Ishq E Junoon By Sumyia Baloch Readelle50186 Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
“ارحام۔۔۔!!!
ریحام نے پریشانی سے آج صبح سے کچھ کھایا نہیں تھا اور اب لان میں لیپ ٹاپ پر ارحام انصاری کی فون نمبر کی لوکیشن کو چیک کرتی تو کبھی فون اٹھا کر اُسکا نمبر ملا کر اُسے کال کرتی مگر بار بار فون بند ملتا تو وہ پریشانی سے سارے لان کے چکر لگانے لگ جاتی تھی ابھی وہ چکر لگا رہی تھی کہ سر چکرانے کی وجہ سے ارحام انصاری کا نام بڑبڑاتے ہوئے نیچے گری تھی۔۔۔
“ریحام آنکھیں کھولو پلیز دیکھو میں آگیا ہو اب تو تُم اپنی آنکھیں کھولو نا ڈیم اٹ۔۔!!!
ارحام انصاری جو ریحام کو دیکھنے کے لیے اُسکے گھر کی دیوار کو مشکل سے پھلانگ کر اندر آیا تھا اُسے سامنے لان میں دیکھ کر خوشی سے وہ آگے بڑھنے ہی والا تھا کہ اُسے نیچے گرتا ہوا دیکھ کر بے قراری سے اپنے بازو کی زخم کی پرواہ کیے بغیر وہ تیزی سے بھاگا اور اُسے اپنے سینے سے لگا کر پاگلوں کی طرح اُسے پکارنے لگا۔۔۔۔
“لیسن تُم مجھے اسطرح سزا نہیں دے سکتی ہوں۔۔!!!
ارحام جنونی انداز میں اُسکے گالوں کو سہلاتے ہوئے چیخا جبکہ ریحام اُسکی بےقراریوں سے لاعلم اُسکی باہوں میں آنکھیں بند کیے بے ہوش تھی۔۔
وہ تیزی سے اُسے اپنے باہوں میں بھرتا شدت سے اُسے اپنے سینے میں بھینچ کر اُسکے زدر چہرے کو دیکھتے ہوئے اتنی تیزی سے گھر کی جانب بڑھا۔۔
گھر میں اِس وقت مکمل تاریکی تھی شاید سب گھر والے اپنے اپنے کمروں میں محو استراحت فرما رہے تھے وہ تیزی سے ریحام کو لیے اُسکے روم کی جانب بڑھا۔۔۔
روم کا دروازہ ہاتھ آگے بڑھا کر کھولتا وہ اندر داخل ہوا اور دروازہ پیروں سے بند کرتا وہ تیزی سے ریحام کو لیے بیڈ کی جانب بڑھا اور اُسے آرام سے لیٹا کر خود پیچھے ہٹا اور بلانکٹ اُس پر اوڑھا کر خود بلکل اُسکے نزدیک بیٹھا اور اپنے خون سے داغ دار بلیک کلر کے جیکٹ کے نیچے پہنے سفید شرٹ کو دیکھنے لگا جو اُسے نم محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
“وائف اب آنکھیں تو کھولو اور دیکھو تمہارا دیوانہ زخمی حالت میں صرف تمہارے لیے یہاں آیا ہیں اب اگر تم نہ اٹھی تو میں تمہارے ساتھ زبردستی کرو گا پھر تُم ناراض ہو جاؤ گی اور پھر وہی اپنے ڈائیلاگ سے میرے کانوں کو پکاؤ گی کہ میں تُمہیں قتل کر دونگی یہ وہ لیکن قتل تو دور کی بات تُم تو میرے بال بھی نہ ہاتھ لگا سکی ہاں میں نے تُمہیں بار بار قتل کیا تھا وہ بھی تُمہاری غصے کی پرواہ کئے بغیر اب بھی اگر تُم نہ اٹھی تو میں مجبوراً تُمہیں قتل کر لوں گا اِس بار سچ میں قتل کرو گا پھر تُم اٹھی بھی تو شرم سے میرے سامنے آنے سے کتراو گی۔۔!!
اپنی خون آلود جیکٹ کو اتار کر اُسنے بیڈ کے نیچے پھینکا اور پھر اُسکے بے ہوش وجود کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا جو بے ہوش اپنے اردگرد سے لاعلم بیڈ پر لیٹی تھی۔۔۔
“اوکے تُم ایسے نہیں مانو گی۔۔۔!!
وہ مسکرایا اور اپنی بازوؤں کی تکلیف کو بھول کر اپنے دونوں ہاتھوں کو تکیوں پر رکھتا اُس پر جھکا اور بغور اُسکے چہرے کو دیکھنے لگا۔۔
جو زدر ہو گیا تھا اُسے تعجب بھی ہوا کیونکہ ریحام ایک معمولی لڑکی نہیں تھی جو ایک دن بھوکی رہ کر اپنا حال یہ بنا سکتی تھی وہ ایک مضبوط حساب کی مالک لڑکی تھی جو ہر مشکل گھڑی کو مضبوطی سے فیز کرنا اچھے سے جانتی تھی تو کیا وہ اِس سے اتنی زیادہ محبت کرنے لگی ہے جتنی وہ اس سے کرتا ہے کہ اُسکے ایک دن غائب ہونے پر اُسنے اپنا یہ حال بنا دیا ہے۔۔
“ارحام انصاری آئی ول کل یو تت۔۔تُم مجھے چھوڑ کر چلے گئے نا تُم تو کہتے تھے چاہیے کچھ بھی ہو جائے تُم مم۔مجھے کسی کے سامنے شرمندہ نہیں کرو گے پھر کیوں چلے گئے کیوں۔۔۔؟؟
ریحام بے ہوشی کی حالت میں اُسکی شرٹ کو مٹھیوں میں دبوچ کر اُسکا چہرہ بلکل اپنے چہرے کی نزدیک کرتی غصے سے بڑبڑانے لگی جسے ارحام انصاری نے سنا اور اُسکے ہلتے لبوں کی جنبشِ کو دیکھنے لگا جو بے ہوشی کی حالت میں بڑبڑانے کی وجہ سے ہل رہے تھے وہ اُسکی اتنی زیادہ قربت پر خود کو گستاخی کرنے سے روک نا سکا۔۔
ریحام اب بھی بڑابڑا رہی تھی وہ اگر ہوش میں ہوتی تو اپنی حرکت پر اپنے آپ کو سخت سرزنش کرتی لیکن اب کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ اُسکی بے ہوشی اور نزدیکی پھر اوپر سے اُسکی حرکت پر وہ مدہوش نظروں سے اُسکے ہلتے ہونٹوں کو فوکس کئے اپنی شرٹ کو اتار رہا تھا۔۔۔
“ڈارلنگ اب میں اکیلے کیوں تڑپوں اِس عشق کی آگ میں کچھ تُم بھی تو جلو تاکہ تُمہیں اپنے شوہر کی قدر اچھے سے ہو جائے اور میں چاہتا ہوں کہ تُم خود مجھ سے محبت کا اظہار کرو اور اپنے جذبوں کا بھی جو تُم میرے لئے اِس وقت بے ہوشی کی حالت میں محسوس کر رہی ہوں۔۔۔!!!
انگلی اُسکے نرم ہلتے لبوں پر پھیرتا وہ گھمبیر آواز میں بولا تو ریحام جو ابھی تک نجانے بے ہوشی کی حالت میں ارحام انصاری کو کتنی گالیاں دے چکی تھی غصے سے اپنے لبوں پر رکھے اُسکی انگلی کو منہ میں لے کر زور سے کاٹتی اُسکے جذبات کے شعلوں کو مزید بھڑکانے لگی۔۔۔۔
وہ انگلی دور کرتا اپنے دانت اُسکے گلابی اور نرم گالوں پر گاڑھتا اُتنی شدت سے اُسکے بائیں گال کو کاٹنے لگا جتنی شدت سے ریحام نے اُسکی انگلی کو کاٹا تھا۔۔۔
ریحام نے اپنے گالوں کو جلتا ہوا محسوس کیا تو پٹ سے اپنی آنکھیں کھولتی خود کو اپنے روم میں پاکر تعجب سے روم میں بھاری پردوں کی وجہ سے چھائے آندھیرے میں ناسمجھی سے اپنے اوپر جھکے شخص کو دیکھنے لگی جو اُسکے اوپر جھکا اُسکی شرٹ کے اوپری بٹن کو کھول رہا تھا یہ دیکھ کر اُسے سخت غصہ آیا اور اُسنے اندھیرے میں ہاتھ آگے بڑھا کر اندازے سے اُسکے وجود کو زور سے پکڑا اور اُس شخص کو خود سے پیچھے ہٹانے لگی جو اُسے ناممکن لگ رہا تھا۔۔
وہ شخص ڈھیٹوں کی طرح اُس پر جھکا اُسکی گردن میں شدت سے اپنا لمس چھوڑ رہا تھا اور ساتھ میں اُسکے ہاتھ اُسکی شرٹ کے بٹن کھول رہے تھے پھر وہ یکدم سے چونکی کیونکہ وہ یہ لمس اور حرکتیں پہنچان چکی تھی کیونکہ یہ لمس صرف ایک شخص کا ہی ہوسکتا ہے جسے وہ بلکل بھی قابو نہیں کرسکتی تھی کیونکہ بہت مرتبہ کوشش کرنے پر وہ اُسے ہرا چکا تھا اور اب بھی وہ یہی کر رہا تھا اُسکی مزاحمت کو خاطر میں لائے بغیر وہ اُس پر جھکا ایک دن کی دوری کو ختم کر رہا تھا۔۔۔
“تُم کہاں چلے گئے تھے بتاؤ ہاں کہاں چلے گئے تھے میں نے نجانے کتنے کال کیے ہیں تمہیں لیکن تمہارا فون مسلسل بند آ رہا تھا وائے کیوں۔۔۔!!!
اُسکے بازو کو زور سے پکڑ تی وہ بولی۔۔۔
“آہہہہ۔!!!
وہ اُسکے زور سے پکڑنے پر تکلیف سے کراہنے لگا۔۔
“آرام سے مس ریحام سعد شاہ میں یہاں صرف اپنا حق لینے آیا ہو اور پھر اُسکے بعد میں تُمہیں طلاق دے کر آزاد کر کے واپس چلا جاؤ گا۔۔۔۔!!!
اچانک سے اُسنے بے رخی سے کہا تو اُسکی طلاق والی بات پر نجانے کیوں ریحام کا دل چاہا زور زور سے روئے لیکن وہ خود کی فیلنگ سے انجان اُسے دیکھنے لگی جو آج اسے اپنا نہیں بلکہ کوئی اجنبی لگ رہا تھا۔۔۔
“یہ تُم کیا کہہ رہے ہو۔۔۔؟؟؟
ریحام آنکھیں پھاڑ کر اُسکے سپاٹ چہرے کو اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کرتی بولی۔۔
“وہی جو تُم نے سنا مس ریحام سعد شاہ۔۔۔!!!
عقارت سے اُسے دیکھتا وہ اُسی بے رخی سے بولا۔۔۔
“لیکن مم۔میرا کیا ہوگا تُم نے تو میرے ساتھ ۔۔۔؟
وہ اُسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر بری طرح سے جھنجوڑ کر روہانسی لہجے میں کہا جبکہ ارحام عقارت سے اُسے دیکھ رہا تھا اُسے بے دردی سے خود سے دور دھکیل کر غرایا۔۔
“وہ سب ایک فریب تھا ایک کھیل تھا جو میں تُمہارے ساتھ کھیل رہا تھا اور حیرت کی بات ہے تُم میرے فریب کے جال میں اتنی جلدی پھنس گئی مس ریحام سعد شاہ اور یاد رکھنا میں صرف تُمہیں ایک کھلونا سمجھتا ہوں اور ہمیشہ سمجھو گا۔۔۔!!!
خباثت سے مسکراتے ہوئے اُسے اُسکے کہونی سے پکڑ کر اپنے بے حد نزدیک کرتا وہ بولا جبکہ ریحام خود کو اُسکی نظر میں ایک کھلونا دیکھ کر اپنی جلتی آنکھیں زور سے میچی اور ضبط سے مٹھیاں بھینچنے لگی۔
“نہیں ہو میں تمہارا کھلونا اور نا ہی میں کبھی تُم جیسے درندے کا کھلونا بنو گی سنا تُم نے مسٹر ارحام انصاری۔۔۔۔!!!
اچانک سے اپنی خون آشام آنکھیں کھول کر وہ سرد لہجے میں بولی تو ارحام اُسکی بات پر خباثت سے قہقہہ لگانے لگا اور پھر اُسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر کمینگی سے اُسکے غصے کی وجہ سے لرزتے ہونٹوں کو دیکھنے لگا۔۔۔۔
“مس ریحام سعد شاہ تُم پورے ایک ہفتے سے میری چابی والی گڑیا تو ہو اور وہ بھی پرسنل گڑیا جسکے ساتھ میں نے ہر طرح سے کھیلا اُسے یہاں تک بھی استعمال کیا لیکن تُم خاموشی سے میرے چابی چلاتے ہی ہر وہ کام کرتی چلی گئی جو میں چاہتا تھا تو پھر تُم اب کیسے کہہ سکتی ہو کہ تُم میرا جیتا جاگتا کھلونا نہیں ہو۔۔!!
وہ طنزیہ انداز میں بستر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اُسکے چہرے پر خباثت سے اپنی انگلیاں پھیرنا لگا۔۔۔
“ڈونٹ ٹچ می۔۔!!
ریحام کو اُسکے لمس سے یکدم سے کراہت محسوس ہوا تو وہ اپنی سرخ خون آشام نظریں اُسکے چہرے پر ڈال کر اپنا چہرہ دوسری طرف کرتی شدت سے چیختی وہ بولی۔
“دور رہو تُم مجھ سے درندے انسان تّمہارے لمس سے مجھے نفرت ہو رہی ہیں کراہیت محسوس ہو رہا مجھے تُمہارے اِس ناپاک وجود سے اپنے آپ سے نفرت محسوس ہو رہی ہے کہ کیوں میں نے تُم جیسے درندے کو اپنا آپ سونپا۔۔!!
وہ اپنا چہرہ دور کرتی نفرت سے بولی تو ارحام انصاری نے کمینگی سے مسکراتے ہوئے اُسکے نازک سراپے کو دیکھا اور پھر اُسکے سرخ چہرے پر جھکا اور اپنا لمس اُسکی پیشانی ٹھوڑی اور لبوں پر چھوڑنے لگا جبکہ ریحام اُسکی حرکت پر مزاحمت کرنے لگی لیکن اُس طاقتور مرد کے آگے وہ ناکام ہوتی بے بسی سے اپنا سر تکیے پر گرا کر بے آواز آنسوؤں بہانے لگی۔۔۔
“اب آئے گا مزا وائف جب تُم میری بے رخی نہیں سہوں گی اور پھر تڑپتے ہوئے میرے پاس آکر میرے گلے لگ کر محبت کا اظہار مجھ سے کرو گی تو بہت مزا آئے گا۔۔۔!!!
وہ اُسے بے دردی سے خود سے دور کرتا کمینگی اپنے چہرے پر سجاتا اپنے خیالوں میں اُسے مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگا۔ وہ یہ ڈراما صرف اُسے اُسکے جذبوں کو اُسے احساس کروانے کے لیے کر رہا تھا۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“ری برو۔۔۔!!!
ریحام جو بیڈ کے نیچے بیٹھی اپنی گھٹنوں پر سر رکھے بے آواز رو رہی تھیں باہر سے ایزل کی آواز پر اپنا سر اوپر اٹھا کر سرخ نظروں سے پلٹ کر بیڈ کی جانب دیکھنے لگی جہاں ارحام انصاری اُسکے وجود سے کھیل کر اب پھیل کر سویا ہوا تھا۔۔۔
“مسٹر ارحام انصاری تُم نے تو میرے ساتھ کھیل لیا لیکن اب یہاں سے دفعہ ہو جاؤ میں نہیں چاہتی میں اپنے گھر والوں کی نظروں میں گر جاؤ۔۔۔!!
ایزل کی مسلسل دروازہ باہر سے پھیٹنے پر تیزی سے اٹھی اور بیڈ پر سوئے ارحام انصاری کو نفرت سے آواز دینے لگی۔۔
“ڈارلنگ اتنی بھی کیا جلدی ہے پتہ چلنے دو اُنہیں وہ بھی تو دیکھے اپنی بیٹی کے کرتوت افسوس جب تُم اپنے سب گھر والوں کو دن کے اجالے میں ایک غیر لڑکے کے ساتھ اپنے بیڈروم میں اِس حالت میں ملوں گی تو اُن پر کیا بیتی گی لیکن تُم فکر مت کرو میں تُمہیں ضرور اپناؤ گا لیکن صرف اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے۔۔۔!!!
وہ اُسے اپنے اوپر گرا کر کمینگی سے بولا تو ریحام اُسکی بات پر غصے سے اُسے دور کرتی سامنے سائیڈ ٹیبل کی دراز سے اپنا ریوالور نکال کر کہنے لگی۔۔۔
“دور رہو مجھ سے ورنہ۔۔۔!!!
ریوالور غصے سے اُسکی پیشانی پر رکھتی وہ سرد لہجے میں بولی تو ارحام انصاری ریوالور کو اپنی پیشانی پر محسوس کرتا مسکرانے لگا۔۔۔
“ری برو اگر آپ نے دروازہ نہیں کھولا تو میں اندر آ جاؤ گی۔۔!!!
ایزل کی جھنجھلائی آواز پر ارحام نے تیزی سے اُسکے لبوں پر ہاتھ رکھا اور ریوالور اُسکے ہاتھ سے چھین کر کروٹ بدل کر اُسے اپنے نیچے کرتا ریوالور اُسکی ٹھوڑی کے نیچے رکھتا بھاری آواز میں بولا۔۔۔
“خاموش ایک لفظ بھی زبان سے نکلا تو گولی چلا دونگا۔۔۔!!
ریوالور کا دباؤ ٹھوڑی کے نیچے بڑھاتا وہ اُسے دھمکی دیتے ہوئے اٹھا اور ریوالور پیچھے اپنی پینٹ پر اٹکا کر اُسے اپنے باہوں میں بھرتا تیزی سے بیڈ سے نیچے اترا اور اُسے لیے واش روم کی جانب بڑھا جب کہ ریحام اُسکی باہوں میں بری طرح سے مچلنے لگی۔۔۔
“جلدی سے اُسے یہاں سے نکالو ورنہ تمہارے ساتھ ساتھ آج اُسکی لاش بھی تمہارے گھر والوں کو تمہارے بیڈ روم سے ملے گی۔۔!!
وہ واش روم کا دروازہ کھول کر تیزی سے اندر داخل ہوا اور اُسے نیچے اتار کر وہ آگے بڑھا اور شاور کھول کر تیزی سے ریوالور پیچھے سے نکال کر اُسکی آنکھوں کے سامنے کرتا آہستگی سے بولا کیونکہ باہر دروازہ کھلنے کے ساتھ ایزل کی آواز واش روم میں داخل ہونے سے پہلے اُسنے سن لیا تھا۔۔۔
ریحام نے اُسے غصے سے گھورا اور اپنے گیلے شولڈر تک آتے بالوں کو پیچھے کرنے لگی کیونکہ شاور کے نیچے وہ دونوں کھڑے مکمل بھیگ رہے تھے۔۔
“ری برو آپ شاور لے کر جلدی سے نیچے آئے سب آپ ہی کا نیچے انتظار کر رہے ہیں پھر تیاریاں بھی تو کرنی ہے ہمیں مل کر کیونکہ رات کو اذان بھائی اور رعابہ بھابھی کا ولیمہ ہے۔۔۔!!!
ایزل کی آواز واش روم کے باہر سنائی دیا تو وہ نظریں اُس پر سے ہٹاتی ایزل کو جواب دینے لگی۔۔
“اوکے آیزو تُم نیچے جاؤ میں ابھی آتی ہو۔۔۔!!
وہ پیار سے بولی۔۔
ارحام انصاری جو بنا شرٹ کے شاور کے نیچے بھیگ رہا تھا اُسکے پیار سے کہنے پر نظریں اوپر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگا جو مکمل بھیگ چکی تھیں جس کی وجہ سے اُسکی سیاہ نائیٹی اُسکے نازک سراپے سے چپک کر اُسے گستاخیاں کرنے پر مجبور کرنا چاہ رہی تھی۔۔۔
“اپنی نظروں کو لگام دو ورنہ۔۔۔!!
وہ اپنے سراپے پر اُسکی نظروں کو محسوس کرتی غصے سے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر رکھتی سرد لہجے میں بولی۔۔
“ڈارلنگ اگر نہ کرو تو کیا کرو گی تُم۔۔۔!!
قدم آگے بڑھاتا وہ معنی خیزی سے بولا۔۔
“آگے مت آنا ورنہ ممم۔میں خود کو مار دلاؤ گی۔۔۔!!
وہ اسکے قدموں کو اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر واش روم کے دروازے کی جانب تیزی سے بڑھی اور دروازے کے سائیڈ پر لگے الیکٹرک بورڈ پر اپنے گیلے دونوں ہاتھوں کو لے جاتے ہوئے بولی۔
“شوق سے رکھ لینا بیوی اِس پر اپنے نازک کومل ہاتھ لیکن میری خواہش پوری کرنے کے بعد۔۔۔!!
اُسکے مقابل پہنچ کر اُسے کندھوں سے پکڑ کر تیزی سے شاور کے نیچے دوبارہ کھڑا کرتا معنی خیزی سے بولا نظریں ہنوز اُسکے بھیگے سراہے پر مرکوز تھیں۔۔۔
ریحام اُسے شرٹ لیس دیکھ کر تیزی سے اپنی نظروں کو اُسکے مضبوط وجود سے ہٹا کر نیچے فرش پر گرتے پانی کو دیکھنے لگی دوسری جانب ارحام انصاری جو مخمور نظروں سے اُسکے سراپے کو دیکھ رہا تھا ہاتھ آگے بڑھا کر اُسنے ایک ہی جھٹکے سے اُسکی نائیٹی کی ڈور کو کھولا اور نائیٹی کو شولڈر سے آہستگی سے ہٹانے لگا۔۔۔
“یہ تُم کیا کر رہے ہو چھوڑو مجھے۔۔۔!!
اُسکے ٹھنڈے ہاتھوں کو وہ اپنی شولڈر پر محسوس کرتی شدت سے لرزتی ہوئی آواز میں بولی وہ نظریں ہنوز شرم سے نیچے جھکائے ہوئے تھی لیکن اُسکی نظریں اور ہاتھوں کا لمس وہ اپنے وجود پر محسوس کر رہی تھی اُسے لیے تو اُسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔۔
“بیوی وہی کر رہا ہوں جو پہلے کرتا تھا تُم سے محبت کا کھیل اور آج تو تُم خود موقع دے رہی ہوں تو میں کیسے اِس موقع سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔۔!!
نائیٹی کو جھٹکے سے اُسکے نازک سراپے سے ہٹا کر نیچے پھینکتے ہوئے اُسے مخمور نظروں سے دیکھنے لگا جو اپنے دونوں ہاتھ تیزی سے اپنے وجود سے نائیٹی ہٹتے سینے پر رکھ کر کانپ رہی تھی۔۔۔
“ڈارلنگ بس یہ دن میرا پھر تُم آزاد۔۔۔!!
نائیٹی کو پیروں سے سائیڈ پر کرتا وہ آگے بڑھا اور اُسکے نازک وجود کو باہوں میں بھرتا واش روم سے باہر نکلا اور بیڈ کی جانب بڑھ کر اُسے بے دردی سے بیڈ پر پھینک کر اُسکی مزاحمتوں کو خاطر میں لائے بغیر وہ اُسے تسخیر کرنے لگا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“سویٹ جنگلی بلی تُم اِس سرخ کپڑوں میں بہت زیادہ خوبصورت لگ رہی ہو ۔!!
رعابہ جو اپنے لمبے بالوں پر برش پھیر رہی تھی یکدم سے اُسے اپنے پیچھے کھڑے ہو کر اور پھر اپنے حصار میں لے کر کہنے پر شرم سے گلال چہرہ لیے برش نیچے کرتی اور اپنی نظریں جھکا کر کپکپاتی آواز میں بولی۔۔
“اذان پلیز اب کوئی شرارت نہیں سب ہمارا باہر انتظار کررہے ہونگے۔!!
شرمیلی آواز میں کہتی وہ اذان شاہ کے لبوں پر مسکراہٹ سجانے کا باعث بنی اچانک سے وہ اُسے کندھوں سے پکڑ کر رخ اپنی جانب کرتا ٹھوڑی سے پکڑ کر اُسکا گلال چہرہ اوپر اٹھا کر مخمور لہجے میں بولا۔۔
“مسسز شرارت تو اب مجھے لازمی کرنا پڑے گا ورنہ ہمارے کیوٹ سے بے بی اِس دنیا میں کیسے آئے گے۔۔!!
اُسکی بے باک بات پر رعابہ اُسکی گرفت میں سٹپٹا کے رہ گئی پھر یکدم سے وہ بری طرح سے مچلتی اُسکا حصار توڑنے لگی۔
“اذان آپ بہت بے شرم ہوگئے ہیں۔۔!!
اُسکے مضبوط بازوؤں میں بری طرح سے مچلتی وہ خفگی سے بولی تو اذان اُسکی بات پر مسکرایا اور اُسکی پیشانی کو چھوم کر اسے خود سے الگ کر کے پیچھے کھڑا ہوا اور اُسکے سرخ چہرے کو مسکرا کر دیکھنے لگا۔۔
“میری جنگلی بلی اب اِس میں شرم کیسی اور ویسے بھی اب تو میں نے اِس رشتے کے بعد اپنا شرم کسی کنوارے کو بھیج دیا ہے اِس لئے شرم مشکل سے میرے آس پاس بھٹکا کرے گا۔۔!!
معنی خیزی سے اُسکے سرخ کپڑوں میں ملبوس خوبصورت سراپے کو طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے بولا تو رعابہ اسکی معنی خیزی سے کہنے پر اور اُسکی نظروں کو اپنے اوپر محسوس کرتے شدت سے کانپتی تیزی سے آگے بڑھ کر روم کے دروازے کی جانب بڑھی تھی۔
تبھی اذان شاہ نے اتنی ہی پھرتی سے اُسے پیچھے سے پکڑا اور اُسکے پیٹ پر اپنے دونوں مضبوط ہاتھوں سے لاک لگاتا اپنا سر اُسکی شولڈر پر رکھتا اُسکے چہرے کو بغور دیکھنے لگا۔۔
“اذان پلیز آپ مجھے چھوڑے ورنہ کوئی آ جائے گا تو کیا سوچے گا۔۔!!
شرم سے گلال چہرہ لیے وہ اپنے پیٹ پر رکھے اُسکے ہاتھوں کو ہٹانے لگی تو اذان شاہ نے اپنے ہاتھ پر رکھے اُسکے نازک سفید ہاتھ پر اپنا ایک ہاتھ رکھا اور اُسکی گردن پر اپنا لمس چھوڑا۔۔
“جانم یہی سوچے گا کہ میاں بیوی شرم کو بھول کر ایک دوسرے کو کھوج رہے ہیں۔۔۔!!
بوجھل آواز میں کہتا اُسکا رخ اپنی جانب کرتے ہوئے اسنے اپنے لب اُسکے نازک لبوں پر رکھے اور شدت سے اُسکی سانسوں کو بری طرح سے منتشر کرنے لگا۔۔
رعابہ اُسکی لمس پر شدت سے کانپی اور پھر بری طرح سے مزاحمت کرنے لگی جبکہ اذان نے آرام سے گردن کے سائیڈ سے اُسکے لمبے سلکی بالوں کو ہٹایا اور اپنا لب اُسکی نازک گردن پر رکھا۔۔۔
“بگ برو ائینڈ سویٹ بھابھی صبح کے بارہ بج رہے ہیں جلدی سے نیچے آ جائے ورنہ ہمیں ڈیڈ کو اپکے روم میں لانا پڑے گا۔۔!!
اچانک باہر سے سام اور شام کی آواز نے اُسے بدمزہ کیا اور وہ رعابہ سے الگ ہوتا دروازے کی جانب ایسے گھورنے لگا جیسے وہ دروازہ نہیں شام اور سام ہو جبکہ رعابہ جو شرم سے اُسکی لمس پر بری طرح سے کانپ رہی تھی سام اور شام کی آواز پر اُسکے تیزی سے ہٹتے ہی گہری سانس لے کر اُسکے غصے سے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھتے ہوئے مسکرانے لگی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“کنگ یہ آپ مجھے کہا لیں کر آئے ہیں اور پلیز آپ مجھے نیچے اتارے۔۔!!
حور پریشانی سے سامنے ایک خوبصورت مگر چھوٹے سے کیمپ کی جانب دیکھتی اے بی سے بولی جو اُسے گھر کے پیچھے کے دروازے سے خاموشی سے اُسی طرح اپنی باہوں میں اٹھا کر یہاں لے کر آیا تھا جو کہ شاید اُسکے گھر سے کافی نزدیک تھا جو اُسے پیدل چل کر یہاں تک لایا تھا۔۔
“سنو وائٹ آج کا دن ہمارے لئے بہت خوبصورت ہے تو میں اپنی جان کو سرپرائز دینا چاہتا ہو اِس لئے میں تمہیں یہاں اپنے سسسرِ محترم اور اپنے یار سے چھپ کر لایا ہوں۔۔!!
اے بی نے مسکرا کر اُسکے حسین چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو حور اُسکی بات پر اپنے بابا اور گھر والوں کو سوچنے لگی کیونکہ اُسکے اچانک سے غائب ہو جانے پر سب گھر والے پریشان ہو جائے گے انکے بارے میں سوچ کر وہ یکدم سے بری طرح سے گھبرانے لگی۔۔
“کنگ آپ جلدی بابا کو فون کر کے بتائے کہ میں آپ کے ساتھ ہو ورنہ وہ بہت پریشان ہونگے۔۔!!
وہ گھبراہٹ میں اپنے ہاتھ اُسکی گردن پر رکھ کر بولی۔۔۔
“جان وہ کیسے کرو گا میں میرا تو فون تمہارے بیڈروم میں رکھا ہے اور ویسے بھی آج ہمارا آج اشپیشل دن ہے تو بھلا میں کیوں اُسے برباد کرنا چاؤ گا اور تمہیں یاد ہے ڈارلنگ آج کا دن۔۔!!
اے بی نے اُسے خوبصورت کمیپ کے قریب لا کر آرام سے نیچے اتارا اور اُسکے دونوں نازک ہاتھوں کو پکڑ کر آج کے دن کے حوالے سے پوچھنے لگا۔۔۔
“کنگ بہت اچھے سے یاد ہے آج کی تاریخ کو تو ہم پہلی بار ملے تھے تین مارچ کو بھلا میں کیسے بھول سکتی ہو اس تاریخ کی وجہ سے تو مجھے ایک کھڑوس ضدی انسان ملا تھا۔۔!!
اپنے دونوں ہاتھ کو اُسکی گرفت میں دیکھ کر وہ مسکراتے ہوئے بولی تو اے بی اُسکے اِس دن کو یاد رکھنے پر وہ خوبصورتی سے مسکرایا۔۔
“سنو وائٹ آج کا یہ پورا دن میں تمہارے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں تو کیا تم آجکا پورا دن میرے نام کر سکتی ہوں۔۔!!
اپنی چوڑی ہتھیلی اُسکے آگے بڑھا کر وہ گھمبیر لہجے میں بولا تو اُسکے پوچھنے پر حور نے شرماتے ہوئے اپنا نازک ہاتھ اُسکی چوڑی ہتھیلی پر رکھ کر سر ہاں میں ہلایا تو اے بی اُسکی رضا مندی پر خوشی سے اُسے جھٹکے سے اپنے سینے سے لگاتا وہ اپنا لب اسکی گردن پر رکھتا اُسے کانپنے پر مجبور کرنے لگا۔۔
“سنو وائٹ اندر میں نے تمہارے لئے ایک ڈریس رکھا ہے جاؤ جا کر اُسے پہن کر آؤ تب تک میں ناشتے کے لیے جو لایا ہو وہ ٹیبل پر لگاتا ہوں۔۔!!
اے بی اُسے الگ کرتے ہوئے بولا تو حور سر ہاں میں ہلاتی کمیپ کی جانب بڑھی اور اندر داخل ہو کر کمیپ کے اندر نیچے لگے سرخ پھولوں سے ڈھکے بیڈ کو دیکھتی شرم سے سرخ چہرہ لیے آگے بڑھی جہاں ایک باکس رکھی ہوئی تھی۔۔
