117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

“مس میزائیل سنبھل کر۔۔!!
ارحام انصاری ریحام کے پیچھے کھڑے شخص کو دیکھ کر زور سے چیخا جو ریوالور سے اسکی جانب نشانہ باندھ کر کھڑا تھا۔۔
وہ دونوں زریاب خان کے آخری کارخانے کو بم سے اڑانے کے لیے آئے تھے جبکہ یہاں اتنے بندوں کو دیکھ کر انہیں تعجب ہوا تھا کیونکہ زریاب خان تو کمانڈو کی قید میں تھا تو پھر انہیں انفارم کون کرسکتا ہے۔۔
“غازی وہ کون ہوسکتا ہے جسنے ہمارے بارے میں انہیں بتایا ہوگا۔۔؟؟
وہ تیزی سے آگے بڑھی اور ارحام سے پوچھنے لگی جو سامنے کھڑے زریاب خان کے بندوں کو دیکھ رہا تھا۔۔
“مس میزائیل چلو انہیں سے پوچھ لیتے ہیں۔۔!!
وہ پُرسرار انداز میں اسکی جانب دیکھتے ہوئے مسکرایا تو ریحام کو اسکی مسکراہٹ یکدم سے زہر لگنے لگی تو وہ غصے سے اپنی نظریں سامنے کھڑے لوگوں پر مرکوز کرتیں ہوئے انہیں دیکھنے لگی۔۔
“ہاں تو کس نے تُم لوگوں کو ہمارے بارے میں بتایا کہ ہم لوگ یہاں آنے والے ہے۔۔؟؟
ارحام انصاری نے اپنی ریوالور کو سہلاتے ہوئے فلمی انداز میں اُن سب سے پوچھا تو اسکے ڈائیلاگ جھاڑنے پر ریحام نے سختی سے اسکے پاؤں کے اوپر اپنی ہیل رکھی اور زور سے دباتے ہوئے اسے دیکھنے لگی جو درد کے باوجود بھی بے شرموں کی طرح سامنے کھڑے لوگوں کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔
“مسٹر غازی اپنی یہ فلمی ڈائیلاگ جھاڑنا اِس وقت بند دو ورنہ میں تّمہاری آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند کر دونگی۔۔۔!!
دانت پھیس کر وہ بولی نظریں ہنوز اُن لوگوں پر مرکوز تھی تو اُن دونوں کو ایک دوسرے سے بحث کرتے ہوئے دیکھ کر آہستگی سے آگے بڑھ رہے تھے۔۔
“بیوی اب تو معاف کر دو دیکھو وہ سب میں نے مزاق میں کہا تھا اور میرا اراده تُمہیں ہرٹ کرنے کا نہیں تھا میں تو بس تمہیں احساس دلانا چاہتا تھا کہ تمہیں بھی مجھ سے محبت ہے جیسے مجھے تُم سے ہیں۔۔!!!
اُنکے پیروں کے پاس گولی چلاتے ہوئے وہ بے چارگی اپنے چہرے پر سجا کر بولا۔۔
“ایجنٹ غازی اِس وقت اِن باتوں کا ٹائم نہیں ہے پہلے تو میں ان سب سے نھبٹو گی پھر میں فیصلہ کرو گی کہ تمہارے ساتھ کیا کرنا ہے۔۔!!
سختی سے اُسے گھورتی وہ بولی تبھی اچانک سے اُن لوگوں میں سے ایک شخص نے ریحام کے بائیں کندھے پر گولی چلا دیا تو وہ تکلیف کی شدت سے پیچھے ہٹنے لگی اور ارحام انصاری یہ دیکھ کر غصے سے پاگل ہو گیا اور اُسنے سب پر اندھا دھند فائرنگ کیا جسکی وجہ سے وہ سب ایک ہی جھٹکے میں نیچے گرے اور بری طرح سے تڑپنے لگے۔۔۔
“ریحام میری جان تُم ٹھیک تو ہو نا۔۔۔؟؟
اپنی ریوالور کو نیچے پھینک کر وہ تیزی سے اُسکی جانب بھاگا جو نیچے زمین پر بیٹھی اپنے کندھے کو زور سے دبا رہی تھی۔۔
“شٹ تمہارے کندھے سے تو بہت خون بہہ رہا ہے اب کیا کرو اگر وقت پر گولی نہیں نکالا تو خطرہ ہو سکتا ہے کار میں میڈیسن ہے لیکن یہ جگہ سیف نہیں ہے کیونکہ یہاں ہم نے بم لگائے اس جگہ کو تباہ کرنے کے لئے۔۔!!
اُسے دونوں گالوں سے پکڑ کر وہ تیزی سے بولا جبکہ ریحام تکلیف کے باوجود بھی اُسکے چہرے پر رقم اسکے لئے پریشانی کو دیکھتی مسکرانے لگی لیکن پھر اپنی مسکراہٹ کو چہرے سے جدا کر کے وہ اپنے چہرے پر سختی لے آئی کیونکہ وہ ابھی اسے تنگ کرنا چاہتی تھی جیسے اسنے اسے کیا تھا۔۔
“ایجنٹ غازی تُم مجھے اکیلا چھوڑ دو میں خود اپنی کئیر کر سکتی ہوں۔۔!!
غصے سے دیکھتی بولی۔۔
آئی نو کے تُم اپنی کئیر خود کر سکتی ہو لیکن اس وقت میرے ہوتے ہوئے تُم کچھ بھی نہیں کرو گی یہاں تک میں تمہیں باہر بھی اپنے بازؤوں میں بھر کر لیں جاؤ گا۔۔۔!!
وہ سنجیدگی سے کہتا نیچے جھکا اور اُسے اپنے بازؤوں میں بھرتے ہوئے اٹھا اور کارخانے سے باہر نکلا کیونکہ اب ریحام کی بھی آنکھیں زیادہ خون بہنے کی وجہ سے بند ہو رہی تھی۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
“یہ تُم مجھے کہا لیں کر آئے ہو۔۔۔؟؟
اپنی بند ہوتی آنکھوں کو وہ بمشکل کھولتی خوبصورت سرخ رنگ کے بے حد نفاست سے سجے بیڈروم کو بغور دیکھتی اس سے پوچھنے لگی جو سامنے وارڈوب کے سامنے کھڑا اپنے لئے کپڑے نکال رہا تھا اور ساتھ میں اسکے لئے میڈیسن باکس تاکہ گولی نکال سکے۔۔
“بیوی تمہارے کندھے سے گولی نکالنے کے بعد میں بتاؤ گا کہ یہ کس کا روم ہے اور ہم یہاں کیوں آئے ہیں۔۔!!
وہ بیڈ پر اسکے بے حد نزدیک بیٹھتے ہوئے سنجیدگی سے کہتا اُسکی سفید فراک کی آستین کو دیکھنے لگا جو خون کی وجہ سے سرخ ہوگیا تھا۔۔
“اب تُم یہ کک۔کیا کر رہے ہو۔۔۔؟؟
اُسے فراک کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے دیکھ کر وہ گھبراتی پیچھے بیڈ کراؤن سے جا لگی جبکہ ارحام نے سنجیدگی سے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے اپنی طرف زور سے کھینچا اور خاموشی سے اُسکی بیک پر ہاتھ لے جا کر اُسکی فراک کی زپ کو کھولنے لگا۔۔۔
“چھوڑو مجھے بدتمیز انسان ورنہ میں شور مچا دو گی۔۔!!
وہ اپنی پشت پر اُسکی گرم انگلیوں کو محسوس کرتی زور سے اپنی آنکھیں بند کر کے لرزتی ہوئی بولی جبکہ ارحام نے سامنے ٹیبل لیمپ کو بند کیا اور آہستگی سے اُسکی فراک کو اسکے کومل وجود سے ہٹانے لگا۔۔
“بیوی اب ٹھیک ہے نا تُمہیں کچھ بھی نظر نہیں آ رہا اور میں سکون سے اپنا کام کر سکوں گا بھلے اندھیرا ہی کیوں نا ہو لیکن میں گولی نکال لونگا کیونکہ اس میں تمہارا شوہر ماہر ہے۔۔!!
اُسے نرمی سے بیڈ پر لیٹا کر اُسکی فراک کو بیڈ سے نیچے پھینکتے ہوئے وہ گھمبیر لہجے میں بولا جبکہ ریحام بیڈ پر لیٹی اپنے دونوں ہاتھ سینے پر رکھے وہ بری طرح سے کانپ رہی تھیں۔۔
اُسکے نرم خوبصورت کانپتے ہوئے وجود پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ مشکل سے خود کو بہکنے سے روک رہا تھا کیونکہ گولی نکالنا اس وقت بہت ضروری تھا ورنہ زہر ریحام کے پورے جسم میں پھیلا تو ریحام کی جان کو خطرہ بھی ہو سکتا تھا اور وہ اپنی زندگی کو کسی بھی خطرے میں نہیں ڈال سکتا تھا چاہے اسے کچھ بھی کرنا پڑے۔۔
ریحام اپنے پیٹ پر اُسکی گرم انگلیوں کے لمس کو محسوس کرتی زور سے بیڈ شیٹ کو دبوچنے لگی جبکہ وہ ٹٹول ٹٹول کر اُسکے کندھے کی جانب اپنا ایک ہاتھ بڑھا رہا تھا اور یہ کرتے ہوئے اُسے بہت مشکل ہو رہا تھا کیونکہ ایک روم کی خوابناک ماحول اوپر سے وہ جس حالت میں تھی اور ساتھ میں جو رشتہ تھا انکے درمیان یہ سب چیزیں مل کر اُسے بہکنے پر مجبور کر رہی تھی لیکن وہ ان سب باتوں کو اپنے ذہن سے جھٹک کر گولی نکالنے کے لیے تیزی سے اپنے ہاتھوں کو حرکت دینے لگا۔۔۔
ارحام نے جب اپنے ہاتھ کو بھیگا محسوس کیا تو اُسنے سامنے میڈیسن کٹ سے ایک چاقو نکالا جو وہ اس میں ضرور رکھتا تھا اور اپنی جیب سے لائیٹر نکال اس چاقو کو گرم کرنے لگا تاکہ گولی آرام سے نکال سکے جب چاقو چمکنے لگا تو اندازے سے اسکے کندھے کے اس حصہ پر رکھا جہاں سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔
ریحام جو آنکھیں بند کیے بیڈ شیٹ کو دبوچ رہی تھی وہ اپنے کندھے پر جلن محسوس کرتی بری طرح سے چیختی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھی اور اُسکے سینے سے جا کر بری طرح سے ٹکرائی جبکہ ارحام جو گولی نکال کر گہرے گہرے سانسس لے رہا تھا یکدم سے اسکے نرم مومی جیسے وجود کو زور سے اپنے سینے سے ٹکراتے ہوئے دیکھ کر وہ اپنی جان کو جاتے ہوئے محسوس کرنے لگا۔
اُسکے گرم اور لرزتے ہوئے مومی نازک جسم کو اپنے سینے پر محسوس کرتا وہ جو کب سے خود کو ضبط سے کنٹرول کیے ہوئے تھا اُسکے جسم کی گرمائش کو محسوس کرتا وہ خود کو بہکنے سے روک نا سکا اور اُسکے کندھوں پر مرحم لگا کر نرمی سے بیڈ پر لیٹا کر خود بیڈ سے اترا اور اپنی شرٹ کے بٹنو کو آرام سے ایک ایک کرکے کھولنے لگا۔۔
شرٹ کو نیچے فرش پر پھینکتے ہوئے وہ بیڈ کی جانب بڑھا اور اُسکے دونوں ہاتھوں کو بیڈ کراؤن سے لگا کر وہ نرمی سے اُسکے نرم ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چھونے لگا تبھی اُسنے اُسکے لبوں کو آزاد کیا اور نیچے بڑھا اور آہستگی سے اُسکے پیٹ پر اپنا لمس چھوڑنے لگا۔۔
ریحام جو آنکھیں بند کیے بیڈ پر لیٹی زور سے سانسیں لیں رہی تھیں وہ اپنے ہونٹوں پر گرم لمس محسوس کرتی زور سے اپنے ہاتھوں کو مقابل کی پشت پر گاڑھنے لگیں کہ تبھی ارحام کے ہونٹوں کی گرم لمس کو وہ اپنے پیٹ پرمحسوس کرتی بری طرح سے مچلنے لگی اور وہ اُسکے بری طرح سے مچلنے کی پرواہ کیے بغیر اسکے نازک مومی جیسے وجود پر اپنا لمس شدت سے چھوڑنے لگا۔۔۔
“دور ہو جاؤ مجھ سے تُم۔۔۔!!
اُسے زور سے خود سے دور کرتی ریحام غصے سے اٹھی اور ٹیبل کی جانب ہاتھ بڑھا کر لیمپ کھول کر غصے سے بولی۔۔۔
ارحام یکدم سے روم میں روشنی ہونے کی وجہ سے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنی آنکھوں کو روشنی سے بچانے لگا۔۔
ریحام جو آنکھیں کھول کر غصے سے اُسے دیکھ رہی تبھی اسکی نظریں اپنے حلیے پر پڑی تو وہ شرم سے سرخ ہوتی تیزی سے آگے بڑھی اور نیچے فرش پر گرے اسکے شرٹ کو اٹھا کر پہننے لگی۔۔
“بیوی مجھے معاف کر دو کیونکہ اس ماحول کی وجہ سے اور ہمارے رشتے اور تمہیں اس طرح دیکھ کر میں خود پر کنٹرول نہیں کر سکا۔۔۔!!
ارحام نے اپنی آنکھیں کھولی تو اسے اپنے سفید شرٹ میں دیکھ کر کہنے لگا جو اسکے گھٹنوں سے نیچے تک آ رہا تھا۔۔
“بس خاموش اور مجھے میرے گھر تک چھوڑ کر آؤ ابھی اور اسی وقت ورنہ میں تُمہیں مار ڈالو گی۔۔!!
انگلی اٹھا کر اُسے وارننگ دیتے ہوئے بولی جبکہ دل میں اسکی صورت کو دیکھتی مسکرانے لگی کیونکہ وہ اسے تنگ کرنے کے لیے غصہ کر رہی تھی۔۔
“اوکے لیکن میں اس حلیے میں تُمہیں نہیں لیں جا سکتا۔۔!!
سر ہاں میں ہلا کر آخر میں اسکے نازک سراپے کی جانب اشاره کرتے ہوئے کہنے لگا جو اسکی شرٹ میں مزائقہ خیز لگ رہی تھی۔۔
“میں ابھی تیار ہو کر آتی ہو لیکن میرے پاس تو کپڑے نہیں ہے یہ تو خراب ہوگئی ہے اب کیا کرو میں۔۔؟؟
وہ سامنے فرش پر گرے اپنے سفید فراک کی جانب دیکھتے ہوئے بولی جو خون کی وجہ سے سرخ ہوگیا تھا۔۔
“تُم اس دن میرے روم میں اپنا ڈریس بھول گئی تھی وہ موجود ہے اور وارڈوب سے نکال کر تم چھینج کر لینا تب تک میں باہر تمہارا ویٹ کر رہا ہو۔۔!!
وہ سنجیدگی سے کہہ کر باہر نکلا جبکہ ریحام اس کے روم سے نکلتے تیزی سے وارڈوب کی جانب بڑھی اور اپنا ڈریس ڈھونڈ کر نکالتے ہوئے جلدی سے پہنے لگی۔۔
💕💕💕💕💕💕💕
اذی۔۔۔!!
اذان شاہ جو بچوں کو ڈھونڈنے کے لیے باہر نکلا تھا اپنے پیچھے اے بی کی آواز سن کر وہ تیزی سے پلٹا اور سامنے زریاب خان کے روم کے دروازے کے بیچوں بیچ کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
“اذی میرے یار اپنا خیال رکھنا اور میری سنو وائٹ کا بھی پتہ نہیں میں واپس آؤ گا یا نہیں لیکن تم اُسکا خیال رکھنا اسے تکلیف بلکل بھی نہیں ہونا چاہیے۔۔۔!!
وہ اپنی سرخ آنکھیں اذان شاہ پر مرکوز کرتیں ہوئے سنجیدگی سے بولا۔۔
اذان شاہ اسکی عیجب بات پر ان دونوں بچیوں کو سامنے رکھے صوفوں میں سے ایک بڑے صوفے پر بیٹھا کر تیزی سے اسکی جانب بڑھا اور سختی سے اسے سینے سے لگاتا غصے سے کہنے لگا۔۔۔
“شاہ آپ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں آپ اپنے ہر میشن کی طرح اِس میشن میں بھی کامیاب ہو کر واپس آئے گے سنا آپ نے اور حور کے لیے آپ کو اپنی حفاظت کرنا پڑے گا ورنہ وہ معصوم مر جائے گی اگر آپ کو کچھ ہوا اور پھر آپ اپنی یہ آرمی والی سچائی بھی اپنی فیملی اور بیوی سے چھپانا چاہتے ہیں تاکہ انکی کمزوری آپکے ارادو کو کمزور نا کر دیں لیکن آپ کو اس شیطان کے بگاڑے سبھی کاموں کو ٹھیک کرنے کے لئے صحیح سلامت آنا ہوگا جو اسنے آپکی زندگی کو بگاڑا ہے انہیں آپکو سدھارنا ہوگا۔۔
اور اُس سے پہلے شاه ہمیں ہمارے ملک کے لئے اس شیطان کو ختم کرنا ہے ہاں اگر مقدر میں شہادت لکھی ہوگی تو ہمیں وہ مل کر رہے گا شاید ابھی اسی وقت بم کی وجہ سے یا پھر اس شیطان سے لڑتے وقت بم کا ٹائم ختم ہو جائے تب۔!!
اذان شاہ نے سنجیدگی سے کہا۔۔
“اذی ٹھیک کہا میں اپنی زندگی میں سدھار بھی لانا چاہتا ہو میں پوری کوشش کرو گا کہ مجھے کچھ نا ہو لیکن آگے جو خدا کی مرضی وہی ہوگا اور اُسی تم سب کو قبول کرنا پڑے گا۔۔۔!!
اسے کندھوں سے پکڑ کر وہ سنجیدگی سے بولا اور پھر اسے چھوڑ کر پیچھے پلٹا اور اپنے قدم روم کی جانب بڑھانے لگا جہاں زریاب خان اُسکی قید میں تھا۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
“پہلے تّمہاری انگلیاں کاٹو یا پھر آنکھیں نکالو۔۔۔؟؟
زریاب خان کو ایک کرسی پر مضبوطی سے باندھ کر وہ اسکے سامنے فرش پر بیٹھا اسے اپنی ڈرگز کی وجہ سے سرخ ہوتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“ہاہاہاہاہاہا میری فکر مت کرو بلکہ یہاں سے نکلو ورنہ تُم بھی میرے ساتھ پھٹ جاؤ گے اپنے ہی لگائیں ہوئے بم سے۔۔!!
زریاب خان نے کمینگی سے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔۔
“مرنا ایک دن ہر انسان چرند پرند کو ہے پھر آج ہی کیوں نہیں اور اگر آج میری موت لکھی ہوئی ہے تو میری موت باہر بھی ہوسکتی ہے اور تم جیسے شیطان کو ختم کر کے اگر میری جان بھی چلی جائے نہ تو مجھے افسوس نہیں ہوگا۔۔۔!!
سنجیدگی سے اسکے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“شیر ابھی بھی وقت ہے مجھے جانے دو میرے آدمی تمہیں کچھ نہیں کرے گے۔۔!!
زریاب خان نے کہا۔۔
اے بی اسکی بات پر اسے غصے سے دیکھنے لگا جو ہاتھ پیر باندھنے کے باوجود بھی بنا خوف کے کہہ نہیں بلکہ اسے دھمکی دے رہا تھا وہ اٹھا اور خود کو سنبھالتے ہوئے اپنے ہاتھ میں تھامی ریوالور سے اسکے سر پر زور سے وار کرتے ہوئے اسے کرسی سمیت پیچھے دھکیل کر تیزی سے دوسری جانب بڑھا جہاں اسکا سر تھا۔۔
“زریاب خان تمہارے علاوه تمہارے سبھی آدمیوں کو میری ٹیم نے موت دے دیا ہے وہ اب سارے جل رہے ہونگے اور میں تمہیں اتنی آسانی سے صرف جلنے نہیں دونگا اذیت دے کر پھر تمہیں جلنے کے لیے یہاں چھوڑو گا۔۔۔!!
سختی سے اسکے بالوں کو اپنی مٹھیوں میں لیں کر وہ غصے سے بولا۔۔۔
زریاب خان اسکے سختی سے بالوں سے پکڑنے پر بلبلا اٹھا جبکہ اے بی نے اسے کرسی سمیت اٹھایا اور اُسکے ہاتھوں کو کھولنے لگا یہ دیکھ کر زریاب خان خباثت سے مسکرایا۔۔
“مجھے معلوم تھا شیر کہ تُم مجھے چھوڑ دو گے۔۔۔!!
وہ اپنے دونوں ہاتھ کو سہلاتے ہوئے کمینگی سے مسکرا کر بولا تو اُسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اے بی نے زور سے اسکے چہرے پر مکا مارا تو وہ سنھبل نا سکا اور سیدھا پیچھے جا گرا۔۔۔
“ایسے نہیں مارنا چاہتا میں تُم کو تڑپا تڑپا کر مارنا چاہتا ہو یہ لوں اور اپنے ہاتھوں کو باندھو۔۔۔!!
اے بی نے ایک ہتھکڑی اسکے سامنے پھیکنا اور اسے غصے سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو زریاب خان تعجب سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔
“یہ کیا ہے شیر تم اس وقت کھیلنا چاہتے ہو وہ بھی بم کو بھول کر میں تو کہتا ہو مجھے چھوڑ کر یہاں سے چلے جاؤ ورنہ تم بھی میرے ساتھ جل جاؤ گے۔۔۔!!!
وہ ہتھکڑی کو ہاتھ میں لیتا بولا۔۔
“زریاب خان ہاں کھیلنا چاہتا ہو مگر کچھ الگ انداز میں یہ چابیوں کو دیکھ رہے ہو ان میں سے ہم دونوں اصل چابی کو ڈھونڈے گے جو صرف ایک ہتھکڑی کی میں نے یہاں ان چابیوں کے گھچے میں ڈالا ہے۔۔۔!!
وہ سامنے رکھے چابیوں کے گھچے کی جانب اشاره کرتے ہوئے کہنے لگا تو زریاب خان ڈرنے لگا کیونکہ چابیوں کے گھچے کہ اوپر دو سانپ رینگ رہے تھے جو اذان شاہ اسکے کہنے پر لے کر آیا تھا۔۔
“یہ شیر تم چاہتے ہو میں اس چابیوں کے گھچے میں رینگتے سانپوں کی موجودگی میں چابی ڈھونڈو ناممکن۔۔۔!!
وہ ڈرتے ہوئے بولا۔۔
“زریاب خان ہمارے پاس صرف دو منٹ ہے اگر ہم نے چابی نہیں ڈھونڈا تو مر جائے گے۔۔۔!!
وہ ڈرگز کی وجہ سے سرخ ہوتی نظریں زریاب خان کے پسینے سے شرابور ہوتے چہرے پر گھاڑ کر بولا۔۔
زریاب خان اُسکی بات پر تیزی سے چابیوں کے گھچے کی جانب بڑھا اور ڈرتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے بڑھانے لگا لیکن تبھی سانپ نے اُسکے ہاتھ پر ڈس لیا تو وہ پیچھے ہٹا اور اپنے ہاتھ کو سہلاتے ہوئے دیکھنے لگا جو اب نیلا پڑھ رہا تھا۔۔
“زریاب خان تُمہیں ابھی تک چابی نہیں ملا اور یہ دیکھو مجھے تو چابی مل گیا اور چابی سے میری ہتھکڑی کھل بھی گیا ہاں اس میں ابھی بھی اس ہتھکڑی کی چابی موجود ہے ڈھونڈو شاید مل جائے اور یہ زہر ڈرگز سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ ڈرگز تو مجھے باہر نکال سکتا ہے لیکن تمہیں یہ زہر باہر نہیں نکال سکتا کیونکہ جیسے جیسے زہر تمہارے جسم میں پھیلے گا ویسے ویسے تمہارا جسم سُن ہوتا چلا جائےگا!!
اپنی ہتھکڑی کھولتے ہوئے سامنے سانپ کی جانب اشاره کرتے ہوئے کہنے لگا کہ تبھی اِس کارخانے میں ایک زور دار دھماکہ ہوا جیسے سن کر زریاب خان نے یکدم سے ایک زور دار قہقہہ لگایا جبکہ اے بی زور دار دھماکے کی آواز پر اپنی سرخ آنکھوں کو بند کرتا اپنی بند آنکھوں کے سامنے اپنے ماں باپ اور ادادا اور اپنی حور کی تصویر کو دیکھ کر وہ خوبصورتی سے مسکرانے لگا۔۔
اچانک سے پورے روم میں آگ بھڑکنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ جلنے لگا لیکن وہ وہی کھڑا آنکھیں بند کیے اپنی پوری فیملی کو اپنے خیالوں میں سوچنے لگا ۔۔
💕💕💕💕💕💕💕
اذان شاہ ان دونوں بچیوں کو اٹھا کر وہاں سے نکلا تھا تو اب اس کے خفیہ کمروں کو ڈھونڈ رہا تھا جس میں اس شیطان نے بہت سارے بچوں کو اپنی قید میں رکھا تھا۔۔۔
“آپ لوگ ٹھیک ہو بیٹا۔۔؟؟
ایک روم میں داخل ہوا تو سامنے دو بچیوں کو مکمل ہوش میں دیکھ کر تیزی سے انکی جانب بڑھا جو اسے دیکھ کر خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹنے لگے تھے۔۔۔
“گھبرائیں مت میں آپ لوگوں کو کچھ نہیں ‌کرو گا بلکہ میں تو یہاں آپ لوگوں کی ہلیپ کرنے آیا ہو اور آپ لوگوں کو بھی میری ہلیپ کرنی پڑے گی سب بچوں کو باہر نکالنے میں۔۔!!
اذان شاہ نے بچیوں کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“انکل آپ سچ میں ہماری ہلیپ کریں گے۔۔؟؟
ایک بچی ڈرتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی۔۔
“ہاں بیٹا بس آپ کو اِن سب بچوں کو میرے ساتھ باہر لانے میں میری مدد کرنا پڑے گا۔۔!!
وہ سب بچیوں کی طرف اشاره کرتیں ہوئے بولا جو ڈرگز کی وجہ سے بےہوش تھی تو کچھ نشے کی حالت میں جھول رہی تھی۔۔
“اوکے انکل۔۔!!
بچی نے ابکے بنا ڈرے کہا۔۔
اذان شاہ جب بچیوں کے ساتھ سارے بچوں کو باہر نکال کر سامنے کھڑی پولیس کی گاڑیوں کی جانب بڑھ رہا تھا کہ تبھی کارخانے میں ایک زور دار دھماکہ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا کارخانہ جلنے لگا۔۔
“نہیں شاہ نہیں۔۔۔!!
وہ دھماکے کی آواز پر تیزی سے پیچھے پلٹا اور جلتے ہوئے کارخانے کو دیکھتے ہوئے نیچے زمین پر بیٹھتے ہوئے اے بی کا نام زور زور سے لینے لگا۔۔