117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

“اذی سسسرِ محترم کے سامنے کیوں ایسا کہا کہ میں میک اپ سوٹنگ پر اچھا لگنے کے لئے کرتا ہوں اور اُسی وجہ سے خوبصورت بھی لگتا ہو۔؟؟
شاہ بخت کے روم سے باہر نکلتے ہی اے بی نے سخت غصے سے اُسے بیڈ پر دھکا دیا اور پھر خود اُسکی گردن کو زور سے پکڑ کر تیز لہجے میں بولا۔
“نن۔نہیں شاہ میرا وہ مطلب نہیں تھا وہ تو بس بڑے پاپا سے تُمہیں بچانے کے لیے میں نے کہا تھا۔!!
اذان شاہ اپنی گردن پر دباؤ بڑھتا دیکھ کر جلدی سے گھٹی گھٹی آواز میں بولا تو اے بی نے اُسے چھوڑا اور خود دائیں جانب بیٹھ کر اپنی جیب سے سگریٹ نکال کر لبوں سے لگاتا غور سے اُسے دیکھنے لگا۔
“اذی پتہ ہے میں کیوں برداشت کرتا ہوں تُمہاری اور سسسرِ محترم کی باتوں کو وہ اِس لئے کیونکہ تُم نے مجھے ڈرگز جیسی بری عادت سے چھٹکارا دلایا تھا اور سسسرِ محترم کی باتیں میں صرف اپنی بیوی کی وجہ سے برداشت کرتا ہوں۔!!
ورنہ تُم تو اچھے سے جانتے ہو کہ اے بی خود کی انسلٹ بلکل بھی برداشت نہیں کرتا ہے اور اُس انسلٹ کرنے والے کو جہنم سے بھی بدتر سزا دیتا ہے لیکن سسسرِ محترم میری سنو وائٹ کے بابا ہے اِسی لیے میں نے اِنہیں معاف کیا اور ویسے بھی اُنکو چھیڑنے میں مجھے بہت مزا آتا ہے۔!!
سگریٹ کا دھواں فضا میں چھوڑ کر وہ اذان شاہ کو اپنی سبز آنکھوں سے دیکھتے ہوئے آخر میں شریر لہجے میں بولا۔
“شاہ آپ اپنی حرکتوں کی وجہ سے کسی دن بڑے پاپا کے ہاتھوں ضرور قتل ہو جائے گیں ابھی بھی وقت ہے اِنکے سامنے اپنا اچھا امیج بنائے کہی ایسا نہ ہو وہ آپکو مار کر حوری کو کسی اور کے ساتھ رخصت کر دیں۔”
اذان شاہ نے اٹھ کر اُسے کندھوں سے پکڑ کر کہا۔
وہ جو سگریٹ کے دھوئیں سے کھیل رہا تھا اُسکی بات پر طیش میں آکر دوبارہ اُس پر پل پڑا اور ابھی وہ مکے سے اُسکے چہرے کو سرخ کرتا کہ تیزی سے پیچھے سے کسی نے آکر اُسے روکا تو وہ غصے سے پیچھے مڑا اور اُس شخص کو مارنے ہی والا تھا کہ سعد کو دیکھ کر اپنے غصے سے سرخ آنکھوں کو اذان شاہ کے چہرے پر گاڑھتے ہوئے بولا۔۔
“اذی آج تو میرے سامنے تُم نے بکواس کیا ہے لیکن آئیندہ خیال رکھنا کیونکہ اگلی بار تُمہارا باپ بھی تُمہیں بہرام شاہ کے غصے سے نہیں بچا سکے گا۔”
اذان شاہ کو تو اُسنے دھمکی دے کر چپ کروا دیا تھا لیکن اُسکی باتوں پر اُسکے دل میں ایک ڈر بیٹھ گیا تھا حور سے دوری کا ڈر سوچ کر وہ اپنا کانپتا وجود لئے حور کے روم کی جانب بڑھانے لگا۔۔
“شاہ۔؟؟
اذان شاہ اُسکے کانپتے وجود کو دیکھ کر تیزی سے اٹھا اور اُسے روکتا کہ سعد نے آگے بڑھ کر اُسے روکا اور اُسے اکیلا رہنے کا کہہ کر اُس لڑکے کو دیکھنے لگا جو زبان دارز اور بے شرم تھا لیکن اُسکے دل میں اُسکی بیٹی کیلئے جزبات اُسے خالص لگے۔
“بیٹا اُسے اکیلا چھوڑ دو اِس بار اُسے کسی اور کی ضرورت ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہ اُسے اچھے سے سنبھال لیں گی۔”
سعد نے اُسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو اذان شاہ نے حیرت سے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو مطمئن انداز میں دروازے سے ابھی ابھی نکلتے اپنے بے شرم اور ضدی داماد کو دیکھ رہا تھا۔
“ڈیڈ رئیلی آپ خوش ہے شاہ اور حوری کے رشتے سے۔!!
وہ خوشی سے اِنہیں دیکھتا بولا۔۔۔
“صبح تو اُسکی حرکتوں سے میرا دل چاہتا تھا کہ میں اُسے جان سے مار دو اور ابھی تھوڑی دیر پہلے جب اُسنے تُمہارے منہ سے جب حور کے بارے میں سنا اور پھر جو جنونی انداز میں اُسنے تُمہیں مارا اُسے دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا کہ یہ لڑکا میری بیٹی کو پاگلوں کی طرح چاہتا ہے۔”
سنجیدگی سے اپنے صبح کے جذبات اور اب کے جذبات کے متعلق اُسے بتا کر مسکرانے لگا جبکہ اذان شاہ اُنکی بات پر مسکرا کر اُنہیں دیکھنے لگا۔
💕💕💕💕💕💕
“where are you Snow White۔???
مجھے اِسطرح مت تڑپاؤں ورنہ میں مر جاؤ گا پلیز سامنے آؤ مائے کوئین دیکھو میں پھر اُسی تکلیف کو محسوس کر رہا ہو جو اٹھارہ سال کی عمر میں میں محسوس کیا کرتا تھا۔!!
روم میں داخل ہو کر وہ کانپتی ٹانگوں کو بمشکل گھسیٹ کر آگے بڑھتے ہوئے روم میں حور کو بے قراری سے ڈھونڈتے ہوئے اُسے آوازیں دینے لگا۔
آج اُسکا وجود ڈرگز کی وجہ سے نہیں بلکہ حور کے کھونے کی وجہ سے بری طرح سے کانپ رہا تھا اپنے کانپتے ہاتھوں سے سامنے بیڈ کو پکڑتا وہ مشکل سے بیڈ پر بیٹھا اور اپنی سرخ آنکھوں کو مشکل سے کھولتا روم میں اُسے دوبارہ سے ڈھونڈنے لگا۔۔
“پلیز کم بیک سنو وائٹ پلیز۔!!
آنکھوں سے آنسؤں پھسلا اور گھنی مونچھوں میں کہی گم ہوگیا اور سرخ چہرہ مزید سرخ ہونے لگا حور جو ابھی اپنے روم میں داخل ہوئی تھی کہ اُسے اپنے بیڈ پر نیم دراز دیکھ کر تیزی سے آگے بڑھی اور وہ اُسکے کپکپاتے وجود کو نازک ہاتھوں سے بمشکل اٹھانے کی کوشش کرتیں گھبرا کر اُسے پکارتے ہوئے کہنے لگی۔
“کنگ آپ ٹھیک تو ہے اور یہ کک کیا ہو رہا ہے آپ کو۔؟؟
وہ پریشانی سے اپنی نظریں اُسکے وجود پر مرکوز کرتی رو کر بولی جبکہ اے بی اپنی سرخ آنکھیں اُس پر ڈال کر اپنا کانپتا ہاتھ اُسکے گالوں پر رکھ کر مسکرانے لگا اور اٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔
“نہیں آپ اٹھے مت اِسی طرح لیٹے رہے۔”
وہ اُسے کندھوں سے پکڑ کر واپس لٹا کر خفگی سے گھورتی بولی تو وہ مسکرا کر ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے اپنے اوپر گرا کر اُسکے چہرے کو بغور دیکھنے لگا۔۔۔
“سنو وائٹ وعدہ کرو کہ تُم کبھی بھی اِس پاگل اور زبان دراز ضدی کو چھوڑ کر نہیں جاؤ گی اور اگر تُم نے مجھے چھوڑ دیا نا تو آئی سویر میں خود کو ختم کر دو گا۔!!
وہ اُسکی کمر پر گرفت سخت کرتا جنونی انداز میں کہنے لگا
حور اُسکی سرخ آنکھوں سے نروس ہو کر اپنی نم آنکھوں کو دوسری جانب کر کے وہ اُسے دیکھنے سے کترا رہی تھی تبھی اُسکی گرم سانسوں کو اپنی گردن پر محسوس کرتی نظریں اُسکے چہرے کی جانب موڑ کر اُسے دیکھنے لگی جو مخمور نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا کہ اُسکے دیکھنے پر وہ اُسکے ہونٹوں کو چھونے لگا۔۔
“پلیز کنگ۔؟؟
اُسے خود سے دور کرتی وہ نروس ہو کر بولی۔۔۔
“سنو وائٹ یہ تکلیف صرف تُم دور کر سکتی ہوں اور کوئی بھی نہیں سوچو تُم اِس وقت نا ہوتی تو میں کیسے خود کو سنبھالتا۔” اُسنے مسکرا کر کہا۔۔
اور اُسکی گردن کو چھوم کر سر اٹھا کر اُسکی گود میں رکھ کر اپنے دونوں پیروں کو بیڈ کے نیچے لٹکا کر اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے زلفوں کو کانوں کے پیچھے کرتا اُسے مخمور نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔
“پلیز آپ مجھے اِسطرح مت دیکھیں مم۔مجھے شرم آتی ہے آپ کے اِسطرح دیکھنے سے پلیز۔”
وہ سر اوپر اٹھا کر تیزی سے بولی جبکہ اے بی نے اُسکی گود سے اپنا سر اٹھایا اور اُسکے چہرے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔
“سنو وائٹ تّمہارے گالوں پر شرم سے سرخ ہوتی لالی اور اِن کپکپاتے ہونٹوں کا میں دیوانہ ہو تو اگر میں تُمہیں اِن نظروں سے نہیں دیکھوں گا پھر میں اِن رنگوں کو کیسے دیکھ سکوں گا۔۔”
انگلی سے اُسکے گالوں کو چھو کر اور اپنے ہونٹوں سے اُسکے گلاب جیسے ہونٹوں کو چھوتا گھمبیر آواز میں بولا۔۔
حور اُسکی بے باک باتوں اور لمس پر شرم سے سرخ پڑتی اپنا چہرہ جلدی سے اُسکے چوڑے سینے پر رکھ کر خود کو اُسکی بے باک نظروں سے وہ چھپا بھی رہی تھی تو اُسی کی پناہوں میں اور یہ دیکھ کر اے بی خوبصورتی سے مسکرایا اور اُسے اپنے حصار میں مقید کرتا اپنا سر اُسکے سر پر رکھتا اُسکی خوشبو کو اپنے سانسوں میں بسانے لگا۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“مس میزائیل اندر جا کر اِس وڈیو کو مت بھولنا۔؟
اپنی گاڑی اذان شاہ کے مینشن کے آگے روک کر وہ مسکرا کر سامنے دیکھتے ہوئے بولا تو ری اُسکی گھٹیا بات پر مشتعل ہو کر اُسکی جانب رخ کرتی اور اُسے کالر سے پکڑ کر سخت لہجے میں کہنے لگی۔
“بس میرے بھائی کی شادی ختم ہو جائے تو میں اِس وڈیو کو ڈیلیٹ کرنے ضرور آؤں گی کسی دن وہ بھی چھپکے سے تُمہیں پتہ بھی نہیں چلنے دو گی۔”وہ سخت غصیلی آواز میں بولی۔۔
وہ اپنی غصے کی وجہ سے سرخ ہوتی نظروں سے گھورتی ارحام انصاری کو وہ کیوں حسین بلا لگی جو کہ اُسے اپنی نظروں سے مارنے کے درپے تھی۔
“آیز یو وش مس میزائیل لیکن تُمہارا جب بھی میرے روم میں آنے کا پروگرام بنے ناں تو پہلے مجھے ضرور انفارم کرنا تاکہ تُمہارے ویلکم کی تیاری میں شان سے کرو۔”
وہ اُسے زور سے اپنے سینے سے لگاتا شریر لہجے میں بولا۔۔
ریحام جو سختی سے اُسکے کالر کو پکڑ کر اُسے گھور رہی تھی اُسکے زور سے اپنی طرف کھینچنے پر اپنے دونوں ہاتھ کالر سے ہٹاکر وہ اُسکے سینے پر رکھتی اُسے غضبناک نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔
“تیاری مائے فٹ۔!!!
میں وہاں رہنے کے لیے نہیں بلکہ تُمہیں مارنے کے لیے آؤ گی۔!
سخت لہجے اور نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی تو ارحام نے اُسے دیکھا اور اُسے اپنے سینے سے ہٹا کر بولا۔۔
“وائف اگر جب تُم میرے روم میں آؤں گی ناں تو میں تُمہیں واپس باہر جانے نہیں دو گا بلکہ تُمہیں اپنے گھر میں رہنے پر مجبور کروں گا۔”
ارحام نے اِس بار سنجیدگی سے کہا تو ری طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے کار کا دروازہ کھول کر باہر نکلی اور پھر پیچھے مڑ کر اّسے دیکھتے ہوئے بولی۔۔
“دیکھتے ہیں کہ یہ بازی کون جیتے گا میں یا پھر مسٹر انصاری تُم۔؟
وہ مسکرا کر بولی تو ارحام نے بھی مسکراتے ہوئے اپنا سر ہلایا اور کار کو پارکنگ میں کھڑا کرنے کیلئے وہ آگے جھکا اور اُسکی آنکھوں میں اپنی چمکتی ہوئی نظریں ڈال کر کار کا دروازہ بند کر دیا۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“مما جانی آپ لوگ آ گئے آپ کے لو گرو نے تو آپکو تنگ تو نہیں کیا نا۔؟؟
اے بی شازم اور دلکش کو دیکھتا تیزی سے آگے بڑھا اور مسکراتے ہوئے دلکش کے گلے لگتا شازم کو شریر نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا جبکہ شازم سائیں نے
اُسے سخت نظروں سے دیکھا۔
“برخوردار مجھے پتہ ہے کہ تُم کبھی بھی نہیں سدھرو گے اِسی لیے اب میں تُمہاری ایسی حرکتوں اور مذاقوں پر غصہ کرنے کے بجائے اِنہیں مزاق سمجھتا ہوں۔!!
شازم سائیں نے مسکرا کر کہا اور آگے بڑھ کر اُسے اپنے سینے سے لگایا وہ جانتا تھا کہ اُسکا بیٹا جیسا بھی تھا لیکن اُس سے بہت محبت کرتا تھا۔۔۔
“انکل آنٹی کیسے ہے آپ دونوں شاہ بہت ذکر کرتا رہتا ہے انکل آپ سے تو پہلے بھی ملاقات ہوئی تھی لیکن جس طرح اِس سے میں ابھی تک شرمندگی محسوس کرتا ہوں لیکن یہ سب مجھے آپ کے بیٹے نے کرنے کو کہا تھا ویسے شاہ آپ دونوں سے بہت محبت کرتا ہے خاص کر آنٹی آپکا تو ذکر سن سن کر مجھے آپ سے ملنے کا دل کرتا تھا لیکن شاہ پتہ نہیں کیوں وہ آپ لوگوں سے دور رہنا چاہتا ہے میرے آپ لوگوں سے ملنے کی بات پر ہمشیہ وہ بات بدلتا ہے اور یہ مجھے بہت عجیب لگتا ہے۔۔۔”
اذان شاہ اے بی کے ساتھ کھڑے شازم کے ساتھ کھڑی سوبر سی عورت کو دیکھتا تیزی سے اُن لوگوں کی طرف بڑھا اور جب وہاں پہنچا تو اے بی کے منہ سے اُنکے مما جانی سن کر وہ خوشی سے آگے بڑھا اور شازم سائیں کے گلے لگتا بولا۔
“بیٹا مجھے اُس وقت آپکے ری ایکشن سے بہت زیادہ غصہ آیا تھا لیکن اِس نالائق نے دوسرے دن ساری بات بتا کر میرا غصہ ختم کر دیا تھا۔۔”
شازم نے اذان کو کندھوں سے پکڑ کر مسکراتے ہوئے کہا تو اذان شاہ جو بغور اُنکا چہرہ دیکھ رہا تھا اُسے ایسا لگا جیسے وہ روز اُن سے ملتا ہے لیکن کہا یہ اُسے بلکل بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کیونکہ اُس میٹنگ کے بعد وہ دونوں آج مل رہے تھے۔۔
“بچہ آپ کی فیملی کہا ہے نظر نہیں آ رہی۔؟؟
دلکش نے نظریں پورے گھر میں ڈورہا کر اذان سے پوچھا تو وہ مسکراتے ہوئے اُنہیں دیکھتا سامنے کھڑی ایزل اور عشوہ سے باتیں کرتی حور کو اُسنے آواز دیا۔
“جی بھائی۔۔؟
وہ وہاں آ کر مسکراتے ہوئے شازم اور دلکش کو دیکھتی اذان شاہ سے پوچھنے لگی۔۔
“مما جانی یہ آپکی کیوٹ سی بہو حوریہ بہرام شاہ۔۔”
اپنی ماں کی نظروں میں شناسائی دیکھ کر اے بی نے مسکراتے ہوئے حور کو کھینچ کر اپنے ساتھ لگا کے کہا تو شازم اور اذان شاہ اُس بے شرم کی بے شرمی پر مصنوعی کھانسی کھانس کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے جبکہ دلکش اپنے بیٹے کی حرکت پر تیز نظروں
سے اُسے دیکھتی حور کو اپنے ساتھ لگاتی اُسکا ماتھا چھومنے لگی۔۔۔
“برخوردار اپنی حد میں رہا کرو ورنہ جب میں نے ایک ہی جھٹکے میں تُمہیں اپنی حد دیکھائی نا تو تُم اِس دنیا سے رخصت ہو جاؤ گے۔۔۔”
شاہ بخت کی سخت آواز پر حور کو اُسی طرح خود سے لگائے وہ تیزی سے مڑا اور کمینگی سے شاہ بخت کو دیکھے لگا جو اُسکی حرکت پر غصے سے اپنی مٹھیاں زور سے بھینچ رہا تھا۔۔
“سسسرِ محترم وہ کیا ہے نا شریف لوگ اپنی حد میں رہتے ہیں میں تو ٹھہرا بے شرم تو کہا حد میں رہ سکتا ہوں۔۔”
حور کو سختی سے اُسکی کمر سے پکڑ کر وہ معنی خیزی سے بولا جبکہ شاہ بخت اُسکی بے شرمی پر آگے بڑھا اور حور کو اُس سے الگ کرتا اپنے ساتھ لگا کر غصے سے گھورتے ہوئے بولا۔۔
“میری بیٹی یاد رکھنا کبھی تُمہارے بہکاوے میں نہیں آئے گی وہ صرف اپنے بابا کی باتیں مانے گی تمہارے جیسے لفنگے انسان کی نہیں۔”
غصیلی نظروں سے اُسے گھورتا ہوا بولا تو اذان شاہ نے آگے بڑھ کر شازم کی جانب اُنہیں متوجہ کیا جبکہ اے بی اپنے دوست کی ہوشیاری پر کمینگی سے مسکرانے لگا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اُسکا دوست اُسے پھر سے بچا رہا تھا۔۔
“بڑے پاپا یہ شاہ کے مما بابا آپ اِن سے ملے اور اُنکے بیٹے کا کارنامہ الف سے ی تک اِنہیں بتا دے اور آپکو پتہ ہے یہ خود بہت تنگ ہے اپنے بیٹے سے اِسی لیے شاہ کے بابا نے اُنہیں گھر سے باہر نکال دیا ہے لیکن آج میرے کہنے پر وہ یہاں آئے ہیں۔”
اذان شاہ کی بات پر اُسکے مسکراتے ہونٹ بھینچ گئے اور غصے سے سرخ آنکھیں اذان کے چہرے پر ڈال کر وہ اُسے کھا جانے والی نظروں سے گھورنے لگا۔۔
“اچھا کیا آپ نے جو اپنے بے شرم بیٹے کو گھر سے نکالا اگر میرا بیٹا ایسی حرکتیں کرتا تو میں گھر سے نہیں سیدھا دنیا سے گم کر دیتا۔۔۔”
شاہ بخت نے شازم کو دیکھتے ہوئے کہا تو اے بی اُنکی بات پر کمینگی سے مسکرایا اور آگے بڑھا اذان شاہ کو اُنکے سامنے کرتا بولا۔۔
“سسسرِ محترم تو یہ لیں اپنے بیٹے کو گم کر دیں اِس دنیا سے کیوں بابا ٹھیک کہا نا میں نے۔۔؟
اذان شاہ کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا جبکہ شازم اُسکے اٹھارہ سال کی عمر سے ترس رہا تھا کہ وہ ایک بار اُسے بابا کہہ کر بلائے لیکن اُسکے غصے سے کی وجہ سے وہ اپنی یہ حسرت اپنے دل میں دبا گیا تھا لیکن آج اُسکے منہ سے بابا لفظ سن کر وہ مسکرایا اور آگے بڑھ کر اُسے کندھوں سے پکڑ کر پوچھنے لگا۔۔
“بیٹا یہ تو تمہارا بہت اچھا دوست ہے پھر تم ایسا کیوں کہہ رہے ہو۔؟
شازم نے اذان شاہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو اُسنے اذان شاہ کی جانب معنی خیزی سے مسکراتے ہوئے اپنا بدلہ لینے کا سوچا اور اپنا موبائل نکال کر اُسکے اس دن کے میٹنگ والی وڈیو چلا کر سب کو دیکھنے لگا۔۔
شاہ بخت وڈیو میں اذان شاہ کو شازم سائیں سے بدتمیزی سے بات کرتے ہوئے دیکھ کر سخت نظروں سے اذان شاہ کو دیکھنے لگا جو شرمندگی سے سر جھکائے کھڑا تھا اور اُسے دیکھ کر اے بی مسکرانے لگا۔۔
“برخوردار تُمہیں تو میں کل تُمہارے نکاح کے بعد پوچھو گا ۔”
غصے سے انگلی اٹھا کر اُسے دھمکی دیتے ہوئے وہ بلند عالم کو اشارہ کرتے ہوئے اُسے پیچھے آنے کا کہہ کر خود اپنے روم کی جانب بڑھا جبکہ اذان شاہ اے بی کو گھورنے لگا لیکن شازم اور دلکش کی موجودگی میں خاموش رہا اور ڈھولکی کے فنکشن ختم ہونے کے بعد وہ اُسے سبق سیکھانے کا پلان بنانے لگا۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
“Ms. will dance with me.??
(محترمہ میرے ساتھ ڈانس کروں گی۔)
سام بلکل گوروں کی طرح اُسکے سامنے جھکا اور اُس سے اجازت مانگنے لگا۔
“یس شیور سر۔”
ایزل اسکی حرکت پر ہنسی اور اپنا نازک ہاتھ اُسکے چوڑے ہاتھ پر رکھتی بولی تو سام نے مسکراتے ہوئے اُسکا ہاتھ پکڑا اور اُسے لئے اسٹیج کی جانب بڑھا۔۔۔
Dil ki baaton ko dil sun lega
Tum yeh kaho na kaho
Ho pyaar chupana toh
In aankhon ko khamosh rakho
Chupegi na yeh chahat hai
Jo mangi thi vo mannat hai
Isse dekho yeh jannat hai
Meri mano mohabbat hai
Tumhe mujhse mohabbat hai
Mohabbat hai
Dil ki baaton ko dil sun lega
Tum yeh kaho na kaho
Tera junoon meri wafaa
Ek pal kam na ho
Tere bina jeena pade
Wo mausam na ho
Wada hai ye is jahaan mein
Jab jab aayenge
“ویل یو میری می۔؟؟
سام بیک گراؤنڈ میں چلتی میوزک اور ماحول کی پر فُسوں خیزی کے زیر اثر ایزل کی کمر پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا اور سر اُسکی گردن پر رکھ کر گانے کی بول پر وہ آہستگی سے اُسکے ساتھ اسٹیپ لے رہا تھا گھمبیر آواز میں اُسنے اُسے پرپوز کیا۔
اُسکی پرپوز پر جھٹکے سے ایزل نے اپنا سر اُسکے سینے سے اٹھایا اور اُسے ساکت نظروں سے دیکھا جو اب اپنا ایک ہاتھ اپنی پشت پر اور دوسرا اُسکی نازک کلائی کو تھام کر نیچے بیٹھا اُسے دیکھ رہا تھا۔
“وہاٹ آر یو کریزی سمیر یہ تُم کیا بکواس کر رہے ہو۔؟؟
ایزل نے غصے سے سرخ اپنی ایزل براؤن آنکھوں کو اُسکے وجیہہ چہرے پر ڈال کر کہا۔
“نو ایزو مائے لائف میں تُم سے بکواس نہیں کر رہا میں جو فیل کرتا ہوں وہ میں آج تُم سے شئیر کر رہا ہوں یہ فیلنگ خالص ہے اِسکو خدارا مزاق مت سمجھنا میں سچ میں تُم سے بہت زیادہ پیار کرتا ہوں۔!!
سام اُسکی بے یقین نظروں میں اپنی نظریں ڈالتا اٹھا اور اُسکے دونوں نازک ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیتا اپنا سر اُسکے ماتھے سے لگا کر آنکھیں موند کر بوجھل آواز میں بولا۔
“لیکن مجھے یہ سب بکواس لگ رہا ہے ہم صرف دوست ہے سامی صرف دوست اُس سے آگے تُم کچھ نہیں سوچو گے ورنہ مجبوراً مجھے یہ دوستی کا رشتہ بھی ختم کرنا پڑے گا۔!!
اُسے سختی سے خود سے دور کرتی سب کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ خوشی سے ڈانس کرتے ہوئے ایک نظر دیکھنے کے بعد اُسے دیکھتے ہوئے بولی۔
“فار گاڈ سیک ایزل مرد اور عورت کبھی بھی دوست نہیں بن سکتے اُنکے درمیان صرف ایک رشتہ بن سکتا ہے اور وہ نکاح کا خوبصورت بندھن جو کہ اللّٰہ کا بنایا ہوا سب سے خوبصورت اور پاکیزہ رشتہ ہے۔!!
وہ خوبصورت لہجے میں کہتا اُسے دیکھنے لگا جو سرخ آنکھیں لئے اُسے گھور رہی تھی۔۔۔
“نو سمیر نو میں شادی نہیں کرو گی سنا تُم نے تُمہیں جو کرنا ہے جا کر کرو لیکن میری ناں کبھی بھی ہاں میں نہیں بدلے گی۔۔۔”
انگارہ ہوتی آنکھیں غصے سے شدت سے بند کرتی وہ تیز لہجے میں کہنے لگی جبکہ سام دوبارہ انکار سن کر غصے کی زیادتی سے سلگنے لگا۔۔۔
سام نے اپنی سرخ آنکھیں اُس پر ٹکا کر کہا تو ایزل اُسکی بات پر خفگی سے اُسے دیکھتی اپنے ہاتھ جھٹک کر تیزی سے اپنی اور عشوہ کے روم کی جانب بڑھی۔
سام اُسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا اور تیزی سے معاذ کی جانب بڑھا تاکہ اُسے نکاح کے لئے منا سکے۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
رعابہ کو دائیں طرف سے حور نے تو بائیں طرف سے ریحام نے تھاما ہؤا تھا اور فلیش لائٹ سیڑھیوں پر پڑتی اُن تینوں کو اور بھی زیادہ حسین بنا رہی تھی۔۔
پیچھے ایزل اور عشوہ کھڑی رعابہ کے لمبے دوپٹے کو پکڑے سامنے کھڑے سبھی گھر والوں کو مسکراتی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
“اذی آرام سے تُمہاری ہی ہے کہوں تو ابھی قاضی صاحب کو اٹھا کر لے آؤں نکاح پڑھوانے کے لیے۔”
اے بی اذان شاہ کو رعابہ کی جانب مہبوت ہو کر دیکھنے پر شرارتی لہجے میں بولا جبکہ اے بی کی بات پر وہ خفت سے اپنا سر جھکا کر فرش کو دیکھنے لگا۔
“ویٹ ویٹ بھابھی آپ اپنے خوبصورت پیروں کو زحمت مت دیں ہمارے بھائی ہے نا آپکو تھامنے کے لیے کیوں برو۔”
سام نے تیزی سے سیڑھی کے آخری اسٹیپ پر رعابہ کے پاؤں رکھنے سے پہلے کہا۔
اذان شاہ اُسکی بات پر اُسے سخت نظروں سے گھورنے لگا جبکہ رعابہ شرم سے چہرہ مزید نیچے جھکانے لگی اور اُسے شرم سے چہرہ جھکانے پر حور اور ایزل عشوہ نے اذان شاہ کو دیکھا جبکہ ریحام اِن سب کے بیچ کھڑی ارحام انصاری کی نظروں کو خود پر محسوس کرتی جل رہی تھی جو سامنے کھڑا اُسے چمکتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔۔
“اذان برو آپ کو ہم ایسے نہیں جانے دے گے جب تک آپ بھابھی کے ساتھ ایک خوبصورت کپل ڈانس نہیں کرتے ہم آپ کو جانے کی اجازت نہیں دے گے۔۔۔”
شام نے آگے بڑھ کر اُسے کہا جو نظریں رعابہ پر ڈالے اُسے دیکھ رہا تھا۔
“شمعون شرم کرو میں تُمہارا بڑا بھائی ہو اور یہ کس طرح کی بات کر رہے ہو یہاں بڑے بھی موجود ہے۔”
اُسے شرم دلاتے ہوئے وہ بولا جو اُسکی بات پر بے شرموں کی طرح مسکرا رہا تھا اور اے بی اُسکی بات پر ہنستے ہوئے بولا۔۔
“لگتا ہے اذی تُم راضی ہو مگر بڑوں کی وجہ سے کترا رہے ہوں فکر مت کرو میں ہونا ابھی سب کو سامنے سے ہٹاتا ہو۔”
اے بی نے ایک آنکھ شرارت سے دبا کر مسکراتے ہوئے کہا اور قدم دلکش لوگوں کی جانب بڑھا کر مسکین صورت بناتے ہوئے اُن سے کچھ کہنے لگا تو وہ اذان کی جانب دیکھتے ہوئے مسکرا کر اپنا سر ہلانے لگی۔
تھوڑی دیر بعد شاہ بخت اور سعدی لوگوں کو حنیہ اپنے ساتھ لے کر کسی روم کی جانب بڑھی اور اے بی نے ڈی جی کو ایک رومنٹک سونگ لگانے کہا خود تیزی سے اُنکی جانب بڑھا۔۔
“اذی اب تو سب کلئیر ہے اب تو شرم اتار کر گھر سے باہر پھینک دو اور اپنی خواہش پوری کر دو۔”
شریر لہجے میں کہتا وہ اُسے اشارہ کرنے لگا تو وہ مسکرایا اور رعابہ کی جانب بڑھا جو شرم سے سرخ چہرہ لیے اُسے اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر گھبراہٹ کے عالم میں اپنے ہاتھوں کو مسلنے لگی۔۔
Tera fitoor jab se chadh gaya re
Tera fitoor jab se chadh gaya re
Ishq jo zara sa tha woh badh gaya re
Tera fitoor jab se chadh gaya re
Tu jo mere sang chalne lage
To meri raahein dhadakne lage
Dekhun jo na ik pal main tumhein
Toh meri baahein tadapne lage
Ishq jo zara sa tha woh badh gaya ree
Tera fitoor jab se chadh gaya ree
Tera fitoor jab se chadh gaya ree…
Haathon se laqeerein yehi kehti hai
Ki zindagi jo hai meri
Tujhi mein ab rehti hai
Labon pe likhi hai mere dil ki khwaahish
Lafzon mein kaise main bataaun
Ikk tujhko hi paane ki khaatir
Sabse judaa main ho jaaun
Kal tak maine jo bhi khwaab the dekhe
Tujhme woh dikhne lage
Ishq jo zara sa tha woh badh gaya re
Tera fitoor jab se chadh gaya re
Tera fitoor jab se chadh gaya re
وہ اُسے اپنے مضبوط بازوؤں میں بھر کر اُسے لئے اسٹیج کی جانب آہستگی سے بڑھنے لگا اور رعابہ گانے کے بول پر شرم سے گلال چہرہ اُسکے سینے میں چھپانے لگی جبکہ اذان شاہ گانے کے بول پر اور اُسکی لمس پر ضبط سے اپنے ہونٹوں کو سختی سے بھینچ کر سامنے دیکھنے لگا۔۔
“مس میزائیل یہ سونگ ویسے میرے جذبوں کو بیان کر رہا ہے تو پھر کیوں نہ ہم دونوں سب کو اپنے نکاح کے بارے میں بتا دیں۔؟
ارحام انصاری ریحام کے پاس آکر اُسے مخمور نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔
“بکواس زرا کم کرو تُم ورنہ یہ سارے اسپیکر تُمہارے سر پر ماروں گی۔”
غصے سے لال ہو کر کہتی وہ سامنے چھوٹے اسپیکر کی جانب اشارہ کرنے لگی جو پورے گھر میں رکھے ہوئے تھے۔
“جانم آپ کے ہاتھ سے مجھے زہر بھی منظور ہے پھر یہ تو چھوٹے سے اسپیکرز ہے اور یہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہیں۔”
ارحام نے اُسکے شولڈر پر اپنی انگلی سے لکیر کھینچتے ہوئے شریر لہجے میں کہا تو اُسکی حرکت پر وہ اُسکی انگلی کو زور سے پکڑ کر وہ اُسے غصے سے وارننگ دیتی نظروں سے گھورنے لگی۔
“یہ حرکتیں زرا کم کرو مسٹر انصاری ورنہ تّمہارے ہاتھ پیر سلامت نہیں رہے گے اور آئیندہ میرے سامنے آنے کی غلطی بھی مت کرنا بس وہ وڈیو میرے ہاتھ لگ جائے پھر میں یہ قصہ ہی ختم کر دو گی۔”
سب کو دیکھتی وہ دانت کچکچا کر اُس بولی تو ارحام نے سب پر ایک نظر ڈال کر اُسے کلائی سے پکڑ کر وہ اُسے لئے سامنے سیڑھیوں کی جانب بڑھا اور اُنہوں کسی نے بھی نہیں دیکھا کیونکہ سب سونگ سن رہے تھے اور اذان شاہ رعابہ کو دیکھ رہے تھے لیکن اُن میں سے ایک شخص کب سے کھڑا اِنہیں غور سے دیکھ رہا تھا ارحام کے ریحام کو سیڑھیوں کی جانب کھینچ کر لے جانے پر وہ تیزی سے اُن پیچھے چلنے لگا۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕