Ishq E Junoon By Sumyia Baloch Readelle50186 Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
ایزل اور عشوہ دونوں نے سرخ اور ہرے رنگ کے جوڑے میں ملبوس اور کندھوں پر سرخ خوبصورت شال اوڑھے معاذ کے ہاتھ مضبوطی سے پکڑے گھر کے اندر انٹر ہوئے تھے۔
اور وہاں موجود لوگوں نے اُنہیں دیکھتے ہوئے ماشااللہ کہا اور اُن پر پھولوں کی برسات کرنے لگے حور جو اے بی کی بے باک نظروں سے خود کو چھپائے ایک کھونے میں کھڑی تھی ریحام کے کھینچنے پر گھبراتے ہوئے اردگرد دیکھنے لگی تو اُسے وہاں نا پاکر وہ مسکراتی ریحام کے ساتھ مل کر آگے بڑھی۔۔۔
مگر اُسکی خوشی صرف چند پل کی تھی کیونکہ اچانک سے اے بی پر نظر پڑتے ہی گلال چہرہ لیے پیچھے ہٹنے لگی مگر وہ بھی ایک ڈھیٹ انسان تھا آگے بڑھا اور اُسکے دائیں جانب کندھوں سے کندھا لگا کر کھڑا ہوا اور حور اُسے اپنے اتنے نزدیک دیکھ کر گھبرانے لگی۔۔۔
“جانم تُم مجھ سے جتنا دور رہنی کی کوشش کیوں نا کرو لیکن تُمہارا شوہر بہت ڈھیٹ ہے کیونکہ وہ تُمہارے کترانے پر تُمہارے پاس تُمہارے نزدیک آنے کی اتنا کوشش کرے گا جتنا تُم اُس سے دور جانے کی کوشش کرو گی۔۔!!
ایک ہاتھ سے اُسے خود سے لگاتا وہ نظریں اُسکے گلال چہرہ پر ڈال کر بے باکی سے بولا جبکہ حور اُسکے نزدیک ہونے پر بری طرح سے لرزنے لگی۔۔
تبھی ایزل لوگوں کے اسٹیج پر جانے کے بعد ہر طرف رعابہ کے آنے کا شور بلند ہوا تو وہ خود کو چھڑاتی اُس سے دور کھڑی ہوئی اور سامنے دروازے کی جانب دیکھنے لگی جہاں سے سرخ رنگ کے خوبصورت عروسی جوڑے میں ملبوس شرم سے اپنی نظریں نیچے جھکائے بلند عالم کا ہاتھ سختی سے پکڑے رعابہ چلی آ رہی تھیں۔۔
ریحام کب سے دروازے کی جانب ارحام کو ڈھونڈ رہی تھیں اُسکی نظریں مایوسی سے دروازے سے ہٹی اور پریشانی سے اپنی انگلیاں مسلتی رعابہ اور ایزل عشوہ لوگوں کو دیکھنے لگی جو اسٹیج پر ایک ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔۔
اُسنے کل سے نجانے اُسے کتنے میسجز اور کال کیے تھے لیکن اُسکا فون مسلسل بند آ رہا تھا اب اُسے ارحام کو لے کر کافی بے چینی ہو رہی تھی اور ساتھ میں خوف بھی کہ کہی اُسے کچھ ہو تو نہیں گیا ہے جو وہ اُسکا نمبر بند تھا۔۔۔
“نکاح کا ٹائم ہوگیا ہے لیکن یہ لڑکے ابھی تک نہیں آئے ہیں سعدی جاؤ دیکھو اُن تینوں کو یہ تو لڑکیوں کو بھی پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔۔!!
شاہ بخت کی جھنجلائی آواز پر وہ بری طرح سے چونکی اور سامنے دیکھنے لگی جہاں وہ سیاه رنگ کے کاٹن شلوار میں ملبوس اپنی سفید رنگت پر غصے کی سرخی سجائے سعدی سے کہہ رہا تھا۔۔۔
“بھائی لیں سب آگئے۔۔!!
سعدی نے دروازے کی جانب مسکرا کر دیکھا اور شاه بخت کو کہنے لگا تو اُسنے بھی دروازے کی جانب دیکھا اور اپنے تینوں بچوں کو دیکھ کر اپنا غصہ بھول کر تیزی سے آگے بڑھا جہاں وہ تینوں سفید شیروانی میں ملبوس کندھوں پر ییلو شال اوڑھے کھڑے وجاہت کے شہکار لگ رہے تھے۔۔۔
“چلوں بچوں نکاح کا وقت ہوگیا ہے۔۔!!
وہ تینوں کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔
اذان شاہ نے سنجیدگی سے اپنا سر ہلایا اور سام اور شام کے ساتھ اسٹیج کی جانب بڑھا جہاں بیچ میں ایک خوبصورت سفید موتیوں کے پھولوں سے پردہ سجایا گیا تھا جس کی دوسری جانب تینوں دلہنوں کو بیٹھایا گیا تھا۔۔
تینوں جوڑوں سے ایجاب و قبول کروانے کے بعد اور نکاح نامے پر دستخط لینے کے بعد یکدم سے ہر طرف سے مبارکباد کا شور بلند ہوا۔۔
“مبارک ہو تُمہیں میری بننے کے لیے مسسز۔۔!!
تو سام کسی کی بھی اور اپنے باپ کے غصے کی پرواہ کیے بغیر اٹھا اور بیچ میں کسی جیل کی طرح لگے پردے کو ہٹا کر وہ ایزل کی جانب بڑھا اور محبت سے کہتے ہوئے اُسکی پیشانی پر ہونٹ رکھتے ہوئے اپنی محبت کا پہلا مہر اُسنے ثبت کیا۔۔
ایزل جو نظریں نیچے جھکائے خالی نظروں سے اپنے مہندی لگے سرخ ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی اچانک اُسکی حرکت پر سرخ چہرہ لئے غصے سے اپنی نھنی مٹھیاں کھسنے لگی۔۔
“دلہے میاں یہاں دلہن کے ابا حضور بھی موجود ہے اِسیلئے اپنے قدموں کو زرا قابو میں رکھوں ورنہ رخصتی ایک سال بعد نہیں بلکہ چار سال بعد تمہاری دلہن کے پیارے ابا حضور کروا سکتا ہے۔۔!!
معاذی نے اُسے کندھوں سے پکڑ کر شرگوشی کرتے ہوئے کہا تو سام کمینگی سے مسکرا کر معاذ کو دیکھنے لگا۔۔
“ابا حضور اگر آپ نہیں چاہتے ہو کہ میں ابھی وہ چیز آپکے کھڑوس بھائی کو نہ دیکھاؤ تو چھپ کر کے کھڑے ہو جائے ورنہ وہ چیز میں اپنی جیب میں ہر وقت لے کر پھرتا ہوں۔۔!!
سام نے اُسی کے انداز میں شرگوشی کرتے ہوئے کہا تو معاذ اُسکی دھمکی پر سب کو مسکراتے ہوئے دیکھنے لگا۔۔
“یہ کیا داماد اور سسسر کے بیچ باتیں ہو رہی ہے زرا ہمیں بھی تو پتہ چلے۔۔!!
سعدی وہاں اکر ان دونوں کو دیکھتے ہوئے بولا تو دونوں مسکراتے ہوئے اُسے دیکھنے لگے جو بغور دونوں کو دیکھ رہا تھا
“کچھ بھی تو نہیں ہاں سعدی یاد آیا وہ سویٹ ڈش تو وہاں کچن میں رکھا ہے چلوں چل کر لاتے ہیں ورنہ مہمانوں کو سہی سے کچھ بھی نہیں دیا نا تو بھائی ہمیں اِس بھری بڑھاپے میں گھر سے باہر کر دے گے۔۔۔۔۔!!
معاذ کو یکدم سے کچھ یاد آیا تو سعدی کو کندھوں سے پکڑ کر جلدی سے کچن کی جانب بڑھا جبکہ سام اُن دونوں بھائیوں کو مسکراتے ہوئے دیکھنے لگا۔۔
“ویسے سالے صاحب مجھے ماننا پڑے گا کہ تُم بہت بہادر ہو جو میرے چیلنج کو اتنی جلدی پورا کر دیا۔۔!!
اے بی اُسکے سامنے کھڑے ہو کر مسکراتے ہوئے بولا اور آخر میں اُسے کھینچ کر وہ اُسے گلے سے لگا کے مبارکباد دینے لگا۔۔
“داماد جی سام چیلنج لیتا ہے تو اُسے پورا بھی کرتا ہے یہ تو پھر میری زندگی کا ایک اہم فیصلہ تھا اور ایزو میری زندگی میں ایک اہم حیثیت رکھتی ہے تو میں نے اُسے کسی اور کا ہونے سے پہلے اپنا بنا لیا۔۔!!
اے بی کو طنزیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ بولا۔۔
“سالے صاحب تو اِسی طرح مجھے بھی اپنی سنو وائٹ کو کسی اور کا ہونے سے پہلے اپنا بنانا پڑا تھا اٹھارہ سال کی عمر میں اور فرق صرف اتنا تھا کہ تمہارے پاس تمہارے اپنے تھے لیکن میرے پاس اُس وقت کوئی بھی نہیں تھا میرے ماں باپ بھی نہیں میں تکیلف میں وہاں اسپتال کے کمرے میں اکیلا تہنا تھا اور ایک دن تمہاری بہن اور تمہارا اذان بھائی میری تہنائیوں کے ساتھی بن کر میری زندگی میں آئے تھے۔۔!!
“جب میں ڈرگز جیسی مہلک سے لڑ رہا تھا تو مجھے اذان نے اور حور نے سنبھالا تھا کیونکہ میں اُس وقت اپنے ماں باپ سے خفا تھا اُسی وجہ سے اُنہیں اپنے سامنے دیکھ کر پاگل ہو جاتا تھا لیکن تمہاری آپی اور وہ کھڑوس بھائی کے آنے کے بعد میں ان سے بھی ملنے لگا تھا۔۔۔!!
سرخ آنکھیں اُس تکلیف کو یاد کرتے اور سرخ ہوگئی تھی جبکہ سام اُسکی تکیلف سے بھاری ہوتی آواز پر وہ اُسے تعجب سے دیکھنے لگا۔۔۔
“میں نے تُمہیں چیلنج صرف اِس لیے کیا تھا تاکہ میں اپنے نکاح کی اور تمہارے نکاح کا فرق تمہیں سمجھا سکو کے کن حالات میں میں نے حور سے تمہاری بہن سے نکاح کیا تھا اب فرق تمہیں پتہ چل گیا ہوگا تو تُم اپنے ڈیڈ کو بھی یہ فرق سمجھاؤ..!!
وہ پہلی بار کسی کے سامنے کھڑا التجا کر رہا تھا اپنی زندگی کے لئے اپنی خوشیوں کے لئے حور سے الگ نا ہونے کے لئے جو اُسکے لئے بے حد ضروری بن گئی تھی اُسکی سانسوں میں بس گئیں تھی۔۔۔
“پہلے تو مجھے لگا تھا کہ آپ نے صرف حور سے اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے شادی کیا ہے اور اپنی خواہش پوری کر کے اُسے استعمال کرکے آپ اُسے چھوڑ دے گے لیکن آج آپکی آنکھیں اور لہجے میں تکلیف دیکھ کر مجھے آپکی محبت پر یقین ہوگیا ہے کہ آپ میری بہن سے عشق کرتے ہیں۔۔!!
“میں ڈیڈ کو ضرور احساس دلاؤ گا کہ آپ ہی ہماری حور آپی کے لیے پرفیکٹ میچ ہے اور کوئی بھی اُسے خوش نہیں کر سکتا جو آپ کرسکتے ہیں۔۔!!
سام نے اُسے گلے سے لگاتے ہوئے کہا تو اے بی اُسکی بات پر اپنی نم آنکھوں سے آنسوؤں کو صاف کرتا مسکرانے لگا۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
“اذان بچے تمہارا نکاح ہوگیا ہے تو اب اپنے دوست کو رخصت کر دو اور ہاں اُسے کہنا کہ میری بیٹی سے دور رہنا ورنہ اُسکے لئے اچھا نہیں ہوگا۔۔!!
رات کے گیارہ بج رہے تھے اور سب ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے شاه بخت نے اذان شاہ کو سنجیدگی سے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔
“اذی تم بھی سسسر محترم سے کہہ دینا کہ کیوں نا آپ اے بی کو کالا پانی کی سزا دے دو لیکن اے بی اپنی سنو وائٹ سے دوری کبھی بھی نہیں اپنائے گا۔۔!!
اے بی جو سامنے بیٹھی حور کو محبت سے دیکھ رہا تھا شاه بخت کی بات پر کمینگی سے مسکرا کر اذان شاہ کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
حور اُسکی نظروں سے نروس ہوتی تیزی سے اٹھی اور سب سے کہتی جلدی سے اپنے روم کی جانب بڑھی جبکہ شاه بخت اے بی کی بات پر اپنی مٹھیاں بھینچ کر شدت سے ٹیبل پر مارتے ہوئے اُسے دیکھنے لگا جو حور کو جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔
“بچوں آپ سب بھی اپنے اپنے روم جائے کھانا تو کھا لیا نا آپ سب نے اور حنیہ تُم رعابہ بچی کو اذان بچے کے روم میں چھوڑ کر آؤ۔۔!!
سب بچوں اور رملہ نمرین ہانیہ کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے کے بعد وہ سنجیدگی سے حنیہ کو مخاطب کرتے ہوئے بولا۔۔
“اذان بچے تمہارے دوست نے بھی کھانا کھا لیا ہوگا اب اُسے اچھے سے گڈ نائیٹ کہہ کر رخصت کر دو کیونکہ اب تو شادی کی ساری تقریب میں نے جلدی ختم کر دیے تمہارے دوست کی حرکتوں کی وجہ سے اب اگر یہ باز نہیں آیا تو مجبورأ مجھے اِسے ختم کرنا پڑے گا۔۔!!
نیپکن سے منہ صاف کرتے ہوئے شاه بخت نے اے بی کو آرام سے دھمکی دیتے ہوئے کہنے لگا تو اے بی اپنے سسسر کے انداز پر مسکرانے لگا کیونکہ وہ بھی اپنے سبھی دشمنوں کو اسی طرح آرام سے دھمکی دیتا تھا۔۔
“سسسر محترم ابھی تو میں جا رہا ہو اور دیکھے آج تو میں نے اپنے مما اور بابا کو بھی آنے سے منا کر دیا تھا بیکاؤز وہ اپنے بیٹے سے بہت زیادہ پیار کرتے ہیں ورنہ اُسکی اتنی زیادہ انسلٹ پر وہ کبھی بھی یہاں اپنے بیٹے کو آنے نا دیتے لیکن انکا بیٹا یہاں صرف اِس گھر کی بیٹی اور اپنی بیوی کے لیے آتا ہے تو پھر کیسے اُنہیں اِس گھر کے لوگوں سے بدظن کر سکتا ہے۔۔!!
اے بی اپنی جگہ سے اٹھا اور شاه بخت کے مقابل آ کھڑا ہوا اور کہنے لگا تو شاه بخت نے اُسکی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے قدم سیڑھیوں کی جانب بڑھاتے ہوئے اذان سے کہا۔۔
“اذان بچے اپنے دوست کو شاه مینشن کے باہر عزت کے ساتھ رخصت کر دو۔۔!!
اذان اُنکی بات پر تاسف سے اے بی کو دیکھنے لگا جو مسکراتے ہوئے اپنے سسسر کو وہاں سے جاتا دیکھنے لگا۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
“شاہ آپ یہ ٹھیک نہیں کر رہے ہیں۔۔!!
اذان شاہ اُسے باہر لاکر غصے سے بولا۔
“اذی میرے یار میں بھی کیا کرو یہ دل مجھے مجبور کرتا ہے بار بار یہاں آنے کے لئے جب تک سنو وائٹ میری زندگی میں نہیں آ جاتی تب تک میں اِس گھر کا پیچھا نہیں چھوڑو گا لیکن تّم دلہے صاحب میری فکر چھوڑو اور جاؤ جاکر اپنی اِس خوبصورت رات کو اپنی دلہن کے ساتھ مزید خوبصورت بناؤ اور جو میں نے کہا تھا نا وہ ضرور کرنا ورنہ ساری زندگی تمہاری بیوی تم پر طنز کرے گی۔۔!!
اے بی نے بے چارگی سے کہہ کر آخر میں اُسے رعابہ کے بارے میں ہوش دلایا اور کمینگی سے ایک آنکھ دبا کر اُسے اپنی صبح والی بات پھر سے یاد دلانے لگا جو کہ اُسنے اسے کرنے کو کہا تھا۔۔
“شاہ آپ رعابہ کو نہیں جانتے وہ جنگلی بلی ہے اگر میں نے یہ کیا نا تو وہ مجھے کچا چبا لے گی۔۔!!
اذان شاہ نے جھرجھری لیتے ہوئے کہا۔۔
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔!!!
اذی میرے یار جنگلی بلی کو چھیڑوں ورنہ وہ پھر تُمہیں ساری زندگی چھیرے گی۔۔!!
بے باکی سے ایک آنکھ دبا کر ہنستے ہوئے کمینگی سے کہنے لگا تو اذان نے اُسے خفگی سے گھورا اور کندھوں سے پکڑتا اُسے اُسکی کار کے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھانے لگا۔۔۔
“شاہ میں اپنی جنگلی بلی کو خود دیکھ لونگا بس آپ ابھی یہاں سے نکلنے کی کرے ورنہ بڑے پاپا نے ابھی تک یہاں کھڑے دیکھا نا تو وہ آپ کے ساتھ مجھے بھی اوپر پہنچا دے گے۔۔!!
کار کا دروازه بند کرتے ہوئے وہ بے چارگی سے کہنے لگا جبکہ وہ اُسکی بے چارگی سے کہنے پر مسکراتا اوپر حور کے روم کی جانب دیکھنے لگا جو شاید ابھی تک جاگ رہی تھی کیونکہ روم کی لائٹ اُسکے جزبات کی طرح جل رہا تھا وہ کچھ سوچتے ہوئے پُرسرار انداز میں مسکراتے ہوئے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے اذان کے مینشن سے باہر اپنی کار نکال کر آگے جا کر اپنی کار کو سائیڈ پر پارک کرتا نیچے اترا اور مینشن کی جانب دیکھنے لگا۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
رعابہ جو بیڈ پر بیٹھی اذان شاہ کا انتظار کر رہی تھی کہ تبھی وہ روم کا دروازه کھول کر اندر داخل ہوا اور روم کا دروازه لاک کرتا آہستگی سے اسکی جانب بڑھنے لگا جبکہ وہ اُسکے روم میں داخل ہونے اور قدم اپنی جانب بڑھانے تک ڈھرکتے دل کے ساتھ اپنے مہندی لگے ہاتھوں کو بری طرح سے مسلنے لگی۔۔
اذان نے بیڈ کی جانب دیکھا تو مسکرانے لگا کیونکہ اب وہ جو کرنے جا رہا تھا وہ رعابہ کو اُسکی جنگلی بلی کو سرپرائز دینے کے برابر تھا۔
“سلام جنگلی بلی کیسی ہو اتنے دنوں بعد ہم مل رہے ہیں اور بھی ایک الگ اور نئے رشتے کے ساتھ۔۔!!
بیڈ پر بیٹھ کر ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے نازک مہندی رچے ہاتھوں کو اپنی مضبوط ہتھیلی پر لے کر اُسکے ہاتھ کی پشت کو سہلاتے ہوئے کہنے لگا تو وہ اُسکے چھونے پر گھبرا کر بیڈ کراؤن سے پشت لگا کر خود میں سمٹنے لگی۔
“سوری میں تمہارا باگڑ بلا واپس نہیں لا سکا کیونکہ ابھی تک میں اُس بات سے باہر نہیں نکلا ہو میں ابھی تک شرمندہ ہو۔۔!!
ابکے اُسکا لہجہ افسردہ ہوگیا جسے سن کر رعابہ نے جھٹکے سے اپنا سر اوپر اٹھا کر اُسے دیکھا جو سرخ نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا۔۔
“میں اتنا گناہگار ہوں کہ اپنی ہی۔”
سرخ آنکھیں رعابہ کے دلہنوں کی طرح سجے حسین روپ پر ڈالتے شرمسار لہجے میں بولا جو آج اُسکے لئے سجایا گیا تھا۔۔
اُسنے اپنی نظریں تیزی سے اُسکے حسین روپ سے ہٹایا اور نیچے اپنی سرخ ہتھیلیوں کو خالی نظروں سے دیکھنے لگا۔
اذان شاہ اِس وقت اپنے اور اُس کے بیچ کے رشتے سے اور اپنے کمرے کی خواب ناک ماحول سے ڈر رہا تھا کہ کہی وہ بہک نہ جائے کیونکہ یہ بات جاننے کے بعد وہ خود کو اُسکے قابل بلکل بھی نہیں سمجھتا تھا۔۔
“رعابہ تُم نے جانتے ہوئے بھی مجھ جیسے انسان سے نکاح کیا بولو ایسا کیوں کیا میں تو ایک ناپاک ذہنیت کا انسان جو اپنے ہی گھر کی عزت پامال کرنے پر تلا ہوا تھا جو اپنے جنون میں اتنا اندھا ہو گیا تھا کہ اپنی ہی۔!!
اپنی آنکھیں اُسی طرح نیچے جھکائے وہ مضبوط اعصاب کا مالک شخص آج بے آواز رونے لگا رعابہ جو اُسکی موجودگی میں شرم سے اپنی نظریں نیچے جھکا کر بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی وہ اُسکی بات پر نظریں اوپر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگی جو بے آواز آنسوؤں بہہ رہا تھا۔
“نہیں اذان جو کچھ بھی ہوا تھا وہ سب انجانے میں ہوا تھا اُس میں آپکی کوئی غلطی نہیں تھیں کیونکہ غلطی ہمارے بڑوں کی تھی جنہوں نے آپ سے سچائی چھپا کر اچھا نہیں کیا تھا اگر وہ آپکو پہلے بتا دیتے تو آپ کبھی بھی اِسطرح شرمسار نہ ہوتیں آپ پلیز روئے مت جو ہوا اُسے بھول جائے اور ایک نئی شروعات کریں۔!!
وہ اپنی حنائی ہاتھوں کو اُسکے مضبوط ہاتھ پر رکھتے ہوئے بولی تو اذان شاہ کا ضبط ٹوٹ گیا اور اُسے کھینچ کر اپنے چوڑے سینے سے لگا کر اپنی اتنے دنوں کی تکلیف کو اُسکی قربت میں بھولنے کی کوشش کرنے لگا۔۔
“میں نے کیسے اپنی بہن کو اُس طرح سوچا کیسے۔”
اپنے دونوں ہاتھ اُسکے گالوں پر رکھتا وہ سرخ آنکھیں اُسکے خوبصورت چہرے پر ڈالتا ہوا بولا جبکہ رعابہ اُسکی آنکھوں میں آنسوں دیکھ کر بری طرح سے رونے لگی اذان اُسے روتا دیکھ تیزی سے آگے بڑھا اور اپنے لب اُسکی آنکھوں پہ رکھتا وہ اُسکے آنسوؤں کو چننے لگا۔
“نہیں رعابہ تُم آج کے بعد میرے لئے بلکل بھی نہیں روؤ گی مجھ جیسے انسان پر ترس نہیں کھاؤ گی بلکہ تُم مجھ سے نفرت کروں کیونکہ میں اِسی لائق ہو۔!!
غصے سے اپنے دونوں گالوں پر باری باری زور زور سے مارتے ہوئے بولا تو رعابہ اُسکی بات پر تیزی سے اپنی نم آنکھوں سے اُسے خفگی سے دیکھنے لگی جو بری طرح سے اپنے ہاتھ گالوں پر مار رہا تھا
تبھی غصے سے اُسکے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر اُسے گھورنے لگی جو نظریں نیچے جھکائے بیڈ شیٹ کو خالی نظروں سے گھور رہا تھا
“اذان شاہ تُم نے یہ کیا لگا کر رکھا ہے کہ تُم ایک برے انسان ہو تُم نفرت کے لائق ہو تُم نفرت کے لائق بلکل بھی نہیں ہو اور نہ ہی تُم ایک برے انسان ہو کبھی ہو ہی نہیں سکتے تُم تو ایک خوبصورت دل کے مالک شخص ہو تو پھر کیسے برے ہوسکتے ہوں۔!!
اُسکے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر اپنی پیشانی سے لگاتے ہوئے بولی تو اذان اُسکی بات پر نظریں اوپر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگا جو اُسکے ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھے اور آنکھیں بند کیے اُسے مدہوش کرنے کا باعث بن رہی تھی۔
“بیوی آج پتہ چلا کہ عورت کے یہ آنسوؤں کسطرح کام کرتے ہیں یہ آنسوؤں ایک منٹ میں شوہر حضرات کے دکھ درد کو ختم کر دیتے ہیں اور یہ اِنہیں بہکنے پر جلد مجبور کردینے کا بھی ہنر اچھے سے جانتے ہیں۔!!
اُسکے خوبصورت سراپے کو مخمور سرخ نم آنکھوں سے دیکھتا بوجھل لہجے میں بولا تو رعابہ اُسکی بوجھل آواز سن کر شرم کے مارے اُسکے ہاتھوں کو تیزی سے جھٹک کر اُس سے دور ہونے لگی اور پیچھے جاکر بیڈ کراؤن سے ٹکرا کر اُسے دیکھنے لگی جو اب پہلے کی نسبت کافی ٹھیک لگ رہا تھا اور اُسکے خوبصورت سراپے کو مدہوش نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
جبکہ اُسے بیڈ کراؤن سے ٹکراتے ہوئے دیکھ کر آہستگی سے اُسکی جانب بڑھا اور دونوں ہاتھ اُسکے دائیں بائیں بیڈ پر رکھ کر وہ اُسکے اوپر جھکا اور اُسکے چہرے کو دیکھنے لگا جو اُسکی حرکت پر سرخ ہو رہا تھا۔۔
“بیوی تُم اتنی جلدی جنگلی بلی سے بھیگی بلی بن جاؤ گی مجھے پتہ نہیں تھا ورنہ میں بہت پہلے یہ کام کرتا مطلب تُمہیں بھیگی بلی بنانے کا بندوست۔!!
بے باکی سے ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے لپ اسٹک سے سجے سرخ ہونٹوں پر اپنا ہاتھ پھیرتا گھمبیر آواز میں بولا تو اُسکی لمس پر شرم سے اپنا گلال چہرہ مزید نیچے جھکانے لگی۔۔
“مسز آج کے بعد یہ تُمہارا سادہ سا بندہ صرف تُمہارے بارے میں سوچے گا تُمہاری قربت کو قریب سے محسوس کرے گا اور تُمہارے اِن خوبصورت نرم لبوں کو چھوکے وہ اِنہیں روز آمر کرے گا۔!!
ٹھوڑی سے پکڑ کر وہ اُسکا چہرہ اوپر اٹھا کر اُسکے ہونٹوں کو مخمور نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا جبکہ رعابہ کے کان کی لُوں اُسکی بے باک الفاظ پر سرخ ہونے لگے۔
“پلیز اذان اپنی نظریں ہٹاؤ۔!!
نظریں نیچے جھکائے وہ سنبھل کر بولی تو اذان اُسکی بات پر زور سے قہقہہ لگا اٹھا اور پھر ایک ہاتھ تکیے پر رکھتا مدہوشی سے اُسکے چہرے کے اوپر جھکا اور اُسکے نرم ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چھوتا ایک خوبصورت جسارت کرنے لگا۔۔
رعابہ جو اُسے خود سے دور کر رہی تھیں اپنے لبوں پر اُسکا دہکتا لمس محسوس کرتی زور سے آنکھیں میچنے لگی۔۔
اذان نے اُسکے دوپٹے کو اُسکے سر سے الگ کرتیں اُسکا دوپٹے کو دور اچھالا اور پھر اُسنے یکدم سے کروٹ بدلا جسکی وجہ سے رعابہ اُسکے اوپر گری اچانک سے اذان نے ہاتھ آگے بڑھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھے لیمپ کو بجایا اور پھر اسکی بیک پر ہاتھ رکھتے ہوئے اُسکے بلاؤز کے زپ کو آہستگی سے کھولنے لگا۔۔
رعابہ اپنی پشت پر اُسکی گرم انگلیوں کو اور گردن پر اُسکی پرتپش سانسوں کو محسوس کرتی زور زور سے کانپنے لگی۔۔
اذان شاہ نے اپنے لب اُسکی شہ رگ پر رکھتے ہوئے بلاؤز کو آہستگی سے اُسکے شولڈر سے ہٹایا اور اُسے اپنے چوڑے سینے سے لگاتا اُسکی گردن پر شدت سے اپنی لمس چھوڑنے لگا۔۔
رعابہ اُسکی لمس پر شدت سے کانپتی اپنے دونوں نازک ہاتھوں کو اُسکی مضبوط پشت پر گاڑھنے لگی تو اذان شاہ نے اُسے بیڈ پر نرمی سے لٹایا اور پھر اُسکے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اپنے لبوں سے اُسکے لبوں کو نرمی سے چھونے لگا تو رعابہ اُسکے لمس پر اپنے ہاتھ اُسکے سلکی بالوں میں پھنسائیں بری طرح سے مچلنے لگی۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
“سمیر شاہ تُم نے سب کو مانا کے تو مجھ سے نکاح کر لیا ہے لیکن یاد رکھنا میں تُمہیں اپنے دل میں کبھی بھی وہ مقام نہیں دونگی جو ایک شوہر کا ہوتا ہے ہمارے درمیان صرف نفرت کا رشتہ ہوگا۔۔!!
نکاح کے بعد سمیر نے حور اور ریحام کو آئسکریم کھلانے کا لالچ دے کر اُنہیں اپنے ساتھ ملایا تاکہ وہ ایزل کے روم میں جا کر اُس بات کر سکیں روم میں جب وہ داخل ہوا تو اُسے دیکھ کر مہبوت رہ گیا۔۔۔
ایزل لونگ شرٹ اور سرخ لہنگے میں ملبوس غضب دا رہی تھی اور اوپر سے نازک ہاتھوں پر سرخ مہندی اُسے اور بھی خوبصورت بنا رہی تھی۔۔
یکدم سے سام کا دل چاہا کہ آگے بڑھ کر اُسکے نازک ہاتھوں کی مہندی کی خوشبو کو وہ اپنے سانسوں میں بسا لیں پھر اپنی خواہش پوری کرنے کلیئے وہ آگے بڑھا ہی تھا ایزل کی بات پر وہی رک کر اُسے دیکھنے لگا۔۔۔
“ایزو ڈارلنگ تُم مجھے وہ مقام ضرور دوںگی جو میرا حق ہے اور نفرت تو محبت تک پہنچنے کی ایک سیڑھی ہے جس پر میں چڑھ کر تُمہاری محبت تک کسی نہ کسی دن ضرور پہنچ جاؤ گا۔۔!!
قدم آگے بڑھا کر وہ گھمبیر لہجے میں کہنے لگا۔۔۔
ایزل جو سخت غصے سے اُسے دیکھ رہی تھی تب اُسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ پیچھے ہٹنے لگی تو سام اُسے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھ خوبصورتی سے مسکرایا اور ایک ہی جست میں اُس تک پہنچ کر ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے کلائی سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا۔۔
ایزل اُسکے کھینچنے پر اُسکے چوڑے سینے پر آ گری اور بری طرح سے مزاحمت کرنے لگی جبکہ سام ایک ہاتھ اُسکی کمر پر ڈالے اور دوسرا اُسکے چہرے پر رکھے اُسے مخمور نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
“چھ۔۔چھوڑو مجھے سمیر شاہ تمہارا اِسطرح چھونا مجھے خود سے نفرت محسوس کرا رہا ہے اور تمہاری اِن آنکھوں سے مجھے سخت چڑ ہو رہی ہے جو اپنی خواہش کو پورا ہونے کی خوشی میں چمک رہے ہیں۔۔۔!!
وہ اُسکی گرفت میں بری طرح سے پھڑپھڑاتی عقارت سے اُسے دیکھتی ہوئی بولی تو اُسکی بات پر سام کو سخت غصہ آیا اور وہ آگے بڑھا اور شدت سے اُسے کمر سے پکڑ کر اوپر اٹھا کر پیچھے بنے شیشے کے خوبصورت واڈروب پر اُسے زور سے پن کرتا اپنی سرخ نگاہوں سے اُسے گھورتے ہوئے اُسکے غصے سے لرزتے لبوں کو وہ شدت سے اپنے لبوں سے چھو کر اُسکے باقی الفاظوں کا گلا گھونٹ گیا تھا۔۔۔
ایزل جو غصے سے اُسے دیکھ رہی تھیں یکدم سے اسکی بے باک حرکت پر وہ اُسے اپنے دونوں ہاتھوں سے خود سے دور دھکیلنے لگیں لیکن سام نے اُسکی کمزور مزاحمت پر تیزی سے اُسکے دونوں ہاتھوں کو اپنی سخت گرفت میں جھکڑ کہ اُسکے سر کے اوپر لے جا کر زور سے وارڈوب سے لگاتے ہوئے نرم گُلزار لبوں پر اپنی شدت اور بڑھایا۔۔
سام نے اُسکی بات سن کر یکدم سے فیصلہ کیا کہ وہ آج اُس چھوٹی سی گڑیا کو اپنی شدتوں سے احساس ضرور دلائے گا کہ وہ اُسکے لئے کیا ہے۔۔۔
اور ایزل اُسکی شدتوں سے اُس سے مزید بدظن ہونے لگی تھی اور سخت خوف بھی محسوس کر رہی تھی اور ساتھ میں اُسے اُسکی لمس سے تکلیف بھی بہت ہو رہی تھی۔
“جانم میرا چھونا کبھی بھی تُمہیں تکلیف نہیں بلکہ راحت دے گا کیونکہ میں جب بھی تُمہیں چھوؤں گا تو صرف اپنے اِس رشتے کی وجہ سے جو ہمارے درمیان موجود ہے اور تُم بھی کبھی میرے جزبوں کی توہین مت کرنا آئی سیور میں ایک منٹ بھی نہیں لگاؤ گا تُم سے اپنا حق وصولنے میں سو ڈارلنگ بی کئیر فل۔۔!!
اُسے خود سے علیحدہ کرتے ہوئے وہ اُسی طرح اُسے وارڈوب سے لگائے کھڑا گھمبیر آواز میں سرگوشی کرتا اُسے دیکھنے لگا جو اپنی نظریں نیچے جھکائے نڈھال اور زور سے گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔
