117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

“ہاہاہاہاہاہا.!!!
“حوری آپ اسکول یونیفارم میں آب بھی بہت زیادہ کیوٹ لگتی ہے۔؟؟
اذان شاہ ائیرپورٹ کے ویٹنگ ایریا میں بیٹھا کب سے اُنکا بے صبری سے انتظار کر رہا تھا۔وہ پورے تین سال بعد اپنی حوری کو دیکھے گا۔
یہ خوشی اُسکے چہرے سے صاف نظر آ رہی تھی۔کہ وہ آج بہت زیادہ خوش تھا۔جب اسنے ری کو اپنی طرف آتے دیکھا تو وہ اپنی جگہ سے اٹھا ابھی اپنے قدم وہ آگے بڑھاتا اُس سے پہلے اُسنے دیکھا کہ ری کے پیچھے سے ایک کیوٹ سی لڑکی نکل کر اُنکی جانب آ رہی تھی جس نےاسکول یونیفارم پہنا ہوا تھا۔اور جب وہ لڑکی انکے کافی نزدیک پہنچی تو اذان شاہ اُسے پہنچان کر پہلے تو وہ زور سے قہقہہ لگا اٹھا پھر غور سے اُسے دیکھتے ہوئے بولا ۔
“پرنس آپ اتنی جلدی بھول گئے کل ہی تو آپ نے کہا تھا کہ۔آپ مجھے اُس حلیے میں دیکھنا چاہتے ہے۔۔۔جب آپ نے مجھے آخری بار لندن میں دیکھا تھا۔جب میں آپکو سی آف کرنے بابا کے ساتھ آئی تھی۔آپ اتنی جلدی کل رات جو بات آپ نے مجھ سے فون کال پر کہا تھا بھول گئے۔”
حور خفا ہو کر منہ بسور کر بولی۔تو اذان شاہ نے اُسکے خفا اور معصوم چہرے کی جانب محبت سے دیکھا۔جو منہ پھلائے اُسے بہت زیادہ کیوٹ لگ رہی تھی۔
“بھایان اب آپ یہی کھڑے کھڑے کیوٹی سے اسکا حال چال پوچھیں گے۔یار اب یہاں سے چلے بھی نا مجھے تو زورو کی بھوک لگ رہی ہے۔”
ری شور مچاتی آگے بڑھتے بولی۔تو اذان شاہ نے حور سے نظریں ہٹا کر اُسے تیز نظروں سے گھورا۔۔۔۔۔جو اب حور کا ہاتھ پکڑ کر باہر کی جانب بڑھ رہی تھی۔
“بہنا تم کبھی بھی نہیں سدھرو گی۔ویسے ہی لڑکوں والے عادات تم نے ابھی تک اپنائے ہوئے ہیں۔۔پر کوئی بات نہیں میں ہو نا۔تمہارا ہٹلر کھڑوس بھایان میں تُمہیں جلیبی سے اسکیل کی طرح سیدھا کرکے لندن بھیجوں گا۔”
اذان شاہ غصے سے اپنی ٹھوڑی کو سہلاتے ہوئے بولا۔اور اپنے قدم ان دونوں کے پیچھے بڑھانے لگا۔
💕💕💕💕💕💕💕
“اے بی سر آپ کے بابا کب سے آپکو کال ملا رہے ہیں۔اور آپ انکی کال کو ریسیو نہیں کر رہے تھے۔۔تو اُنہوں نے مجھے کال کیا کہ آپ کیوں بار بار انکی کال کو اگنور کر رہےہیں؟؟؟
بھاٹیا نے ٹریک سوٹ میں ملبوس پسینے سے شرابور اے بی کی جانب دیکھا جو ڈمبل پکڑے ورزش کرنے میں مصروف تھا۔اے بی کی ہمیشہ صبح جم میں ورزش کرتے ہوئے گزر جاتا۔اور پھر وہ بارہ بجے کے قریب تیار ہو کر سیٹ کے لئے نکلتا تھا۔وہ ڈمبل کو چھوڑ کر بھاٹیا کی جانب دیکھنے لگا۔جو خاموشی سے اُسکے حکم کا منتظر کھڑا تھا۔
“بھاٹیا جی میں تو ڈیڈ صرف بالی ووڈ کے کنگ اسٹار شاہ رخ خان کو مانتا ہو۔تو پھر یہ آپ کو میرے کونسے بابے نے کال ملایا ہیں۔؟
اپنے ہاتھوں کو پکڑ کر پیچھے گردن کی جانب لے جاتے ہوئے وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔تو بھاٹیا اپنے چہرے پہ آئے پیسنے کو صاف کرنے لگا۔
“سر شا۔”
اُس سے پہلے کے بھاٹیا نام پورا کرتا اے بی نے ڈمبل زور سے اُسکے پیروں کی جانب پھینکا جو لڑھکتا ہواسیدھا بھاٹیا کے پیرو کے ناخنوں کو زخمی کرنے میں کامیاب ہو گیا۔اوربھاٹیا تکلیف کے مارے اے بی کے سامنے اف بھی نہ کر سکا۔کیونکہ وہ اُسکی کراہ سن کر کئی غصے میں آ کر دوسرا ڈمبل اُسکے چہرے پر نا پھینک دیتا۔
“بھاٹیا جی افسوس اُنکا نام لیں کر آپ نے اپنے دو ناخن تو گنوا دیے ہیں۔۔۔۔۔۔ش ا سے اب آگے اگر آپ نے اپنی زبان سے دوسرے لفظ نکالنے کی زرا سی بھی کوشش کیا نا تو مجھ سے آپکا یہ جو خوبصورت اور گول مٹول سا چہرہ ہے نا۔وہ بگڑا ہوا بلکل بھی دیکھا نہیں جائے گا۔”
وہ دھمکی بھی اتنی خوبصورتی سے دوسرے بندے کو دیتا تھا کہ دوسرا بندہ یہ سوچ کر رہ جاتا کہ آیا ابھی اے بی نے اُسے دھمکی دیا۔یا پھر اُسنے اُسکے ساتھ بس ایک چھوٹا سا مزاق کیا تھا۔
“سوری سس۔سر وہ آپکے لئے بہت زیادہ پریشان ہو رہے تھے۔تو مجھ سے رہا نہیں گیا۔۔۔۔۔۔
اور آپ مجھے انکی پریشانی بتانے سیدھا یہاں پہنچ گئےآئی ایم آ رائٹ بھاٹیا جی۔”
وہ اپنا پسینے سے شرابو شرٹ اتارتے ہوئے سامنے صوفے پر پھینک کر انتہائی سنجیدگی سے بولا۔تو بھاٹیا اپنا درد بھول کر اب شتائشی نظروں سے اُسکے مضبوط جسم کی جانب دیکھنے لگاجو ورزش کی وجہ سے اُسے کافی فٹ لگ رہا تھا۔
“آئی ایم آ رائٹ بھاٹیا جی۔؟؟
اُسنے دوباره اپنا سوال غصے سے ڈوریا تو بھاٹیا گھبرا کر سر ہاں میں ہلانے لگا۔
“یس سر۔”
بھاٹیا کے جلدی سے کہنے پر اے بی اُسکی جانب اپنے قدم بڑھانے لگا۔۔۔۔اور بھاٹیا اُسے اپنی طرف آتے دیکھ کر پیچھے ہٹنے لگا۔
“تو میرے لو گرو ڈیڈ کو اپنا یہ کمینا + بدمعاش بیٹا یاد آ ہی گیا بھاٹیا جی اب آپ ان سے جاکر کہہ دیں کہ اے بی ابھی بھی اُنکا وہیں کمینا + بدمعاش بیٹا ہے۔اور ان سے یہ ضرور کہہ آنا کہ اے بی بے غیرت ضرور ہے۔لیکن اسنے جو انکے ولامیں نہ آنے کا جو اُنسے قسم کھایا تھا نا تو وہ مر کر بھی وہاں کبھی قدم نہیں رکھیں گا۔”
وہ سرخ آنکھیں بھاٹیا کے خوفزدہ چہرے پر ڈال کر بولا۔تو بھاٹیا نے صرف ہاں میں سر ہلایا۔ تو وہ اُسے اکیلا چھوڑ کر صوفے پر رکھا ٹاول اٹھاکر اپنی گردن پر رکھتے ہوئے قدم باہر کی جانب بڑھانے لگا۔یکدم سے اُسے حور کا خیال آیا تو وہ واپس پلٹ کر بھاٹیا سے اُسکے متعلق پوچھنے لگا۔
“سنو وائٹ کے بارے میں کچھ پتہ چلا بھاٹیا جی۔؟؟
بات وہ بھاٹیا سے کر رہا تھا اور نظریں ڈمبل پر مرکوز کی ہوئی تھی جو بھاٹیا سے پوشیده نا رہ سکی۔
“سس۔سر میں نے اُس لڑکی کو ڈھونڈنے کے لیے اپنے بہت سارے آدمی لگائیں ہے وہ اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں۔اُسے ڈھونڈنے کی لیکن سر اُسکا ابھی تک انہیں کچھ پتہ نہیں چلا ہے۔”
وہ کانپتے ہوئے بولا۔تو اے بی سرد نگاہوں سے گھورتے ہوئے اُسے زور سے کالر سے پکڑتے سخت لہجے میں کہنے لگا ۔
“بھاٹیا جی۔۔سنو وائٹ میری زندگی بن چکی ہے۔جتنی جلدی ہو سکے آپ اُسے ڈھونڈ کر اے بی کے مینشن میں لائے۔ورنہ اے بی اتنی ہی جلدی آپکی زندگی ختم کر دے گا۔”
وہ جنونی انداز میں اُسے کالر سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے بولا۔تو بھاٹیا اُسکے زور سے کالر کھینچنے پر بری طرح سے کھانسنے لگا۔
“سس۔سر آپ کا ناشتہ۔”
ملازم کی آواز پر اے بی نے پلٹ کر پیچھے دیکھا تو ملازم نے ایک ٹرے میں بوائل ایگ اور بڑیڈ جام کے ساتھ ایک کپ کافی ٹرے میں ڈالیں سامنے مودب انداز میں کھڑا اُسکے حکم‌ کا منتظر کھڑا تھا۔اور بھاٹیا کا برا حال جو اے بی نے ابھی اُسکے سامنے کیا تھا اُسے دیکھ کر وہ اُس سے بہت زیادہ خوف محسوس کرنے لگا۔
“ہمممم بوائل ایگ بڑیڈ اور یہ کریم کافی ویرے نائس۔۔۔۔۔بھاٹیا جی میری صبح کس چیز سے شروع ہوتا ہے۔کیاآپ اِنہیں بتانا پسند کرے گے۔؟
ٹرے ملازم کے ہاتھوں سے لے کر وہ بھاٹیا کی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔تو اُسکے چہرے پر خطرناک تاثرات دیکھ کر ملازم خوف سے کانپ کر رہ گیا۔جبکہ بھاٹیا کو اچھے سے پتہ تھا۔کہ اگر اُسنے وائن کا نام لیا توخوامخواہ وہ بے چاره ملازم جسکا آج اے بی مینشن میں جاب کا پہلا دن تھا وہ اے بی کے قہر کا نشانہ بن جاتا۔لیکن پھر اُسنے دل پر بڑا سا پھتر رکھ کر اے بی سے کہا۔
“اے بی سر کی صبح کا آغاز ہمشیہ ایک وائن کے بوتل سے ہوتا ہے۔۔کیونکہ سر کو بوائل ایگ اور بڑیڈ سے سخت نفرت ہیں۔۔کافی وہ صرف بلیک پینا پسند کرتے ہے۔ اور وہ بھی شام کے وقت سیٹ پر سوٹنگ کےدوران۔سر یہ لڑکا آج ہی جاب پر لگا ہے۔سراسے آپکے روٹین کے بارے میں ابھی تک پتہ نہیں ہیں۔۔اِسی لئے اُس بے چارے سے اتنی چھوٹی سی غلطی ہوگئی۔آپ پلیز اِسے معاف کر دے۔”
بھاٹیا اپنی گردن پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔تو اے بی نے بوائل ایگ ٹرے سے اٹھایا اور بھاٹیا کی جانب قدم بڑھا اور سختی سے اُسکے منہ میں وہ ایگ ڈالتے ہوئے اُسنے جنونی انداز سے اُسکا منہ زور سے دبایا۔
“اے بی کی نظروں میں غلطی چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا بھاٹیا جی۔۔غلطی غلطی ہوتا ہے۔جسے اے بی چاہیے نوکر نیا ہو یا پرانا اُسے اُس غلطی کی سزا ضرور دیتا ہے۔اور بھاٹیا جی یہ اُسکو مجھ سے بچانے کی وجہ سے میں نے آپکو صرف ایک چھوٹا اور پیارا سا پنشمنٹ دیا ہے۔”
وہ بھاٹیا کے گالوں پر ہاتھ رکھ کر بولا۔تو بھاٹیا بمشکل بوائل ایگ اپنے حلق میں اتارنے میں کامیاب ہوگیا۔ورنہ وہ سانس پھولنے کی وجہ سے تکلیف سے ہی مر جاتا۔
“اور تم کھڑے میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو۔نکلو یہاں سے اور کبھی نظر نہیں آنا مجھے تم اے بی مینشن کے آس پاس بھی سمجھے۔کیونکہ اے بی مینشن میں وہی ورکر کام کر سکتے ہیں جو سخت محنتی ہوں۔”
وہ اُس ملازم کو گھورتے ہوئے سرد لہجے میں بولا۔تو ملازم سر جھکا کر روم سے باہر نکلا اور اے بی نیچے جھک کر ٹاول اٹھاتے ہوئے بھاٹیا کو اپنے سامنے سے زور سے پیچھے دھکیل کہ واش روم کی جانب بڑھا۔جبکہ بھاٹیا دھکا لگنے کی وجہ سے پیچھے صوفے پر جا گرا۔
💕💕💕💕💕💕💕
“تُم اِس حلیے میں یونی نہیں جاؤ گی۔”
اذان شاہ ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھا سر جھکائے ناشتہ کر رہا تھا۔کہ حور اور ری کی آواز پر اُسنے اُسی طرح سر جھکائے کہا۔تو ری نے پہلے اپنے وائٹ شرٹ اور بلیک پینٹ کی جانب دیکھا پھر اذان شاہ کو تیز نظروں سے گھورا۔جو اپنی بات کہہ کر سنجیدگی سے ناشتہ کر رہا تھا۔
“What’s wrong with these clothes bro?
(ان کپڑوں میں کیا برائی ہے برو۔)؟
وہ سخت نظروں سے اذان شاہ کو گھور کہ بولی۔۔۔۔۔۔تو اذان شاہ نے نیپکن سے اپنا منہ صاف کیا اور کرسی پیچھے کرتے ہوئے کھڑا ہوا اور اُسے دیکھنے لگا جو غصے سے سرخ چہرہ لیے اُسے دیکھ رہی تھی۔
“ریحام سعد شاہ اب تم اذان شاہ کے مینشن میں رہ رہی ہو۔تو تم اب سے میرے حساب سے چلو گی اب سے تُمہیں وہی کرنا ہوگا جو اذان شاہ چاہے گا۔اب سے تم لڑکوں والے کپڑوں میں مجھے نظر نہیں آؤ گی۔۔۔۔نو کلب نو اسموکنگ ائینڈ نو بائیک ریس انڈرسٹینڈ۔”
وہ دونوں ہاتھ پینٹ کے جیبوں میں ڈالتے ہوئے بولا۔۔۔تو ری اُسکی بات پر سخت تاثرات اپنے چہرے پر سجا کر آگے بڑھی اور ٹیبل کے اوپر رکھے ایک جوس سے بھرے گلاس کو اسنے اٹھایا اور غصے سے جوس زور سے اُسکے چہرے پر پھینکتے ہوئے ڈھار کر بولی۔
“اذان سعد شاہ مائے فٹ۔ری اور تُمہارے حساب سے چلے گی۔یہ نا آج ہوگا نا کبھی سمجھے تم ری صرف اپنے حساب سے چلے گی۔۔۔۔میں کلب بھی جاؤ گی۔اور بائیک ریس بھی اُسی طرح چلے گے۔جو لندن میں چلا کرتے تھے۔اور اسموکنگ سے ری کو خود سخت نفرت ہے۔تو پھر بگ برو یہ پاکستان میں میرے اسموکنگ کرنے کا غلط افواہ آپکو کس نے دیا۔”
وہ گلاس ٹیبل پر رکھ کر ٹیبل سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی۔تو اذان شاہ نے اپنی خطرناک حد تک سرخ ہوتی نظروں سے اُسے غصے سے دیکھا اور چہرے پر جوس کے چھینٹوں کو ٹشو پیپر سے صاف کرنے لگا۔
“ری بچے یہ حور کہا ہے۔؟؟
دونوں رملہ کی آواز پر تیزی سے اپنے اپنے چہرے کے تاثرات بدل کر سامنے سے آتی اپنی ماں رملہ کو مسکراتے ہوئے پیار سے دیکھنے لگے۔جو ہاتھوں میں ہاٹ پاٹ پکڑے وہی آ رہی تھی۔
“وہ مما شاید یونی کے لئے تیار ہو رہی ہے۔اِسی لئے ابھی تک نہیں آئی میں جا کر اُسے دیکھتا ہوں۔جب تک آپ اُسکے لیے اُسکی پسند کا آملیٹ بنائے۔”
اذان شاہ نے اُنہیں مسکراتے ہوئے دیکھا۔۔اور ٹشو لاپرواہی سے سامنے ٹیبل سے لگ کر کھڑی ری کے ہاتھ میں زور سے ڈباتے ہوئے بولا۔
“نہیں پرنس بچے آپ بیٹھے اور اچھے سے ناشتہ کرے ویسے بھی میں نے دیکھا ہےآپ آجکل رات کو بہت لیٹ نائٹ سوتے ہیں۔اور اِسی لیے آپ بلکل بھی اپنی صحت کا خیال اچھے سے نہیں رکھ رہے ہیں۔دیکھے تو آپ دن با دن کتنے کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔”
رملہ نے خفگی سے اُسے کندھوں سے کھینچ کر واپس کرسی پر بیٹھایا اور ہاٹ پاٹ سے ایک لچھے دار پراٹھا اُسنے نکالا اور سامنے رکھے پلیٹ میں ڈال کر جگ سے جوس گلاس میں ڈالتے ہوئے وہ کہنے لگی۔
“مما میں بھی تو یہاں پر موجود ہو آپ مجھے نہیں صرف اِنہیں پیار سے ناشتہ پیش کر رہی ہیں۔آپکو پتہ ہے نا کہ آج ہمارا یونی میں پہلا دن ہے۔اور میں پہلے دن بلکل بھی لیٹ نہیں ہونا چاہتی ہوں۔اور یہ کیوٹی بھی نہ کتنی زیادہ لیٹ کر رہی ہے۔آپ جب تک ناشتہ ریڈی رکھے میں جا کر اُسے لے کر آتی ہوں۔”
وہ اپنے بڑے بھائی کو گھورتے ہوئے بولی۔جو اُسے جلانے کے لئے رملہ کے ہاتھوں سے ناشتہ کر رہا تھا۔اور رملہ اپنی بیٹی کم اور بیٹے کو پیار سے گھورتی اذان شاہ کے سامنے رکھے خالی پلیٹ پر بریڈ پر جام لگا کر رکھنے لگی۔اور اذان شاہ اُسے جلتے ہوئے دیکھ کر شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اُسے دیکھنے لگا۔
“اوکے مما میں اور کیوٹی وہی یونی میں کچھ کھا پی لیں گے۔آپ اِس ہٹلر کو کھلائے یہ بہت کمزور ہوگیا ہے۔ویسے بھی آپ دو دن بعد اپنے اِس لمبے بے بی بوائے کو چھوڑ کر واپس لندن اپنے شوہر کے پاس جائے گی۔تو مجھے لگتا ہے آپکا یہ لمبا بے بی بوائے آپکے کھانو کو ضرور مس کرے گا۔”
ری حور کو باہر اُسے انتظار کرنےکا کہ کر خود اذان شاہ کو طنزیہ نظروں سے دیکھتی رملہ سے بولی۔جو لگتا ہے آج اذان شاہ کو ناشتہ کرا کرا کہ موٹا کرکے چھوڑے گی۔
💕💕💕💕💕💕💕
“کیوٹی دعا کرو کہ کوئی سینئر اسٹوڈنٹ مجھ سے آج پنگا لینے کی کوشش نہ کرے ورنہ وہ اپنے دوستوں کے کندھوں پر سوار ٹوٹی ہڈیوں سمیت یونی سے باہر ہوگا۔”
حور اور ری جب کار سے باہر نکلی تو یونی کے گیٹ کے اوپر لکھے یونیورسٹی آف کراچی کو وہ دونوں بغور دیکھنے لگے۔ کہ تبھی ری جیب سے ایک سگریٹ کا پیکٹ نکال کر ہونٹوں سے لگاتے ہوئے حور سے بولی۔
“افف ہوں ری برو آپ یہاں پر بھی شروع ہوگئی۔۔پلیز اب آپ یونی میں کسی بے چارے کو اُسکی غلطی پر زخمی کرنے نا بیٹھ جانا۔۔اور یہ سگریٹ تو میں آپکو بلکل بھی ہاتھ لگانے نہیں دو گی۔اگر آپکے اس مشغلے کہ بارے میں پرنس کو پتہ چلا تو وہ غصے سے آپ کو گولی مار دے گے۔”
حور نے آگے بڑھ کر سگریٹ اُسکے ہاتھ سے لیتے ہوئے دور پھیکنا اور یونی کے گیٹ کے اندر قدم رکھتے ہوئے بولی۔ اذان شاہ کے نام پر ری پرسرار مسکراہٹ مسکرانے لگی۔
“کیوٹی اُس ہٹلر کو کیسے پتہ چلے گا۔میرے اسموکنگ کے بارے میں مجھے تو سگریٹ سے سخت نفرت ہے۔میں تو سگریٹ پینے والوں کی ہڈیاں ٹوڑ کر دیتی ہو۔”
ری یونی میں داخل ہو کر اُسکے ساتھ چلتے ہوئے مسکرا کر بولی۔اُسکی بات پر حور کے قدم جو اپنی کلاس کو ڈھونڈنے کے لیے آگے بڑھ رہے تھے۔وہی پر تھم گئے۔حور جو اُسی طرح کھڑی اُسے آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہی تھی۔کہ ری نے آگے بڑھ کر اُسکے ساکت وجود کو کندھوں سے پکڑا اور سامنے رکھے بینچ پر اُسے بیٹھا کر وہ ٹہھرے ہوئے لہجے میں بولنے لگی۔
“دیکھو کیوٹی یار اگر میں اُسے سچ بتاتی کہ میں اسموکنگ کرتی ہو۔تو وہ غصے میں آ کر مجھے واپس لندن بھیج دیتا کیونکہ وہ جتنا مجھ سےچڑتا ہے۔کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گا۔اور مجھے یہاں سے سیدھا وہ لندن روانہ کر دے گا۔اور اِس طرح میں تُمہاری حفاظت اُس سائیکو اے بی سے نہیں کر سکوں گی۔وہ مجھے جہاز میں ایک عاشق سے زیادہ جنونی ضدی انسان لگا تھا۔جو کیوٹی تُمہیں حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔”
ری اُسکے نرم سفید نازک ہاتھوں پر اپنا ایک ہاتھ رکھ کر نرم لہجے میں اُسے کبھی اکیلا نا چھوڑنے کا وعده کرتے بولی تو حور اُس شخص کے متعلق سوچ کر بری طرح سے لرز اٹھی۔اور اُس دن اُس پاگل جنونی انسان کی خود کے لیے دیوانگی اور اپنے اوپر اُسکی بے باک کچھ کہتی نظریں یاد کرکے وہ خوف شرم اور خفت کے مارے کان کی لو تک سرخ پڑ گئی۔
“نہیں ری آپ مم۔مجھے چھوڑ کر واپس لندن مت جائے اگر وہ شش۔شخص دوباره مجھے ہرٹ کرنے آ گیا تت میں تو مر جاؤ گی۔”
وہ ڈر کے مارے کپکپاتے ہوئے بولی۔تو ری نے اُسکے خوف سے کپکپاتے لبوں کو تاسف سے دیکھا اور اپنے دل میں اُس اے بی کو موٹی گالیوں سے نوازنے لگی۔جسکی وجہ سے اُسکی کیوٹی اتنی خوفزدہ ہوگئی تھی۔
“کیوٹی جسٹ چل مائے بے بی میں بھلا اپنی بہن کو اکیلا چھوڑ کر جا سکتی ہو۔نو نیور کبھی بھی نہیں پھر چاہے وہ اذان شاہ مجھے غصے سے اپنے مینشن سے باہر ہی کیوں نا نکال دے میں باہر رہ کر ہی اپنی کیوٹی کو اُس عاشق پاگل باڈی بلڈر جن سے بچاؤ گی۔”
اے بی کے بارے میں سوچ کر ری کا چہرا غصے اور نفرت کے باعث سرخ ہونے لگا۔لیکن حور کا خیال آتے ہی وہ اپنے غصے پر کنٹرول کر گئی ورنہ اگر وہ اے بی اُسکے سامنے کھڑا ہوتا تو وہ اُسے گولیو سے بون کر رکھ دیتی تبھی تیزی سے بینچ پر وہ اُسکے قریب بیٹھی اور اُسکا سر اپنے شولڈر پر رکھتے ہوئے بولی۔
“ویسے کیوٹی اگر سچ میں وہ پاگل باڈی بلڈر تُمہیں اٹھا کر اپنے ساتھ لے جائے تو تُم تو اُس باڈی بلڈر کی باڈی دیکھ کر وہی پر ہی بے ہوش ہو کر گر جاؤ گی۔”
شرارتی لہجے میں کہہ کر ری اٹھی اور سامنے جما بہت سے اسٹوڈنٹ کی بھیڑ میں گم ہوگئی اور وہ بینچ سے اٹھی اور غصے سے اُسکے پیچھے بھاگی‌۔جبکہ ری مسکراتے ہوئے بھاگ رہی تھی۔کہ سامنے سے آتے یونی کے ٹوپر ارحام انصاری سے بری طرح سے ٹکرا گئی۔اور ارحام انصاری جو اپنے گروپ کے ساتھ اپنی کلاس اٹینڈ کرنے کلاس کی جانب بڑھ رہا تھا۔وہ اِس آفات پر سامنے غصے سے دیکھنے لگا۔
“ہاؤ ڈئیر یو۔تُم دیکھ کر نہیں چل سکتے میرے سارے نوٹس خراب کر دیے تم نے اب کھڑے کیا دیکھ رہے ہو۔میرے سارے نوٹس اٹھا کر مجھے دو۔”
وہ بے حد سرد لہجے میں بولا۔جبکہ اُسکی سبز آنکھیں اپنی دن رات کی محنت سے تیار کیے گئے نوٹس کو یوں زمین پر پڑے دیکھ کر غصے کے مارے سرخ ہو رہی تھی۔ری جو دھکا لگنے کی وجہ سے اُس لڑکے کو بری طرح سے گھور رہی تھی۔ اُسکے سرد لہجے سے حکم‌ دینے پر وہ غصے سے بولی۔
“میں یعنی ری کو تُم اے بی سی جو بھی ہو تُم۔۔ اپنے اِن سو کالڈ پیپرز کو اٹھانے کا کہہ رہے ہو۔تُمہیں پتہ بھی ہے۔کہ تُم اِس وقت کس سے الجھ رہے ہوں۔”
ری کی نسوانی آواز سن کر ارحام انصاری کے سبھی دوست حیرت سے اُسے دیکھنے لگے۔وہ جو اُسے کب سے لڑکا سمجھ رہے تھے۔اُسکی آواز سننے کے بعد اب وہ سب کھڑے زور سے قہقہہ لگا رہے تھے۔جبکہ ارحام انصاری اُسی طرح کھڑا اُسے اپنی آگ برساتی نظروں سے گھور رہا تھا۔
“اور تّم اے بی سی ڈی وہاٹ ایور جو بھی ہو اِس وقت ایک خطرناک طوفان سے الجھ رہی ہو۔سوچ لوں تُم ابھی بھی تُمہارے پاس وقت بہت ہے۔تُم میرے یہ سو کالڈ پیپرز مجھے اٹھا کہ دو۔ورنہ انکار کی صورت میں اگر تُمہیں یہاں کے یو میں ایڈمیشن نہیں ملا تو تُم اپنی فیملی کو کیا جواب دو گی۔”
وہ سنجیدگی سے سامنے کراچی یونیورسٹی کی بلند عمارت کو دیکھتے اُسے دھمکی دیتے ہوئے بولا۔اور ری اُسکے دھمکی پر زور سے قہقہہ لگاتے ہوئے اُسے اور اُسکے گروپ کو طنزیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔
“مسٹر تُم کس صدی میں جی رہے ہو۔یہ ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے۔یہ جو آجکل سب کے ہاتھ میں فساد کی جڑ ہے نہ موبائل اُسسے گھر بیٹھے سب کام یوں چٹکی بجا کر ایک منٹ میں ہو جاتا ہے۔پھر میں کہا پیچھے رہتی اُسی لئے یہاں اپنا وقت برباد کرنے سے بہتر میں نے لندن میں اپنے لگژری خوبصورت بیڈروم میں بیٹھ کر اپنا اور اپنی کیوٹی کا آنلائن ایڈمیشن لے لیا تھا۔”
ری اپنا آئی فون طنزیہ انداز میں مسکرا کہ اُسکی آنکھوں کے آگے لہرا کر بولی۔تو ارحام انصاری آگے بڑھا اور اُسکی کلائی کو سختی سے دبوچ کر یونیورسٹی گیٹ کی جانب بڑھنے لگا۔
“تو کیا ہوا اگر تُم نے آنلائن ایڈمیشن لے لیا۔میں اِس یونی کا ٹوپر اور اِس یونی کے ٹرسٹی مرتضی انصاری کا بیٹا ارحام مرتضی انصاری وہ تو تُمہیں ایک دن کے لیے یونی سے باہر کرا سکتا ہے نا۔اور ہاں آج کے دن تُم گیٹ کے باہر کھڑی ہو کر نیو اسٹوڈنٹ کو ویلکم ضرور کرنا۔تاکہ وہ اندر داخل ہونے سے پہلے ارحام مرتضی انصاری سے الجھنے کا سوچے بھی نا اور اگر انہوں نے الجھنے کی غلطی کی تو میں انکا انجام تُم سے بھی برا کرو‌ں گا۔”
وہ گیٹ سے باہر اُسے زور سے دھکا دیتے ہوئے بولا۔تو اُسکے زور سے دکھا دینے پر ری سیدھا منہ کے بل جا کر گیٹ سے باہر گری جبکہ دوسری جانب حور کب سے اسٹوڈنٹ کے بھیڑ میں ڈرتے ہوئے ری کو ڈھونڈ رہی تھی۔تبھی پیچھے سے آکر کسی نے اُسکے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھ کر اُسے اپنی جانب متوجہ کیا تو حور تیزی سے پیچھے پلٹی اور سامنے کھڑے شخص کو دیکھنے لگی جو سامنے کھڑا اُسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو بغور دیکھ رہا تھا اور وہ اُسکی نظروں سے ڈر کر پیچھے ہٹنے لگی۔