117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

ریحام کی آنکھیں اپنے فون کی تواتر سے بچتی میسج ٹون پر کھول گئی تو وہ دائیں جانب کروٹ بدل کر سامنے ارحام انصاری کو اپنے بے حد نزدیک سوتے ہوئے دیکھ کر تیزی سے اٹھی اور پھر اُسے بغور دیکھنے لگی جو شرٹ لیس اُسکی طرف منہ کیے سویا ہوا تھا۔۔۔
اُسنے اپنی نظروں کو تیزی سے اُسکے مضبوط کاٹھی سے ہٹا کر بیڈ سائیڈ پر رکھے اپنے موبائل پر مرکوز کر دیا جس پر کب سے میسج آ رہے تھے۔۔
“نہیں۔۔!!
بیڈ سائیڈ سے اپنا موبائل اٹھا کر اُسنے اپنے سبھی لندن کے دوستوں کے میسج پڑھے پھر اُسی تیزی سے اُسنے ایک ایپ اوپن کیا جہاں پر اپنی اور ارحام کی وڈیو دیکھ کر وہ زور سے چیخی اور موبائل زور سے بیڈ سے نیچے پھینک کر بری طرح سے رونے لگی۔۔
“کیا ہوا جانم تُم رو کیوں رہی ہوں۔۔؟؟
ارحام نے جب اُسکی آواز سنی تو وہ تیزی سے اٹھا اور اُسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ کر اُس سے پوچھنے لگا جو ہچکیاں لے کر بری طرح سے رو رہی تھی۔۔
“ہاتھ مت لگاؤ مجھے تُم دور رہو مجھ سے میں نے اعتبار کر کے اچھا نہیں کیا یہ دیکھو تُمہاری وجہ سے میں آج دنیا کے سامنے رسوا ہوگئی ہوں۔۔!!!
اُسے دور دھکیلتی وہ غصے سے سرخ چہرہ لیے نیچے گرے اپنے موبائل کی جانب اشارہ کرتی چیخی تو ارحام بیڈ سے نیچے اترا اور تیزی سے آگے بڑھ کر موبائل اٹھا کر اپنی اور اُسکی وڈیو دیکھ کر سکتے میں چلا گیا۔۔۔
“آئی سیور ریحام مجھے اِس بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں ہے۔۔!!
ارحام اُسکی جانب بڑھا اور اُسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر اُسکی بے یقین سرخ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُسے یقین دلانے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔
مگر وہ اپنی خون چھلکاتی آنکھوں سے نفرت سے دیکھتی اُسے خود سے دور کرتی بیڈ پر رکھی سفید چادر کو خود پر اوڑھتی بیڈ سے اٹھی اور اُسے سرخ نظروں سے ایک بار پھر نفرت سے دیکھتی تیزی سے واش روم کی جانب بڑھی۔۔۔
“کون کر سکتا ہے یہ گھٹیا کام پر اُس سے پہلے مجھے اِس ایپ کو اڑانا ہوگا کیونکہ یہ وڈیو ابھی اپلوڈ کیا گیا ہے اور یہ اے بی کا تو کام نہیں ہو سکتا کیونکہ میں اُسے بہت اچھے سے جانتا ہوں۔۔!!
وہ اُسی طرح بنا شرٹ کے روم کے چکر لگاتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ واش روم سے ریحام کو باہر نکلتے دیکھ کر تیزی سے آگے بڑھا اور اُسے چھونے ہی والا تھا کہ اُسکے روکنے پر وہ تکلیف سے اُسے دیکھنے لگا۔۔
“ریحام یہ سب میں نے نہیں کیا ہے میں بھلا کیوں اپنی عزت کو یوں دنیا والوں کے سامنے رسوا کروں گا۔۔!!
آگے بڑھا اور اُسکے ہاتھ کو نظر انداز کرتے ہوئے جو اُسنے نفرت سے اُسے روکنے کی وجہ سے اُسکے سامنے کیا ہوا تھا اُسنے ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے ایک ہی جھٹکے سے اپنے چوڑے سینے سے لگا کر خود میں زور سے بھینچتے ہوئے کہا۔۔
“تُم نے یہ سب جان بوجھ کر کیا ہے کیونکہ تُمہاری خواہش جو پوری ہوگئی ہے اور اب میں تو صرف تُمہارے لِئے ایک ٹشو ہو جسے تُم اپنا ماتھا پونچھ کے نیچے پھینکے والے ہو اور وہ بھی یہ گھٹیا کام کر کے میں نے تو تُم پر اعتبار کیا تھا پھر کیوں تُم نے میرے اعتبار کا خون کیا بولو کیوں۔۔؟؟
کالر سے پکڑ کر وہ آنسؤں بہاتی اپنی سرخ آنکھوں سے اُسے دیکھتی چیخ کر بولی جبکہ ارحام اُسکی کمر پر ہاتھ رکھے اُسے دیکھ رہا تھا یکدم سے اُسکے چہرے پر جھکا اور بہتے موتیوں کو اپنے ہونٹوں سے باری باری دونوں آنکھوں سے چننے لگا۔۔
“وعدہ کرتا ہو جانم میں تُمہارے ایک ایک آنسوؤں کا بدلا لونگا یہ جس کسی نے بھی کیا ہے زندہ نہیں بچے گا اُسنے میری عزت کو رسوا کرنے کا سوچا ہے ناں تو اب میں اُسکی عزت کو سب کے سامنے نیلام کروں گا۔۔۔!!
ایک ہاتھ سے اُسکی پشت سہلاتے وہ اپنی سرخ اور وحشت سے بھری نظریں بند کرتا بولا اور ضبط سے اپنے دوسرے ہاتھ کی مٹھیاں بند کرتا زور سے کھسنے لگا۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“کون ہو تُم اور مجھ سے کیا کام ہے۔۔؟؟
ارحام جو لیپ ٹاپ پر اُس ایپ کو ہیک کر کے اُس میں سے وڈیو ریمو کرنے کے بعد ایپ کو اڑا کر اب ریلکس انداز میں کرسی کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں موند کر ریحام کے متعلق سوچ رہا تھا۔۔
موبائل کی ٹون پر سیدھا ہوا اور بنا نمبر دیکھے کال اٹھا کر فون کان سے لگاکر ہیلو بولا تو دوسری طرف موجود شخص کی بات پر وہ تیزی سے اٹھا اور اُس سے پوچھنے لگا۔۔
“ابھی پپو تُو اپن کا ڈیٹا ویٹا مت پوچھ بلکہ جلدی سے یہ سوچ کہ تجھے وہ وڈیو کیسے اڑانی ہے میرے باس کے پاس سے۔۔
اور اگر پپو تّجھے وڈیو چاہیے تو اپن کے بتائے ہوئے پتے پر جلدی سے پہنچ جاؤ۔۔!!
دوسری جانب موجود شخص نے خالص ٹپوری والے انداز میں خباثت سے کہا تو ارحام نے غصے سے دوسری طرف موجود شخص سے کہا۔۔
“میں وہاں ضرور آؤ گا لیکن تُمہیں مارنے تیار رہنا گھٹیا انسان تمہاری اِس بے ہودہ حرکت کی وجہ سے میری بیوی
بہت روئی ہے اب تُمہاری باری تُمہیں تڑپا تڑپا کر ماروں گا۔۔!!
ٹیبل پر گرفت سخت کرتا خطرناک لہجے میں بولا۔۔
“ہاہاہاہاہاہا پپو میں نے تو تمہارے بھلے کے لئے خطروں سے کھیل کر یہ وڈیو اپنے باس کے روم سے اٹھایا ہے اور تُم ہو کہ میرے بھلے کا سوچنے کے بجائے اپن کو مارنے کا سوچ رہے ہوں۔۔!!
شنکر ڈیوائس کو بے چارگی سے دیکھتے ہوئے بولا تو ارحام ڈیوائس کے بارے میں سن کر وہ اپنے روم سے باہر نکلا اور تیزی سے لفٹ کی جانب بڑھا۔۔۔
“میں آ رہا ہو بولو تُمہیں کتنی رقم چاہیے اِس وڈیو کے بدلے تُم جتنی رقم چاہتے ہو بتاؤ میں تُمہیں دینے کے لیے تیار ہو بس وہ وڈیو مجھے ہر حال میں چاہییے۔۔!!
لفٹ کے نیچے پہنچتے ہی وہ تیزی سے باہر نکلا اور پارکنگ کی جانب بڑھا جہاں اُسکی کار پارک تھی وہ کار کی جانب پہنچ کر اپنا فون دوسرے کان میں منتقل کرتا کار کا دروازہ ہجلت میں کھولتا ہوا بے چینی سے بولا۔
“پپو پورے دو لاکھ اپن کے ہاتھ پر رکھ اپن تیرے ہاتھ پر یہ ڈیوائس رکھے گا۔۔!!
کمینگی سے مسکراتے ہوئے ڈیوائس کو گھورتے ہوئے بولا تو ارحام نے کار اسٹارٹ کیا اور بینک کی جانب بڑھا جہاں سے اُسنے پیسے نکالنے تھے اور پھر اُس کمینے شخص کے منہ پر مار کر وہ وڈیو کسی بھی طرح کرکے حاصل کرنی تھیں۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
“پورے دو لاکھ ہے نا پپو۔۔؟؟
شنکر نے ارحام کی جانب دیکھتے ہوئے بیگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو ارحام کے ہاتھ میں تھا۔۔۔
“ہاں کیونکہ دو لاکھ سے زیادہ اہم میرے لئے میری بیوی ہے اگر تم نے ایک کروڑ بھی مانگا ہوتا نا تو میں تُمہیں دیتا اب مجھے وہ ڈیوائس دو اور یہ رقم لے کر یہاں سے اپنی شکل گم کروں ورنہ اگر مجھے غصے آگیا نا تو تُم اِس دنیا سے گم ہو جاؤ گے۔۔۔!!
غصے سے ہاتھ بڑھا کر شنکر سے بولا تو اُسنے ڈیوائس اُسکی جانب اچھالا اور ارحام انصاری نے وہ ڈیوائس کھینچ کر کے اُسکی طرف بیگ کو اچھالا۔۔۔
“پپو مجھے پتہ ہوتا کہ تجھے اپنی بیوی اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے تو میں ایک کروڑ مانگتا لیکن وہ کیا ہے نا کہ شنکر دادا کو اپنی زبان سے پھیرنا بلکل بھی پسند نہیں ہے ۔۔!!!
خباثت سے بیگ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔
“تُم اب یہاں سے اپنی منہوس شکل کو لے کر جلدی سے گم ہو جاؤ ورنہ دوسری آفر بھی ابھی موجود ہے۔۔!!
ارحام نے ڈیوائس کو آگ لگاتے ہوئے سرد لہجے میں کہا تو شنکر نے اپنی ریوالور نکالی اور آہستگی سے قدم آگے بڑھا کر اُسکے پیچھے بڑھنے لگا۔۔
“پپو ہوشیاری بلکل بھی نہیں اور تُجھے کیا لگا تھا کہ اپن اپنے باس کو دھوکہ دے گا اِن پیسوں کی خاطر نہیں پپو میں ایک سچا اور وفادار غلام ہو جہاں نمک کھاتا ہو اُس نمک کی قیمت اچھے سے ادا بھی کرتا ہو۔!!
ریوالور کی نال اُسکے سر پر رکھتے ہوئے شنکر نے کہا تو ارحام ریوالور اپنے سر پر محسوس کرتا ضبط سے اپنی مٹھیاں کھسنے لگا۔۔
“اور تُم نہیں جانتے کہ میں اپنے ملک کے لئے جان دے بھی سکتا ہو اور لے بھی سکتا ہو تُم جیسے ناسور کو اگر ختم کرتے کرتے میری جان بھی چلی جائے ناں تو مجھے یہ سودا منظور ہے۔۔۔!!!
وہ سرخ چہرے کے ساتھ ریوالور اور اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر پیچھے مڑا اور اُسکے چہرے پر زور سے مکا مارتے ہوئے دہشت تاری کرتے لہجے میں بولا۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔!!!
“پپو بہت طاقت ہے نا تیری اُن بازؤوں میں تو یہ لیں اور گولی کھا۔۔!!
شنکر نے زور سے قہقہہ لگایا اور ریوالور اُسکے بازؤوں پر رکھتے ہوئے اُسنے ٹریگر دبایا تو ارحام گولی لگنے کی وجہ سے پیچھے ہٹا اور ضبط سے اپنی ہونٹ بھینچ کر شدت سے اپنی آنکھیں بند کرتا ایک ہاتھ سے اپنے بازو سے خون کو روکنے کی کوشش کرنے لگا۔۔
“شنکر دادا تُم مجھ پر گولی چلا کر یہاں سے زنده بچ کر نہیں بھاگ سکتے کیونکہ ابھی بھی اِن بازؤوں میں طاقت ہے تُمہیں روکنے کی اور تُمہارا باس بھی زنده نہیں بچے گا کمانڈر اُسے ضرور مارے گا۔۔!!
ضبط سے سرخ ہوتی آنکھیں غصے سے اور سرخ ہوگئی تھی وہ اپنی تکلیف کی پرواہ کیے بغیر نیچے جھکا اور اپنے جوتوں پر لگے چاقو کو نکال کر اُسکی جانب بڑھا جو خباثت سے کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا۔۔
“آہ۔۔!!
ارحام کی چاقو نے اُسکے ماتھے پر ایک گہرا کٹ لگایا تھا جسکی کی وجہ سے شنکر تکلیف سے اپنا چہرہ پکڑتے ہوئے پیچھے ہٹا اور ارحام نے اپنے بازؤوں کو سختی سے پکڑا اور تکلیف کی پرواہ کیے بغیر تیزی سے باہر کی جانب بھاگا۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
ارحام انصاری کے فلیٹ سے وہ صبح کے چھ بجے غصے سے نکلی تھی اور اب صبح کے پورے نو بج رہے تھے اب وہ اپنے روم میں بیڈ پر سمٹ کر بیٹھی ہوئی تھی اور سرخ نظریں فون پر مرکوز تھی۔۔
“ری برو آپ یہاں بیٹھی ہو اور باہر سب میرے اور شام ایزل اور سام کے ارجنٹ نکاح کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں اور اب صرف ہماری شاپنگ رہتی ہے اذان بھائی اور رعابہ کی تو پہلے سے ہی سب تیاریاں ہو چکی ہیں۔۔!!
عشوہ ناشتے کی ٹرے اٹھائے اُسکے روم میں پٹر پٹر بولتی ہوئی داخل ہوئی تو ریحام نے اُسے خالی نظروں سے دیکھا پر کہا کچھ نہیں۔۔
“ری برو آپ کن خیالوں میں کھوئی ہوئی ہیں۔۔؟؟
عشوہ آگے بڑھ کر اُسے کندھوں سے جنجھوڑ کر بولی۔۔
“ہاں تُم کچھ کہہ رہی تھی عشو۔۔!!
نظریں اُس پر ٹکا کر وہ اُسے دیکھتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی۔۔
“میں پوچھ رہی تھی کہ آپ کن خیالوں میں کھوئی ہوئی ہے”
اُسکے بیڈ پر بیٹھتی ہوئی وہ بولی۔
ریحام اُسکی بات پر اپنی انگلیاں آپس میں ملا کر نیچے بیڈ شیٹ کو گھورنے لگی اور عشو اُسے خاموش دیکھ کر اٹھی کیونکہ باہر سے اُسے اپنی ماں کی آواز سُنائی دی تھیں۔۔
“ری برو آپ ناشتہ کیجئے جب تک میں مما کی بات سن کر آتی ہو مجھے تو لگ رہا ہے کہ مہندی لگانے والی آئی ہوگی کیونکہ ارجنٹ سب کچھ طے ہوا ہے تو سب کی مہندی کی رسم سب گھر والے مل کر ابھی کریں گے۔۔!!
جلدی سے بولتی وہ روم سے باہر نکلی تو ریحام نے دھڑکتے دل کے ساتھ موبائل سائیڈ ٹیبل سے اٹھایا اور ڈرتی ہوئیں اُسنے وہ ایپ کھولا لیکن بہت کوششوں کے بعد بھی جب وہ ایپ نہیں کھلا تو پرسکون ہوگئی کیونکہ اُسے پتہ چل گیا تھا کہ یہ ایپ کیوں نہیں کھل رہا تھا۔۔
تبھی اچانک سے اُسے باہر رعابہ اور رملہ کی چیخ سنائی دی تو وہ تیزی سے بیڈ سے اٹھی اور اپنے روم سے باہر نکلی۔۔
💕💕💕💕💕💕💕
“اذان آپ کو اتنی گہری چوٹ لگی ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے۔۔!!
رعابہ اُسکی پیشانی پر بہت زیادہ خون کو بہتے ہوئے دیکھ کر روتی بولی تو اذان شاہ نے مسکراتے ہوئے اُسے دیکھا جو اُسکی تکلیف پر رو رہی تھی۔۔
“رعابہ، رعابہ یہ کچھ بھی نہیں ہے بس چھوٹا سا تو کٹ ہے جو میڈیسن لگانے سے ٹھیک ہو جائے گا اور مما آپ بھی رو
رہی ہیں۔۔!!
اذان شاہ نے اپنے ماتھے کو چھو کر رعابہ اور اپنی ماں سے کہا جو تواتر سے آنسؤوں بہہ رہی تھیں جبکہ ریحام اُسکے ماتھے پر گہری چوٹ اور شرٹ پر مٹی دیکھ کر یکدم سے ارحام کے حوالے سے ڈرنے لگی۔۔
“بیٹا میں کیسے نہیں روؤ ہاں میرا بچہ اتنی تکلیف میں ہے اور میں روؤ بھی ناں اور تُم اب باہر نہیں جاؤ گے اور تُمہارا دوست وہ کہا تھا جسے تُم ہر وقت اپنے ساتھ گارڈ کی طرح لئے پھرتے تھے۔۔!!
رملہ نے اُسے بری طرح سے جھڑکتے ہوئے کہا۔۔۔
“تُم لوگ پلیز اُنہیں سمجھاؤ نا یہ صرف ایک معمولی سا چوٹ ہے جو میں اپنے روم میں جا کر اُسکی ڈریسنگ کرو گا تو جلد ٹھیک ہو جائے۔۔!!
اذان شاہ نے تاسف سے اپنی ماں اور ہونے والی بیوی کو دیکھا جو بری طرح سے آنسوؤں بہہ رہی تھی اور پھر ایزل عشوہ اور ریحام کو بے چارگی سے اِن دونوں کو سنبھالنے کا کہہ کر اپنے روم کی جانب بڑھا۔۔۔
“اوکے برو۔۔!!
عشوہ اور ایزل نے یک زبان ہو کر کہا اور رملہ اور رعابہ کو کندھوں سے پکڑ کر وہ ان دونوں کو وہاں سے لے جانے لگی جبکہ ریحام نے اُنہیں دیکھا پھر اذان شاہ کے چہرے پر غصہ ڈھونڈا لیکن وہاں اُسے غصے کی جگہ تکلیف نظر آئی تو وہ آگے بڑھی لیکن اُسے اذان شاہ نے وہیں روکتے ہوئے کہا۔۔
“اب پلیز تُم اِس چوٹ کے بارے میں مجھ سے مت پوچھنا۔۔!
ہاتھ اٹھا کر وہ بے زاری سے بولا تو وہ خاموشی سے اُسے دیکھنے لگی جو اپنی بات کہہ کر اب اپنے روم کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“ہیلو ارحام تُم ٹھیک تو ہو۔۔؟؟
ریحام اپنے روم میں داخل ہوئی تو بیڈ پر رکھے موبائل کی آواز پر وہ تیزی سے آگے بڑھی اور بے قراری سے بنا نمبر دیکھے کال اٹھا کر بولی۔۔
“ری بڈی یہ میں ہو ڈینی تمہارا دوست ارحام نہیں مے بی وہ تمہارا شوہر ہے اور یار تُم کیسی دوست ہو تُم نے شادی رچا لیا اور ہمیں بتایا تک نہیں۔۔!!
جبکہ دوسری جانب اپنے لندن کے دوست ڈین رابرٹ کی آواز پر وہ تعجب سے موبائل کان سے ہٹا کر نمبر دیکھنے لگی جو لندن کا تھا۔۔
“ڈین یہ بہت ارجنٹ میں ہوا تھا ورنہ میں کبھی شادی نہ کرتی۔۔۔!!
وہ بے زاری سے بولی۔۔۔
“بس بس اب ری تُم یہی بہانے کرو گی لیکن ہم تُمہیں کوئی موقع نہیں دے گے کیونکہ ہم لوگ تمہاری شادی کی خوشی میں ایک پارٹی وہاں پاکستان میں آکر کرے گے۔۔!!
اُسنے خفگی سے کہا تو ریحام اُسکی بات پر خوفزدہ ہو گئیں اور جلدی سے آگے بڑھی اور اپنے روم کا دروازه بند کرتی ہلکی آواز میں بولی۔۔۔
“ڈین پلیز ابھی نہیں ابھی میں نے اپنی فیملی کو نہیں بتایا ہے اِس بارے میں اور تُم بھی سب سے کہنا کہ پلیز اِس وڈیو کے بارے میں میری فیملی میں سے کسی کو بھی مت بتانا کیونکہ میں اُن سب کو خود سرپرائز دینا چاہتی ہوں۔۔!!
وہ گھبراتی آواز میں ڈین سے بولی تو ڈین نے اُس سے وعده کیا اور ارحام سے ملانے کا کہہ کر فون رکھ دیا اور ڈین کے کال کاٹنے پر وہ تیزی سے ارحام کے نمبر پر کال کرنے لگی لیکن اُسکا نمبر بند تھا تو وہ پریشانی سے اپنے روم کے چکر کاٹنے لگی اور اُسکے بارے میں سوچنے لگی۔۔
جبکہ دوسری جانب ارحام جو تکلیف سے اپنے بازؤوں پر ہاتھ رکھے اُس عمارت سے نکل کر روڈ کی جانب تیزی سے بڑھتے وہ اپنی جیب سے فون نکال کر ریحام کے نمبر پر کال ملا کر فون کان سے لگا کر وہیں کھڑا ہوا لیکن ریحام کا نمبر بزی دیکھ کر وہ ضبط سے اپنی ہونٹ بھینچ کر روڈ کراس کرنے لگا کہ تبھی سر چکرانے کی وجہ سے نیچے گرا اور بے ہوش ہو گیا مگر اپنے ہوش کھونے سے پہلے کسی کو تیزی سے اپنی جانب بڑھتے ہوئے اُسنے دیکھا تو ریحام کا نام بڑبڑاتے ہوئے وہ آنکھیں بند کر گیا تھا۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕
“شام تُم پاگل تو نہیں ہوگئے ہو ممم۔میں بھلا تمہارے ساتھ اِسطرح کیسے جاؤ گی۔۔۔؟؟
عشوہ خوبصورتی سے سجے جھولے پر ایزل کے ساتھ بیٹھی تھی شام کی بات پر اپنے دونوں مہندی لگے سفید اور نازک ہاتھوں کو اوپر اٹھا کر اور خفگی سے پیروں پر لگے مہندی کی جانب اشاره کرتی بولی۔۔۔
“عشو ڈارلنگ ایسے۔۔!!
شام آگے بڑھا اور اُسے گود میں اٹھا کر معنی خیز نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے بولا۔۔
عشوہ اُسکی بے باک حرکت پر نروس ہوتی سب کی جانب دیکھنے لگی جو شام کی حرکت پر چہرہ جھکا کر مسکرا رہے تھے۔۔
“شام بے شرم انسان مجھے نیچے اتارو یہ تُم کیا کر رہے ہو دیکھ نہیں رہے مما اور رعابہ بھابھی ری برو حور آپی اور ایزل لوگ بھی یہی پر موجود ہے وہ کیا سوچے گے۔۔!!
وہ گلال چہرہ نیچے جھکا کر شرگوشی میں بولی۔۔۔
“یہی کہے گے عشو ڈارلنگ کہ دو پریمی آج ایک ہونے والے ہیں۔!!
شام نے اُسکی کان کے قریب بوجھل آواز میں سرگوشی کی تو عشو اُسکی پرتپش سانسوں کے ٹھپیڑے اپنی گردن پر محسوس کرتی زور سے لرزنے لگی۔۔
“شام دیکھو نیچے اتارو ورنہ میں رو دو گی۔۔!!
اپنی آواز بھاری کرتی وہ مصنوعی روتی بولی تو شام اُسکی باتوں کی پرواہ کیے بغیر اُسے گود میں لئے گھر سے باہر نکلا جبکہ اُن دونوں کے باہر نکلتے ہی سب زور سے ہنسنے لگے جبکہ ایزل سرخ چہرہ لیے سامنے کھڑے سام کو گھورنے لگی جو اُسے بغور دیکھ رہا تھا۔۔
💕💕💕💕💕💕💕
“ڈھیٹ انسان ہو تُم پورے کے پورے شام اب کوئی اِسطرح کسی لڑکی کو گھر والے کے سامنے سے اٹھا کر لاتا ہے کیا اور وہ پتہ نہیں کیا سوچ رہے ہونگے۔۔!!
وہ گاڑی میں اُسکے ساتھ بیٹھی منہ بسور کر بولی۔۔
شام جو ڈرائیونگ کر رہا تھا اُسکی بات پر مسکرایا اور گاڑی سائیڈ پر روک کر اُسکی جانب مڑا اور مہندی لگے اُسکے سفید خوبصورت نازک ہاتھوں کو دیکھنے لگا۔۔۔
“عشو میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ تُم مجھے اتنی آسانی سے مل جاؤ گی ائینڈ تھینکس عشوہ میری زندگی کا حصہ بننے کے لئے راضی ہونے کے لئے۔۔”
اپنا سر اُسکی پیشانی پر ٹکا کر وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔۔
اور عشوہ اُسکی اتنی زیادہ قربت پر بری طرح سے کانپتی ہوئی اپنی نظریں زور سے میچنے لگی۔۔
“ڈئیر ہونے والی بیوی اب آنکھیں کھولو کیونکہ ابھی میرا رومینٹک موڈ نہیں ہے ہاں نکاح کے بعد کچھ کہا نہیں جا سکتا!!
شرارتی لہجے میں کہتا وہ اُسے ٹھوڑی سے پکڑ کر بولا تو عشوہ اُسکی بے باکی سے کہنے پر آنکھیں بند کیے ہی ہاتھ سے ٹٹول کر اُسکے چوڑے سینے پر اپنے نھنے ہاتھوں سے اُسے مکا مارنے لگی۔۔۔
“بدتمیز انسان اگر تُم مجھے اِسطرح کی باتیں سنانے کے لیے لے کر آئے ہو ناں تو میں چلی جاتی ہو۔!!
غصے سے اُسکی ستواں ناک سرخ ہوگئی تھی جسکی وجہ سے وہ بہت زیادہ کیوٹ لگ رہی تھی اور یہ منظر دیکھ کر شام نے اپنے ہونٹ اُسکی سرخ ناک پر رکھا۔۔۔
“نہیں عشو ڈارلنگ نکاح میں بس دو گھٹنے باقی ہے اور میں تُمہیں مکمل دلہن کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہو اِسیلئے میں تُمہیں تیار ہونے کے لئے پارلر میں لیں کر آیا ہوں۔۔”
وہ اُسکے سرخ گالوں کو کھینچتے ہوئے گھمبیر لہجے میں بولا تو عشوہ نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھول کر سامنے حیرت سے بیوٹی پارلر کی جانب دیکھا۔۔۔
“تُم۔۔!!
عشوہ بس اتنا کہہ سکی کیونکہ اُسکی پرشوق نظریں خود پر مرکوز پاکر وہ نروس ہو رہی تھی پھر وہ گھبرا کر گاڑی سے باہر نکلی اور تیزی سے اندر بڑھی۔
اُسے گھبرا کر تیزی سے پارلر کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ زور سے قہقہہ لگا اٹھا تھا۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕
حور جاؤ اوپر جا کر جو رعابہ لوگوں کے لیے میں نے گجرے منگوا کر اوپر اپنے کمرے میں رکھے ہیں وہ جلدی سے لے کر آؤ اگر وہ لوگ پارلر سے آگئے تو میں بھول جاؤ گی۔!!
حور جو سرمئی خوبصورت ساڑھی میں ملبوس تھی جبکہ ریحام جس نے پنک ساڑھی بڑے مشکل سے زیب تن کیا تھا وہ دونوں مل کر ٹیبل کو خوبصورتی سے پھولوں سے سجا رہی تھی حنیہ نے اُسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
“اوکے مما میں ابھی لاتی ہو۔۔!!
حور حنیہ کو کہتی سیڑھیوں کی جانب بڑھی اُسکے مما بابا کا روم اوپر تھا جہاں شور زرا کم آتا تھا کیونکہ شاه بخت کو زیادہ شور پسند نہیں تھا۔۔ اے بی جو سامنے سے آ رہا تھا اُسے بھی سرمئی لباس میں دیکھ کر وہ خوشگوار انداز میں آگے بڑھا کیونکہ وہ بھی سرمئی کاٹن کے شلوار قمیض میں ملبوس اپنے کندھوں پر سیاه شال اوڑھے وجاہت کا منہ بولتا ثبوت لگ رہا تھا۔۔
“کوئین میں کل سے نوٹ کر رہا ہوں تُم کیوں مجھے اگنور کر رہی ہوں۔۔۔؟؟
جب اُسنے حور کو تیزی سے اپنے سامنے سے گزرتے دیکھا تو وہ خود کے نظر انداز ہونے پر سخت غصے سے آگے بڑھا اور اُسے کلائی سے پکڑ کر وہ اُسے اپنی طرف زور سے کھینچتے ہوئے بولا۔۔
“چھوڑے میری کلائی۔۔!!
حور غصے سے اپنی کلائی کو اُسکی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کرتی تیز لہجے میں بولی۔‌۔۔
اے بی جو اُسکے سخت لہجے پر بغور اُسکے سرخ چہرے کی جانب دیکھ رہا تھا نیچے جھکا اور اُسے بازؤوں میں بھر کر اُسکے روم کی جانب بڑھا۔۔۔
حور اُسکی حرکت پر مزاحمت بھی نہ کر سکی اور بے بسی سے اپنے دونوں ہاتھ اُسکے کندھوں پر رکھتی کپکپاتی ہوئی وہ سامنے دیکھنے لگی۔۔
“کوئین تُمہیں مجھے اگنور کرنے کی سزا تو آج ضرور ملے گی اور جب تُم مجھے اگنور کرو گی تب میں تُمہیں اِسی طرح سزا دیا کروں گا۔۔!!
اُسے لئے روم میں داخل ہوا اور اپنے پیروں سے دروازه زور سے بند کرتا بیڈ کی جانب بڑھا اور اُسے بیڈ پر زور سے گراتا خود اُسکے ساڑھی میں مقید خوبصورت سراپے کو دیکھتے ہوئے اپنے قمیض کے بٹن کھول کر قمیض اتار کر اُس پر جھکا اور اپنے ہونٹوں سے اُسکے ہونٹوں کو چھو کر شدت سے اُسکی سانسوں کو منتشر کرنے لگا۔۔
“جانم اب تُمہیں اکیلا چھوڑنا مجھے اپنی موت کو بلانے کے برابر لگ رہا ہے لیکن میں تُمہیں موقع دے رہا ہو اور تُمہاری فیملی کو بھی لیکن اگر دوباره تُم نے مجھے اگنور کیا تو آئی سیور میں رخصتی سے پہلے اپنی ساری حدیں پار کر لونگا کیونکہ پہلے تو میں نے تُمہیں موقع دیا تھا اِسی لئے میں نے ابھی تک اپنی حد پار نہیں کیا ہے لیکن اب میں کوئی موقع نہیں دونگا۔۔۔!!
حور کو نڈھال دیکھ کر وہ پیچھے ہٹا اور اُسے کمر سے پکڑ کر اوپر اٹھاتے ہوئے مخمور نظروں سے دیکھتا بوجھل آواز میں سرگوشی کرنے لگا۔۔۔
“آپ نے تو اِسیلئے مجھ سے شادی کیا تھا کہ مجھے آپ استعمال کر سکے اور جب اپکی خواہش پوری ہوگی تو مجھے کسی بیکار شے کی طرح اپنے عالیشان گھر سے باہر پھینک دے گے۔۔!!
وہ اپنی سانسوں میں اُسکی سانسوں کی خوشبو کو محسوس کرتی آنکھیں غصے سے اُس پر ڈالتی سخت لہجے میں بولی۔۔
“جانم میری خواہش یہ نہیں میری خواہش تو صرف تُم ہو اور رہی بات اِسکی یہ تو میرا حق ہے جو میں چاہے جس طریقے سے تُم سے لوں تُمہیں بلکل بھی اعتراض نہیں کرنا ہوگا۔۔۔!!
وہ اُسکے کندھوں کو محبت سے اپنے ہونٹوں سے چھوتا گھمبیر آواز میں سرگوشی کرنے لگا جبکہ مضبوط ہاتھ اُسکی ساڑھی کے پلو کو آہستگی سے ہٹا رہے تھے۔۔
حور اپنی آنکھیں زور سے میچے ہوئی تھیں آہستگی اپنے کندھوں پر سے وہ اپنے ساڑھی کے پلو کو ہٹتا ہوا محسوس کرتی اور شدت سے آنکھیں میچنے لگی۔۔
اے بی نے جھٹکے سے اُسے اوپر اٹھایا اور اُسکی بیک پر ایک ہاتھ رکھ کر اور آہستگی سے اُسکے بلاؤز کی ڈوریاں ایک ایک کر کے کھولنے لگا۔۔
حور اُسکے ہاتھوں کو اپنی پشت پر محسوس کرتی تیز تیز سانسیں لینے لگی اور اپنے نازک ہاتھ اُسکے مضبوط کندھوں پر رکھتی وہ اُسے روکنے کی کوشش کرنے لگی لیکن آج تو اُسکی مزاحمتوں کو خاطر میں لائے بغیر وہ اُسے تسخیر کرنے کا مکمل اراده رکھتا تھا۔۔
اے بی مدہوشی کے عالم میں اُسکی پشت پر نرمی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنا پرتپش اور نرم لمس اُسکے نازک گردن پر شدت سے چھوڑنے لگا لیکن جب اُسکی نظریں اُسکے تکلیف سے سرخ ہوتے چہرے پر پڑی جو اُسکی شدتوں کو زور سے آنکھیں بند کیے مشکل سے برداشت کر رہی تھی۔۔
“جانم ابھی تو میں جا رہا ہو لیکن کل تیار رہنا کیونکہ اب یہ دوریاں مجھ سے بلکل بھی برداشت نہیں ہوتی کل میں ہمارے درمیان جو یہ دوریاں ہے وہ اپنی چاہت سے ختم کر دونگا۔۔!!
تیزی سے اُسکے اوپر سے اٹھا اور اُسکے شرم سے سرخ ہوتے گالوں کو سہلا کر گھمبیر لہجے میں بولا اور اپنی قمیض پہننے کے بعد بٹن بند کرتا بیڈ سے اٹھا اور اُسے مسکراتے ہوئے دیکھنے لگا جو نڈھال بیڈ پر ساڑھی کے پلو کی قید سے آزاد گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔۔
اور اُسکی باتوں کو لرزتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ وہ کل شاید اُسکے ساتھ اُس سے بھی برا کرنے والا تھا جو اُسنے ابھی اُسکے ساتھ کیا تھا اور وہ کیوں اُسکے لمس سے گھبرائی نہیں تھی اور کیوں اُسے روک نا سکی تھی۔۔