No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
“پاپا میں اور حور کراچی پڑھنے جا رہے ہیں۔گھومنے نہیں جو آپ یہ ڈریس لے کر دیں رہے ہیں۔؟؟
یہ منظر لندن کے ایک مہشور پاکستانی بوتیک کا تھا۔جہاں ایک سوبر شخص ایک چھوٹے بالوں والی لڑکی کو ڈریس دیکھا رہے تھے۔جبکہ وہ منہ کے زاویے بگاڑ کر ڈریس پھینکتے ہوئے مسلسل انہیں ریجیکٹ کر رہی تھی۔
“ریحام بیٹا پاکستان میں اِس طرح کی ڈریسنگ کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اپنی حور بٹیا کو ہی دیکھ لیں آپ وہ پاکستانی ڈریس میں کتنی کیوٹ لگ رہی ہے۔”
وہ شخص جو کہ شاید ریحام نامی لڑکی کا باپ تھا اسکے لڑکوں والے حلیے کی جانب اور دوسری طرف سامنے کھڑی ایک چھوٹی سی کیوٹ لڑکی کی جانب اشارہ کرتے ہوئیں کہنے لگے۔جو پنک فراک پہنے پرستان کی معصوم پری لگ رہی تھی۔
“ری پاپا ری.!!! آپ مجھے اسی نام سے بلایا کرے آپ سے کتنی بار کہنا پڑے گا کہ مجھے یہ نام سخت زہر لگتا ہے۔اور آپ ہر دفعہ ریحام کہہ کر میرا موڈ سخت خراب کر دیتے ہیں۔”
وہ سخت خفا ہو کر اپنے چھوٹے اور سنہرے دائے کیے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئیں بولی۔۔حور جو سامنے صوفے پر بیٹھی اُنکی بحث کو کب سے برداشت کر رہی تھی۔وہ صوفے سے تیزی سے اٹھی اور شروع ہوگئی۔
“چھوٹے پاپا لگتا ہیں۔یہ ری برو میرے ساتھ کراچی آنا نہیں چاہتے۔اِسی لئے وہ اتنے ڈرامے کر رہے ہیں۔میں ڈیڈی سے کہہ کر انکی ٹکٹ کینسل کروا دیتی ہو۔”
گلابی گال اور سرخ ہونٹ اوپر سے ناک پر پھسلتے گلاسس کو درست کرتیں وہ ریحام کو چھیرتی بہت زیادہ کیوٹ لگ رہی تھی۔جبکہ ری حور کی بات پر اُسے گھور کر بولی۔
“خبردار کیوٹی اگر تم نے بڑے پاپا سے کچھ الٹا سیدھا کہا۔تو میں بھول جاؤ گا۔کہ آپ میری بڑی بہن ہے۔”
ری اس لڑکی کیں ایک سال بڑی ہونے کا فرق بھلائے چیخ کر اُسے دھمکی دیتے ہوئے بولی۔تو حور اپنی نظریں اُس شخص پر مرکوز کرتیں مسکرا کہ اِنہیں چپکے سے وکٹری کا نشان دیکھا کر کہنے لگی۔
“ایک شرط پر اگر میں آپ کو برو کہنے کے بجائے سسٹر کہہ کر بلاؤ اور آپ بھی ایک خوبصورت مشرقی لڑکی بن کر اگر میرے ساتھ وہاں چلے گے۔تو میں ڈیڈی سے کچھ نہیں کہوں گی۔”
حوراپنا سرخ و سفید نازک ہاتھ اُس کی جانب بڑھا کر بولی۔تو ری اُسکی شرط سن کر سختی سے اسکے آگے پھیلے نازک ہاتھوں کو گھورنے لگی۔
“ناممکن مجھے لڑکی لفظ سے سخت نفرت ہے۔اور کیوٹی آپ چاہتی ہو۔کہ میں ایک مشرقی لڑکی بن کر وہاں کے یو میں کسی معصوم دوشیزہ کی طرح ڈوپٹے کا پلو ہونٹوں میں دبا کر شرماتی ہوئیں گھومو نو نیور۔”
ری سخت غضبناک ہو کر بولی۔تو اُس کی بات پر آدمی اور حور کا دل چاہا کہ وہ اپنا ماتھا زور سے پیٹ لیں۔۔۔۔تبھی دو جڑواں لڑکوں نے آکر حور کو دائیں بائیں سے پکڑا اور زور سے اسکے کان کے قریب چیخے۔
“بگ سسس آپ لوگوں کی یہ سالانہ شاپنگ کب ختم ہوگی۔ہمیں بہت تیز بھوگ لگ رہی ہیں۔۔اور یہ ری برو چنگیز خان (ڈیڈی)کیوں بنی ہے۔”
اب کے اُنکی نظریں ری کے سخت چہرے پر پڑی تو وہ یک زبان ہو کر بولے۔جبکہ ری نے اُنہیں غصے سے گھورا اور آگے بڑھ کر اپنا کوٹ جو آنے سے پہلے سامنے اُس نے اسٹینڈرڈ پر لٹکایا تھا۔اٹھا کر پہنا اور بوتیک کے باہر کھڑی اپنی نیو ماڈل اسپورٹ کار کی جانب بڑھنے لگی۔
“سمی، شام غلط بات بچے وہ پہلے سے ہی سخت غصے میں ہے اور اُسے آپ لوگ اور زیادہ بھڑکا رہے ہیں۔۔۔۔اور ہاں چلوں یہاں سے جلدی نکلتے ہے ورنہ وہ جو گھر میں آپ لوگوں کے ڈیڈی ہمارا انتظار کر رہے ہیں نا۔اِس سے پہلے کے چنگیز خان بن کر یہاں پہنچے ہمیں گھر جلدی پہنچنا چاہیے۔”
وہ اُن تینوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولے۔تو وہ دونوں بھائی اپنے ڈیڈی کا نام سن کر گھبرا گئے جبکہ حور کے خوبصورت گلابی پنکھڑیوں جیسے ہونٹ اپنے بابا کے نام پر مسکرااٹھے تھے۔
💕💕💕💕💕💕
“شاہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔؟؟
حنیہ کچن میں اِس وقت برنر کے سامنے کھڑی سب کے لیے ناشتہ بنا رہی تھیں۔پیچھے سے کسی نے آکر اُسے محبت سے اپنی آغوش میں بھرا اور پھر پشت پر پھیلے اُسکے بالوں کو نرمی سے آگے کی جانب کرتیں ہوئے اپنے لب اُسکی گردن پر رکھے تھے۔تو حنیہ اِس لمس پر شرم سے اپنا سرخ چہرہ لیے پیچھے کی طرف مڑ کر نروس ہو کر بولی۔
“اپنی خوبصورت اور شرمیلی وائف کو پیار کر رہا ہو۔جو کہ بچوں کے ہوتیں ہوئے مجھے ناممکن لگتا ہے۔ویسے آج موقع بھی ہےاور دستور بھی کیوں نا وائفی ہم سمیر اور شمعون کیں لیے ایک اور بہن لانیں کا بندوست کرے تو پھرکیا خیال ہے۔”
وہ اپنےدونوں ہاتھ محبت سے اُسکے گالوں پر پھیرتا بے باکی سے بولا۔تو حنیہ نے شرم اور غصے سے سامنے رکھے بیلن کو اٹھا کر خفت سے اُسکے چوڑے سینے پر مارا تو شاہ اُسکی حرکت پر اُسکے مزید قریب ہو کر اُسے اور زیادہ نروس کرنے لگا۔
“شاہ آپ بوڑھے ہونے کے ساتھ اور زیادہ بے شرم ہوتے جا رہے ہیں۔کنٹرول کریں اپنی اِن بے شرموں والی حرکتوں کو ورنہ میں ایک منٹ میں ختم کرنا جانتی ہو۔بیٹی کی شادی کی عمر ہو رہی ہے۔اور یہاں باپ کی شوقیہ ختم ہونے کے بجائے اور بڑھ رہی ہیں۔”
وہ خفگی سے اُسے خود سے دور کرتیں ہوئے بولی۔تو شاہ بخت تیزی سے آگے بڑھا اور اسے دوبارہ سے اپنے آغوش میں لیں کر وہ اسکے ہونٹوں پر جھکا اور سختی سے اُسنے اُسکے کندھوں پر ہاتھ رکھے اور اپنی شدت اُسکے لبوں پر لٹانے لگا۔
“وائفی میں بھلے ہی کیوں نہ بوڑھا ہو جاؤ لیکن یہ میری بے شرموں والی عادت میرے دادا بننے تک بھی اسی طرح قائم رہے گا۔”
اُسے کاؤنٹر سے لگائیں وہ اپنے دونوں ہاتھ دائیں بائیں ایسے رکھے ہوئے تھا جیسے کہ اُسے اِس دنیا سے چھپانا چاہتا ہو۔
جبکہ حنیہ اُسکی بے باکی سے کہنے پر شرم سے گلال چہرہ لیے نظریں جھکائے کھڑی تھیں۔کہ یکدم سے باہر کار کی آواز سن کر شاہ اُس پر ایک محبت بھری نظر ڈال کر پیچھے ہٹا۔حنیہ اُسکے دور ہٹتے ہی ایزی ہو کر دوبارہ سے ناشتہ بنانے میں مصروف ہوگئی تھی۔
دوسری جانب شاہ بخت کچن سے باہر نکلا اور لاؤنج کی جانب بڑھا جہاں ری سخت غصے میں منہ پھلا کہ صوفے پر بیٹھی دوئیں تھی۔اور اِسکے گھٹنوں پر اپنا ہاتھ رکھے حور اُسے کچھ کہہ رہی تھی۔
وہ اُسکے وہاں آتے خاموش ہو کر دائیں جانب رکھے صوفے پر بیٹھ کر اپنے دائیں جانب صوفے پر خاموش بیٹھے اپنے چھوٹے پاپا کو دیکھنے لگیں۔جو سامنے سر جھکا کر کھڑے سام اور شام کو دیکھ رہے تھے۔جو کہ اپنے ڈیڈی کو دیکھ کہ اپنا سر جھکا کر ادب سے کھڑے ہو گئے تھے۔
“آج ہمارا شیر بچہ غصے میں کیوں ہے۔؟؟
شاہ اُسکے مقابل صوفے پر بیٹھ کر ری کے غصے سے تنے چہرے کو بغور دیکھتے پیار سے پوچھنے لگا۔
“بڑے پاپا اِن سے پوچھیں۔؟؟
دونوں ہاتھ سینے پر باندھے وہ سخت نظروں سے اُن تینوں کو گھورتے ہوئیں بولی۔تو شاہ بخت نے اُن تینوں کی طرف غصے سے دیکھا لیکن کہا کچھ نہیں۔
“چنگ۔س۔ سوری ڈیڈی آئی مین، میں کہ رہا تھا یہ اپنی برو بوتیک میں پاکستانی ڈریس لینے سے بار بار چھوٹے پاپا کو انکار کر رہی تھیں۔لیکن چھوٹے پاپا زبردستی وہ ڈریس لینے کے لئے اِنہیں فورس کر رہے تھے۔کیونکہ وہ برو کو پاکستان صرف ایک شرط پر بھیجنا چاہتے ہیں۔جب تک ری پاکستانی ڈریس نہیں پہنے گیں۔وہ تب تک اِنہیں جانے کی اجازت بلکل بھی نہیں دے گے۔”
سام اپنے باپ شاہ بخت کو چنگیز خان کہنے ہی والا تھا۔کہ اِنکی سخت گھوری پر وہ تیزی سے نظریں نیچے جھکا کر جلدی سے بولا۔تو اُسکی بات پر شاہ نے اپنی نظریں سعدی پر جماتے ہوئے کہا۔
“چھوٹے کیا یہ سچ ہے۔آپ ری بچے کو زبردستی ڈریس دلا رہے تھے۔؟
سخت غضبناک تیور لئے وہ سعدی کو سختی سے گھورتے ہوئے بولا۔تو وہ دونوں بھائی گھبرا کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔جیسے ابھی شاہ بخت انہیں موت کی سزا سنائے گا۔
سعدی شاہ بخت کی تیز نظروں کو خود پر محسوس کرکے اپنی نظریں اٹھا کر سامنے پریشانی سے کھڑی اُن تینوں کو دیکھتی حنیہ کی جانب مرکوز کرتیں اُن سے التجا کرنے لگا۔
“نن۔نہیں بھائی میں بھلا کیوں ری بٹیا کو زبردستی ڈریس دلاؤ گا۔آپ تو اچھے سے جانتے ہیں کہ پاکستان میں اِس طرح کی ڈریس پہننے کو ۔”
“دیکھا آپ نے بڑے پاپا ڈیڈی کیسے ٹیپیکل پینڈو قسم کے انسانوں جیسی باتیں کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں۔کہ میں یہ پاکستانی ڈریس پہنو بڑی مما آپ بھی اِن سب ڈریسز کو دیکھیں زرا کیا یہ میرے اور کیوٹی کے پہننے لائق ہے۔اتنے ہیوی ڈریسز۔۔افففف بڑے پاپا ابھی سے یہ سوچ کر مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ میں کیوں پاکستان جانے کے لئے مان گئی ہو۔”
سعدی آگے اپنی بات مکمل کرتا اس سے پہلے ری شروع ہوگئی وہ شاہ بخت اور حنیہ کو ایک ساتھ مخاطب کر کے بولی۔تو شاہ بخت اور حنیہ نے ٹیبل پر رکھے اتنے بھاری ڈریسز کے ڈھیر کو حیرت سے دیکھا۔
“ری بچے یاد رکھنا میں آپکو اپنا شیر بیٹا مانتا ہو۔۔۔۔۔اور آپ کے اندر یہ اعتماد میں نے پیدا اس لئے کیا تھا تاکہ آپ حور کو ایک بھائی کی طرح ہر وقت پروٹیک کریں۔۔اور آپ ابھی سے اتنی چھوٹی سی بات کو لے کر پیچھے ہٹ رہی ہے۔بچہ دیٹس ناٹ فیر مائے سولجر۔”
شاہ بخت نے اُسے کندھوں سے پکڑ کر صوفے سے اٹھاتے ہوئیں بغور اسکے چہرے کو دیکھتے سنجیدگی سے بولا۔
“بڑے پاپا میں نے پیچھے ہٹنے کے لیے نہیں بلکہ آگے بڑھنے کے لیے پاکستان جانے کے لئے ہامی بھری۔تاکہ میں کیوٹی کو تحفظ دے سکو۔اُس پر اٹھنے والی ہر بری نظروں کو نوچ کر اکھاڑ کر پھینک دو.”
وہ اپنی آواز کو بھاری کرتیں ہوئے بولی۔تو سعدی نے اُسے مردانہ آواز نکالتے دیکھا تو شاہ بخت کی جانب خفگی سے دیکھنے لگا۔
جو فخر سے ریحام کو دیکھ رہا تھا۔جسنے ریحام کو ہمیشہ ایک بیٹی کی نظر سے نہیں بلکہ ہمیشہ ایک بیٹے کی نظر سے دیکھا تھا۔اُس کے ہی لاڈ پیار نے آج ریحام کو اتنا بہادر بنایا تھا۔کہ وہ اپنے سے دو سال بڑی بہن اور دونوں چھوٹے بھائیوں کی حفاظت بڑے ہی بہادری سے کرتی تھی۔اور خود کو ایک لڑکی نہیں بلکہ ایک لڑکا سمجھنے لگی تھی۔اور آگے جا کر یہ بات کسی کے لئے ایک مسلہ بنی گی اسے بلکل بھی اندازہ نہیں تھا۔
💕💕💕💕💕💕
“جان یہ جگہ سیف ہے نا۔؟؟
اپنے ساتھی کو مطمئن دیکھ پوچھنے بنا نہ رہ سکا۔کیونکہ پچھلی بار اُن کے دو لوگ پکڑے گئے تھے۔اور آج ایک ایسی سنسان جگہ پر آئے تھے۔
جہاں پر یہ آرام سے اپنا گھٹیا کام یعنی اُن معصوم بچیوں کے اوپر جنہیں اسکول کالج ،یونیورسٹی سے اٹھا کر یہاں اپنے آدمیوں سے اُن کے اوپر تشدت کروا کر اُنکی نازیبا وڈیو بنا کر ڈارک ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنے والے تھے۔
“یس باس یہ جگہ بلکل سیف ہے۔۔۔۔اِس کام کے لئے اور یہاں قانون کے ادارے بھی نہیں پہنچ سکتے۔کیونکہ ہم ڈارک ویب جرائم کی وہ دنیا سے ہے۔جنہیں پکڑنا ممکن نہیں ہے۔”
“ٹھیک ہے۔جاؤ اور ہمارے ہیرو کو اور دو لڑکیوں کو لے کر آؤ جتنی جلدی ہم وڈیو اپلوڈ کریں گے۔اتنی جلدی مالا مال ہو جائے گے۔”
اپنے چھوٹے بھائی کو اور ان اغوا شده لڑکیوں میں سے دو لڑکیوں کو لانے کا حکم دیتے ہی اُسکے ہونٹوں پر ایک مکروہ مسکراہٹ سجتے ہی اُسے بدصورت بنا گئیں تھی۔
“برو تیرا دھیان کیدر ہے تیرا ہیرو آدھر ہے۔ آپ نے یاد کیا اور ہم حاضر ہوگئے بھائی جان۔ابے یار جانی میرے دوست جلدی کرو مجھے بہت طلب ہو رہا ہے قسم سے اتنے دنوں سے میں نے کسی آن چھوئی کھلی کو اپنے شکنجے میں لے کر کھچلا نہیں ہے۔”
ایک چوبیس سالہ خوبصورت نواجون دروازه کھول کر اندر داخل ہو کر کمینگی انداز میں کہنے لگا۔تو وہ اپنے بھائی کو دیکھ کر آگے بڑھا اور اُسے گلے سے لگاکر کھڑا ہوگیا۔
“پلیز مجھے چھوڑ دو جانے دو انکل خدا کے لئے۔؟؟
اچانک وہاں دو لڑکیوں کی سکسکیوں پر وہ دونوں الگ ہو کر سامنے کھڑے اُن لڑکیوں کی جانب متوجہ ہو کر انہیں دیکھنے لگے جو بری طرح سے رو رہی تھیں۔اور ایک سولا سالہ لڑکی باقاعدہ اپنے ہاتھ جوڑ کر سسکتے ہوئیں ان سے بولی۔
“جانے دے گے۔ضرور جانے دے گے۔تم لوگوں کو بے بی مگر اس سے پہلے ہم لوگوں کو تُمہیں انجوائے کروانا پڑے گا۔
تب سوچے گے۔ہم اِس بارے میں کیوں برو آئی ایم رائٹ۔”
“رائٹ پہلے انجوائے کرنا تو بنتا ہے۔تم لوگوں کا حق جو بنتا ہیں۔اتنا بڑا کام جو کیا ہے۔اِن معصوم لڑکیوں کو اٹھا کر۔لیکن انجوائے تم لوگوں کو اِنکے انداز میں نہیں بلکہ میں اپنے انداز میں کرواؤ گا۔”
گھمبیر آواز پر وہ تینوں پیچھے پلٹ کر سامنے دیکھنے لگے دروازے سے اندر داخل ہوتے شخص کو دیکھ کر وہ حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔
جبکہ وہ پرسرار شخص جس نے اپنا پورا چہرہ سیاه نقاب سے چھپایا ہوا تھا۔اُسکی صرف سمندر جیسی نیلی آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔جن میں آگ اُنہیں جلانے کے لیے جل رہا تھا۔اچانک وہ آگے بڑھا اور اُس لڑکے سے کہتے ہی اُسے پیچھے پھینک کر اُسنے اُسکی پیشانی پر گولی چلائی اور اپنے قدم اُنکی جانب بڑھائے۔جو اُسے خوف سے اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر کانپتے ہوئے پیچھے ہٹنے لگے تھے۔
“تت۔تم کون ہو۔۔؟؟؟
اُسے خطرناک تیور لئے اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ کانپتے ہوئے پوچھنے لگا۔تو اُسنے اُسکی جانب دیکھا جسکا چہرہ ڈر کے مارے سیاه ہو رہا تھا۔
“موت کا فرشتہ۔”
سرد انداز میں کہتے ہی اُسنے تیز دار چاکو سے اُسکے دونوں ہاتھوں کو کاٹا اور پھر چاکو پر لگے اُسکے خون کو اُسکے چہرے سے صاف کرتے وہ دائیں جانب کھڑے آدمی کی طرف متوجہ ہوا جو اُسے اپنی جانب متوجہ دیکھ کر خوف سے کانپنے لگا۔
“تم لوگوں کو کیا لگا کہ قانونی ارادے تم تک نہیں پہنچ سکتے تو تم لوگ جو چاہے کرتے رہوں گے۔اور
ہم خاموشی سے بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہے گے۔تو
یہ تمہاری سب سے بڑی بھول ہیں۔کیونکہ تم جیسے چوہوں کو مارخور اُنکے بل میں گھس کر مارتا ہیں۔”
نیلی آنکھیں اپنے وطن پر اُسکی گندی نظریں رکھنے کی وجہ سے انتقام کی وجہ سے جل رہی تھی۔
اُسکے سرخ نظروں سے اپنی نظریں ہٹا کر اپنے کانپتے وجود کو پیچھے کی جانب آہستگی سے بڑھایا تھا۔کہ وہ اُسکے جسم میں حرکت ہوتے دیکھ کر غصے سے اُسکے پیروں پر گولی مار کر خطرناک لہجے میں بولا۔
“مارخور سے چالاکی تُمہیں مہنگی پڑے گی۔مسٹر نوفل سو آرام سے کھڑے ہو کر مارخور کو سبھی سوالوں کے جواب دو۔”
پستول کا دباؤ اُسکے پیشانی پر بڑھاتے سرد لہجے میں بولا۔ وہ اپنا اصل نام سن کر سکتے میں چلا گیا۔کیونکہ یہ نام صرف اُسکے بھائی کے علاوه کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔کہ اُسکا اصل نام نوفل ہے۔
“مسٹر نوفل یزدانی مارخور آج تک خود بھی نہیں جان سکا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔تو تم سوچ سوچ کر اپنا دماغ اور خراب مت کرو۔سیدھے طریقے سے میرے سوالوں کے جواب دو۔”
ماتھے سے ہوتے پستول اُسکے سر پر رکھتے سنجیدگی سے اپنے بارے میں بولا۔تو نوفل یزدانی تیزی سے ایک ایک کر کے اُسکے سوالوں کے جواب دینے لگا۔
“گڈ مسٹر نوفل یزدانی بڑی تیزی سے اپنے اتنے سالوں کے گناہوں کو موت کے فرشتے سے دسکس کر کے تم نے اپنے گناہوں میں کمی تو نہیں کیا لیکن تم نےاپنی موت ضرور آسان کر دیا ہے۔مسٹر نوفل یزدانی تیار ہو جاؤ مرنے کے لئے کیونکہ مارخور پاک آرمی والوں کی طرح رحم دل نہیں ہے۔وہ اپنے مجرم کو اتنے دنوں اپنے پاس رکھ کر پھر اُن کو اُسکے انجام تک پہنچاتا ہے۔مگر مارخور اپنے مجرم کو ایک ہی منٹ میں اُنکے انجام تک پہنچا دیتا ہے۔”
پیشانی کے بیچوں بیچ نشانہ لے کر بے سرد لہجے میں کہتے ہی گولی چلاتے ہوئے پرسرار انداز میں مسکرانے لگا۔
💕💕💕💕💕💕
میٹنگ روم میں سب اُسی کا بے صبری سے ویٹ کر رہے تھے۔جو کہ اِس میٹنگ کے لئے بہت ہی اہم تھا۔ کیونکہ اُسکے ایک ہی اشارے پہ یہ کنٹریکٹ یہاں بیٹھے سبھی معروف بزنس مینوں میں سے کسی ایک کو ملنے والا تھا۔اور ان میں سے سید شازم علی شاہ بھی تھا جو کب سے بے زاری سے بیٹھا اُس کا انتظار کر رہا تھا۔
“یہ اذان شاہ آخر کب تک آئے گا۔؟؟
آج تک اُسنے کسی کے لئے اتنا ویٹ نہیں کیا تھا۔جو پاکستان کے معروف بزنس مین سید حنین بخت شاہ کے بھتیجے سید اذان شاہ کا کر رہا تھا۔
“سر بس تھوڑا سا اور ویٹ کرلیں.”
اُسکے پی اے نے ہلکی آواز میں اُس سے کہا۔تو اُسکی بات پر غصے سے اُسے گھورتے ہوئے نظریں سامنے دروازے پر مرکوز کرتے ہوئے پھر سے اذان شاہ کا انتظار کرنے لگا۔
“ہیلو ایوری ون.؟؟
دروازہ کھول کر سید اذان شاہ کا سیکرٹری ان سب سے کہہ کر اندر داخل ہوا اور سائیڈ پر ہو کر سر جھکا کر اُس کے لئے ادب سے دروازہ کھولے کھڑا ہو گیا تھا۔
سید اذان شاہ کو وہاں دیکھتے ہی سبھی بزنس مین کھڑے ہوکر اُسکا ویلکم کرنے لگے تو اُس نے بھی کھڑے ہوکر اپنی تیز نظروں سے اُس خوبرو نوجوان کو گھورتے ہوئے ویلکم کیا۔جو کہ اُن سب کو سنجیدگی سے شکریہ کہتے قدم پہلی
رو کی جانب رکھے کرسیوں کی جانب بڑھانے لگا۔
“مسٹر اذان شاہ یہ میٹنگ شروع کرنے سے پہلے کیا میں آپ سے ایک سوال پوچھ سکتا ہو۔؟؟
شازم شاہ اُسکے سنجیدہ چہرے پر نظریں جمائے سنجیدگی سے اُس سے اجازت لینے لگا۔جو کہ اب وہ سربرائی کرسی پر بیٹھ چکا تھا۔اور اُسکے سوال پر وہ ترچھی نگاہوں سے اُسے دیکھ رہا تھا۔
“یس مسٹر آپ پوچھ سکتے ہیں۔”
شازم اُسکے لہجے میں اپنے لئے وارننگ صاف محسوس کرکے اُسے گھورنے لگا۔جسے خاطر میں لائیں بغیر اذان شاہ کرسی سے ٹیک لگا کر اُسکے چہرے کو بغور دیکھنے لگا۔جیسے وہ اُسکے چہرے پر کچھ کھوجنا چا رہا ہو فریب ڈھونڈنا چا رہا ہو۔
“مجھے یہ بات بلکل بھی ہضم نہیں ہو رہی کہ اذان شاہ آپ اتنے بڑے کامیاب بزنس مین آخر بنے تو بنے کیسے۔؟؟
شازم نے طنزیہ انداز میں اُسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔تو اذان شاہ نے سخت نظروں سے اُسے دیکھا تو اُسکے سیکرٹری نے اذان شاہ کے چہرے کے سخت تاثرات دیکھے تو وہ اپنی سے اٹھا اور تیزی سے اُسے سائیڈ پر لیں جاکر اُسے ہلکی آواز میں سمجھانے لگا۔
“سر یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔اگر غصے میں آ کر اذان شاہ نے یہ کنٹریکٹ کسی اور کو دیا تو ہمارا کروڑوں کا نقصان ہو جائے گا۔”
شازم ابھی تک اپنی تیز نظریں اذان شاہ پر مرکوز کیے ہوئے تھا۔جو اُسے ہی غصے سے دیکھ رہا تھا۔وہ اپنے سیکرٹری کی بات پر اُس نے مشکل سے خود کو کنٹرول کیا اور کوٹ جھاڑ کر اپنی کرسی کی جانب بڑھنے لگا۔
“مسٹر ایس وائے زید آپ جو بھی ہے۔ اس طرح اپنا سوال ادھورا نہیں چھوڑ سکتے۔میں بھی تو جانو کہ آپ کے اندر ایسی کونسی بات ہے جو آپ کو بد ہضمی ہوگئی ہے۔”
روم میں اذان شاہ کی سرد آواز گونجی جسے سن کر اُسکا سیکرٹری خوف سے کانپ اٹھا تھا لیکن وہ اُسی طرح کھڑا اُسے سخت نظروں سے دیکھ رہا تھا۔فرق صرف اتنا تھا۔کہ پہلے کی نسبت اب وہ اُسے صرف گھور رہا تھا۔کہ کچھ نہیں رہا تھا۔
“ایز یو وش مسٹر اذان شاہ جیسے آپکی مرضی۔۔۔۔۔۔آپ کو میری اِس بدہضمی کے بارے میں جاننے کا اتنا شوق ہو رہا ہے۔تو مجھے اب بتانا ہی پڑے گا۔کئی ایسا نہ ہو کہ آپ کو میری بدضمی کا سوچ کر رات بھر نیند نہ آئیں۔”
اُسکی بات پر اذان شاہ اپنی مٹھیاں سختی سے بھینچنے لگا۔
“مسٹر شازم علی شاہ آئی ایم رائٹ۔؟؟
سامنے ٹیبل پر نیم پلیٹ پر بغور دیکھتے اذان شاہ نے اُس سے تصدیق چاہی تو شازم نے طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے اپنا سر ہاں میں ہلایا۔
“مسٹر شازم علی شاہ۔!!!! اذان شاہ کے سامنے بکواس اتنی کرو جتنا سہنے کی طاقت آپ جیسے کمزور انسان میں ہو۔ورنہ یہ بکواس آپ کو کسی دن مہنگی بھی پڑ سکتی ہے۔”
اذان شاہ مسکراتے ہوئے اُسے وارننگ دیتے ہوئے بولا۔تو شازم اُسکے وارننگ پر سختی سے اپنی مٹھیاں کھسنے لگا۔
“یہ میٹنگ میں نے اِسی لیے رکھا تھا۔۔۔۔۔۔تاکہ میں آپ لوگو میں سے کسی ایک محنتی اور ذہین بزنس مین کو اپنا یہ نیو پروجيکٹ دو۔۔۔۔تاکہ پروجیکٹ کو لیں کر وہ محنت اور ایمانداری سے کام شروع کر دے۔
لیکن مسٹر شازم علی شاہ کو دیکھ کر مجھے ایسا نہیں لگ رہا کہ وہ ایک ذہین اور محنتی بزنس مین ہے۔”
سب پر ایک طائرانہ نظر ڈال کر شازم کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔تو یکدم سے شازم کو کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا۔
“What do you mean sir??
شازم نے اُسے سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“Mean
“مسٹر شازم علی شاہ مجھ سے الجھ کر تم نے اچھا نہیں کیا ۔کیونکہ آج تک اذان شاہ کے ساتھ جس نے اِس طرح بداخلاقی سے بات کیا ہے نا۔تو سمجھو اُس انسان کے مقدر میں اذان شاہ نے صرف تباہیاں ہی تباہیاں لکھی ہے۔”
وہ ٹھوڑی پر ہاتھ رکھتے ہوئے شازم کے چہرے کو بغور دیکھتے بولا۔تو شازم اُسکی دھمکی پر غصے سے اُسے گھورنے لگا۔
“صاف کیوں نہیں کہتے اذان شاہ کہ یہ پروجیکٹ آپ مجھے دینا نہیں چاہتے تو یہ گھوما پھیرا کہ آپ کیوں کہ رہے ہیں۔سیدھے طریقے سے کہہ دے۔”
شازم نے اپنی بے عزتی پر غصے سے مٹھیاں سختی سے بھینچتے ہوئے کہا۔تو اذان شاہ نے اپنے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھتے ہوئے آگے کو جھک کر اُسکے خفت سے سرخ پڑتے چہرے کی جانب مسکراتے ہوئے دیکھ کر وہ کہنے لگا۔
“ویری انٹرسٹنگ۔!! بداخلاق کے ساتھ ساتھ مسٹر شازم آپ ایک انٹیلیجنٹ انسان بھی ہے۔”
اِس عرصے میں پہلی بار وہ مسکرایا تھا جسے دیکھ کر وہاں بیٹھے سبھی لوگ مہبوت ہو کر اُسے دیکھنے لگے۔ کیونکہ اُسکی شخصیت میں ایک ایسی مقناطیسیت تھی جسے دیکھ کہ کوئی بھی اُسکی جانب خودبخود کھینچا چلا آتا ہے۔
💕💕💕💕💕💕
” اے بی ۔۔۔۔۔۔۔اے بی ۔”
پورے اسٹوڈیو میں صرف اُسکے نام کی پکار تھی۔شہر کی ساری لڑکیاں صرف اُسکی ایک جھلک دیکھنے کے لئے مچل رہی تھیں۔
“شانی اتنی بھیڑ میں ہم اے بی سر کو کیسے باہر لائیں گے۔۔۔۔اور یہ لڑکیاں بھی کیسے مکھیوں کی طرح بھن بھن کر رہیں ہے۔اگر اے بی سر کو اِن سب کے بارے میں پتہ چلا نا تو وہ اسٹوڈیو کو آگ لگا دے گے۔”
پروڈیوسر اسٹوڈیو میں اتنا رش دیکھ کر گھبراتے ہوئے اپنے مینیجر سے بولے۔۔۔۔جو خود بھی پریشان اِس بھیڑ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔دونوں ٹینشن کے باعث کھڑے اے بی کے ریکشن کے متعلق سوچ رہے تھے۔۔تبھی وہاں بھاٹیا صاحب نے آکر اِنہیں چونکا دیا۔
“یہ اتنی بھیڑ۔؟؟
بھاٹیا صاحب نے سامنے پاگلوں کی طرح چیخ کر بی آر کے فینز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔تو وہ دونوں نظریں چرانے لگے۔
“سوری بھاٹیا صاحب پتہ نہیں کس نے اے بی سر کے یہاں سوٹنگ کے بارے میں اِن لوگوں کو انفارم کیا ہے۔لیکن آپ ٹینشن نہ لے ہم اے بی سر کو کسی بھی طرح کرکے اسٹوڈیو سے باہر نکا لیں گے۔”
پروڈیوسر کی بات پر بھاٹیا صاحب نے پریشانی سے اپنی پیشانی مسلتے ہوئیں اندر اسٹوڈیو کی جانب دیکھا جہاں باس اپنی ریہرسل میں مصروف تھے۔اُنہیں باہر کیا ہو رہا ہے۔بلکل بھی پتہ نہیں تھا۔اور اگر اِنہیں پتہ چل گیا۔اِس سے آگے وہ سوچ کر ہی
گھبرانے لگے تھے۔
“حمر صاحب جلدی سے کسی بھی طرح کرکے اِن سب کو یہاں سے چلتا کر دیں۔۔۔۔۔ورنہ باس اتنی زیادہ بھیڑ دیکھ کر آپکی فلم کرنے سے انکار کر دے گے۔۔۔۔اور آپ دونوں باس کو اچھے سے جانتے ہیں۔کہ وہ آپ لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گے۔”
بھاٹیا صاحب جو اے بی کا مینجر تھا اُسکی اِس عادت سے اچھی طرح واقف تھا کہ اے بی زیادہ بھیڑ والی جگہوں کو سخت نا پسند کرتا ہے۔
جبکہ اندر اسٹوڈیو کی جانب اگر رخ کیا جائے تو وہاں ایک ایکٹر سامنے کھڑا اے بی کی پشت کو دیکھ رہا تھا جو سامنے اسکرپٹ لئے کھڑا اُسے سمجھا رہا تھا۔
“سر میں بہت زیادہ لکی ہو۔۔۔۔۔۔کہ میں اپنا پہلا فلم آپ کے ساتھ کرنے جا رہا ہو۔یہاں جتنے بھی نیو کمر آتیں ہیں۔اُن سب کی خواہش صرف آپ کے ساتھ کام کرنے کی ہوتی ہے۔۔۔چاہے اِنہیں پھر ولن کا رول ہی کیوں نہ پلے کرنا پڑے۔۔۔۔۔اور اے بی سر میں تو وہ پہلا ایکٹر ہو۔جو آپ کے ساتھ سیکنڈ ہیرو کا رول پلے کرنے والا ہو آئی ایم سو ہیپی۔ “
ایکٹر کی بات پر اے بی پلٹا اور اُسنے نظریں چھوٹی کر کے اُسے دیکھا جو کہ اپنی خوشی میں شاید آسمان کی بلندیوں کا سفر کر رہا تھا۔اُسنے اپنا پہلا قدم اُسکی جانب اُسے زمین پر پھٹکنے کے لیے بڑھایا۔جو مدہوش کھولی آنکھوں سے خواب دیکھ رہا تھا۔
“نو مسٹر لوزر اے بی صرف ایک ہی کافی ہے۔۔۔۔اِس فلم کے لئے۔اور تُمہیں تو ڈائیلاگ کا ڈی تک نہیں آتا۔۔۔تو پھر تم کیسے اے بی کے ساتھ کھڑے ہوکر ڈائیلاگ بولو گے۔”
اُسے زمین پر پھٹک کر پہلا تیر اے بی نے اُس پر چلا یا جس کی چھبن سے وہ ایکٹر بلبلا کر رہ گیا۔بھاٹیا نے وہاں آکر مسکراتے ہوئے اپنے باس کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔۔۔جو نیچے جھکا اُس ایکٹر سے کہ رہا تھا۔
“بھاٹیا جی یہ کس طرح کے سڑک چھاپ ایکٹر اٹھا کر لیں آتے ہیں۔۔۔۔میرے ساتھ ڈائیلاگ بولنے کے لئے۔یہ دی سپر اسٹار اے بی کی فلم ہے۔
کوئی معمولی سڑک چھاپ تھیڑ نہیں۔۔۔۔۔۔جہاں یہ ڈراما دیکھا کہ کھا پی کر سب اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔یہ سلور اسکرین ہیں۔یہاں صرف اے بی کی شکل کیں پوجا کرتے ہیں۔”
وہ ہاتھ اٹھا کر بھاٹیا کو غصے سے دیکھتے ہوئے بولا۔تو بھاٹیا اے بی کی سرخ آنکھیں دیکھ سہی معنوں میں گھبرا گیا تھا۔
” اے بی سس۔۔۔۔؟؟
بھاٹیا آگے کچھ بولتا اے بی کی انگلی اپنے چہرے کی طرف دیکھ کر وہ خاموشی سے کھڑا ہوگیا جو اُسے خاموش رہنے کے لیے اپنی انگلی فضا میں لہرائے کھڑا اپنی آنکھیں بند کر کے باہر ہوتے شور کو خاموشی سے سننے لگا۔
“بھاٹیا جی..!!آپ سے کتنی بار کہا ہے۔جہاں پر پبلک کا رش زیادہ ہوگا وہاں میں سوٹنگ کرنے ہر گز نہیں جاؤ گا۔تو پھر باہر یہ شور کیسا ہے۔”
ہونٹ سختے سے بھینچ کر وہ غصے سے بولا۔ بھاٹیا کو جس بات کا ڈر تھا وہی ہوگیا وہ آگے بڑھا اور گھبراتے ہوئے کہنے لگا۔
“سر پتہ نہیں۔۔۔۔آپ کے یہاں سوٹنگ کے بارے میں کس جاہل نے میڈیا کو انفارم کیا ہے۔۔کہ لندن کے جتنے بھی نیوز چینل ہے وہ آپکا انٹرویو لینے یہاں پر پہنچ گئے ہیں۔اور آپکے بہت سے فینز آپکی ایک جھلک دیکھنے کے لئے پاگل ہو رہیں ہے۔”
بھاٹیا کی بات پر وہ زور سے اپنے ہاتھ سامنے دیوار پر مارتے ہوئے اپنا غصہ کنٹرول کرنے لگا اور یہ دیکھ کر بھاٹیا اور زیادہ اُس سے خوف محسوس کرنے لگا تھا۔
