Ishq E Junoon By Sumyia Baloch Readelle50186 Episode 29
No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
“آپ مجھے اس طرح کیوں اٹھا کر لائے ہیں۔؟؟
حور نے غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہا جو اسے کورٹ میں لا کر اب سکون سے وکیل کے روم میں بیٹھا سگریٹ منہ میں دبائے بے زاری سے وکیل کا انتظار کر رہا تھا اذان شاہ کے بارے میں اسے کل ہی پتہ چلا تھا کہ اسے اسکے بڑے پاپا نے اسکے سالگرہ کے موقع پر اسے تحفے کی طور پر باہر کسی ملک میں بھیجا تھا اپنے ماں باپ کے ساتھ اور یہ بات بہرام شاہ کو جب پتہ چلا تو اسنے حور کو صبح ہی اسکے گھر سے باہر نکلتے ہی جو عموما وہ پارک میں جاتی تھی اٹھا لیا تھا اور اب یہاں اس سے کورٹ میرج کرنے والا تھا۔
“اپنی کوئین بنانے کے لیے۔۔!!
سگریٹ نیچے پھینک کر وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
“وہاٹ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔؟؟
حور جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی
“وہیں جو آپ نے سنا۔۔!!
اُسے بغور دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو حور تیزی سے دروازے کی جانب بڑھی لیکن اُسکی سختی سے کلائی سے پکڑنے پر وہ غصے سے پلٹی لیکن اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ کر وہ خوفزدہ ہوگئی کیونکہ وہ سرخ آنکھیں لئے اسے غصے سے گھور رہا تھا۔۔
“جب تک تُم میری کوئین نہیں بن جاتی یہاں سے باہر نہیں نکل سکتی مس حوریہ شاه بخت۔۔!!
کمر پر ہاتھ ڈال کر اُسے اپنے بے حد نزدیک کرتا سنجیدگی سے بولا۔۔
حور اُسکے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے خوف سے کانپ رہی تھی اور نظریں نیچے جھکائے روم کے ٹوٹے اور گندے فرش کو دیکھ رہی تھی۔۔
“شیر یہ وکیل بہت زیادہ میں میں کر رہا تھا اسکو میں اپنے طریقے سے اٹھا کر لایا ہو چل بے کھڑے کیا دیکھ رہے ہو میرے یار کی شادی کروا دو ورنہ تمہارے گھر میں تمہاری میت پہنچا دے گے۔۔!!
زریاب خان وکیل کو گردن سے پکڑ کر اندر داخل ہوا تو اسنے حور کو خود سے الگ کیا اور اسے لئے صوفے کی جانب بڑھا۔
“ہاں بے وکیل صاحب کیوں انکار کر رہے تھے۔۔؟؟
سامنے ٹیبل پر اپنے دونوں پاؤں رکھ کر حور کو اپنے بلکل قریب کرتے ہوئے وکیل سے پوچھنے لگا جبکہ زریاب خان وکیل کے سامنے ریوالور تانے کھڑا تھا۔
“وہ شادی ایسے تھوڑی ہوتی ہے گواہوں کی بھی تو ضرورت ہوتی ہے۔۔!!
وکیل نے اپنا گلا تر کرتے ہوئے کہا تو اے بی نے حور کے کندھوں سے اپنا ہاتھ ہٹایا اور ٹیبل کے اوپر سے اپنے دونوں پیر ہٹا کر نیچے رکھ کر صوفے سے اٹھا اور وکیل کی جانب بڑھا جو اسے اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر ڈرنے لگا تھا۔۔
“وکیل صاحب گواہوں کا بندوبست ہو جائے گا ابھی اور اسی وقت میرے دو دوست اور آ جائے گے۔۔۔!!
جیب سے سگریٹ نکال کر شلگا کر اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جو بری طرح سے کانپ رہا تھا۔۔
“ٹھیک ہے جلدی ان دونوں کو بلائیں کیونکہ کورٹ بس دو گھنٹے بعد بند ہونے والا ہے۔۔!!
وکیل کی بات پر وہ زریاب خان کی جانب مڑا اور اسے دیکھنے لگا جو اسی کی جانب متوجہ تھا۔۔
“تم یہی روکو میں ابھی آتا ہو ان دونوں کو فون کر کے ۔۔!!
زریاب خان کو کہتے ہوئے وہ حور کی جانب دیکھنے لگا جو صوفے پر سر جھکائے بیٹھی ہوئی تھی اسے دیکھنے کے بعد وہ باہر نکلا اور اپنے دوست کو فون ملایا جسنے ایک منٹ میں اسکا کال اٹھایا تو اسنے اسے کورٹ میں بلایا اور اسکا جواب سنے بغیر اسنے کال کاٹ کر واپس روم کی جانب اپنے قدم بڑھائے۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“یار یہ ٹھیک نہیں ہے وہ ابھی بہت چھوٹی ہے اور تُم بھی اتنے بڑے نہیں ہوئے کے شادی کرو اور انکل آنٹی کو بتایا ہے اپنی شادی کے بارے میں اور اس لڑکی کے ماں باپ کو اور یہ شخص کیا کر رہا ہے تمہارے ساتھ یہ ہمارے کالج کا بدمعاش لڑکا ہے پھر بھی تم اس کی باتوں میں آگئے یار یہ ایک مطلبی لڑکا ہے اور دیکھنا یہ کسی دن تمہیں اپنی اصلیت دکھا کر رہے گا ۔۔!!
جاسم نے اُسے سائیڈ پر کرتا وہ حور کی جانب اشاره کرتے ہوئے کہ کر آخر میں حقارت سے زریاب خان کی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔۔
“جاسم یار تُم گواه بنو اور یہاں سے رفوچکر ہو جاؤ ورنہ میں تمہارا حال بھی باقی لڑکوں کی طرح کر دونگا جن کا چہرہ میں نے بگاڑا ہے تیزاب پھینک کر اور ہاں میں اپنے دوست کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں سنو گا اگر میری مجبوری نہیں ہوتی تو میں تمہیں اور تمہارے اس چھوٹے بھائی کو کبھی بھی نہیں بلاتا۔۔!!
انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتے ہوئے آخر میں اسکے چھوٹے بھائی کی جانب شرارت سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جو اذان شاہ کی عمر کا تھا سترہ سال کا اور اس سے سخت چڑتا تھا۔
“میرے بھائی کو دھمکی دینے سے پہلے اپنی مجبوری کا ضرور سوچ لینا مسٹر ورنہ میں بھی یہاں موجود ہو ایک منٹ میں اس لڑکی کے باپ کو انفارم کر دو گا پھر تمہاری شادی نہیں جنازه اٹھے گا۔۔۔!!
اپنی سرخ آنکھیں اے بی کے وجیہہ چہرے پر گھاڑتے ہوئے کہنے لگا تو اے بی اسکے مقابل کھڑا ہوا اور اُسے سر سے پیر تک دیکھنے لگا پھر زور دار قہقہہ لگاتے ہوئے یکدم سے وہ اپنے چہرے پر سخت تاثرات لا کر اسے کالر سے پکڑ کر اوپر اٹھاتے ہوئے بولا۔۔
“زیادہ سے زیادہ کیا کریں گا وہ گولی سے مار دے گا تو مار دیں مجھے کوئی پرواہ نہیں اور کیا وہ اتنی پہنچی ہوئی چیز ہے جو اے بی اس سے ڈر کر شادی نہیں کرے گا۔۔!!
کالر کو سختی سے دبوچ کر سرد لہجے میں کہنے لگا جبکہ ارحام اسکی بات پر طنزیہ انداز میں مسکرانے لگا اور پیچھے کھڑے زریاب خان کو دیکھنے لگا جو اب خوفزدہ لگ رہا ہے۔۔
“ہاں بہت بڑی پہنچی ہوئی چیز ہے کیوں زریاب خان۔۔؟؟
اُسکا مقصد زریاب خان کو ڈرانا تھا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوا کیونکہ وہ اب ڈر کے مارے کانپ رہا تھا لیکن ان سب کی بات کو وکیل صاحب کی بے زار آواز نے ختم کیا وہ کب سے یہ تماشا دیکھ رہے تھے اور پھر وقت بس کم رہ گیا تھا اور یہ لوگ لڑ رہے تھے یہ دیکھ کر اسے غصہ بھی آیا لیکن اے بی کے سخت تاثرات دیکھ کر وہ غصہ بھول کر اسے کورٹ کے بند ہونے کا کہنے لگا۔۔
“اے لڑکے پاگل ہوگئے ہو تم لوگ جلدی کرو کورٹ کا ٹائم بس ختم ہونے والا ہے اور یہ لڑائی شادی کے بعد باہر جاکر کر لینا۔۔!!
وکیل نے بے زاری سے کہہ کر اپنے سامنے ایک فائل رکھا اور ان لوگوں کو دیکھنے لگا جو ایک دوسرے کو غصے سے دیکھ رہے تھے۔۔
اے بی صوفے کی جانب بڑھا اور حور کو کمر سے پکڑ کر اوپر اٹھا کر اپنے بے حد نزدیک کرتے ہوئے وکیل کے ٹیبل کے سامنے رکھی کرسی پر اسے بٹھا کر وہ خود دوسری کرسی پر بیٹھا اور وکیل کے آگے فائل رکھنے پر اسنے سامنے سے پین اٹھایا اور اپنے سائن کرنے لگا پھر حور کی جانب پین بڑھا کر اسے سائن کرنے کا کہنے لگا تو وہ ڈرتی ہوئی اسکے سخت چہرے کو دیکھتی مشکل سے ان پیپر پر اپنے سائن کرنے لگی پھر گواہوں کے سائن کے بعد اے بی اٹھا اور حور کو اپنی بازؤوں میں بھرتے ہوئے روم سے باہر نکلا اور اسکی بے باکی پر جاسم نے تاسف سے اپنے دوست کو دیکھا مگر ارحام نے زریاب خان کو سخت نظروں سے گھورا اور اپنے بھائی کے ساتھ باہر نکلا جبکہ زریاب خان انکے باہر نکلتے ہی تیزی سے ڈرتے ہوئے اپنے جیب سے موبائل نکال کر لرزتے ہاتھوں سے شاہ بخت کو فون کرنے لگا۔۔
وہ ارحام کی بات سے ڈر گیا تھا اب وہ ان سب میں خود کو بلکل بھی نہیں پھسانا چاہتا تھا اور شاه بخت کو بتانے کے بعد یہ شہر چھوڑ کر کسی اور شہر میں بھاگنا چاہتا تھا کیونکہ وہ نہیں جانتا تھا کہ اے بی حور کو کہا لے کر گیا ہے لیکن اتنا ضرور جانتا تھا کہ اب وہ اسے بلکل بھی نہیں چھوڑے گا اور اگر شاه بخت کو اسکی بیٹی نہیں ملی تو وہ سب سے پہلے اسکے گھر پر پہنچے گا کیونکہ بہرام شاہ اسکا ہی دوست تھا
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
بہرام شاہ اُسے اپنے گھوڑوں کے اصطبل میں لیں کر آیا تھا جو شازم نے اسکی شوق کو دیکھتے ہوئے اُسکے لئے شہر سے باہر الگ تلگ بنایا تھا۔۔
“کوئین ابھی تو ہم یہاں روکے گے جب تک میں ہماری شادی کے متعلق اپنی اور آپکی فیملی سے بات نہیں کرتا تب تک تُم میرے ساتھ یہی رہو گی۔۔!!
اسکے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے اپنے ہاتھ اُسکے چہرے پر پیھرتے ہوئے وہ سنجیدگی سے کہتا اُس کے بری طرح سے لرزتے ہونٹوں کو دیکھنے لگا جو بری طرح سے لرز رہے تھے یہ دیکھ کر اسے یکدم سے نجانے کیا ہوا کہ وہ کسی ٹرانس کی کیفیت میں آگے بڑھا اور اپنے ہونٹوں کو اُسکے نازک بری طرح سے لرزتے کٹاؤ دار ہونٹوں پر رکھ دیئے اور جب اُسکے ہونٹوں نے حور کے نرم گلزار ہونٹوں کو چھوا تو اسے ایک الگ احساس ہوا اور وہ اُس میں خود کو بہتا ہوا محسوس کرنے لگا۔۔
“یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟
حور پہلی بار کسی مرد کے اسطرح قریب آنے پر اور اسطرح چھونے پر بری طرح سے کانپنے لگی کیونکہ اُس معصوم پری نے صرف اپنے باپ کے شفقت بھرے لمس کے علاوہ کسی اور مرد کا لمس محسوس نہیں کیا تھا اور آج جس طرح اے بی اسکے چہرے کو چھو رہا تھا اسکے لئے ایک انجانا احساس تھا۔۔
“کوئین اسے پیار کہتے ہیں جو ایک کنگ اپنی کوئین کے ساتھ کر رہا ہے۔۔!
وہ اُسے اپنے مضبوط بازؤوں میں بھرتا بوجھل لہجے میں کہتا سامنے بنے چھوٹے سے روم کی جانب بڑھا اور حور اُسکی حرکت پر سرخ ہوتی اپنی آنکھیں زور سے میچتی اپنے نازک ہاتھ اُسکے گردن کے گرد لپیٹے اسکی پرتپش سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کرنے لگی۔۔
روم میں داخل ہو کر وہ اُسے نیچے اتار کر نرمی سے اُسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے گردن سے ہٹا کر اپنا ایک ہاتھ پیچھے لے جاکر اسے کمر سے پکڑ کر اپنے بے حد نزدیک کرتے ہوئے اُسے دیکھنے لگا جو خوف سے کانپ رہی تھی۔۔
“Queen, open your eyes”
وہ اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے چہرے پر پھیرتا ہوا بولا تو حور نےاپنی موڑی ہوئی پلکوں کو آہستگی سے کھولا اور اُسے دیکھا جو سامنے کھڑا اُسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔۔
“آپ بہت برے ہیں۔۔!!
وہ منہ بنا کر غصے سے بولی تو اے بی اسکے منہ بنانے پر زور سے قہقہہ لگا اٹھا اور آگے بڑھ کر اُسے اپنے بے حد قریب کرتے ہوئے شرارتی نظریں اُسکے خوبصورت چہرے پر ڈال کر ذومعنی انداز میں اسے دیکھنے لگا۔۔
“لیکن کوئین تُم بہت خوبصورت ہو۔۔!!
انگلی اُسکے ہونٹوں پر پھیرتا وہ مخمور لہجے میں بولا تو حور اپنے ہونٹوں پر اسکی لمس محسوس کرتی شرم سے اپنی نظریں نیچے جھکانے لگی۔۔
“اور آپ ایک بیسٹ ہے جسنے مجھے قید کیا ہے بلکل بیوٹی کے بیسٹ کی طرح اور اب مجھے آپ اس کھڑوس کی طرح ڈرائے گے۔۔!!
وہ گھبراتے ہوئے کہنے لگی تو اے بی اُس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھنے لگا جو اپنے عمر کے حساب سے کہہ رہی تھی یہ دیکھ کر اُسنے اسے بچوں کی طرح ٹریٹ کرنے کا سوچا اور اُسے گود میں اٹھا کر اُسے لیے روم کے دوسری جانب رکھے صوفوں کی جانب بڑھا اور ایک پر بیٹھ کر اسے اپنی تائی پر بٹھا کر اُسنے باری باری اسکے دونوں گالوں کو چھوا اور محبت سے کہنے لگا۔۔
“بے بی ڈول بیسٹ بھی تو پہلے ایک کنگ تھا بعد میں ایک بد صورت خطرناک بیسٹ بنا تھا اور پھر ایک دن اُسے اُسکی بیوٹی مل گئی تھی تو وہ ایک بیسٹ سے ایک سویٹ اور ہینڈسم کنگ بن گیا تھا اور اب آپکا بیسٹ بھی ایک سویٹ ائینڈ ہینڈسم کنگ بن گیا ہے صرف اپنی بیوٹی کے لئے ایک خوبصورت بیسٹ جو صرف اسکا ہے۔۔!!
اُسکی نازک گردن سے آہستگی سے اُسکے ریشمی بالوں کو ہٹا کر اُسنے اپنا گرم لمس چھوڑا تو اپنی گردن پر وہ وہ اسکی گرم لمس محسوس کرتی بری طرح سے مچلنے لگی اور خود کو اُس سے الگ کرنے لگی جبکہ بہرام اُسکی بلیک رنگ کی فراک کو آہستگی سے اُسکے شولڈر سے ہٹا کر اپنے لبوں کو اُسکی نازک شولڈر پر رکھتے ہوئے اُسے کپکپانے پر مجبور کر گیا تھا۔۔
حور ابکے بری طرح سے ڈرنے لگی کیونکہ وہ اب اتنی بھی ناسمجھ نہیں تھی جو ناسمجھتی اور وہ اچھے سے جانتی تھی کہ جب ایک مرد اور عورت تنہا ہو تو تیسرا شیطان اُنہیں اس تنہائی میں کچھ غلط کرنے کے لئے ضرور بہکاتا ہے تبھی اُسے کچھ سمجھ نہ آیا تو اُسکے پرتپش لمس پر بری طرح سے آنسو بہانے لگی تو بہرام شاہ صوفے سے اٹھا اور اُسے صوفے پر بیٹھا کر خود نیچے فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھا اور آگے جھک کر اُسکے آنسوؤں کو اپنے ہونٹوں سے چننے لگا۔۔
“آپ مجھے گھر چھوڑ دے مم۔میں یہاں آپ کے ساتھ اکیلی نہیں رہ سکتی پلیز ۔۔!!
آنسو بہاتی وہ اُسے دیکھتی ہوئی بولی تو اے بی مسکرایا اور اُسے سینے سے لگا کر اُسے پرسکون کرتے ہوئے کہنے لگا۔
“کوئین یہ اب ناممکن ہے اب تُم ہمشیہ میرے ساتھ رہو گی تمہارا رشتہ صرف اب میرے ساتھ جوڑا ہے وہ سب تمہارے اپنے نہیں ہے انہیں بھول جاؤ کیونکہ تُم صرف اپنے کنگ کی ہو۔!!
اپنے سینے پر رکھے اُسکے سر پر اپنا ہاتھ رکھ کر نرمی سے اُسکے بالوں پر ہاتھ پیھرتے ہوئے کہنے لگا تو حور تیزی سے اپنا سر اُسکے سینے سے اٹھا کر اُسے غصے سے دیکھنے لگی۔
“آپ پاگل تو نہیں ہوگئے ہیں میں بھلا کیسے اپنی فیملی کو بھول جاؤ اور آپ ہوتے کون ہے مجھے اُن سے دور کرنے والے اور ہاں مم۔میں یہاں سے بھاگ جاؤ گی۔۔”
سختی سے اپنے آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو صاف کرتی وہ بری طرح سے گھورتی اُسے بولی تو اُسکی بات پر اے بی کو پہلی بار اس پر سخت غصہ آیا تو یکدم سے اُسنے غصے سے اپنے دونوں ہاتھ صوفے کے ہتھے پر رکھے اور پھر اُسکے اوپر جھک کر اُسے اپنی غضبناک نظروں سے دیکھنے لگا جسکا چہرہ رونے کی وجہ سے سرخ ہو گیا تھا۔۔
“ابھی تھوڑی دیر پہلے تُم نے کورٹ میں کن کاغذات پر اپنے سائن کئے تھے کوئین۔۔!!
غصیلی آنکھیں اُسکے چہرے پر گھاڑتے ہوئے وہ سنجیدگی سے اس سے پوچھنے لگا تو حور اُسکی سرخ نظروں سے گھبراتی ہوئی صوفے پر خوف کے مارے بری طرح سے روتی اس سے پیچھے ہٹنے کی کوشش میں صوفے کی پشت سے جا کر ٹکرائی۔
“مم۔میرج پیپرز پر۔۔!!
بری طرح سے کانپتی وہ سرگوشی نما آواز میں بولی۔۔
“تو مائے کوئین اب تُمہیں جواب مل گیا نا کہ میں تمہارا ہوتا کون ہو۔۔!!
وہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔
یکدم سے اُسکے سپاٹ اور سنجیده چہرے پر مسکراہٹ سجا تو حور نے اُس شخص کے الگ روپ کو تعجب سے دیکھا جو کبھی سخت تو کبھی نرم پڑ جاتا تھا ابکے وہ اُسے نرمی سے دیکھ رہا تھا۔
وہ جو اُسے محبت سے دیکھ رہا تھا اپنے فون کی رنگ ٹون پر بدمزہ ہو کر جیب سے فون نکال کر نمبر دیکھنے لگا جو زریاب خان کا تھا۔۔
“کوئین میں ابھی آتا ہو جب تک تُم اپنے آنسو صاف کرو اور اپنا منہ دھو کر اچھے سے تیار ہو جاؤ اگر میں واپس آیا اور تمہیں اسی طرح دیکھا تو پھر میں یہ کام خود انجام دونگا تمہیں اچھے سے تیار کرنے والا کام جو میرے لئے بلکل بھی مشکل نہیں ہے۔!!
باہر جانے سے پہلے وہ اُسے دھمکی دینا نا بھولا تو حور اُسکی دھمکی پر جلدی سے اندر واش روم کی جانب بڑھی جبکہ اے بی اسکی تیزی پر خوبصورتی سے مسکرایا اور روم سے باہر نکلا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“شیر مم۔مجھ سے ایک گڑبڑ ہوگئی ہے۔۔!!
اے بی روم سے باہر نکل کر فون کان سے لگا کر دوسری جانب موجود زریاب خان کی بات سننے لگا جو سخت گھبرایا ہوا لگ رہا تھا۔۔
“وہ کیا خان۔۔؟؟
“شیر میں نے تمہارے دوست کے بھائی کی بات سن کر اُس لڑکی کے باپ کو میں نے ڈر کے مارے فون کر دیا ہے کورٹ سے نکل کر اور وہ تُمہیں اب پاگلوں کی طرح پورے شہر میں ڈھونڈ رہا ہے۔۔!!
تعجب سے اُسنے کہا تو دوسری جانب زریاب خان نے جو کہا اُسے سن کر اُسے زریاب خان پر سخت تاؤ آیا تو وہ غصے سے کہنے لگا۔۔۔
“خان ،خان افففففف یہ تُم نے کیا کر دیا۔۔!!
پریشانی سے اُسنے اپنے سلکی بالوں پر ہاتھ چلایا جبکہ اُسکی پریشان آواز سن کر ابکے دوسری جانب زریاب خان خباثت سے مسکرا رہا تھا اُسنے اپنا کام جو کر دیا تھا کیونکہ اب اُسے بہرام شاہ کی بلکل بھی ضرورت نہیں تھی وہ اب برائی کی دنیا میں اتنا آگے بڑھ گیا تھا کہ اُسے کسی کی ضرورت نہیں تھی خاص کر بہرام شاہ کی جسنے اُسے اس مقام تک پہنچایا تھا۔۔
“شیر میں بھی کیا کرتا وہ تمہارے بارے میں پوچھنے لگا تو میں نے سب کچھ سچ بتا دیا لیکن تُم فکر مت کرو تُم جہاں ہو مجھے اپنا پتہ بتاؤ میں اپنے آدمیوں کے ساتھ وہاں پہنچ کر تمہیں اور بھابھی کو نکالتا ہو۔۔!!
وہ اپنی آواز میں ڈر پیدا کرتا ڈرامائی انداز میں اُسکا پتہ پوچھنے لگا وہ جانتا تھا کہ بہرام شاہ اُسکے اوپر اپنے باپ سے بھی زیادہ بھروسہ کرتا ہے اور یہی ہوا تھا اُسکے پتہ پوچھنے پر بہرام نے اپنے اصطبل کے بارے میں اُسے بتایا۔۔
“اوکے شیر تُم وہیں پر ہمارا ویٹ کرو ہم لوگ بہت جلد وہاں آکر تُمہیں اور بھابھی کو نکال کر اپنے ساتھ لے جائے گے۔۔!!
مکروہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر وہ اپنے سامنے بیٹھے شاه بخت کو دیکھنے لگا جو بہرام شاہ کی آواز پر اپنی مٹھیاں سختی سے بھینچ رہا تھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“خان تُم آگئے۔۔!!
ایک گھنٹے بعد باہر دروازه زور سے پھیٹنے کی آواز پر وہ آگے بڑھا اور دروازه کھول کر باہر دیکھے بغیر بولا جبکہ باہر زریاب خان اور بلند عالم کے آگے کھڑا اُسے سخت نظروں سے گھورتے ہوئے شاه بخت نے اپنے قدم اندر رکھے اور بلند عالم کو اُسے پیچھے سے پکڑنے کا کہتا وہ حور کو ڈھونڈنے لگا۔۔
“تمہاری اتنی جرات لڑکے جو تُم نے میری بیٹی کو اغوا کیا۔۔!
اُسکے سامنے آکر اُسے سنجیدگی سے دیکھتا وہ سرد لہجے میں بولا۔۔
بہرام شاہ جو بلند عالم کی گرفت سے اپنی گردن کو غصے سے نکال رہا تھا اُسنے زریاب خان کو سختی سے گھورا جس نے دوست ہو کر اُسے دھوکہ دیا تھا۔۔
“سسسرِ محترم تصحیح کر لیں کیونکہ وہ آپ کی بیٹی پہلے تھی اب وہ صرف بہرام شاہ کی بیوی ہے۔۔!!
شاہ بخت کے وجیہہ چہرے کو طنزیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ بولا تو اُسکی بات پر شاه بخت نے زریاب خان کی جانب دیکھا جو اُسکے سختی سے دیکھنے پر اپنا سر ہاں میں ہلانے لگا۔۔
“یہ بات آپ اُس زلیل دھوکے باز انسان سے مت پوچھے بلکہ اپنے داماد سے پوچھیں کیونکہ میں آپکو ثبوت بھی دیکھاؤ گا۔۔!!
زریاب خان کو حقارت سے دیکھتے ہوئے وہ سرد لہجے میں کہنے لگا جبکہ زریاب خان اُسکی بات پر پہلوں بدلنے لگا۔۔
“لڑکے اپنی بکواس بند کروں اور جیسے ان پیپرز پر سائن کیا ہے طلاق کے پیپرز پر بھی تُمہیں سائن کرنے ہوگے ورنہ میں تُمہیں مار کر بھی اپنی بیٹی کا نام تمہارے نام سے جدا کرنا اچھے سے جانتا ہو۔۔!!
شاہ بخت نے اُسے وارننگ دیتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ اُنکی بات پر اپنی مٹھیاں سختی سے کھسنے لگا۔۔
“آپ مجھے مار دے لیکن میں اپنی بیوی کو کسی بھی حال میں طلاق نہیں دونگا۔۔!!
سرخ آنکھیں تینوں پر گھاڑتا وہ شدت سے چلایا جبکہ اُسکی آواز سن کر اندر بیٹھی حور بری طرح سے کانپنے لگی۔
“عالم جاؤ اِسے دیکھو میں اندر جا کر حور کو دیکھتا ہو وہ یہی ہوگی اس لڑکے نے اسے یہی چھپایا ہوگا۔۔!!
اے بی کو سخت نظروں سے گھورتا وہ بلند عالم سے بولا تو بلند عالم اے بی کی جانب بڑھا جبکہ اے بی طلاق کا سوچ کر ڈرنے لگا کہ کئی وہ لوگ اسکی حور کو اس سے دور نہ کر دے تبھی اچانک سے شاه بخت کو دیکھتے ہوئے اُسنے زریاب خان کو جو اُسکے دائیں جانب کھڑا تھا کندھوں سے پکڑ کر بلند عالم کی جانب دھکا دیتے ہوئے دروازے کی جانب تیزی سے بڑھا۔۔
“سسسرِ محترم میں جب تک زنده ہو اپنی بیوی کو خود سے الگ ہونے کبھی نہیں دونگا۔۔!!
دروازے کی جانب پہنچ کر اُسنے باہر سے دروازه بند کرتے ہوئے چیخ کر کہا اور وہاں سے بھاگا جبکہ اندر بلند عالم زریاب خان کو اپنے اوپر سے ہٹا کر تیزی سے دروازے کی جانب بڑھا اور زور سے دروازه کھولنے کی کوشش کرنے لگا لیکن باہر سے بند ہونے کی وجہ سے وہ مایوسی سے پیچھے مڑا تو اپنے سامنے شاه بخت اور حور کو دیکھ کر تیزی سے آگے بڑھا۔۔
“عالم معاذی کو کال کروں اور اسے یہاں کا پتہ بتاؤ سعدی اذان بچے کے ساتھ لندن گیا ہے اب ہم وہیں شفٹ ہونگے یہ لڑکا کسی دن ضرور آئے گا لیکن ہمیں اسے موقع نہیں دینا ہے۔!!
سنجیدگی سے کہتا وہ حور کو اپنے سینے سے لگا کر سامنے رکھے صوفے پر بیٹھا جبکہ زریاب خان ان دونوں کے ساتھ اس اصطبل میں خود کو اکیلے پاکر اب ان سے ڈرنے لگا تھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“سسسرِ محترم اُس گھٹیا شخص کی باتوں میں آکر میں یہ سب کرتا تھا لیکن حور کی وجہ سے میں وہ سب چھوڑتا چلا گیا تھا اور جب مجھے اُس گھٹیا انسان کی سچائی کا پتہ چلا تب بہت دیر ہو چکی تھی اور میری حور مجھ سے بہت دور چلی گئی تھی پھر جب مجھے پتہ چلا کہ آپ نے اپنی سبھی فیملی کو لندن شفٹ کیا ہے تو میں پھر سے ڈرگز لینے لگا تھا لیکن ایک دن اذان شاہ مجھے ملا جسے آپ نے یہاں بھیجا تھا لیکن وہ یہاں خود کو بہت اکیلا محسوس کرتا تو وہ روز جس ہاسپٹل میں میرا علاج ہو رہا تھا وہاں آکر ہم جیسے مریضوں کے ساتھ وقت گزارنے لگا وہ ہمیں ڈرگز سے دور کرنا چاہتا تھا۔۔
اور وہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوا تھا اور پھر جب میں نے اُسے اپنی ساری اسٹوری بتائی تو وہ میرا سب سے اچھا دوست بن گیا تھا ہماری دشمنی بھی اسے ہاسپٹل سے شروع ہوئی تھی اور دوستی بھی اور بہت سی ایسی باتیں ہے جو میں آپ سے شئیر نہیں کرسکتا ہو لیکن اگر آپ وہ سب میری زبانی سننا چاہتے ہیں یا مجھے اپنا داماد بنانا چاہتے ہیں جو میں پہلے سے ہو لیکن آپ کی اجازت ابھی بھی مجھے چاہیے مکمل پرموشن کے ساتھ سمجھ گئے ہونگے نا تو یہ نیچے میں اپنا نمبر لکھ رہا ہو اگر آپکی کال آگئی تو میں سمجھو گا آپ نے میری بات مان لیا ہے اور میری پرموشن ہوگئی ہے۔۔!!
شاہ بخت کو ڈائری کے آخری صفحے پر ایک لفافہ ملا تو اسے اٹھا کر چاک کرتے ہوئے اندر لکھے لفظوں کو پڑھتے ہوئے مسکرانے لگا پھر اپنا فون ٹیبل پر سے اٹھا کر اسکا نمبر ملانے لگا۔۔
“کون ہے بے سکون سے مرنے بھی نہیں دیتے ہو بتاؤ اب کیا کام ہے۔۔!!
دوسری طرف کال اٹھا کر اے بی نے بے زاری سے کہا کیونکہ وہ اس وقت زریاب خان کے کارخانے میں کھڑا سب چیزیں کو آہستگی سے جلتے ہوئے دیکھ رہا تھا اپنے فون کی آواز پر بنا نمبر دیکھے فون کان سے لگا کر غصے سے بولا۔۔
“داماد صاحب اگر اتنا ہی مرنے کا شوق ہے تو میرا داماد بن کر ایک ہی مرتبہ مروں یہ بار بار مرنے سے تو اچھا ہے۔۔!!
دوسری جانب شاه بخت کی طنزیہ آواز پر وہ خوشگوار انداز میں فون کان سے ہٹا کر نمبر دیکھنے لگا پھر دوباره فون کان سے لگا کر کہنے لگا۔
“سسسرِ محترم آپ نے سچ میں اپنے اِس ناچیز داماد کو فون کیا ہے اپنا بیٹا بنانے کے لیے۔۔!!
وہ تعجب سے بولا۔
“نہیں صرف داماد میرے پاس پہلے سے ہی تین بیٹے ہیں اب ایک اور نہیں چاہیے تُم داماد ہی بہتر ہو۔۔!!
شاہ بخت نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“لیکن سسسرِ محترم آپکا داماد ابھی زخمی حالت میں آپکو ملے گا تو کیا آپ کو قبول ہے۔۔؟؟
شرارتی لہجے میں کہتا وہ لڑکھڑاتے قدموں سے کارخانے سے باہر نکلا اور سامنے کھڑے کار کی جانب بڑھا جو شاید اذان شاہ نے اسکے لئے چھوڑا تھا۔
“اگر میری بیٹی کو پسند آیا تو مجھے بھی اپنا یہ داماد ہر حالت میں قبول ہے۔۔!!
شاہ بخت نے بھی شرارتی لہجے میں کہا تو اسکی بات سن کر دوسری جانب اے بی جو کار زریاب خان کے کارخانے سے نکال کر روڈ پر ڈرائیونگ کر رہا تھا وہ زور سے قہقہہ لگانے لگا۔۔
وہ ڈرگز کی وجہ سے ڈرائیونگ مشکل سے کر پا رہا تھا کہ تبھی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے کی وجہ سے سامنے سے آتے ویگن کو دیکھ نا سکا اور یکدم سے زور دار دھماکہ ہوا تو اُسکے ہاتھ سے فون نیچے گرا اور وہ اپنے حواس کھو کر سر اسٹرینگ پر گرا گیا تھا۔
“بہرام بچے آپ ٹھیک تو ہے یہ اتنا بڑا دھماکہ۔۔!!
شاہ بخت زور دار آواز سن کر اپنی جگہ سے اٹھا اور اسے آوازیں دینے لگا لیکن کال کاٹنے کی وجہ سے وہ پریشانی سے اُسے دوباره کال ملانے لگا لیکن کوئی فائدہ نہیں اب اسکا فون سوئچ آف آ رہا تھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“ایجنٹ۔! زریاب خان کے کارخانے میں ہمارے نوجوانوں کو مارخور کئی نہیں ملا ہے اور وہاں صرف زریاب خان کی جلی ہوئی باڈی ملی ہیں مارخور کی نہیں۔۔۔!!
جنرل صاحب نے تاسف سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا جو سر جھکائے ٹیبل پر اپنی انگلی سے تیڑھی لکیرے کھینچ رہا تھا۔
“سر لیکن اس طرح کیسے مارخور وہاں نہیں ملا اب میں انکی کی فیملی کو کیا جواب دونگا۔۔؟؟
اپنی سرخ نگاہوں کو یکدم سے اوپر اٹھا کر اُنہیں دیکھتے ہوئے کہنے لگا جو اسکی بات پر اپنی جگہ سے اٹھے اور اسکی جانب بڑھے۔۔
“مجھے پتہ ہے کہ مارخور کو آپ بہت زیادہ چاہتے ہیں لیکن ینگ مین ہوسکتا ہے وہ بچ گئے ہو اور کارخانے سے باہر نکل گئے ہو یا پھر وہ اور جوان اگر ہم اپنے ملک کے لئے قربانیان نہیں دے گے تو معصوم لوگ زریاب خان جیسے درندوں کی درندگی کا شکار ہو جائے گے۔۔۔!!
انکی بات کو سنجیدگی سے سنتے ہوئے وہ اپنی سرخ نظریں سامنے اپنے فون کی اسکرین کو روشن کرکے بہرام شاہ کی تصویر کو دیکھنے لگا جو مسکرا رہا تھا اور اسے مسکرانا بھی حور اور اسنے اسے سیکھایا تھا اور آج وہ شخص اُنہیں چھوڑ کر چلا گیا تھا ایک الگ جہان میں لیکن اسکی آنکھیں اپنے دل کو مضبوط کرنے کے باوجود بھی یہ غم یاد کرکے نم ہو رہی تھیں۔۔
“سر پہلی بار جب ہم ملے تھے تو ایک دشمن کی طرح لیکن پتہ نہیں تھا کہ کبھی ہم اتنے اچھے دوست بن جائے گے کہ ہم میں سے کسی کے کھونے پر یہ دل پھٹنے لگ جائے گا اور مجھے لگ رہا ہے کہ شاہ کا غم مجھے اندر سے کاٹ رہا ہے میرا دل آہستہ آہستہ پھٹ رہا ہے۔۔!!
وہ موبائل اسکرین کو دھندلی نظروں سے دیکھتا اُن سے کہنے لگا تو انہیں نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر زور سے تھپکی دی اور کرسی اسکے مقابل رکھتے ہوئے بیٹھ کر اسے دیکھنے لگے تبھی انکے فون پر ایک میسج آیا جسے پڑھ کر وہ اذان شاہ کو دیکھنے لگے۔۔۔
“ایجنٹ چلے ہمیں مارخور کے بارے میں پتہ چل گیا ہے۔۔۔!!
وہ ٹیبل سے اپنی کار کی چابی اٹھاتے ہوئے بولے تو اذان شاہ نے انہیں حیرت سے دیکھا پھر اپنی جگہ سے اٹھا اور انکے پیچھے بڑھا جو دروازے کی جانب بڑھ رہے تھے۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
اسے جنرل صاحب جب ہاسپٹل میں لے کر آئے تو وہ ڈھرکتے دل کے ساتھ ہاسپٹل کے اندر انکے پیچھے آہستگی سے چلنے لگا۔
“شازم انکل یہ سب کیا شاه تو ٹھیک ہے نا۔۔۔؟؟
اردگرد بہت سے نیوز چینل والے کھڑے شاید رپورٹ بنا رہے تھے اور وہ یہ سب دیکھ کر اپنی جلتی آنکھوں کو مسل کر جنرل صاحب کو دیکھنے لگا کہ تبھی اسے سامنے شازم اور بھاٹیا نظر آئے تو وہ تیزی سے انکی جانب بڑھا۔۔۔
“بیٹا شاه وہ۔۔۔!!
یہ کہہ کر شازم نے اسے زور سے اپنے سینے سے لگایا تو وہ ساکت رہ گیا کیونکہ اسے ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ اسکا دوست شاہ وہ اسے چھوڑ کر ایسے جاسکتا ہے۔۔
“نہیں انکل ایسا نہیں ہو سکتا مم۔میں اسے دیکھنا چاہتا ہو کہا ہے وہ مجھے دیکھنا ہے انہیں آپ کچھ کہتے کیوں نہیں ہے۔۔۔؟؟
شازم کو زور سے جھنجھوڑتے ہوئے سخت لہجے میں کہنے لگا تبھی بھاٹیا نے آگے بڑھ کر اسے سنبھالا تو اُسنے غصے سے اسے خود سے دور کیا پھر تیزی سے سامنے کھڑے جنرل صاحب سے باتیں کرتے ڈاکٹر کی جانب بڑھا۔۔
“ڈاکٹر میرا بھائی وہ ٹھیک تو ہے نا۔۔!!
اپنی سرخ نگاہوں کو ان پر جما کر وہ پوچھنے لگا تو ڈاکٹر نے آگے بڑھ کر اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگا۔۔
“دیکھیں مسٹر اذان شاہ انکی حالت ڈرگز کی مقدار زیادہ لینے کی وجہ سے اتنی سیریس ہے کہ یہ چوبیس گھٹنے انکے لئے اہم ہے اور شکر کرے کہ ایکسیڈنٹ اتنا بڑا نہیں تھا ورنہ اگر بڑا ہوتا تو انکا بچنا ناممکن تھا۔۔!!
ڈاکٹر کی آخری بات پر وہ خدا کا شکر ادا کرنے لگا تھا ورنہ نجانے کیا ہوتا ۔
“میرا بچہ کہا ہے شازم سائیں۔۔؟؟
تبھی اسے اپنے پیچھے بہرام شاہ کی ماں کی آواز سنائی دی تو وہ پیچھے پلٹ کر انہیں دیکھنے لگا جو بری طرح سے روتے ہوئے شازم سے پوچھ رہی تھی۔۔
“دل وہ بلکل ٹھیک ہے ابھی بے ہوش لیکن جلد ہوش میں آ جائے گا اور آپ کھڑی کیوں ہے یہاں بیٹھے۔۔!!
شازم نے اسے سامنے کرسی پر بٹھا کر خود بھی دائیں جانب بیٹھا اور اُسے دیکھنے لگا جو اب بھی رو رہی تھی۔۔
“انکل میں نے بڑے پاپا سے بات کیا ہے وہ حور کو لے کر آ رہے ہیں اور انہیں نے شاہ کو معاف کر دیا ہے۔۔۔!!
وہ انکے سامنے کھڑے ہو کر کہنے لگا تو شازم نے ہاں میں سر ہلایا تو وہ تیزی سے ہاسپٹل سے باہر نکلا۔۔
