Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

” انا بی …. انا بی کہاں ہیں آپ. “
خانی کی آواز پر ماہناز بی بی نے اپنی تکلیف دہ سوچوں کو جھٹک کر آنسو پونچھتے ہاتھ میں پکڑی تصویر کو فوراً دراز کے اندر چھپا دیا تھا.
” انا بی آپ یہاں بیٹھی ہیں اور میں آپ کو پورے گھر میں تلاش کر رہی ہوں. “
خانی ماہناز بی بی کو روم میں پاکر مسکراتے ہوئے آگے بڑھی. خانی کے قریب آنے سے پہلے ہی ماہناز بیگم بہت ہی محتاط انداز میں اپنے آنسو صاف کر چکی تھیں.
” میرا بچہ واپس آگیا. کیسی رہی شاپنگ تم دونوں کی. “
خانی کی جانب محبت سے بانہیں پھیلا کر وہ مسکراتے ہوئے بولیں.
جنہیں ہمیشہ کی طرح اپنے لیے کھلا دیکھ خانی اُن میں سما گئی تھی. ہمیشہ ماہناز بیگم کی نرم گرم آغوش میں آکر وہ اپنی ساری تھکن بھول جایا کرتی تھی.
” انا بی آپکو پتا ہے نا. میں اور عینا اِس بار ویکیشنز کے لیے سوئٹزرلینڈ جارہی تھیں. بھیا نے ٹکٹ بھی بک کروا دیئے تھے. مگر عینا میڈم کا آج اچانک موڈ بدل گیا اُس کا کہنا ہے کہ ہر بار دوسری کنٹری جاتے ہیں. اِس بار اپنے ہی ملک کی سیر کیوں نہ کی جائے.
مجھے تو اُس کا یہ آئیڈیا بلکل بھی پسند نہیں آیا مگر اُس نے اتنا فورس کیا کہ اُس کی خواہش دیکھ مجھے ماننا پڑا. آپ جانتی تو ہیں اُسے اگر اُس کی بات نہ مانی جائے تو کتنا تنگ کرتی ہے. اِس لیے اب ہم دونوں سوئٹزرلینڈ نہیں بلکہ بلوچستان جا رہی ہیں. ابھی ہم دونوں شاپنگ کرنے نہیں بلکہ بھیا کے آفس اُنہیں منانے گئی تھیں. اب پلیز بھیا کی طرح آپ بھی ہم پر مت ہنسیے گا کہ بلوچستان بھی کوئی گھومنے پھرنے والی جگہ ہے. “
خانی اپنی ہی دُھن میں نان سٹاپ بولی جارہی تھی.
اپنی بات کے اختتام پر انا بی کے چہرے پر میران جیسے تاثرات دیکھ خانی جلدی سے بولی.
لیکن خانی کی بات سن کر مہناز بیگم کے چہرے پر بے یقینی کے تاثرات کے بعد اب ایک خوف سا واضح ہوا تھا. جسے اپنے دھیان میں خانی دیکھ نہیں پائی تھی.
” تو کیا میران بیٹا آپ لوگوں کو وہاں بھیجنے پر مان گئے. “
ماہناز بیگم نے جواب جانتے ہوئے بھی اپنی تسلی کے لیے ایک بار پوچھا تھا. کیونکہ اُن معلوم تھا میران کبھی بھی خانی کا اِس طرح اکیلا وہاں نہیں بھیجے گا.
” بھیا نے پہلے تو صاف انکار کر دیا مگر پھر ہم دونوں کی پورے دو گھنٹوں کی محنت کے بعد مان گئے. آپ جانتی تو ہیں وہ میری کوئی بات نہیں ٹالتے. “
ماہناز بیگم نے جھٹکے سے سر اُٹھاتے بے حد حیرانگی اور بے یقینی سے خانی کی جانب دیکھا تھا.
اُنہیں یقین نہیں آیا تھا کہ میران اسجد بلوچ ساری حقیقت جانتے ہوئے بھی اپنی لاڈلی بہن کو اِس طرح اکیلے بلوچستان کیسے بھیج سکتا ہے.
” انا بی کیا ہوا ہے. آپ کو خوشی نہیں ہوئی یہ بات سن کر. “
خانی کو لگا تھا کہ ماہناز بیگم یہ خبر سن کر بہت خوش ہونگی مگر اُن کے چہرے پر اِس کے بلکل برعکس تاثرات دیکھ خانی کی خوشی ماند پڑی تھی.
” بیٹا آپ کو کیا لگتا ہے. میں آپ کے اِس طرح اکیلے بلوچستان جانے پر خوش ہونگی. وہاں موجود ہستیوں کے بارے میں جانتے ہوئے بھی. “
ماہناز بیگم کی آنکھوں میں ایک دم سے ویرانی اُتر آئی تھی. خانی اُنہیں اپنی جان سے بڑھ کر عزیز تھی. وہ اُسے زرا سے بھی خطرے میں نہیں دیکھ سکتی تھیں.
” او ہو انا بی کونسا میں اُن لوگوں کے پاس جا رہی ہوں. میں اُن کے علاقے میں جاؤں گی ہی نہیں. تو اُنہیں کیسے پتا چلے گا کہ خانی اسجد بلوچ بلوچستان میں آئی ہوئی ہے یا نہیں. “
خانی لاپرواہی سے مسکرا کر کہتے ماہناز بیگم کا ہاتھ بہت ہی عقیدت اور محبت سے تھامتے بولی. جن کی نظریں اُس کے خوشی سے چہکتے گلابی چہرے پر تھیں. اِس خوشیوں سے جگمگاتے چہرے کو دیکھ کر ہر بار کی طرح اُنہوں نے اب بھی ایسے ہی اِس چہرے کی رونق اور شادابی برقرار رہنے کی دعا کی تھی.
خانی کی بات سن کر بہت دقت سے وہ مسکرا دی تھیں. وہ خانی سے اِس بارے میں مزید کچھ نہیں کہہ سکتی تھیں. کیونکہ جانتی تھیں وہ بہت ساری حقیقتوں سے انجان ہے. اِس لیے وہ کچھ بھی بول کر اُسے وقت سے پہلے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھیں.
اُنہیں جو بات بھی کرنی تھی میران اسجد بلوچ سے کرنی تھی. جس سے اُنہیں اِس نادانی کی توقع بلکل بھی نہیں تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” میران مجھے بلکل بھی اُمید نہیں تھی کہ آپ خانی کی وہ ضد بھی پوری کرنے کے لیے تیار ہوجائیں گے. جو اُس کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے. آپ کو کیا لگتا ہے کہ خانی بلوچستان میں قدم رکھے گی اور وہ سب لوگ انجان رہیں گے. “
ماہناز بیگم میران کے گھر آتے ہی فوراً اُس کے کمرے میں آگئی تھیں. خانی کی سگی ماں نہ ہونے کے باوجود اُنہوں نے اُسے سگی ماں سے بڑھ کر پیار دیا تھا. وہ اُسے اپنے کلیجے کا حصہ سمجھتی تھیں. جس کو وہ زرا سی بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھیں.
انا بی کی جانب دیکھتے میران اُن کے چہرے پر اُمڈ آنے والا خوف اور اُن کی اندرونی کیفیت اچھے سے سمجھ سکتا تھا. وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ اِس وقت کس قدر اذیت کا شکار ہیں.
” انا بی آپ اتنا سٹریس مت لیں. آپ جیسا سوچ رہی ہیں ویسا کچھ نہیں ہوگا. بلوچستان بہت بڑا ہے. پہلی بات تو اُن لوگوں کو خبر بھی نہیں ہوگی. کہ خانی وہاں آئی ہوئی ہے. اور اگر اُنہیں پتا چل بھی گیا تو بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا. وہ لوگ چاہ کر بھی میران اسجد بلوچ کی بہن کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے. میں خانی کو پوری سیکورٹی کے ساتھ بھیج رہا ہوں. میرے آدمی ہر وقت اُس کے آس پاس موجود ہونگے. “
میران ماہناز بیگم کو دونوں کندھوں سے تھامتے پُر یقین لہجے میں بولا تھا. مگر اُس کی کوئی بھی بات ماہناز بیگم کی تسلی نہیں کر پائی تھی.
” بیٹا اگر آپ اتنے یقین سے کہہ رہے ہو تو ایسا ہی ہوگا. مگر میں اُن لوگوں کے درمیان رہ کر آئی ہوں. اُن کی طاقت سے واقف ہوں. اُن کی درندگی اور حیوانیت دیکھ چکی ہوں. میں نہیں چاہتی میری نازک سی خانی اُس کا ایک فیصد بھی برداشت کرے. “
اپنے ماضی کے اذیت بھرے لمحے یاد کرکے انا بی کی آنکھوں سے بہت سارے آنسو ٹوٹ کر اُن کی سیاہ چادر میں جذب ہوگئے تھے.
مگر وہ میران کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھیں. اِس لیے فوراً سے اپنے آنسو صاف کرتے مُسکرا کر اُس کی جانب دیکھا تھا.
” میری دعائیں ہمیشہ میرے بچوں کے ساتھ ہیں. آپ نے ہمیشہ اپنی چھوٹی بہن کی حفاظت کی ہے مجھے پورا یقین ہے اِس بار بھی ایسا ہی ہوگا.”
دل میں بار بار آتی منفی سوچوں کو جھٹکتے ماہناز بیگم نے میران کو کہتے جیسے خود کو یقین دلایا تھا.
میران نے اثبات میں سر ہلاتے اُن کی بات کی تصدیق کی تھی. اُس نے آج تک اپنی بہن کی کوئی خواہش رد نہیں کی تھی پھر یہ کیسے کرتا.
” بیٹا آپ فریش ہوکر آجاؤ میں کھانا لگواتی ہوں. اور زرا خانی کو بھی دیکھ لوں میں. اپنے کمرے میں پتا نہیں کیا اودھم مچا رکھا ہے اُس نے. “
ماہناز بیگم کی بات کے جواب میں مُسکرا کر سر ہلاتے میران واش روم کی جانب بڑھ گیا تھا.
” تھینک گاڈ انا بی آپ آگئیں. ابھی میں آپ کے پاس ہی آنے والی تھی. پلیز میری ہیلپ کریں نا. میں کونسے ڈریسز ساتھ لے کر جاؤں. وہاں کا موسم ستمبر میں کیسا ہوتا ہے. ٹھنڈا یا گرم. “
خانی چہرے پر ایسے تاثرات لیے کھڑی تھی کہ جیسے یہ اُس کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہو. جو کہ اُس کی اِس وقت حالت دیکھ کر لگ بھی رہا تھا.
وہ ہمیشہ اپنے لیے چھوٹی سی چھوٹی چیزوں کی چوائس کے لیے انا بی کی رائے ضرور لیتی تھی. چاہے اُنہیں اُس بات کے بارے میں کچھ پتا ہو یا نہ ہو.
مگر آج وہ اُن سے جس بارے میں پوچھ رہی تھی. اُس بارے میں تو وہ اُسے اچھے سے گائیڈ کر سکتی تھیں.
” بلوچستان میں ستمبر کے موسم میں نہ تو زیادہ ٹھنڈ ہوتی نہ ہی گرمی. پاکستان کے باقی علاقوں کی طرح وہاں بھی سردی کی شروعات ہورہی ہوتی ہے. “
انا بی نرم سی مُسکراہٹ کے ساتھ اُسے یہ باور کرواتے بولیں کہ بلوچستان بھی پاکستان کا حصہ ہے جہاں کا موسم بھی تقریباً باقی جگہوں کے جیسا ہی ہوتا ہے.
” تھینکیو انا بی. لو یو. “
خانی محبت سے انا بی کا گال چومتے واپس اپنے سوٹ کیس کی جانب بڑھ گئی تھی. جب ماہناز بیگم کی نظر سوٹ کیس میں موجود خانی کے مہرون سکارف پر پڑی تھی.
جو اُنہیں بہت سی باتوں کی یاد دلا گیا تھا.
” خانی. “
ماہناز بی بی نہیں چاہتی تھیں کہ خانی یہ سکارف لے کر جائے. مگر کسی خیال کے تحت اُن کے وا ہوئے ہونٹ واپس ایک دوسرے میں پیوست ہوچکے تھے. وہ ایسی کوئی بھی روک ٹوک کرکے خانی کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھیں.
” انا بی آپ نے کچھ کہا مجھ سے. “
ماہناز بی بی کے پکارنے پر خانی نے پلٹ کر اُن کی جانب دیکھا تھا. جس پر مسکرا کر نفی میں سر ہلاتے وہ اُسے ڈنر کے لیے نیچے آنے کا کہتیں واپس پلٹ آئی تھیں.
کہنے کو وہ اِن دونوں بچوں کی ملازمہ تھیں. ایسی زرخرید ملازمہ جس کا کام صرف خدمت کرنا تھا. اور بدلے میں کسی قسم کے معاوضے کی کوئی امید نہ کرنا. مگر اِن دونوں نے اُنہیں اتنی عزت اور محبت دی تھی. اُنہیں ماں کا درجہ دیا تھا. کہ وہ دونوں اُنہیں اپنی جان سے بڑھ کر عزیز ہوچکے تھے. اُن کی تکلیف اور اذیت بھری زندگی میں یہ دونوں خدا کی طرف سے بھیجے گئے کسی تحفے سے کم نہیں تھے.
وہ دن رات اپنے رب سے صرف یہی دعا کرتی تھیں کہ اِن دونوں بچوں کی زندگی میں کبھی کوئی تکلیف کوئی دکھ نہ آئے. کیونکہ کہیں نہ کہیں وہ جانتی تھیں کہ بہت جلد وہ اذیت ناک حقیقت جس سے وہ اور میران ہمیشہ سے خانی کو بچاتے آئے تھے وہ سامنے آنے والی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” خانی مجھے ایک بات سمجھ نہیں آرہی کہ پہلے میران بھیا اور پھر انا بی نے تمہارے بلوچستان جانے والی بات پر اتنا شدید ردعمل کیوں دیا. ایسا کیا چھپا ہے آخر بلوچستان میں. کہ وہ تمہیں بھیجنے سے اتنا ڈر رہے تھے.”
عینا خانی کے ساتھ گاڑی کی بیک سیٹ پر بیٹھی کب سے دماغ میں چلتے سوال کو زبان پر لاتے ہوئے بولی.
کیونکہ خانی کو رخصت کرتے ماہناز بی بی کے چہرے پر موجود بے چینی اُسے صاف نظر آئی تھی.
وہ دونوں صبح صبح ہی ڈرائیور کے ساتھ بلوچستان کے لیے نکل آئی تھیں.
دو گھنٹوں کے سفر کے بعد اُنہوں نے کراچی سے بلوچستان کے علاقے لسبیلا میں داخل ہونا تھا. جہاں سے عینا کے مطابق اُنہیں سب سے پہلے سسی پنوں کے مزار پر جانا تھا. عینا کو شروع سے ہی محبتوں کی یہ لازوال داستانیں سننے کا بہت شوق تھا. اور اب موقع ملتے ہی وہ اُن سب قصے کہانیوں کی حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی تھی. جس کے لیے وہ اپنی بیسٹ فرینڈ خانی کو بھی ساتھ گھسیٹے وہاں پہنچ چکی تھی.
خانی اور عینا کی دوستی کالج میں ہوئی تھی. اور کچھ ہی وقت میں وہ دونوں ایک دوسرے کی بہت گہری دوستیں بن چکی تھیں. کالج کے بعد اُنہوں نے ایک ہی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا تھا. اُن دونوں کو ہی گھومنے پھرنے کا بہت شوق تھا. جس کی وجہ سے وہ ہر سمسٹر کے بعد ملنے والی چھٹیوں میں کہیں نہ کہیں ٹرپ پر نکل جاتی تھیں.
” نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے. تم جانتی تو ہو وہ دونوں میرے معاملے میں حد سے زیادہ ٹچی ہیں. اور بلوچستان کے جو حالات ہیں اُنہیں کی وجہ سے وہ میرے یہاں آنے کے خلاف تھے. “
خانی نے بہت ہی صفائی سے عینا کو جھوٹ بول دیا تھا. کیونکہ آنے سے پہلے انا بی اور میران نے اُس سے وعدہ لیا تھا کہ وہ بلوچستان میں موجود لوگوں کے ساتھ اپنے تعلق کے بارے میں کسی کو بھی کچھ نہیں بتائے گی. کسی کے سامنے کوئی ذکر نہیں کرے گی. چاہے وہ عینا ہی کیوں نہ ہو.
” اوہ ہاں. میری ماما بھی اِنہیں باتوں کی وجہ سے میرے یہاں آنے پر کچھ خاص خوش نہیں تھیں. مگر ہم نے کونسا یہاں ہمیشہ کے لیے رہنا ہے. کچھ دنوں کی بات ہے. اور ویسے بھی ہمارے علاوہ یہاں آؤٹ آف کنٹری سے اتنے لوگ آتے سیاحت کے لیے. جب اُنہیں کچھ نہیں ہوتا تو ہمیں بھی کچھ نہیں ہوگا. “
عینا گاڑی سے باہر لمحہ بہ لمحہ گزرتے خوبصورت نظاروں کی جانب دیکھتے بے فکری سے بولی.
وہ لوگ جیسے ہی لسبیلا کے علاقے ساکراں میں داخل ہوئے اردگرد اتنے سارے کھجوروں کے درخت روڈ کے اردگرد اور دور تک پھیلے اُن کے ساتھ ساتھ چلنا شروع ہوچکے تھے.
اُن دونوں کو یہ قدرتی مناظر بہت خوبصورت لگ رہے تھے. اتنی اچھی شروعات دیکھ خانی کا موڈ کافی خوشگوار ہوچکا تھا.
مگر اُس کا خوشگوار موڈ غارت تب ہوا جب اُن کی گاڑی دُریجی روڈ سے سسی پنوں کے مزار کی جانب جاتی کچی سڑک پر مُڑی. تیز دھوپ اور کچے راستے پر اُڑتی دھول مٹی دیکھ کر خانی کے چہرے کے زاویے بگڑ چکے تھے. وہ بہت زیادہ سکن کانشیس تھی. اپنی سکن کے معاملے میں وہ زرا برابر بھی کمپرومائز نہیں کرتی تھی. اُس کی سکن تھی بھی بہت پیاری. صحت مند سی اور روئی کی طرح نرم وملائم, اُس کے چہرے پر ہر وقت گلابیاں چھلک رہی ہوتی تھیں. دیکھنے والے چاہے مرد ہو یا عورت اُس کے دو آتشہ حُسن سے چند پل کے لیے نظر نہیں ہٹا پاتے تھے. ماہناز بی بی ہمیشہ اُس کے گھر سے نکلنے سے پہلے اُس کی نظر ضرور اُتارتی تھیں. اُنہیں اکثر خانی کا یہ حُسن بہت سے خدشات اور خوف میں مبتلا کیے رکھتا تھا.
وہ جیسے ہی زرا سی بھی تیز دھوپ میں نکلتی اُس کا چہرا بلکل لال ہوکر خون چھلکانے کے در پہ ہوجاتا.
اب وہاں صحرائی علاقے میں اتنی تیز دھوپ دیکھ خانی کو اپنے جلد بازی میں کیے غلط فیصلے کا احساس ہوا تھا.
” خانی تم اپنا موڈ کیوں خراب کررہی ہو. تمہاری سکن کو اِس دھوپ سے بلکل بھی نقصان نہیں پہنچے گا. اور ویسے بھی تمہارے پاس تمہارا سکن لوشن موجود ہے تو سہی. “
عینا خانی کے چہرے پر اُمڈ آنے والے غصے کو کم کرتے بولی. مگر خانی کچھ خاص مطمئن نہیں لگ رہی تھی.
کافی دیر کے بعد وہ خانی کا موڈ بحال کرنے میں کامیاب ہوچکی تھی.
کیونکہ اردگرد اُڑتی مٹی کے پیچھے اب پہاڑی سلسلہ شروع ہوچکا تھا. اور بہت ہی دلچسپ منظر پیش کررہا تھا.
تھوڑی دیر کی مزید مسافت طے کر کے وہ لوگ سسی پنوں کے مزار پر پہنچ چکی تھیں. گاڑی سے اُتر کر لمبی سی راہداری عبور کرکے وہ دونوں درگاہ کے اندر داخل ہوئی تھیں.
اُن دونوں نے ہی سسی پنوں کی محبت کی داستان سن رکھی تھی. کہ کیسے ظالم سماج نے اُن دو محبت کرنے والوں کے درمیان میں آکر اُن کو جدا کرنے کی کوشش کی تھی. مگر اُن کی سچی محبت کی طاقت کے آگے کسی کی نہ چل سکی تھی. اور وہ دونوں دنیا والوں سے اپنی محبت کو محفوظ رکھنے کے لیے ﷲ کے حکم سے ایک ساتھ زمین کے اندر سما گئے تھے.
” خانی تم جانتی ہو بہت سے محبت کرنے والے یہاں آکر اپنی محبت کی سلامتی کی دعا مانگتے ہیں. “
عینا خانی کے ساتھ مزار کے اندر داخل ہوتے بولی. جہاں سسی پنوں کی قبر موجود تھی. مزار کو بہت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا. جسے دیکھ ایک پل کے لیے خانی کی آنکھیں بھی خیرا ہوئی تھیں. مگر عینا کی بات سنتے وہ اُسے دیکھ کر رہ گئی تھی.
وہ نہیں جانتی تھی کہ اُس کی سوچ ٹھیک ہے یا غلط. مگر اُس کے مطابق دعا تو صرف ﷲ تعالیٰ سے مانگی جانی چاہئے. وہ عینا کو وہاں کھڑے ہوکر دعا مانگتے دیکھ اُس سے اِس حوالے سے مکمل بحث کرنے کا ارادہ رکھتی تھی. اُسے عینا کا اِس طرح ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگنا بلکل بھی ٹھیک نہیں لگ رہا تھا. مگر اِس وقت وہ سب لوگوں کے سامنے عینا کو ٹوکنے کے بجائے خاموش رہی تھی.
مزار سے نکل کر وہ لوگ اُس کے احاطہ میں ہی ایک طرف جھونپڑی میں موجود ایک درمیانی عمر کے شخص کی جانب بڑھ گئی تھیں. جن کے قریب اور بھی بہت سے لوگ موجود تھے. وہ شاید وہاں کے کیئر ٹیکر تھے. جنہیں لوگ وہاں کا خلیفہ کہہ کر پُکار رہے تھے. اپنے سامنے ایک بڑا سا پتھر رکھے وہ اُس پر موجود سسی کے قدموں کے نشان دیکھا رہے تھے. اور ساتھ ہی اُن کی زندگی کی تمام کہانی بھی سُنا رہا تھا.
خانی زیادہ دیر وہاں کھڑی نہیں ہو پائی تھی. اور عینا کا بازو پکڑے وہاں سے نکل آئی تھی. مگر عینا کا اتنی جلدی وہاں سے نکلنے کا ارادہ نہیں تھا.
اِس لیے وہ خانی کو لیے ایک بار پھر مزار کے سامنے آکھڑی ہوئی تھی.
” اگر انسان محبت کریں تو ایسی لازوال. جس میں کچھ بھی کھونے کا ڈر نہ ہو. جس میں کوئی مطلب کوئی غرض نہ ہو. بہت سے لوگ محبت تو کر لیتے ہیں پر اُسے نبھانا بھول جاتے ہیں.
محبت ایک ایسا جذبہ ہے. جس کی قید میں عمریں بیت جاتی ہیں مگر اُس کی سزا کبھی ختم نہیں ہوتی. محبت میں بے وفائی کی معافی نہیں ہوتی. اور نہ ہی اِس کا کبھی بھی کوئی مداوا کیا جا سکتا ہے.”
سسی پنوں کے مزار پر نظریں جمائے عینا ایک جذب کے عالم میں بولی.
” اوہ پلیز عینا ناٹ اگین. اِس وقت میرا بلکل بھی موڈ نہیں ہے تمہارا یہ عشق و محبت کا لیکچر سننے کا. پہلے ہی میں بہت پچھتا رہی ہوں تمہارے ساتھ یہاں آکر. بھیا نے اچھے بھلے سوئٹزرلینڈ کے ٹکٹ بک کروائے تھے. مگر تمہیں تو فضول کی یہ من گھڑت کہانیاں سننے کے لیے بلوچستان کے اِس رومانوی علاقے میں آنا تھا. اگر اِس اتنی تپتی دھوپ میں میری سکن خراب ہوئی تو میں بخشوں گی نہیں تمہیں. “
خانی اکتائے ہوئے لہجے میں کہتی چہرے کو تیز دھوپ کی تپش سے بچانے کے لئے اپنے سکارف سے ڈھانپتے ہوئے بولی.
” تمہیں اب بھی یقین نہیں ہورہا کہ سسی پنوں کی یہ لو سٹوری سچی ہے. اپنی آنکھوں سے اُن کا مزار دیکھنے کے باوجود بھی. “
عینا خانی کی بات پر تاسف سے بولی. وہ ابھی تک اِس جگہ کے سحر سے نکل نہیں پارہی تھی. جبکہ اُس کے برعکس پیار و محبت جیسے جذبوں سے بے پرواہ اُس کی دوست خانی کو یہ سب فرضی کہانی سے زیادہ کچھ نہیں لگ رہا تھا.
” ہاں بلکل. اتنی پرانی بات ہے. کہاں یاد ہوگی لوگوں کو. جس کے کان میں جو بات پڑتی ہے. وہ خود سے ہی اُس کو لےکر اپنی مرضی کی کہانی بنا لیتے ہیں. جیسے کہ وہ مزار والے انکل بول رہے تھے کہ زمین پھٹ گئی اور سسی پنوں اُس میں سما گئے. اِن سب باتوں سے میں تو بے وقوف بننے والی بلکل بھی نہیں ہوں. اور آپ میڈم عشق و محبت کی دیوی آپ کی لائف میں ایسی کوئی سٹوری بن بھی نہیں سکتی. تمہارے اور جنید کے گھر والے ویسے بھی مان چکے ہیں رشتے کے لیے. سو پلیز حقیقی دنیا میں واپس لوٹ آؤ. “
خانی کو یقین نہیں آرہا تھا کہ کیسے کسی کے کہنے پر بھی زمین پھٹ سکتی ہے. وہ عینا کے کھوئے کھوئے انداز پر چوٹ کرتی اُس کو مذاق بناتے بولی.
باتیں کرتے وہ دونوں مزار کے احاطے سے نکل آئی تھیں. وہ دونوں جیسے ہی اپنی گاڑی کی جانب بڑھیں. کچھ فاصلے پر بنی کچی سڑک سے پانچ بلیک کلر کی لینڈ کروزرز ایک ہی قطار میں بہت ہی تیز رفتاری سے گزرتیں اُن کے اردگرد مٹی کا طوفان برپا کر گئی تھیں.
” واٹ دا ہیل. یہ کون پاگل لوگ تھے. “
خانی چہرے اور بالوں پر پڑنے والی مٹی پر غصے سے چلاتے ہوئے بولی.
” سردار سیاہل موسیٰ خان یہ سارا علاقہ اُنہیں کا ہے. “
اُن کو راستہ دیکھانے کے لیے ساتھ آیا آدمی دور جاتی دھول اُڑاتی گاڑیوں کو ستائش بھری نظروں سے دیکھتے اُن کی معلومات میں اضافہ کرتے بولا.
اِس نام پر مٹی جھاڑتے خانی کے ہاتھ وہیں ساکت ہوئے تھے. اُس نے جھٹکے سے سر اُٹھاتے اُس جانب دیکھا تھا.جہاں اب مٹی کی اُٹھتی گرد کے علاوہ کچھ نہیں تھا.

جاری ہے