No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
سیاہل خان کے جانے کے بعد خانی بے چینی سے اُس کا انتظار کرنے لگی تھی. اُس نے سوچ لیا تھا جب تک سیاہل نہیں آئے گا. وہ اُسے منا نہیں لے گی تب تک سوئے گی نہیں. اُسے ہلکا ہلکا بخار فیل ہورہا تھا. اور سر بھی درد سے پھٹ رہا تھا. مگر اِس وقت اُسے بلکل بھی کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی.
خانی اپنی ہی سوچوں میں گم تھی جب دروازے پر دستک ہوئی تھی. خانی نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھتے باہر کھڑے نفوس کو اندر آنے کی اجازت دی تھی.
جب اُسے سمن ملازمہ کے ساتھ کھانا لیے اندر داخل ہوتی دکھائی دی تھی. سمن کی ہدایت پر ملازمہ کھانا ٹیبل پر رکھ کر جاچکی تھی. خانی نے بہت ہی سہولت سے سمن سے کھانا نہ کھانے کی معذرت کرلی تھی. مگر سمن کو شاید سیاہل کی جانب سے سختی سے آرڈر تھا کہ خانی کو کھانا کھلا کر ہی جانا ہے. جس پر وہ کافی دیر کی بحث کے بعد بنا خانی کی بات مانے اُسے تھوڑا سا کھانا کھلا کر اور آخر میں جوس پلانے میں کامیاب ہوکر ہی سکون سے بیٹھی تھی.
خانی اِس وقت کسی سے بھی بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھی. اِس لیے اُس نے جان چھڑوانے کے کھانا کھا لیا تھا. مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی. کہ جوس میں نیند کی گولی تھی. جسے پینے کے تھوڑی دیر بعد ہی اُس کا سر نیند سے بھاری ہونے لگا تھا. سیاہل جانتا تھا اِس وقت خانی کیا کیا سوچ کر خود کو ہلکان کرتی رہے گی. اِسی لیے اُسی نے یہ سب کروایا تھا.
سمن خانی کو بیڈ پر نیم دراز ہوتا دیکھ اُس پر کمبل ڈالتی سیاہل کے آرڈر کے مطابق اپنی ڈیوٹی پوری کرتی روم سے نکل گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” بی بی سائیں یہ سب کیا ہے. جب سیاہل نے آپ کو بتایا اِس لڑکی کو یہاں لانے کا تو آپ نے اُسے روکا کیوں نہیں. ایک آپ ہی تو روک سکتی ہیں اُسے. وہ اپنے ہی جانی دشمنوں کی بیٹی کو کیسے اتنی عزت دے سکتا ہے. وہ کیسے بھول گیا ابھی دو مہینے پہلے ہی تو کس بُری طرح سے اُنہوں نے حملہ کروایا تھا اُس پر. “
تانیہ بیگم غصے سے پیچ و تاب کھاتی بی بی سائیں سے مخاطب ہوئی تھیں. اُن کے سارے ارمانوں پر پانی جو پھر گیا تھا. اُنہیں تو یہی لگتا تھا کہ سیاہل کبھی بھی دشمنوں کی بیٹی کو اِس گھر میں نہیں لائے گا. اور اگر بدلہ لینے کی خاطر لے بھی آیا تو اُسے بیوی کا درجہ نہیں دے گا. اور وہ اپنی بیٹی شمسہ کی شادی سیاہل سے کروا کر اُسے خان حویلی کی سردانی بنا دیں گی مگر یہاں تو سب کچھ ہی اُلٹ ہوچکا تھا. نہ صرف سیاہل اُس لڑکی کو گھر میں لے آیا تھا بلکہ اُس کے انداز صاف بتا رہے تھے کہ وہ لڑکی اُس کے لیے کتنی اہمیت رکھتی ہے.
” تانیہ تم کیوں اتنی ہلکان ہورہی ہو. تم سیاہل کو جانتی تو ہو اُس نے کچھ سوچ کر ہی فیصلہ کیا ہوگا نا. ابھی اِس وقت اُسے اُن لوگوں کی جانب سے کافی دباؤ برداشت کرنا ہے. میرا نہیں خیال کہ ہم گھر والے اِس وقت اُس کا ساتھ دینے کے بجائے اُس کے خلاف ہوجائیں. اور اُسے مزید پریشان کریں.”
رضیہ بیگم جو بی بی سائیں کے بلاوے پر وہاں آئی ہوئی تھیں. اُنہیں اپنی بہن کی یہ باتیں بلکل بھی پسند نہیں آئی تھیں. اِس لیے فوراً ٹوک دیا تھا. جس پر تانیہ بیگم کے پاس اُنہیں گھورنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا.
وہاں موجود حسنٰہ بیگم اور حمیرا بیگم بھی رضیہ بیگم کی بات سے متفق تھیں. حسنہ بیگم کو تو اپنی پیاری اور نازک سی بہو بہت پسند آئی تھی. کیونکہ وہ اپنے بیٹے کی آنکھوں میں اُس لڑکی کے لیے بے پناہ چاہت دیکھ چکی تھیں.
” رضیہ بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے تانیہ. تم نے جو کچھ بولنا تھا بول دیا. اب اِس کے بعد میں تمہارے منہ سے اِس ٹاپک پر کوئی بات نہیں سننا چاہتی. کافی رات ہوچکی ہے اب سب لوگ سوجاؤ.”
بی بی سائیں خانی کے جتنے بھی خلاف سہی مگر سیاہل کے بارے میں وہ گھر کے کسی فرد کے منہ سے کچھ غلط نہیں سن سکتی تھیں. اِس لیے وہ زرا سخت لہجے اور دو ٹوک انداز میں تانیہ بیگم کو اپنا فیصلہ سناتیں وہاں سے اُٹھ گئی تھیں.
مگر تانیہ بیگم اتنی آسانی سے اِس پر خاموش ہونے والی نہیں تھیں. وہ ابھی سے ہی خانی کو سیاہل کی نظروں میں گرانے اور اِس گھر سے نکالنے کے لیے کچھ نہ کچھ سوچنے لگی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
صبح کے چار بجے سیاہل نے کمرے میں قدم رکھا تھا. بیڈ پر نظر جاتے ہی اپنے کمرے میں نئے وجود کے حسین اضافے پر شدید تھکاوٹ میں بھی اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیل گئی تھی.
سیاہل کے قدم خود بخود ہی بیڈ کی جانب اُٹھے تھے.
خانی سینے تک کمبل اوڑھے لیٹی ہوئی تھی. جوڑا شاید ڈھیلا ہوچکا تھا. کیچڑ میں سے بال نکل کر خانی کے چہرے کے اردگرد پھیلے ہوئے تھے. ایک بازو اُس نے سینے پر رکھا ہوا تھا. جبکہ دوسرا بیڈ سے نیچے ڈھلک رہا تھا. سیاہل نے بیڈ پر اُس کے پاس بیٹھتے جھک کر خانی کا بازو تھام کر اُوپر رکھنا چاہا تھا. جب اُس کی نظر خانی کی نازک سی دودھیا کلائی پر پڑے اُنگلیوں کے لال نشانات پر پڑی تھی.
جن پر پہلے تو وہ حیران ہوا تھا. مگر پھر یاد آتے کے خانی کے اِن نشانات کی وجہ تو وہ خود ہی تھا. شدید غصے میں انجانے میں وہ خانی کو تکلیف پہنچا گیا تھا. نشانات کو گھورتے سیاہل کے رگ و پے میں اپنے لیے غصے کی لہر دوڑ گئی تھی. بے دھیانی میں بھی سیاہل اپنی خانی کو نقصان کیسے پہنچا سکتا تھا. سیاہل جھک کر اپنے لبوں سے خانی کی کلائی پر جابجا پیار بھرا مرہم رکھنے لگا تھا.
سیاہل نے نوٹ کیا تھا کہ اُس کے اِس عمل سے گہری نیند میں بھی خانی کے چہرے پر سُرخیاں سی پھیل گئی تھیں. شاید وہ سیاہل کا شدت بھرا لمس محسوس کر پارہی تھی.
اُس کی نیند خراب ہونے کے احساس سے سیاہل فوراً پیچھے ہٹا تھا. جب خانی نے نیند میں ہی سیاہل کا اپنی کلائی پر رکھا ہاتھ تھام کر اپنے چہرے کے نیچے رکھ لیا تھا. جیسے سیاہل کی قربت اُسے نیند میں بھی سکون دے رہی ہو.
خانی کی اِس معصومانہ حرکت پر سیاہل کے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ دوڑ گئی تھی.
سیاہل کتنی ہی دیر یک ٹک اُس کے چاندنی بکھیرتے حسین شفاف چہرے کو دیکھے گیا تھا.
اِس بار اُس کی خانی نے جھوٹ بول کر اُسے بُری طرح ہرٹ کیا تھا. خانی کا کال کرکے اِس طرح ملنے بلانا ہی سیاہل کو شک میں مبتلا کر گیا تھا. کیونکہ خانی نے پہلے کبھی ایسی کوئی خواہش ظاہر نہیں کی تھی. سیاہل خان نے اُسی وقت بلوچ حویلی میں موجود اپنے خاص آدمیوں کو اندر کی بات پتا کرنے کو کہا تھا. کہ کہیں پھر تو اُس کے دشمن اُس کے خلاف کوئی سازش تیار نہیں کررہے. لیکن جو خبر اُسے پتا چلی تھی. وہ ایک بار تو سیاہل خان کو ہلا کر رکھ گئی تھی. اُسے کسی صورت یقین نہیں آرہا تھا کہ خانی اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر اُسے دھوکہ دے سکتی ہے.
سیاہل نے نجانے کتنی ہی بار اپنے آدمیوں کو خبر کنفرم کرنے کا حکم دیا تھا. اُسے لگ رہا تھا کہ شاید اُنہیں سننے میں غلطی ہوئی ہو. مگر ہر بار اُنہوں نے یہی بتایا تھا کہ خانی اُسے خود ملنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے دادا اور بھائی کے کہنے پر بلا رہی ہے.
سیاہل سارے ثبوت خانی کے خلاف ہونے کے باوجود اِس سب پر یقین نہیں کرنا چاہتا تھا. اُسے اِس بات پر شدید غصہ تھا کہ خانی نے اُس سے جھوٹ بولا ہے. مگر خانی اُسے دھوکہ دے گی اِس بات پر اُسے کسی صورت یقین نہیں آرہا تھا. کیونکہ وہ اپنے دشمنوں کی ذہنیت کا اندازہ لگا سکتا تھا. اُسے یہی لگ رہا تھا کہ خانی کو وہ لوگ بلیک میل کررہے ہیں. اِس لیے جب تک وہ خانی کی زبانی ساری باتیں نہ سن لیتا وہ اُسے دھوکے باز قرار نہیں دے سکتا تھا. اُس نے ایک بات تو ڈیسائیڈ کرلی تھی کہ وہ خانی کو اب وہاں مزید ایک دن بھی نہیں رہنے دے گا. چاہے اُسے حویلی کے اندر جانا پڑے وہ خانی کو اپنے ساتھ ضرور لائے گا.
بعد میں خانی کے میسجز دیکھ بہت حد تک اندر کا اشتعال کم ہونے کے ساتھ اُسے یقین تو ہوگیا تھا کہ اُس کی خانی دھوکے باز بلکل بھی نہیں ہے. میسج پڑھنے کے بعد اُس نے دوبارہ کال بیک کی تھی. مگر تب خانی نے ریسیو نہیں کی تھی. لیکن وہاں پہنچ کر خانی کو خطرے میں دیکھ سیاہل کا دماغ بہت بُری طرح سے گھوما تھا. وہ منظر یاد کرتے ابھی تک شدید اشتعال اور غصے کی وجہ سے جگہ پر نہیں آپایا تھا. خانی نے پہلے جھوٹ بول کر اور پھر جذباتی ہوکر اتنی خطرے والی جگہ پر پہنچ کر جو غلطی کی تھی. سیاہل اُس سے ناراض ہوکر تھوڑی سی سزا تو دینا ہی چاہتا تھا. اُس کے لیے خانی بہت قیمتی تھی. وہ اُسے نقصان پہنچانے والے کو کسی قیمت پر معاف نہیں کرسکتا تھا. چاہے وہ خانی خود ہی کیوں نہ ہو.
سیاہل جھک کر اُس کی پیشانی چومتے نرمی سے اپنا ہاتھ آزاد کرواتے اُس کے پاس سے اُٹھ آیا تھا. سیاہل کا دل اِس وقت ہمک ہمک کر اُس سے خانی کی قربت کی خواہش کررہا تھا. جس کو سیاہل سختی سے رد کرتے واش روم کی جانب بڑھ گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
خانی کسمسا کر آنکھ کھولتے کچھ دیر اجنبی نظروں سے اردگرد کا جائزہ لینے لگی تھی. مگر پھر یاد آتے کہ وہ کہا ہے سیاہل کے بیڈ روم میں ہونے کی خیال سے وہ فوراً اُٹھ بیٹھی تھی. جب اُس کی نظر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے پھر سے کہیں جانے کے لیے تیار ہوتے سیاہل خان پر پڑی تھی.
خانی نے ایک نظر بیڈ کے باقی حصے پر ڈالی تھی. جو سلوٹوں سے پاک دیکھ وہ سمجھ گئی تھی کہ سیاہل کو روم میں آئے کچھ دیر ہی ہوئی ہے. خانی دوپٹہ اُٹھا کر کندھوں پر پھیلاتی کیچڑ سے آزاد کھلے بالوں کو بنا سمیٹے بیڈ سے اُترتی سیاہل کی جانب بڑھی تھی.
جو بلکل اجنبی بنا کلائی پر گھڑی باندھنے میں مصروف تھا.
خانی ابھی بھی اُس کا رات والا غصے اور نظرانداز کرنے والا موڈ دیکھ بنا کچھ بولے بڑے ہی سکون سے پیچھے سے اُسے ہگ کر گئی تھی.
سیاہل کچھ دیر تو سمجھ ہی نہیں پایا تھا ہوا کیا ہے. وہ کسی صورت خانی سے اس استحقاق بھری حرکت کی اُمید نہیں کرسکتا تھا.
خانی اپنا چہرا سیاہل کی بیک سے ٹکائے اپنی نازک بانہوں کا حصار سیاہل کے سینے کے گرد باندھ کر اُسے کچھ دیر کے لیے اپنی ذات کے سحر میں جکڑ گئی تھی.
سیاہل نے تو ابھی کچھ وقت مزید خانی کو اگنور کرنے کا سوچ رکھا تھا. مگر خانی کے یہ خطرناک انداز دیکھ اُسے اپنے ارادے کمزور پڑتے محسوس ہورہے تھے.
سیاہل کے فرشتوں کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ خانی اِس طرح بھی منا سکتی ہے اُسے.
خانی کی روئی جیسی نرم و نازک اُنگلیوں کا لمس سیاہل کو سینے پر محسوس ہوتا اُسے بہکنے پر مجبور کررہا تھا.
وہ بلکل سٹریٹ کھڑا تھا. اُس نے خانی کی اِس حرکت کا کوئی جواب نہیں دیا تھا. نہ قریب کیا تھا نہ ہی دور.
” خانی مجھے ضروری کام سے باہر جانا ہے دیر ہورہی ہے.”
سیاہل بہت مشکل سے اپنے جذبات پر بندھ باندھتا خانی سے مخاطب ہوا تھا.
” تو جاؤ میں نے کب روکا ہے. “
خانی بنا ایک انچ ہلے بلکہ سیاہل کے گرد اپنا حصار مزید مضبوط کرتے نیند کی خمار ذدہ آواز میں بولتی سیاہل کے ضبط کو اچھا خاصہ آزما گئی تھی.
سیاہل ایک بہت ہی مضبوط اعصاب کا مالک تھا. مگر یہ لڑکی جو نہ صرف اُس کے دل تک رسائی رکھتی تھی بلکہ پورے حق سے اُس کے دل کی سلطنت کی ملکہ بھی تھی. جب بھی وہ پتھر بننے کی کوشش کرتا وہ قریب آکر ایسے ہی اُس کا امتحان لینے پر تل جاتی تھی. کیونکہ شاید اتنا اندازہ تو اُسے بھی ہوچکا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے سیاہل خان اُسے دھتکارے گا تو کبھی نہیں.
” خانی لیو می. مجھے جانا ہے. “
سیاہل اِس دفعہ قدرے سخت لہجے میں بولا تھا.
مگر اِس بار بھی خانی پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا.
” میں کیوں چھوڑوں تمہیں جانا ہے تو جاؤ. اور سیاہل خان یہ غصہ کسی اور کو دیکھنا میں نہیں ڈرتی تم سے.”
خانی سیاہل کے چوڑے شانوں میں منہ چھپائے منمنائی تھی. جبکہ اُس کے آخری جملے پر سیاہل کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ بکھر گئی تھی. اُسے اچھے سے یاد تھا کل رات اُس کی شیرنی اُسے غصے میں دیکھ کیسے سہمی ہوئی ہرنی بن گئی تھی. یہ سب یاد آتے سیاہل کو کل کا سارا واقعہ ایک بار پھر یاد آگیا تھا. اور سیاہل کا خانی پر غصہ پھر سے عود آیا تھا. جس پر سیاہل نے خانی کی اپنے گرد لپٹی بانہوں کو گرفت میں لیتے خود سے ہٹانا چاہا تھا.
” سیاہل خان اگر ابھی تم نے مجھے خود سے دور کیا تو یاد رکھنا میں بھی اِس کے بعد کبھی تمہارے پاس نہیں آؤں گی. “
سیاہل کے ہاتھوں کا لمس اپنے بازوؤں پر محسوس کرتے اُس کا مقصد سمجھتے خانی ناراضگی سے بولی تھی.
” تم مجھے دھمکی دے رہی ہو.”
سیاہل کا لہجہ اُس کی بات سن کر تیز ہوا تھا.
” ہاں دھمکی دے رہی ہوں. “
خانی بھی بنا ڈرے اُسی کے انداز میں جواب دیتے بولی.
خانی کی بات پر سیاہل اُس کی بانہوں کا حصار توڑتے ایکدم پلٹا تھا. اور خانی کی کمر میں ہاتھ ڈالتے اُسے اپنے بے حد قریب کیا تھا.
خانی کی سانسیں حلق میں اٹکی تھیں. اِس اچانک نازل ہونے والی افتاد کے لیے وہ بلکل بھی تیار نہیں تھی سیاہل کے سینے پر ہاتھ رکھتے اُس نے خود کو سنبھالا تھا.
” میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہہ رہا ہوں. خانی سیاہل خان سمیت اِس دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں ہے جو سیاہل خان کو اپنی بیوی سے دور کرسکے. جب تک میں نہ چاہو ایسا کبھی نہیں ہوسکتا. “
سیاہل کے اِس قدر جارحانہ انداز پر خانی کا دل بُری طرح دھڑک اُٹھا تھا. اُس کی گرم سانسوں سے خانی کو اپنا چہرا جھلستا ہوا محسوس ہوا تھا. اُس کی تھوڑی دیر پہلے کی ساری دلیری ہوا ہوئی تھی.
مگر سیاہل کے آخری جملے پر خانی نے جھٹکے سے سر اُٹھا کر اسکی جانب دیکھا تھا. جب تک میں نہ چاہو کا کیا مطلب تھا. کیا سیاہل خان اُسے خود سے دور کرنے کا ارادہ رکھتا تھا. یہ بات سیدھی خانی کے دل میں چبھی تھی.
سیاہل بنا کہے ہی خانی کی شکوے بھری نظریں خود پر محسوس کرتے اُن کو مفہوم جان چکا تھا.
” اور چاہے یہ ساری دنیا اِدھر سے اُدھر ہو جائے سیاہل خان مرتے دم تک ایسا کبھی نہیں چاہے گا.”
سیاہل نے اپنی بات مکمل کرتے اپنی ادھوری چھوڑی بات پر خانی کے چہرے کے ناراضگی سے تنے ہوئے نقوش ڈھیلے پڑتے دیکھے تھے.
یہ سارا منظر سیاہل کے دل میں آسودگی کے پھول کھلا گیا تھا. خانی بھی اُسے اُتنے ہی والہانہ انداز میں چاہتی تھی جتنا وہ.
مگر نہیں ابھی بھی وہ سیاہل خان کی محبت کے مقابل نہیں پہنچ پائی تھی. سیاہل نے فوراً ہی اپنی بات کی نفی کرتے اپنے بے حد قریب موجود اپنی دشمنِ جاں کو دیکھا تھا.
خانی کا چہرا سیاہل کی اِس قدر نزدیکی کی وجہ سے بلکل لال ہوچکا تھا. سیاہل خانی کو آزاد کرتے دور ہٹا تھا. کیونکہ اب اُس کے لیے اپنے جذبات پر بندھ باندھنا کافی مشکل ہوگیا تھا.
” مجھے سردار سیاہل موسٰی خان سے کچھ دیر بات کرنی ہے کیا مجھے اپنی بات کہنے کی اجازت ملے گی. “
خانی سیاہل کو واپس پلٹتا دیکھ طنزیا لہجے میں بولی.
” مگر مجھے خانی سیاہل خان کی کوئی بات نہیں سننی.”
سیاہل بھی اُسی کے انداز میں بولا.
” میں نے تمہیں دھوکا نہیں دیا. ہاں جھوٹ بولا ہے. مگر میری نیت غلط نہیں تھی. میں جانتی ہوں میرا قصور ہے. اُس کے بدلے میں تمہاری ہر سزا لینے کو تیار ہوں مگر پلیز بات تو کرو. مجھ سے تمہارا یوں اگنور کیے جانا برداشت نہیں ہورہا. مجھے انا بی کے بارے میں بھی تم کچھ نہیں بتا رہے. وہ ٹھیک ہیں نا. اور میرے خاندان والوں نے بھی تو تمہیں پھنسانے کے لیے کوئی ایکشن لیا ہوگا. مجھے سب جاننا ہے. “
خانی سیاہل کو موبائل اور کیز اُٹھا کر باہر کی جانب بڑھتا دیکھ بھرائی ہوئی آواز میں بولی.
سیاہل تو پہلے ہی خانی کی اِن معصوم سی دل لوٹتی حرکتوں پر کافی حد تک نرم پڑچکا تھا. مگر اِس وقت اُسے بہت ہی ضروری کام سے جانا تھا.
سیاہل گہری سانس بھرتے واپس پلٹا تھا. خانی کو روتا چھوڑ کر تو وہ کسی صورت نہیں جاسکتا تھا.
” خانی سب ٹھیک ہے. انا بی کا آپریشن ہوچکا ہے. وہ اب خطرے سے باہر ہیں. باقی رہی میرے دشمنوں کی بات تو تم اُن کی ٹینشن مت لو میں اچھے سے ہینڈل کر لوں گا اُنہیں. اور رہی اگنور کرنے والی بات تو واپس آکر اُس کا بھی بہت اچھا حل نکالنے کا ارادہ رکھتا ہوں میں. “
سیاہل خانی کا گال تھپتھپاتا آخری بات پر معنی خیزی سے اُس کی جانب دیکھتا باہر نکل گیا تھا.
” کتنا عجیب بندہ ہے. اتنا ایٹیٹیوڈ دیکھا گیا ہے. اب میں نے بھی نہیں منانا. رہو ناراض تم سردار سیاہل موسٰی خان. “
خانی بند دروازے کو گھورتی ناراضگی سے بولی.
انا بی کا سنتے جہاں اُس کے دل میں ڈھیروں سکون اُتر گیا تھا.وہیں سیاہل کا روکنے کے باوجود یوں چلے جانا اُسے بہت بُرا لگا تھا. اپنے مزاج کے لحاظ سے اُس نے سیاہل خان کو منانے کی بہت اچھی کوشش کی تھی. مگر اُس کا نتیجہ صفر دیکھ اب خانی کو دل ہی دل میں بہت شرمندگی محسوس ہورہی تھی.
اُس کے لیے ہمیشہ کسی کو بھی منانا بہت مشکل رہا تھا. ناراض ہونا تو اُسے بہت اچھے سے آتا تھا. مگر منانا بلکل بھی نہیں. لیکن اب سیاہل خان کے تیور دیکھ کر لگ رہا تھا کہ یہ کام بھی اُسے اب سیکھنا ہی پڑے گا. لیکن اِس وقت تو اُس نے خود ہی سیاہل سے ناراض ہونے کا ارادہ کر لیا تھا. جو نہ اُسے معافی مانگنے دے رہا تھا اور نہ ہی بات کررہا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے….
