Ishq Ne Ki Wafa By Farwa Khalid Readelle50100

Ishq Ne Ki Wafa By Farwa Khalid Readelle50100 Last updated: 20 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ne Ki Wafa

By Farwa Khan

اپنی ساری ہمتیں اکھٹی کرتے خانی نے سامنے بیٹھے وجاہت اور خوبصورتی کے شاہکار اُس شاندار مرد کی

جانب دیکھا تھا. جو صرف اور صرف اُس کا تھا. سیاہل خان کے دل پر صرف اُس کی حکمرانی تھی یہ بات

خانی کو عرش پر پہنچا دیتی تھی. اُس کی خاطر یہ شخص کسی سے بھی

لڑ جانے کو تیار رہتا تھا. مگر اُس کی عزت اُس کی ذات پر اک حرف بھی برداشت نہیں کرسکتا تھا. " سیاہل خان کیا آپ مجھے اتنے بڑے جھوٹ بولنے اور غلط فہمی کی بنیاد پر آپ کو اُس خطرناک جگہ پر بلا کر انجانے

میں نقصان پہنچانے میں شریک ہوکر کی جانے والی غلطی پر معاف کرسکتے ہیں. میں

جانتی ہوں میرا قصور بہت بڑا ہے. اِسی لیے میں اب تک اُس بات پر خود کو معاف نہیں کر پائی. " خانی ندامت سے سر جھکائے سیاہل خان کے سامنے

ہاتھ جوڑ گئی تھی. جسے دیکھتے سیاہل تڑپ کر آگے بڑھا تھا. " پاگل ہوگئی ہو خانی. یہ کیا حرکت تھی. آئندہ کبھی یہ مت کرنا ورنہ اچھا نہیں ہوگا. " سیاہل نے خانی کے دونوں ہاتھ تھامتے اُسے غصے سے وارن کیا تھا. اُسے خانی کا یوں اپنے سامنے جھکنا انتہائی بُرا لگا تھا. " خانی میں تمہاری جھوٹ والی غلطی اُسی وقت ہی معاف کر گیا تھا. جب تم بنا ایک بھی

سوال یا احتجاج کیے میرا مان رکھتے اپنا سب کچھ چھوڑتے میرے ساتھ آگئی تھی. غصہ مجھے صرف ایک بات پر تھا. کہ تم اتنی بڑی بے وقوفی کرکے خود کو کیسے خطرے میں ڈال سکتی ہو. تم جانتی

ہو اُس دن تم پر ارباز کو گن تانے دیکھ میں غصے سے کس قدر پاگل ہو اُٹھا تھا. آج بھی یہ سوچ کر مجھے اپنی روح فنا

ہوتی محسوس ہوتی ہے. کہ اگر پہنچنے میں تھوڑی سی دیر ہوجاتی تو کتنی بڑی انہونی ہوسکتی تھی. تمہیں اگنور کرکے اُسی کی چھوٹی سی سزا دے رہا تھا. مگر تم نے تو اپنی اِن قاتلانہ اداؤں سے وہ بھی زیادہ دیر برقرار نہیں رہنے دی. " سیاہل نے خانی کے دونوں ہاتھ تھامے اپنی والہانہ چاہت کا اظہار کرتے آخر میں اُسے خفگی سے گھورا تھا.

خانی پھر سے سیاہل خان کے بدلتے تیور دیکھ اپنی کلائی چھڑواتے واش روم کی جانب بڑھ گئی تھی. اِس بار سیاہل نے بھی اُسے جانے دیا تھا. اُسے ایک ضروری کال کرنی تھی. اِس لیے موبائل ہاتھ میں لیے وہ ٹیرس پر چلا گیا تھا. خانی شاور لے کر فریش ہوتی کمرے میں آئی تھی. جہاں سیاہل خان کو نہ پاکر وہ تھوڑا ریلیکس ہوئی تھی. ورنہ سیاہل کی بولتی شوخ نگاہوں اور جان لیوا قربت کو سہنا اُس نازک جان کے لیے بہت مشکل تھا.