No Download Link
Rate this Novel
Episode 37
” سردارنی سائیں آپ کو سردار سائیں اُوپر کمرے میں بلا رہے ہیں. “
ملازمہ نے خانی کے پاس آتے سیاہل خان کا پیغام سنایا تھا. آج سمن کی مہندی کی رسم تھی. خانی اِس وقت اورنج اور لائٹ گرین فل کامدار لہنگے پر موتیے کے پھولوں کا زیور پہنے اپنی نزاکت اور بے پناہ حُسن کی رعنائیاں اردگرد بکھیرتے پورے ماحول میں اپنے جلوے بکھیر رہی تھی. سیاہل جو اُس کا یہ سندر رُوپ دیکھنے کو ترس رہا تھا. وہ اُس کے سامنے نہ جانے کی تو جیسے قسم کھا چکی تھی.
سیاہل جتنی ڈھیٹائی سے ہر پانچ منٹ بعد ملازمہ کو بھیج رہا تھا. خانی اُس سے بھی زیادہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے اُن کو انکار کیے جارہی تھی. آج اُسے اِس بات کا فائدہ بھی ہورہا تھا. کہ زنان خانے میں غیر عورتوں کی وجہ سے آج سیاہل اِس سائیڈ پر اُسے زبردستی لینے آبھی نہیں سکتا تھا.
کچھ کاموں میں مصروف ہونے اور کچھ سیاہل خان پر غصہ ہونے کی وجہ سے کل اُس نے مہندی نہیں لگوائی تھی. اِس لیے ابھی تیار ہونے کے بعد وہ مہندی لگوا رہی تھی. سخت ناراضگی دیکھانے کی وجہ کل رات وہ روم میں ہی نہیں گئی تھی. مگر صبح اُسے پتا چلا تھا کہ سیاہل کسی ضروری کام کی وجہ سے حویلی سے باہر ہی تھا. اور رات بھر واپس نہیں آیا تھا. جس پر خانی کو مزید غصہ آگیا تھا کہ سیاہل خان کی نظر میں اُس کی ناراضگی کی پرواہ ہی نہیں تھی. اُس نے اب دل میں ڈیسائیڈ کر لیا تھا کہ اِس شادی کے چلتے وہ نہ ہی کسی فنکشن میں سیاہل خان کے سامنے آئے گا اور نہ ہی روم میں جائے گی.
ویسے بھی زرا سے اُس کے تیار ہونے پر جو سیاہل خان کے بہکے خطرناک تیور سامنے آتے تھے. وہ خانی کی جان لرزا کر رکھ دیتے تھے. اِس لیے وہ اب اِس ناراضگی سے بھرپور فائدہ اٹھانے والی تھی.
ملازمہ تین بار اُسے بلانے آچکی تھی. مگر ہر بار اُس کا انکار ہی تھا.
” کیا ہوا بیٹا سب ٹھیک ہے نا. آپ کی کوئی ناراضگی چل رہی ہے کیا سیاہل کے ساتھ. “
کس ٹائم سے یہ سب نوٹ کرتی حسنہ بیگم آخر پوچھ بیٹھی تھیں.
” ماں آپ کا صاحبزادے پتا نہیں خود کو سمجھتے کیا ہیں. بہت ہی اکڑو اور گھمنڈی ہیں. مجھے نہ ہی بات کرنی ہے اُن سے نہ ہی ملنا ہے. اتنی آسانی سے وہ کیسے مجھے اِس گھر سے نکل جانے کو کہہ سکتے ہیں. “
خانی کی آنکھیں سیاہل خان کے الفاظ یاد کرتے چھلک پڑی تھیں. وہ ہمیشہ اُس کے نرم لہجے اور کیئرنگ الفاظ کی عادی تھی. یہ سخت الفاظ اُسے کسی صورت برداشت نہیں ہورہے تھے.
” اوہ ہو میری گڑیا اِس میں رونے کی کیا بات ہے. سیاہل نے اُن لوگوں کو سامنے دیکھ غصے میں بول دیا ہوگا. ورنہ آپ جانتی تو ہو. وہ آپ سے کتنا پیار کرتے ہیں.”
حسنہ بیگم نے اُسے محبت سے پچکارتے اُس کا غصہ کم کرنا چاہا تھا.
” آپ کہاں بھلا اپنے بیٹے کی غلطی بنائیں گی. آپ کو تو میں ہی اتنی سی بات پر روتی بے وقوف لگ رہی ہونگی نا.”
خانی کو اُن کا سیاہل کی حمایت کرنا بلکل بھی پسند نہیں آیا تھا. اِس لیے وہ اُن کی جانب بھی ناراضگی سے دیکھتی منہ پھلاتے ہوئی بولی.
خانی ایک تو لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی. اوپر سے اُسکا روٹھا انداز اُسے مزید حسین بنا گیا تھا. حسنہ بیگم نے دل ہی دل میں اس کی نظر اُتار لی تھی.
کب سے کچھ فاصلے پر بیٹھ کر یہ سب دیکھتی اور سنتیں بی بی سائیں بھی خود کو اُن کے پاس آنے سے روک نہیں پائی تھیں.
” بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے میری بہو. سیاہل خان کو کسی کے سامنے یا کسی بھی صورت میں خانی کو یہ گھر چھوڑ کر جانے والی بات نہیں کہنی چاہئے تھی. بیٹا آپ کو جتنی دیر ناراض رہنا ہے آپ رہو. میں آپ کے ساتھ ہوں. “
بی بی سائیں خانی کو ساتھ لگاتیں مسکرا کر بولتی اُس کی حمایتی بنی تھیں. خانی جو کافی دنوں سے اُن کے رویے میں بہتری محسوس کررہی تھی. آج اُن کے اتنے پیار بھرے انداز پر اُس کا چہرا جیسے کھل اُٹھا تھا. حسنہ بیگم کو بھی بی بی سائیں کو خانی سے اپنائیت دیکھ بہت خوشی ہوئی تھی. وہ شروع سے جانتی تھیں. کہ بی بی سائیں زیادہ دیر سیاہل کی خانی کو ناپسند نہیں کرسکیں گی. اگر سیاہل کی خانی میں جان تھی تو اُن کی سیاہل میں. اور وہ اِس بات کا تو اچھے سے اندازہ لگا چکی تھیں کہ اُن کے پوتے کی دلی خوشی خانی کے علاوہ ناممکن تھی. اِس لیے جب ذہن سے نفرت کی پٹی ہٹی تو اُنہیں یہ معصوم سی سازشوں سے پاک لڑکی بہت پیاری اور دل کے قریب لگنے لگی تھی.
” تھینکیو بی بی سائیں. آپ دے اپنے بیٹے کا ساتھ میرے ساتھ تو اب میری بی بی سائیں ہیں.”
خانی بھی بی بی سائیں کے قریب ہوتی حسنہ بیگم کو دیکھتے ناراضگی سے بولی.
” سردانی سائیں آپ کو عینا بی بی جی کچن میں بُلا رہی ہیں. “
ملازمہ کے بلاوے پر خانی وہاں سے اُٹھتی حیران ہوتی کچن کی جانب بڑھی تھی. اُس کی مہندی اُس کی دونوں ساسوں کے اسرار پر دونوں ہاتھوں پر فل بازوؤں تک لگائی تھی. اُس کے لہنگے کے سلیوز ہاف تھے اِس لیے کہنیوں تک مہندی لگائی گئی تھی.
خانی عینا کو پکارتی کچن میں داخل ہوئی تھی. مگر وہاں عینا تو کیا کسی ملازمہ کا بھی کوئی نام و نشان نہیں تھا. خانی بہت حیران ہوتے واپس جانے کے لیے پلٹی تھی. لیکن اپنے پیچھے کھڑے سیاہل خان کو دیکھ اُس کے اوسان خطا ہوئے تھے.
جو وائٹ قمیض شلوار پر بلیک شال کندھوں پر لیے اپنی چھا جانے والی شاندار پرسنیلٹی کے ساتھ بھرپور مردانہ وجاہت کا شاہکار معلوم ہورہا تھا.
دونوں کی نظریں ملتیں کچھ پل کے لیے ایک دوسرے میں کھو سی گئی تھیں.
خانی جو سیاہل خان سے سخت ناراض تھی. اُس کی نگاہوں کی طلسماتی حصار سے نکلنا اِس وقت اُس کے لیے بھی ایک امتحان بن چکا تھا.
جبکہ سیاہل کی کیفیت بھی کچھ مختلف نہیں تھی. خانی کا ہوش ربا دلفریب سراپا کچھ پلوں میں ہی سیاہل کے دماغ پر ایک سرور بھرا نشہ سا طاری کر گیا تھا.
سفید موتیے کی بنی ماتھا پٹی, بڑے بڑے ائیرنگز اور اُسی طرح کی پھولوں سے سجی خوبصورت سی نازک نتھ دیکھ سیاہل خان کا بُری طرح گھائل ہوتا دل بے قراری سے اُس کی جانب ہمکنے لگا تھا.
رہی سہی کسر اُس کے نازک سراپے سے اُٹھتی مہندی اور پھولوں کی ملی جلی مدہوش کن خوشبو نے پوری کر دی تھی. سیاہل نے بہکے بہکے انداز میں خانی کی جانب قدم بڑھائے تھے.
” سردار سائیں میرے قریب آنے کی کوشش مت کیجئے گا ورنہ… “
سیاہل خان کو خطرناک تیور لیے اپنی جانب پیش رفت دیکھ خانی اپنے لہجے کی کپکپاہٹ پر قابو پاتے بہت مشکل سے جملے ادا کر پائی تھی.
” ورنہ کیا….. “
سیاہل خان خمار آلود لہجے میں اتنا ہی بولتا ایک ہی جست میں قدم قدم پیچھے بڑھاتی خانی پر حملہ آور ہوتے اُسے اپنے حصار میں قید کر گیا تھا.
” ورنہ میں چلانا شروع کردوں گی. چھوڑیں مجھے میرے قریب آنے کی ضرورت نہیں ہے. “
خانی اپنی کمر پر جمے اُس کے ہاتھ ہٹانے کی کوشش کرتی خفگی سے بولی. جبکہ اُس کا چہرا سیاہل خان کی نزدیکی پر تپ کر لال ہوچکا تھا. دونوں ہاتھوں پر مہندی لگے ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ مزاحمت بھی نہیں کر پارہی تھی.
” میں نے کب روکا ہے سردارنی صاحبہ آپ کو کسی بھی بات سے. جو مرضی ہے کریں. چیخیں چلائیں غصہ کریں مگر مجھ خود سے پیار کرنے سے روکنا کسی کی تو کیا آپ کے بس کی بھی بات نہیں ہے. جو صبح سے مجھے تڑپا رہی ہیں آپ. اُس کا حساب دینے کے لیے تیار ہوجائیں ابھی آج کوئی مہلت نہیں ملنے والی. آج تو مجھے لگتا ہے آپ کو اپنی جنونی عشق کی جھلک دکھانی ہی پڑے گی.”
سیاہل نے جھک کر خانی کے گال پر اپنے ہونٹوں کا پرشدت لمس چھوڑتے اُس کے کان کی لوح کو چھوتے مخمور سی سرگوشی کی تھی. جبکہ اُس کی گھمبیر جذبوں سے بوجھل آواز اور الفاظ پر خانی کے پورے وجود میں ایک سنسنی سی دوڑ گئی تھی.
اپنے گال پر سیاہل کے ہونٹوں کی نرمی کے ساتھ اُس کی مونچھوں اور شیو کی چھبن خانی کا دل لرزا گئی تھی.
سیاہل نے خانی کی مزاحمت کو صاف نظر انداز کرتے اُسے بانہوں میں اُٹھاتے وہ کچن سے نکل آیا تھا.
” آپ سمجھتے کیا ہیں خود کو. آپ کو میری بات سمجھ نہیں آرہی کیا. مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی. چھوڑیں مجھے. “
خانی کی کمزور سی مزاحمت ابھی بھی جاری تھی. جبکہ سیاہل خان کو اب خانی کا چیخنا چلانا مزا دے رہا تھا. وہ پچھلی راہداری سے ہوتے خانی کو لیے اپنے روم میں آگیا تھا. اور خانی کو گود سے نیچے اُتارنے سے پہلے ہی روم لاک کردیا تھا.
” سیاہل خان آئی ہیٹ یو. “
خانی کا غصہ سیاہل خان پر مزید بڑھ چکا تھا. زیادہ کوفت تو اُسے ہاتھوں پر لگی مہندی پر ہورہی تھی. جو کافی حد تک سوکھ چکی تھی. لیکن خانی ابھی بھی اُس کے لگے ہونے کہ وجہ سے اپنے ہاتھ استعمال میں نہیں لا پارہی تھی.
” بٹ آئی لو یو ٹو زندگی.”
سیاہل نے کچھ فاصلے پر کھڑی خانی کا سر سے پیر تک بھرپور انداز میں جائزہ لیتے جس انداز میں کہا تھا. وہ خانی کو لرزنے پر مجبور کر گیا تھا. اُس کا اِس وقت دل چاہا تھا کہ سیاہل خان کی اِن شوخ نظروں پر ہاتھ رکھ دے یا اِن سے بچنے کے لیے کہیں چھپ جائے.
” مجھے نہیں پتا تھا تم ناراض ہوکر اتنی حسین لگو گی. اور مجھے تم پر اتنا پیار آئے گا. “
سیاہل خانی کے قریب آتے اُس کے سہانے رُوپ پر چوٹ کرتے بولا.
خانی سیاہل خان کی جانب ہوتی غور ہی نہیں کر پائی تھی. اور اُس سے بچنے کی کوشش کرتے پیچھے ہوتی دیوار سے جا لگی تھی. دیوار دیکھ اُس کا رنگ اُڑ گیا تھا. اب اُسے سیاہل خان کی شدتوں سے بچنا ناممکن لگ رہا تھا. اور یہی سوچ اُس کی سانسیں نکال گئی تھی.
سیاہل اُس کے اردگرد بازو ٹکاتے اُسے مکمل اپنے حصار میں قید کر گیا تھا.
اور ایک گھوری سے اُس کے ریڈ لپسٹک سے سجے ہونٹوں کو نوازتے اُن پر جھکا تھا. جو کب سے اُس کا ضبط آزما رہے تھے. خانی ہاتھ کا استعمال تو نہیں کرسکتی تھی. مگر اُس نے اِس جان لیوا وار سے بچنے کے لیے اپنے ہونٹوں کو آپس میں سختی سے میچ لیا تھا.
جب اُس کی اتنی معصوم اور بچکانہ حرکت پر سیاہل نے بہت مشکل سے اپنا قہقہ روکا تھا.
” یہ کیا حرکت ہے. “
سیاہل نے مصنوعی کڑے تیوروں سے اُسے گھورا تھا.
” سیاہل خان میں ناراض ہوں آپ سے. اور خبردار جو ایسی کوئی بھی حرکت کرکے میری تیاری خراب کرنے کی کوشش بھی کی آپ نے تو. “
خانی نے بھی آگے سے غصہ دیکھاتے تیوری چڑھا کر اُسے دیکھا تھا. اندر سے چاہے دل کی حالت خراب تھی. اور پورا جسم لرز رہا تھا. مگر اوپر سے وہ شیرنی بنی سیاہل خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ڈٹ کر کھڑی تھی. اور یہی بات سیاہل خان کے زیادہ بہکنے کی وجہ بن رہی تھی.
خانی کی یہ چھوٹی چھوٹی دھمکیاں اُس کے جذبات میں مزید الاؤ بھڑکا رہی تھیں.
سیاہل نے خانی کی نازک کمر میں ہاتھ ڈالتے اُسے قریب کیا تھا.
” یہ خوبصورت لڑکی اُس کی یہ سجاوٹ میرے لیے ہی تو ہے. اِسے بگاڑنے کا حق بھی میرا ہی ہے اور سنوارنے کا بھی. اور سردارنی صاحبہ آپ کا یہ گریز ہی مجھے آپ سے مزید قریب کررہا ہے. اب تو یہ دل اِس تیاری کو خراج تحسین پیش کیے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گا. “
سیاہل خانی کے چہرے پر اپنی گرم سانسیں چھوڑتے اُس کا تنفس بگاڑ گیا تھا. سیاہل کے ہونٹ مسلسل گستاخیوں پر آمادہ ہوتے کبھی اُس کے چہرے کے ایک ایک حصے ہو چھو رہے تھے. خانی کی نتھ جو سیاہل کی راہ میں رکاوٹ پیدا کررہی تھی سیاہل نے نرمی سے اُسے خانی کے ناک سے علیحدہ کرتے اُس پر لب رکھ دیے تھے.
خانی کے ہاتھ مہندی کی وجہ سے اُس کے پہلو میں ہی بنا کوئی مزاحمت نہ کرواتے پہلو میں گرے ہوئے تھے.
مگر اُن میں جنبش پیدا تب ہوئی جب سیاہل نے پوری شدت سے اُس کی مہکتی سانسوں کو اپنے اندر اُتارا تھا.
خانی مدہوشی میں سب بھولتی سیاہل خان کی شرٹ سینے سے اپنی مُٹھیوں میں بھینچ گئی تھی. جس کا احساس اِس وقت دونوں کو نہیں ہوا تھا. اِس وقت وہ دونوں ایک دوسرے میں گم ہر بات سے بے پرواہ ہوچکے تھے.
خانی کی اُکھڑتی سانسوں پر سیاہل نے آخر رحم کھاتے اُسے آزادی بخش دی تھی. خانی کا پورا جسم لرز رہا تھا. اُس سے کھڑا رہنا مشکل ہورہا تھا. جب سیاہل نے اُسے اپنے حصار میں بھرتے سہارا دیا تھا. سیاہل کے سینے سے لگنے پر خانی کے ڈریس پر بھی مہندی کے دھبے لگ گئے تھے.
سیاہل خان چند لمحوں میں ہی اُس کی ساری سجاوٹ برباد کرنے میں کامیاب ہوچکا تھا.
خانی اب غصہ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں آپارہی تھی. لیکن اپنے سینے پر اُس کی گرفت کی سختی سیاہل خان کو اُس کا دم توڑتا غصہ باور کروا گئی تھی.
” سردارنی صاحبہ اِس سب میں میرا کوئی قصور نہیں ہے. آپ غصے میں دھمکیاں دینے سے باز نہیں آتیں. اور آپ جانتی ہیں آپ کی دھمکیاں مجھے مزید پاگل کر جاتی ہیں. “
سیاہل خانی کے کان میں سرگوشی کرتا بھرپور شوخی سے بولتا خانی کو مزید تپا گیا تھا.
وہ خود کو کافی حد تک نارمل کر چکی تھی. اِس لیے سیاہل خان کے سینے سے سر اُٹھاتے خفگی بھری نظروں سے گھورا تھا.
” سردار سائیں آپ کو صرف غصہ کرنا اور دوسروں کو ڈرانا ہی اچھے سے آتا ہے کیا. کسی کو اپنی باتوں سے ہرٹ اور ناراض کرکے منایا کیسے جاتا ہے یہ بات تو نہیں پتا ہوگی نا آپ کو. “
خانی کو سیاہل خان کے انداز پر بہت زیادہ تپ چڑھ رہی تھی. جو اُس کی ناراضگی اور غصے کو سیریس لے ہی نہیں رہا تھا.
” آپ تو ایسے مت بولیں سردارنی صاحبہ غصے سے زیادہ تو پیار کرنا اچھے سے آتا ہے. آپ سے بہتر یہ بات بھلا کون جان سکتا ہوگا. “
سیاہل کی ذومعنی بات اور بے باک نظروں پر خانی شرم و حیا سے لال ہوئی تھی. مطلب آج سیاہل خان نے قسم کھا رکھی تھی کہ اُس کی کسی بات کا سیدھا جواب نہیں دینا.
اِس سے پہلے کے خانی سیاہل خان کو کوئی جواب دیتی سیاہل کی شرٹ پر نظر پڑتے اُس کی چیخ برآمد ہوئی تھی.
” کیا ہوا خانی. “
سیاہل نے فکرمندی سے اُسے کندھوں سے تھامتے پوچھا تھا.
” میری ساری مہندی خراب کردی آپ نے. “
خانی اپنے دونوں ہاتھ سامنے کرتی آنکھوں میں آنسو لیے روہانسے انداز میں سیاہل کو گھورتے ہوئے بولی.
سیاہل جو خانی کی چیخ پر پریشان ہوا تھا. اصل وجہ جان کر چاہتے ہوئے بھی اپنا قہقہ نہیں روک پایا تھا. اُس کے ہنسنے پر خانی مزید ناراض ہوتی اُس کا حصار توڑتی اُس سے دور ہوئی تھی.
” آپ بہت بُرے ہیں مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی. “
سامنے لگے مرر پر نظر پڑتے اپنی پوری تیاری کے ساتھ ڈریس کا بھی ستیاناس دیکھ خانی مزید تپ گئی تھی.
خانی کو دور جاتا دیکھ سیاہل نے اُسے واپس اپنے قریب کیا تھا.
” میں نے کیا کیا ہے میری جان. میں نے تو آپ کی مہندی کو ٹچ بھی نہیں کیا. “
سیاہل اُس کی دونوں ہتھیلیاں اپنے سامنے کرتے جس قدر انجان بنتے بولا وہ دیکھتے خانی کو مزید غصہ چڑھا تھا.
اُس نے سیاہل کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا. اور ناراضگی سے رُخ موڑ گئی تھی.
جس پر سیاہل اُسے تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرتے اب کی بار قدرے سنجیدہ ہوا تھا.
خانی کو کندھوں سے تھام کر مرر کے سامنے کرتے سیاہل نے اُسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیا تھا.
” خانی سیاہل خان سوچ بھی کیسے سکتی ہے کہ سیاہل خان اُسے ایک سیکنڈ کے لیے بھی خود سے جدا کرے گا. تم اگر خود بھی جانا چاہتی تو میں ایسا ہرگز نہ ہونے دیتا. خود بھیجنا تو ناممکن بات ہے.
اُس وقت اچانک مجھے پتا نہیں کیا ہوا تھا. ہر بار اپنی محبت کا امتحان دیتے اُس وقت میرے دل نے بھی تمہاری محبت کی شدت دیکھنے کی خواہش کرتے مجھے ایسا کرنے پر مجبور کر دیا تھا. جانتا ہوں مجھے اِس طرح تمہاری محبت آزمانی نہیں چاہی تھی. لیکن ناچاہتے ہوئے بھی صرف اِس دل کے سکون کی خاطر تمہارا اقرار سننے کی خاطر میں وہ الفاظ بول گیا تھا. مگر میرا خدا گواہ ہے اُن الفاظ پر ایک فیصد بھی میرے دل کی رضامندی شامل نہیں تھی. تمہارا غصہ جائز ہے. تم جو سزا دینا چاہتی ہو مجھے منظور ہے. مگر وہ تم سے دور رہنے کی بالکل بھی نہیں ہونی چاہئے.
تھینکس میری جان مجھ سے اتنی محبت کرنے اور اعتبار بخشنے کے لیے. “
سیاہل خانی کے چہرے سے اپنا چہرا ٹچ کرتے اُس کی نرماہٹوں کو محسوس کرتے محبت سے چور لہجے میں بولتا خانی کا غصہ کافی حد تک کم کرگیا تھا.
اُسے سیاہل کی بات غلط نہیں لگی تھی. جب وہ محبت میں اتنی آزمائش دے چکا تھا. تو تھوڑی سی خانی کی بھی بنتی تھی.
مگر جتنا وہ اُس کا خون جلا چکا تھا. خانی اتنی جلدی اُسے بخشنے والی بالکل بھی نہیں تھی.
” اور رہی بات تیاری خراب کرنے کی تو ایسا کرنے کا ارادہ تو میں آگے بھی رکھتا ہوں. “
سیاہل خان نے کہتے ساتھ ہی خانی کی گردن پر اپنے دہکتے ہونٹ رکھ دیے تھے.
جس پر خانی کی اعتدال میں آتی دھڑکنیں ایک بار پھر منتشر ہوتی اُس کی سانسوں کی رفتار بڑھا گئی تھیں.
خانی لرزتے ہاتھوں سے اُس کی بانہوں کا حصار توڑتی دوڑ ہوئی تھی. جبکہ سیاہل تو اُس کے چہرے پر بکھرتے قوس و قزح کے رنگ دیکھ کر ہی مبہوت رہ گیا تھا.
” آپ نے بولا تھا آپ کو میری دی ہر سزا منظور ہوگی. “
خانی سیاہل کو ایک بار پھر پٹری سے اُترتا دیکھ وران کرتے بولی.
” میں نے یہ بھی بولا تھا کہ وہ سزا تم سے دور رہنے کے علاوہ کوئی ہونی چاہئے. “
سیاہل سینے پر بازو لپیٹتا اپنی سہمی سی گھبرائی شرمائی شیرنی کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا.
جبکہ یہاں پر بھی اُس کی چالاکی پر خانی اُسے گھور کر رہ گئی تھی. مگر اچانک ایک خیال کے آتے وہ مسکرائی تھی. وہ اتنا اچھا موقع ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی. یہ سردار صاحب کم ہی کبھی اُس کے قابو میں آتے تھے.
” سزا نہیں مگر میری ایک خواہش پوری کرنی ہوگی آپ کو.”
اب کی بار خانی قدم اُٹھاتی خود سیاہل کے قریب آئی تھی.
” آپ کی ہر خواہش سر آنکھوں پر سردارنی صاحبہ آپ حکم کریں. “
سیاہل خان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ خانی اُس سے کیا مانگنے والی ہے.
” آپ پرامس کریں اپنی بات پر قائم رہیں گے.
خانی کو شاید اُس کے متوقع ردعمل کا اندازہ تھا. اِس لیے وہ اُس کے گلے میں بانہیں ڈالے قریب آئی تھی.
” اگر میں نے کہہ دیا ہے تو میں اپنی بات پر ضرور قائم رہوں گا تم جانتی ہو یہ. “
سیاہل خان کو کسی حد تک اُس کی بات کی سنجیدگی کا اندازہ ہوچکا تھا. کیونکہ آج سے پہلے خانی کبھی بھی اِس طرح خود سے اُس کے قریب نہیں آئی تھی.
سیاہل نے بھی جواباً خانی کی کمر میں بازو حمائل کرتے اُسے قریب کیا تھا.
” کیا آپ اپنی ماما کی سزا ختم کرسکتے ہیں. اُنہوں نے جان بوجھ کر تو کچھ نہیں کیا تھا. وہ مجبور تھیں اور میرے خیال میں اب تک وہ اپنے اکلوتے بیٹے سے دور رہ کر اپنی غلطی سے زیادہ کی سزا برداشت کرچکی ہیں. پلیز وہ بہت دکھی ہیں. بظاہر وہ سب کے سامنے نارمل رہتی ہیں مگر اُن کو آپ کے لیے چھپ چھپ کر روتے دیکھا ہے میں نے. اور سب سے بڑی بات میں اِن آنکھوں کی اُداسی ختم کرنا چاہتی ہوں. آپ مجھ سے نہ بھی کہیں مگر میں جانتی ہوں آپ خود اِس وجہ سے اندر سے کتنی تکلیف میں ہیں. جیسے آپ بن کہے میری ہر بات جان لیتے ہیں. اب آپکی خانی کی بھی تھوڑی تھوڑی اِس ہنر سے واقفیت ہوچکی ہے.”
خانی نے سیاہل کی دونوں آنکھوں پر باری باری لب رکھتے سیاہل خان کو جیسے اپنی محبت کے سحر میں جکڑ لیا تھا.
یہ شخص اُس کی سانسوں میں بستا تھا. اُس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی تھا. جس کے بغیر ایک پل بھی رہنا اُس کے لیے ناممکن تھا. جس طرح وہ اُس کی آنکھوں میں زرا سی تکلیف دیکھ کر تڑپ اُٹھتا تھا. اُسی طرح خانی سے بھی اُس کی یہ تکلیف دیکھنا برداشت سے باہر تھا. وہ جانتی تھی سیاہل اپنے دکھ کسی سے بھی شیئر نہیں کرتا تھا. ہر بات وہ دل میں چھپا کر رکھتا تھا. مگر اب خانی اُس کے دل کی باتیں جاننے لگی تھی.
دوسری جانب اُس کا دل دھڑک دھڑک کر پاگل ہورہا تھا. اُسے ڈر تھا کہ کہیں سیاہل اُسے سچائی بتانے پر حُسنہ بیگم پر ناراض نہ ہو. یا اتنی بڑی بات کہہ دینے پر اُس سے خفا نہ ہوجائے.
سیاہل پہلے تو حیران ہوا تھا. جو راز آج تک اُس کے اور حُسنہ بیگم کے درمیان ہی تھا. وہ خانی کو کیسے پتا چل گیا تھا. مگر پھر خانی کی حُسنہ بیگم سے نزدیکی سے وہ اچھے واقف تھا. اِس لیے سمجھ گیا تھا خانی کی ضد پر اُنہوں نے خانی کو بتا دیا ہوگا. کیونکہ اتنا تو وہ جانتا تھا کہ اُس کی ماں کبھی بھی خود سے خانی کو ایسا کرنے کو نہیں کہیں گی. یہ سب خانی اپنی جانب سے ہی کررہی تھی.
” کیا ہوا سرادر سائیں. کیا میں نے کوئی بہت مشکل چیز مانگ لی آپ سے جس پر اتنا سوچنا پڑ رہا ہے آپ کو. “
خانی سیاہل کی شرٹ کا کالر ٹھیک کرتی نرم مسکراہٹ سے بولی تھی. جبکہ سیاہل خان کو اُس کی یہ بدلی بدلی قاتلانہ ادائیں اچھا خاصہ گھائل کررہی تھیں.
” ویسے بہت خطرناک ہو تم. تم سے مجھے بچ کر ہی رہنا چاہئے. بہت کمزور ہے بچارہ تمہارے معاملے. ایسے نہ ہو اتنی محبت پر کہیں لڑھک ہی نہ جائے. “
سیاہل مسکرا کر بولا. اُس کی مسکراہٹ دیکھ خانی کا دل کچھ حد تک جگہ پر آیا تھا.
” یہ میری بات کا جواب نہیں ہے. “
سیاہل کی بات پر خانی نے اُسے خفگی سے گھورا تھا. وہ جلد از جلد سیاہل کا جواب سننے کی خواہش مند تھی.
مگر اُس سے پہلے ہی دروازے پر ہوتی دستک نے اُن دونوں کا دھیان اپنی جانب موڑا تھا.
جبکہ یوں ڈسٹرب کئے جانے پر سیاہل کے ماتھے پر سلوٹیں اُبھری تھیں. اُس نے شروع سے اِس بات سے سختی سے منع کر رکھا تھا کہ جب وہ بیڈ روم میں ہو تو کوئی اُسے ڈسٹرب نہ کرے.
اور اب جبکہ وہ خانی کے ساتھ تھا تو اُس کو مزید تپ چڑھی تھی. سیاہل غصے سے دروازے کی جانب بڑھا تھا.
” سیاہل ایک منٹ رکیے. “
سیاہل دروازے کے قریب پہنچا ہی تھا. جب اچانک خیال آتے ہی خانی بھاگتی ہوئی اُس کے سامنے آئی تھی.
” کیا ہوا. “
سیاہل نے خانی کا لال چہرا دیکھتے حیرانی سے پوچھا تھا.
” آپ ایسے کیسے سب کے سامنے جاسکتے ہیں. پہلے چینج کریں.”
خانی نے سیاہل کے سینے پر لگے مہندی کے داغ کی جانب اشارہ کرتے اپنی حیا سے بوجھل ہوتی آواز پر قابو پاتے کہا تھا.
جس پر سیاہل نے حد درجہ حیرت سے سر جھکا کر اپنے سینے پر نظریں ڈالی تھیں. وہاں موجود داغ دیکھ سیاہل کے چہرے پر آنے والی مسکراہٹ بے ساختہ تھی.
” کیا ہوا اِس میں چھپانے والی کیا بات ہے. محبت کے داغ بھی بھلا چھپانے والی چیز ہے. “
سیاہل لاپرواہی سے کندھے اُچکاتے واپس دروازے کی جانب پلٹا تھا.
” آپ پاگل ہوگئے ہیں کیا. یہ سب دیکھ کر آپ کے سامنے تو کوئی آواز بھی نہیں نکالے گا. مگر بعد میں چھیڑ چھیڑ کر اِن سب نے میری ناک میں دم کردینا ہے. “
خانی اب کی بار اپنی بات تفصیل سے سمجھاتے بولی. جبکہ خانی کی بیچاری سی شکل دیکھ سیاہل کو مانتے ہی بنی تھی.
باہر کھڑا شخص بھی کوئی جواب نہ ملنے اور دروازہ نہ کھلنے پر واپس پلٹ گیا تھا.
سیاہل بھی کپڑے چینج کرنے کی غرض سے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گیا تھا.
” آپ نے میری بات کا جواب نہیں دیا. “
خانی سیاہل کو چینج کرکے آتے دیکھ بولی.
جس کا کوئی جواب دیئے بغیر سیاہل نے الماری سے ایک بڑا سا پارسل نکال کر بیڈ پر رکھا تھا. اور واپس خانی کے پاس آکھڑا ہوا تھا.
” بہت جلد تمہیں تمہاری بات کا جواب مل جائے گا. ابھی جلدی سے یہ ڈریس چینج کرکے نیچے جاؤ. شاید مہندی کے فنکشن کے لیے بلانے آئی تھی تمہیں. “
سیاہل کی بات پر خانی نے حیرانی سے اُس پارسل کو دیکھا تھا.
” سردارنی صاحبہ کہا تھا نا. شادی کے فنکشن میں میری پسند کا لباس پہنو گی تم. پھر یہ تو ہونا ہی تھا. “
سیاہل ذومعنی نظروں سے اُس کے بکھرے حلیے اور کپڑوں پر لگی مہندی کی جانب اشارہ کرتے بولتا اُس کا گال تھپتھپاتا باہر نکل گیا تھا.
خانی پہلے تو ناسمجھی سے اُس کی بات پر غور کرتی اُسے جاتا دیکھنے لگی تھی. مگر جیسے ہی کچھ دیر بعد اُسے بات سمجھ آئی ایک شرمیگی سی مسکراہٹ نے اُس کے لبوں کا احاطہ کیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” آغا جان ہم سیاہل خان کے بارے میں کیا کہیں جب ہمارے اپنے ہی غدار ہیں. اُس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں. “
اسد غصے سے بھڑکتا اندر داخل ہوا تھا.
” کیا مطلب ہم سمجھے نہیں. “
آغاجان اور ارشد بلوچ دونوں اپنی جگہ چونک اُٹھے تھے.
” شہرام بلوچ کی بات کررہا ہوں میں. وہ نجانے کتنے ٹائم سے سیاہل خان کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف کام کررہا ہے. ہمارا مال جو اتنی بار بارڈر کراس کرنے سے پہلے ہی پکڑا جاتا تھا. اُس کی مخبری ہمارا کوئی آدمی نہیں بلکہ شہرام بلوچ ہی کرواتا تھا سیاہل خان کے ساتھ مل کر. ہمارے سامنے انجان بن کر ہماری آنکھوں میں دھول جھونکتا رہا. اور ہم بھی ہر بار اُس کے آگے بے وقوف بنتے رہے. “
اسد نے نفرت بھرے لہجے میں کہتے اُن دونوں کی جانب دیکھا تھا. جن کے لیے اِس اتنی بڑی بات پر یقین کرنا انتہائی مشکل تھا.
” میں جانتا تھا آپ لوگوں کو میری بات پر یقین نہیں آئے گا. اِس لیے میں کچھ ثبوت ساتھ لایا ہوں. “
اسد کے اشارے پر پاس کھڑے اُس کے آدمی نے ہاتھ میں پکڑی کچھ تصویریں اور کاغذات اُن دونوں کے سامنے رکھے تھے.
جن میں شہرام اور سیاہل کی ملاقاتوں کی کچھ تصویریں تھیں. اور ساتھ ہی نگار اور شہرام کا نکاح نامہ تھا.
” اتنا بڑا دھوکہ. “
ارشد بلوچ نکاح نامہ ہاتھ میں تھامے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بولے.
” جی اور ابھی سے نہیں کافی عرصے سے چلا آرہا ہے یہ سب. “
اسد بلوچ کے انداز میں شہرام بلوچ کے لیے نفرت ہی نفرت تھی. اُس کی شروع دن سے ہی شہرام سے نہیں بنی تھی. شہرام کو بلاوجہ کی ملنے والی چھوٹ اور اہمیت اُسے بہت بری لگتی تھی. آج جب اُس کے ہاتھ شہرام کو سب کی نظروں میں گرانے کا اتنا اچھا موقع ملا تھا تو وہ کیوں نا اُس کا فائدہ اُٹھاتا.
” شہرام کو چھوڑو گا نہیں میں. شرم نہیں آئی اِسے اپنے بھائی اور چچا کے قاتلوں سے ہاتھ ملاتے ہوئے. “
ارشد بلوچ جو پہلے میران کی وجہ سے اچھا خاصہ تپے ہوئے تھے. شہرام کی بات سن کر مزید بھڑک اٹھے تھے.
” خاموش ہوجاؤ ارشد. پاگل تو نہیں ہوگئے تم. ہمیں آپس میں لڑ کر خود کو کمزور نہیں کرنا. ہمارا پہلا کام اپنے دشمن کو ختم کرنا ہے. اپنے غداروں سے بعد میں نبٹ لیں گے. پہلے اپنے دشمن کو تو ٹھکانے لگا دیں. ہمیں انگاروں پر لوٹا کر بہت اُچھلتا پھر رہا ہے نا یہ سیاہل خان. اب اِس کے وفاداروں کو اِسی کے خلاف استعمال کرکے اپنے قدموں کی دھول چاٹنے پر مجبور نہ کردیا تو میرا نام بھی ذوالفقار بلوچ نہیں.”
ذوالفقار بلوچ کا بس نہیں چل رہا تھا. کہ اُن کے خاندان کو توڑنے والے سیاہل خان کا نام ہی صفحہ ہستی سے مٹا دیں. جو اُن کی سوچ سے بڑھ کر شاطر کھلاڑی تھا. جس نے نہ صرف اُن کی پوتی بلکہ پوتوں کو بھی ایک ایک کرکے اُن کے خلاف کرچکا تھا. اور اپنے خاندان کو جوڑ کر رکھا ہوا تھا. یہی نہیں سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنی بہن کو بھی نہایت ہی ہوشیاری سے موت کے گھاٹ اتارنے سے بچا لیا تھا. اور سب کی طرح وہ بھی اتنی آسانی سے اُس کے ہاتھوں بے وقوف بنتے آئے تھے.
” کیا مطلب ہے آپ کا آغا جان. اب کیا کرنا ہوگا ہمیں. “
اسد اُن کے تاثرات سے اتنا تو اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ کچھ بڑا سوچ چکے ہیں.
” خانی اور سیاہل خان کی بہن جو شہرام کے نکاح میں ہے. اُنہیں اُٹھوانا ہوگا. اِسی طرح ہی ہم اُس کو کمزور بنا سکتے ہیں. پھر دیکھنا کیسا بھاگا بھاگا آئے گا وہ اُن کے پیچھے. “
ذوالفقار بلوچ کی آنکھوں میں شیطانی چمک واضح ہوئی تھی. جبکہ اُن کی بات پر ارشد بلوچ نے بھی مکروہ انداز میں مسکرائے تھے.
کیونکہ اِس وقت خانی اُن کی نظروں میں اِس گھر کی بیٹی نہیں بلکہ دشمن کی بیوی تھی.
” مگر ہم خانی کو کیوں کڈنیپ کریں گے. اُس کو اِس دشمنی میں کیوں گھسیٹنا. “
اسد میں شاید ابھی بھی تھوڑی سی انسانیت باقی تھی.
” اُس کو ہم نے نہیں گھسیٹا وہ خود آئی ہے. اُس نے اپنے شوہر کی شے پر ہمارے سامنے جو بکواس کی ہے. اگر میرا بس چلتا تو اُسی وقت اُس کا گلا دبا دیتا. وہ اب ہماری کچھ نہیں لگتی وہ صرف سیاہل خان کی بیوی ہے. “
ارشد بلوچ کے لہجے میں خانی کے لیے نفرت ہی نفرت تھی.
” میران کا کیا کرنا ہے. اگر اُس کو پتا چل گیا ہم نے خانی کو کڈنیپ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تو وہ ہمارے خلاف ہوجائے گا. “
اسد کو اچانک میران کا خیال آیا تھا.
” وہ اب کونسا ہے ہمارے ساتھ ہے. وہ بھی اب اُس سیاہل خان کا طرفدار بن چکا ہے. خون سفید ہوگیا ہے اُس کا. اپنے باپ کا قاتل کو اتنی آسانی سے معاف کردیا اُس نے. “
ارشد بلوچ کا ابھی صبح والا غصہ نہیں اُتر رہا تھا.
وہ لوگ ابھی اِسی حوالے سے بات کررہے تھے. جب میران کو اندر آتا دیکھ سب بات بدل گئے تھے.
” اچھا ہوا آپ سب ایک جگہ ہی مل گئے بہت خاص بات کرنی تھی آپ سے. “
میران اُن سب کو وہاں بیٹھا دیکھ اُن کے پاس آبیٹھا تھا. جس پر ذوالفقار بلوچ ہی بمشکل مروتاً مسکرائے تھے. باقیوں نے تو یہ تکلف بھی نہیں کیا تھا.
لیکن میران بلوچ نے جو بات کی تھی. وہ سن کر ذوالفقار بلوچ کے ہونٹوں سے بھی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی.
” تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا. تم چاہتے ہو ہم اپنے سب سے بڑے دشمن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں. اُس کے پاؤں پڑیں کے ہم سے دشمنی ختم کردو. بھول جائیں جو اُس نے میرے جوان بیٹے اور پوتے کا قتل کیا. “
ذوالفقار بلوچ میران کی بات سن کر بھڑکتے اُس پر دھاڑے تھے.
” آغا جان پلیز ایک بار ٹھنڈے دماغ سے میری بات سمجھنے کی کوشش تو کریں. اِس دشمنی میں رکھا ہی کیا ہے. اپنوں کو کھونے اور بلاوجہ کی لڑائی جھگڑے کے علاوہ ملا ہی کیا ہے ہمیں. “
میران نے اپنی جانب سے دشمنی ختم کرنے کو پہلا قدم اٹھایا تھا. مگر پہلے قدم پر ہی اُسے سمجھ آگیا تھا.
” بس میران بہت سن لی تمہاری بکواس. اب اگر مزید ایک لفظ بھی تم نے اُس سیاہل خان کی حمایت میں بولنا ہے تو نکل جاؤ اِس حویلی سے. اور دوبارہ آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے. مجھے نہیں معلوم تھا تم اتنے بے غیرت ہو. جس شخص کے ساتھ تمہاری بہن بھاگ کر گئی. بجائے اپنی بےعزتی کا بدلہ لینے کے تم اُس کے ساتھ روابط بڑھانے کی بات کررہے ہو. تف ہے تم جیسے مرد کی مردانگی پر. “
ارشد بلوچ جو کب سے چپ بیٹھے تھے. آخرکار پھٹ پڑے تھے.
جبکہ اُن کی بات میران بلوچ کا ضبط ختم کر گئی تھی. وہ کچھ بھی سن سکتا تھا مگر اپنی بہن کے خلاف اتنے غلط الفاظ کسی صورت اُسے برداشت نہیں تھے.
میران اپنے سامنے پڑے ٹیبل کو ٹھوکر مارتے طیش کے عالم میں کھڑا ہوا تھا.
” زبان سنبھال کر بات کریں چچا جان. اگر میں آپ کی عزت کرتا ہوں تو اُس کا ناجائز فائدہ مت اُٹھائیں. اور خبردار جو آئندہ میری بہن کے لیے ایسے غلط الفاظ استعمال کیے تو. وہ کسی غیر کے ساتھ بھاگ کر نہیں گئی. بلکہ اپنے شوہر کے ساتھ میرے سامنے رخصت ہوئی ہے. اگر اگلی بار میری بہن کے کردار پر اُنگلی اُٹھائی گئی تو میں وہ اُنگلی ہی کاٹ دوں گا.
جارہا ہوں میں اِس حویلی سے. مجھے بھی کوئی شوق نہیں ایسی جگہ رہنے کا جہاں لوگ سینے میں پتھر کے دل لیے پھرتے ہوں. اور ہاں ایک مخلصانہ مشورہ دینا چاہوں گا. ہوسکے تو اِس دشمنی کے کھیل سے نکل آئیں. پہلے ہی ایک جوان بیٹا کا جنازہ اُٹھا چکے ہیں. اِس انتقام میں اندھے ہوکر کہیں دوسرے کو بھی نہ کھونا پڑ جائے. “
میران اُن کو اُن کی بات کا منہ توڑ جواب دیتا ایک قہر برساتی نظر سب پر ڈالتا وہاں سے نکل گیا تھا.
اُسے آغاجان سے بلکل بھی اُمید نہیں تھی کہ وہ ارشد بلوچ کی اتنی بکواس کے جواب میں بھی اُن کو ٹوکنے کے بجائے اُن کا ساتھ دیں گے.
” دیکھ لیے آغا خان آپ نے اپنے پوتے کے تیور. کیسے دھمکی دے کر گیا ہے مجھے. اب تو میں اِسے کسی قیمت پر نہیں چھوڑوں گا. “
ارشد بلوچ بھی غصے اور طیش کے عالم میں بکتے جھکتے وہاں سے نکل گئے تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
