Ishq E Junoon By Sumyia Baloch Readelle50186 Episode 33
No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
“اچھا مسٹر فائر بریگیڈ صاحب یہ بتاؤ وہ لڑکی کون تھی جب تُم رعابہ بھابھی سے جھوٹ بول کر مجھے یہاں لے کر آ رہے تھے تب وہ ہمیں شاپنگ مال پر ملی تھی۔۔؟؟
اِس وقت وہ ارحام انصاری کے ساتھ اسکی فلیٹ سے نزدیک ایک بہت ہی خوبصورت سے کیفے میں بیٹھی اسکے ساتھ کافی پی رہی تھیں کہ تبھی اُسے وہ لڑکی یاد آئی جو انہیں شاپنگ مال پر ملی تھی۔۔
ارحام انصاری نے جب یہ طلاق کے پیپرز دیکھے تھے تو وہ طیش میں آکر ریحام کے گھر پہنچا لیکن وہاں وہ اسے نہیں ملی تو رعابہ کو اسنے فون کر کے اسکے بارے میں پوچھا تو شاپنگ کا سن کر اُسے مزید ریحام پر غصہ آیا تھا کیونکہ وہ سمجھ بیٹھا تھا کہ ریحام طلاق کے پیپرز اُسے بھیجنے کے بعد خوشیاں منا رہی ہیں شاپنگ وغیرہ کرکے۔۔
رعابہ سے ایڈریس پوچھ کر وہ بھی غصے میں آکر سیدھا شاپنگ مال پہنچا اور رعابہ سے جھوٹ بول کر اُسے اپنے ساتھ لیے مال سے باہر نکل رہا تھا کہ وہ لڑکی انکے پاس آ کر ارحام انصاری کو تعجب سے دیکھتی ریحام کے بارے میں اس سے پوچھنے لگی اور ریحام کو اُسکی نظریں بہت ہی عجیب لگی تھی جو اُس پر مرکوز تھی جیسے وہ ارحام انصاری کے ساتھ ریحام کو دیکھ کر شاکی ہو۔۔
اُن سرخ جنونی آنکھوں کو یاد کرتی وہ اُس کے متعلق ارحام انصاری سے پوچھنے لگی جو سامنے کرسی پر بیٹھا کافی پی رہا تھا اُسکی بات پر اُسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا۔۔
“مس میزائیل یہ جلنے کی بو کہا سے آ رہی ہیں۔۔؟؟
“شٹ اپ ارحام میں سیریس ہو اور تُم مزاق کر رہے ہو۔۔!!
کافی کا کپ سائیڈ پر رکھتا وہ پورے کیفے میں نظریں ڈورہا کر ریحام سے پوچھنے لگا جو اُسکی بے تکی بات پر اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے مضبوط کندھے پر زور سے مارتی اُسے تیز نظروں سے گھورتے ہوئے بولی۔۔
“اوکے اوکے میں بتاتا ہو۔۔!!
اُسے کافی کا کپ اپنے چہرے کے سامنے کرتے ہوئے دیکھ کر وہ جلدی سے اپنے دونوں ہاتھ چہرے کے سامنے کرتا بولا۔۔
“اب عقل آ گئی نا آپ کو مسٹر فائر بریگیڈ صاحب کے کبھی بھی بیوی کے سامنے اسمارٹ بننے کی کوشش مت کرنا ورنہ وہ بیلن پھینکنے میں ایک پل بھی نہیں لگائے گی۔۔!!
وہ ہلکی آواز میں خود سے بڑبڑاتے ہوئے کہنے لگا اور جب ریحام کے تیز کانوں نے اسکی یہ بڑبڑاہٹ سنی تو وہ غصے سے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے ہاتھ کو سامنے ٹیبل سے اٹھاکر سامنے رکھے اپنے کافی کے کپ میں ڈبو کر اُسے دیکھنے لگی جو اب اپنی انگلیوں پر جلن محسوس کرتا اُسے غصے سے دیکھ رہا تھا۔
“مس میزائیل یہ کیا کیا تُم نے میں بتا تو رہا تھا تُمہیں اُس لڑکی کے بارے میں اللّٰہ میری انگلیاں دیکھو اب میں تُمہیں یہاں سب کے سامنے کس کر دونگا اگر اب کہ تُم یہ کافی میرے چہرے پہ پھینکنے کا سوچ رہی ہوں تو بیوی۔۔!!
اُسے دوسرے کپ کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہوئے دیکھ کر وہ تیزی سے بولا تو ریحام اسکی بات پر شرم سے گلال ہوتی نظریں کیفے میں بیٹھے لوگوں پر ڈال کر انہیں دیکھنے لگی جو ان دونوں میاں بیوی کی تکرار پر ہنس رہے تھے۔۔
“اچھا ٹھیک ہے اب تُم اپنی بے شرموں والے ڈائیلاگ بند کرو دیکھو لوگ ہمیں دیکھ رہے ہیں۔۔!!
وہ بظاہر تو مسکرا کر بولی لیکن اندر سے اُسے ارحام پر بہت زیادہ غصہ آ رہا تھا جو وہ باہر نکالنے کا سوچ کر چپ ہوگئی تھی ورنہ اسکی بات پر وہ اسے یہی سبق سیکھاتی۔۔
تبھی ایک لڑکی اچانک سے وہاں آکر ارحام انصاری سے کہنے لگی تو دونوں نے اسے سامنے دیکھا تو حیرت زدہ رہ گئے کیونکہ ابھی وہ اسی کا تو ذکر کر رہے تھے۔۔
“ہیلو حامی کیسے ہو اور یار میں بہت ناراض ہو اور پتہ ہے کیوں وہ اس لئے کیونکہ کل تُم اپنے بچپن کی سب سے بہت اچھی دوست کی سالگرہ پر جو نہیں آئے تھے۔۔!!
“اور تُمکو پتہ ہے آج کل سب گھر والے بہت مس کرتے ہیں تُمہیں خاص کر تایا ابو اور تائی ماں اور ایک تُم ہو کہ آجکل بہت بزی رہنے لگے ہو آخر کو اپنی رات رنگین کرنے کے لیے تمہیں اتنی خوبصورت دوست جو ملی ہے ویسے حامی ڈئیر تمہاری رات کی ساتھی تو بہت ہی زیادہ خوبصورت ہے ویسے کیا نام ہے اِس حسینہ کا۔۔!!
ریحام اُس لڑکی کو پھر سے دیکھ کر حیران رہ گئی اور ارحام انصاری اُسے اپنے سامنے دیکھ کر تعجب سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا لیکن اُسکی آخری بات پر وہ طیش سے اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“عروج زبان سنبھال کر بات کرو وہ میری بیوی ہے اور تُم کیوں بار بار میری جاسوسی کر رہے ہو کیا تُمہارے مرتضی انکل نے تمہیں جاسوسی کرنے کا کہا ہے۔۔!!
وہ طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے عروج سے کہنے لگا تو وہ لڑکی اُسکی بات پر مسکرائی اور اپنے دونوں ہاتھ اُسکے چوڑے سینے پر پھیرتی بے باکی سے کہنے لگی۔۔
“حامی جان ویسے ایک راز کی بات میں تمہیں بتاتی ہو جب میں تُمہاری جاسوسی تمہاری موجودگی میں تمہارے بیڈ روم میں چھپ کر کیا کرتی تھیں نا تو مجھے بہت زیادہ مزا آتا تھا۔۔!!
“واللہ تمہارا سکس پیک ایبس اور یہ تمہاری مضبوط باڈی اففففف یار کیا کمال کی ہیں اور یہ حسینہ تو بہت زیادہ لکی ہے جو تمہاری قربت اُسے نصیب ہے ورنہ میں بے چاری بھی تو ہو تمہاری راہ میں جو تُم پر مر مٹی ہے اور ایک تم ہو جو مجھے آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے اور میں بے چاری ترستی رہتی ہو تمہاری اِن غصیلی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھنے کے لیے۔۔!!
ارحام انصاری کے شرٹ کے دو بٹن جو کھلے ہوئے تھے عروج نے بے باکی سے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اُنہیں بند کرتے اپنی نظریں ارحام انصاری کے وجہیہ چہرے پر مرکوز کرتے ہوئے خمار آلود لہجے میں کہا تو وہ ریحام کو اپنی اس حرکت پر سخت غصہ دلا گئی تھی۔۔
“ہاؤ ڈئیر یو تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے ارحام کو چھونے کی ہاں۔۔!!
وہ طیش میں آکر آگے بڑھی اور ایک زور دار مکا اُس لڑکی کے چہرے پر مارتی اسے زمین پر دھکا دے کر وہ اسکے پورے وجود پر اپنے پیروں سے وار کرنے لگی۔۔
“عروج تُم اتنی گر جاؤ گی مجھے اندازہ نہیں تھا مجھے اِس وقت تُم سے بے حد نفرت محسوس ہو رہا ہے کہ میں کیوں تُمہیں اپنی دوست سمجھتا تھا تّم ایک نامحرم مرد سے اسطرح بات کرو گی اور جاسوسی کے نام پر اس کے کمرے میں چچی بہت دکھ ہو رہا ہے کہ تُم میرے خاندان کی ہو اور شاید وہ طلاق کے پیپرز بھی تُم نے ہی مجھے بھیجے ہونگے ہیں نا۔۔!!
ارحام جو غصے سے عروج کی گھٹیا باتیں سن رہا تھا اچانک سے ریحام کو غصے سے عروج کی جانب بڑھتے ہوئے اور اسے دھکا دے کر نیچے گرانے کے بعد بری طرح سے مارنے پر آگے بڑھا اور اُسے اس سے الگ کرتا اُسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے عروج کو سخت نظروں سے گھور کر دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“ہاں حامی وہ طلاق کے پیپرز میں نے ہی تمہیں بھیجے تھے جب میں نے تمہارے بیڈ روم میں تلاشی لی تھی تب مجھے تُم دونوں کا نکاح نامہ ملا تھا تب میں نے تمہاری بیوی کے سائن کاپی کیے تھے اور دن رات سائن کی پریکٹس کر کے جب مجھے اسکا سائن کرنا آ گیا تو میں نے طلاق کے پیپرز بنا کر اس پر سائن کر دیے اور پھر تمہیں بھیج دیا تاکہ تُم بدگمان ہو کر اسے طلاق دے دو لیکن وہ پلان بھی تُم دونوں کو اس وقت یہاں کیفے میں خوش باش دیکھ کر فلاپ ہو گیا۔۔!!
عروج زمین پر گری غصے سے سرخ چہرہ لیے ریحام کو گھورتی ارحام انصاری سے کہنے لگی تو اُسکی بات سن کر ارحام انصاری اور ریحام نے نفرت سے اسے دیکھا۔۔
“عروج آج کے بعد تُم مجھے اپنی شکل مت دکھانا ورنہ میں قتل کر دونگا تمہارا سمجھی تم۔۔!!
انگلی اٹھا کر اُسے دھمکی دینے کے بعد وہ ریحام کو لے کر کیفے سے باہر نکلا اور عروج اُن دونوں کو نفرت سے وہاں سے نکلتے ہوئے دیکھنے لگی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“ارحام تُم نے اُسے کیوں بچایا۔۔؟؟
کیفے سے باہر نکل کر وہ غصے سے خود کو اُسکے مضبوط حصار سے الگ کرتی چیخ کر بولی تو ارحام انصاری نے اُسے کمر سے پکڑا اور اپنے بے حد نزدیک کرتا اسکے چہرے پر آئے آوارہ لٹوں کو اسکے کان کے پیچھے کرتا وہ اپنے لب اُسکی پیشانی پر رکھ کر اپنی آنکھیں بند کرکے اسکی خوشبو کو محسوس کرنے لگا۔
“میں کچھ پوچھ رہی ہوں۔۔؟؟
اُسے خاموش دیکھ کر وہ اُسے پیچھے کرتی چڑ کر بولی۔۔
“مس میزائیل اگر عروج مر جاتی تو تُم سیدھا جیل میں اور تمہارا شوہر بے چارہ مجبوری میں اپنے والدین کی پسند سے خاندان کی کسی اور لڑکی سے شادی کرتا اور تُم وہاں جیل میں جل بھن رہی ہوتی تو تُمہارے جیل جانے سے بہتر میں نے عروج کو بچانا سمجھا اس طرح تُم میرے پاس ہوتی اور میں دوسری شادی سے بھی بچ گیا۔!!
ارحام انصاری نے اپنے دونوں ہاتھ اُسکے گالوں پر رکھ کر سنیجدگی سے کہا جبکہ اُسکی آنکھیں شرارتی انداز میں اُسکے چہرے پر پھیلتے غصے کی سرخی کو دیکھ رہی تھیں جو اسکی دوسری شادی کا سن کر غصے سے سرخ ہو رہی تھی۔۔
“ارحام اب اگر تُم نے دوسری شادی کا نام بھی میرے سامنے لیا تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑو گی۔۔!!
انگلی اٹھا کر وہ اُسے غصے سے وارننگ دیتی اُسے بے خود کرنے لگی لیکن وہ اسے دھمکی دینے کے بعد آگے اسکی کار کی جانب بڑھی۔۔
“مس میزائیل میری بیوی تو صرف تُم ہو اور ہمشیہ رہوں گی اور اگر کوئی لڑکی میری بیوی بننے کی کوشش کرے گی تو مجھے پتہ ہے تُم اسکا حال عروج سے بھی برا کرو گی۔۔!!
اسے کار کی بونٹ پر بٹھا کر اپنی انگلیاں اُسکے چہرے پر پھیرتے ہوئے گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔۔
ریحام کار کی بونٹ پر بیٹھی اُسے دیکھ رہی تھی اسکی حرکت پر اپنی نظریں جھکا گئی اور ارحام انصاری اسے شرم سے نظریں جھکاتے ہوئے دیکھ کر آگے بڑھا اور اپنے لبوں سے اسکے گلابی لبوں کو نرمی سے چھونے لگا۔۔
“ارحام انصاری یہ کیا کر رہے ہو یہ تمہارا گھر نہیں ہے یہاں لوگ آ جا رہے ہیں اور تُم بے شرموں کی طرح۔۔!!
ریحام اسے خفگی سے پیچھے کرتی منہ بسور کر بولی تو ارحام انصاری ہنستے ہوئے اسکی لبوں پر انگلی پھیرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“وائف ڈارلنگ تو لوگوں کو بھی پتہ چلنا چاہیے کہ تمہارا فائر بریگیڈ صاحب کتنا بے شرم ہے جو نا جگہ دیکھتا ہے اور نا وقت اور شروع ہو جاتا ہے اپنی بے شرمیاں دیکھانے۔۔!!
اپنے دونوں ہاتھ کار کی بونٹ پر اسکے دائیں اور بائیں رکھ کر وہ اُسے پرشوق نظروں سے دیکھنے لگا اور ریحام اسکی نظروں سے خجل ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔
“اب مجھے گھر جانا چاہیے ورنہ بڑے پاپا کو ہمارے بارے میں پتہ چل جائے گا۔۔!!
ریحام کو شاہ بخت اور اذان شاہ کا خیال آیا تو وہ تیزی سے ارحام کی جانب دیکھتی بولی تو ارحام انصاری گہری سانس خارج کرتا پیچھے ہٹا اور اسے نیچے اتار کر اسے لیے کار کی جانب بڑھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“رعابہ بھابھی آئے میں آپکو پارلر چھوڑ کر آتا ہو۔!!
سام نے رعابہ کو باہر نکلتے ہوئے دیکھا تو معصومیت سے اسے دیکھتے ہوئے اسے آفر کرتے ہوئے کہنے لگا تو رعابہ نے تعجب سے اُسے دیکھا جو پارٹی کے لئے بلکل تیار کھڑا تھا۔۔
“نہیں سام میں خود چلی جاؤ گی تم جا کر اذان کو دیکھو وہ تمہیں کب سے ڈھونڈ رہا ہے۔۔!!
رعابہ نے اُسکی بات پر مسکراتے ہوئے کہا۔۔
“میں بگ برو سے مل کر آیا ہو اور انہی کے کہنے پر آپ کو پارلر چھوڑنے جا رہا ہوں۔۔!!
وہ مسکرا کر اُسے دیکھنے لگا جو اُسکی بات پر اپنا سر ہلا کر آگے بڑھی تو سام نے سامنے صوفے کے پیچھے چھپے شام کو پرسرار مسکراہٹ سے دیکھا اور وکٹری کا نشان دیکھا کر رعابہ کے پیچھے بڑھا اور شام وہاں سے اٹھا اور اپنے روم کی جانب بڑھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“سام برو اگر بگ برو کو پتہ چلا کہ ہم نے انکی بیگم کو اغوا کیا ہے نا تو وہ ہمیں سیدھا اپنے فلیٹ پر شفٹ نہیں کرے گے بلکہ اوپر پہنچا دے گے۔۔!!
شام نے ڈرتے ہوئے سامنے روم میں رعابہ کو بے ہوش دیکھا تو سام سے کہنے لگا جو سنجیدگی سے سامنے ٹی وی دیکھ رہا تھا۔۔
“شام ایک بار بس ایک بار انہیں احساس تو کرواؤ کہ بیوی کے بغیر یہ دن کیسا گرزتا ہے تب انہیں ہم دونوں کی فیلنگ کا اندازہ ہوگا۔۔!!
سام نے اپنی نظریں شام کے خوفزدہ چہرے پر گاڑتے ہوئے کہا تو شام اسکی بات پر اب پرسکون ہو کر صوفے پر بیٹھا اور ٹی وی کی جانب دیکھنے لگا۔۔
“سام برو اگر بھابھی کو ہوش آ گیا تو۔؟؟
شام کو پھر سے ایک اور ڈر نے آن گھیرا تو وہ سام سے کہنے لگا جو اسکی بات پر سختی سے اسے دیکھنے لگا۔۔
“شام اگر وہ ہوش میں آئی تو ہم کچھ سوچ کر ان سے بہانہ کر دیں گے اب تُم پلیز خاموش ہو جاؤ اور بگ برو کی ٹیشن کو انجوائے کرنے چلے جاؤ اور مجھے وڈیو بنا کر وائس ایپ کر دینا میں بھی انکی تڑپ دیکھنا چاہتا ہوں۔۔!!
وہ چڑ کر شام سے کہنے لگا پھر مسکرا کر اذان شاہ کے پاس اسے جانے کا کہنے لگا تاکہ شام وہاں جا کر اسکی پریشانی کو انجوائے کر کے اسے بھی وڈیو بنا کر بھیجے وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ رعابہ جب اسے نہیں ملے گی تو وہ کیا کرے گا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“جنگلی بلی اب ابھی جاؤ ورنہ میں خود تمہیں لینے وہاں آ جاؤ گا۔۔!!
اذان شاہ کب سے آفس سے آیا تھا اور اپنے روم میں بیٹھا رعابہ کا انتظار کر رہا تھا کہ وہ بے چینی سے اپنا موبائل جیب سے نکال کر اسے کال کرنے لگا لیکن اسکا نمبر بند دیکھ کر اسے تعجب ہوا پھر وائس ایپ پر ایک وائس بھیج کر وہ اسکی کال کا انتظار کرنے لگا۔۔
“بیوی تُم کہا ہو اور یہ اسکا نمبر کیوں بند جا رہا ہے۔؟؟
وہ اسکے نمبر کو دیکھتے ہوئے خود سے کہنے لگا تو اسے یکدم سے کچھ خطرہ محسوس ہوا تو وہ تیزی سے بیڈ سے اٹھا اور ریحام کے روم کی جانب بڑھا۔
“ریحام یہ تمہاری بھابھی کہاں گئی ہے۔۔؟؟
ریحام کے روم میں داخل ہو کر وہ ریحام کو واش روم سے نکلتے ہوئے دیکھ کر پریشانی سے رعابہ کے بارے میں پوچھنے لگا۔۔
“بھائی وہ تو پارلر کا کہہ کر گئی تھی اور یہ آپ اتنے پریشان کیوں ہے وہ ابھی آ جائے گی۔۔!!
وہ پارٹی کے لئے تیار ہوتی مصروف سے انداز میں بولی تو اذان شاہ نے اسے سخت نظروں سے دیکھا اور اسکے روم سے باہر نکلا جبکہ وہ اسکے روم سے باہر نکلتے ہی ایک گہری سانس لے کر خود کو آئینے میں دیکھنے لگی تو اپنے بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس ارحام کو دیکھ کر وہ گھبراتی ہوئی تیزی سے پیچھے مڑی جو اسکے بیڈ پر بیٹھ کر اسے بغور دیکھ رہا تھا جو بلیک رنگ کی خوبصورت میکسی میں ملبوس اس کے ہوش اڑا رہی تھی۔۔
“ارحام تم یہاں اگر ابھی بھائی نے تمہیں دیکھ لیا ہوتا تو کیا ہوتا ہاں۔۔!!
وہ آگے بڑھ کر اسے غصے سے دیکھتی چیخ کر بولی لیکن پھر یکدم سے اسنے اپنے ہاتھوں کو اپنے منہ پر رکھا اور تیزی سے واش روم کی جانب بھاگی۔
ارحام انصاری اسے اسطرح بھاگتے ہوئے دیکھ کر بیڈ سے اٹھا اور اسکے پیچھے بڑھا جو واش روم میں واش بیسن کے سامنے کھڑی الٹی کر رہی تھی۔۔
“ریحام آر یو اوکے۔۔۔؟؟
وہ تیزی سے آگے بڑھا اور اسکی پیٹھ کو سہلاتے ہوئے پریشانی سے کہنے لگا تو ریحام اپنی آنکھیں موند کر اپنا سر اسکے سینے پر رکھ کر ہاں میں سر ہلانے لگی۔۔
“نہیں مجھے تُم بلکل بھی ٹھیک نہیں لگ رہی ہوں۔۔!!
وہ اُسے اپنی باہوں میں بھرتا تیزی سے واش روم سے باہر نکلا اور اسے لیے بیڈ کی جانب بڑھا اور ریحام جو اسکی باہوں میں سمائی ہوئی تھی وہ اسکی حرکت پر اسے مسکرا کر دیکھنے لگی جو اسکے لئے بہت پریشان لگ رہا تھا۔۔
“مسٹر فائر بریگیڈ صاحب میں اب بلکل ٹھیک ہو بس صبح سے میرا دل تھوڑا سا گھبرا رہا تھا اور مٹلی سی محسوس ہو رہی تھی اور پیٹ میں تکلیف بھی لیکن اب میں بہتر محسوس کر رہی ہوں۔۔!!
وہ اپنی سرخ آنکھیں اُس پر مرکوز کرتی مسکرا کر بولی۔۔
“ایک منٹ یہ سب صبح سے ہو رہا تھا اور تُم نے مجھے بتایا بھی نہیں صبح تو ہم دونوں ساتھ تھے جانم اسی وقت بتا دیتی میں ہاسپٹل لے کر جاتا لیکن تمہیں تو اپنا خیال بھی نہیں ہے اور میرا بھی اگر ابھی مجھے پتہ نا چلتا تو تُم نے خود کو تو بیمار ہی کر دینا تھا۔۔!!
وہ خفگی سے اسے گھورتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“اچھا بابا سوری اب تُم یہاں سے چلے جاؤ کیونکہ گیارہ بجے بڑے پاپا نے سب گھر والوں کو لاؤنج میں بلایا ہے اور ابھی دس بج رہے اور مجھے تیار بھی ہونا ہے۔۔!!
وہ اسے پیچھے کرتی مسکرا کر بولی تو ارحام انصاری نے اسے سخت نظروں سے دیکھا اور اسکی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھ کر پیچھے ہٹا اور کھڑکی کی جانب بڑھنے سے پہلے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“بیوی بہت جلد تمہیں یہاں سے لے کر جاؤ گا اور پھر تمہیں بلکل بھی نہیں چھوڑو گا۔۔!!
وہ بوجھل لہجے میں کہتا کھڑکی کے پٹ کھول کر باہر نکلا اور ریحام اسکی بات پر شرم سے گلال ہوتی اپنا چہرہ سامنے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں دیکھنے لگی جو اسکی بات کی مفہوم سمجھ کر سرخ ہوگیا تھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“شاہ رعابہ پتہ نہیں کہا چلی گئی ہے اب تک گھر نہیں پہنچی ہے میں بہت پریشان ہو پلیز تُم کچھ کرو اسے ڈھونڈنے میں میری مدد کروں۔۔!!
اذان شاہ رعابہ کو پورے گھر میں ڈھونڈنے کے بعد پارلر میں بھی دیکھ آیا تھا جہاں رعابہ گئی تھی مگر وہ اسے وہاں بھی نہیں ملی تو وہ پریشانی سے کار لیے پورے شہر میں اسے ڈھونڈنے نکلا تھا لیکن جب وہ اسے کئی نہیں ملی تو وہ کار اے بی کے مینشن کی جانب روک کر اے بی کو کال کر کے اس کے بارے میں اسے بتانے لگا۔۔
“اذی یار تُم گھر جاؤ وہ خود آ جائے گی اور ویسے بھی میں اس وقت اپنی بیوی کے ساتھ باہر ہو اور شاید اب تک تو بھابھی گھر پہنچ گئی ہوگی اور تُم ابھی تک یہاں ہو اگر انہوں نے تمہیں گھر میں نہ دیکھا تو وہ وہاں پریشان ہو جائے گی۔۔!!
اے بی نے اسکی بات سننے کے بعد آرام سے کہا۔۔
“شاہ ہاں یہ بھی تو ہوسکتا ہے شاید وہ گھر پہنچ گئی ہو اور میں بھی کب کا گھر سے نکلا تھا اب تو بہت دیر ہوگئی ہے اور اب تو بڑے پاپا وہاں لاؤنج میں ہم سب کا ویٹ کر رہے ہوگے۔۔!!
اذان شاہ نے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا تو اے بی اپنے سسسر محترم کا نام سن کر مسکرانے لگا کیونکہ وہ سرپرائز ان دونوں داماد اور سسر نے ہی تو پلان کیا تھا
“ویسے اذی خیر تو ہے نا یہ سسسرِ محترم نے کیوں تُم سب کو تیار ہونے کا کہا ہے وہاں رعابہ بھابھی اور یہاں میری معصوم بیوی پالر میں تیار ہو رہی ہیں اور وہاں تمہیں اور یہاں مجھ بے چارے کو انتظار کی سولی پر لٹکایا اور تڑپایا جا رہا ہے۔۔!!
اے بی کی گھنے مونچھوں تلے دبے عنابی ہونٹ یہ بات کہتے ہوئے مسکرا اٹھے تھے اور اذان شاہ اسکی ایکٹنگ کو سمجھے بغیر اسکی ہاں میں ہاں ملانے لگا۔۔
“شاہ آپ بلکل درست کہہ رہے ہیں بڑے پاپا بھی نا جب کچھ نیا کرتے ہیں تو ہم بے چاروں کو سخت سزا دیتے ہیں اب دیکھو میری بیوی پالر میں تیار ہونے گئی ہے اور اپنا فون نمبر بھی بند کر کے اب میں کب سے کال کر رہا ہو لیکن نمبر بند مل رہا ہے۔۔!!
وہ خفگی سے کار ڈرائیو کرتے ہوئے کہنے لگا تو دوسری طرف اے بی اسکی بات پر مسکرایا اور اسے فون بند کرنے کا کہہ کر سامنے تیار کھڑی حور کی جانب بڑھا جو پالر سے نکل رہی تھی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“کنگ ہم اس طرح پارٹی میں جائے گے۔۔؟؟
حور اپنے کپڑوں کو دیکھتی تعجب سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جو اسکائی بیلو جیکٹ کے نیچے وائٹ شرٹ اور بلیو پینٹ میں ملبوس بہت کیوٹ لگ رہی تھی۔۔
اے بی وائٹ شرٹ پر بلیک رنگ کی جینز پہنے اپنے مضبوط کندھوں پر بلیک کلر کی جیکٹ لٹکائے وجاہت کا شہکار لگ رہا تھا۔
“سنو وائٹ یہ اے بی کا اسٹائل ہے اور وہ جب بھی کچھ کرتا ہے نا تو نیا کرتا ہے اور اب تمہیں پتہ ہے کل یہ اسٹائل میرے سارے فینز کاپی کریں گے اور انکے مزاحیہ وڈیو دیکھ کر مجھے بہت مزا آئے گا بیوی کل کیوں نا ہم دونوں ساتھ بیٹھ کر ان سب کی فنی ویڈیوز دیکھیں۔۔!!
وہ مسکرا کر آگے بڑھا اور حور کو اپنے مضبوط بازوؤں میں بھر کر کار کی جانب بڑھا لیکن حور سامنے بہت سارے کیمرے دیکھ کر سہمی اور اسکے چوڑے سینے میں اپنا منہ چھپا کر اسکی شرٹ کو لرزتی ہاتھوں سے سختی سے پکڑنے لگی جبکہ اے بی اپنے سامنے میڈیا والوں کو دیکھ کر غصے سے انہیں گھورنے لگا جو انکی تصویریں کھینچ رہے تھے اسنے حور کو کار کا دروازہ کھول کر آرام سےاندر بٹھایا اور پلٹ کر انہیں دیکھنے لگا۔۔
“اے بی سر آپ پاکستان کب آئے ہیں اور یہ لڑکی کون ہے کیا یہ آپکی گرل فرینڈ ہے۔۔؟؟
“زبان سنبھال کر وہ میری بیوی ہے میری گرل فرینڈ نہیں اور اے بی نے کبھی بھی لڑکیوں کی وجہ سے اپنا ٹائم ویسٹ نہیں کیا ہے ہاں اپنی بیوی پر ضرور میں ٹائم خراب کرنا چاہوں گا۔۔!!
سب کے سوالوں کو تعمل سے جواب دیتے وہ کسی رپوڑٹر کے سوال پر طیش میں آکر آگے بڑھا اور اس رپوٹر کو کالر سے پکڑ کر مکا مارنے لگا۔۔
“اے بی سر۔۔!!
بھاٹیا جی جو دوسری گاڑی میں اے بی کے گارڈز کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا وہ اپنے باس کو کسی رپورٹر پر غصہ نکالتے ہوئے دیکھ کر تیزی سے کار سے باہر نکلا اور اسے قابو کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“بھاٹیا جی ان سب کو یہاں سے چلتا کر دو ورنہ میں آپ کو اوپر بھیج دو گا میرا سارا موڈ خراب کر دیا انکی بکواس نے اب اگر یہ مجھے دوبارہ نظر آیا نا تو میں خود اسے مار دو گا۔۔!!
غصے سے اس رپورٹر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ بھاٹیا جی سے کہنے لگا جو اس رپورٹر کو ترحم بھری نظروں سے دیکھنے لگا کیونکہ اے بی کی نظروں سے غائب کرنے کا مطلب تھا اسے اس نیوز چینل کے مالک سے کہہ کر نوکری سے نکالنے کا تھا۔۔
“کنگ یہ آپ کیا کر رہے ہیں وہ بے چارہ شاید اکلوتا بیٹا ہو اپنے والدین کا اور ہوسکتا ہے وہ اکیلا اپنے گھر کے لیے کماتا ہوں۔۔!!
حور نے اسے دیکھا جو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اسے نرمی سے دیکھ رہا تھا اب اس کے چہرے پر غصے کی جگہ نرمی نے لے لیا تھا کیونکہ وہ سب کے لیے بھلے ایک کھڑوس اسٹار تھا لیکن اپنی حور کے لئے وہ صرف سویٹ شوہر تھا۔۔
“بیوی تُمہارے لیے میں نے اس بے چارے کو بخش دیا ورنہ اسکی بات پر میں تو اسے قتل کرنا کا سوچ رہا تھا لیکن تمہاری سفارش کی وجہ سے وہ بچ گیا۔۔!!
حور کے چہرے پر آئے بالوں کو نرمی سے کان کے پیچھے کرتا سنیجدگی سے بولا جبکہ حور اسکی قتل والی بات پر اسے خفگی سے دیکھنے لگی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“شام اب لگتا ہے اپنے دیوانے بھائی کو اپنی زوجہ سے ملا ہی دینا چاہیے۔۔!!
سام اذان شاہ کی وڈیو کو دیکھتے ہوئے شام کو وائس میسج کرتے ہوئے کہنے لگا وڈیو میں اذان شاہ کو پاگلوں کی طرح پورے گھر میں اور پھر پارلر میں ڈھونڈتے ہوئے دیکھ کر وہ اس پر رحم کھا کر یہ بڑا فیصلہ کرنے پر مجبور ہو گیا تھا کہ اسے رعابہ کا پتہ بتا دینا چاہیے۔۔
“سام برو بلکل وہ تو بہت پاگل ہو گئے ہیں رعابہ بھابھی کو گھر میں پارلر میں نا پاکر اب وہ گھر سے باہر پتہ نہیں کہا چلے گئے ہیں۔!!
شام کو اذان شاہ کی حالت جب دیکھی نہ گئی جا تو اسنے سام کو جلدی سے اذان کی وڈیو بنا کر اسے وائس ایپ کیا تو تھوڑی دیر بعد سام کا وائس میسج سن کر وہ کہنے لگا۔۔
“ٹھیک ہے میں رعابہ بھابھی کو تب تک منا کر لے کر آتا ہوں جب تک تم بگ برو کو سنبھالنا۔۔!!
شام نے دوسرا وائس میسج اسے بھیجا اور روم کی جانب بڑھا جہاں ایک بیوٹیشن رعابہ کو تیار کر رہی تھی اسنے مشکل سے رعابہ کو یہ کہہ کر منایا تھا کہ وہ بگ برو سے چھوٹا سا مزاق کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھی ان دونوں کی شرارت میں خوشی خوشی شامل ہوگئی اور وہ بھی تو دیکھنا چاہتی تھی کہ اذان شاہ اسکی گم شدگی میں کیا کرے گا لیکن اب وڈیو دیکھ کر وہ خود بھی بہت ٹیشن میں چلی گئی کہ جب اذان شاہ کو انکی شرارت کا پتہ چلا تو ان تینوں کی خیر نہیں ہے۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“حامی یہ تُم نے اچھا نہیں کیا بلکل بھی نہیں میں بہت پیار کرتی ہو تم سے اور تُم نے اس لڑکی کو چنا کیوں کیا تم نے ایسا بولو کیوں۔۔؟؟
عروج غصے سے اپنے روم میں داخل ہو کر سامنے دیوار پر لگے ارحام انصاری تصویروں کو وہ دیوانگی کی سی کیفیت میں دیکھتی آگے بڑھی اور پھر ریحام کو سوچ کر وہ شدید غصے سے چیخ کر بولی۔
“چھین لوں گی میں حامی اسے تُم سے اگر تُم میرے نہیں ہو سکتے تو میں اسے بھی تمہارا ہونے نہیں دونگی جیسے تُم نے مجھے تڑپایا ہے نا اُسی طرح اب تٗم بھی پل پل اسکے لئے تڑپوں گے ہاہاہاہاہاہا۔۔!!
وہ جنونی انداز میں قہقہہ لگاتے ہوئے نفرت سے ریحام کا نام لیتی چیخ کر بولی نظریں ہنوز سامنے ارحام انصاری کی تصویروں پر جمی ہوئی تھی۔۔
“تُمہیں پتہ ہے حامی جب تُم اُس لڑکی کو پیار سے چھوتے ہو نا تو میری نفرت اُس لڑکی کے ساتھ اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔۔!!
تمہیں اسکے ساتھ ہنستے ہوئے جب میں نے پہلی بار اس کلب میں دیکھا تھا تب میرا دل بہت زیادہ جلا تھا اور دل اس لڑکی کو اسی وقت ختم کرنے کا چا رہا تھا۔۔!!
لیکن پھر میں نے تمہارے کمرے میں تم دونوں کا نکاح نامہ دیکھا پہلے تو میرا دل چاہا نکاح نامے کو آگ لگا دو مگر مجھے پتہ تھا کہ تم اصلی نکاح نامہ کو کبھی بھی اپنے روم میں اس طرح نہیں رکھ سکتے ہو اور پھر میرے دماغ میں ایک پلان آیا۔۔!!
“تُم دونوں کو جدا کرنے کے لیے میں نے تمہاری بیوی کے سائن کی پریکٹس کی تاکہ تم اس سے بدگمان ہو کر اسے طلاق دو لیکن آج تمہیں اس کے ساتھ کیفے میں ہنستے ہوئے دیکھا تو بہت غصہ آیا اپنے پلان کے فلاپ ہونے پر اب میں حامی وہ کرو گی جس کا تُم نے کبھی سوچا نہیں ہوگا۔۔!!
وہ پرُسرار انداز میں مسکرا کر ارحام کی تصویر کو دیوانگی سے دیکھتے ہوئے چھو کر جنونی انداز میں کہنے لگی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
