117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

“ہائے باس کیا سین چل رہا ہے۔”
عارف خان اپنے گروپ کے ساتھ بہرام اور حور کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے سامنے بنے ایک خالی کلاس میں داخل ہوئے لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر عارف خان کے ساتھ اُسکے لڑکے دم بخود رہ گئے کیونکہ سامنے کا منظر ہی کچھ اس طرح کا تھا۔کہ وہ آنکھیں جھپکائیں بغیر اُس منظر کو دیکھنے لگے۔
سامنے ایک لڑکا اپنے ہاتھ لڑکی کی گردن پر رکھے اُسکے لبوں پر جھکا ہوا تھاجبکہ لڑکی کے دونوں ہاتھ اُس لڑکےکی پشت پر تھے۔!!
لڑکی شاید اُس لڑکے کی اتنی زیادہ شدت برداشت نہیں کر پا رہی تھیں کیونکہ اِسکے تیز ناخنوں کی وجہ سے لڑکے کی سفید شرٹ پر خون کے ننھے داغ عارف اور اُسکے لڑکوں کو دور سے ہی صاف نظر آ رہے تھے۔
جبکہ دوسری جانب بہرام جو حور کے لبوں پر جھکا عارف اور اُسکے لڑکوں کو یہ دکھا رہا تھا کہ وہ دونوں lover ہے۔اور وہ اتنے دنوں بعد مل رہے ہیں۔۔!!
اِس ڈرامے کو کرتیں بہرام شاہ کب بہکا اُسے پتہ ہی نہ چلا اور اب وہ اپنے دونوں ہاتھ اُسکے ریشمی بالوں میں اٹکائے اپنی شدت اُسکے نرم لبوں پر اتار رہا تھا اور حور جو اُسکی یکدم سے اِس حرکت پر نظریں پھاڑ کر اُسے دیکھ رہی تھی۔تبھی اُسکے پیچھے دیوار پر زور سے فن کرنے پر اُسے سامنے کھڑے سنیئر اسٹوڈنٹ نظر آئے تو وہ یکدم سے سارا معاملہ سمجھ کر اپنے دونوں ہاتھ اُسکی پشت پر گاڑنے لگی۔
“ابے ہوں سالے یہاں سے چل یہ تو اِیسے لوگوں کا روز کا کام ہے جہاں دیکھو شروع ہو جاتے ہیں۔مما ڈیڈی کے اولادیں۔”
عارف خان اپنے سبھی لڑکوں کو ایک ایک چھپڑ مارتے ہوئے بولا۔تو سب لڑکے جو مزے سے کھڑے یہ سین دیکھ رہے تھے۔عارف خان کے مارنے پر گھبرا کر کلاس سے باہر نکلنے لگے۔
حور اِنہیں نکلتے ہوئے دیکھ کر بہرام کے سینے پر دباؤ دے کر اُسے خود سے دور ہٹانے لگی لیکن وہ مدہوش سا اُسکے چہرے پر جھکا اپنی شدت نرم لبوں پر اتار رہا تھا۔
شدت سے اُسکے ہونٹوں پر جھکا ہوا تھا کہ تبھی اچانک سے اُسکو اپنے سینے پر دباؤ محسوس ہونے لگا تو یکدم سے اُسے معاملے کی نزاکت کا احساس ہوا تو وہ تیزی سے اُسے دیوار سے لگا کر خود سامنے کرسی کھینچ کر اپنی آنکھیں بند کر کے اُسکی سانسوں کی تیز آوازوں کو سننے لگا۔جو کہ اُسکے چھوڑنے پر دیوار سے لگ کر کھڑی تیز تیز اور گہری سانسیں لے رہی تھی۔
“ہائے میں تو برباد ہوگیا میری عزت لٹ گئی مولا اب میں کہا جاؤ اور میری ماں وہ دنیا والوں کو کیا جواب دے گی۔کہ دن دھاڑے ایک لڑکی نے اُسکے بیٹے کی عزت لوٹ لیا۔”
اُسے نروس دیکھ کر یکدم سے وہ اپنا سر ٹیبل پر پھٹکنے لگا اور ساتھ میں اُس سے نظر بچا کر جیب سے گلیسرین نکال کر اپنے آنکھوں میں مصنوعی آنسو لاتے ہوئے رونے لگا۔حور جو اِس سچویشن میں کافی نروس فیل کر رہی تھی۔
اُسے ٹیبل پر سر مارتے ہوئے دیکھ وہ پریشان ہو کر تیزی سے روم سے باہر نکل کر بھاگنے لگی۔جبکہ بہرام اُسے کلاس روم سے نکلتے دیکھ کر اُسنے گلیسرین باہر کھڑکی سے پھینکا اور پھر مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کر کے اپنے لبوں پر لگی اُسکی پنک لپ اسٹک کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں محسوس کرنے لگا۔
“سنو وائٹ تُمہاری وجہ سے کسی دن کسی بے چارے انسان کی جان تُمہارے مسٹر پرفیکٹ کے ہاتھوں ضرور ضائع ہو جائے گی۔”
ہونٹوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ بولا اور پھر ٹیبل پر سر رکھ کر اُس لمحے کو سوچنے لگا جب وہ حور اور ایک ساتھ کپل ڈانس کر رہے تھے۔اور اُسکا پہلا دن خوبصورت بنا تھا تو وہ صرف عارف خان کی وجہ سے بنا تھا۔اب وہ اُسے کچھ دینا چاہتا تھا۔
یکدم سے اُسنے اپنی آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا جہاں پر ایک سفید گفٹ پیپر میں لپٹا باکس پڑا ہوا تھا۔وہ اُس گفت پر نظریں جمائے پرُسرار انداز میں مسکرانے لگا۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
لیڈی میزائیل تُم یہاں میں تو سمجھا تھا کہ تُم دوبارہ یہاں مجھے نظر نہیں آؤں گی۔لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ کتے کی دم کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی ہے۔”
دونوں نیچے سے اٹھتے ہی اپنے اپنے کپڑے صاف کرنے لگے۔اور ارحام اُسے دیکھتے ہوئے طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے بولا۔تو ری نے غصے سے اُسے دیکھا اور اپنے قدم خاموشی سے بزنس ڈیپارٹمنٹ کی جانب بڑھانے لگی۔
“لیڈی میزائیل تُم میرا جواب تو دیتی جاؤکہ تُم یہاں کر کیا رہی ہوں۔اور یہ ایڈمیشن فارم پر تو بزنس کا لکھا ہے کہی تم نے بزنس تو نہیں چوز کیا۔ہوں مائے اب بزنس والوں کی خیر نہیں۔”
وہ تیزی سے آگے بڑھ کر اُسکے مقابل کھڑے ہو کر ایڈمیشن فارم اُسکی نظروں کے سامنے لہراتے ہوئے بولنے لگاتو ری اپنا اور رعابہ کا ایڈمیشن فارم اُسکے ہاتھوں میں دیکھ کر تیزی سے آگے بڑھ کر اُسکے ہاتھوں سے چھیننے کی کوشش کرنے لگی۔لیکن وہ بڑی تیزی سے دوسری سائیڈ پر کھڑے ارسم کو وہ ایڈمیشن فارم دیتے ہوئے اُسے طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے دیکھنے لگا۔
“لیڈی میزائیل اتنی جلدی بھی کیا ہے۔جانے کی میں اور آپ اچھے سے تو مل لے آکر کو ہم دونوں جونئیر اور سینیٹر ہے۔”
وہ سب کو اشارہ کرتے ہوئے بولا۔تو اُسکے سبھی گینگ ممبرز ایڈمیشن فارم ایک دوسرے کو پاس کرنے لگے۔اور وہ کھڑی اُن لوگوں کو غصے سے گھورنے لگی۔کہ تبھی رعابہ غصے سے سامنے سے آکر ارسم کے چہرے پر زور سے پنچ مارنے لگی۔
“اے اُلو کے پٹھوں اگر جان پیاری ہے تو پھوٹ لوں یہاں سے ورنہ ہم دونوں تُم سب کا کڑاہی گوشت بنا کر اپنے کتوں کو کھلائیں گے۔”
وہ اپنی ننھی انگلی اٹھا کر اُن سب کو وارننگ دیتے ہوئے غصے سے بولی۔تو اُسکی بات پر ارحام انصاری کا قہقہہ چھوٹ گیا اور وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھے پیچھے ہٹتے ہوئے قہقہہ لگانے لگا۔اور یہ ری سے برداشت نہ ہوا تو وہ غصے سے اُسکی جانب بڑھ کر اُسکے چہرے پر مکا مارنے لگی۔
“کبھی بھی ری کو اور اُسکی بہنوں کو ہلکامت سمجھنا ورنہ روند کر رکھ دیں گے۔۔ہم تینوں بہنیں تُمہیں بھی اور تُمہارے اُس فلم اسٹار دوست کو بھی۔انڈرسٹینڈ۔”
اُسے سختی سے کالر سے پکڑکر اُسکی آنکھوں میں دیکھتی اُسے وارن کرتے ہوئے بولی۔تو ارحام اُسکی سحر زدہ سیاہ آنکھوں میں اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس کرنے لگا۔
“ری برو اِسے تو ہم بعد میں دیکھ لیں گے مگر اُس سے پہلے کے پروفیسر کلاس میں آ جائے ہمیں اِن سے پہلے کلاس میں ہونا چاہیے۔”
رعابہ ارحام انصاری کو غصے سے گھورتی ری سے بولی۔جو ارحام کو اپنی جانب گھورتے ہوئے دیکھ کر اُسے غصے سے دیکھنے لگی۔
“ہمممم ہاں چلوں۔”
وہ اُسکی کالر پر گرفت ڈھیلی کرتیں رعابہ کو دیکھتے ہوئے بولی۔تو ارحام اُسکی آواز پر وہ اُسکی آنکھوں کے سحر سے نکل کر اُسے وہی بیٹھے دیکھنے لگا۔جو اُس سے دور ہوتی جا رہی تھی۔
💕💕💕💕💕💕💕
“چاچو یہ سب کیا اٹھا کر لے آئے ہیں۔؟؟
“یہ ویڈنگ اینیورسری ہے۔کوئی ایک سالہ بچے کی سالگرہ نہیں جو آپ یہ لائے ہیں۔”
سام اور شام نے سعدی کے روم میں داخل ہو کر سامنے ٹیبل پر رکھے ڈھیر سارے بچوں کی سالگرہ والے ڈیکوریشن سازوں سامان دیکھ کر ناک بھوں چڑھا کر ایک ساتھ بولیں۔
“برخوردار تُم لوگوں کو بڑا پتہ ہے اِن چیزوں کے بارے میں باپ کے پیچھے کہی تُم لوگ کوئی غلط کام تو نہیں کر رہے۔”
سعدی ٹیبل پر ڈھیر سارے بلونز کے پیکٹ رکھتے ہوئے اُن دونوں بھائیوں کی جانب آرام سے قدم بڑھاتے ہوئے بولا۔تو وہ دونوں پیچھے ہٹتے ہوئے ڈر کر اُسے دیکھنے لگے کیونکہ اگر شاہ بخت کے بعد وہ کسی سے ڈرتے تھے تو وہ سعدی چاچو سے ڈرتے تھے۔
“چاچو ہم بھلا کیوں ڈیٹ ویٹ کرنے جاتے ہیں۔بول شام ورنہ آج جلاد کے ہاتھوں ہمیں ممی بھی نہیں بچائے گی۔”
سام سعدی کی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔اور آخر میں شام کے کان کے قریب ہو کر شرگوشی کرتے ہوئے کہنے لگا۔تو سعدی اُسے شرگوشی کرتے دیکھ غصے سے اُن دونوں بھائیوں کو گھورنے کگا۔پھر اچانک سے اُن دونوں کا ہاتھ پکڑ کر سامنے اپنے بیڈ کی جانب بڑھا۔
“شہزادوں اِس میں ڈرنے والی کونسی بات ہے۔ڈیٹ تو شادی سے پہلے تُمہارے چاچو نے بھی بہت مارے ہیں۔لیکن جو مزا تمہاری چاچی کے ساتھ ڈیٹ مارنے کا مجھے آیا وہ کسی اور کے ساتھ بلکل بھی نہیں آیا تھا۔”
سعدی وہ ریگستان والے دنوں کو یاد کرتے ہوئے اُن دونوں کے گھٹنوں پر زور سے مارتے ہوئے بولا۔جب اُسنے اور معازی نے شاہ بخت کے کہنے پر رملہ کو وہاں قید کیا تھا۔جبکہ وہ دونوں بھائی اُسکے زور سے مارنے پر اپنے گھٹنوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بے بسی سے مسکرا رہے تھے۔
“شام سنا تُم نے چاچو نے بھی بہت ساری ڈیٹ ماری ہے۔”
سام شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر شام سے بولا۔تو شام اُسکی شیطانی مسکراہٹ دیکھ کر خود بھی مسکرانے لگا۔
“خبردار جو تُم دونوں نے رملہ کو میرے اِن سب ڈیٹس کے بارے میں بتایا میں بھی تُم لوگوں کا چاچا ہوں۔ورنہ میں بھی تُم دونوں کے کارنامے بھائی کے سامنے کھول کر رکھ دونگا۔”
سعدی بھی شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اُن دونوں بھائیوں کی جانب دیکھتے ہوئے اپنا موبائل ہوا میں لہرا کر بولا۔جس میں اُسنے اُن دونوں کی آواز کو ریکارڈ کیا تھا۔جب دونوں اپنے سارے ڈیٹ کے بارے میں ایزل اور عشوہ سے ذکر کر رہے تھے۔
“بیٹا تُم لوگ سوا سیر ہو۔تو سعدی راجہ ٹپوری بھی دو سو سوا سیر ہے۔تُم لوگ رملہ کے پاس پہنچو یا نہ پہنچو مگر تُم دونوں کی آواز بھائی کے پاس ضرور پہنچ جائے گی۔”
سعدی اپنا موبائل جیب میں ڈالتے ہوئے بولا تھا۔تو دونوں بھائی بے چارگی سے سعدی کی جیب میں رکھے فون کو دیکھنے لگے جس میں اُن دونوں کے کالے کارناموں کے ثبوت تھے۔