No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
عینا سمن اور شمسہ کو باتیں کرتا چھوڑ دوسری جانب نکل آئی تھی. وہ کچھ دیر کے لیے خاموشی اور سکون چاہتی تھی.
کافی دیر اکیلے وہاں چہل قدمی کرتے ٹھنڈے پیر میں پیر ڈالنا عینا کو بہت مزا دے رہا تھا. یہاں آکر اُس کے اندر کا بوجھل پن کافی حد تک ختم ہوچکا تھا.
وہ اپنی سوچوں میں ہی گم تھی. جب اُسے خود پر کسی کی نظروں کی تپیشن محسوس ہوئی تھی. عینا نے گھبرا کر اردگرد دیکھا تھا. مگر اُسے کوئی نظر نہیں آیا تھا. اپنا وہم سمجھتی وہ پھر خود میں مشغول ہوگئی تھی.
” ایکسکیوزمی مس….آپ آگے مت جائیں اُس طرف پانی گہرا ہے. “
احمر بلوچ جو کب سے اِس دیوانی لڑکی کو آگے سے آگے بڑھتا دیکھ رہا تھا. آخر کار قریب آتے بول پڑا تھا.
” آپ سے مشورہ مانگا کیا میں نے. اپنے کام سے کام رکھیں زیادہ بہتر ہوگا. “
عینا اِس طرح اچانک ڈسٹرب کیے جانے پر اُس پر چڑھ دوڑی تھی. جبکہ احمر اتنے روڈ لہجے پر کچھ بول ہی نہیں پایا تھا.
” اوکے آئم سوری. آپ کو بُرا. میں تو جسٹ کنسرن میں بول رہا تھا. “
احمر کندھے اُچکاتے پلٹا تھا. عینا کو اُس کے سوری کرنے پر اپنی روڈنیس کا اندازہ ہوا تھا. اِس سے پہلے کہ وہ اُسے کچھ کہتی ایک زور دار لہر آتی عینا کے پیروں تلے سے ریت کھسکا گئی تھی.
وہ لڑکھڑائی تھی جسے دیکھتے احمر اُسے تھامنے کے لیے آگے بڑھا تھا. مگر اُس سے بھی پہلے سیاہل خان نے آگے بڑھتے اپنی بہن کو تھام لیا تھا. جہاں سیاہل کی آنکھوں میں احمر کو دیکھ کر نفرت کی لہر ابھری تھی. وہیں احمر بھی عینا کے ساتھ سیاہل کو دیکھ بہت حیران ہوا تھا.
” احمر بلوچ میری بہن کے قریب آنے کی کوشش بھی مت کرنا. ورنہ تمہیں ختم کرنے میں میرا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں ہوگا. “
سیاہل چبا چبا کر بولتا احمر کو اُس کی حد باور کروا گیا تھا.
” مگر سردار صاحب میری….. “
احمر نے کچھ بولنا چاہا تھا. مگر سیاہل اُس کی کوئی بھی بات سنیں عینا کو لیے وہاں سے نکل گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
پارٹی بہت ہی شاندار پیمانے پر ارینج کی گئی تھی. شہرین میران کے ساتھ قدم سے قدم ملاتے ہال کے اندر داخل ہوئی تھا. جہاں بڑی تعداد میں بہت سارے کپلز موجود تھے. بہت ہی اچھے انداز میں اُن کا ویلکم کیا گیا تھا.
میران نے وہاں سب کو یہی بتایا ہوا تھا کہ شہرین اُس کی کزن تھی. اور کسی بہت اہم ریزن کی وجہ سے اُنہیں ایمرجنسی میں شادی کرنی پڑی تھی. کیونکہ وہاں موجود سب لوگ ہی اُس کا اور فاکیہ کا ریلیشن جانتے تھے. سب کو اچانک فاکیہ کی زبانی میران کی شادی کا سن کر بہت عجیب لگا تھا. لیکن میران کے ریزن پر وہ خاموش ہوگئے تھے. اُنہیں لگا تھا میران کی گاؤں میں رہنے والی بیوی کوئی عام سی شرمیلی لڑکی ہوگی. مگر شہرین کی ایک جھلک ہی سب کے منہ بند کروا گئی تھی. میران کی ساتھ کھڑی اُس کے معیار پر پورا اترتی وہ اِس وقت کہیں سے بھی کوئی پینڈو گوار نہیں لگ رہی تھی. جہاں اُس کی لُک بدلی ہوئی تھی. وہیں اُس کے چہرے پر موجود کانفیڈنس اُس کو مزید حسین بنا رہا تھا. ناچاہتے ہوئے بھی میران کی اپنی نظریں بھٹک بھٹک کر اُس کے دلکش سراپے سے اُلجھ رہی تھیں.
فاکیہ اُن کے آنے کے تھوڑی دیر بعد پہنچی تھی. مگر آتے ہی بہت استحقاق سے میران کا بازو تھامے اُسے اپنے ساتھ شہرین سے دور لے گئی تھی. شہرین جو میران کے ساتھ کھڑی اُس کی بیوی کے طور پر ملنے والا پروٹوکول انجوائے کر رہی تھی. میران کے دور جانے پر اُس کا چہرا مانند پڑا تھا.
جب فریحہ اُسے اپنی جانب آتی دکھائی دی تھی.
” شال کیوں اوڑھ لی تم نے. یہاں تو اُتار دیتی.”
فریحہ اُسے کندھوں کے گرد شال اوڑھ کر اپنا آدھا حُسن چھپائے دیکھ ٹوکتے ہوئے بولی.
” اگر میران سائیں کی جانب سے حکم نہ ہوتا تو میں یہ لباس بھی کبھی نہیں پہنتی. مجھے یہ سب نہیں پسند. “
شہرین کی نظریں فاکیہ کے ساتھ اپنے دوستوں کے درمیان کھڑے میران بلوچ پر تھیں. جس نے کسی بار پر ہنستے اُس کی جانب دیکھا تھا. یوں اچانک نگاہوں کے تصادم پر شہرین نے گھبراتے فوراً نظروں کا زاویہ بدلہ تھا.
مگر میران ایسا نہیں کرپایا تھا. ایک بات جو میران کو اِس وقت شہرین کی سب سے اچھی لگی تھی وہ تھا خود کو ڈھانپنا. وہاں موجود سب خواتین ہی بہت ہی سٹائلش سے ڈریسز میں ملبوس تھیں. جو اُن کے وجود کی رعنائیوں کو مزید اُجاگر کر رہی تھیں. اور وہاں موجود مردوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کررہی تھیں. میران نے فریحہ کو کوئی بھی سٹائلش سا ڈریس شہرین کے لیے لے جانے کو کہا تھا. اُسے ایسے ڈریس کا آئیڈیا ہی نہیں تھا. شہرین کا لباس بھی ایسا ہی تھا مگر اُس نے جس اچھے طریقے سے چادر سے خود کو کور کررکھا تھا. وہ باقی مردوں سے تو خود کو ڈھانپ گئی تھی. لیکن اپنے اِس عمل سے میران بلوچ کے دل میں جگہ بناتی اُسے بار بار اپنی جانب متوجہ کر رہی تھی.
کھڑا وہ فاکیہ کے ساتھ تھا. مگر نگاہیں اُس کی شہرین پر جمی ہوئی تھیں. جو بات فاکیہ بھی محسوس کرتی اندر ہی اندر جل بھن رہی تھی.
اُسے تو لگا تھا. یہاں پارٹی میں بلوا کر اُس چادر میں لپٹی پینڈو سی لڑکی کا سب کے سامنے بہت مذاق بنوائے گی. لیکن میران نے اُس کا اتنا اچھا لک چینج کروا کر بالکل بدل دیا تھا.
قہر برساتی نظروں سے شہرین کی جانب دیکھتے اچانک فاکیہ کی آنکھیں کسی شیطانی خیال کے تحت چمکی تھیں.
” میران اِس پینڈو سی لڑکی کو بظاہر تو چینج کروا سکتا ہے. مگر اِس گوار کو جادو کی چھڑی گھما کر ایجوکیٹڈ تو نہیں بنا سکتا نا. ابھی میں پول کھولتی ہوں سب کے سامنے اِس لڑکی کا. پھر دیکھتی ہوں سب کے سامنے اِس لڑکی کی وجہ سے ہونے والی انسلٹ پر کیسے میران کو یہ اچھی لگتی ہے. “
فاکیہ اپنی پلاننگ پر دل ہی دل میں مسکراتی آگے بڑھی تھی. ڈی جے کو میوزک سلو کرنے کا کہتی وہ مائیک ہاتھ میں لیے شہرین سے کچھ فاصلے پر جا کھڑی ہوئی تھی.
” گڈ ایوننگ لیڈیز اینڈ جینٹل مین.”
فاکیہ گلا کھنکھارتی سب کو اپنی جانب متوجہ کرتی معنی خیز مسکراہٹ دور کھڑے میران پر ڈالتی انگلش میں بولنا شروع ہوئی تھی.
” جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں ہماری یہ پارٹی ہمارے بہت خاص دوست میران بلوچ اور اُن کی وائف شہرین کے لیے رکھی گئی ہے. میران بلوچ کو تو ہم سب بہت اچھے سے جانتے ہیں تو کیوں نا. آج تھوڑا بہت اُن کی وائف کو بھی جان لیا جائے. آفٹرآل وہ بھی اب ہمارے سرکل کا بہت خوبصورت حصہ ہیں. “
فاکیہ یہ بات جانتے ہوئے بھی کہ شہرین ایک اِن پڑھ لڑکی ہے. جو انگلش میں تو کیا ویسے ہی اتنے سارے لوگوں کے سامنے بات کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی ہوگی. ابھی یہ سب کرکے وہ سب کے سامنے شہرین کو بُری طرح بےعزت کروانا چاہتی تھی. تاکہ وہاں موجود سب لوگ اُس پر ہنسیں اور آئندہ وہ کبھی بھی میران کے ساتھ کسی پارٹی میں جانے کی جرأت نہ کر پائے.
میران نے دور سے ہی فاکیہ کو ایسی کوئی بھی حرکت کرنے سے باز رہنے کا اشارہ کیا تھا. جسے وہ صاف نظر انداز کر گئی تھی.
” جی تو مسز شہرین بلوچ اپنے بارے میں کچھ بتائیں آپ ہمیں. اور کیسا لگا یہاں ہم سب کے بیچ آکر آپ کو. اور سب سے خاص بات میران بلوچ وہ کیسے لگتے ہیں آپ کو. محبت بھی ہے یا بس دونوں ارینج میرج میں پھنس گئے. “
فاکیہ روانی سے انگلش بولتی شہرین کی جانب مائیک بڑھا گئی تھی.
میران غصے بھری نظروں سے فاکیہ کی جانب دیکھتے چہرا جھکا گیا تھا. کیونکہ جانتا تھا ابھی کچھ دیر بعد اُس کا کتنا مذاق بننے والا تھا. جب اُس کی بیوی انگلش بولنا تو دور فاکیہ کی کوئی بات سمجھ بھی نہیں پائی ہوگی.
” ہیلو ایوری ون. سب سے پہلے تو میرے لیے اتنی شاندار پارٹی ارینج کرنے اور اتنا پیار دینے کے لیے بہت بہت شکریہ. “
میران جو کچھ اور ہی سوچ کر چہرا جھکائے کھڑا تھا. شہرین کے اتنے کانفیڈنس انداز اور خوبصورت انگلش ایکسنٹ پر اُس نے جھٹکے سے سر اُٹھایا تھا. جیسے کچھ غلط سن لیا ہو.
مگر سامنے کا منظر دیکھتے اُسے اپنی آنکھوں پر بھی بھروسہ نہیں رہا تھا.
وہ متانت اور خود اعتمادی سے اتنے سارے انجان لوگوں کے بیچ و بیچ کھڑی. جس روانی اور خوبصورت انداز میں انگلش بول رہی تھی وہ میران کے ساتھ ساتھ فاکیہ کو بھی ہونق بنا گیا تھا. اُن کے لیے یہ جھٹکا بہت بڑا تھا. کہ جس کو وہ اَن پڑھ اور گوار سمجھ کر اُس کے سامنے کچھ بھی بولتے رہے تھے. وہ نہ صرف انگلش سمجھ سکتی تھی. بلکہ اُن سے بھی کہیں زیادہ اچھی اور خوبصورت انداز میں بول سکتی تھی. اُس کا انگلش بولنے کا ایکسنٹ بہت ہی منفرد تھا.
میران کافی دیر بعد سنبھلتے چہرے پر دلچسپ اور پرشوق تاثرات سجائے چند قدم آگے بڑھتا اپنی بیوی کی باتیں سننے لگا تھا.
” میرا نام شہرین میران بلوچ ہے. میں نے ایم فل انگلش کیا ہے کراچی یونیورسٹی سے. میران بلوچ کی زندگی میں کیسے آئی میں. یہ تو آپ سب جانتے ہی ہیں. جہاں تک رہی محبت کی بات تو نکاح کی طاقت ہوتی ہی اتنی ہے کہ نکاح کے بول ادا کرتے ہی آپ کے دل میں آپکے جیون ساتھی کے لیے نرم محبت بھرے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں. میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے. میں اپنی میریڈ لائف سے بہت خوش ہوں. کیونکہ میرے ہزبینڈ ایک بہت ہی کیئرنگ اور محبت دینے والے خوبصورت دل کے مالک انسان ہیں. میں بہت لکی ہوں کہ وہ میری لائف میں آئے. “
بات کے اختتام پر شہرین نے ایک نظر دھواں دھواں ہوتا چہرا لیے کھڑے میران کی جانب دیکھا تھا.
آخری جملے بولتے شہرین کی اپنی آنکھوں کے گوشے نم ہوئے تھے. وہ منافق اور جھوٹی بالکل بھی نہیں تھی. مگر اپنے شوہر کی عزت رکھنے کے لیے وہ یہ بھی بن گئی تھی. میوزک ایک بار پھر شروع ہوچکا تھا. شہرین خاموشی سے ایک کونے میں رکھی چیئر پر جا بیٹھی تھی. اُس کا دل عجیب سا بوجھل ہورہا تھا. اور ساتھ ہی اُسے میران کی خود پر مرکوز گہری نظریں الگ پزل کررہی تھیں. اب اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا. کہ اُن نظروں میں اُس کے لیے غصہ تھا یا کچھ اور.
مگر وہ جو خود سے وعدہ کیے ہوئے تھی کہ مر جائے گی مگر کبھی میران بلوچ کے سامنے اپنی تعلیم اور اُس کے لیے دل میں موجود جذبات کا پتا نہیں لگنے دے گی. لیکن آج کی بنی صورتحال نے اُس کا سارا کام خراب کردیا تھا.
فاکیہ کی گیم تو اُسی پر اُلٹ چکی تھی. وہ جتنا اِس لڑکی کو گرانے کی کوشش کررہی تھی. یہ اُتنا ہی میران کی نظروں میں اپنا مقام اونچا کیے جارہی تھی.
فاکیہ کا اب تو دل چاہ رہا تھا اِس لڑکی کا یہ حسین روپ بگاڑ کر رکھ دے. مگر اتنی جلدی وہ ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں تھی. اُسے اِس لڑکی کو بے عزت کرنے کے لیے کچھ بڑا کرنا تھا. جو اِسے میران سمیت یہاں موجود ہر فرد کی نظروں میں گرا دے.
میران فاکیہ پر بُری طرح غصہ تھا. اور اُسے اچھی خاصی سنانے کا ارادہ بھی رکھتا تھا. مگر اُس کے بات گھمانے پر کہ وہ شہرین کی تعلیم سے پہلے ہی واقف تھی. اِس لیے اُس نے یہ سب کیا یہ سن کر میران کا غصہ ختم ہوچکا تھا.
مگر ایک ایک کرکے وہ سب واقعات یاد کرتے جب وہ شہرین کے سامنے انگلش میں فاکیہ سے کافی بے تکلفی سے باتیں کرتا رہا تھا میران کو اچھی خاصی شرمندگی میں دھکیل رہے تھے.
چاہے اُس نے شہرین کو ایسا کوئی حق نہیں دیا تھا. مگر بیوی کے سامنے وہ بھی وہ جو آپ کے لیے دل میں محبت بھرے جذبات رکھتی ہو. اُس کے سامنے اپنی کسی فرینڈ سے محبت بھری باتیں کرنا حد سے زیادہ غیر مہذب اور نامناسب تھا. یہی بات اگر میران کو کچھ وقت پہلے پتا چلتی تو اتنا فرق نہیں پڑتا. مگر اب جب اُس کے حوالے سے جذبات اور احساسات چینج ہورہے تھے. اب یہ سب سوچیں اُسے اچھا خاصہ بے چین کر رہی تھیں.
سب سے بڑی بات جو میران کی بے چینی اور بوجھل پن کا باعث تھی. وہ تھے شہرین کے بولے گئے آخری جملے جس میں اُس نے سب کے سامنے تو میران کی عزت رکھی تھی. مگر در پردہ وہ الفاظ میران کو اپنے منہ پر پڑنے والے تمانچے سے کم نہیں لگے تھے. اگر اُس نے شہرین کو اپنے نکاح میں لیا تھا تو اُس کے سارے حقوق پورے کرنا بھی اُس کا فرض تھا.
میران کو آج شدت سے اپنی غلطیوں کا احساس ہورہا تھا.
میران ابھی اپنی سوچوں میں ہی اُلجھا ہوا تھا. جب فاکیہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتی کچھ فاصلے پر ڈانس کرتے جوڑوں کی جانب لے گئی تھی. جس پر میران کو نا چاہتے ہوئے بھی اُس کے ساتھ ڈانس کرنا پڑا تھا. مگر اُس کا سارا دھیان الگ تھلگ اداس سی بیٹھی اُس گم صم سی لڑکی کی جانب تھا. جو اچانک سے اُسے اپنے دل کے بہت قریب محسوس ہونے لگی تھی.
میران کی نظریں شہرین پر ہی ٹکی ہوئی تھیں. جب اُس نے اپنے بزنس حریف حمزہ صدیقی کو شہرین کے پاس کھڑے ہوتے دیکھا تھا.
” ہائے بیوٹی فل لیڈی. “
شہرین جس کا دل اب اِس پارٹی سے اچاٹ ہوچکا تھا. وہ سب کی نظروں سے بچنے خاص کر میران بلوچ سے جو اُسے آج معمول سے ہٹ کر مختلف انداز میں دیکھتا خوفزدہ کرنے کے ساتھ ساتھ دل کی دھڑکنیں بُری طرح منتشر کر رہا تھا.
اچانک اجنبی آواز پر شہرین نے سر اٹھایا تھا. سامنے کھڑے غیر شناسا شخص کے بے تکلف انداز پر شہرین نے ناگواری سے اُس کی جانب دیکھا تھا.
” اوہ لگتا ہے میرا تعریف کرنا آپ کو بُرا لگا. دراصل میں کب سے نوٹ کررہا ہوں. میران بلوچ اپنی اتنی حسین بیوی کے ہوتے کسی اور کے ساتھ موجود ہے. تو کیوں نہ اِس معصوم بیوٹی کو میں کمپنی دے دوں. کیا آپ میرے ساتھ ڈانس کرنا پسند کریں گی. “
حمزہ صدیقی نے شہرین کے دلکش سراپے کو دیکھتے ہاتھ اُس کی جانب بڑھاتے آفر کی تھی.
شہرین جو ناپسندیدگی سے اُس کی باتیں سنتے کوئی سخت جواب دینے ہی والی تھی. اُس سے پہلے ہی میران غصے سے بھناتا اُن کے سر پر آن پہنچا تھا.
حمزہ کو شہرین سے بات کرتے اور اُس کی جانب ہاتھ بڑھاتے دیکھ وہ فاکیہ کو وہیں چھوڑتا اُن کی جانب آگیا تھا. اپنی بیوی کو چند پل بھی کسی اور کے قریب کھڑا دیکھ اُس کا خون کھول اُٹھا تھا. اور ساتھ ہی شدت سے شہرین کی اُس تکلیف کا احساس بھی ہوا تھا جو وہ اُسے فاکیہ کے ساتھ دیکھ کر اتنے وقت سے برداشت کررہی تھی.
” کیا پرابلم ہے تمہاری. خبردار جو میری بیوی پر اپنی گندی نظریں ڈالنے کی کوشش کی تو آنکھیں نکال لوں گا تمہاری. “
میران شعلہ بار نظروں سے حمزہ صدیقی کو گھورتا شہرین کے سامنے آکھڑا ہوا تھا. شہرین نے میران کے الفاظ پر بے یقینی سے اُس کی جانب دیکھا تھا. ایسا مان اور عزت پہلے بھلا کہاں بخشی گئی تھی اُسے.
میران وارن کرتی نظروں سے اُسے گھورتا شہرین کی کلائی اپنی مضبوط گرفت میں جکڑتے وہاں سے لے گیا تھا.
شہرین کسی بے جان گڑیا کی طرح اُس کے ساتھ کھینچتی چلی گئی تھی. میران ڈانس فلور پر آکر رکتے شہرین کی کمر میں بازو حمائل کرتے اُسے اپنے قریب کرگیا تھا. وہاں اور بھی بہت سارے جوڑے کپل ڈانس میں مصروف تھے.
مدھم لائٹنگ اور رومینٹک میوزک سے وہاں کا ماحول بہت ہی رومانوی ہوچکا تھا. خانی جو پہلے حملے سے نہ سنبھلی تھی. میران کے قریب کرنے پر سیدھی اُس کے سینے سے جالگی تھی.
اُسے ڈانس کرنا بلکل بھی نہیں آتا تھا. اُوپر سے میران کی اتنی قربت اُسے الگ سے حواس باختہ کر رہی تھی.
” تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا اپنی تعلیم کے بارے میں. “
میران کا ایک ہاتھ اُس کی کمر پر ٹکا تھا جبکہ دوسرے سے اُس کے ہاتھ کی انگلیوں کو اپنی اُنگلیوں میں جکڑے وہ اُسے بالکل کانچ کی گڑیا کی طرح اپنے حصار میں لیے ہولے ہولے ڈانس کے سٹیپس لے رہا تھا. شہرین کو اُس کے حصار میں ایک تحفظ کا انوکھا سا دل کو چھوتا احساس محسوس ہوا تھا. ہیل اور ساڑھی میں اٹک کر گرنے کا خوف ختم ہوچکا تھا. شاید میران کے اتنے مہربان انداز پر اُسے یقین ہوگیا تھا کہ وہ اُسے گرنے نہیں دے گا.
میران نے جھک کر اُس کے بالوں کی دلفریب مہک اپنی سانسوں میں اُتارتے سوال کیا تھا. جبکہ میران کی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرتی شہرین اُس کے حصار میں لرز اُٹھی تھی.
” آپ نے کبھی پوچھا ہی نہیں. “
شہرین نے بہت دقت سے مختصر سا جواب دیا تھا. میران بلوچ اُس پر بُری طرح حاوی ہورہا تھا.
” کب سے محبت کرتی ہو مجھ سے. “
میران نے اگلا سوال پوچھتے ہلکا سا جھٹکا دیے کر اُسے مزید اپنے قریب کیا تھا. میران کا چہرا بلکل سپاٹ اور سنجیدہ تھا. مگر اُس کی گہری بولتی نگاہیں شہرین کی نازک جان پر قیامت برپا کی ہوئی تھیں.
” میں نے وہ سب ویسے ہی سب کے سامنے بولا تھا. ایسا کچھ نہیں ہے.”
شہرین اپنے پاکیزہ بے لوث جذبات کو اِس بےمروت اور بے مہر شخص کے سامنے بتا کر اُنہیں بے مول نہیں کرنا تھا. اِس لیے فوراً جھوٹ بول گئی تھی.
لیکن شہرین کا یہ جھوٹ اُس پر بہت بھاری پڑا تھا.
میران جھک کر شہرین کے لپسٹک سے سجے سُرخ ہونٹوں پر چند سیکنڈز کے لیے اپنا لمس چھوڑتے پیچھے ہٹا تھا. میران جانتا تھا وہ دونوں اِس وقت قدرے تاریکی میں کھڑے ہیں. جہاں لائٹ کچھ زیادہ ہی مدھم تھی. اِس لیے اُس کی نہایت پھرتی سے کی گئی یہ حرکت کوئی نہیں دیکھ پایا تھا.
شہرین کب سے اُس کا ضبط آزماتی اُس کے حواسوں پر سوار اپنے حسین رُوپ سے ایک نشہ سا طاری کررہی تھی. اُوپر سے شہرین کا سب کے سامنے اتنے خوبصورت انداز میں کیے گئے محبت کے اظہار نے تو ویسے ہی میران بلوچ کے جذبات بدل ڈالے تھے.
شہرین میران بلوچ کی اِس جان لیوا حرکت پر اُس کے حصار میں لرز گئی تھی. اُسے ایسی عنایتوں کی عادت تھی ہی کہاں. شہرین کو لگ رہا تھا. اگر اِن مہربانیوں کا سلسلہ جاری رہا تو اُس کی روح کا آج جسم سے پرواز کرجانا ممکن تھا.
” آئندہ میرے سامنے جھوٹ بولنے کی کوشش مت کرنا ورنہ اُس کا جواب اِس سے کہیں بڑھ کر ملے گا. “
میران کا اشارہ شہرین کے جھوٹ کی طرف تھا. شہرین کے چہرے پر بکھرتے شرم و حیا کے رنگ میران بلوچ کی توجہ اپنی جانب سے ہٹنے ہی نہیں دے رہے تھے.
میران کو لگ رہا تھا کہ اگر وہ اِسی پوزیشن میں شہرین کے سامنے رہا تو اُس سے ضرور کوئی سنگین گستاخی سرذد ہوجائے گی. اِس لیے وہ شہرین کا ہاتھ تھامے وہاں سے ہٹ آیا تھا.
کب سے اُن کو ایک ساتھ ایک دوسرے میں گم دیکھتے فاکیہ اپنی جگہ پاگل ہوچکی تھی.
میران کو فون سننے کے لیے شہرین سے دور جاتا دیکھ فاکیہ کے ہونٹوں پر پُر اسرار سی مسکراہٹ پھیل گئی تھی.
دائیں طرف کھڑا ویٹر اُس کے اشارے پر ہاتھ میں پکڑی ٹرے لیے شہرین کی جانب بڑھا تھا.
شہرین کو بھی جیسے اِس وقت اپنے اعصاب نارمل کرنے کے لیے جوس کی سخت ضرورت تھی. جوس کا گلاس تھامتے وہ ایک ہی سانس میں اپنے حلق کے اندر اُنڈیل گئی تھی.
اپنا پلان اتنی آسانی سے کامیاب ہوتا دیکھ فاکیہ کا دل خوشی سے جھوم اُٹھا تھا. اب اُس کی ہر بات کا بدلہ شہرین خود کو ہی بے عزت کرکے اُسے سود سمیت لوٹانے والی تھی.
” تمہارا کام ہوچکا ہے. لے جاسکتے ہو تم اُسے. میران کو میں سنبھال لوں گی. “
فاکیہ حمزہ صدیقی کے قریب آتی مکروہ ہنسی ہنستے اپنا چکراتا سر پکڑ کر بمشکل کھڑے ہونے کی کوشش کرتی شہرین کی جانب دیکھتے بولی.
” بہت مہربانی. دل کو بہت بھا گئی ہے میران بلوچ کی یہ معصوم سی بیوی.”
حمزہ صدیقی کو یقین نہیں آرہا تھا. یہ لڑکی اتنی آسانی سے اُسے مل جائے گی.
فاکیہ اُسے بیرونی جانب جانے کا اشارہ کرتی خود شہرین کی جانب بڑھ گئی تھی. جو بہت کوشش کے باوجود اپنے ساتھ چھوڑتے حواسوں پر قابو نہیں رکھ پارہی تھی.
فاکیہ اُس کی حالت سے دل ہی دل میں بے انتہا خوش ہوتی اُسے حمزہ صدیقی کے پاس لے آئی تھی. یہ سوچے بنا کہ انتقام میں اندھے ہو کر وہ ایک لڑکی ہوکر دوسری لڑکی کی عزت داؤ پر لگانے جارہی تھی. لیکن شاید یہ بھول چکی تھی کہ اُس کا محافظ یہی موجود ہے.
فاکیہ نے جیسے ہی ہوش و خرد سے بیگانہ ہوتی شہرین کو حمزہ کے حوالے کرنا چاہا تھا. حمزہ کے شہرین کو چھونے سے پہلے ہی منہ پر پڑتا ایک زور دار پنچ اُسے کئی قدم دور گرا گیا تھا. وہ اِس حملے کے لیے بالکل تیار نہیں تھا. اِس لیے سیدھا زمین بوس ہوا تھا.
” میران تم یہاں. “
میران کو وہاں دیکھ فاکیہ کے پیروں تلے سے زمین کھسک چکی تھی.
” گھٹیا عورت تمہیں زرا شرم نہیں آئی ایسا گندا کھیل رچاتے. گھن آرہی ہے مجھے خود سے کہ میں نے تم جیسی لڑکی کو اپنا دوست مانا. ایک لڑکی کے ساتھ تم ایسا کیسے کرسکتی ہو. “
شہرین کا بے ہوش وجود اپنی بانہوں میں بھرتے میران ایک ہاتھ سے فاکیہ کا گلا دبوچ چکا تھا. جسے میران کو فاکیہ کی بات سن کر یہاں لائی فریحہ نے آگے بڑھ کر چھڑوایا تھا.
وہ فاکیہ اور حمزہ کی ساری پلاننگ سن چکی تھی. اور میران کو سب کچھ بتا کر اُن کی گھٹیا پلاننگ ناکام بنوا گئی تھی.
بُری طرح کھانستی فاکیہ کا گلا چھوڑتے میران شہرین کے نازک وجود کو نرمی سے فریحہ کے حوالے کرتے حمزہ پر ٹوٹ پڑا تھا. وہ لوگ بیرونی جانب گیٹ کے قریب ہی کھڑے تھے. جب گارڈز یہ ہنگامہ سنتے اُس طرف آئے تھے. اور بہت مشکل سے میران کی گرفت سے حمزہ صدیقی کو آزاد کروایا تھا.
اپنی بیوی کے لیے اُس کی غلط نیت میران بلوچ کو انگاروں پر لوٹا گئی تھی. جس کو کم کرنے کے لیے میران نے حمزہ کا حشر بگاڑ دیا تھا. فاکیہ میران کا جلاد صفت رُوپ دیکھ کر ہی وہاں سے پہلے ہی نکل گئی تھی.
میران فریحہ کا شکریہ ادا کرتا شہرین کو اپنی بانہوں میں اُٹھاتے وہاں سے نکل گیا تھا.
” اچھا ہوا شہرین بے ہوش تھی. ورنہ اپنے شوہر کا اپنے لیے ایسا جنونی رُوپ دیکھ بچاری خوشی کے مارے اُوپر ہی نہ پہنچ جاتی. “
فریحہ مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے شہرین کی فیلنگز کا سوچتی وہاں سے پلٹ گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
میران شہرین کو ویسے ہی بانہوں میں بھرتا اپنے بیڈ روم میں لے آیا تھا. شہرین کی شال شاید گر کر گاڑی میں ہی رہ گئی تھی. بنا چادر کے اُس کا ہوش رُبا حُسن مزید نمایاں تھا.
بیڈ پر اُسے لٹاتے وہ جیسے ہی پیچھے ہٹا نیم بے ہوشی کی حالت میں کچھ بڑبڑاتی وہ میران کا گریبان سینے سے اپنی مُٹھیوں میں جکڑ گئی تھی. جیسے اُسے خود سے کہیں دور نہیں جانے دینا چاہتی ہو.
میران جو پہلے ہی اچھے خاصے عذاب کے زیرِ اثر تھا. شہرین کی یہ حرکت اُسے مزید بے خود کر گئی تھی.
وہ ہوش و حواس سے بیگانہ پڑی شہرین کے قریب بلکل بھی نہیں جانا چاہتا تھا. اور جس رُوپ میں وہ سامنے لیٹی ہوئی تھی. اتنا دلفریب اور ایمان شکن منظر دیکھ کر میران نے کیسے خود پر صبر کیا تھا یہ وہی جانتا تھا. اُس کی گرفت سے اپنی شرٹ آزاد کرواتے میران پیچھے ہٹا تھا.
میران اُس کے پیروں کی جانب بڑھتا اُس کے لال ہوتے پیروں سے ہیلز اُتارنے لگا تھا. اگر شہرین ہوش میں یہ منظر اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی ہوتی تو ضرور غش کھا کر گر جاتی.
جوتے اُتارنے کے بعد وہ شہرین پر کمبل اوڑھتے اُس کے حسین روپ کو آنکھوں میں بساتے میران اُس کی پیشانی, دونوں گال, اور تھوڈی پر ایک ایک کرکے اپنا لمس چھوڑتے وہاں سے نکل گیا تھا. اُسے ایک بہت ضروری کام کے لیے ابھی گاؤں کے لیے نکلنا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” بھائی یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں.”
خانی جو معمول کے مطابق گھر کی خواتین کے ساتھ بیٹھی سمن کی شادی کی تیاریاں ڈسکس کرنے کے ساتھ ساتھ وہ باتوں میں بھی مصروف تھی. جب ملازمہ نے آکر جو خبر اُسے سنائی تھی
وہ اپنی جگہ خانی کو ہلا کر رکھ گئی تھی.
اُس کےچچا ارشد بلوچ اور بھائی میران بلوچ آئے تھے. اور اُس سے بہت خاص بات کرنے کا ارادہ رکھتے تھے.
خانی خاموشی سے سیاہل کی اجازت پر وہاں آگئی تھی. جہاں صرف سیاہل, ارشد بلوچ اور میران بلوچ ہی موجود تھے.
خانی جو تحمل سے بات کرنے کا ارادہ رکھتی تھی. میران کی بات سن کر خانی کو جھٹکا لگا تھا.
” خانی تو کیا تم رہنا چاہتی ہو. اپنے باپ کے قاتل کے ساتھ. جس نے انتہائی بے دردی سے ہمارے بابا کو قتل کیا. اور تم اسی شخص کو آتنی اہمیت دے رہی ہو. “
خانی نے نم آنکھوں سے سیاہل کی جانب دیکھا تھا. اور خانی کا یہی انداز سیاہل خان کو غصہ دلا گیا تھا.
” ہاں خانی اسجد بلوچ مارا ہے میں نے تمہاری باپ کو. چھوڑ کر جانا چاہتی ہو تم اِس بات پر مجھے تو چھوڑ کر جاسکتی ہو. میں تمہیں نہیں روکو گا. “
جاری ہے……
