Ishq E Junoon By Sumyia Baloch Readelle50186 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
“ری برو آر یو اوکے۔؟؟
رعابہ تیزی سے ڈریسنگ ٹیبل سے اٹھی اور چند قدم چل کر اُسکے مقابل کھڑی ہوئی اور ڈرتے ہوئے اپنے ہاتھ اُسکے دونوں ہاتھوں پر رکھتی بولی۔
“رعابہ کیا خاک ٹھیک ہونگی میں اِس ڈریس میں اور یہ کیوٹی بھی مجھے یہ مصیبت پہننے کا آدر دے کر نجانے کدھر چھپ گئیں ہے مجھے بہت غصہ آ رہا ہے یار اب میں اِس طرح کیسے باہر جاؤ گی۔!!
ییلو خوبصورت ڈریس میں ملبوس نیچے سے ڈریس کو دونوں ہاتھوں سے پکڑے سخت جھنجلا کر بولی
“ری برو آپ اِس ڈریس میں بہت خوبصورت لگ رہی ہے بس یہ ڈریس بہت زیادہ لمبا ہے نا تو اِسی لئے آپ اِس میں خود کو ایزی فیل نہیں کر رہی ہے۔”
رعابہ اُسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے بولی
وہ واقعی میں اِس ڈریس میں بہت زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی اور میک اپ کے بغیر ساده چہرہ لیے وہ غصے سے سرخ گالوں پر لالی سجائے رعابہ کو اِس وقت کوئی حسین اپسرا لگی تھی۔
“خیر تو ہے بھابھی آج اتنا مکھن کہا سے لائی ہو جو کب سے مجھے لگا رہی ہے اپنی میٹھی باتوں سے کیا کوئی کام ہے۔؟
ری آئی برو اچکا کر اُسے دیکھتے ہوئے بولی تو رعابہ نے اپنے گورے اور نازک ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنسا کہ اپنی نظریں نیچے جھکا کر کہا۔
“وہ ری برو میری ایک بہت ہی اچھی دوست ہے نا وہ ڈھولکی کے فنکشن میں آ رہی تھی لیکن اُسکی کار زمزمہ پارک کے سامنے خراب ہو گئی ہے تو اُسنے ابھی تھوڑی دیر پہلے مجھے فون کیا تھا کہ وہ نہیں آئے گی اِس لئے میں نے اُسے سختی سے منا کر دیا تھا کہ وہ وہی میرے گھر سے جب تک اُسے کوئی لینے کے لئے نہیں آ جاتا وہ تب تک وہی ویٹ کرے اب میں کیا کروں وہ تو وہاں کسی کے آنے کا ویٹ کر رہی ہوگی وہ بھی اکیلے اور ری برو آپ تو شہر کے حالات اچھے سے جانتی ہو کہ کتنے زیادہ خراب ہے اور اوپر سے وہ ایک لڑکی ہے اور وقت بھی تو دیکھیں رات کے بارہ بج رہے ہیں۔”
رعابہ ڈرامائی انداز میں کہتی اُسے سوچنے پر مجبور کر گئی واقعی شہر کے حالات آجکل بہت زیادہ خراب ہے اور اوپر سے ایک لڑکی کے لئے اتنی رات کو باہر اور وہ بھی اکیلے رہنا ٹھیک نہیں ہے۔
“اوکے میں جا کر لاتی ہو تّمہارے پاس اُسکی کوئی تصویر وغیرہ ہے یا نہیں اگر ہے تو دو ڈھونڈنے میں آسانی ہوگی ورنہ میں کہا اُسے ڈھونڈتی رہوں گی۔”
رعابہ کو دیکھتی تیزی سے اُسکی دوست کی تصویر کا استفسار کرنے لگی تو رعابہ سخت پریشانی سے اُسکی تصویر کے متعلق پوچھنے پر اپنے ہاتھوں کو آپس میں مسلنے لگی۔
“Ohh That means you don’t have a picture of him”
(اوہ اسکا مطلب تمہارے پاس اُسکی تصویر نہیں ہے).
وہ اُسے سخت نظروں سے دیکھتی اپنا سر ہلا کر بولی تو رعابہ ایک گہری سانس لے کر تیزی سے بولی۔
“آپ بس وہاں جائے وہ آپ کو پہچان لے گی کیونکہ اُسنے آپ کو دیکھا ہے۔”
وہ مسکرا کر بولی تو ری نے اپنا سر ہلایا اور جھلاہٹ سے اپنا ڈریس اوپر اٹھایا اور روم سے باہر نکلی۔
اب وہ پرسکون تھی اب اُسے ڈر نہیں تھا کیونکہ آگے کا کام وہ ارحام انصاری کو فون کر کے سنبھالنے کا کہے گی اور اُسے یقین تھا کہ وہ یہ کام اچھے سے کرے گا۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“مس میزائیل کسے ڈھونڈ رہی ہوں۔؟؟
ری زمزمہ پارک کے سامنے کار روک کر باہر نکل کر اردگرد رعابہ کی دوست کو ڈھونڈ رہی تھی کہ پیچھے سے ارحام انصاری کی آواز دینے پر غصے سے پیچھے مڑی اور سخت لہجے میں بولی۔
“تُم سے مطلب اور تُم اب میرا پیچھا بھی کرنے لگے ہو شرم نہیں آتی تُمہیں کسی کا پیچھا کرتے ہوئے اور سامنے سے ہٹو ۔”
سخت نظروں سے دیکھتی اُسے غصے سے سنا کر سائیڈ پر ہوکر نظریں پارک کے گیٹ کی جانب ڈورہا کر وہ کسی کو ڈھونڈنے لگی۔
“مس میزائیل اپنی ڈھولکی پر میری رعابہ بہن نے مجھے انوائیٹ کیا ہے اور میں دوست کے ساتھ اُسکا بھائی بھی ہو اور جب کار خراب ہونے کی وجہ سے میں نے اُسے معزرت کیا تو ضد پر اڑی کے وہ اپنے بھائی کو اپنی ڈھولکی میں دیکھنا چاہتی ہے اِسی لیے میری بہن نے تُم سے جھوٹ بولا۔”
اپنی کار کی بونٹ پر چڑھ کر بیٹھا اور اُسکے خوبصورت ییلو فراک میں ملبوس حسین سراپے کو اپنی آنکھوں کے رستے دل میں اتارتے ہوئے بولا۔
“وہاٹ مطلب رعابہ نے جھوٹ بولا وہ میرے منا کرنے کے باوجود بھی ابھی تک تُم سے بات کرتی ہے اور مجھے پتہ ہے تُم یہ سب میرے قریب ہونے کے لئے کر رہے ہو کمینے انسان۔”
ریحام طیش میں آکر آگے بڑھتی ہوئی بولی تو ارحام اُسے اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر تیزی سے کار کی بونٹ سے اٹھا اور پیچھے کی جانب بڑھا۔
“سہی سمجھا میں تُمہیں حاصل کرنے کے لیے یہ کرنا چاہتا تھا لیکن اُسکی معصوم باتوں اور بہنوں کی طرح لاڈ اٹھانے کی حسرت نے میرے دل نے مجھے اُسے بہن ماننے پر مجبور کر دیا تھا۔”
کار کے پیچھے پہنچ کر وہ روکا اور اُسے دیکھتے ہوئے بولا جبکہ وہ وہی کھڑی غصے سے اُسے گھور تھی کہ اچانک سے گولی کی آواز سن کر وہ دونوں محتاط ہو کر اپنی اپنی گن نکال کر کار کے پیچھے سے دیکھنے لگے
مگر وہاں کسی کو نا پاکر ارحام تیزی سے آگے بڑھا اور اُسکے ہاتھ کو سختی سے پکڑ کر تیزی سے اُسکی کار کی جانب بڑھا اور اُسے کار کی پچھلی سیٹ پر دھکا دے کر خود آگے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر کار کو وہاں سے بھگا کر اپنے گھر کے راستے پر ڈال کر پیچھے مڑ کر اُسے دیکھنے لگا
جو اب سنبھل کر بیٹھی اُسے بری طرح سے گھور رہی تھی اور اُسکے دیکھنے پر اپنی گن اُسکی گردن پر رکھ کر غصے سے بولی۔
“یہ سب تُم نے جان بوجھ کر کیا ہے ناں۔؟؟
غصے سے ریوالور سے اُسکے گردن پر دباؤ بڑھا کر بولی
“مس میزائیل مجھے کوئی شوق نہیں ہے یہ گھٹیا چیپ حرکت کر کے تُمہیں حاصل کرنے کی کیونکہ میں جب چاؤ جیسے چاؤ تُمہیں اٹھا کر اپنے گھر لے جا سکتا ہوں میرے پاس پرمٹ ہے تُمہیں اپنے ساتھ لے جانے کا لیکن میں بڑی دھوم دھام سے تمہیں تمہارے گھر سے رخصت کروا کر ہی لاؤ گا اور ابھی تو مجھے خود سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ کس نے کیا ہے۔”
ارحام نے زور سے چیختے ہوئے کہا کیونکہ اُسے خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ اچانک ان پر گولی کس نے چلائی اور ریحام اُسکے چیخنے پر ریوالور ہٹا کر پیچھے خاموشی سے ریوالور کو ٹھوڑی پر رکھ کر سوچنے لگی کہ اُن پر حملہ آخر کس نے کیا ہوگا۔
“مس واپس پاکستان میں لوٹ آئے میرا گھر آ چکا ہے اور اندر چلے ورنہ وہ لوگ یہاں پہنچ جائے گے اور ویسے بھی اب مجھ میں لڑنے کی ہمت نہیں ہے۔”
چٹکی بجا کر اُسے اپنی جانب متوجہ کرتے ہوئے بولا تو ارحام چونک کر سامنے کھڑے شاندار انصاری ہاؤس کو دیکھنے لگی۔
“تُم مجھے یہاں کیوں لائے ہو میں تُمہارے ساتھ اندر ہرگز نہیں آؤ گی۔”
سخت لہجے میں کہہ کر وہ اُسکے گھر کو گھورنے لگی جبکہ ارحام اُسکی بات پر گہری سانس خارج کرتا کار سے باہر نکلا اور پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول کر آگے جھکا اور اُسے اپنے بازوؤں میں بھر کر اپنے قدم گھر کی جانب بڑھانے لگا۔ریحام اسکی حرکت پر سخت جھنجلا کر اپنے ہاتھ اُسکے سینے پر زور سے مارنے لگی مگر اُسکی مزاحمت کی پرواہ کیے بغیر وہ اُسے لیے گھر کے اندر داخل ہوا اور پھر اپنے روم کی جانب بڑھنے لگا۔
💞💞💞💞💞💞
“میں ایک منٹ بھی اب یہاں نہیں رہو گی سنا تُم نے۔”
سخت نظروں سے اُسے گھور کر کہتی وہ دروازے کی جانب بڑھی۔
“وائف ڈارلنگ تُم شاید یہ وڈیو دیکھ کر میری دوست اور منہ بولی بہن رعابہ کو کچھ بھی نہیں کہوں گی بلکہ میرے ساتھ بھی تُم تعاون ضرور کروں گی۔!!
اُسے تیزی سے روم کے دروازے کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ وہ آگے بڑھا اور اُسکے سامنے کھڑا ہوا اور طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اپنا موبائل سامنے کرتے ہوئے بولا۔
ریحام جو اُس گھٹیا شخص کی حرکت پر سخت غصے میں اُسکے روم سے باہر نکلنے والی تھی کہ اُسکے تیزی سے اپنے مقابل کھڑے ہو کر اور اپنا موبائل سامنے کرکے اُس میں ایک وڈیو اوپن کرتا اُسی معنی خیز نظروں سے دیکھنے لگا۔
“تُم مجھے اِسطرح بلیک میل نہیں کر سکتے ہو۔”
ریحام سخت غصے سے اُسکے موبائل کی اسکرین پر چلتے اپنے اور اُسکے اُس دن کی وڈیو کو سرد نگاہوں سے گھورتے ہوئے غصے سے بولی۔
“بے بی اگر میں تُمہیں بلیک میل نہیں کروں گا تو تُم کبھی بھی میرے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہوگی آئی مین تُم مجھ سے طلاق لینے پہنچ جاؤ گی۔”
وہ پیچھے سے اُسے اپنے حصار میں لے کر اپنا سر اُسکے سر پر رکھتا اور ایک ہاتھ کمر پر تو دوسرا گردن کے نیچے رکھتا اپنی آنکھوں کو بند کرتا گھمبیر لہجے میں بولنے لگا۔
جبکہ ریحام اُسکی قربت پر اپنی آنکھیں زور سے بند کرتی اُسکے دہکتے ہونٹوں کا لمس وہ اپنے گال پر محسوس کرنے لگی۔۔
“تُمہیں شاید پتہ نہیں ہے کہ اِسطرح کسی کو بلیک میل کرنا ٹھیک نہیں ہے تُم قانون کو ہاتھ میں لے رہے ہو آرمی آفیسر ہو تو اِسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ تُم بچ جاؤ گے نہیں تُمہیں اِس حرکت کی سزا ضرور ملے گی اور تُمہیں جیل میں،میں بھیجوں گی۔”
وہ تیزی سے اُسے دور کرتی سخت لہجے میں بولی۔
“بے بی بلیک میل کرنے والوں کو ضرور سزا ملتی ہوگی لیکن میں اتنی جلدی جیل نہیں جاؤ گا پہلے تُمہیں اپنے گھر اپنے روم میں لاؤ گا پھر خوشی سے جیل میں چلا جاؤ گا۔”
وہ ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے اپنی جانب کھینچتے ہوئے گھمبیر اور بوجھل لہجے میں کہتا اُسکی پشت کو اپنے سینے سے لگاتا اور اپنے ہونٹوں کو اُسکی نازک گردن کے پیچھے رکھتا اُسے کپکپانے پر مجبور کر گیا تھا۔
“شٹ اپ۔؟؟
شدت سے چیختی وہ اُس سے الگ ہوئی تھی۔
“تُم نے اگر یہ وڈیو ابھی کے ابھی میرے سامنے ڈیلیٹ نہیں کیا تو میں تُمہیں اِس دنیا سے ڈیلیٹ کر دو گی۔”
سخت لہجے میں کہتی وہ انگلی اٹھاکر اُسے وارن کرنے لگی جبکہ ارحام اُسکی دھمکی پر زور سے قہقہہ لگاتے ہوئے آگے بڑھا اور اُسے کمر سے پکڑ کر مخمور نظروں سے اُسے دیکھتا شریر لہجے میں کہنے لگا۔
“وائف یہ وڈیو تو اب تمہارے میرے بیڈ روم پر ایک رات گزارنے کے بعد ہی ڈیلیٹ ہوگی پھر چاہیئے تُم مجھے کیوں نا اِس دنیا سے ڈیلیٹ کر دو لیکن میں تُمہاری اِس دھمکی پر بلکل بھی عمل کرنے والا نہیں ہوں۔”
کمر پر شدت بڑھاتے ہوئے وہ اُسے دیکھتے ہوئے بولا تو ریحام اُسکی شدت سے پکڑنے پر وہ اُسے سخت غصے سے خود سے الگ کرنے لگی۔
“وڈیو تو میں ضرور ڈیلیٹ کروں گی لیکن اُس سے پہلے تو میں تُمہیں سبق سیکھاؤ گی بہت شوق ہے نا مسٹر ارحام انصاری ہیرو بننے کا آج میں تُمہاری ہیرو گری نکالوں گی۔”
اپنے دونوں ہاتھ اُسکی گرفت سے نکال کر تیزی سے پیچھے مڑی اور زور سے اُسے بیڈ پر دھکا دیتی اور خود اُسکے اوپر بیٹھ کر اُسکے چہرے کو زور سے مکے برساتے ہوئے کہنے لگی۔
ارحام جو بیڈ پر گرا اپنے اوپر اُسے بیٹھ کر اور زور سے مکے مارتے ہوئے ڈھیٹوں کی طرح دیکھ رہا تھا اچانک سے مسکرا کر اپنے دونوں ہاتھ جو بیڈ پر رکھے تھے اٹھا کر اُسکی پشت پر رکھتے ہوئے اُسنے اُسے ایک ہی جھٹکے میں زور سے اپنے اوپر گرایا اور اپنے ہونٹ اُسکی شہ رگ پر رکھتا اُسے اپنے اوپر حاوی ہونے سے روکنے کے لیے آرام سے اُسکی گردن پر اپنا لمس چھوڑنے لگا وہ جتنا تھا کہ اُسے اب کیسے کنٹرول کرنا ہے۔
تبھی کروٹ بدل کر اُسے نیچے بیڈ پر آرام سے لٹا کر وہ خود اُسکے اوپر جھکا اور اُسکے چہرے پر اپنے ہونٹ رکھ کر اُسے شرم سے آنکھیں بند کرنے پر مجبور کر گیا تھا۔
ریحام جو سختی سے اپنے ہاتھ اُسکی پشت پر رکھے اُسکے ہونٹوں کو اب اپنے ناک سے نیچے ہونٹوں پر محسوس کرتی تیزی سے اُسکے سلکی بالوں پر ہاتھ رکھتی شدت سے کانپ اٹھی تھی۔
“وائف ڈارلنگ تُم جب بھی میرے سامنے جدا ہونے کا تذکرہ کرو گی ناں تب میں تّمہیں پہلے اپنی شدتوں سے تسخیر کروں گا پھر یہ وڈیو تُمہارے بھائی کے حضور پیش کروں گا جانتا ہوں یہ بہت چیپ کام ہے لیکن تُمہاری طرح کے جنگلی گھوڑی کو اِسی طرح لگام دینا چاہیے وہ کیا کہتے ہیں نا کہ لاتھوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔”
کہنیوں کے بل اٹھا اور سائیڈ پر ہوکر اُسے زومعنی نظروں سے دیکھتا بولا جو آنکھیں بند کرکے گہری سانسیں لے رہی تھی۔
“یو بلڈی باسٹرڈ۔”
اچانک سے آنکھیں کھول کر بولی اور اُس پر حملہ کرنے ہی لگی تھیں کہ اس سے پہلے ارحام نے تیزی سے اُسے دونوں شولڈر سے تھام کر نیچے بیڈ پر بے دردی سے گرایا اور خود اُسکے دونوں ہاتھوں کو سختی سے جھکڑتا تیزی سے ایک ہاتھ سے اپنی ٹائی اتار کر سختی سے اُسکے دونوں ہاتھوں کو باندھنے لگا اور پھر اتنی ہی تیزی سے اُسنے اُسکے گلے سے دوپٹہ اتار کر اُسکے منہ پر باندھا
ریحام جو غصے سے اپنے دونوں ہاتھوں کو کھولنے کی جدو جہد کر رہی تھی کہ اُسے اپنی جانب بڑھتا دیکھ وہ اپنا سر نا میں ہلانے لگی۔
“نہیں ڈارلنگ آج کے بعد تُم ارحام انصاری کو باسٹرڈ کے نام سے نہیں بلکہ اے جی کہہ کر بلایا کروں گی وہ بھی شرم سے نظریں جھکا کر اور آج تُمہارا شوہر تُمہیں اچھی بیوی کیسے بنتے ہیں وہ سیکھائے گا۔”
اپنی شرٹ اتار کر نیچے پھینکتے ہوئے وہ اُسکے اوپر جھکا اور شدت سے اُسکی گلابی پنکھڑیوں جیسے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر اُسکی سانسوں میں اپنی سانسوں کو الجھانے لگا۔
ریحام اپنے ہاتھ باندھنے اور منہ پر دوپٹے کی وجہ سے جو مزاحمت نہیں کر پا رہی تھی وہ بے بسی سے اُسکی شدتوں کو برداشت کرنے لگی جو اب اُسکی بیک کو اٹھا کے اپنا ہاتھ پیچھے لے جا کر اُسکی فراک کی ڈوریوں کو کھولنے لگا اور ریحام نے جب اُسکی گرم انگلیوں کی لمس کو اپنی پشت پر محسوس کیا تو وہ بری طرح سے کانپنے لگی۔
“ممم۔ننہیں۔”
وہ اُسے روکنے کی کوشش میں اپنے منہ پر لگے دوپٹے کے باوجود بھی بری طرح سے اپنا سر ہلا کر آوازیں نکالنے لگی۔
“یس جانم تُمہیں قابو کرنے کے لیے اب مجھے یہی کرنا پڑے گا تاکہ ہم دونوں رعابہ کی ڈھولکی پر خوشی سے جا سکے اور تُم وہاں مجھ سے اچھی طرح سے پیش آنے کے ساتھ ساتھ اپنی بھابھی پر بھی غصہ زرا کم تو کروں گی۔”
ارحام نے ایک ہاتھ سے اُسکے چہرے کو اپنی طرف کیا اور اُسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے مسکرا کر کہتے ہی اُسنے آہستگی سے اُسکے شولڈر سے فراک کو ہٹایا اور اُسکی گردن پر جھکا اور بیڈ پر رکھے اُسکے دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھاکر اپنی دونوں ہاتھوں کی انگلیاں اُسکی انگلیوں میں پھنساتا وہ شدت سے اُسکی گردن کو اپنے ہونٹوں سے چھونے لگا۔اور آج پھر سے اُسکی مزاحمت کی پرواہ کیے بغیر اُسکے پورے وجود کو اپنی شدتوں سےتسخیر کرنے لگا۔
💕💕💕💕💕
“شاہ کہا گئے تھے آپ میں نے کتنی بار آپ کو کال کیا لیکن آپ تو لگتا ہے بہت بزی تھے۔؟
اذان شاہ جو روم میں بے چینی سے چکر کاٹ رہا تھا اُسے روم میں داخل ہوتا دیکھ تیز لہجے میں کہنے لگا جبکہ وہ اپنی شال درست کرتا بیڈ پر بیٹھ کر اُسے دیکھنے لگا جو اُسے ایسے دیکھ رہا تھا جسے کسی چیز کو غور سے دیکھ رہا ہو تبھی تیزی سے آگے بڑھا اور اُسکے چہرے کو پکڑ کر اُس سے کہنے لگا۔
“شاہ یہ آپ کے ہونٹوں پر۔!!
اُسکے مونچھوں تلے دبے عنابی لبوں پر پنک کلر لپ اسٹک کے نشان دیکھ کر وہ حیرت سے پوچھنے لگا اور اُسکی بات پر اے بی نے تیزی سے اپنا موبائل جیب سے نکال کر فرنٹ کیمرہ آن کر کے اپنی ہونٹوں کو چھو کر مسکراتے ہوئے بے شرموں کی طرح کہنے لگا۔
“اذی کچھ نہیں بس کسی سے دو تین دن کی دوری کا ایک شاندار تحفہ وصول کر کے آیا ہوں۔”
اپنے لبوں پر زبان پھیر کر خوبصورتی سے مسکراتے ہوئے اُسے جواب دیتے ہوئے کہنے لگا تو اذان شاہ اُسکی بے باک بات پر اُسے سخت نظروں سے گھورنے لگا کیونکہ وہ جس کے متعلق بات کر رہا تھا وہ اُسکی سگی بہن تھی اور وہ بے شرم کتنے دھڑلے سے بے باکی سے اپنے کارنامے کا ذکر اُس سے کر رہا تھا۔
“شاہ کچھ تو شرم کر لیں وہ میری بہن ہے۔”
اذان اُسے شرم دلاتے ہوئے کہنے لگا لیکن وہ اُسی بے شرموں کی طرح اُسکی بیڈ پر بیٹھا اپنے ہونٹوں پر ہاتھ پھیر رہا تھا اور کچھ دیر پہلے کے حور کے ساتھ کو مسکراتے ہوئے یاد کر رہا تھا۔
“اذی میری شرم تو میرے پیدا ہوتے ہی انتقال کر گیا تھا اب تُمہیں یہی بہرام شاہ چاہیے تو ٹھیک ورنہ دوسرا بہرام شاہ عرف اے بی جسکا شرم سے سرخ چہرہ بھی ہونا چاہیے وہ جلد مجھے انسٹال کرنا پڑے گا۔”
بیڈ سے اٹھ کر اُسکی بلیک چادر کو درست کرتا وہ کمینگی سے ایک آنکھ دبا کر شرارت سے بولا تو اذان سامنے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف رخ کرتا اپنے آپ کو دیکھنے لگا۔
آج اُسنے سفید کاٹن کے شلوار قمیض پر بلیک واسکٹ پر بلیک خوبصورت چادر اوڑھا ہوا تھا جس پر وہ وجاہت کا شہکار لگ رہا تھا۔
“برخوردار تُم جتنا شریف بننے کی کوشش کروں لیکن رہوں گے تُم وہی بے شرم بد لحاظ اور ضدی انسان۔”
شاہ بخت روم میں داخل ہونے سے پہلے اُسکی بات سن چکا تھا اُسی لئے اندر داخل ہو کر سنیجدگی سے اُس پر طنز کرنا نا بھولا تھا اور اے بی اپنے سسسر کی طنز پر زور سے قہقہہ لگا کر اُنکی جانب بڑھا اور مقابل کھڑے ہو کر کہنے لگا۔
“سسسرِ محترم آپکو دو دن بعد پتہ چل جائے گا نا کہ میں کتنا شریف داماد اور معصوم انسان ہو۔”
سینے پر دونوں ہاتھ رکھتا شاہ بخت کے سامنے تمیز سے جھکتا مسکرا کر بولا تو شاہ بخت نے سخت نظروں سے اُسکی براؤن سلکی بالوں والے سر کو گھورا۔
“لڑکے اپنی حرکتوں سے میرے کچھ کرنے سے پہلے ہی باز آجاؤ ورنہ میں تُمہیں باز آنے پر مجبور کر دوں۔”
شاہ بخت اُسےدھمکی آمیز لہجے میں کہتا اُسی اپنی سرمئی آنکھوں سے سختی سے دیکھنے لگا اچانک سے نظریں اُسکے عنابی ہونٹوں پر پنک لپ اسٹک کے نشان پر پڑی تو وہ سخت طیش میں آتا اُسے کالر سے پکڑ کر کہنے لگا۔
“کہا تھا نا کہ تُم جب تک یہاں ہو میری بیٹی سے دور رہنا تو پھر تُمہاری ہمت کیسے ہوئی اُسکے پاس جانے کی ہاں۔”
اُسے کالر سے پکڑ کر غصے سے جھنجھوڑ کر بولا جبکہ اے بی نے ڈھیٹوں کی طرح مسکرا کر اُسے مزید جلایا
“بڑے پاپا آپ غلط سمجھ رہے کیونکہ شاہ تو صبح سے میرے روم سے باہر نکلا ہی نہیں ہے وہ تو کب سے یہی میرے ساتھ باتیں کر رہے تھے۔”
اذان شاہ نے تیزی سے آگے بڑھ کر شاہ بخت سے کہا جو اے بی کو مارنے کے درپے تھا جبکہ اے بی ڈھیٹوں کی طرح کھڑا صرف اُسے دیکھ رہا تھا
“تو پھر اذان شاہ یہ کیا ہے اگر یہ باہر نہیں گیا تو یہ کہا سے لگا اُسے ہاں یہ بدتمیز بے شرم انسان میری بیٹی کو یہاں صرف ہرٹ کرنے آیا ہے جیسے دو ہفتے پہلے اُسنے اُسکو کیا تھا۔”
سختی سے اُسے گھور کر وہ اُسکے لبوں کی جانب اشارہ کر کے اذان سے کہنے لگا جہاں پر ابھی تک حور کے لپ اسٹک کے نشان موجود تھے تو اذان اُسکے لبوں کی جانب دیکھنے کے بعد شرمندگی سے اپنی نظریں جھکا کر شاہ بخت سے کہنے لگا۔
“بڑے پاپا یہ تو شاہ کی عادت ہے کیونکہ وہ ہمیشہ لپ اسٹک لگاتا ہے تاکہ وہ سوٹنگ کے دوران خوبصورت لگے۔”
ایک ایک لفظ کو چبا کر وہ کھا جانے والی نظروں سے اے بی کو گھورتے ہوئے بولا جبکہ اے بی اُسکی بات پر حیرت سے اُسے دیکھنے لگا۔
