117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

“جیسا کہ میں نے وعدہ کیا تھا کہ تُم لڑکی کو جانے دو گے۔میں تُمہیں عاصم کو لا کر دو گا تو یہ لو عاصم گبول کو اور اِس کے ساتھ تُم جو کرو گے۔مجھے اُس میں انٹرس نہیں ہے۔لیکن پلیز یہ تُمہارا فلم اسٹوڈیو نہیں ہے۔جہاں تُم فلم کی شوٹنگ کر رہے ہو۔یہ یونی ہے سو اپنی ریسلنگ کا جوہر جا کر فلموں میں دیکھاؤ بلکہ ایک کام کروں اِس کو اپنے فلم میں ولن کا رول دو تاکہ اِس بے چارے کا شوق بھی پورا ہو جائے گا۔اور تُم جب چاہے اپنا غصہ اِس پر شوٹنگ کے وقت نکال سکتے ہو۔”
اے بی جو اپنے گارڈ کے ساتھ مل کر یونی کے ہر ڈیپارٹمنٹ میں حور کو ڈھونڈ رہا تھا۔ارحام انصاری کے راستے روکنے پر وہ سخت غصے سے تلملا کر رہ گیا۔۔جبکہ ارحام انصاری اپنے ڈیپارٹمنٹ میں اپنے گینگسٹر گروپ کے ساتھ کھڑا تھا اُسے اپنی پوری فوج کے ساتھ وہاں آتے دیکھ کر اُسنے دیوار سے ٹیک لگاتے ہوئے ارسم کو اشارہ کیا تو اُسنے عاصم گبول کو اے بی کے سامنے پھینکا۔اور ارحام خود اے بی کے عین سامنے کھڑے ہو کر اُسے ترچھی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے سنیجدگی سے بولا ۔
“اِس کے ساتھ تو میں جو کرو گا بعد میں کروں گا۔لیکن اُس سے پہلے اپنے ہاتھوں کی سختی تُم پر آزماؤ گا۔۔بہت شوق ہے نا لوگوں کو بھگانے کا تو اب میں تُمہارے اِس شوق کو تُمہی پہ ٹرائے کرتا ہوں۔”
اے بی عاصم گبول کے پیرو پر اپنے بھاری بوٹ رکھتے ہوئے ارحام انصاری کی جانب بڑھا اور اُسے کالر سے پکڑ کر اپنا سر زور سے اُسکے سر پر مارتے ہوئے بولا۔جبکہ عاصم گبول اپنے پیر تکلیف کے باعث پکڑے زور زور سے کراہ رہا تھا۔
“یو تّمہاری اتنی ہمت ابھی بتاتا ہو کہ ارحام انصاری کس بلا کو کہتے ہیں۔”
ارحام نے اپنے ماتھے سے خون نکلتے دیکھا تو وہ اے بی کو سخت نظروں سے گھورتے ہوئے بولا۔تو اے بی اُسکی غصیلی نظروں کی پرواہ کئے بغیر آگے بڑھا اور اُسکے سر کو پکڑ کر اُسنے زور سے دیوار پر دے مارا اب کے ارحام انصاری کو لگا کہ وہ پاگل انسان اُسکا سر ضرور پھاڑ دے گا۔
“مسٹر وہاٹ ایور اگلی بار اے بی کو دھمکانے سے پہلے اپنا یہ زخم ضرور یاد کرنا کیونکہ یہ زخم دن رات تُمہیں اے بی کی یاد دلائے گا۔اور تُم سمجھ جاؤ گے۔کہ اے بی کس کمینے کو کہتے ہیں۔”
سختی سے اُسے جبڑے سے پکڑ کر اُسکا چہرہ دیوار سے لگا کر وہ سرد لہجے میں بولا۔تو ارحام اپنے سر کی تکلیف بھول کر خود کو اُس سے چھڑانے لگا۔تبھی اُسنے اپنا پاؤں زور سے اے بی کے پیروں پر مارا تو اُسکے وار پر اے بی کی گرفت اُسکی گردن پر ہلکی ہوئی اور ارحام اِسی بات کا فائدہ اٹھا کر اُسے پیچھے کی جانب دھکا دے کر تیزی سے خود پیچھے پلٹا اور اُسکے چہرے پر زور سے اُسنے مکا دے مارا۔
“یہ پہلا مکا تُمہیں دی سپر اسٹار ارحام مرتضی انصاری کی یاد دلائے گا۔کہ ارحام انصاری کس بلا کو کہتے ہیں۔۔۔اور یہ دوسرا مکا تُمہیں آئندہ یونی کو فلم اسٹوڈیو سمجھنے سے ضرور باز رکھے گا۔”
وہ دوسرا مکا اُسکے دوسرے گال پر مارتے ہوئے بولا۔تو اے بی نے ہنس کر اپنے منہ سے خون کو تھوکا اور ہونٹوں سے نکلتے خون کو ہاتھ کے پشت سے صاف کرتے اُسے مسکراتی نظروں سے دیکھنے لگا۔جبکہ ارحام انصاری تعجب سے کھڑا اُسے دیکھنے لگا جو اتنی مار کھانے کے باوجود بھی مسکرا رہا تھا۔
“بھاٹیا جی آج پہلی بار کسی نے بہادری سے اے بی پر ہاتھ اٹھایا ہے سپر اسٹار اے بی پر پارٹی تو بنتا ہے جلدی سے جا کر وائن اور کچھ کھانے پینے کا انتظام کرو آج رات کو اے بی مینشن میں جشن ہوگا۔آج اے بی دو خوشیاں سیلبریٹ کرے گا۔ایک سنو وائٹ کہ ملنے کی خوشی اور دوسرا اپنے کمینے دوست کے چھوٹے بھائی کے ہاتھ سے مکا کھانے کی کیوں حامی ٹھیک کہا نا میں نے مجھے پتہ تھا تم مجھ سے بدلا ضرور لو گے۔میں نے جو پچھلے سال تُمہاری محبوبہ کو بھگایا تھا۔جگر تُمہارا مجھے یونی میں سنو وائٹ کے ساتھ دیکھ کر چونک جانا بلکل بھی پوشیدہ نا رہ سکا۔چلو بھئی چھوٹے اب تُم نے ویلکم تو اچھے سے کر لیا ہوگا۔مجھے مار کر اچھے سے اپنی بھڑاس نکالی ہوگی۔
یار اب تو خوش ہو جاؤ نا۔چل ان سب باتوں کو چھوڑ اور تُو یہ بتا کہ میرا وہ کمینا بگڑا ہوا جگر تمہارا جاسم بھائی کیسا ہے۔اور اُسکی پاگل موٹی بیوی کیسی ہے۔”
ارحام انصاری جو اُسے سخت نظروں سے دیکھ رہا تھا۔اُسے ہنس کر بھاٹیا کو بولتے دیکھ وہ آگے بڑھا اور اُسکے جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا اور ایک سگریٹ لبوں سے لگائے سنیجدگی سے اُسے دیکھتے ہوئے سارا پیکٹ اُسنے سامنے رکھے کوڑے دان میں پھینکا۔
“وہ سب بہت اچھے ہیں۔اور سپر اسٹار تُم نے اگر دوبارہ اُس میک اپ کی دوکان کا ذکر کیا نا تو میں بھول جاؤ گا کہ تّم میرے بھائی کے دوست ہو۔اورشکر کرو تم کہ میں نے تُمہیں لیڈی میزائیل سے بچایا کیونکہ اُسکی آنکھوں سے جو شعلے تّمہیں جلانے کے لئے نکل رہے تھے نا اُس آگ سے یہ تُمہارے باڈی بلڈر گارڈ بھی تُمہیں نہ بچاتے۔”
وہ سگریٹ کا کش لے کر غصے سے اُسے دیکھتے ہوئے بولا۔تو اے بی آگے بڑھا اور اُسکے ہاتھ سے سگریٹ چھین کر اپنے لبوں سے لگاتے بولا۔
“جگر پہلے تو اِس منگول کو موت دو گا۔جس نے میری سنو وائٹ کو چھوا اور ہوسکتا ہے اُسنے اُسکے متعلق دماغ میں غلط باتیں بھی سوچی ہوگی۔میں اُسکی آنکھوں کے ساتھ ساتھ اُسکا دماغ بھی نکالوں گا۔اور اُسکے بعد اُس لیڈی راکٹ کی باری اور پھر میں اپنی سویٹ سی معصوم سنو وائٹ کے ساتھ سیدھا میکسیکو چلا جاؤ گا۔اُسے اُس اذان شاہ سے بہت دور لے کر جاؤ گا۔
اُسے بہت شوق تھا نا مجھ سے بدلا لینے کا اور میرے لو گرو سے بدتمیزی کرنے کا اب میں اُسے اچھے سے بتاتا ہو۔کہ اے بی کس مرض کو کہتے ہیں۔اور وہ لیڈی راکٹ بڑی آئی اے بی کو بڑوں سے بات کرنے کی تمیز سکھانے والی پہلے جا کر اپنے بڑے بھائی کو تمیز سکھائے پھر آ کر مجھے تمیز کے لیکچر دیں میں بلکل منا نہیں کروں گا۔ہاں میں کسی کو اجازت نہیں دو گا کہ وہ میرے لو گرو کو برا بھلا بولے کیونکہ لو گرو کو برا بولنے کا حق صرف میرا ہے۔ “
اے بی کو اپنے لو گرو ( وہ باپ کو اسی نام سے بولاتا تھا) کے ساتھ اذان شاہ کی بدتمیزی سے پیش آنے کا اُسی دن اُنکے میٹنگ سے آنے کے بعد اُسے لو گرو کے سیکرٹری سے پتہ چلا تھا۔اور وہ اُسی دن سے اذان شاہ سے سخت نفرت کرنے لگا تھا۔کیونکہ وہ جتنی چاہے اُنہیں برا کہتا لیکن آج تک اُسنے کسی اور کو اُنہیں کچھ برا بولنے کا حق نہیں دیا تھا۔
تبھی اِن سب باتوں کو اور اپنی سنو وائٹ کے چھونے کو یاد کرکے اُسنے سگریٹ جنونی انداز میں نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر عاصم گبول کی آنکھوں کے سامنے لے جاتے ہوئے بولا تھا۔اور عاصم اپنی آنکھیں پھاڑ کر سگریٹ کو اور اُسے باری باری دیکھنے لگا۔خوف اُسکی آنکھوں سے چھلک رہا تھا۔جسے دیکھ کر تیزی سے ارحام انصاری آگے بڑھا اور اے بی کے ہاتھ سے سگریٹ کھینچتے غصے سے بولا۔
“مسٹر سپر اسٹار یہ میرا یونی ہے۔تُمہارا شاندار عالیشان گھر نہیں جو تُم یہاں اپنی غنڈہ گردی کر رہے ہو اگر تُم بھائی کے دوست نا ہوتے نہ تو میں اُسی وقت تُمہیں یونی سے باہر پھینکتا جب تُم نے یونی کے سبھی اسٹوڈنٹ کو جما کر کے تماشا کھڑا کیا تھا۔”
وہ عاصم گبول کو اٹھا کر اُسکے گارڈ کے حوالے کرتے بولا۔وہ اُسکی بات پر اپنے چاکلیٹی براؤن سلکی بالوں پہ ہاتھ پھیر کر خوبصورتی سے مسکرایا تو مسکرانے کی وجہ سے گال پر پڑتے گڑھے کو ارحام انصاری نے چڑ کر دیکھا۔کیونکہ اُسکے گالوں پر یہ گڑھا صرف اُس وقت نمودار ہوتا تھا جب اُسکے شیطانی ماسٹر مائنڈ دماغ میں کچھ چل رہا ہوتا تھا۔
“ویسے جگر پارٹی میں اکیلے مت آنا میرے جگری کو ضرور ساتھ لانا اور ہاں اُسکی اُس موٹی وائف کو ضرور لانا ورنہ اُسکے بغیر ہماری پارٹی میں مزا نہیں آئے گا۔کیونکہ اے بی کو انٹرٹینمنٹ کی بھی ضرورت پڑے گی۔اگر میں بور ہوگیا تو تُم اچھے سے جانتے ہو۔کہ میں تمہارے ساتھ کیا کرو گا۔”
ارحام کو یکدم سے پچھلے سال پیرس میں ایفل ٹاور پر منعقد نیو ائیر پارٹی یاد آیا جب اے بی وائن پی پی کے جب وہاں سخت بور ہوا تھا تو اُسنے وائن کی بوتل اٹھا کر ٹاور پر چڑھ کر چلاتے ہوئے پورے نیو یارک کو اپنی جانب نشے کی حالت میں یہ کہ کر اپنی متوجہ کیا تھا۔
کہ وہ اتنے سالوں سے اُن کیلئے کبھی اسکرین پر بلڈنگ سے نیچے کھودا تو کبھی موٹی موٹی ہیروئینوں کے ساتھ ناچ کر اُسنے اُن سبکو انٹرٹین کیا اب آپ سب کا بھی فرض بنتا ہے۔اُسے انٹرٹین کرنے کا۔یہ کہ کر وہ نشے کی حالت میں ٹاور سے نیچے اترا اور کبھی کسی لڑکے کو ہیروئن بناکر وہ اُسے گانے پر رقص کرنے کے لیے کہتا تو کبھی کسی لڑکی کو اپنے کسی فلم کے مشکل ڈائیلاگ بولنے کا کہتا۔
“مجھے کوئی شوق نہیں ہے تُمہارے اِس سو کالڈ پارٹی میں آنے کا اور نہ ہی میں بھائی اور بھابھی کو بتاؤ گا۔کہ تُم نے اپنے عالیشان گھر میں آج ایک بے ہودہ پارٹی رکھا ہے۔ہاں یہ جو تُمہارے گھٹیا کرتوت ہے نا وہ میں ضرور انکل کے گوش گزار کروں گا۔وہ بھی تو اپنے بیٹے کے کرتوت ملاحظہ کریں کہ انکا بیٹا کیسے دنیا والوں کے سامنے انکا نام روشن کر رہا ہے۔
چلو مانا کہ تُم اذان شاہ کو نیچا دکھانے کے لیے اُسکی کزن کو حاصل کرنا چاہتے ہو۔تو پھر یہ سب کیا ہے ہاں اے بی دی سپر اسٹار۔تُم عاصم گبول کے اُسے چھونے پر اُسے غلط نظر سے دیکھنے پر اتنے جنونی کیوں ہوگئے تھے۔تُم تو اذان شاہ سے صرف بدلا لینا چاہتے تھے۔وہ بھی اِس وجہ سے کہ اُسنے تُمہارے لو گرو کی سب کے سامنے بہت بے عزتی کی تھی۔اور ویسے حیرت کی بات ہے۔تُم تو لو گرو سے بھی بہت زیادہ نفرت کرتے ہو۔تو پھر تُم کیوں اذان شاہ سے انکی بے عزتی کا بدلہ لے رہیں ہوں۔بلکہ تُمہیں تو بہت زیادہ خوش ہو جانا چاہیے تھا اور اُسے شاباشی دینا چاہیے تھا۔کیونکہ اُسنے تُمہارے سب سے بڑے دشمن کو جو بے عزت کیا تھا اور بے عزت کرنے کے ساتھ اِنہیں پروجیکٹ بھی نہیں دیا تھا جن پر اُنہوں نے بہت زیادہ محنت کیا تھا۔”
ارحام اُسکے چوڑے سینے پر اپنا انگوٹھا رکھتے ہوئے بولا۔تو اُسکی ساری بات سننے کے بعد اے بی کو جاسم انصاری پر سخت غصہ آنے لگا۔کیونکہ اُس بے وقوف نے اُسکا سارا پلان اپنے چھوٹے اور اسکے سب سے بڑے دشمن کو بتا دیا تھا۔یکدم سے وہ اپنے غصے کو کنٹرول کرکے اور اپنے چہرے کے تاثرات درست کرتے ہوئے اُسے سختی سے کندھوں سے پکڑ کر کہنے لگا۔
“جگر میں نے پلان صرف اذان شاہ کو سبق سکھانے کیلئے بنایا تھا۔اور مجھے کیسے اور کسطرح اُسے نیچا دکھانا ہے۔یہ ایک دن خود قدرت نے مجھے موقع دیا اور ایک دن میرے خاص بندے نے جسے میں نے اذان شاہ کی پوری فیملی پر نظر رکھنے کیلئے کہا تھا۔اُسنے مجھے یہ بتایا کہ اُسکی بہن اور کزن پاکستان پڑھنے کے لئے جا رہے ہیں۔تو میں نے اپنے لندن میں سارے شوٹنگ کینسل کروا دیے اور خود پاکستان جانے کا فیصلہ کیا اور مجھے بلکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ میں وہاں بدلہ لینے کیلئے نہیں بلکہ اپنے آپ کو ہارنے کیلئے جا رہا ہوں۔
جب پہلی بار میں نے اُسے دیکھا تھا تو اُس معصوم چہرے کی معصومیت کا دیوانہ ہو کہ رہ گیا تھا۔یہ آنکھیں جو ہر رشتے سے لاتعلق ہو کہ رہ گئی تھیں۔اب وہ اُس پری پیکر کو دیکھ کر اُس سے ایک گہرا تعلق نبھانے کی ضد کرنے لگا ہے۔اور اِس ضدی دل میں صرف ایک ہی خواہش جنون بن کر سر پر سوار ہے کہ میں اُس معصوم پری کو اپنے عشقِ جنون کی قید میں مقید کر کے رہو گا۔”
اُسکی آنکھیں اُس پری پیکر کو حاصل کرنے کے جنون میں سرخ ہوگئ تھی جو کہ ارحام سے بلکل بھی پوشیدہ نہ رہ سکی۔اُسے حور کے اوپر سخت رحم آنے لگا کیونکہ وہ پاگل جنونی انسان اُسے کسی بھی طرح کر کے ضرور حاصل کرے گا۔
💕💕💕💕💕💕💕
“اب تُم کہا جا رہی ہوں۔؟؟
اذان شاہ نے ری کو کار کا دروازہ کھول کر غصے سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا تو وہ ڈرائیونگ سیٹ سے نکل کر اُسکی جانب بڑھا اور سختی سے اُسے کندھوں سے پکڑ کر بولا۔
“ہٹلر تُم سیدھے طریقے سے کیوٹی کو گھر چھوڑنے جاؤ اگر تُم نے آگے مجھ سے اب اور سوال جواب کیے نا ورنہ میں بھول جاؤ گی کہ تُم میرے بڑے بھائی ہو۔”
ری سختی سے اپنا کندھا جھٹک کر بولی۔تو اُسکی بات پر اذان شاہ نے حور کی جانب دیکھا جو ابھی تک خوف کے باعث بری طرح سے کانپ رہی تھی۔
“مجھے پتہ ہے تُم اِس وقت کہا جا رہی ہو۔لیکن یاد رکھنا اگر تُم نے اُس خبیث کو زندہ چھوڑا نا تو میں تُمہیں جان سے مار ڈالوں گا۔اگر حوری خوفزدہ نہ ہوتی تو میں بھی تُمہارے ساتھ چلتا اور ہم دونوں اُسے اچھے سے بتاتے کہ ہم تینوں کس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔”
اذان شاہ غصے سے کار پر مکا مارتے ہوئے بولا۔تو ری طنزیہ نظروں سے اُسے دیکھنے لگی جو بڑی بڑی باتیں کرتے ہوئے اُسے اِس وقت سخت زہر لگ رہا تھا
“یہ باتیں اُس وقت کیوں نہیں کہا تُم نے اُس پاگل عاشق کے سامنے ہاں یہ بڑی بڑی باتوں سے کچھ نہیں ہوتا سب کچھ عمل کرنے سے ہوتا ہے۔اذان شاہ میں نے کسی سے سنا تھا کہ بھونکنے والا کتا کبھی بھی نہیں کاٹتا اور آج میں نے دیکھ بھی لیا۔”
وہ ترچھی نگاہ سے اُسے سر سے پیر تک دیکھتے ہوئے بولی۔تو اذان شاہ اُسکی بات پر غصے سے اُسے دیکھنے لگا اور وہ اُسکی نظروں کو نظر انداز کرتے اپنا بیگ پشت پر ڈال کر یونی کے اندر بڑھنے لگی تھی۔
💕💕💕💕💕💕💕
“واہ تو یہاں پر بڑی دوستیاں نبھائی جا رہی ہے۔۔۔ویل ڈن بہت خوب اور تُم پاگل انسان تُمہیں کیا لگا ری بھاگ جائے گی تُمہیں کچھ بھی بولے بغیر نو اب نہ یہاں پر کیوٹی ہے اور نہ ہی یونی کے ڈین اب یہاں صرف تُم دونوں اور میں اب تّم اے بی سی فلم اسٹار تُم اسٹوڈیو نہیں یہاں سے سیدھا ہاسپٹل اور تّم بھی مسٹر ٹوپر مجھے یونیورسٹی سے باہر دھکا دینے کی وجہ سے۔”
ری بیگ سامنے کھڑے چوکیدار کی جانب اچالتے ہوئے بولی۔جو اُسے یہاں تک لایا تھا۔اور اے بی جو اپنے ہونٹوں سے نکلتے خون کو صاف کر رہا تھا۔لیڈی راکٹ کی آواز سن کر مسکراتے ہوئے اُسے دیکھنے لگا جو سامنے کھڑی اُن دونوں کو سخت غصے سے دیکھ رہی تھی۔جبکہ ارحام انصاری سگریٹ لبوں سے لگائے کھڑا اے بی کو سخت نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ری کی آواز پر وہ بھی اُسے دیکھنے لگا۔
“لیڈی راکٹ مجھے پکا یقین تھا کہ تُم ضرور واپس آؤ گی۔مجھے دو تین مارنے کے لیے اور اِس سے بدلا لینے کے لیے لیکن پہلے اِس سے بدلا لینا کیونکہ اِسی کی وجہ سے اتنا کچھ ہوگیا میں نے تُمہاری کیوٹی کو نا صرف دیکھا بلکہ تُمہاری ساری فیملی کے سامنے اُسے پیار سے ہگ بھی کیا۔
اور اب اگلی بار میں جب بھی سنو وائٹ سے ملنے آؤ گا نا
تو ہگ نہیں بلکہ تّم سب کے سامنے اُسے یہاں پہ اپنے پیار کی شدت دیکھاؤ گا۔”
ارحام انصاری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ آخر میں اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے ایک آنکھ شرارت سے دباتے ہوئے بولا۔تو اُس شخص کی بے باکی پر ری کو سخت تاؤ آیا اور وہ غصے سے آگے بڑھ کر زور سے اُسکے چہرے پر مکا مارنے لگی
“کمینے انسان دور رہنا تّم میری کیوٹی سے ورنہ میں اگلی بار ہاتھوں کا استعمال نہیں کرو گی۔پستول سے تمہارا سر اڑا دو گی۔”
خون آشام نظروں سے اُسے گھورتے ہوئے بولی۔تو وہ اپنی پیشانی سے نکلتے خون کو ہاتھ لگا کر محسوس کرتے ہوئے کمینگی انداز میں مسکرانے لگا۔
“اب تو لیڈی راکٹ اپنی وش پوری کرنے کے لئے میں آج رات دو بجے ضرور اذان مینشن میں آؤ گا۔اور تُم سب کے سامنے میں سنو وائٹ کو نا صرف چھو کر محسوس کروں گا بلکہ اُسے اٹھا کر اپنے ساتھ لے کر جاؤ گا۔”
خون کی لکیر اُسکے ماتھے سے ہوکر ٹھوڑی سے ہوتے نیچے فرش پر گر رہے تھے۔اور وہ خون کی پرواہ کیے بغیر ری کو مسکراتی اور چیلنج کرتے نظروں سے دیکھ رہا تھا۔اور ارحام انصاری اُس بے باک اور کمینے انسان کو غصے سے دیکھ رہا تھا جو بدقسمتی سے اُسکے بڑے بھائی جاسم کا دوست اور بھابھی کے ڈیڈ کے دوست کا بیٹا تھا۔
💕💕💕💕💕💕💕
“باس میں نے اذان شاہ مینشن کے اردگرد بہت سے سیکورٹی تعینات کیے ہیں اور مینشن کے اندر بھی سیکورٹی کا سخت انتظام کیا ہے۔اب وہ کیا یہاں کوئی پرندہ بھی نہیں آسکتا۔”
شاہ بخت کراچی ائیرپورٹ سے سیدھا بلند عالم کے ساتھ اذان شاہ کے آفس پہنچا تھا اور اب وہ دونوں اذان شاہ کے روم میں بیٹھے اذان میشن کے سی سی ٹی وی وڈیو بغور دیکھ رہے تھے۔اور شاہ بخت اذان شاہ کے سربراہی کرسی پر بیٹھا دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھے سامنے اسکرین پر مینشن کے اردگرد تعینات گارڈ کو دیکھ رہا تھا۔
“نہیں بلند وہ شخص ایک جانی مانی سیلبریٹی ہے۔تو وہ یہ چوروں کی طرح بلکل بھی نہیں آئے گا۔کیونکہ وہ ایک منہ پھٹ اور بدتمیز انسان ہے۔تو وہ مینشن میں نہیں بلکہ حور سے ملنے باہر ہی کسی جگہ کا انتخاب کرے گا۔”
شاہ سی سی ٹی وی پر نظر آتے سبھی گارڈ کی نقل و حرکت کو دیکھتے ہوئے بولا۔تو بلند عالم اُسکی بات پر متفق ہو کر اپنا سر ہلانے لگا۔تبھی ایک سیاہ کپڑوں میں ملبوس لڑکی نے روم میں داخل ہوکر اِنہیں سلام کیا تو اُن دونوں نے سر اوپر اٹھا کر سامنے کھڑی خوبصورت لڑکی کو دیکھا جو کہ اب آہستگی سے چل کر اب انکی جانب بڑھ رہی تھی۔
“شاہ انکل یہ کیا آپ یہاں پر بھی آتے ہی اِن فائلو اور اِس لیپ ٹاپ کے پیچھے لگ گئے۔اور بابا آپ اِنہیں گھر لانے کے بجائے یہاں لے کر آگئے۔اور یہ اِس آفس کا وہ مغرور باس کدھر ہے۔لگتا ہے شاہ انکل کو دیکھ کر ڈر کے مارے لمبی چھٹی پر نکل گیا ہوگا۔”
وہ نان سٹاپ بولتی اپنا لمبا اور پیروں کو چھوتا سیاہ گاؤن سنبھال کر ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھتے ہوئے بلند عالم کو خفگی سے دیکھنے لگی۔اور شاہ بخت اُسکے خفگی سے سرخ ہوتے چہرے اور گاؤن کو دیکھ کے پہلی بار مسکرایا تھا جبکہ بلند عالم اپنی بیٹی رعابہ کو اذان شاہ کے آفس میں دیکھ کر حیران رہ گیا کیونکہ دو دن سے وہ اذان شاہ سے سخت ناراضگی اختیار کیے ہوئے تھی۔
“نہیں رعابہ بچے وہ ایک میٹنگ اٹینڈ کرنے گیا ہے ابھی آتا ہوگا۔اور بلند ویسے ہماری رعابہ اِس گاؤن میں بلکل بلیک بیئر لگ رہی ہے۔”
شاہ بخت مسکراتی نظروں سے رعابہ کے سیاہ گاؤن کو دیکھتے ہوئے بولا۔تو بلند عالم نے بھی مسکرا کر رعابہ کے ڈریس کو دیکھا۔جو اُسکے قد سے بھی کافی لمبا تھا اور نیچے زمین کو چھو رہا تھا۔
“شاہ انکل آپ بھی اُس بھاگڑ بلے کی طرح میرا مزاق اڑا رہے ہیں۔وہ بھی اِسی طرح میرا مزاق اڑاتا رہتا تھا۔۔اور میں بھی اب اُسسے بات چیت نہیں کرو گی چاہے کچھ بھی ہوجائے ۔”
وہ اپنا ستواں ناک غصے سے سہلا کر بولی۔تو اُسکے غصے سے کہنے پر وہ دونوں زور سے قہقہہ لگانے لگے۔کیونکہ وہ دونوں جانتے تھے کہ رعابہ اذان شاہ سے بہت زیادہ ٹچی ہے تو وہ شاہ بخت کا بہانا کر کے یہاں اُسے دیکھنے کیلئے آئی ہے۔