No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
” ماشاءﷲ ﷲ نظر بد سے بچائے میری بہو کو. اِس لباس میں بہت پیاری لگ رہی ہو آپ. “
حُسنہ بیگم خانی کی نظر اُتارتے محبت پاش نظروں سے اُس کی جانب دیکھتے ہوئے بولیں. جو اِس وقت خاندان کے رسموں رواج کے مطابق تیار ہوئی بہت حسین لگ رہی تھی.
بی بی سائیں کے آرڈر پر خانی کو مکمل بلوچی گیٹ اپ میں تیار کیا گیا تھا. فرش ریڈ بھاری بلوچی فراک جس کے گلے سے لے کر دامن تک اور بازوؤں پر گولڈن نگوں اور موتیوں سے فُل ایمبرائیڈری کی گئی تھی کے ساتھ فُل کامدار کُھلے پائنچوں والی شلوار پہنے خانی عام روٹین سے ہٹ کر بہت پیاری لگ رہی تھی. اُس پر ٹوٹ کے رُوپ آیا تھا.
خاندانی زیورات اور ڈراک میک اپ میں ڈریس کا ہم رنگ بارڈر والا دوپٹہ کمر کے پیچھے سے گزار پر بازوؤں پر ڈالے خانی نازک سے سراپے کے ساتھ آج حوروں کے حُسن کو بھی مات دیتی دیکھنے والوں کو اپنا دیوانہ بنا رہی تھی. حُسنہ بیگم نے ریڈ کلر کی شال خانی کے سر پر دلہن کے سٹائل میں سیٹ کردیی تھی. جس کی وجہ سے وہ بلکل گڑیا سی لگ رہی تھی.
حویلی کے زنان خانے میں موجود تمام خواتین کی نظریں حُسنہ بیگم کے ساتھ سیڑھیاں اُتر کر نیچے آتی خانی پر جم کر رہ گئی تھیں. وہاں موجود بہت سی حسد بھری آنکھیں بھی چاہنے کے باوجود خانی کے بے پناہ حُسن کو جھٹلا نہیں پائی تھیں.
” اِسی حُسن کے جال میں سیاہل کو پھنسا کر یہ حویلی میں داخل ہوئی ہے. آخر ہے نا اُسی خاندان کی جو ہمیشہ اپنی دشمنی میں ایسی اوچھی حرکتیں کرکے ہی آگے بڑھے ہیں.”
خانی کے بے پناہ حُسن کو دیکھ تانیہ بیگم دل ہی دل میں جل کر خاک ہوئی تھیں.
قبیلے کی تمام خواتین آج حویلی میں خانی کی منہ دکھائی کی رسم کے لیے موجود تھیں. حُسنہ بیگم نے خانی کو لاکر بی بی سائیں کے پاس صوفے پر بیٹھا دیا تھا.
خانی کا حُسن بی بی سائیں کو پہلے دن ہی بہت سارے خدشات میں مبتلا کر گیا تھا. جن میں سے کچھ تو حقیقت بن کر اُن کے سامنے آچکے تھے.
رسم کافی دیر چلی تھی اتنی دیر بھاری بھرکم لباس کے ساتھ بلکل سیدھا بیٹھ کر خانی تھکن کے ساتھ ساتھ اچھی خاصی اُکتاہٹ کا شکار بھی ہوچکی تھی. مگر مروتاً چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ سب سے مل رہی تھی.
یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہاں موجود بہت سی خواتین کے دل میں اُس کے لیے صرف اور صرف نفرت ہی تھی. جو چہرے پر بناوٹی مسکراہٹ سجائے صرف سیاہل خان کی خاطر اُس سے مل رہی تھیں. اُسے عزت دے رہی تھیں. تو پھر وہ بھی سیاہل کی خاطر یہ سب تو کر ہی سکتی تھی.
جیسے اُس کے شوہر کو اُس کی عزت و احترام عزیز تھا. ویسے ہی اب اُس کے لیے بھی سیاہل خان کی عزت اور مقام اپنی جان سے بڑھ کر تھے.
” پتا نہیں سیاہل نے کب تک آنا ہے. میں نے تو آج شام کے کھانے کا اہتمام سب گھر والوں کا ایک ہی جگہ پر کروانا تھا. اتنے دن ہوئے ایک ساتھ کھانا کھائے. “
سب مہمان خواتین رسم کے بعد جا چکی تھیں. جب ڈرائنگ روم میں بیٹھے بی بی سائیں اپنی خواہش کا اظہار کرتے بولی تھیں. اُن کا صبح سے سیاہل سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا. خدا بخش سے پوچھنے پر اُس نے بھی کوئی واضح جواب نہیں دیا تھا.
” بی بی سائیں اپنی بہو سے پوچھ لیں نا. سیاہل اپنی چہیتی بیوی کو تو لازمی بتا کر گیا ہوگا.”
تانیہ بیگم نے کینہ توز نظروں سے سمن کے ساتھ باتوں میں مصروف خانی کو بیچ میں گھسیٹا تھا. خانی اُن کی بات پر چونک کر متوجہ ہوئی تھی.
” نہیں مجھے تو اُس نے کچھ نہیں بتایا اِس بارے میں. “
خانی تانیہ بیگم کے لہجے کی برہمی محسوس کرنے کے باوجود بہت ہی نرمی سے بولی.
مگر اُس کے سیاہل کو بلانے کے انداز پر وہاں موجود سب خواتین نے کافی اچنبھے سے اُس کی جانب دیکھا تھا.
” یہ اُس نے کیا ہوتا ہے لڑکی. سر کا سائیں ہے تمہارا عزت سے مخاطب کیا کرو سردار ہے وہ یہاں کا. کوئی عام مرد نہیں. اور ویسے بھی شوہر عام مرد ہو یا سردار بیوی کا فرض بنتا ہے اُس کی عزت کرنا. تمہارے ہاں نہیں کرتی ہونگی عورتیں اپنے شوہروں کی عزت. مگر ہمارے ہاں بہت رتبہ ہے شوہر کا. سائیں اور آپ کہہ کر بلایا کرو اپنے شوہر کو جیسے یہاں کی باقی خواتین بلاتی ہیں. اگر خوش قسمتی سے اِس حویلی میں آہی گئی ہو تو یہاں کے طور طریقے بھی سیکھو. آئندہ میں اپنے پوتے کے لیے تمہارے منہ سے ایسے الفاظ نہ سنوں. “
بی بی سائیں کو سیاہل کے لیے خانی کا انداز بہت بُرا لگا تھا. اِس لیے وہ اُس بات کو بنیاد بنا کر خانی کو اچھی طرح جھاڑتیں اپنی کل سے دل میں دبی بھڑاس نکال گئی تھیں.
ڈرائنگ روم میں بلکل سناٹا سا چھا گیا تھا. خانی اتنی انسلٹ پر آنکھوں میں نمی بھرے ہکا بکا سی اُن کی جانب دیکھ رہی تھی. اگر وہ غلط تھی تو اُسے یہ بات آرام سے بھی تو بتائی جاسکتی تھی. اتنا بے عزت کرنے کی کیا ضرورت تھی.
اگر وہ سیاہل خان سے محبت کرنے سے پہلے والی خانی ہوتی تو اب تک اُن کو بہت ہی عزت کے ساتھ اپنی اِس بے عزتی کا جواب دے دیتی. مگر اِس وقت وہ صرف اور صرف سیاہل کا خیال کرتے صبر کا کڑوا گھونٹ پی کر رہ گئی تھی.
بی بی سائیں اپنی بات کہہ کر وہاں سے جاچکی تھیں. جبکہ خانی کی بےعزتی پر دل میں پھوٹتے لڈو کے ساتھ بے پناہ خوشی محسوس کرتے تانیہ بیگم بھی وہاں سے اُٹھ گئی تھیں. اُن کا تو جیسے مقصد پورا ہوچکا تھا.
” خانی بیٹا بی بی سائیں کی باتوں کا بُرا مت منائیے گا. وہ ایسی ہی ہیں مزاج کی زرا تیز مگر اپنے بچوں سے بے حد محبت کرنے والیں. اُن کو آپ کا سیاہل کا نام عزت سے نہ لینا بہت غصہ دلا گیا اِس وجہ سے وہ تھوڑی ہائپر ہوگئیں. اپنے بیٹوں سے بھی کہیں زیادہ آگے اُنہیں سیاہل ہے. وہ سیاہل کے حوالے سے کچھ بھی غلط بات برداشت نہیں کرسکتیں.
سیاہل آپ کا شوہر ہے نا. اور بیوی اپنے شوہر کو عزت سے بلاتی ہی اچھی لگتی ہے.”
خانی کا زرد پڑتا چہرا دیکھ حُسنہ بیگم خانی کو اپنے ساتھ لگاکر محبت سے سمجھاتے ہوئے بولیں.
” وہ مجھے یہ بات آرام سے بھی تو کہہ سکتی تھیں نا. اب اتنی سی بات میں میرے خاندان کو گھسیٹنے کی کیا ضرورت تھی. کیا یوں ملازمین کے سامنے مجھے اُن کا بے عزت کرنا ٹھیک تھا آپ کی نظر میں. پلیز آپ اُن کی بات کو جسٹیفائے مت کریں.
پہلے دن جب میری سیاہل خان سے ملاقات ہوئی تب ہمارے درمیان صرف دشمنی ہی تھی. تب سے میں اُسے تم کہہ کر ہی مخاطب کرتی آئی ہوں. نہ کبھی اُس نے مجھے ٹوکا نہ میں نے اِس بات پر دھیان دیا. مگر بی بی سائیں نے میرے ساتھ ٹھیک نہیں کیا.”
خانی آنکھوں میں آنسو بھرے وہاں موجود باقی سب خواتین کے سامنے اپنی بات کہتی وہاں سے نکل گئی تھی.
” چلو جی اب اِس بورنگ سی حویلی میں تھوڑی سی تو ایکسائٹمنٹ بڑھی. کوئی تو آئی بی بی سائیں کی ٹکر کی. “
شمسہ سمن کے کان میں گھسی مزے لیتے ہوئے بولی.
“تم ہر وقت فضول ہی بولتی رہنا. “
سمن اُس کو گھورتی خانی کے پیچھے اُٹھ گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” بھابھی سائیں پلیز نیچے آجائیں کھانا کھانے. ادا سائیں حویلی پہنچ چکے ہیں. وہ اور باقی سب بھی کھانے کے ٹیبل پر آنے والے ہیں. بی بی سائیں کا آرڈر ہے آپ بھی جلدی سے آجائیں. “
سمن دستک دے کر اندر داخل ہوتے بیڈ پر نیم دراز خانی سے مخاطب ہوئی تھی. جو جیولری تو کچھ حد تک اُتار چکی تھی. مگر میک اپ اور ڈریس ابھی تک وہی پہنا ہوا تھا. یہ بھی بی بی سائیں کا آرڈر تھا. ورنہ خانی نے تو دو منٹ بھی نہیں لگانے تھے چینج کرنے پے.
” مجھے ایک بات بتاؤ سمن. آپ لوگ کیسے رہ لیتے ہو یہاں. جہاں ہر کام کسی روبوٹ کی طرح کرنا پڑتا ہے. بی بی سائیں کے کہنے پر اُٹھو, بیٹھو, کھاؤ, پیو, پہنو, بولو, مت بولو. واٹ از دس. کیا تم لوگوں کا دل نہیں کرتا اپنی مرضی کرنے کا. “
خانی ایک دن میں ہی حویلی کے اِس عجیب و غریب ماحول سے عاجز آچکی تھی. اِس لیے موقع ملتے ہی وہ سمن کے سامنے اپنی بھڑاس نکالنے لگی تھی. اور اب زیادہ غصہ تو اُسے یہ سن کر آرہا تھا. کہ سیاہل حویلی میں آچکا ہے. مگر وہ اُس سے ملنے نہیں آیا.
خانی کے چڑھے انداز پر سمن مسکرا دی تھی.
” ایسا کچھ نہیں ہے. آپ کو ایسا فیل ہورہا ہے. کیونکہ بی بی سائیں کی پوری توجہ اِس وقت صرف اور صرف آپ کی جانب ہے. “
سمن کی بات پر خانی سر جھٹک کر رہ گئی تھی. وہ جانتی تھی یہاں ہر کوئی بی بی سائیں سے دبنے والا اُن کے گن گانے والا ہی تھا. چاہے وہ جو بھی کرتیں.
پرابلم تو خانی کو بھی اُن سے کوئی نہیں تھا. مگر وہ خود صبح سے خانی کو ٹارگٹ کیے اب کافی حد تک خود سے بدگمان کرچکی تھیں.
خانی مزید کچھ بھی بولے بغیر سمن کے ساتھ نیچے آگئی تھی.
” وہ ادا سائیں کی کرسی ہے. آپ کو اُن کے ساتھ والی کرسی پر ہی بیٹھنا چاہیے. “
سمن ڈائننگ ٹیبل کے ایک سرے پر موجود کرسی کی جانب اشارہ کرتے بولی. جس کے ایک جانب بی بی سائیں بیٹھی تھیں. جبکہ دائیں جانب والی کرسی ابھی خالی پڑی تھی. ویسے تو اُن کے ہاں دستر خوان پر ہی کھانا کھانے کا دستور تھا. مگر کچھ دنوں سے بی بی سائیں کے لیے گھٹنوں میں درد ہونے کی وجہ سے نیچے بیٹھنا تکلیف دہ تھا. اِس لیے اُن کی خاطر آج سب لوگ ڈائننگ ٹیبل پر ہی موجود تھے.
خانی سمن کی بات پر اثبات میں سر ہلاتے اُسی کرسی کی جانب بڑھی تھی. اِس سے پہلے کے خانی کرسی کے قریب پہنچ کر بیٹھتی تانیہ بیگم وہی کرسی گھسیٹ کر اُس پر بیٹھ چکی تھیں.
” اُن میں سے کسی پر بیٹھ جاؤ. ابھی یہاں بیٹھنے کی اوقات نہیں ہے تمہاری. “
زہر خند لہجے مگر دھیمی آواز میں بولتیں وہ ایک جتاتی نظر خانی پر ڈالتے رُخ موڑ گئی تھیں.
خانی اُن کی اِس بچکانا حرکت اور تلخی بھرے انداز پر کچھ دیر تو اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پائی تھی. وہاں موجود باقی عورتیں بھی اُن کی جانب متوجہ تھیں. جبکہ بی بی سائیں سب سن کر بھی انجان بنی بیٹھی تھیں.
” خانی بیٹا آپ یہاں آجاؤ میرے پاس. “
حُسنہ بیگم یہ سب افسوس بھری نظروں سے دیکھتیں خانی کا اُترا چہرا دیکھ شفقت بھرے نرم لہجے میں خانی سے مخاطب ہوئی تھیں.
جس پر خانی بنا کچھ بولے ایک گہرا سانس ہوا میں خارج کرتی اُن کی جانب بڑھ گئی تھی.
آج سے پہلے اُس نے کبھی ایسی کسی بھی بات پر تحمل کا مظاہرہ نہیں کیا تھا. خود کو بےعزت کرنے والوں کو وہ کسی قیمت پر نہیں چھوڑتی تھی. مگر پہلے ہی دن وہ کوئی بھی ڈرامہ نہیں بنانا چاہتی تھی. لیکن یہ خواتین اپنے نارواں سلوک سے مسلسل اُس کا صبر آزما رہی تھیں.
اُسے وہاں بیٹھے ابھی کچھ سیکنڈز ہی گزرے تھے. جب اُسے سیاہل گھر کے باقی مرد حضرات کے ساتھ اندر آتا دیکھائی دیا تھا. سیاہل کی بے تاب نظروں نے خانی کو ڈھونڈا تھا. جیسے ہی اُس کی نظر حُسنہ بیگم کے ساتھ اپنی جانب دیکھتی خانی پر پڑی. خانی فوراً نظریں پھیر گئی تھی.
جنہیں سیاہل کی زیرک نگاہوں نے نوٹ کرلیا تھا.
سیاہل کی نظریں خانی کے حسین رُوپ کا طواف کرنے لگی تھیں. آج وہ دوسری بار اُس کو اِس طرح تیار دیکھ رہا تھا. اور اِس بار بھی اُس کا یہ دلفریب پریوں جیسا رُوپ سیدھا سیاہل خان کے دل پر اٹیک کر گیا تھا.
سیاہل سب سے پہلے بی بی سائیں کی جانب بڑھا تھا. سیاہل سے ملتے بی بی سائیں نے جتاتی نظروں سے خانی کی جانب دیکھا تھا. جیسے اُسے سمجھانا چاہتی ہوں کہ سیاہل کی زندگی میں خانی اُن کے بعد تھی.
جبکہ خانی اُن خواتین کی ذہنیت پر افسوس کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی تھی. جو نجانے کیوں اِس احساس کمتری اور خوف کا شکار تھیں. کہ خانی سیاہل کو اُن سے چھین لے گی.
مگر بی بی سائیں کی مسکراہٹ غائب اُس وقت ہوئی تھی. جب سیاہل اُن سے ملنے کے بعد بجائے اُن کے پاس بیٹھنے کے خانی کی دوسری جانب پڑی خالی کرسی پر آبیٹھا تھا.
اب کی بار خانی نے نظریں اُٹھا کر اُن کی جانب دیکھا تھا. جو کینہ توز نظروں سے خانی کو گھور رہی تھیں. خانی کو اچانک اِس سچویشن میں مزا آنے لگا تھا. بہت مشکلوں سے اُس نے اپنی بے ساختہ اُمڈ آنے والی مسکراہٹ روکی تھی. تانیہ بیگم نے سب کے سامنے اوقات کا بول کر اُسے وہاں نہیں بیٹھنے دیا تھا. سیاہل نے وہی کرسی چھوڑ کر خانی کے پاس آکر بیٹھتے اُس کی اوقات اور مرتبہ بنا کچھ بولے ہی سب پر واضح کردیا تھا.
” تم کھانا کیوں نہیں کھا رہی. “
سیاہل خانی کو پلیٹ اور چمچ سے کھیلتا دیکھ ٹوکتے ہوئے بولا.
” بھوک نہیں ہے. “
خانی نے بنا اُس کی جانب دیکھے روکھے سے لہجے میں جواب دیا تھا.
” خانی کھانا کھاؤ. “
سیاہل نے دبے مگر زرا سخت لہجے میں کہا تھا.
وہ دونوں بہت ہی آہستہ آواز میں بات کررہے تھے. کہ چاہنے کے باوجود کوئی سن نہیں سکتا تھا.
” نہیں کھاؤں گی. میری مرضی. “
خانی جو صبح سے سیاہل کے خاندان والوں کے آرڈر چپ چاپ مان رہی تھی. اب اُسے سامنے دیکھ اپنی ساری بھڑاس اُسی بندے پر نکالنی چاہی تھی جس کی جانب سے اُسے معلوم تھا اُس کی ہر گستاخی برداشت ہوسکتی تھی.
خانی کے چڑھے ہوئے انداز پر سیاہل ایک نظر اُسے گھورتا خاموش ہوگیا تھا. اُسے اپنی بیوی کا موڈ کافی بگڑا ہوا لگا تھا.
خانی کی ٹینشن اور غصے میں کھانا نہ کھانے والی عادت سے وہ اچھی طرح واقف ہوچکا تھا. اُسے اب محسوس ہورہا تھا کہ شاید آگے کی اُس کی پوری زندگی اپنی بیوی کو زبردستی کھانا کھلاتے ہی گزرنی تھی.
” بھابھی سائیں یہ ڈش زرا ادا سائیں کو پاس کردیں.”
شمسہ نے تانیہ بیگم کے اشارے پر ایک ڈش خانی کی جانب بڑھائی تھی. خانی یہ سب دیکھتی اِس بات کے پیچھے چھپا ریزن بھانپ گئی تھی.
” یہ لیں سائیں قورمہ ٹیسٹ کریں.”
خانی جانتی تھی تانیہ بیگم اُس کے منہ سے کیا سننا چاہتی تھیں. اِس لیے اُن کی دل کی تسلی کے لیے خانی چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ لاتی لفظوں کو چبا چبا کر بولتی سیاہل سے مخاطب ہوئی تھی.
سیاہل جو پانی پی رہا تھا. اچانک خانی کی جانب سے اتنے عزت بھرے لفظوں کے حملے پر اُسے زور کا اچھو لگا تھا. اور اُس کو بُری طرح سے کھانسی کا دورہ شروع ہوچکا تھا. جس میں سیاہل کی واضح ہنسی بھی شامل تھی.
خانی حیران پریشان نظروں سے سیاہل کی جانب دیکھ رہی تھی. جس کی سفید رنگت کھانسی کی وجہ سے لال ہوچکی تھی. اور کھانسی ختم ہوتے ہی سیاہل نے ایک جاندار قہقہ لگایا تھا.
” میڈم اِس طرح اچانک حملہ آور ہونے سے پہلے بندہ تھوڑا سا تو آگاہ کر ہی دیتا ہے. ویسے تمہیں یہ بولنے کو کہا کس نے. “
سیاہل کی ہنسی رُکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی. جبکہ اپنی بات کا ایسا مذاق اُڑائے جانے پر خانی کا دماغ گھوم گیا تھا.
باقی سب ہونق بنے اُن دونوں کو دیکھ رہے تھے. پوری زندگی میں اُنہوں نے سیاہل کا یہ انداز نہیں دیکھا تھا.
” میں نے کہا ہے کیونکہ بیوی شوہر کو عزت سے پکارتی ہی اچھی لگتی ہے.”
بی بی سائیں کو سیاہل کا خانی کو اتنا اہمیت دینا زہر لگ رہا تھا.
” کیوں شوہر میں ایسے کونسے سُرخاب کے پر لگے ہیں. اگر ایسا ہے تو صرف بیوی کو ہی شوہر کا عزت سے نہیں بلانا چاہیے بلکہ سلام کے دیئے گئے برابری کے حقوق کے مطابق شوہر کو بھی بدلے میں بیوی کو اُتنی عزت سے پکارنا چاہئے. یہ سائیں وغیرہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے خانی. تم جس چیز میں کمفرٹیبل ہو وہی بولو.
اور بی بی سائیں پلیز میں نہیں چاہتا میری بیوی پر ایسی کوئی بھی چیز انفورس کرنے کی کوشش کی جائے جس میں وہ کمفرٹیبل نہیں ہے. مجھے وہ ایسے ہی بہت پسند ہے. “
سیاہل سنجیدہ سے لہجے میں وہاں موجود باقی مردوں کو بھی جتانے کے ساتھ ساتھ بی بی سائیں کو بہت ہی نرمی سے اپنی بات سمجھاتا آخر میں خانی کی جانب محبت پاش نظروں سے دیکھتے بولا.
جبکہ اُس کی بات پر شہزاد پہلو بدل کر رہ گیا تھا. جو وہاں موجود باقی کچھ مردوں کی طرح عورت کے منہ سے تو سائیں کہلوانا جانتے تھے. مگر جواب میں اُن کو ویسی عزت دینے کو بلکل بھی تیار نہیں تھے. کہیں ایسا کرنے سے اُن کی شان میں فرق نہ آجائے. جبکہ سیاہل کی بات پر خوش ہوتے فرمان صاحب نے تائید میں سر ہلایا تھا.
خانی نے سیاہل خان کی اتنی پیاری سوچ پر فخریہ نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا. کچھ دیر کے لیے وہ سیاہل سے اپنی ساری ناراضگی بھولتی خود کو دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی تصور کرنے لگی تھی.
خانی جیسا سمجھ رہی تھی ویسا بلکل بھی نہیں تھا. سیاہل خان اُس کی جانب سے اتنا بھی بے خبر نہیں تھا.
باقی سب تو بالکل ٹھیک تھا. مگر خانی نے ایک بات نوٹ کی تھی. کہ سیاہل اُس کی جانب دیکھنے سے گریزاں تھا. جس سے خانی کو محسوس ہوا تھا کہ وہ اب بھی اُسے اگنور کررہا ہے. خانی کا کِھلتا چہرا پھر سے مرجھانے لگا تھا.
سیاہل کی باتیں بی بی سائیں اور تانیہ بیگم کے تن بدن میں آگ لگا گئی تھیں. پہلے سیاہل کا اپنی کرسی چھوڑ کر خانی کے پاس بیٹھنا اور پھر سب کے سامنے اُن کی بات پر اعتراض جتانا بی بی سائیں کو شدید غصہ دلا گیا تھا. مگر مصلحت کے تحت وہ خاموش رہی تھیں.
لیکن وہ یہ نہیں سمجھ پارہی تھیں. جس طرح اُنہوں نے خانی کو سب کے سامنے بےعزت کیا تھا. سیاہل نے اُسی طرح سب کے سامنے اپنی بیوی کو ڈیفینڈ کرتے بہت ہی عزت سے اُنہیں اپنی بات سمجھائی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
روم میں داخل ہوتے شہرین کی نظر میران پر پڑی تھی. جو ایک ہاتھ سے کوٹ پہننے کی ناکام کوشش کررہا تھا. گولی لگنے کی وجہ سے اُس کا ایک ہاتھ زخمی تھا. جس کو وہ زرا سی بھی موومنٹ نہیں دے سکتا تھا. اُسے ابھی ریسٹ کی شدید ضرورت تھی. مگر میران بنا کسی کی سنے خود کو مزید تکلیف دینے پر تلا ہوا تھا. اور شہرین ابھی اتنی حیثیت نہیں رکھتی تھی کہ میران کو کچھ کہہ پاتی.
” میں مدد کردوں آپ کی. “
شہرین جھجھکتے ہوئے آگے بڑھی تھی. میران جو عام حالات میں صاف انکار کردیتا. مگر پہلے ہی اُسے کافی دیر ہوچکی تھی. گھڑی کی جانب دیکھتے اُس نے اثبات میں سر ہلاتے اجازت دی تھی.
شہرین دھڑکتے دل کے ساتھ آگے بڑھی تھی. اور میران کے ہاتھ سے کوٹ لے کر اُسے پہنانے لگی تھی. میران شہرین کی جانب بلکل بھی متوجہ نہیں تھا. اُس کا سارا دھیان ابھی تھوڑی دیر بعد پیدا ہونے والی سچویشن کی جانب تھا. وہ جانتا تھا اُس کا فیصلہ کتنا بڑا طوفان کھڑا کرنے والا تھا. مگر اِس وقت اپنی بہن کا دل اپنی جانب سے صاف کرنے کے لیے وہ ایک چھوٹی سی کوشش کرنا چاہتا تھا.
شہرین اچھے سے جانتی تھی. میران کی نظروں میں اُس کا کوئی مقام نہیں تھا. جتنا دن میں وہ اُس سے مخاطب ہوتا تھا اُس سے تو کئی زیادہ وہ اپنے ملازمین سے بات کرلیتا تھا. مگر اتنے دن اِس شخص کے ساتھ رہتے اِسی کے بارے میں سوچتے شہرین کے دل میں میران کے لیے محبت بھرے جذبات سر اُٹھا رہے تھے. جنہیں دبانے کی بہت کوشش کرنے کے باوجود بھی وہ دبا نہیں پارہی تھی. اب تو وہ اکثر اپنے آپ سے لڑنے لگی تھی کہ اپنی اوقات جانتے ہوئے بھی وہ میران بلوچ کے بارے میں بھلا ایسا کیسے سوچ سکتی تھی. مگر اِس دل کا کیا کرتی جس پر کبھی کسی کا زور نہیں چل پایا تھا. لیکن اُس نے سوچ لیا تھا کہ وہ مرجائے گی مگر اپنی فیلنگز کا پتا کبھی بھی میران کو نہیں لگنے دے گی. اور نہ کبھی اُس سے دور جائے گی. چاہے ساری زندگی اُس کی نوکرانی بن کر گزارنی پڑے.
شہرین نظریں جھکائے اُس کے کوٹ کے بٹن بند کرتے پلٹی تھی. مگر اگلے ہی لمحے اُسے رُک جانا پڑا تھا. اُس کی چادر کو کھنچاؤ آیا تھا.
پچھلی بار کی طرح اِس بار بھی اُس کا دل زور سے دھڑک گیا تھا. مگر پلٹنے پر اُس کی ساری خوش فہمی ہوا ہوئی تھی. میران نے روکا نہیں تھا بلکہ اُس کی شال کے کنارے پر لگی ڈوریاں میران کی کلائی میں پہنی گھڑی میں بُری طرح اُلجھی ہوئی تھیں.
شہرین نے فوراً نظریں اُٹھا کر میران کی جانب دیکھا تھا. جو خونخوار نگاہوں سے اُسے ہی گھور رہا تھا.
” تمہیں میں نے اُس دن بھی کہا تھا. اِس تھان کو اِس کمرے کے اندر لپیٹ کر پھرنے کی کیا ضرورت ہے. پہلے ہی مجھے دیر ہورہی ہے. اب اُوپر سے یہ سب فضول…. “
میران اپنی چادر نکالتی شہرین کو غصے ہوتے بولا.
شہرین جو ویسے ہی میران سے بہت گھبراتی تھی. اُس کے غصے کرنے پر چادر نکالنا تو دور شہرین کے ہاتھ ویسے ہی لرزنے لگے تھے. جو میران سے بھی پوشیدہ نہیں رہ سکے تھے.
” میری ایک بات کان کھول کر سن لو. اگر آج کے بعد میں نے کمرے کے اندر تمہیں اِس تھان میں لپٹا دیکھا تو میں اِسے آگ لگا دوں گا. “
میران اُس کی مسلسل ناکام کوششیں دیکھ بازو اُوپر کرکے اُسی ہاتھ سے گھڑی کھول کر اُتارتا شہرین کو قہر برساتی نظروں سے دیکھتا پلٹا تھا. مگر شاید وہ نہیں جانتا تھا.غصے میں کہی اُس کی یہ بات واپس اُسی پر پلٹنے والی تھی. وہ بہت زیادہ لیٹ ہوچکا تھا. جس کا غصہ بیچاری شہرین پر نکل رہا تھا.
میران کے نکلتے ہی خانی رُکی ہوئی سانسیں بحال کرتی صوفے پر آبیٹھی تھی.
” اُف میرے خدا مجھے بھی کیا ہوجاتا ہے اُن کے سامنے. “
میران نے پہلے کبھی بھی اُس سے ایسے بات نہیں کی تھی. مگر اِس اچانک پیش آنے والے واقع کے بعد میران کافی چڑچڑا سا ہوا پڑا تھا. نارمل بات کا جواب بھی غصے سے دے رہا تھا.
صبح ہی حویلی والوں کے بہت اسرار پر وہ ہاسپٹل سے لوٹا تھا. ارباز کی ڈیتھ کی وجہ سے حویلی کا ماحول بہت ہی زیادہ سوگوار تھا. جوان بیٹے کی لاش دیکھنے کے بعد سے بشرا بیگم کو کسی بات کا ہوش رہا ہی نہیں تھا.
شہرین کو بھی سارے واقع کی خبر ہوچکی تھی. حویلی میں شاید وہ ہی واحد انسان تھی. جسے اِس سب سے بہت خوشی ہوئی تھی. وہ ارباز کے ظلم و ستم کی لمبی داستانیں سن اور دیکھ چکی تھی. اب ظالم کو اپنے انجام پر پہنچتے دیکھ اُس کا یقین اپنے غفور و رحیم رب کے انصاف پر مزید پختہ ہوگیا تھا.
میران کا اِس سب میں انوالو ہونے کا سن کر اُسے بہت دکھ پہنچا تھا. مگر وہ اتنا تو میران کو جان ہی گئی تھی. کہ وہ بُرا انسان نہیں تھا. ضرور کوئی نہ کوئی ایسی وجہ ہوگی جس کی وجہ سے اُس نے یہ سب کیا تھا. شہرین سب سے زیادہ خوش خانی کے اپنے شوہر سردار سیاہل خان کے پاس چلے جانے پر تھی. خانی اُس کی محسن تھی. اُس کے دل سے خانی کے لیے ہر وقت دعا نکلتی تھی. جس نے اُس کی زندگی عذاب سے بچا لی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” میران تم ہوش میں تو ہو. کیا بول رہے ہو تم.”
میران کی بات سن کر آغا جان کے ساتھ ساتھ ارشد صاحب بھی بھڑک اُٹھے تھے. آج اُن لوگوں نے اپنے کچھ ساتھی دوستوں اور قبیلے کے معزز لوگوں کی بیٹھک رکھی تھی. جس میں اُنہوں نے سیاہل خان کے خلاف قتل اور اغوا کا کیس بنا کر اُسے اُس کی گدی سے اُتاروانے کے لیے اُٹھائے جانے والے بڑے قدم کے بارے میں فیصلہ کرنا تھا. اور سب لوگوں سے اِس معاملے میں سپورٹ لینی تھی.
کیونکہ اِس محفل میں سیاہل خان کے سارے حاسدین ہی بیٹھے تھے.
ذوالفقار اور ارشد صاحب بہت خوش تھے کہ اُن کے پاس ثبوت کے طور پر وہاں کا چشمدید گواہ میران بلوچ موجود ہے. جس کی گواہی اچھا خاصا کام کرسکتی تھی. مگر میران کے اِس طرح انکاری ہونے پر اُنہیں شدید جھٹکا لگا تھا.
” جی آغا جان اور تایا سائیں میں ہوش میں ہی ہوں. میں نے حملہ آوروں کو نہیں پہچانا وہ نقاب میں تھے. میں بلکل بھی نہیں جانتا کہ وہ سیاہل خان تھا یا کوئی اور. “
میران بہت ہی تحمل سے اپنی بات دوہراتے بولا.
جبکہ اُن لوگوں کے ساتھ ساتھ وہاں موجود شہرام بلوچ بھی حیران نظروں سے اُس کی جانب دیکھ رہا تھا.
وہ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ میران واقعی ہی سیاہل خان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لینا چاہتا یا اُس کے اندر کوئی نئی سازش پک رہی ہے.
” میران تم یہ ٹھیک نہیں کررہے. اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا. “
ارشد بلوچ نے میران کو وارن کیا تھا. وہ اپنے جوان بیٹے کے قاتل کو ایسے نہیں جانے دے سکتے تھے.
” انجام سے اُنہیں ڈرنا چاہیے جو غلط ہوں. مگر میں جانتا ہوں میں کچھ غلط نہیں کررہا. “
میران اُن کی دھمکی کا جواب بہت ہی رسانیت سے دیتے وہاں سے نکل گیا تھا.
جبکہ شہرام سمیت باقی سب میران کی اِس کایا پلٹ پر اپنی جگہ ساکت بیٹھے رہ گئے تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” بھابھی سائیں آپ کو ادا سائیں بلا رہے ہیں. پلیز چلی جائیں وہ غصے میں ہیں. “
سمن اپنے کمرے میں بیٹھی خانی کے پاس آتے منت بھرے لہجے میں بولی. سیاہل کے کہنے پر وہ اب دوسری بار خانی کو بلانے آچکی تھی. مگر خانی اپنی جگہ سے ٹس سے مس ہونے کا نام بھی نہیں لے رہی تھی.
” جب سردار صاحب نے روم میں بلا کر بھی مجھے اگنور ہی کرنا ہے تو جانے کی ضرورت ہی کیا ہے. ابھی بھی پورا ٹائم ایک بار بھی نظر بھر کر نہیں دیکھا. میں ہی پاگل ہوں جو صبح سے یہ وزن لیے پھر رہی ہوں. “
خانی دل ہی دل میں سیاہل سے لڑنے میں مصروف تھی.
” تم جاؤ اور بولو میں سو گئی ہوں.”
خانی نے سمن کو ٹالتے پھر سے واپس بھیج دیا تھا. سمن اِن دونوں میاں بیوی کے درمیان اپنا گھن چکر بنتا محسوس کررہی تھی. خانی کی بات پر وہ چپ چاپ نکل گئی تھی.
خانی بیڈ سے اُٹھتی کپڑے چینج کرنے کی نیت سے دوپٹہ اُتار کر بیڈ پر رکھتی ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھی تھی. جب اُسے پھر سے دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی.
” سمن پلیز اب کی بار اپنے اُس مغرور اور گھمنڈی بھائی کا پیغام مجھے سنانے کی ضرورت بلکل بھی نہیں ہے. “
خانی بنا پلٹے کلائیوں سے چوڑیاں اُتارتے بولی. یہ جانے بغیر کے اندر داخل ہونے والا انسان سمن نہیں بلکہ سیاہل موسٰی خان ہے. خانی بے دھیانی میں ہی اپنی شامت کو آواز دے چکی تھی.
سیاہل بنا کچھ بولے سینے پر دونوں بازو باندھے خانی سے کچھ فاصلے پر جا رُکا تھا.
” کیا ہوا سمن……”
خانی سمن کی خاموشی محسوس کرتے جیسے ہی پلٹی اپنے بلکل پیچھے چند قدموں کے فاصلے پر خوشمگی نظروں سے خود کو گھورتے سیاہل خان کو دیکھ خانی کے الفاظ گم ہوئے تھے.
” کچھ کہہ رہی تھی تم. “
سیاہل نے خانی کی جانب پیش قدمی کرتے آبرو اُٹھا کر استفسار کیا تھا.
” نن نہیں….”
خانی کا سر خود بخود نفی میں ہل گیا تھا.
” اچھا مجھے لگا یہاں کسی نے مجھے گھمنڈی اور مغرور بولا ہے. “
سیاہل نے ایک قدم مزید آگے بڑھایا تھا. جس پر خانی فوراً پیچھے ہٹتی ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ جالگی تھی. دونوں کے درمیان صرف ایک قدم کا فاصلہ رہ گیا تھا. سیاہل کی پرشوق نظریں پوری بے باکی سے خانی کے بنا دوپٹے کے حسین مہکتے سراپے کا جائزہ لینے میں مصروف تھیں. سیاہل کا یہ انداز خانی کی حالت خراب کرگیا تھا. چہرے کا رنگ کپڑوں کے رنگ سے زیادہ لال ہوچکا تھا.
مگر سیاہل کی شوخ نگاہیں اِس وقت اُسے بخشنے کے موڈ میں بلکل بھی نہیں تھیں.
” میرے اتنی بار بلانے کے باوجود روم میں کیوں نہیں آرہی تھی. “
سیاہل قدم اُٹھاتا درمیانی فاصلہ بلکل ختم کرچکا تھا. اور خانی کے اردگرد ڈریسنگ ٹیبل پر ہاتھ رکھتے اُسے اپنی قید میں لیا تھا.
خانی کی سانسیں بے قابو ہوئی تھیں.
” میرا موڈ نہیں تھا. “
خانی نے اپنی کیفیت پر قابو پاتے مضبوط لہجے میں جواب دیا تھا.
” خانی سیاہل خان جب میں اپنے موڈ کی کرنے پر آیا تو پرابلم بھی آپ کو ہی ہونی ہے. “
سیاہل کی نظریں بار بار خانی کے لپسٹک سے سجے ہونٹوں کی جانب اُٹھ رہی تھیں. جنہیں محسوس کرتے خانی بُری طرح پزل ہورہی تھی.
” آپ مجھے اگنور کررہے تھے مسلسل اِس لیے. “
خانی کے آپ کہہ کر پکارنے پر سیاہل کے ہونٹوں پر دلکش سی مسکراہٹ پھیل گئی تھی.
” امیزنگ سردارنی صاحبہ ایک تو آپ ہتھیاروں سے لیس ہوکر میرے سامنے آتی ہیں. اُوپر سے اگر میں خود کو بچانے کی کوشش کروں تو اُس میں بھی پرابلم ہے. اگنور کرنے کی وجہ کچھ اور نہیں اِن نازک پنکھڑیوں پر لگی یہ ڈارک لپسٹک ہے. اب اگر باہر یہ مجھ سے کوئی گستاخی سرزد کروا دیتے تو.”
سیاہل نے بات کرنے کے دوران ہاتھ بڑھا کر خانی کے ہونٹوں کو چھوتے اُس کی لپسٹک اُنگلی پر لگا کر خانی کے سامنے کی تھی.
خانی کی دل دھڑک دھڑک کر پاگل ہوتا اُس کے کنٹرول سے نکل گیا تھا. سیاہل کی قید سے فرار تو ناممکن تھا. خانی سر پیچھے کرتی ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے پر ٹکا چکی تھی. سیاہل کی جسارت پر خانی کے جسم کا سارا خون چہرے پر سمٹ آیا تھا.
” آپ ناراض تھے مجھ سے. “
سیاہل کے انداز دیکھ خانی کو اُس کا اگنور کرنا ہی بھلا لگا تھا.
” وہ تو میں اب بھی ہوں. اور شاید منانا تھا تم نے مجھے. “
سیاہل جیسے آج خانی کو تنگ کرنے کے فُل موڈ میں تھا.
خانی جو بلکل ڈریسنگ ٹیبل کے اُوپر گرنے والی پوزیشن میں ہو چکی تھی. سیاہل نے اُسے لڑکھڑاتے دیکھ جلدی سے بازو پھیلا کر اپنے حصار میں لیا تھا.
” مجھے لگتا ہے سمن کو اپنے روم میں آنا ہوگا. ہم اپنے روم میں جاکر یہیں سے کانٹینیو کرتے ہیں. “
سیاہل خانی کو اُٹھانے کے لیے جھکا تھا.
” نہیں میں خود چل لوں گی. پلیز باہر سب…. “
خانی کا احتجاج ادھورا ہی رہ گیا تھا. کیونکہ سیاہل آرام سے اُسے اپنی بانہوں میں بھر چکا تھا.
خانی نے حیا کے مارے آنکھیں میچ لی تھیں. اِس شخص سے ضد لگا کر اِس کی بات نہ مان کر گھاٹا ہمیشہ اُس کا اپنا ہی ہوتا تھا. مگر پھر بھی ہر بار بھول کر وہ وہی غلطی کر جاتی تھی.
خانی نے معمولی سی آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھا تھا. مگر سارا کوریڈور خالی پڑا تھا. وہاں کسی اور فرد کا نام و نشان بھی نہیں تھا. اِس کا مطلب سیاہل خان پہلے ہی پوری تیاری کرکے آیا تھا.
خانی نے اُسے گھورنا چاہا تھا. مگر اتنے نزدیک اُس کی بانہوں میں ہونے کی وجہ سے خانی ایسی جرأت نہیں کر پائی تھی.
” اوہ میرا دوپٹہ. “
روم میں آتے سیاہل نے خانی کو نیچے اُتار دیا تھا. جب خانی کو اپنے دوپٹے کا خیال آیا تھا. جو سیاہل کی زبردستی کی وجہ سے سمن کے روم میں ہی رہ گیا تھا.
” آئم ویٹنگ خانی سیاہل خان منائیں مجھے. “
سیاہل خانی کا بازو پکڑ کر دیوار سے ٹکاتے اُس کے گرد بازوؤں کا حصار بناتے فرار کی تمام راہیں مسدود کرگیا تھا.
خانی کی آنکھوں میں جھانکتے سیاہل نے اُسے اپنے سحر میں جکڑنا چاہا تھا.
” میں صبح منا چکی ہوں آپ کو. اب میں ناراض ہوں کیونکہ کل سے آپ مسلسل میری انسلٹ کررہے ہیں.”
اُس ساحر کے اثر سے بچنے کے لیے خانی نے جلدی سے نظریں پھیری تھیں.
جبکہ خانی کے الفاظ سیاہل کو اچھا خاصہ تپا گئے تھے.
” میں نے کب انسلٹ کی. “
سیاہل نے خانی کو تیز نظروں سے گھورا تھا.
” اگنور کرنا بات کا جواب نہ دینا انسلٹ کرنا ہی ہوتا ہے.”
خانی نے بنا گھبرائے جواب دیا تھا.
” تو تمہارا کہنا ہے تم ناراض ہو مجھ سے. مجھے منانا ہوگا تمہیں. آریو شیور. “
سیاہل نے اپنے لفظوں پر زور دیتے خانی سے پوچھا تھا. جس پر بنا اُس کی بات کا اصل مطلب جانے خانی اثبات میں سر ہلا گئی تھی.
” میرا منانے کا انداز زرا ڈفرنٹ ہے. مگر بہت ہی امیزنگ ہے. “
سیاہل خانی کا چہرا دونوں ہاتھوں میں تھامتے بولا. اور خانی کے ہونٹوں کو فوکس کرتے اُس پر جھکا تھا.
” نن نہیں میں ناراض نہیں ہوں. “
خانی نے سیاہل کے ہونٹوں پر ہاتھ ٹکاتے اُسے روکنا چاہا تھا.
” مگر میرا تو اب منانے کا موڈ بن چکا ہے. “
سیاہل خانی کا ہاتھ ہٹاتے شوخی سے بولا.
” ایسے کون مناتا ہے بھلا. “
سیاہل کو پھر خود پر جھکتے دیکھ خانی نے اسے روکنے کی ایک اور ٹرائے ماری تھی.
” میں مناتا ہوں. “
خانی کی سانسوں کی مہک سیاہل خان کو بہکانے لگی تھی.
” کیا آپ سب کو ایسے ہی مناتے ہیں. “
خانی سیاہل کو روکنے کی کوشش میں اچھا خاصہ بے تکا سوال کر گئی تھی.
” واٹ. “
سیاہل نے جھٹکے سے سر اُٹھایا تھا. مگر اپنے سوال کا مطلب سمجھتی خانی شرم سے پانی پانی ہوتی زور سے آنکھیں میچ گئی تھی.
سیاہل مبہوت سا یہ حسین اور دلفریب منظر دیکھ گیا تھا. سختی سے میچی آنکھیں لرزتے نازک گلابی ہونٹ. اب کی بار ضبط کے سارے بندھن توڑتے وہ خانی پر جھکتے اُس کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں گم کرچکا تھا.
خانی نے سیاہل خان کی شدت پر گھبراتے اُس کا کالر بُری طرح سے دبوچ لیا تھا.
اِس لڑکی کی طلب وہ نجانے کتنے برسوں سے کرتا آیا تھا. آج جب وہ دسترس میں تھی. تو وہ اپنے جذبات پر بندھ نہیں باندھ سکا تھا. اور ایک شوخ سی گستاخی کرگیا تھا.
خانی کی گرفت اپنے کالر پر ڈھیلی پڑتے دیکھ سیاہل نے آخر کار ترس کھاتے اُسے آزادی بخش دی تھی.
خانی کا چہرا خطرناک حد تک لال ہوچکا تھا. گہرے گہرے سانس لیتی وہ سیاہل کے ہی سینے میں منہ چھپا گئی تھی.
جاری ہے…..
