Ishq E Junoon By Sumyia Baloch Readelle50186 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
“بابا۔”
حور شاه بخت کو اپنی پوری فیملی کے ساتھ گھر میں داخل ہوتا دیکھ خوشی سے چیخ مار کر تیزی سے آگے بڑھی اور شاه بخت کے سینے سے لگ کر بولی۔
“بابا کی جان کیسی ہو۔؟
شاہ بخت اُسکے سر پر اپنے لب رکھتے ہوئے بولا تو حور اُن سے الگ ہوتی آنسو صاف کرتی مسکرا کر بولی
“میں ٹھیک ہو آپ کیسے ہے اور مما آپ کیسی ہے۔میں نے آپ سب کو بہت مس کیا ہے؟
شاہ بخت کو جواب دیتی وہ حنیہ کی جانب بڑھی اور تیزی سے گلے لگتی ہوئی بولی تو حنیہ مسکرا کر اُسکی پشت پر ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی
“میں ٹھیک ہو میرا بچہ اور میں نے بھی آپ سب کو بہت مس کیا ہے اور ریحام بچے آپ وہاں کیوں کھڑی ہے یہاں آئے اور اب میں اپنے سارے بچوں کو ایک ساتھ دیکھ کر بہت زیادہ خوشی محسوس کر رہی ہوں۔”
اپنے سبھی بچوں کو دیکھ کر حنیہ مسکراتے ہوئے بولی تو ریحام اور رعابہ تیزی سے آگے بڑھ کر انکے گلے لگتی ہوئی ایک ساتھ بولی۔
“بڑی مما ہم نے بھی آپ سب کو بہت مس کیا ہے۔”
اذان شاہ جو دور کھڑا اُن سب کو دیکھ رہا تھا وہ حور کو خوش دیکھ کر یکدم سے اپنی پچھلی باتوں کو سوچ کر سخت شرمندگی محسوس کرنے لگا اور اُنہیں دیکھتے ہوئے اپنے قدم باہر کی جانب بڑھانے لگا
“برخوردار تُم کہا جا رہے ہو۔؟
شاہ بخت کی نظر جب اُس پر پڑی تو وہ سنجیدگی سے بولا تو اُنکی آواز پر نم آنکھیں صاف کرتا اُنکی جانب بڑھا اور تیزی سے انکے گلے لگتے ہوئے کہنے لگا
“بڑے پاپا بس باہر کچھ دیر دوستوں کے پاس جا رہا ہوں آج انہوں نے پارٹی رکھی تھی میری شادی کی خوشی میں وہی جا رہا تھا۔!!
وہ مسکراتے ہوئے بولا اور سائیڈ پر کھڑا ہوگیا وہ نہیں چاہتا تھا کہ سب اُسکے مرجھائے چہرے کو دیکھے اور اُس معتلق پوچھے۔
“اذی اوے میرے یار باہر نکل۔!!
اذان شاہ جو شاه بخت سے مل کر سائیڈ پر کھڑا سب کو دیکھ رہا تھا اے بی کی آواز پر تیزی سے باہر نکلا اور اُسکے پیچھے شاه بخت اور سعدی معاذی بلند عالم بھی باہر نکلے تھے۔باقی حنیہ رملہ اور ہانیہ( معاذی کی وائف) اور نمرین اور پانچوں لڑکیاں وہی بیٹھ کر باتیں کرنے لگی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ باہر جو بھی ہوگا اذان شاہ کا دوست ہی ہوگا جو اُسے پارٹی میں لے جانے کے لیے آیا ہوگا۔
“شاہ آپ اِس وقت ابھی تو نکاح بہت دور ہے اور بڑے پاپا وہ تُمہیں دیکھیں گے تو مار ڈالے گے۔”
اذان جب باہر پہنچا تو اے بی کو دیکھ کر غصے سے بولا جبکہ اے بی اُسکے غصے کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھا اور اُسے گلے سے لگا کر کہنے لگا۔
“یار سسسر محترم سنو وائٹ کے سامنے تو مجھے بلکل بھی گولی نہیں مارے گے بلکہ اغوا کر کے ٹارچر ضرور کریں گے اپنے انداز میں جیسے نکاح کے دوسرے دن اُنہوں نے میرے ساتھ کیا تھا۔!!
“لیکن اذی تُم تو اپنی بہن اور میرے نکاح کے وقت پاکستان میں نہیں تھے اُسی لئے تو تُمہیں نکاح کے بارے میں پتہ نہیں چلنے دیا سسسر صاحب نے اور آپ کے ڈیڈی محترم نے۔”
شاہ بخت کو تیزی سے اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ مسکراتے ہوئے بولا جبکہ غصے سے اُسکی جانب بڑھتے شاه بخت نے آگے بڑھ کر زور سے اُسکے چہرے پر مکا مارا اور اُسے کالر سے پکڑ کر حقارت سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“لڑکے تُمہاری اتنی ہمت کیسے ہوئی میرے گھر میں گھسنے کی ہاں اور اُس رات کو میری بیٹی کے روم میں گھس کر اور آج یہاں آکر تُم نے اپنے ساتھ بلکل بھی اچھا نہیں کیا ہے اُس دن تو میں یہاں نہیں تھا ورنہ اُسی دن میں تُمہیں اپنی بیٹی کے سامنے ختم کر دیتا لیکن آج میں تُمہیں نہیں چھوڑو گا۔”
“عالم۔!!
سخت طیش کے عالم میں اُسکے چہرے پر زور سے مکا مارتا شاه بخت خطرناک لہجے میں بولا اور ساتھ میں بلند عالم کو بھی آواز دے کر اُسے سخت لہجے میں کہنے لگا۔
“اُسے آج زنده مت چھوڑنا ورنہ میں تُمہیں بھی زنده نہیں چھوڑو گا۔”
اے بی جو اپنے لبوں پر مسکراتے ہوئے رستے خون کو صاف کرتے ہوئے شاه بخت کو دیکھ رہا تھا بلند عالم کو اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر ہاتھ اٹھا کر غصے سے اُسے گھور کربولا۔
“مسٹر تُمہارا ایک قدم بھی تُمہاری جان لے سکتا ہے اور اگر تُم اے بی کے سامنے پہنچ گئے نا تو واپس تُم اپنے باس کو نہیں دیکھ سکوں گے۔”
دھمکی آمیز لہجے میں کہتا وہ سخت نظروں سے بلند عالم کو دیکھنے لگا جو غصے سے سرخ چہرہ لیے سامنے رکتے ہوئے اُسے کھا جانے والی نظروں سے گھورنے لگا۔
“یہ کیا اذی یار تُمہارے گھر میں جگری دوستوں کا استقبال کیا اسطرح کرتے ہے اُنہیں مار کر اور میں تو صرف تُمہارے میسج کی وجہ سے یہاں آیا ہو۔!!
تبھی وہ اذان شاہ کی جانب بڑھا اور اُسے کندھوں سے پکڑ کر خفگی سے بولا۔
“ورنہ ابھی میرا موڈ نہیں تھا اپنی سنو وائٹ کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے جانے کا کیونکہ ابھی وہ اسٹدی کر رہی ہے لیکن سسسر جی کا پیار دیکھ کر اب میرا فیصلہ بدل گیا ہے اب میں ٹھیک تُمہارے نکاح والے دن وہ بھی شاندار طریقے سے اپنی بیوی کو اپنے ساتھ لے جاؤ گا۔”
اذان شاہ کو نظریں چھوٹی کر کے دیکھتا وہ مصنوعی غصے سے کہتا اُسے نظریں چرانے پر مجبور کر گیاجبکہ اُسکے اذان شاہ کو پیار سے مخاطب کرنے پر شاه بخت کے ساتھ سب نے اذان شاہ کی جانب حیرت سے دیکھا۔
“بڑے پاپا شاہ میرا دوست ہے اور میں نے ہی اُسے یہاں بلایا تھا۔”
اذان شاہ بخت کو دیکھتے ہوئے بولا تو شاه بخت نے اُسے سخت نظروں سے گھورا اور اے بی کی جانب اشاره کرتے ہوئے بولا۔
“اذان شاہ صرف تُمہاری وجہ سے میں اِسے برداشت کروں گا اگر یہ لڑکا مجھے میری بچی کے آس پاس بھی نظر آیا نہ تو میں تمہارا بھی لحاظ نہیں کروں گا اِس کے ساتھ تُمہیں بھی اپنے گھر سے باہر نکال دوں گا۔”
اذان شاہ کو سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے شاه بخت نے کہا اور اے بی کو وارننگ کرتی نظروں سے دیکھتا گھر کے اندر داخل ہوا اور سعدی معاذی اور بلند عالم بھی اُسکے پیچھے چلنے لگے جبکہ سام شام اور ایزل عشوہ سامنے کھڑے اے بی کو غور سے دیکھ رہے تھے اپنے اپنے باپ کے وہاں سے نکلتے تیزی سے آگے بڑھ کر چیختے ہوئے بولے۔
“Big bro that’s not fair.”
اے بی دی سپر اسٹار آپ کے دوست ہے اور یہ بات آپ نے ہم سے چھپا کر اچھا نہیں کیا ہم آپ سے سخت ناراض ہے۔”
ایزل منہ بسور کر اذان شاہ سے بولی تو سام نے اُسے سخت نظروں سے دیکھا اور پھر اے بی کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“آپ یہاں کیوں کھڑے ہے اندر چلے کیا ہوا اگر بگ برو آپ کو اندر آنے کے لیے نہیں کہہ رہے ہیں ہم تو ہے نا آپ کے چھوٹے سے کیوٹ سے سالے کیوں شام۔”
اے بی کو کہتا سام پُرسرار انداز میں شام کی جانب دیکھنے لگا جو شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اُسے اور پھر اے بی کو دیکھ رہا تھا۔
“میرے پیارے سے بھولے بھالے سالے صاحبان داماد سے بلکل بھی ہوشیاری نہیں کیونکہ داماد کا سامنا ایسی بہت سی پُرسرار نظروں اور شیطانی مسکراہٹ سے ہوتا رہتا ہے اور اُن کو مزا آپ کے داماد اچھے سے چکاتا ہے۔”
سام کے گالوں کو زور سے کھینچتے ہوئے اے بی نے اُسے کے انداز میں کہا تو اذان شاہ نے اُن دونوں کو مسکراتے ہوئے دیکھا کیونکہ اے بی اُن دونوں سے بھی تین ہاتھ آگے تھا شرارتوں اور کسی کو تنگ کرنے کے معاملے میں اور کم وہ دونوں بھائی بھی نہیں تھے۔
“شام برو اب مزا آئے گا۔!!
سام اے بی کو دیکھتے ہوئے کمینگی سے مسکرا کر شام سے بولا تو شام بھی اُسکی بات پر اے بی کو وارن کرتی نظروں سے دیکھنے لگا۔
“ہاں برو اب مزا چکائے گے بھی اور ہم دونوں مزا کریں گے ہمارے ہاتھ شکار جو بڑا ہاتھ لگا ہے اور بدلا بھی تو لینا ہے۔”
شام نے خطرناک لہجے میں کہہ کر اے بی کو دیکھا جو ان دونوں بھائیوں کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
پورے گھر میں ڈھولکی کی خوبصورت تھاپ پر ایزل اور عشوہ شہنائی کی گیت گا رہی تھیں اور سام شام اوپر سیڑھیوں کی ریلنگ سے لٹکے اُن کے ساتھ بیٹھی لڑکیوں کو دیکھ رہے تھے۔
شام تُم بھی میری طرح وہاں اُن سب کے بیچ بیٹھ کر انجوائے کرنا چاہتے ہو تو تُم جلدی سے میرا ایک کام کر کے آؤں۔”
سام ایزل کو دیکھتے ہوئے بولا جو گرین رنگ کے فراک میں کوئی چھوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی تبھی اُسے سامنے سے دیکھنے کی حسرت دل میں جاگی تو اُسنے شام کو اپنا پلان بتایا تو وہ بھی مسکراتے ہوئے تیزی سے عشوہ اور ایزل کے روم کی جانب بڑھا جبکہ سام ایزل کے خوبصورت سراپے کو اپنے آنکھوں کے رستے دل میں اتارنے لگا۔
“بہت چھوٹی ہے ابھی سالے صاحب اور ماشااللہ سے ابھی آپ بھی بہت چھوٹے ہے اِس میدان کو پار کرنے میں۔”
اے بی وہاں آکر مسکراتے ہوئے اُسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھتا ہوا بولا تو سام اپنے دسٹرب کرنے پر اُسے سخت نظروں سے گھورنے لگا۔
“پندرہ سال کی تھی میری آپی اور آپ اٹھارہ سال کے تھے آپ اٹھارہ سال کی عمر میں نکاح کر سکتے ہیں تو میں 19 سال کی عمر میں کیوں عشق نہیں کر سکتا ۔؟
وہ اے بی کو طنزیہ نظروں سے دیکھتا اُس سے سوال پوچھنے لگا جو مسکرا کر سامنے لگے صوفوں کی جانب بڑھا اور ایک پر بیٹھ کر کہنے لگا۔
“کیونکہ سالے صاحب عشق اور نکاح کرنے کیلئے بہت بڑا جگرا چاہیے ہوتا ہے جو آپ میں بہت زیادہ کم ہے اب دیکھو میں اٹھارہ سال کی عمر میں نکاح کر کے اپنی بیوی کو لے کر سیدھا آپ کے اور آپکی آپی کے ڈیڈی کے پاس چلا گیا تھا اپنی اور حور کے نکاح کے بارے میں بتانے اور وہ بھی سینا تان کر کیا سالے صاحب تُم ایسا کرسکتے ہو۔”
مسکرا کر بولتا وہ صوفے سے اٹھا اور واپس ریلنگ پر ہاتھ جما کر نیچے گانا گاتی ایزل کو دیکھنے لگا جو ہنستے ہوئے عشوہ کو چھیر رہی تھی ۔
“آپ مجھے چیلنج کر رہے ہیں داماد محترم۔؟؟
سام اپنی آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے اے بی کے شاندار سراپے کو دیکھتے ہوئے بولا جو سیاه کاٹن کے قمیض شلوار میں ملبوس جس میں اُسکی سرخی مائل سفید رنگت اور بھی تمتما رہی تھی اور خوبصورت کریم کلر کی شال اپنے کندھوں پر ڈالے سامنے کھڑا تھا۔
” بلکل بھی نہیں سالے صاحب مجھے پتہ ہے کہ تُم یہ نہیں کرسکتے ہو کیونکہ بہت ڈرتے ہو تُم اور تمہارا وہ جڑواں بھائی شام سسسر محترم سے اِس لئے اے بی یہ چیلنج تُم کو کبھی بھی یہ نہیں دے گا۔”
شال زور سے اپنی پشت پر اوڑھ کہ وہ طنزیہ انداز میں بولا جبکہ سام اُسکے طنز پر اپنی جلتی آنکھوں سے اُسے گھورنے لگا۔
“اگر میں نے ایزل سے کل ہی نکاح نہ کیا ناں تو داماد محترم تُم مجھے اپنا اسپوٹ بوائے بنا لینا کیونکہ سام کو خطرناک چیلنج بہت پسند ہے۔”
سام ایزل کو دیکھتا پُرسرار انداز میں مسکراتے ہوئے بولا اور اے بی اُس چھوٹے لڑکے کی آنکھوں میں اُس اٹھارہ سالہ لڑکی کے لیے جزبات دیکھ کر مسکرانے لگا۔
“دیکھتے ہیں سالے صاحب کے کل آپکا نکاح ہوتا ہے یا جوتوں کی بارش ۔”
وہ ریلنگ سے پشت ٹکا کر اپنا ہاتھ ٹھوڑی پر رکھتا بولا۔جبکہ سام اے بی کو طنزیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
“نو کیوٹی میں یہ اتنی بڑی فراک بلکل بھی نہیں پہنو گی۔!!
ریحام ییلو رنگ کی خوبصورت فراک کو دیکھتے ہوئے بولی جو فرش کو چھو رہی تھی اور بیک سے تھوڑی ڈیپ تھی اور اس پر ڈوریاں دیکھ کر تو وہ زیادہ غصے میں آ گئی تھی۔
“بٹ وائے ری برو اتنا تو خوبصورت فراک ہے اور یہ مما نے خاص آپ کے لیے لیا ہے اور میرا بھی سیم اِسی طرح کا ہے بس کلر الگ ہے۔!!
حور اُسے دیکھتی اپنا منہ بسور کر بولی جبکہ ریحام فراک کی بیک کی وجہ سے چڑ رہی تھی کیونکہ بیک کو دیکھ کر اُسے اپنے اور ارحام کے نکاح اور وہ لہنگا یاد آ رہا تھا۔
جو اُس زریاب خان کے خاص آدمی جیم مارگریٹ اور اُسکی محبوبہ سارا اُسکے لئے نکاح کے دن خرید کر لائی تھی۔
“کیوٹی میں اِن بالوں کے ساتھ یہ فراک پہن کر بہت عیجب لگوں گی۔”
ریحام اپنے چھوٹے بالوں کی جانب اشاره کرتے ہوئے مسکرا کر بولی تو حور تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھی اور اپنے قدم اُسکی جانب بڑھا کر اُسے صوفے سے اٹھا کر اُسکے روم کے ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھ کر وہ فراک اُسکے ساتھ لگاتی ہوئی بولی۔
“ری برو مجھے کوئی بہانہ نہیں سننا ہے اگر آپ یہ فراک پہن کر نیچے نہیں آئی تو میں آپ سے سخت ناراض ہو جاؤ گی اور کبھی بات نہیں کروں گی۔”
تیز نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی تو ریحام اُسکی بات پر بے بسی سے اُس فراک کو دیکھنے لگی اور پھر منہ بنا کر واش روم کی جانب بڑھی۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
“کک کون۔؟؟
حور جو ریحام کے روم سے باہر نکل کر اپنے ہی دھیان میں مسکراتے ہوئے لاؤنج کی جانب بڑھ رہی تھی کہ اچانک سے اُسے کسی نے سامنے کے روم کے اندر کھینچا اور روم کا ڈور لاک کرتا اُسکی جانب آہستگی سے بڑھنے لگا
حور جو دیوار سے لگ کر کھڑی خوف سے کانپتی ہوئی روم کی تاریخی سے ڈر رہی تھی کہ اپنی کمر پر کسی کے ہاتھوں کو رینگتے ہوئے محسوس کرتی زور سے چلانے ہی لگی تھی کہ اُس سے پہلے مقابل نے سختی سے اپنا ہاتھ اُسکے لبوں پر رکھ کر اُسکی چیخ کا گلا گھونٹ دیا۔
“ششش.!!
اُسکے لبوں پر اپنی شہادت کی انگلی رکھتا اے بی اپنے فون کی لائٹ آن کرتا وہ اُسے دیکھنے لگا جو خوف کے مارے زور سے کانپ رہی تھی۔
“ریلیکس سنو وائٹ یہ میں ہو تُمہارا شوہر۔!!
اپنی انگلی اُسکے لبوں سے ہٹاکر ابکے اپنے دونوں ہاتھ اُسکے شولڈر پر رکھتا آہستگی سے اُسے چھوتے ہوئے گھمبیر آواز میں سرگوشی کرنے لگا
جبکہ حور اُسکے ہاتھوں کو نیچے اپنی کلائیوں کی جانب آہستہ سے گردش کرتے ہوئے محسوس کرنے لگی تو شرم سے اپنی آنکھیں زور سے بند کرتی وہ خود میں سمٹنے لگی تھی
“پورے دو دن میں تُم سے دور رہا ہو سنو وائٹ تو مجھے یہ دو دن پورے دو سال کے برابر لگے تھے اب مائے لائف صرف تین دن بچے ہیں تمہاری آزادی کے اُسکے بعد تُم میرے عشقِ جنون کی قید میں آ جاؤ گی۔”
وہ اُسکے نازک پھنکڑیوں جیسے لبوں کو اپنا لمس محسوس کراتا بوجھل لہجے میں بولا تو حور اپنے لبوں پر اُسکا لمس محسوس کرتی اپنی آنکھیں زور سے میچنے لگی۔
“آپ۔؟؟
اے بی کی اپنے پشت پر حرکت کرتے ہاتھوں کو محسوس کرتی وہ گھبرا کر اپنے منہ سے پورے الفاظ بھی نہ نکال سکی اور اے بی اُسکی بیک پر نیچے اُسکے کمر پر نیچے جھولتے ڈوریوں کو باندھ رہا تھا جو شاید اُسکے روم میں کھنیچنے کی وجہ سے کھل گئے تھے کہ اُسکی گھبراتی آواز پر وہ خوبصورتی سے مسکرانے لگا۔
“ہاں جانم میں تُمہارا کنگ تمہارا اے بی اور بھی آگے چل کر بہت سے نام تُم مجھے دوں گی لٹل ڈول۔”
وہ اُسکی بیک سے نیچے ہاتھ لے جاتا اب اُسکی کمر پر ہاتھ رکھتے مخمور لہجے میں بولا جبکہ نظریں اُسکے ہونٹوں پر جما کر دیکھنے لگا
جو سرخ رنگ کے لپ اسٹک سے خوبصورتی سے سجے ہوئے تھے وہ بے خودی سے اُسکے گالوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتا اور اُسکے لپ اسٹک سے سجے سرخ ہونٹوں پر جھکا اور اُس سرخ رنگ کو شدت سے مٹانے لگا۔
“نہیں کنگ پلیز۔!!
وہ گھٹی گھٹی سی آواز میں اُسے اپنے ہاتھوں سے دورکرتی کانپتے ہوئے بولی تو اے بی اُسکے آنسؤں کو محسوس کرتا پیچھے ہٹا اور اُسے دیکھنے لگا جو اپنی نم اور سرخ آنکھوں سے اُسے دیکھ رہی تھی۔
تبھی اُسکی نظریں اُسکے سرخ آنکھوں سے ہو کر ہونٹوں کے کناروں پر بری طرح سے پھیلے سرخ لپ اسٹک پر جا پڑی جو اُسکی شدت کی وجہ سے اُسکے لبوں کے کنارے پر بری طرح سے پھیل گئے تھے۔
“سوری سنو وائٹ لیکن میں یہ سرخ رنگ رخصتی سے پہلے تُمہارے اِن خوبصورت ہونٹوں پر لگا برداشت نہیں کر سکتا اور اگر مجھے پھر دوباره یہ رنگ اِن لبوں پر نظر آیا ناں تو آئی سیور اُسی وقت میں رخصتی کروا کر تُمہیں اپنے ساتھ لے جاؤ گا اور پھر اُسکے بعد جانم تُم میری شدتوں کو بلکل بھی برداشت نہیں کر پاؤ گی جو میں نے مشکل سے کنٹرول کیے ہوئے ہیں اِسی لئے اِن رنگوں کو ابھی خود سے بہت دور رکھا کروں سویٹ ہارٹ۔”
وہ اُسکے ہونٹوں کے کناروں سے لپ اسٹک صاف کرتے ہوئے گھمبیر آواز میں سرگوشی کرنے لگا تو حور اُسکی بات پر اور لمس پر شرم سے نظریں ادھر ادھر کرنے لگی۔کہ تبھی روم میں اے بی کہ فون کی بیل نے خاموشی کو کم کیا تو اے بی غصے سے سامنے صوفے پر رکھے اپنے موبائل کو گھورنے لگا۔
“کس پاگل نے اپنی موت کو آواز دیا ہے۔؟؟
فون صوفے سے اٹھا کر کان سے لگاتے ہوئے سخت لہجے میں کہنے لگا تو دوسری طرف اذان شاہ جو اُسکے اچانک غائب ہونے پر سخت چڑا ہوا تھا اُسکی بات پر غصے سے بولا۔
“میں اذان بقول آپکے شریف انسان بات کر رہا ہو اور موت کو میں نے نہیں شاہ آپ نے آواز دیا ہے کہی آپ حوری کے ساتھ تو نہیں ہو اور اگر ہاں تو فورا سے پیشتر میرے پاس میرے روم میں تشریف لے کر آئے ورنہ بڑے پاپا کو پتہ چل گیا نہ تو آپ کے ساتھ وہ مجھے بھی گھر سے باہر نکال دے گے۔”
اذان شاہ کی بات پر وہ جلدی سے کال کاٹ کر حور کے خوبصورت سراپے کو دیکھتے ہوئے بولا۔
“تُم بہت خوبصورت لگ رہی ہے مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ کہی میں کچھ غلط نہ کر بیٹھو سنو وائٹ میں جب تک یہاں ہو تُم میرے سامنے آنے کی کوشش مت کرنا ورنہ میرے بہکنے کی زمہ دار تُم خود ہوگی۔”
وہ اُسے پنک کلر کے ڈریس میں دیکھ کر پہلے سے ہی اپنا کنٹرول کھو رہا تھا اور اُسے چھونے کے بعد تو وہ بہک کر آج اپنی ساری حدیں پار کرنے والا تھا کہ اُس سے پہلے اذان شاہ کی کال نے اُسے غلطی کرنے سے بچا لیا تھا ورنہ اُسکی اتنی قربت پاکر وہ بہک جاتا اِسی لئے وہ اتنا کہتا تیزی سےجلدی سے روم سے باہر نکلا اور حور اُسکے باہر نکلتے ہی صوفے پر بیٹھی اور تیزی سے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ ڑگرتے ہوئے ہونٹوں کے کناروں سے لپ اسٹک صاف کرنے لگی۔
💞💞💞💞💞💞💞
ارحام بھائی آپ کی کار کیسے خراب ہوئی اور آپ اب کیسے آئے گے اچھا آپ اب ایک کام کریں وہیں پر روکے میں کسی کو وہاں آپکو لینے کے لئے بھیجتی ہو۔”
رعابہ فون کان سے لگائیں دوسری جانب موجود ارحام سے بولی جو اُسی کے کہنے پر اُسکے ڈھولکی کی فنشں میں آ رہا تھا کہ بیچ راستے میں کار خراب ہونے کی وجہ سے وہ اُسے فون کرکے فنشن اٹینڈ نہ کرنے کی وجہ اُسے بتا کر اُس سے معذرت کرنے لگا تھا۔
“اوکے رعابہ جیسے تُمہاری مرضی میں تو ابھی زمزمہ پارک ڈیفنس کے بلکل سامنے کھڑا ہوں کیونکہ میری کار نے آگے نہ بڑھنے کی ضد یہی پر رک کر شروع کر دیا تھا۔”
ارحام مسکراتے ہوئے زمزمہ پارک کی جانب دیکھتے ہوئے بولا جو کراچی ڈیفنس میں تھا اب وہ کار کی جانب بڑھا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر سامنے دیکھنے لگا۔
“ارحام بھائی ابھی جو بھی میرے روم میں پہلے آئے گا میں اُسے بھیجوں گی وہاں زمزمہ میں آپکو لینے کے لئے کیونکہ میں تو نہیں آ سکتی ہو آپ کو لینے کے لیے وہ کیا ہے نا کہ میں اِس وقت اپنے روم سے نکل نہیں سکتی ہو اور حور نے سختی سے مجھے باہر نکلنے سے بھی تو منا کیا ہے اور آپ دعا کرے کہ ری برو پہلے روم میں نہ آئے کیونکہ اگر اُنہیں پتہ چلا کہ میں نے آپکو بھی انوائیٹ کیا ہے تو وہ مجھے نہیں چھوڑے گی پتہ نہیں کیوں وہ آپ سے اتنی چڑتی ہے۔”
رعابہ اپنے روم کے دروازے کی جانب دیکھتے ہوئے بولی جبکہ ارحام انصاری اُسکی بات سنتا جلدی سے ریحام کے روم میں آنے کی دعا کرنے لگا۔
“اور اگر آپ کی ری برو روم میں پہلے داخل ہوگئی تو آپ کیا کرے گی میری پیاری بہنا۔؟
وہ مسکراتے ہوئے بولا تو رعابہ پریشانی سے اُسے جلدی سے بولی اُسکی نظریں ہنوز دروازے پر مرکوز تھی اور ساتھ میں دعا بھی کر رہی تھی کہ ریحام کے آنے سے پہلے وہاں سام یا شام میں سے کوئی آ جائے لیکن اُسکی دعا سے پہلے ارحام کی دعا قبول ہوگئی تھی کیونکہ ریحام برے برے منہ بناتی اپنی فراک پکڑے اندر داخل ہو رہی تھی۔
“بھائی اب تو میں نہیں بچوں گی۔!!
رعابہ اتنا کہتی جلدی سے فون سائیڈ پر رکھتی کپکپاتی ہوئی ریحام کی جانب بڑھی جبکہ دوسری جانب ارحام انصاری ریحام کی آواز پر مسکرایا اور کار کی سیٹ سے ٹیک لگا کر ریحام کی غصیلی آواز کو سننے لگا۔
💕💕💕💕💕💕
