52.9K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37

“سنو وائٹ تُم جب سے میری زندگی میں آئی ہوں تو مجھے محبت لفظ کے معنی سہی سے پتہ چلنے لگا ہے جانم تمہیں پتہ ہے تُم میری زندگی میں بھی ان کینڈل کی روشنیوں کی طرح روشنیاں ہی روشنیاں بکھیر رہی ہو۔!!
اے بی نے اسکی آنکھوں سے پٹی اتار کر گھمبیر لہجے میں کہا۔۔
وہ دونوں ریزورٹ کی چھت پر کھڑے تھے کہ جب اچانک سے حور کی نظریں نیچے پڑی تو پلٹنا بھول گئی کیونکہ نیچے اسکا نام اور اے بی کا نام بہت ساری کینڈل سے لکھا گیا تھا جو اوپر سے صاف نظر آ رہا تھا۔۔
“کنگ آپ سچ میں بہت زیادہ وہ ہے۔۔۔!!
حور نے اسکی جانب دیکھتے ہوئے اُس دور ہو کر شرارتی لہجے میں اپنی بات اُدھوری چھوڑ دی تو اے بی نے اسے مصنوعی غصے سے دیکھا اور آگے بڑھا۔۔
“وہ کیا سنو وائٹ جلدی سے بتاؤ آئی سیور آج میں تُمہیں نہیں چھوڑو گا۔۔۔!!
اے بی اسکے پیچھے سیڑھیوں کی جانب تیزی سے بڑھا اور اُسے دیکھنے لگا جو نیچے ہنستے ہوئے بھاگ رہی تھی۔۔
“نہیں بتاؤ گی آپ کو جو کرنا ہے کرے ڈئیر ہبی صاحب۔۔!!
وہ شرارتی انداز میں مسکرا کر آخری سیڑھی سے نیچے اتری اور نیلگوں سمندر کے کنارے بھاگنے لگی تو اے بی اسے بھاگتے ہوئے دیکھ کر مسکرایا اور اسکے پیچھے بھاگا۔۔
“جانم اب تُمہیں کوئی بھی نہیں بچا سکتا تمہارے اِس ظالم ہبی سے جانِ من تمہیں جتنا بھاگنا ہے بھاگو لیکن لوٹ کر تو تُم اِسی ظالم کے پاس آؤں گی ناں پھر دیکھنا میں کیا حال کرتا ہو اپنی نازک سی جان کا۔۔!!
وہ معنی خیزی سے کہتا تیزی سے اسکے پیچھے بھاگا حور اسے اپنے بے حد نزدیک دیکھتی اپنی رفتار اور تیز کرنے لگی لیکن سامنے ایک بڑی سی لہر دیکھ کر وہ خوفزدہ ہوئی اس سے پہلے کے وہ لہر اسے اپنے ساتھ بہا کر لے جاتی اے بی نے پیچھے سے اسے پیٹ سے پکڑ کر اپنے چوڑے سینے سے لگایا تو وہ پیچھے پلٹی اور اسکے سینے سے لگ کر رونے لگی۔۔
“اب کیا ہوا ڈارلنگ اتنی سی لہر دیکھ کر ڈر گئی پہلے تو اپنے ہبی سے بہت بڑی بڑی باتیں کر رہی تھی۔۔!!
اے بی نے اسکی پشت کو سہلاتے ہوئے معنی خیزی سے کہا تو حور نے اپنا سر اوپر اٹھا کر اُسے خفگی سے دیکھا۔۔
“آپ نا سچ میں ایک نمبر کے کھڑوس ہے۔۔!!
وہ منہ بسور کر بولی تو اُسکی بات پر اے بی زور سے قہقہہ لگا اٹھا اور پھر نیچے جھک کر وہ اسے مضبوط بازوؤں میں بھرتا اُسے لیے سمندر کے لہروں کی جانب اُسے لے کر جانے لگا اور حور اُسے سمندر کی بلند لہریوں کی جانب بڑھتا ہوا دیکھ کر وہ خوفزدگی سے اسکے سینے پر اپنا چہرہ چھپانے لگی۔۔
“کھڑوس بدتمیز سپر اسٹار یہ کیا کر رہے ہیں آپ پاگل تو نہیں ہوگئے یہ سمندر ہے آپکا عالیشان گھر کا وہ سوئمنگ پول نہیں جو آپ مزے سے مجھے بھی اپنے ساتھ لے کر جا رہے ہیں۔۔!!
اسکے سینے سے لگی وہ چیخ کر بولی۔۔
“مسسز کھڑوس آپ کیلئے تو یہی سرپرائز سوچا تھا آپکے اِس کھڑوس بدتمیز ہبی نے اب مجھے تُمہیں یہ سرپرائز تو دینا پڑے گا ورنہ ہمارا ترکی میں آنے کا کیا فائدہ جب میرا یہ خوبصورت ایڈونچر سے بھرپور سرپرائز رہ جائے گا۔۔!!
وہ مسکرا کر اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو اس سرپھرے انسان کی بات پر حور اسے سخت نظروں سے گھورنے لگی کہ تبھی یکدم سے اس سنکی انسان نے اسے ٹھنڈے پانی میں پھینک دیا اور خود بھی جمپ لگا کر پانی میں گودا۔۔
حور اتنی ٹھنڈ میں اِس سمندر کے پانی میں سوئمنگ کرتی اُسے سختی سے گھورنے لگی تو وہ جو سوئمنگ کر رہا تھا اسکی نظروں کو محسوس کرتا مسکرانے لگا اور پھر یکدم سے وہ اسکی جانب بڑھا اور اُسے کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کرتا اُسے دیکھنے لگا جو اُسکی حرکت پر اسکی گرفت میں بڑی طرح سے مچلنے لگی تھی۔۔
“چھوڑو مجھے۔۔!!
وہ تیز لہجے میں اسکی گرفت میں بری طرح سے پھڑپھڑاتی گھبراتے ہوئے کہنے لگی تو اے بی اسکے بری طرح سے پھڑپھڑانے پر اپنی مخمور نظروں سے اسکے گلابی لبوں کو دیکھنے لگا جو ٹھنڈ کی وجہ سے بری طرح سے کانپ رہے تھے۔۔
“نو مسسز کھڑوس اس سرپھرے نے تُمہیں چھوڑنے کے لیے نہیں پکڑا ہے بلکہ ساری زندگی تھامنے کے لیے پکڑا ہے۔۔!!
اپنا سر زور سے جھٹک کر بولا تو حور غصے سے اپنے چہرے پر پانی کے چھینٹوں کو صاف کرنے لگی جو اسکے سر زور سے جھٹکنے پر اسکے چہرے پر لگے تھے
“آپ نا ایک نمبر کے بے شرم اور ہاں مغرور بھی ہے کھڑوس صاحب۔!!
حور اُسکے چوڑے سینے پر ہاتھ رکھتی خفگی سے بولی۔۔
“اور آگے۔۔؟؟
اے بی نے اُسے کمر سے پکڑ کر مزید اپنے قریب کرتے ہوئے کہا۔۔
“اور بہت بڑے ظالم بھی۔۔!!
وہ اُسے منہ بسور کر دیکھتی بولی۔۔
“جانِ بہار مغرور صرف میڈیا والوں کے لیے ہو ہاں اپنی جان سے پیاری وائف کے لیے تو میں صرف ظالم ہبی اور بے شرم ہونا چاہتا ہوں۔۔!!
اے بی اُسے اپنے مضبوط بازوؤں میں بھرتا اسے لیے سمندر کے کنارے بنے ریزورٹ کی جانب بڑھا اور حور اسکی شرٹ کو مٹھی میں دبوچے سردی کے باعث اپنا چہرہ اُسکے سینے پہ چھپائے بری طرح سے کانپ رہی تھی۔۔
روم کے اندر داخل ہو کر وہ اُسے لیے واش روم کی جانب بڑھا اور جب وہ واش روم کے سامنے پہنچا تو ہاتھ آگے بڑھا کر دروازہ کھول کر اسے لیےاندر داخل ہوا اور اسے نیچے اتار کر سامنے اسٹینڈ پر لٹکے ٹاول کو اٹھا کر اسکی جانب بڑھا۔۔
“وائف چلو یہاں بیٹھو۔۔!!
سامنے باتھ ٹب کی جانب اشارہ کرتا وہ گھمبیر لہجے میں بولا تو حور لرزتی ہوئی باتھ ٹب کی جانب بڑھی۔۔
“آپ باہر جائے میں خود۔۔!!
وہ اُسے وہاں کھڑے دیکھ کر شرم سے سرخ ہوتی سٹپٹا کر بولی تو اے بی اسکی بات کو مکمل نظر انداز کرتا آگے بڑھا اور اسکی ساڑھی کے پلو کو شولڈر سے ہٹانے لگا جو سمندر کے پانی سے مکمل بھیگ چکا تھا اور اب اسکے نازک وجود سے چپک کر اُسے دعوت نظارہ پیش کر رہا تھا۔۔۔
“ششش۔۔۔!!
وہ اسکے لبوں کو پھڑپھڑاتے ہوئے دیکھ کر اپنی شہادت کی انگلی اسکے نازک لبوں پر رکھتا اسے خاموش کرواتے ہوئے ساڑھی کا پلو نازک وجود سے جدا کرتا اسے مخمور نظروں سے دیکھنے لگا جو شرم سے سرخ چہرہ لیے سر جھکائے باتھ ٹب کے اندر بیٹھی ہوئی تھی۔۔
ٹاول سے اسکے بالوں کو خشک کرتا وہ بھی اب اسکے ساتھ باتھ ٹب کے اندر اسکے بے حد نزدیک بیٹھا اور اسے نازک کمر سے پکڑ کر اپنے سینے سے لگا کر وہ اپنی نظریں اُسکی نازک سراپے پر مرکوز کرتا اسکی صراحی دار گردن کو اوپر اٹھا کر اپنا چہرہ آگے لے جا کر شدت سے چھونے لگا۔۔
حور کہ لبوں سے یکدم سے ایک سسکی برآمد ہوئی تو اسکے بری طرح سے تڑپنے مچلنے پر اچانک سے اے بی اپنی شدتوں سے مزید اسکو بے بس کرنے لگا اور حور اسکے شدت سے چھونے پر بری طرح سے اسکی پناہوں میں پھڑپھڑانے لگی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“ہاں بے اتنی رات کو کہا سے آ رہے ہوں۔۔؟؟
اسلام آباد میں وہ ابھی رات کے تین بجے پہنچا تھا اور اب وہ اپنے فلیٹ کی جانب بڑھ رہا تھا لیکن راستے میں ان دو پولیس اہلکاروں نے اسے روکا تو وہ سنیجدگی سے اپنی کار سے باہر نکلا۔۔
“کیوں کیا یہاں رات کے تین بجے گھومنے پر پابندی ہے۔۔؟؟
سگریٹ اپنے عنابی ہونٹوں سے لگاتا وہ سپاٹ لہجے میں اُن سے سوال پوچھنے لگا تو دونوں اہلکار اسے اتنی جرات مندی سے سوال کرنے پر غصے سے دیکھنے لگے۔۔
“تُمہاری اتنی جرات۔۔!!
ایک اہلکار آگے بڑھا اور اُسنے اپنا ڈنڈا ہوا میں اٹھا کر اُسے مارنا چاہا تو اسے سنجیدگی سے دیکھتا وہ ڈنڈا پکڑ کر دور کرتا دونوں اہلکاروں کو دیکھنے لگا۔۔
“اگر میں نے آج ہی سے جرات نہیں دیکھایا نا تو تُم دونوں رشوت خور اہلکار بے گناہ شہریوں کو دیکھ کر کبھی بھی رشوت مانگنے سے باز نہیں آؤ گے۔!!
وہ دونوں کو سختی سے گھورتا کالر سے پکڑ کر اپنی کار کی پچھلی سیٹ پر پھینکتا سپاٹ لہجے میں کہنے لگا تو ہلکار اسکی حرکت پر غصے سے پاگل ہو گئے لیکن ارحام انصاری انہیں موقع دیے بغیر آگے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھا اور کار اسٹارٹ کرتے ہوئے انہیں لیے سیدھا پولیس اسٹیشن کی جانب بڑھا۔۔
“تُم غلط کر رہے ہو ایک پولیس والے پر ہاتھ اٹھا کر۔۔!!
ایک اہلکار نے غصے سے کہا۔۔
“ایک نہیں دو رشوت خور پولیس والوں پر۔۔!!
سنجیدگی سے کہتا وہ کار اسٹیشن کی حدود میں داخل کرتا پیچھے مڑ کر ان دونوں اہلکاروں کی جانب دیکھنے لگا جو غصے سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔
“ہاتھ اٹھانا والے کا نام نہیں پوچھو گے چلو کوئی بات نہیں میں خود ہی بتاتا ہو اپنا نام تو کان صاف کر کے سنو میرا نام ایس پی ارحام انصاری ہے اور اب تم دونوں رشوت نہیں بلکہ ایمانداری سے سب شہریوں کی جان اور مال کی حفاظت کروں گے ورنہ میں ایسی سزا دونگا جسکا آج تک میں نے کسی مجرم کو بھی نہیں دیا ہوگا۔۔۔!!
وہ سنجیدگی سے ان دونوں کو وارننگ کرتا کار سے باہر نکلا تو دونوں نئے ایس پی کا نام سن کر بری طرح سے کانپنے لگے۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“شرجیل مجھے لگتا ہے آج احمد اور نعمان کے ہاتھوں ایک موٹی پارٹی لگی ہے جو وہ ابھی تک نہیں آئے ہیں۔۔!!
پولیس اسٹیشن پر چار اہلکار ایک ٹیبل پر بیٹھے اپنے سامنے شراب کے بوتل رکھے نشے میں دھت پتے کھیل رہے تھے کہ آصف نے شرجیل سے کہا۔۔
“مجھے بھی یہی لگتا ہے روز تو اپنی جیب بھرتے ہیں ان بے وقوف شہریوں کو لوٹ کر اور اسامہ وہ نیا ایس پی سنا ہے آج کراچی سے آنے والا ہے۔۔!!
شرجیل نے کمینگی سے مسکراتے ہوئے کہا اور پھر آخر میں ایس پی کا خیال آیا تو وہ سامنے کھڑے اسامہ کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا جو تینوں اہلکاروں کو بری طرح سے گھور رہا تھا۔
“ہاں پتہ ہے مجھے اب تُم لوگ پلیز یہ سب کھچڑا یہاں سے باہر نکالو پتہ نہیں نیا ایس پی کیسا ہوگا اور اگر اس نے یہ سب دیکھا تو تُم لوگوں کے ساتھ میں بھی پھنس جاؤ گا کیونکہ مجھے یہ سب بلکل بھی پسند نہیں ہے لیکن صرف دوستی کی خاطر مجبوراً تم لوگوں کے ساتھ بیٹھنا پڑتا ہے ورنہ میں اس حرام شے کی طرف دیکھو بھی نا۔۔!!
اسامہ نے نفرت سے ٹیبل پر رکھے شراب کی ساری بوتلوں کی جانب دیکھتے ہوئے کہا وہ صرف اپنا کھانا لے کر انکے ساتھ دوستی کی وجہ سے بیٹھ کر انہیں شراب پیتے ہوئے تاسف سے دیکھتا تھا اب تو وہ دعا کرتا تھا کہ ایس پی سخت قسم کا ہو اور رشوت سے تو اسے بے پناہ نفرت ہو۔۔
“اسامہ جانی مجھے تو لگتا ہے ایک نمبر کا کمینا اور لگتا ہے کراچی میں اسنے رشوت نعمان اور احمد سے بھی زیادہ لیا ہوگا اسی لیے تو کراچی سے اسے نکالا گیا ہوگا۔۔!!
آصف نے شرجیل کے ہاتھ پر تالی مارتے ہوئے کمینگی سے کہا تو اسامہ نے اسے غصے سے دیکھا تبھی باہر ایک گاڑی کی آواز سن کر وہ تیزی سے باہر نکلا اور سامنے کا منظر دیکھ کر وہ ساکت رہ گیا۔۔
سامنے احمد اور نعمان کو ایک نوجوان نے کالر سے پکڑ کر انہیں سختی سے اپنے ساتھ لیے سنجیدگی سے تھانے کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔
“اے کون ہو۔۔۔؟؟
اسامہ کو ہوش آیا تو وہ اُسے روکتا سخت لہجے میں اس سے پوچھنے لگا۔۔
“ایس پی ارحام انصاری۔۔!!
ارحام انصاری نے سخت نظروں سے اندر نظر آتے منظر کو دیکھتے ہوئے اسامہ کو جواب دیا تو اسامہ نے اسکا نام سن کر ادب سے اسے سلوٹ کرتا پیچھے ہٹا تو وہ ان دونوں کو اندر پھینک کر ان تینوں اہلکاروں کی جانب بڑھا جو نشے میں اس قدر غرق تھے کہ اسکی موجودگی کو محسوس نہ کر سکے۔۔
“کیا میں آپ سب کو جوائن کر سکتا ہوں۔۔؟؟
ارحام انصاری خوش مزاجی سے کہتا ایک کرسی سامنے سے اٹھا کر بیٹھا تو آصف اور شرجیل نے اسے تعجب سے دیکھا اور انکے ساتھ موٹی ٹونڈ والے بڑھی عمر کے اہلکار رشید نے اپنی بتیسی دیکھاتے ہوئے اسے دیکھا۔۔
“کیوں نہیں اگر پیسے بہت زیادہ ہے تو ضرور اوہ اسامے جاؤ لسی وسی کا انتظام کرو آج رشیدہ جیتے گا یہ آج کل جوان کہا جانتے ہیں کھیلنا کیوں شرجیلے سہی کہا نا میں نے۔۔۔!!
رشیدے اپنی بتیسی سے آصف اور شرجیل کو جلانے کے بعد اسامہ کو لسی کا کہہ کر ارحام انصاری کی ٹانگ پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے اسے سامنے ٹیبل پر رکھے بوتل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسے بھی پینے کی آفر کرنے لگا۔۔
“ضرور رشیدے میرے بغیر تو یہ پارٹی بہت پھیکی سی تھی کیوں آصفے ٹھیک کہا نا میں نے۔۔۔!!
ارحام انصاری نے مسکراتے ہوئے ٹیبل سے بوتل اٹھایا اور گلاس میں ڈالنے کے بجائے سامنے فرش پر پھینکنے لگا اور یہ دیکھ کر آصف غصے سے اٹھا۔۔
“یہ کیا کیا تم نے۔۔۔؟؟
آصف نے غصے سے کہا۔۔
“وہیں جو ایک ایماندار ایس پی کرتا ہے۔۔!!
ارحام انصاری نے سنجیدگی سے کہا پھر سامنے ٹیبل سے سبھی بوتل کو اٹھا کر سامنے رکھی باسکٹ میں ڈال کر اسامہ کو تھما کر شرجیل اور آصف رشید کو سختی سے دیکھنے لگا۔۔
“اب سے اس اسٹیشن میں صرف مجرموں کی خدمت ہوگی وہ بھی میرے انداز میں اور یہ رشوت شراب اور جوا یہاں بلکل بھی نہیں نظر آنی چاہیئے مجھے ورنہ میں سب کو سلاخوں کے پیچھے کھڑا کر دونگا۔۔۔!!
انگلی اٹھا کر وہ تینوں کو سرد لہجے میں کہتا اپنے روم کی جانب بڑھا اور اسامہ الله کا شکر ادا کرتا تیزی سے اسکے پیچھے بڑھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“سام اس وقت گھر سے باہر سگریٹ پینا کیا ٹھیک ہے۔۔؟؟
شام نے پارک کے چاروں جانب دیکھتے ہوئے سام سے پوچھا جو بینچ پر بیٹھا سگریٹ کے کش لگا رہا تھا۔
“شام برو وہاں تو وہ جلاد بیٹھا ہوا ہے ہر وقت ہمارے چوکیداری کرنے کو اب یہ جگہ سہی ہے ویسے بھی اس کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں ہے اور اچھا ہے ایک سال ہم ڈیڈ کے ڈر سے بچ جائے گے۔۔!!
سام نے پارک کے دروازے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“سام برو اب لگتا ہے ہمیں یہاں سے چلے جانا چاہیئے۔۔!!
شام نے سامنے دو اہلکاروں کو اپنی جانب آتے ہوئے دیکھ کر کہا تو سام نے اسے بیٹھنے کا اشاره کیا تو وہ واپس بیٹھ گیا۔۔
“اے لڑکے تم دونوں رات کے چار بجے یہاں کیا کر رہے ہو۔۔!!
ایک اہلکار آگے بڑھا اور ان سے کہنے لگا۔۔
“وہ ہم سگریٹ اور کسی لڑکی کا انتظار کر رہے تھے کیوں کیا آپ بھی یہاں سگریٹ۔۔!!
سام نے معنی خیزی سے اپنی بات ادھورا چھوڑا تو اہلکار غصے سے آگے بڑھا اور اسے کالر سے پکڑ کر کھڑا کرتے ہوئے دوسرے اہلکار کو مخاطب کرتا شام کو بھی پکڑنے کا کہنے لگا۔۔
“اے لڑکے تھانے میں چل کر ہم اچھے سے بتاتے ہیں کہ ہم یہاں کب سے کس کا انتظار کر رہے تھے۔۔!!
غصے سے انہیں کہتا وہ ان دونوں کو لیے پارک سے باہر نکلا۔۔
“ایسے کیسے تُم لوگ ہمیں یہاں سے لے کر جاؤ گے۔۔!!
سام نے تیزی سے اپنے کالر کو چھڑواتے ہوئے غصے سے کہا۔۔
“اے لڑکے ایک تو چوری اوپر سے سینا زوری اب تو تمہیں ایس پی صاحب ہی بتائے گے۔۔۔!!
اسے گردن سے سختی سے دبوچ کر نعمان نے کہا۔۔
“چلو پھر دیکھتے ہے کتنا ایماندار ہے تمہارا ایس پی صاحب۔۔!!
سام نے شام کو دیکھتے ہوئے اپنا ایک آنکھ ونگ کرتے ہوئے کہا تو شام اسکی شرارت کو سمجھ کر مسکرانے لگا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“سر دو لڑکے رات کے چار بجے پارک میں عیاشی کرتے ہوئے پکڑے ہیں ہم دونوں نے۔۔!!
نعمان نے ارحام انصاری کے اسٹیشن میں داخل ہوتے ہی اسے سلوٹ کرنے کے بعد کہا تو وہ اپنی کیپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے اسے لڑکوں کو یہاں لانے کا کہہ کر سامنے رکھے فائلوں کو دیکھنے لگا۔۔
“تم دونوں۔۔!!
تھوڑی دیر بعد دو لڑکوں کو اس کے روم میں نعمان کالر سے پکڑ کر اندر لے کر آیا تو ارحام انہیں دیکھ کر اپنی جگہ سے اٹھا۔۔
“ارحام بھائی آپ زنده ہے۔۔؟؟
سام نے ساکت نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا کیونکہ وہ اسے زنده دیکھ کر شاکڈ رہ گیا تھا اذان شاہ نے ریحام کے ساتھ رعابہ اور ان دونوں سے بھی جھوٹ بولا تھا۔
“ہاں الحمدلله اور یہ تُم لوگوں مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو جیسے میں ارحام انصاری نہیں اسکا بھوت ہو۔؟
وہ سنجیدگی سے آگے بڑھا اور ان دونوں کے حیران چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“ارحام بھائی ہم سچ میں آپکو بھوت سمجھ رہے ہیں کیونکہ دو ہفتے پہلے ہمیں آپکی موت کا جھوٹا جو نقشہ دیکھایا گیا تھا۔۔۔!!
سام نے ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے سامنے پانی کے گلاس کو اٹھاتے ہوئے کہا تو اسکی بات پر ارحام انصاری ساکت رہ گیا۔۔
“کس نے جھوٹ بولا ہے میرے مرنے کا کہہ کر تم لوگوں سے اور ریحام وہ کیسی ہے اور اس وقت کہا ہے۔۔!!
ارحام نے ان دونوں سے پوچھا پھر ریحام کا خیال آتے ہی وہ ںے قراری سے اس کے متعلق ان سے پوچھنے لگا۔۔
“اذان برو اور کون بول سکتا ہے ہم سے جھوٹ ویسے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ انہوں نے ہم سب سے اتنا بڑا جھوٹ بولا تو کیوں بولا۔۔!!
سام نے پانی پینے کے بعد گلاس رکھتے ہوئے کہا۔۔
“سالے صاحب اس لیے کیونکہ وہ ایک شوہر کو اسکی بیوی سے جدا کرنا چاہتا ہے اس لیے بڑے فکر سے سب سے جھوٹ بول رہا ہے لیکن اب وہ جیل کی ہوا کھائے گا اور اسکے لیے تم دونوں ابھی بے گناه جیل کی ہوا کھاؤ گے۔۔!!
وہ سنجیدگی سے اسامہ کی جانب اشاره کرتا ان دونوں کو اندر ڈالنے کا کہہ کر کرسی کی جانب بڑھا تو سام اور شام نے تعجب سے اسامہ کو اپنی طرف بڑھتے اور اسے سنجیدگی سے کرسی کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھنے لگے۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“میڈم وہ ہمارے سر جی آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔!!
اسامہ نے اسے فون کر کے سام اور شام کے بارے میں یہ جھوٹ بولا کہ سام اور شام کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور جس کار کے ڈرائیور نے انہیں ہاسپٹل پہنچایا تھا۔۔
وہ اس سے ملنا چاہتا ہے اور یہ سب اسامہ ارحام کے کہنے پر کر رہا تھا تاکہ وہ اسے مارگلہ کے پہاڑ پر لے جاسکے جہاں ارحام انصاری اسکا بے تابی سے انتظار کر رہا تھا۔۔
“لیکن وہ کیوں مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔۔؟؟
ریحام جو ایکڈمی جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی اپنے فون پہ ایک انجان نمبر دیکھ کر وہ کال اٹھا کر دوسری طرف موجود شخص کی عیجب بات پر وہ تعجب سے اس سے پوچھنے لگی۔۔
“میڈم پتہ نہیں وہ کیوں بلا رہے ہیں یہ آپکا نمبر بھی آپکے چھوٹے بھائی شمعون نے ہمیں دیا ہے اور آپکے دونوں بھائی نشے میں تھے مجھے تو لگتا وہ آپ سے اسی سلسلے میں کچھ کہنا چاہتے ہو۔۔!!
وہ ڈرامائی انداز میں کہنے لگا۔۔
“اوکے میں آتی ہو۔۔!!
وہ سنجیدگی سے اپنا بیگ کندھے پر لٹکا کر بولی۔۔
“ٹھیک ہے میڈم سر جی آپکا مارگلہ ہل میں ویٹ کر رہے ہیں۔۔!!
اسامہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا جو سامنے سر جھکائے بیٹھا اسپیکر آن ہونے کی وجہ سے ریحام کی آواز کو توجہ سے سن رہا تھا وہ پورے دو ہفتے بعد اسے سن رہا تھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“ارحام۔۔!!
ریحام جب مارگلہ پہاڑ پر پہنچی تو وہ سامنے پہاڑ کے نیچے کی بلندی کو غور سے دیکھ رہا تھا کہ تبھی اسنے اپنے پیچھے قدموں کی آواز سنی تو وہ تیزی سے پیچھے مڑا۔۔
ریحام اس شخص کی پشت کو دیکھتی آگے بڑھ رہی تھی کہ اچانک سے اسکے مڑتے ہی وہ ساکت نظروں سے دیکھتی وہیں ٹھہر کر اُسکا نام زیر لب کہنے لگی۔۔
“ہاں تُمہارا ارحام مس میزائیل۔۔!!
ارحام انصاری نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اسکے لیے پھیلا کر اپنی سرخ نظریں اُسکے چہرے پر ڈال کر کہا تو وہ تیزی سے اسکی جانب دوری اور اسکے سینے سے لگ کر بری طرح سے رونے لگی اور وہ اسے اپنے ساتھ لگائے اتنے دنوں کی دوری اور تکلیفوں کو بھولنے لگا۔۔
“تُم کہا چلے گئے تھے ہاں بتاؤ مجھے اور وہ اذان بھائی کیوں کہہ رہے تھے کہ تُم۔۔!!
وہ الگ ہوتی غصے سے اسکے چوڑے سینے پر مکا مارتے ہوئے کہنے لگی تو اذان شاہ کی بات آتے ہی وہ تعجب سے ارحام کو دیکھتی اس سے پوچھنے لگی۔۔
“مس میزائیل ان سچ باتوں کو ابھی بھول جاؤ اور اس پل کو میرے سنگ خوبصورت بناؤ اتنے دنوں میں تڑپا تھا اور تم بھی تڑپی ہوگی۔۔
نہیں یہ کبھی نہیں ہوسکتا کیونکہ میری مس میزائیل اور اپنے فائر بریگیڈر کیلئے تڑپے یہ ناممکن سی بات ہے کیونکہ مس ریحام تو مسٹر انصاری کی موت کا سن کر بہت زیادہ خوش ہوگئی ہوگی اس وقت جب اسکے بھائی نے یہ خبر سنائی ہوگی کیوں ٹھیک کہا نا میں نے وائف۔۔!!
ارحام انصاری ‌نے شریر لہجے میں کہا۔۔
“نہیں مجھے تو بہت زیادہ غصہ آیا تھا لیکن ان لوگوں پر جہنوں نے تمہارا قتل کیا تھا کیونکہ مسٹر غازی تمہارا قتل صرف میرے ہاتھوں میں ہونا لکھا ہوا تھا اور ان لوفروں نے میں بیچ میں کود کر میری خواہش کو مٹی کر دیا۔۔!!
وہ شدید غصے سے اسے خود سے دور کرتی سخت لہجے میں کہنے لگی تو ارحام اُسکے غصے سے کہنے پر اسے اپنی جانب کھینچ کر واپس اپنے چوڑے سینے میں بھینچ کر اپنے لب اُسکی پیشانی پر رکھ کر ایک لمحے میں اسکے غصے کو ختم کرتا اسے شرم سے دوچار کرنے لگا تبھی زور سے بجلی چمکی تو ریحام شدت سے اسکے چوڑے سینے سے لگی تو ارحام انصاری اسکے ڈرنے پر مسکرایا کیونکہ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ اسکی مس میزائیل جو کسی سے نا ڈرنے والی وہ آسمانی بجلی کی آواز سے بہت زیادہ ڈرتی تھی۔۔
“مس میزائیل اُس رات بھی تیز بارش ہو رہی تھی اور آج بھی اتنی ہی تیزی سے بارش برس رہا ہے اور اسے اتفاق کہے یا پھر قدرت کی ایک خوبصورت چال جو ہمیں ملانے کیلئے خوبصورتی سے رچا گیا ہے جو سامنے کا منظر بھی کچھ اُسی دن کی طرح کا مجھے لگ رہا ہے۔۔؟؟
ارحام انصاری نے سامنے پہاڑ کے اوپر بنے خوبصورت لیکن چھوٹے گھر کی جانب اشاره کرتے ہوئے معنی خیزی سے کہا تو ریحام نے اپنی نم آنکھیں اوپر اٹھا کر دیکھا جہاں ایک خوبصورت چھوٹا سا گھر بنا ہوا نظر آیا تھا اور یکدم سے اسکی نظروں کے سامنے اس دن کا منظر گھومنے لگا۔
جب وہ ارحام انصاری کے ساتھ اس جھونپڑی میں بارش کی وجہ سے ٹھہری تھی تو بھیگی رات اور اوپر سے دونوں کے درمیان جائز رشتہ سے ارحام انصاری کیسے بہکا تھا وہ یاد آتے ہی وہ شرم سے سرخ ہوتی سٹپٹاتی تو اسے شرم سے سرخ پڑتے ہوئے دیکھ کر وہ آگے بڑھا اور اُسکے چہرے کو اپنی طرف کرتا اسکی گردن پر جھکا اور شدت سے اپنا لمس چھوڑنے لگا۔۔
“ارحام پلیز۔۔!!
وہ سٹپٹا کر اسے خود سے دور کرتی بولی۔۔
“نہیں ریحام بلکل بھی نہیں پورے دو ہفتے تُم سے دور رہ کر تڑپا ہو میں آج نہیں پلیز مجھے بہکنے دو اس رات کو میں اپنی محبت سے امر کرنا چاہتا ہو۔۔!!
گھمبیر لہجے میں کہتا وہ اسکے بری طرح سے لرزتے ہونٹوں پر جھکا اور شدت سے انہیں چھونے لگا ریحام اسکی شدت پر اپنے دونوں ہاتھ اسکی پشت پر رکھ کر اپنی آنکھیں بند کرتی اسکی پُر مہک سانسوں کی خوشبو کو محسوس کرنے لگی۔۔۔
وہ دونوں سڑک کے کنارے کھڑے بارش میں بھیگ رہے تھے اور ارحام اسکے چہرے پر جھکا اپنی اتنے دنوں کی پیاس بجا رہا تھا اسکی شدتوں کو سہتی ریحام اسکے ہاتھوں کو اپنی کمر پر رینگتے ہوئے محسوس کرتی آنکھیں سختی سے میچنے لگی اور ارحام اسکی کمر پر گرفت سخت کرتا جزبات کی رو میں بہتا اپنے دہکتے ہونٹوں سے اُسکے ہونٹوں کو شدت سے چھو رہا تھا۔۔
اچانک سے اسے اپنی مضبوط بازؤوں میں بھرتا وہ اسے لیے اس گھر کی جانب بڑھا اور وہاں پہنچ کر اسنے دروازه کھولا اور اندر داخل ہوا وہاں صرف ان دونوں کے علاوه کوئی بھی نہیں تھا۔۔
“ارحام اتنے دنوں سے تمہیں پتہ ہے میں کتنا تڑپی تھی اور آج تمہیں اپنے سامنے دیکھ کر پہلے مجھے بلکل بھی یقین نہیں ہوا کہ تُم زنده سلامت میرے سامنے کھڑے ہو اور اذان بھائی نے کیوں مجھ سے جھوٹ بولا تھا وہ کیوں ہمیں جدا کرنا چاہتے تھے۔۔!!
وہ اسکی گردن میں اپنے ہاتھ ڈال کر نم لہجے میں بولی تو ارحام انصاری اُسکی بات پر اسے لیے سامنے چھوٹے سے بیڈ کی جانب بڑھا اور اُسے لیٹا کر خود اسکے اوپر جھکا اور باری باری اسکے دونوں گالوں کو چھوتا وہ اپنے ہونٹوں سے اسکی گردن کو چھو کر اپنی شدتوں سے اسے بری طرح سے کانپنے پر مجبور کرنے لگا۔۔
“جانم کیونکہ تمہارا بگ برو اذان شاہ نہیں چاہتا کہ میں تمہاری زندگی میں رہوں لیکن اب اسے ارحام انصاری بلکل بھی نہیں چھوڑے گا اسنے میری جان کو بہت تڑپایا تھا نا اور رولایا بھی بہت تھا اب وہ روئے گا جیل میں۔۔!!
بوجھل آواز میں کہتا اسے اوپر اٹھا کر اپنا ہاتھ اسکی بیک پر لے جا کر پیچھے سے اسکی بارش کی وجہ سے گھیلے ہو چکے فراک کی زپ کو آہستگی سے کھولنے لگا ریحام اُسکی گرم انگلیوں کو اپنی پشت پر محسوس کرتی اپنا چہرہ شدت سے اسکے چوڑے سینے پہ چھپاتی تیز تیز سانسیں لینے لگی۔۔
“وہ ایسا کیوں چاہتے ہیں۔۔؟؟
کانپتی آواز میں اس سے پوچھنے لگی جبکہ ارحام انصاری کے ہاتھ اسکی فراک کی زپ کو کھولنے کے بعد اسکی فراک کو شولڈر سے ہٹا کر اسکی گردن کے نیچے لکیر کھینچتے ہوئے نیچے کی جانب بڑھ رہے تھے وہ شدت سے اسکی لمس پر بری طرح سے کانپنے لگی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥