117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

“بیٹا یہ سوپ تُم ہی پینے کا اب اُسے کہوں دیکھو کب سے بچوں کی طرح ضد کر رہا ہے کہ اُسے یہ سوپ نہیں پینا اگر یہ سوپ نہیں پیے گا تو ٹھیک کیسے ہوگا۔۔؟؟
دلکش اے بی کو کب سے سوپ پینے کا کہہ رہی تھیں لیکن وہ منہ بنا کر انہیں منا کر رہا تھا تب اُسے روم میں داخل ہوتے ہوئے دیکھ کر وہ بیڈ سے اٹھی اور سوپ کا باؤل اسے تھما کر کہنے لگی تو حور نے بیڈ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھے اے بی کو دیکھا جو اُسے ہی بغور دیکھ رہا تھا۔۔
“مما جانی آپ نا باہر چلی جائے کیونکہ آپکی یہ جو اکلوتی بہو ہے نا یہ بہت شرمیلی سی ہے وہ آپ کے سامنے تو کبھی بھی مجھے سوپ کیا کھانا بھی نہیں کھلا سکتی ہے۔۔!!
اے بی نے شرارتی لہجے میں بیک وقت دونوں ساس اور بہو کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو دلکش نے مصنوعی غصے سے اسے گھورا اور حور کو پیار سے دیکھتی اُسے سوپ پیلانے کا کہہ کر اے بی سے کہنے لگی۔۔
“شاہ بچے میری بیٹی کو اگر تُم نے تنگ کیا تو میں آپکو اور آپکے بابا کو گھر سے باہر نکال دے گے۔۔!!
اے بی انکی دھمکی سن کر زور سے قہقہہ لگانے لگا جبکہ دلکش کی بات روم میں داخل ہوتے شازم نے سن کیا تو وہ گلا صاف کرتا وہ دلکش کو اپنی وہاں روم میں موجودگی کا پتہ دینے لگا۔۔
“دل آپ اپنے بیٹے کی حرکت پر مجھ بے چارے کو کیوں گھسیٹ رہی ہے میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا ہے اور تُم بیٹا زرا شرارتیں کم کرو ورنہ دل نے نہیں میں نے تُمہیں گھر سے باہر نکالنا ہیں۔۔!!
شازم نے دونوں ماں بیٹے کو ایک ساتھ مخاطب کرتے ہوئے کہا تو دلکش اسکی بات پر اسے دیکھنے لگی جبکہ اے بی انکی دھمکی پر شرارتی انداز میں مسکرانے لگا۔۔
“لو گرو شاید آپ بھول چکے ہیں یا آپکو بھولنے کی بیماری لگ چکی ہیں کہ آپ کے اس کمینے + بدمعاش بیٹے کے پاس پاکستان کے سبھی شہروں میں ایک ایک ولا موجود ہے۔۔!!
اے بی نے اپنے باپ کو کمینگی انداز میں ایک آنکھ دباتے ہوئے کہا تو شازم نے اسے سخت نظروں سے گھورا لیکن کہا کچھ نہیں جبکہ اسکی بات پر دلکش اور حور ہنسنے لگی۔۔
“اچھا اچھا اب میرا باپ بننے کی کوشش مت کرو بیٹے ہو تُم میرے تھوڑا تمیز سے بات کروں ورنہ حور بیٹی کو ہم اپنے پاس رکھ لیں گے اور تُمہیں تمہارے کسی بھی ولا میں شپٹ کر دے گے۔۔!!
شازم نے شرارتی لہجے میں کہتے ہوئے اے بی کی جانب دیکھا جو حور کو خود سے الگ کرنے کی بات پر غصے سے بیڈ سے اٹھا اور حور کی جانب بڑھا۔۔
“لو گرو میری حور کوئی شوپیز نہیں ہے جسے آپ اپنے گھر پر رکھنے کی بات کر رہے ہیں وہ میری زندگی ہے اور میں کیسے بھلا اپنی زندگی کے بغیر رہ سکتا ہو اور کل ہم دونوں ترکی جا رہے ہیں میرا وہاں ایک فوٹو شوٹ ہوگا جہاں میں کسی برانڈ کے کپڑوں کے لیے ایز آ ماڈل بنا ہو سو حور میرے ساتھ وہاں جائے گی۔۔!!
اے بی نے حور کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا تو حور اسکی باہوں میں قید شازم اور دلکش کی موجودگی میں شرم سے اپنی آنکھیں نیچے جھکا کر فرش کو گھورنے لگی۔۔
“شاہ بچے ابھی آپ مکمل ٹھیک نہیں ہوئے ہیں تو ہم آپکو ترکی اکیلے بلکل بھی جانے نہیں دے سکتے۔۔!!
دلکش اسکی فوٹو شوٹ کا سن کر پریشانی سے بولی۔۔
“مما جانی میں اکیلے کہا جا رہا ہو آپکی بہو میرے ساتھ ہے اور بھٹایا جی بھی تو جا رہے ہیں اور میں بلکل ٹھیک ہو یہ دیکھے میرا ہاتھ بھی اب سہی سے کام کر رہا ہے۔۔!!
وہ حور کو الگ کرتا انکی جانب بڑھا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو زور سے ہلاتے ہوئے کہنے لگا کیونکہ ایکسیڈنٹ کی وجہ سے صرف اسکے سر پر چھوٹی سی چوٹ لگی تھی۔۔
“پھر بھی بیٹا تُمہیں ابھی آرام کرنا چاہیے نا کہ شوٹنگ وغیرہ۔۔!!
دلکش ابھی بھی اسکے حوالے سے پریشان تھی اور اسکے لہجے سے بھی صاف پریشانی چھلک رہی تھی۔۔
“بابا آپ پلیز مما جانی کو سمجھائے اگر میں شوٹنگ نہیں کروں گا تو اپنی بیوی اور ہونے والے بچوں کو کیسے دو وقت کی روٹی کھلاؤ گا۔۔!!
شازم کو کہتے ہوئے وہ حور کی جانب معنی خیز نظروں سے دیکھنے لگا تو وہ اسکی بے باک بات پر شرم سے اپنی آنکھیں ادھر ادھر کرنے لگی۔۔
“شاہ بیٹا تُم بہت بڑے بے شرم ہو اپنی ماں اور بیوی کو تنگ کرنا بند کر دو ورنہ میں ان دونوں کو سچ میں یہاں سے لے کر تُم سے بہت دور چلا جاؤ گا۔۔!!
شازم نے مصنوعی غصے سے کہا۔۔
“بابا جانی آپ ابھی تو مما جانی کو اپنے روم میں لیں کر جائے کیونکہ رات بہت ہو چکی ہیں اور مجھے بہت زیادہ نیند آ رہی ہے اور میں آپ لوگوں کی موجودگی میں بلکل بھی نہیں سو سکتا ہو۔۔!!
وہ جمائی لیتے ہوئے کہنے لگا تو اسکی بات سمجھ کر شازم اور دلکش مسکرانے لگے جبکہ حور اُسے گھورنے لگی جو بے شرموں کی طرح اپنے ماں باپ کی موجودگی کو خاطر میں لائے بغیر اُسے دیکھ رہا تھا۔۔
“بیٹا میں تمہیں اچھے سے سمجھتا ہو کہ کیوں ہمیں باہر نکال رہے ہو کل صبح ہوتے ہی میں تُمہیں اچھے سے بتاؤ گا۔۔!!
شازم نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
“جب آپ صبح اٹھے گے توہم لوگ ایرپورٹ پہنچ جائے گے اور ہوسکتا ہے جہاز میں بیٹھ بھی جائے گے۔۔!!
اے بی نے معنی خیزی سے کہا تو شازم اسکی بات کو اگنور کرتا دلکش کو لے کر اسکے روم سے باہر نکلا انکے باہر نکلتے ہی حور تیزی سے بیڈ کی جانب بڑھ کر بلانکٹ اپنے سر تک اوڑھ کر سونے کی ایکٹنگ کرنے لگی۔۔
“بیوی مجھے پتہ ہے تُم جاگ رہی ہو تو سیدھے طریقے سے اٹھ کر مجھے یہ سوپ اپنے ہاتھوں سے پلاؤ۔۔!!
بیڈ پر بیٹھ کر وہ اسکے اوپر سے بلانکٹ ہٹا کر دور کرتے ہوئے گھمبیر آواز میں سرگوشی کرنے لگا جبکہ حور زور سے اپنی آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی۔۔
“آپ خود پی لیں نا بچے تھوڑی ہے آپ جو میں آپکو پلاؤ گی تب آپ پیے گے۔۔!!
حور اُسی طرح آنکھیں زور سے میچی بولی تو اے بی اُسکی بات پر تیزی سے اُسکے دونوں مومی ہاتھوں کو سختی سے پکڑتا ذومعنی لہجے میں کہنے لگا۔۔
“وائف میں ابھی بچہ ہی تو ہو اور تُمہیں مجھے سوپ پلاؤ گی اور اگر تُم اِس بچے کو سوپ نہیں پلاؤ گی تو یہ ضدی بچہ تمہارے ساتھ زبردستی بھی کر سکتا ہے اور اُسے تُم اچھے سے جانتی بھی ہو کہ وہ ضد کا کتنا پکا ہے۔۔۔!!
اے بی اُسکے نرم لبوں کی جانب اشاره کرتا معنی خیزی سے بولا تو حور اُسکی بے باک بات پر تیزی سے اٹھی اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اسکی گرفت سے چھڑوا کر خفگی سے اُسے دیکھنے لگی۔۔
“میں آپکو سوپ پیلانے کے بعد سوؤ گی اوکے اور آپ بھی سوپ پینے کے بعد مجھے بلکل بھی تنگ نہیں کرے گے ورنہ میں باہر چلی جاؤ گی۔۔!!
انگلی اٹھا کر وہ اُسے سختی سے دیکھتی دھمکی دینے لگی تو اُسکی دھمکی پر اے بی مسکرا کر اُسکی انگلی کو اپنے ہونٹوں میں لے کر زور سے دبا کر اُسے شرارتی نظروں سے دیکھنے لگا۔۔
“اوکے جانم تُم سوپ پیلاؤ میں اچھے بچوں کی طرح سوپ پی کر آئی سیور میں تُمہیں اپنے باہوں کے گیرے میں لے کر سلاؤ گا۔۔!!
وہ شرارتی لہجے میں اُسے دیکھتا کہنے لگا تو حور بیڈ سے اتری اور ابھی ٹیبل کی جانب بڑھی ہی تھی کہ اُسنے پیچھے سے آکر اُسے اپنی باہوں میں قید کیا اور اُسے لیے صوفے پر جاکر بیٹھا۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑے مجھے۔۔!!
وہ چیخ کر اُس سے بولی۔۔
اور اسکی گود میں بیٹھی وہ ایک چھوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی اور اے بی اُسے گود میں بٹھا کر ہاتھ آگے بڑھا کر ٹیبل سے سوپ کا باؤل اٹھا کر اُسکے سامنے کرتے ہوئے اپنا چہرہ بلکل اُسکے چہرے کے قریب کرتے ہوئے اُسے دیکھنے لگا۔۔
“بیوی جب تک مجھے سوپ نہیں پیلاؤ گی تب تک تُم اسی پوزیشن میں میرے پاس رہو گی میں بلکل بھی تُمہیں خود سے الگ نہیں کروں گا پھر چاہیے صبح ہی کیوں نا ہو جائے۔!
وہ کہتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ اُسکے کندھے پر رکھتا آہستگی سے پھیرنے لگا جبکہ حور اُسکی لمس پر شدت سے کانپتی ہوئی جلدی سے چمچ باؤل میں ڈال کر سوپ سے بھرا اور اسے سوپ پیلانے لگی
اے بی سوپ پیتے ہوئے اُسکے نرم نازک کندھے کو ایک ہاتھ سے اُسی طرح سہلانے لگا جسطرح وہ پہلے ہاتھ کی پشت سے سہلا رہا تھا۔۔
“پلیز آپ یہ کرنا بند کریں میں نہیں پیلاؤ گی ورنہ آپکو سوپ۔۔!!
وہ اپنے کندھے پر اُسکا دہکتا لمس محسوس کرتی زور سے آنکھیں بند کرکے اُسے سوپ پیلا رہی تھی وہ سٹپٹا کر بولی۔۔
“بیوی کیا کرنا بند کروں۔۔؟؟
وہ الٹا اُس سے سوال کرنے لگا تو حور اسکی بات پر شرم سے سرخ ہوتی اُسکی پناہوں میں سمٹنے لگی۔
“پلیز یہ جو آپ کر رہے ہیں۔۔!!
شرم سے سرخ ہوتی وہ نظریں نیچے جھکا کر بولی۔
اے بی اسکی بات سوپ کا باؤل سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوئے اُسے نیچے صوفے پر احتیاط سے لٹا کر اُسے دیکھنے لگا جو اپنی آنکھیں زور سے بند کیے بری طرح سے لرز رہی تھی۔۔
“بیوی ابھی تک تو میں نے تمہارے ساتھ کچھ بھی نہیں کیا ہے اور تُمہاری حالت اتنی خراب ہوگئی ہے اگر میں نے کچھ کیا تو پتہ نہیں تمہارا حال کیا ہوگا۔۔!!
وہ اُسکے پسینے سے شرابور چہرے پر ہاتھ پھیرتا ذومعنی لہجے میں کہنے لگا تو حور اُسکے باتوں کا مفہوم سمجھ کر وہ شرم کے مارے گلال چہرہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے روز زور سے کانپنے لگی۔۔
“پلیز چپ ہو جائے یہ آپ کس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔۔!!
اسکی باتوں کو سن کر وہ اُس دن کو یاد کرنے لگی جب اے بی نے اس سے پہلی بار بڑے ہی استحاق سے اُسے اپنا بنایا تھا اور اب یہ سوچ کر وہ روہانسی ہونے لگی اچانک سے وہ اسکا دہکتا لمس اپنے ہونٹوں پر محسوس کرتیں ہوئے گھبرا کر اُسے اپنے چہرے پر جھکے سہم کر دیکھنے لگی جو اسکی گردن سے دوپٹہ اتار کر نیچے پھینکتے ہوئے اپنے ہونٹوں سے اسکے ہونٹوں کو شدت سے چھونے لگا اور اپنی شدتوں سے اسکی سانسوں کو منتشر کرنے لگا تھا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“ایزو بیٹا جاؤ سام کو کھانا دے کر آؤ میرا بچہ بھوکا ہوگا۔!!
حنیہ نے اُسے ایک ٹرے پکڑاتے ہوئے کہا تو انکی محبت پر وہ ناچاہنے کے باوجود بھی انکے ہاتھوں سے ٹرے کو پکڑ کر اس کے روم کی جانب بڑھی۔۔
“جاہل انسان یہ کس طرح تُم روم میں گھومتے ہو۔۔؟؟
ایزل اپنے ہی دھن میں مگن اُسکے روم میں داخل ہوئی مگر سامنے اُسے واش روم سے باہر بنا شرٹ کے نکلتے ہوئے دیکھ کر وہ تیزی سے اپنا رخ دوسری طرف کرتی چیخ کر بولی۔۔
“کیوں بیوی اب کس طرح گھومنا چاہیے مجھے اپنے ہی بیڈ روم میں کیا آپ مجھے بتانا پسند کرے گی۔۔!!
وہ ٹاول اپنے مضبوط کندھوں پر ڈال کر چند قدم آگے بڑھا اور اُسکا رخ اپنی جانب کرتا معنی خیز لہجے میں بولا۔
“کچھ شرم کرو تُم اِس گھر میں لڑکیاں بھی رہتی ہے اور تُم اسطرح روم میں۔۔!!
اپنی آنکھیں سختی سے میچے وہ اسکی گرم لمس کو اپنے کندھوں پر محسوس کرتیں ہوئے گھبرا کر بولی تو سام نے ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے کمر سے پکڑ کر اپنے بے حد نزدیک کیا اور اُسے بغور دیکھنے لگا جو سیاه نائیٹ ڈریس میں ملبوس اُسے شرارت کرنے پر اکسا رہی تھی۔۔
“اور اُن سب لڑکیوں میں میری بیوی بھی شامل ہے تو کیا اُسے بھی اعتراض ہے میرا اِسطرح شرٹ کے بغیر روم میں گھومنا۔؟
اسکا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اُسکا اوپر اٹھا کر وہ بوجھل لہجے میں بولا جبکہ ایزل اپنی آنکھیں بند کیے اُسکا ہاتھ اپنی ٹھوڑی پر محسوس کرتیں ہوئے سٹپٹاتی ہوئی اپنی آنکھیں کھول کر اُسے دیکھنے لگی جو اُسکے چہرے پر اپنی پرحدت نظروں کو جمائے اسکے ایک ایک نقش کو آنکھوں کے ذریعے دل میں اتار رہا تھا۔۔
آج پہلی بار ایزل کو اُسکے دیکھنے سے تکلیف نہیں بلکہ کچھ الگ سا محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی نام نہیں دے پا رہی تھی اور اُسکے اسطرح دیکھنے پر وہ اپنی ڈھرکنوں کی شور کو با آسانی سن رہی تھی۔۔
“سام پلیز چھ۔۔چھوڑو مجھے۔۔!!
اُسے اپنی پوزیشن کا احساس ہوا تو وہ اُسکی گرفت میں بری طرح سے مچلتی گھبراتے ہوئے بولی۔۔
“سینوریٹا جاناں ہم نے تُمہیں چھوڑنے کے لئے نہیں تھاما تھا بلکہ ہمشیہ صرف تُمہیں چاہنے کے لیے تُمہیں پکڑا ہے۔۔۔!!!
وہ مخمور نظروں سے اُسے دیکھتا اُسکے خوبصورت چہرے کو اپنی ہاتھ کی پشت سے سہلاتے ہوئے محبت سے کہنے لگا۔
ایزل اُسکی بات پر اور اُسکے چھونے پر تیزی سے اپنی آنکھوں کو زور سے بند کرتی بری طرح سے کانپنے لگی جبکہ وہ اچانک اُسکے چہرے پر جھکا اور اُسکی نرم لبوں کو اپنے لبوں کی گرفت میں لے کر نرمی سے چھونے لگا۔۔۔
“سام پلیز دو۔۔۔دور ہو جاؤ۔۔!!
اُسے دور کرتی وہ بری طرح سے کھانستے ہوئے بولی جبکہ سام اُسکے کھانسنے پر اسکی پشت پر ہاتھ رکھ کر آہستگی سے سہلانے لگا۔۔
“جان دور ہونے کی بات کیوں بار بار کر کے مجھے اور اپنے پاس آنے کی دعوت دیتی ہوں۔۔؟؟
اپنی انگلی کو اُسکے نرم لبوں پر پھیرتا ہوا بولا تو ایزل اسکی حرکت پر شرم سے سرخ ہوتی نظریں چرانے لگی۔۔
ایزل جو شرم کے مارے اپنی نظریں اُسکے چہرے پر ڈالنے سے کترا رہی تھی اُسکی اگلی حرکت پر وہ شدت سے لرز اٹھی تھی۔
سام جو اُسکی ٹھوڑی کو اوپر اٹھا کر اسکے لبوں کو اپنے لبوں کی گرفت میں لئے ہوئے تھا اُسنے اپنا دوسرا ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے اپنے ساتھ لگا کر پیچھے کی جانب چلتے ہوئے اُسے زور سے پیچھے دیوار کی جانب پن کرتا اپنے دونوں ہاتھ دیوار کے دائیں اور بائیں اُسکے شولڈر سے اوپر رکھتا اُسے اپنی قید میں کرتا اپنے لبوں سے اُسکی چھوٹی اور سرخ ہوتی ناک کو نرمی سے چھونے لگا تو ایزل اُسکے لمس پر شدت سے اپنے سدھ بدھ کھونے لگی۔۔
“سام یہ سب کچھ ابھی سہی نہیں ہے پلیز مجھے جانے دو پلیز۔۔!!
وہ اپنی تیز چلتی سانسوں کو مشکل سے درست کرتے ہوئے گھبراتی ہوئی تیزی سے بولی لیکن سام اُسکی باتیں کہا سن رہا تھا وہ اُسکے چہرے کو اپنے لبوں سے چھو رہا تھا اور اُسکا لمس ایزل کے لئے جان لیوا ثابت ہو رہا تھا وہ اب اپنے ہاتھ پیر زور سے چلانے لگی تاکہ اسے کچھ غلط کرنے سے روک سکے لیکن اُسے پیچھے ہٹتے ہوئے نا دیکھ کر وہ شدت سے بنا آواز نکالے آنسوؤں بہانے لگی دوسری جانب سام اپنے لبوں سے اُسکی سرخ گالوں کو چھو رہا تھا اُسے اپنی حلق میں کچھ نمکین کا احساس ہوا تو وہ تیزی سے پیچھے ہٹا اور اُسے دیکھنے لگا جو بنا آواز نکالے آنسوؤں بہا رہی تھی تو یہ دیکھ کر سام نے تیزی سے اُسے اپنے سینے سے لگایا اور اُسکا سر چھوم کر وہ اچانک اُسے اپنے مضبوط بازؤوں میں بھرتا دروازے کی جانب بڑھا اور باہر نکلا۔۔۔
“ایزو ڈارلنگ اب سے تُم کبھی بھی رات کے ایک بجے میرے کمرے میں اکیلی نہیں آؤ گی ورنہ انجام تو تُم نے دیکھ لیا کہ میں کیا کر سکتا ہو کیونکہ اب تُم سے دوری ایک لمحے مجھ سے برداشت نہیں ہوتی اور ڈیڈ ابھی رخصتی کے حق میں بلکل بھی نہیں ہے اور میں رخصتی سے پہلے بلکل بھی نہیں چاہتا کہ تمہارے ساتھ کچھ غلط کرو سو پلیز تُم رات کے بارہ بجے کے بعد میرے سامنے مت آیا کرنا ورنہ میں اپنا کنٹرول کھو دو گا۔۔!!
وہ اسکے روم کے سامنے پہنچ کر اُسے نیچے اتار کر نرمی سے اُسکے گال کو اپنے ہاتھ کی پشت سے سہلاتے ہوئے کہنے لگا تو ایزل سر ہاں میں ہلا کر جتنی تیزی سے اُسنے اپنے روم کا دروازه کھولا تھا اور اندر داخل ہو کر اتنی ہی تیزی سے بند کر دیا تھا یہ دیکھ سام نے زور سے قہقہہ لگایا اور اپنے روم کی جانب بڑھا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“شام یہ تُم کیا دیکھ رہے ہو۔۔؟؟
عشوہ شام کے بیڈ روم کے اندر داخل ہوئی تو سب سے پہلے اُسکی نظریں سامنے دیوار پر لگے ٹی وی اسکرین پر چلتے کپل کے سین پر پڑی تو وہ شرم سے سرخ چہرہ لیے اپنا رخ دوسری طرف کرتی چیختے ہوئے بولی۔۔
“انگلش فلم کیوں تُمہیں کیا ہوا وہاں کیوں کھڑی ہو یہاں آؤ اور تُم بھی مجھے کمپنی دو اکیلے میں بیٹھ کر میں بور ہو رہا تھا۔۔!!
اُسے دیکھتے ہوئے وہ شرارتی لہجے میں کہنے لگا تو عشوہ اُسکی بات پر سخت غصے میں آ کر آگے بڑھی اور تیزی سے ٹی وی بند کرتے ہوئے اُسے دیکھنے لگی جو مخمور نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا۔۔
“یہ فلم اگر بڑے پاپا نے دیکھ لیا ہوتا نا تو وہ تمہیں گھر سے باہر نکال دیتے اور یہ تمہیں ایسے گھٹیا فلم دیکھنا کب سے شروع کر دیا ہے۔!!
عشوہ نے غصے سے کہا تو شام جو صوفے پر بیٹھا اُسے اپنے بلکل قریب کھڑے دیکھ کر ہاتھ آگے بڑھا کر اُسنے اسکو اپنے اوپر گرایا۔۔
“زوجہ محترمہ جب سے نکاح ہوا ہے تب سے دیکھنا شروع کر دیا ہے تاکہ رخصتی کے بعد کچھ سیکھ سکوں۔۔!!
وہ معنی خیز نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو عشوہ اُسکی بے باکی سے کہنے پر اپنے ہاتھ اُسکے کندھے پر زور سے مارتے ہوئے اسکے اوپر سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
“چھوڑو مجھے بدتمیز تُم بہت بگڑ رہے ہو اور میں اس بارے میں بڑے پاپا کو ضرور بتاؤ گی وہ خود تمہاری کلاس لے گے۔۔!!
شرم سے سرخ ہوتی وہ تیز لہجے میں بولی جبکہ شام اسکی ریشمی بالوں کو اپنے چہرے پر رکھتے ہوئے وہ انکی خوشبو کو سونگھنے لگا۔۔
“یہ اب تُم کیا کر رہے ہو۔۔؟؟
اُسے صوفے پر لیٹا کر خود اُسکے چہرے پر جھکا اور اپنے ہونٹوں کو باری باری وہ اسکے دونوں گالوں کو نرمی سے چھونے لگا پھر وہ بے خودی کے عالم میں اپنے ہونٹ اُسکے ہونٹوں کی جانب لے جانے لگا کہ عشوہ نے غصے سے اُسے روکتے ہوئے کہا۔۔
“بیوٹی محبت اور ابھی صرف یہ کروں گا باقی کا سیکشن رخصتی کے بعد اور مے بی تُم ڈیڈ کو میرے فلموں کے بارے میں بلکل بھی نہیں بتاؤ گی ورنہ میں رخصتی کے بعد جو سیکشن کرنے کا سوچ رہا تھا وہ میں ڈیڈ کے مار کھانے بعد تمہارے ساتھ زبردستی سے کروں گا۔۔!!
اسکے ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے وہ گھمبیر لہجے میں کہنے لگا جبکہ عشوہ اسکی بات پر بری طرح سے کانپتی اُسے خود سے دور کرنے لگی لیکن اُسنے اسکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کے گرفت میں لے کر شدت سے چھوا اور اُسکی سانسوں کو اپنی سانسوں سے بری طرح سے الجھانے لگا۔۔
“شام تُم بہت برے ہو اب میں کبھی بھی تمہارے سامنے نہیں آؤ گی۔۔!!
اُسکے پرحدت لمس کو وہ ابھی تک اپنی نازک ہونٹوں پر محسوس کرتیں ہوئے روہانسی آواز میں کہتی تیزی سے باہر نکلی اور شام اسے روم سے باہر نکلتے ہوئے دیکھ کر اپنے ہونٹوں پر زبان پیھرنے لگا اور اسکے نرم ہونٹوں کی نرماہٹ کو وہ ابھی بھی اپنے ہونٹوں پر محسوس کر رہا تھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
ٹھیک صبح چھ بجے رعابہ کی آنکھیں کھولی تو اُسے اپنے بے حد قریب دیکھ کر اور اپنا حلیہ دیکھ کر وہ گلال چہرہ لیے اُسکے مضبوط ہاتھ کو اپنے اوپر سے ہٹا کر بیڈ سے نیچے اتری اور باتھ روم کی جانب بڑھی اور اندر داخل ہو کر اپنے بے ترتیب سانسوں کو بحال کرنے لگی۔۔
دوسری طرف اذان شاہ اُسکے اٹھتے ہی اپنی آنکھیں کھول کر باتھ روم کے بند دروازے کی جانب مسکراتے ہوئے دیکھنے لگا پھر کچھ سوچتا وہ بیڈ سے نیچے اترا اور روم سے باہر نکلا۔۔
“آہہہہہہ۔۔!!
رعابہ باتھ گاؤن میں ملبوس اپنے کپڑوں کی جانب ہاتھ بڑھانے ہی والی تھی جو سامنے لٹکے ہوئے تھے اچانک اُسکی نظریں جب سامنے کے دیوار پر ایک چھپکلی پر پڑی جو اپنی موٹی آنکھوں سے اُسے گھور رہی تھیں تو یہ دیکھ کر وہ زور سے چلاتی واش روم سے باہر نکلی اور سامنے اذان شاہ کو دیکھ کر اسکی جانب تیزی سے بڑھی۔۔
“کیا ہوا جانم۔۔؟؟
اذان شاہ جو ناشتے کی ٹرے سامنے ٹیبل پر رکھ رہا تھا اُسے واش روم سے باہر چیختے ہوئے نکلتے تیزی سے اپنی جانب آتے ہوئے دیکھا تو وہ تیزی سے آگے بڑھا اور اُسے کمر سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا کر اسکی پیٹھ کو سہلانے لگا۔۔
“اذان وہاں وو۔۔واش روم میں ایک موٹی چھ۔۔۔چھپکلی ہے جو مم۔مجھے غصے سے گھور رہی تھی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے پلیز یہاں سے چلتے ہیں۔۔!!
اسکی گردن پر اپنے دونوں ہاتھوں کو لپیٹ کر سختی سے جھکڑتی اپنا سر اسکے برہنہ سینے پر رکھتی کانپتی ہوئی بولی تو اذان اُسکے بری طرح سے کانپتے ہوئے گھیلے نازک وجود کو اپنے باہوں میں محسوس کرتا وہ اپنے ہوش کھونے لگا لیکن پھر اُسکے خوف سے زدر پڑتے چہرے کو دیکھ کر اپنے جزبوں پر مشکل سے کنٹرول کرتا اُسے خود سے الگ کرتے ہوئے مسکرا کر اُسے دیکھنے لگا جو کہ باتھ گاؤن میں ملبوس ابکے اُسکی رہی سہی ہمت کو بھی ختم کرنے پر بضد ہونے لگی۔۔
“میری جنگلی بلی تُم ایک چھوٹی سی چھپکلی سے ڈر گئیں ہوں اوہ مائے گاڈ۔۔!!
اُسکے کمر پر ہاتھ حمائل کرتے ہوئے اُسے اپنے بے حد نزدیک کرتا وہ قہقہہ لگاتے ہوئے کہنے لگا تو رعابہ اسکی قربت پر سمٹی اور اُسکے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اُسے خود سے دور کرنے لگی جو اسکے لئے ناممکن تھا۔۔
“اذان چھ۔۔چھوڑے پلیز مجھے وہ چھپکلی ابھی بھی اندر ہے اور آپکو مزاق سوجھ رہا ہے ابھی تو مجھے اپنے کپڑے بھی بدلنے ہیں اور میں اندر بلکل بھی نہیں جاؤ گی اور اب تو یہ سوچ سوچ کر میرا دماغ چکرا رہا ہے کہ میں کیسے اپنے کپڑے اندر سے لاؤ گی اور کہا پہنو گی۔۔؟؟
وہ بری سے اسکی باہوں میں مچلتی خود کو چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے اُس سے کہنے لگی تو اذان شاہ نے اُسکے سراپے کو معنی خیز نظروں سے دیکھا اور اُسکی کمر پر اپنا گرفت سخت کرتا جزبات کی رو میں بہتا اپنے دہکتے ہونٹ اُسکے ہونٹوں پر رکھتا اُسکی تیزی سے چلتی زبان کو بریک لگا کر وہ اپنا لمس شدت سے چھوڑنے لگا۔۔
رعابہ کا پورا وجود اُسکی حرکت پر زور زور سے کانپنے لگا اور دل الگ زور زور سے دھڑکنے لگا جبکہ بے خودی کے عالم میں اپنے ہونٹوں سے اُسکے نرم گلزار ہونٹوں کے جام کو وہ شدت سے پی رہا تھا کہ تبھی اُسکی سانسوں کو بند ہوتا ہوا محسوس کرتا وہ تیزی سے اُسے پیچھے کرتے ہوئے دیکھنے لگا جو اُسکے تیزی سے الگ ہوتے بری طرح سے کھانسنے لگی اور گہری گہری سانسیں لینے لگی۔۔
“جانم تُم یہی انتظار کرو میں ابھی آتا ہو۔۔؟؟
اُسے اپنی سانسوں کو بحال کرتا ہوا دیکھ کر اُسے دونوں کندھوں سے پکڑتا ہوا کہنے لگا اُسکی بات پر رعابہ نے اُسے خفگی سے نم آنکھوں سے دیکھا اور اپنا سر ہلایا تو وہ تیزی سے واش روم کی جانب بڑھا اور جب باہر نکلا تو اُسکے ہاتھوں میں اپنے کپڑے دیکھ کر رعابہ تیزی سے اسکی جانب بڑھی۔
“اذان اب میں کپڑے کہاں چھین کروں۔۔؟؟
وہ پریشانی سے اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی تو اذان شاہ نے ذومعنی انداز میں اُسے دیکھا اور ہاتھ آگے بڑھا کر باتھ گاؤن کو ڈوریوں سے پکڑتا اُسے اپنی جانب کھینچ کر اپنی مخمور نظریں اُسکے سراپے پر مرکوز کیے اُسے دیکھنے لگا جو باتھ گاؤن کندھے سے سرکنے کی وجہ سے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر رکھے نظریں نیچے جھکا کر کھڑی تھی۔۔
“جانم تُم چاہو تو میں تُمہیں ریڈی کر سکتا ہو وہ بھی بڑے پیار سے اور اگر تُم نہیں چاہتی تو اندر جا سکتی ہو کیونکہ میں تو اِس وقت روم سے باہر ہرگز نہیں نکلو گا اور واشروم کے اندر جانے کا مطلب اُس چھپکلی کی گھوری اور ڈارلنگ اگر تُم ڈر کے مارے بے ہوش ہو کر وہی پر گر گئی تو ہوسکتا وہ چھپکلی تمہارے اوپر آ کر خوشی کے مارے رقص کرنے لگ جائے بیکاؤز اُسنے اذان شاہ کی جنگلی بلی کو خوفزدہ کیا ہے اسکا رقص کرنا تو بنتا ہے۔۔!!
وہ گھمبیر آواز میں سرگوشی کرتا اُسکی نازک دل کو بری طرح سے دھڑکا گیا تھا۔۔
رعابہ گھبراتی ہوئی شرم سے اپنا رخ دوسری طرف موڑ کر کھڑی ہوئی اور وہ اُسکی پشت کو اپنے سامنے دیکھ کر آگے بڑھا اور آہستگی سے اپنے ہاتھ کی پشت سے اُسکی بیک پر لکیر کھینچ کر اُسکی نازک کمر پر پہنچا اور آرام سے اپنے دوسرے ہاتھ سے اُسکے کندھے پر ہاتھ رکھتا اُسکے کپکپاتے وجود کو اپنے چوڑے سینے سے لگاتا اُسکی خوشبو کو اپنے اندر اتارنے لگا۔
“پلیز اذان تُم باہر جاؤ نا کیوں مجھے شرم سے مارنا چاہتے ہو۔۔!!
رعابہ اُسکی لمس پر بری طرح سے اسکے حصار میں کسمسا کر رہ گئیں اور خود کو اس سے چھڑانے کی تگ و دو کرنے لگی لیکن جب اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوئی تو وہ بری طرح سے سٹپٹا کر بولی جبکہ اذان شاہ اُسکی باتوں کو اگنور کرتا اپنے پرتپش لبوں کو اُسکی پشت پر رکھتے ہوئے اُسے کپکپانے پر مجبور کرنے لگا۔۔
“نہیں جانم اب تو میں تُمہیں ریڈی کر کے ہی یہاں سے نکلو گا۔۔!!
اپنے دونوں ہاتھ آگے لے جاکر اسکے پیٹ پر رکھتا وہ اُسکی پشت کو اپنے سینے سے لگا کر اپنا سر اُسکے کندھے پر رکھتا مخمور لہجے میں بولا۔۔
“ہٹے اذان ورنہ میں آپ کو نہیں چھوڑو گی۔۔!!
وہ غصے سے اُسکے دونوں ہاتھ کو اپنے پیٹ سے ہٹاتے ہوئے کہنے لگی تو اُسکی مزاحمتوں کو خاطر میں لائے بغیر اُسے اپنے باہوں میں بھرتا بیڈ کی جانب بڑھا جبکہ رعابہ نے اسکی حرکت پر شرم سے اپنا گلال چہرہ اسکے سینے پہ چھپایا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥