Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے سیاہل خان کی جانب دیکھتے نفی میں سر ہلا گئی تھی.
“نہیں جھوٹ بول رہے ہو تم. ایسا کچھ نہیں ہے. اگر ایسا کچھ ہوتا تو. میرے گھر والے مجھے ضرور بتاتے. انا بی تو کبھی جھوٹ نہیں بول سکتیں مجھ سے. “
اتنے بڑے انکشاف پر خانی کی آنکھیں ایک بار پھر بھیگ چکی تھیں. کیونکہ سیاہل موسیٰ خان کے تاثرات اُسے اِس بات کے سچ ہونے کا یقین دلا رہے تھے.
بغور اُس کی جانب دیکھتے سیاہل خان تلخی سے مُسکرایا تھا.
یہ لڑکی اُس سے اپنا رشتہ جُرا ہونے کی وجہ سے آنسو بہا رہی تھی. اور دکھی تھی.
” خانی اسجد بلوچ اِس دنیا میں کسی پر بھروسہ مت کرنا. یہاں ہر شخص اپنے مطلب کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہے. میری ایک بات یاد رکھنا تمہارے اردگرد تمہارے اپنوں میں سے کوئی ایک شخص بھی تمہارا خیر خواہ نہیں ہے.
کسی کی باتوں میں مت آنا. کسی کے کہنے پر کچھ مت کرنا. واپس لوٹ جاؤ. یہاں تمہیں دکھ کے سوا کچھ نہیں ملے گا. “
سیاہل خان کی بات پر خانی یک ٹک اُس کی جانب دیکھے گئی تھی.
” تو کیا تم خیر خواہ ہو میرے. “
خانی نے نجانے کیوں اچانک اپنے دماغ میں آیا سوال پوچھ لیا تھا.
” نہیں میں تو بلکل بھی نہیں. میں تو سب سے بڑا دشمن ہوں تمہارا. جس کے سائے سے بھی ڈرنا چاہیے تمہیں.”
سیاہل نے بہت ہی نرمی سے سامنے کھڑی رشتوں کی ڈوروں میں اُلجھی لڑکی کو جواب دیا تھا.
” تو میں کیسے اپنے سب سے بڑے دشمن کی کسی بھی بات کا یقین کر لوں. “
خانی نے سوالیہ نظریں سیاہل خان کے خوبرو چہرے پر ڈالی تھیں.
اُس کو ہر بار اِس شخص کو دیکھ کر یہی لگتا تھا کہ جو یہ شخص ظاہر کررہا ہے. یہ ویسا بلکل بھی نہیں ہے. وہ اتنا بُرا نہیں ہے جتنا وہ بن رہا ہے.
وہ اپنی اتنی بدتمیزیوں کے باوجود دو بار روم میں اُس کے ساتھ بلکل تنہا ہوکر, اُسی کے رحم و کرم پر ہوکر بھی بلکل محفوظ تھی. وہ اُس پر اپنا حق جتا سکتا تھا. دشمنوں کے خاندان سے ہونے کی وجہ سے اُسے نقصان پہنچا سکتا تھا. مگر اُس نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا. خانی جب بھی اُس کے بارے میں اچھا سوچنے لگتی. اُسے سیاہل خان کی نگار کو دی گئی سزا اور بلوچ خاندان کے کسی فرد کو قتل کرنے کی دھمکی یاد آجاتی. اور وہ پھر سے اُس سے بدگمان ہوجاتی.
” یقین کرنا نہ کرنا تمہارے ہاتھ میں ہے. مگر میرے کسی بھی معاملے میں آنا چھوڑ دو. بہت ظالم ہوں میں. ایسے نہ ہو. تمہیں نقصان اُٹھانا پڑ جائے.”
سیاہل کا لہجہ اب کی بار سرد تھا. یہ لڑکی نرمی سے اُس کی بات سمجھنے والی بلکل نہیں تھی.
” میرے خاندان والوں کے پیچھے کیوں پڑے ہو. کیا بگاڑا ہے اُنہوں نے تمہارا. کیوں قتل کرنا چاہتے ہو اُنہیں.”
خانی کو اُس کا یہی انداز بہت بُرا لگتا تھا. جس میں وہ مقابل کو کسی خاطر میں نہیں لاتا تھا.
” اگر میرا بس چلے تو تمہارے خاندان کا نام و نشان ختم کردوں. ایک فرد کا قتل تو کچھ بھی نہیں ہے. “
سیاہل خان کے لہجے سے خانی کو نفرت کے شرارے پھوٹتے محسوس ہوئے تھے.
” اگر میرے خاندان کے کسی ایک فرد کو بھی نقصان پہنچایا تو میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں.” خانی کو سیاہل کا نفرت آمیز لہجہ آگ لگا گیا تھا.
وہ دو قدم آگے بڑھاتی اُنگلی اُٹھا کر اُسے وارن کرتے بولی.
” تم بھول رہی ہو. اِس وقت تم میرے رحم و کرم پر ہو. اگر میں چاہوں تو تم یہاں سے ایک قدم بھی باہر نہیں بڑھا سکتی. “
سیاہل خانی کے قریب آتے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے کچھ دیر پہلے بہت ہی دلیری سے بولتی خانی کو بُری طرح خوفزدہ کرگیا تھا.
” ٹھیک کہا تھا تم نے. کچھ نہیں جانتا میں اِس محبت کے بارے میں. اور نہ ہی جاننا چاہتا ہوں. میرے نزدیک وقت کے زیاں کے علاوہ کچھ نہیں ہے یہ.
اِس لیے آئندہ مجھے اِس طرح کی کسی فضول چیز کے واسطے دینے کی کوشش مت کرنا. میں صرف دوسروں کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت اور خوف دیکھنا چاہتا ہوں. اور سب سے زیادہ خانی اسجد بلوچ کی آنکھوں میں. “
خانی اُس کے انداز پر اندر تک کانپ گئی تھی. وہ جتنی بھی بہادر بن جاتی سیاہل خان کی اُٹھتی ایک نظر اُس کے سارے حواس سلب کر لیتی تھی. اِس وقت بھی ایسا ہی ہوا تھا.
سیاہل کی سحر انگیز نظروں پر خانی کے جسم کا سارا خون چہرے پر سمٹ آیا تھا.
” مجھے جانے دو.”
خانی کی آواز بہت مدھم تھی. وہ اِس پل پل بدلتے شخص کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی.
” کتنی نفرت کرتی ہو مجھ سے. “
سیاہل خان جیسے اُس کے منہ سے اپنے لیے نفرت کا اظہار سن کر سکون محسوس کرتا تھا.
” بہت زیادہ. “
خانی کے لب ہولے سے ہلے تھے. اُس کی آنکھوں میں سیاہل کو اپنے لیے شکوے اور بدگمانی صاف نظر آرہی تھی. مگر یہ اُس کی تسلی کے لیے کافی نہیں تھا. وہ خانی کی نفرت کا متمنی تھا.
” افسوس آج بھی میں تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے نفرت نہیں دیکھ پایا. انتظار رہے گا مجھے اُس دن کا. جب خانی کو سیاہل خان سے نفرت ہوگی. اور میں جانتا ہوں وہ دن دور نہیں ہے. “
سیاہل خان کی آنکھیں مسکرائی تھیں. وہی مقابل کو خود سے بیگانہ کردینے والی مسکراہٹ.
” جاسکتی ہو تم.”
اُسی طرح خانی کے سُرخ پڑتے چہرے پر نظریں گاڑھے سیاہل نے اُسے اجازت دے دی تھی.
خانی ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے بنا پیروں میں جلد بازی میں اڑسی ہیلز کی سٹرپس بند کرتی دروازے کی جانب بڑھی تھی.
اِس سے پہلے کہ وہ دروازے سے باہر نکلتی. سیاہل خان کی آواز نے اُس کے قدم جکڑ لیے تھے.
” دوبارہ کبھی مجھ سے کسی قسم کا رابطہ کرنے کی کوشش مت کرنا. ہر بار سیاہل موسیٰ خان خانی اسجد بلوچ کے معاملے میں اتنا سخی نہیں ہوگا. “
سیاہل اپنی بات کہہ کر خانی کی جانب سے رُخ موڑ چکا تھا. خانی کچھ دیر اُس کی چوڑی پشت کو گھورتے باہر کی جانب بڑھ گئی تھی.
سیاہل فون کان سے لگا کر خانی کو یہاں لائے گئے اپنے ملازمین کو خاص ہدایت کرنے لگا تھا.
بلوچ حویلی والے خود بھی اپنی حویلی کے اُن راستوں سے واقف نہیں تھے. جن کے بارے میں سیاہل خان جانتا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

خانی نہیں جانتی تھی اُس کو کہاں سے لایا گیا ہے. کیونکہ سیاہل خان کے روم سے نکلتے ہی اُس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی تھی.
اور اِسی طرح نجانے اُسے کن راستوں سے گزارتے بہت ہی احتیاط کے ساتھ واپس اُس کے روم میں پہنچا دیا گیا تھا.
وہاں سب کچھ معمول کے مطابق تھا. کسی کو زرا سا شک بھی نہیں ہو پایا تھا. کہ خانی اتنی دیر حویلی میں موجود نہیں تھی.
خانی فریش ہوکر روم سے باہر نکلی تو آگے سے اُس کے لیے ایک بہت بڑی خوشخبری موجود تھی. اُس کی پیاری انا بی کو میران حویلی میں لاچکا تھا.
خانی اُن سے مل کر اُنہیں سیدھا اپنے روم میں لے آئی تھی.
” انا بی آپ جانتی ہیں میں نے آپ کو کتنا مس کیا. “
خانی اُن کو بیڈ پر بیٹھا کر دونوں ہاتھ تھامتی محبت سے بولی. جس کے جواب میں انابی نے اُس کا ماتھا چوم لیا تھا.
” تو انا بی بھلا کہاں اپنی بیٹی کہ بغیر رہ سکتی ہے. اپنی لاڈلی کے ایک بار پکارنے پر اُس کے پاس پہنچ گئی.”
انا بی کے لہجے میں خانی کے لیے بے پناہ پیار تھا.
جب اچانک ابھی کچھ دیر پہلے سیاہل خان کا کیا گیا اتنا بڑا انکشاف یاد آتے ہی خانی نے ناراضگی بھری نظروں سے اُن کی جانب دیکھا تھا.
” انا بی میں پوری دنیا سے جھوٹ اور دھوکے کی اُمید کرسکتی ہوں. مگر آپ سے بلکل بھی نہیں. آپ نے مجھ سے اتنا بڑا سچ کیوں چھپایا. ایسی کیا وجہ ہوسکتی تھی اِس کے پیچھے. “
خانی کے شکوے بھرے انداز پر ماہناز بی بی نے ناسمجھی اور کسی حد تک فکرمندی سے اُس کی جانب دیکھا تھا. وہ کس سچ کی بات کررہی تھی.
” آپ نے اور بھائی نے مجھ سے نکاح والی بات چھپا کر. صرف منگنی کو ہی سامنے کیوں رکھا. یہ کیوں نہیں بتایا کہ میں اُس گھمنڈی سردار کی منکوحہ ہوں. “
خانی کی بات پر ماہناز بی بی نے گہرا سانس ہوا میں خارج کیا تھا.
” یہ سچ ہے. بیٹا میں مجبور تھی. مجھے منع کیا گیا تھا. آپ کو اِس بارے میں مزید کچھ بھی بتانے سے. مگر آپ کو کس نے بتائی یہ بات. “
ماہناز بی بی جن باتوں کی وجہ سے خانی کے یہاں آنے کے خلاف تھیں. وہ آہستہ آہستہ اُس کے سامنے آنا شروع ہوچکی تھیں. اُن کے دل کی بے چینی بڑھی تھی.
” سردار سیاہل موسیٰ خان نے. “
ماہناز بی بی کو اب کی بار حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا.
” کک کب. کب بتایا اُنہوں نے آپ کو. کب ملیں آپ سردار سائیں سے. “
ماہناز بی بی جلد بازی میں اپنی بوکھلاہٹ پر قابو پا ہی نہیں سکی تھیں.
خانی نے اُن کی گھبراہٹ پر آج ہونے والی سیاہل سے ملاقات کے بارے میں سب کچھ بتا دیا تھا.
” خانی بیٹا آپ یہ ذکر کسی کے سامنے نہیں کریں گی. کہ آپ اِس طرح سردار سائیں سے ملی ہیں. آپ سمجھیں ایسا کچھ ہوا ہی نہیں ہے. اور آپ اپنے نکاح کے بارے میں کچھ نہیں جانتی.”
انابی کی باتیں خانی کو مزید اُلجھا رہی تھیں.
” مگر کیوں انا بی. مجھے نہیں رہنا اُس جلاد کے ساتھ. مجھے یہ رشتہ ختم کرنا ہے. اور ویسے بھی آغا جان اور باقی سب اتنے اچھے ہیں یہاں. میری بات ضرور سمجھیں گے.
یہ سب تو ویسے اُس سے نفرت کرتے ہیں. میرا ساتھ ضرور دیں گے. “
خانی کا لہجہ اپنوں کے پیار اور یقین سے لبریز تھا.
” میری جان آپ بہت معصوم ہو. یہاں کی سازشیں اور دشمنیاں نہیں جانتی. اور کیا پتا یہ اتنا پیار اور عزت جو آپ کو اِس خاندان کے لوگوں سے مل رہی ہے. وہ اُسی ایک رشتے کی وجہ سے ہو. “
ماہناز بی بی کی بات پر خانی نے کچھ سمجھتے کچھ اُلجھتے اُن کی جانب دیکھا تھا.
” بیٹا آپ ایک سردار کی بیوی ہو. جس سے بہت سارا فائدہ حاصل ہوسکتا ہے.
میں نہیں چاہتی تھی. آپ ایسی کسی بھی سازش کا حصہ بنو. اِسی وجہ سے میں آپ کے یہاں آنے کے خلاف تھی. پتا نہیں میران بیٹے کو کیا ہوگیا ہے. وہ کیا سوچ کر آپ کو اِس حویلی میں لے آئے.”
ماہناز بی بی کے ہر انداز سے خانی کے لیے فکر واضح تھی.
مگر ہمیشہ اُن کی ہر بات آنکھیں بند کرکے ماننے والی خانی کو آج اُن کی باتیں بلکل بھی پسند نہیں آئی تھیں.
اُسے بہت ٹائم بعد اپنے خاندان والوں کا پیار ملا تھا. وہ ایسی کسی بھی بات پر یقین کرکے اُن پیارے رشتوں سے بدگمان نہیں ہوسکتی تھی.
اُسے یہی لگ رہا تھا کہ ضرور انا بی کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے. اگر کچھ دن وہ یہاں رہیں گی تو سمجھ جائیں گی کہ یہاں سب کتنے اچھے ہیں.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

بلوچ حویلی کی بہت سی گاڑیاں قافلے کی شکل میں شہباز بلوچ کی حویلی میں داخل ہوئی تھیں. جہاں بڑے پیمانے پر شادی کی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا.
وہ لوگ کافی فاصلے پر تھے جب اُنہیں ڈھول اور پٹاخوں کی آوازیں آنا شروع ہوچکی تھیں. خانی یہ سب دیکھنے کے لیے بہت زیادہ ایکسائٹڈ تھی. اِس طرح کی قبائلی شادی میں شرکت کرنے کا اُس کا بلکل پہلا تجربہ تھا.
کراچی میں اُس نے کچھ فرینڈز کی شادیاں اٹینڈ کی تھیں. مگر وہ ایسی بلکل بھی نہیں تھیں.
مردوں کی گاڑیاں داخلی دروازے پر ہی ایک طرف رُک گئی تھیں. وہاں سے مردوں کی سائیڈ کا منظر سامنے تھا. جہاں روایتی بلوچی گیٹ اپ میں ملبوس وائٹ ڈھیلی ڈھالی چوڑی شلوار اور لمبی قمیض , سر پر فٹنگ کیپ کے اُوپر باریک ریشمی دوپٹے سے پگڑی باندھے جسے بلوچی زبان میں لونگی کہا جاتا ہے پہنے بڑی تعداد میں ایک گول دائرے میں بہت سے لوگ بہت ہی عمدہ رقص کرنے میں مصروف تھے.
خواتین کی تمام گاڑیاں آگے جاکر کچھ فاصلے پر ایک طرف رک گئی تھیں. جہاں خاص عورتوں کا انتظام کیا گیا تھا.
دروازے سے آگے اندر کی طرف انٹرنس پر بہت ساری میزبان خواتین بلوچی بھاری لباس میں ملبوس جیولری اور میک اپ سے لدھی پھندی سب مہمانوں کے استقبال میں کھڑی تھیں.
اُن کے وہاں داخل ہوتے ہی وہ سب باقی مہمانوں کو ملتے اپنی جگہ سے آگے بڑھی تھیں. خانی کو محسوس ہوا تھا. جیسے اُس کے اندر قدم رکھتے ہی وہاں بہت ساری نظریں بے اختیار اُس کی جانب اُٹھی تھیں.
” رضیہ بہن اِس سے ملیں یہ میری پیاری بیٹی خانی ہے. “
خانی کو اپنے بازو کے حصار میں لیتے بشریٰ بیگم نے خانی کو اُن سے ملوانے کے لیے آگے کیا تھا.
خانی پر نظر پڑتے ہی رضیہ بیگم کے چہرے پر ستائش اور خوشی کے بھرپور تاثرات اُبھرے تھے.
” ماشاءﷲ ہماری خانی تو چاند کا ٹکڑا ہے. یہ تو ہماری سوچ سے بھی کہیں زیادہ بڑھ کر پیاری ہے. آپ نے آنے سے پہلے نظر اُتاری نا ہماری گڑیا کی.”
رضیہ بیگم خانی کا ماتھا چومتے اُس کے دلکش نقوش سے سجے گلابی چہرے کو دیکھتے محبت بھرے لہجے میں بولیں.
خانی کو بشریٰ بیگم نے اُس کا پسند کیا مہرون ڈریس نہیں پہننے دیا تھا. بلکہ ایک بہت ہی بھاری گولڈن اور بلیک کام والا پرپل ڈریس دیا تھا. جس پر بلوچی سلک تھریڈ سے بہت ہی نفیس کڑاہی کے ساتھ ایمبیڈڈ گول آئینہ کا کام کیا گیا تھا.
ڈھیلے ڈھالے فراک کے نیچے کامدار چوڑی شلوار پہنے وہ واقعی چاند کا ٹکڑا لگ رہی تھی.
چاندی کا گردن کو چپکا گلوبند اور کانوں میں اُسی ڈیزائن کے جھمکے اُس کے دو آتشہ حُسن کو مزید نکھا بخش رہے تھے. بالوں کا ماتھے سے خوبصورت سا ڈیزائن بنا کر دونوں سائیڈ سے کچھ لٹیں آگے گرائے , بڑا سا دوپٹہ جس کے بارڈر پر باقی سوٹ کے جیسا کام کیا گیا تھا بہت ہی سلیقے سے سر پر ڈال کر آگے کی طرف دونوں کندھوں پر اُس کے پلو پنوں کی مدد سے پن اپ کر رکھے تھے. سومیہ لوگوں نے زبردستی اُس کے دونوں ہاتھوں پر مہندی لگا دی تھی. اُن کے مطابق یہ مہندی تو یہاں لڑکیوں کی آرائش کا سب سے اہم حصہ تھی. اور شادی شدہ خواتین کو تو کبھی بھی مہندی کا رنگ ہاتھوں پر پھیکا پڑنے کی اجازت نہیں تھی.
خانی نے ہلکا میک اپ کرکے باقی سب کی طرح ماتھے اور ٹھوڑی پر سرمے سے چھوٹے چھوٹے ڈاٹس بنا لیے تھے.
وہ اپنی مکمل تیاری کے ساتھ وہاں سب میں اپنے بے تحاشہ حُسن کی وجہ سے نمایاں ہورہی تھی.
رضیہ بیگم خانی کو اپنے بازو کے حصار میں لیے ایسے کھڑی تھیں. جیسے وہ اُنہیں برسوں سے جانتی ہو.یا آج دلہن وہ ہی ہو. خانی کو یہ سب اتنا عجیب نہ لگتا اگر یہاں آنے سے پہلے انا بی اُسے یہ نہ بتاتیں کہ رضیہ بیگم سیاہل خان کی سگی پھوپھو ہیں.
وہ خان حویلی کی باقی عورتوں کا رویہ اُس دن اپنے ساتھ دیکھ چکی تھی. اِس لیے اُسے رضیہ بیگم کے انداز پر بہت حیرت ہورہی تھی. وہ بھی تو اُسی خاندان سے تھیں.
خانی کچھ دیر اُن کے پاس کھڑے ہونے کے بعد معذرت کرتی اپنی باقی کزنز کی جانب آگئی تھی. اُسے کھلے تاروں بھرے آسمان تلے کیا گیا یہ سارا ارینجمنٹ بہت اچھا لگا تھا. سائیڈز پر پردے کے طور پر شامیانے لگائے گئے تھے. مگر چھت کے لیے ایسا کوئی اہتمام نہیں تھا.
وہاں کرسیوں کے درمیان کہیں کہیں ہلکی ہلکی ٹھنڈ کی وجہ سے آگ جلائی گئی تھی. دائیں طرف مردوں کے فنکشن کا انتظام کیا گیا تھا. دونوں طرف پارٹیشن کے لیے ایک باریک پردے کا انتظام کیا گیا تھا. جس سے خواتین آرام سے مردوں کا رقص دیکھ پارہی تھیں. لیکن مرد اُس حصے کی جانب قدرے تاریکی ہونے کی وجہ سے نہیں دیکھ سکتے تھے.
خانی کو یہ سب بہت اچھا لگ رہا تھا. مدھم سُروں میں بجتا بلوچی سانگ اُس کی سماعتوں کو بہت بھلا محسوس ہورہا تھا.
وہ اردگرد کے ماحول میں کھوئی ہوئی تھی. جب اچانک اُس کے کانوں سے سردار سیاہل موسیٰ خان کی آمد کی آواز ٹکرائی تھی.
خانی کا دل اچانک اُس شخص کے ذکر پر بے اختیار زور سے دھڑک گیا تھا.

جاری ہے