کے خاندان کے خلاف کچھ نہیں بتایا. ہمیشہ ذوالفقار بلوچ آپ سے ملنے آکر خان حویلی والوں کے لئے جو نفرت آپ دونوں کے دلوں میں بھر کر جاتے اُسے نکالنے کا حکم نہیں تھا مجھے.
ذوالفقار بلوچ کی جانب سے نہیں بلکہ سیاہل موسیٰ خان کی جانب سے.”
حقیقت کی تلخیوں سے نڈھال خانی نے اُن کی بات پر جھٹکے سے سر اُٹھایا تھا.
” میں جانتی ہوں آپ اِس بات پر بہت حیران ہونگی. مگر میں پہلے دن سے ہی سیاہل خان سے رابطے میں ہوں. جس دن میں نے اُنہیں اُن کے دادا کے قتل کی سچائی بتائی. اُسی دن کے بعد سے سیاہل خان جو کہ بظاہر ایک کم عمر بچہ تھا. مگر جس خاندان سے وہ تعلق رکھتا تھا. اور جو کچھ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے جھیل چکا تھا. اِس سب نے اُسے پہلے سے بھی کہیں زیادہ سمجھدار اور میچیور انسان بنا دیا تھا. اُس نے ہی حویلی میں اپنا ایک آدمی بھیج کر اپنا پیغام مجھ تک پہنچاتے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے اُس عذاب سے نکلوا کر رہے گا.
حسن بلوچ عدالت کا فیصلہ بہت آسانی سے جیتے نہیں تھے بلکہ اُنہیں جتوایا گیا تھا. سیاہل خان کے چچا شہزاد خان کے ایک جج دوست کی وجہ سے. اور سیاہل خان کے ہی حویلی میں بھیجے گئے خاص آدمی کہ مشورے کی بنا پر ہی ذوالفقار بلوچ نے مجھے آپ دونوں کے ساتھ بھیج دیا تھا.
سیاہل خان نے اپنے خاندان والوں اپنے چچا اور باقی سب کا بہت زیادہ پریشر جھیلنے کے باوجود اِس سچ سے پردہ نہیں اُٹھایا تھا. کہ اُن کو عباس خان کے قتل کی خبر دینے والی میں ہوں. وہ جانتے تھے اگر یہ بات پھیل جاتی تو میرا بچنا مشکل تھا. اور آج تک یہ بات صرف اُن کے اور میرے درمیان ہی ہے. اور اب ہمارے راز میں شریک ہونے والی وہ تیسری فرد آپ ہو.
سیاہل موسیٰ خان نے ہمیشہ ہر معاملے میں میرا خیال رکھا. جب بھی حویلی والوں کی جانب سے مجھے واپس اِس جہنم میں بلانے کا ارادہ بنایا گیا. ہمیشہ اُنہوں نے کچھ نہ کچھ ایسا کرکے مجھے یہاں آنے سے روکی رکھا.
میں بہت پہلے ہی آپ کو یہ ساری سچائی بتا دینا چاہتی تھی. مگر سیاہل خان نے مجھے اِس بات کی اجازت نہیں دی. جس کی دو وجہیں تھیں. ایک یہ کہ وہ بھی مہرین بلوچ کی طرح آپ کو اِس ساری دشمنی سے دور رکھنا چاہتے تھے. اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اُنہیں آپ پر اعتبار نہیں تھا. اُن کے مطابق آپ میں بھی ذوالفقار سائیں کا خون ہے. کبھی بھی کسی مقام پر بھی آپ اُنہیں دھوکہ دے سکتی ہیں. “
اِس بات پر خانی کی آنکھوں میں غصہ جھلکا تھا. اب اُسے سمجھ آئی تھی. وہ ہر بات میں اُسے دھوکے باز کیوں کہتا آیا تھا.
“لیکن اِس سب کے باوجود وہ آپ سے بہت پیار کرتے ہیں. سردار سیاہل موسیٰ خان کی زندگی میں سب سے اُونچا مقام خانی اسجد بلوچ کا ہی ہے. مگر خانی کے نام کے ساتھ جُرا اسجد سائیں کا نام اُنہیں آپ کے قریب آنے سے روکتا ہے.
آپ نہیں جانتی مگر سیاہل موسیٰ خان کئی بار آپ سے ملنے آچکے ہیں. سب سے پہلے اُس وقت آئے تھے. جب حسن بلوچ کی وفات کے غم میں آپ پورا ہفتہ بخار میں جلتی رہی تھیں. حسن بلوچ سے کیے گئے وعدے کے مطابق میران بلوچ اُن کی ڈیڈ باڈی کے ساتھ بھی آپ کو بلوچستان لے کر نہیں گئے تھے.
میں آپ کے ساتھ ہی تھی. آپ کے حالت سے بہت پریشان تھی. اور سیاہل خان کے فون آنے پر اُنہیں سب بتا دیا تھا.
سیاہل خان خانی کی تکلیف پر کوسوں دور چین سے نہیں بیٹھ سکے تھے. اور کچھ ہی گھنٹوں میں اپنی خانی کے پاس موجود تھے. وہ اپنا ہر فرض اچھے سے نبھانا جانتے تھے تو کیسے اپنی بیوی کی تکلیف پر سکون سے بیٹھے رہتے.
سردار سائیں نے پورے دو دن آپ کی غنودگی کے عالم میں آپ کی دیکھ بھال کرتے آپ کے پاس بیٹھ کر گزار دیئے تھے. میرے لیے یہ سب دیکھنا بہت ہی حیران کن تھا کہ بلوچستان کا سردار جس شخص نے شاید کبھی ہل کر پانی بھی نہیں پیا تھا. اُس کو میں نے آپ کے کام کرتے دیکھا تھا. اور آپ کے ہوش آتے ہی وہ وہاں سے نکل گئے تھے.
اُس کے بعد اکثر کبھی آپ کے کالج میں, کبھی کسی ٹرپ پر , کسی ریسٹورنٹ میں وہ آپ کو دیکھنے گھنٹوں آپ کے قریب رہے تھے. مگر میرے بہت اسرار پر بھی آپ کو اِس بات سے بلکل لاعلم رکھا تھا. “
خانی ہونقوں کی طرح حیرت اور بے یقینی سے منہ کھولے اُن کی باتیں سن رہی تھی. اُسے اِس وقت فیل ہورہا تھا. کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی گدی اور ڈفر ہے. جس کو پتا ہی نہیں چلا کہ کوئی شخص اتنے ٹائم اُس کے قریب رہا.
“اُس دن اچانک جب آپ نے میرے سامنے بلوچستان جانے کا نام لیا تو میں ذوالفقار سائیں کے خاندان کی وجہ سے ہی نہیں چاہتی تھی کہ آپ وہاں جائیں.
مگر میران پر وہاں سے بہت زیادہ پریشر تھا. اُس کی رضامندی پر میں نے سردار سائیں کو اطلاع دی تھی. جنہوں نے اُس وقت حیرت انگیز طور پر کوئی انکار نہیں کیا تھا.
میرے لیے سردار سائیں میران بلوچ سے کہیں زیادہ خاص ہیں. جو اپنا قدیم طرز کا خاص بریسلٹ میں نے میران کو بنا کر دیا تھا. اُس سے بھی پہلے میں ویسا بریسلٹ سردار سائیں کو اُن کے بہت سارے کیے احسانوں کے بدلے نذرانے میں دے چکی تھی.
آپ کے بلوچستان قدم رکھنے سے بھی پہلے وہ آپ کی آمد سے واقف تھے.
اُس دن ساحل پر آپ سے ملنے والا شخص کوئی اور نہیں بلکہ سیاہل موسیٰ خان ہی تھے. اُس دن بھی ہمیشہ کی طرح وہ وہاں صرف آپ کو دیکھنے کے لیے موجود تھے. مگر آپ کا بنا دیکھے کسی بھی انجان شخص کو مدد کے لیے تھامنا اُن کو بلکل بھی پسند نہیں آیا تھا. اِس لیے اُس وقت وہ آپ کے ساتھ بہت سخت برتاؤ کر گئے تھے.
جس کا مداوا کرنے کے لیے بعد میں اُنہوں نے دعوت نامے کے ساتھ آپ کے لیے تحائف بھی بھجوائے تھے. جنہیں آپ نے ذوالفقار بلوچ کی آپ کے دل میں ڈالی بدگمانی کی وجہ سے دھتکار دیا تھا.
سردار سائیں نے آپ کو حویلی میں صرف اِسی لیے بلایا تاکہ آپ اُن کا ایسا رُوپ دیکھیں جس سے آپ کو اُن سے نفرت ہوجائے.

جاری ہے.