117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

“مانا کہ تُم لوگ بہت بڑے کمینے ہو لیکن تُم سب سے بڑا کمینا میں ہوں۔اور تُم کیا کہ رہے تھے۔!!
ہاں یاد آیا اگر میں تُمہاری بات نہیں مانو گا۔تو مجھے سب کے سامنے اُسے کس کرنا ہوگا۔!!میں نے تُمہارے کہنے پر اُس سے ڈانس بھی کیا اور اُسے چھوا بھی۔اب تُم سب کی باری ہے۔!! سو بی ریڈی گائیز۔”
کرسی پر اپنا پاؤں باری باری رکھ کر اپنے جوتوں کے تسموں کو باندھتے ہوئے وہ اپنے سامنے لائن کی صورت میں کھڑے سبھی اسٹوڈنٹ کو دیکھتے آخر میں اُس سیئنیر اسٹوڈنٹ کی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔جسنے اُسے کس کرنے کا کہا تھا۔
“تُم ادھر آؤ۔!!
وہ اُس اسٹوڈنٹ کو اشاره کرتے ہوئے کہنے لگا۔جسنے تھوڑی دیر پہلے اُسے اور حور کو مزے سے دیکھا تھا اور اسٹوڈنٹ ڈرتے ہوئے اُسکی جانب بڑھا۔
“بہت شوق ہے نا تُمہیں سین دیکھنے کا۔۔۔!!! اب میں تُم سے ایسے ایسے سین کرواؤ گا۔کہ تُم دوباره سین دیکھنے کے کیا سوچنے کے بھی لائق نہیں رہوں گے۔”
“عارف خان کس کروں اپنے اِس کمینے بدمعاش دوست کو ورنہ انکار کی صورت میں تُمہیں اِسے سب کے سامنے کس کرنا پرے گا۔”
وہ عارف خان کو اٹھا کر اُسکے سامنے کھڑا کرتے ہوئے بولا۔
“یہ تّم کیا کہ رہے ہو۔میں کیسے یہ ناممکن ہے۔”
عارف خان غصے سے اُسے گھورتے ہوئے بولا۔تو وہ آگے بڑھا اور دونوں کو کندھوں سے پکڑ کر زور سے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوئے بولا۔
“ایسے عارف خان اِس طرح اور مجھے کس والا سین دیکھنا ہے۔تُم دونوں کا اور اگر میں نے نہیں دیکھا تو پورا کے یو تُم لوگوں کا یہ سین دیکھ لے گا۔سوچ لوں اگر کے یو کے سامنے یہ سین کیا تو ساری زندگی بدنامی کے ڈر سے گھر سے نہیں نکل ہاؤ گے۔اور میرے سامنے کیا تو اِس بدنامی والی زندگی سے بچ جاؤ گے۔”
عارف اور اُس لڑکے کو کندھوں سے پکڑ کر وہ معنی خیزی سے کہنے لگا۔تو عارف خان نے بے بسی سے اپنے ساتھی کو دیکھا جو خود بھی شرمندگی سے نظریں جھکائے کھڑا تھا۔اِسکے اشاره کرتے ہی دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے کندھوں سے تھامنے لگے۔
“ویری گڈ اب یہ پورا کے یو نہیں بلکہ پوری دنیا دیکھے گی۔تُم نے بہرام شاہ کو سہی پہچانا تھا۔کہ میں جو نظر آ رہا ہو۔وہ سب کی نظروں کا دھوکہ ہے۔میں واقعی ایسا نہیں ہوں۔بلکہ میں بہت ہی بڑا کمینا انسان ہوں۔”
اپنا چشمہ اتار کر سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوئے لیپ ٹاپ اُن لوگوں کے سامنے کرتے ہوئے کمینگی سے مسکراتے ہوئے بولا۔
عارف خان اپنے اور اپنے ساتھی کی وڈیو یوٹیوب پر دیکھ کر بے ہوش ہو کر نیچے گر گیا۔اور اے بی اُسے بے ہوش ہو کر نیچے گرتے ہوئے دیکھ کر اپنا لیپ ٹاپ بیگ میں ڈال کر ٹیبل سے اپنا چشمہ اٹھا کر باہر نکلا۔
💞💞💞💞💞💞💞
“آپ سب بزنس فیلڈ کیوں چوز کر رہے ہیں۔سب اسٹوڈنٹ ایک ایک کر کے بتائے گے۔؟
پروفیسر کی باتیں خاموشی سے سنتی رعابہ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی ری کو کلاس کے باہر کھڑے ارحام انصاری
بغور دیکھ رہا تھا۔
“اسٹوڈنٹ پہلے ہم یہاں سے شروع کرتے ہیں۔تو مس رعابہ عالم آپ نے کیوں بزنس چوز کیا ہے۔ایسی کونسی وجہ ہے۔جو آپ یہ پڑھنا چاہتی ہے۔”
پروفیسر رعابہ کو کھڑا کرتے ہوئے پوچھنے لگے۔تو وہ انکو اور پوری کلاس کو دیکھتی اپنی جگہ سے اٹھی اور کہنے لگی۔
“سر ایک شخص کو سبق سیکھانے کے لیے وہ سمجھتا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں کر سکتی ہوں۔صرف گھر بیٹھکر بچوں کی طرح کھانا اور صرف کھیلنا جانتی ہوں۔میں ایک بزنس وومن بن کر اُسے دیکھانا چاہتی ہو.”
رعابہ پروفیسر کو دیکھ کر بولی۔تو اُسکی بات پر پروفیسر نے اُسے تعریفی نظروں سے دیکھا اور اُسے سہراتے ہوئے اُسے اپنی جگہ پر بیٹھنے کا اشاره کیا اور ری سے پوچھا۔
“مس ریحام شاه آپ نے آخر بزنس کو ہی کیوں چوز کیا اور بھی تو بہترین فیلڈ ہے۔وہ کیوں چوز نہیں کیا بزنس کیوں چوز کیا آپ نے۔؟
پروفیسر کی بات پر وہ مسکرا اٹھی اور ٹیبل پر دونوں ہاتھ رکھ کر سب کو دیکھتی ہوئی کہنے لگی۔اور باہر کھڑا ارحام انصاری جو اُسی جانب متوجہ تھا وہ اُسکی جواب کو سننے کے لیے آگے بڑھا۔وہ یہاں اِس لئے آیا تھا تاکہ اُسکے منہ سے وہ خود سن لے کہ اُسنے بزنس کو کیوں چنا ہے۔اور پروفیسر بھی اُسکا کلاس میٹ تھا۔جو اُسکے کہنے پر پروفیسر بن کر آیا تھا۔
“سر میں اپنے خاندانی بزنس کو اور ترقی کی بلندیوں تک لے جانا چاہتی ہو۔ایک وومن بزنس بن کر جو کسی چیلنج سے گھبرائے نا بلکہ انکا سامنا بہادری سے کر سکے۔”وہ سب کو دیکھتے ہوئے بولی۔
“پہلے کننفرم تو کرو کہ تُم وومن ہو کہ نہیں۔ہاہاہاہاہاہا۔”
پیچھے سے ایک لڑکے کی طنزیہ آواز سن کر وہ سخت غصے سے اپنی مٹھیاں کھسنے لگی۔اور رعابہ نے پلٹ کر اُس لڑکے کو گھورا جو اپنی جگہ پر کھڑا ری کو معنی خیز نظروں سے دیکھ رہا تھا۔اور ارحام انصاری جو اُسکی بات پر اپنی کلاس کی جانب جانے ہی والا تھا وہ پلٹ کر اُس لڑکے کو خونخوار نظروں سے دیکھنے لگا۔جو سیلم رضوی کے گروپ کا لڑکا تھا جو یونی کا بدمعاش اسٹوڈنٹ تھا اور کسی سیاسی پارٹی کا بندہ۔
“تُمہیں میری لڑکی ہونے کا ثبوت چاہیے۔؟؟
ری تیزی سے پیچھے پلٹی اور اپنا ایک آئی برو اچکا کر اُسنے اپنی جیکٹ اتارا کہ دور اچھالا اور پھر آہستگی سےاپنے قدم اُس لڑکے کی جانب بڑھاتے ہوئے اُسنے اپنا ہاتھ شرٹ کی بٹن پر رکھتے ہوئے ایک ایک کر کے اوپری دو بٹن کھول دیئے اور
ارحام انصاری اُسکی حرکت پر سخت غصے میں آکر ضبط سے سرخ ہوتی آنکھیں لئے تیزی سے کلاس روم میں داخل ہوا اور سیدھا جاکر ری کے سامنے کھڑا ہوا اور اُسے اپنی خون آشام نگاہوں سے دیکھنے لگا۔
جب اُسکی نظریں ریحام شاه کی کھلی گریبان پر پڑی تو وہ سخت غصے سے آگے بڑھا اور اُسے کلائی سے پکڑکر اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے کلاس روم سے باہر نکلا۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
“ریحام شاه تُم لڑکی ہو تو لڑکیوں کی طرح رہوں کیوں تُم اُس لڑکے کو اپنی لڑکی ہونے کا ثبوت دکھا رہی تھیں۔!!
اب میں تُمہیں اِسی وقت تُمہاری نسوانیت کا تُمہیں ثبوت کے ساتھ سرٹیفکیٹ دیتا ہوں۔”
وہ اُسے اوپری منزل پر ایک بند کلاس روم میں لا کر زور سے اُسے سامنے ٹیبل پر دکھا دیتے اُسنے پیچھے سے دروازه زور سے اپنے پاؤں سے بند کیا اور سخت لہجے میں بولا۔
“تُم ہوتے کون ہو۔مجھے نسوانیت کے سرٹیفکیٹ دینے والے میری مرضی میں اُس لڑکے کو جو بھی دکھاتی پھیروں تّمہیں میرا باپ بھائی بننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔!!
سمجھے تُم یا پھر میں تُمہیں اپنے طریقے سے سمجھاؤ۔”
وہ ٹیبل سے اٹھنے کی کوشش کرتی اُس سے بے خوف ہوکر بولی۔اور ارحام انصاری اُسکی بات پر سخت غصے میں آکر آگے بڑھا۔
ٹیبل پر اپنے دونوں ہاتھوں سے اُسکے ہاتھوں کو سختی سے جھکڑکہ اپنا چہرہ اُسکے لبوں کے پاس آہستہ آہستہ لے جانے لگا۔وہ صرف اُسے اُسکی نسوانیت کا ثبوت دینے چاہتا تھا۔
ری اُسکی اِس حرکت پر غصے اور شرمندگی سے اپنے دونوں ہاتھوں کو اُسکی مضبوط گرفت سے چھڑانے لگی۔لیکن وہ اُسکی کوششوں کو ناکام بنا رہا تھا۔
“تُم نے بھلے ہی خود کو لڑکوں والے حلیے میں ڈھالا ہے لیکن اِس طرح کسی مرد کے چھونے پر تُم اپنی یہ شرم سے سرخ ہوتے گالوں اور پلکوں کی اٹھتے گرتے جھالر کانپتے ہونٹوں کو تُم چھپا نہیں سکتی ہوں۔”
وہ اپنے ہونٹ اُسکے سرخ گالوں پر رکھتے ہوئے گھمبیر لہجے میں بولا۔تو ری پہلی بار کسی مرد کے لمس پر بری طرح سے کانپ کر رہ گئی اور ارحام اُسکے گلال چہرے کو محبت سے دیکھتا اُسکے اوپر سے اٹھا۔
“تُم۔!!!
ری جھٹکے سے اٹھ کر غصے سے سامنے رکھے ڈنڈے کو اٹھا کر اُسکے قریب آ کر وہ ڈنڈا زور سے اُسکے چہرے پر مارتی کے ارحام نے ڈنڈا پکڑ کر اُسے اپنی جانب زور سے کھینچا تو وہ اُسکے چوڑے سینے سے آ کر بری طرح سے لگ گئیں۔اور ارحام نے ڈنڈا پکڑ کر سائیڈ پر پھینکا اور اُسکی سیاہ غصے سے سرخ ہوتی آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈال کر بولا۔
“ہاں اب سے میں روز تُمہیں احساس دلاؤ گا۔کہ تُم ایک لڑکی ہو۔اور ایک ماہ میں اور اگر ارحام مرتضی انصاری نے تُمہارا حلیہ نہیں بدلا تو وہ اپنا نام بدل دے گا۔”
وہ اپنے دونوں ہاتھ اُسکی کمر پر رکھکر اپنی گرفت مضبوط کرتا اُسے اپنے بے حد نزدیک کرتے گھمبیر لہجے میں بولا۔ری کو اُسکے ہاتھ اپنی کمر پر سرکتے ہوئے محسوس ہوئے تو وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اُسکے چوڑے سینے پر رکھ کر اُسے خود سے دور کرنے لگی۔
“بے ہودہ انسان دور رہوں مجھ سے ورنہ قتل کر دو گی میں تُمہارا۔”
وہ اپنے ہاتھ اُسکے سینے پر زور سے مارتے ہوئے بولی۔تو ارحام کو اُسکے وار سے تھوڑی تکلیف ہوئی لیکن اپنی جگہ سے ہلے بغیر اُسی طرح کھڑا اُسے کمر سے پکڑے دیکھ رہا تھا۔
ری اُس سے پہلے کہ اس پر دوباره حملہ کرتی کلاس روم سے باہر ان دونوں کو کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی تو وہ دونوں الگ ہو کر تیزی سے باہر کی جانب بھاگے۔
💞💞💞💞💞💞💞
“عارف خان نے سوسائیڈ کیا۔‌ مگر کیوں..؟؟
وہ تو ابھی تھوڑی دیر پہلے اپنے سارے گروپ کے ساتھ نئے آنے والے اسٹوڈنٹس کے ساتھ ریکننگ کر رہا تھا۔؟؟
ارحام اپنے گروپ کے ساتھ تیزی سے سیڑھیوں سے نیچے اتر رہا تھا۔اور بہرام اُسے نیچے اترتے دیکھ کر اپنا چشمہ درست کرتے ہوئے سائیڈ پر ہوا۔
اور ارحام اُس پر دھیان دیئے بغیر تیزی سے اپنے گروپ کے ساتھ اُس طرف چلا گیا جہاں عارف خان کی لاش پڑی ہوئی تھی۔
“بڈی یہی ریکننگ ہی تو ہے۔!! جو اُسکی جان کی دشمن بنی ہے۔۔اور اب اُسکے قبر میں بہت سے کالے کارنامے بھی اُسکے ساتھ دفن ہوجائے گے۔”
وہ وہیں کھڑا سیڑھیوں سے نیچے اترتے ارحام اور اُسکے دوستوں کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگا۔
“اے ہیلو راستہ دو کب سے آواز دے رہی ہوں۔لیکن لگتا ہے تُم یہی کھڑے کھڑے دن میں خواب دیکھ رہے ہو۔”
اپنے پیچھے سخت آواز سن کر وہ ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچ کر مسکراتے ہوئے پلٹ کر ری کو اور رعابہ کو دیکھنے لگا۔
“ہوں سوری سسٹر وہ کیا ہے نا۔کہ میری آنکھیں خراب ہونے کے ساتھ کان بھی خراب ہے‌۔تو اِسی لئے میں آپکی آواز نہیں سن سکا۔”
وہ اپنے کان میں آلہ لگاتے ہوئے معصومیت سے بولا۔تو ری نے مشکوک نظروں سے اُسے دیکھا کیونکہ اُسے ایسا لگا جیسے وہ اُسے پہلے بھی کہی دیکھ چکی تھی۔
“خون خون ۔”
ری اُسے اِسکے متعلق پوچھتی تبھی حور کی خوفزدہ سنائی دی تو وہ تینوں تیزی سے نیچے بھاگے۔
“جان ریلیکس یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔”
حور سیڑھیوں کے سامنے کھڑی سامنے گرے عارف کی لاش کو دیکھکر وہ چیختے ہوئے پیچھے ہٹ رہی تھی۔۔
بہرام شاہ تیزی سے آگے بڑھا اور اُسے کمر سے پکڑ کر اُسے اپنے سینے میں لگاتے ہوئے محبت سے کہنے لگا۔تو ری اور رعابہ اُن دونوں کو اِس طرح دیکھکر حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگی۔
“یہ سب کیا چل رہا ہے ری برو۔اور یہ بہرا ہماری حوری کو کیسے جانتا ہے۔اور حوری کو تو دیکھیں کیسے اُس سے چپک رہی ہے۔۔۔جیسے وہ دونوں اِس دور کے لیلی اور مجنوں ہے۔”
رعابہ بہرام شاہ کے ساتھ لگ کر بری طرح سے کانپتی حور کو گھورتے ہوئے بولی۔ ری نے اُسکی بات پر اُسے غصے سے دیکھا اور آگے بڑھ کر حور کو بہرام سے الگ کرتے ہوئے بولی۔
“کیوٹی اب ہمیں گھر چلنا چاہیے کیونکہ ہم بہت لیٹ ہوگئے ہیں۔بڑے پاپا وڈیو کال پر تُم سے بات کرنا چاہتے تھے۔تو اب گھر چل کر ان سے بات کریں گے۔”
ری اُسے کندھوں سے پکڑ کر نرمی سے بولی۔ حور اُسکی بات پر آنسو صاف کرتی بہرام شاہ کو سرخ چہرے سے دیکھنے لگی۔جو اب پوکٹ میں ہاتھ ڈال کر کھڑا اُسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔
“اوکے پھر کل ملے گے۔اگر جانم ہماری زندگی نے دھوکہ نا دیا تو ۔”
بہرام شاہ اُسکے کندھوں سے کندھا جوڑ کر اُسکے کان کے لُو کے پاس اپنے ہونٹ ٹچ کرتا گھمبیر آواز میں بولا۔تو حور اُسکی گرم سانسیں اپنی گردن پر محسوس کر کے شرم سے سرخ پڑنے لگی۔
💞💞💞💞💞💞💞
“دیکھو آج مجھے دے دو پکا کل تُمہیں پیسے لوٹا دو گا۔”
ایک کم عمر لڑکا سامنے بیٹھے لڑکے سے روتے ہوئے بولا۔جو سفید پاؤڈر کو اُسکی نظروں کے سامنے ہوا میں اچھال رہا تھا۔اور وہ‌ کم عمر لڑکا تکلیف سے اپنے ہاتھوں کو مسل رہا تھا۔
“تُمہیں یہ چاہیئے۔؟؟
کمرے میں ایک خوبصورت گھمبیر آواز گونجی تو اُس لڑکے نے دیکھا وہ ٹیبل سے ایک پیکٹ اٹھا کر ہاتھ فضا میں بلند کرکے اُسے دیکھ رہا تھا۔
اُسکی خوبصورت ہیزل آنکھوں میں چنگاریاں اُسے صاف نظر آ رہی تھیں۔دہشت کے مارے اپنے قدم پیچھے لینے لگا۔
“ہاں۔لڑکا روتے ہوئے بولا۔
“تو یہاں آ کر لیں جاؤ آئی سویر میں تُمہیں کچھ بھی نہیں کہوں گا۔بلکہ یہ تُمہیں تحفہ کے طور پر دو گا۔بس ایک قدم بڑھاؤ گے اور اپنی زندگی بچا پاؤ گے۔”
کمرے میں وحشت بھری فضا قائم دیکھکر لڑکا پیچھے دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا تر تر کانپ رہا تھا اور اُس ظالم کو اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ رہا تھا۔جسکا نام سن کر ہر شخص پر دہشت تاری ہو جاتا تھا۔
وہ بے رحم تھا ظالم اور اِس جرائم کی کالی دنیا کے لوگوں کے لیے وہ ایک درندہ تھا دھوکے بازوں کی زندگی ختم کرنے والا حیوان۔
“زریاب خان کو دھوکا لفظ سخت ناپسند ہے۔اور دھوکہ دینے والوں سے شدید ترین نفرت۔۔!! اور دھوکا بازوں کو وہ زنده رہنے کا حق اُن سے حق چھین لیتا ہے۔”
دیوار پر لگ کر کھڑے لڑکے کو اپنی سرد نگاہوں سے گھورتے خطرناک لہجے میں بولا۔۔اور سامنے کھڑے شخص کے ہاتھ سے انجیکشن لیں کر اُسنے بے دردی سے اُس لڑکے کی گردن پر زور سے گھاڑ دیا۔
“اِسکی لاش کو ٹھکانے لگا دو کل کے یو میں یہ سب کچھ پہنچ جانا چاہیئے وہاں ہر طرف ڈرگز مافیاکا راج ہونا چاہیے۔ اسٹوڈنٹ کے دلوں میں اُن کے لئے صرف خوف ہونا چاہیے۔”
سفید پاؤڈر کو ناک کے قریب لے جا کر سونگھتے ہوئے بولا۔تو اِس کے خاص بندے نے سب کو اشاره کیا تو سب ایک ایک باکس اٹھا کر باہر نکلے۔